تلخیص
دریائے گنگا کے ساحل پر واقع ہلالی شکل میں آباد کاشی ہندوستان کا قدیم ترین مذہبی شہر اور تاریخی اعتبار سے علیحدہ شناخت رکھتا ہے۔ اس شہر کی اپنی تہذیبی و ثقافتی تاریخ ہے اور مذہبی انفرادیت، اس شہر کا اپنا الگ وجود ہے اور اس کی اپنی افسانوی کہانیاں، اس شہر کی منفرد اساطیری روایات ہیں اور مخصوص تمدن و معاشرت۔ امتدادِ زمانہ سے یہ شہر گوناگوں خصوصیات کا حامل رہا ہے۔ یہ شہر اپنے اسطوری گھاٹوں کے لیے بھی جانا جاتا ہے۔ یہ اپنے متصوفانہ مزاج، معرفت و بصیرت، علم و آگہی، تقدیسیت، نجات اور بھکتی کے لیے بھی مشہور ہے۔ یہ وہ مقدس شہر ہے جسے روحانی وجود کے ایک روشن مینار کی حیثیت حاصل ہے۔ ہندومت کے مطابق سچی معرفت، عرفان و آگہی اور بصیرت حاصل کرنے کے لیے کاشی ایک بہترین جگہ ہے۔
کاشی ہر دور میں علم و فضل کا معدن اور دانش و حکمت کا گہوارہ رہا ہے۔ اس کی یہ صفت انقلاباتِ زمانہ کے باوصف آج برقرار ہے۔ اس کے علمی و ادبی افق پر ایسے ایسے ستارے طلوع ہوئے جن کی ضیا پاشیوں نے پورے ہندوستان کو منور کیا۔ یہ شہر زبان و ادب اور فنونِ لطیفہ کا بھی محور رہا ہے۔ لسانی امتزاج کا مظہر یہ شہر تین مختلف ادبیات کا مرکز رہا ہے۔ سنسکرت اور ہندی کے ساتھ اردو زبان و ادب نے بھی اپنے گہرے نقوش چھوڑے ہیں۔ کاشی قدیم زمانے سے سنسکرت زبان و ادب، فلسفہ اور دیگر متون کے مطالعہ و تحقیق کا خصوصی مرکز رہا ہے۔ کاشی کا مذہبی اور روحانی تقدس سنسکرت کے ساتھ گہرا ہے۔ جس سے اس زبان کو فروغ حاصل ہوا۔ اس نے نہ صرف سنسکرت کو زندہ رکھا بلکہ اسے علمی اور تہذیب و ثقافت کا جز بنا دیا۔ سنسکرت زبان کو نئی بلندیوں تک پہنچانے میں کاشی نے ایک مہتم بالشان کردار ادا کیا۔ سنسکرت کی طرح کاشی ہندی ساہتیہ کا ابتدا ہی سے اہم مقام رہا ہے۔ ہندی بھاشا کی ترویج و اشاعت، جدید ہندی ساہتیہ کی تخلیق، ہندی ساہتیہ کو عالمی سطح پر پہچان دلانے اور ہندی میں نئے رجحانات اور نئے خیالات کو فروغ دینے میں کاشی نے کلیدی رول ادا کیا۔ اردو زبان و ادب کے حوالے سے اس کی الگ اہمیت ہے۔ اس نے اردو کو بہت سے شاعر، ادیب، نقاد، فکشن نگار اور ڈرامہ نگار عطا کیے۔ یہ بہت سے شاعر و ادیب کا مسکن رہا ہے اور بہت سے تخلیق کاروں نے اسے اپنی علمی اور ادبی سرگرمیوں کا مرکز و محور بنایا۔ یہاں کے علمی ماحول، ثقافتی پس منظر، تہذیبی روایات گھاٹوں اور گلیوں نے قلمکاروں کو تخلیق کا ماحول فراہم کیا۔ بالخصوص ’صبح بنارس‘ کی ترکیب سے اس شہر کو خاص مناسبت ہے جس کی دلکشی و رعنائی، خوبصورتی اور جمالیاتی تشنگی نے اردو شاعری میں ایک مستقل جگہ بنالی ہے۔
کلیدی الفاظ
تاریخ، تہذیب، ثقافت، روحانیت، معرفت، بصیرت، علم و آگہی، رواداری، انسانیت، وسیع المشربی، اسطوری گھاٹ، فنون لطیفہ، رقص و موسیقی، صبح بنارس، نجات، تصوف، بھکتی وغیرہ۔
کاشی کاشمار ہندوستان کے قدیم مذہبی، ثقافتی اور تاریخی شہروں میں ہوتا ہے۔ یہ ایک صنم کدہ ہے اور دانش کدہ بھی۔ یہ شہر علوم وفنون کا مرکزہے اور فنون لطیفہ کا محور بھی۔یہ لسانی امتزاج کا مظہرہے اور مختلف مذاہب کا مرقع بھی۔ یہ شہر متنوع تہذیبوں کا نقطۂ اتصال ہے اور رنگارنگ ثقافت کا روشن مینارہ بھی۔ یہ روحانیت کا سر چشمہ ہے اور معرفت وبصیرت کا منبع بھی۔ شیخ علی حزیں نے اس کو رنگارنگ پری زادوں کا مسکن قرادیاہے۔ غالب نے اس کی تقدیسی عظمت اورروحانی اہمیت کو محسوس کرتے ہوئے اسے ’’بہشت خرم‘‘ فردوس معمور اور کعبۂ ہندوستان کہا ہے۔ سعادت یار خان رنگین نے اسے ’’شہر طلسمات‘‘ اور جوش ملسیانی نے اس کی صبح کو ’’رشک نور‘‘ سے تعبیر کیا ہے۔ کبیر ،روی داس، تلسی داس اورپریم چند کی یہ سرزمین ان معنوں میں اہمیت کی حامل ہے کہ یہاں فنونِ لطیفہ، رقص وموسیقی، علم وفن، تہذیب وثقافت،مذہب وروحانیت اور شعر وادب کو جوعروج حاصل ہوا، وہ کسی دوسرے شہر کو نہیں ہوا۔ یہاں کے صوفی سنتوں نے جہاں رشدوہدایت کی شمع روشن کیں، وہیں یہاں کے باکمال شعرا وادبا نے امن وآشتی،وسیع المشربی،انسان دوستی، اتحادویگانگت اور خلوص ومحبت کا پیغام عام کیا۔ استاد بسم اللہ خان، پنڈت روی شنکر اور ہری پرساد چورسیا جیسے عظیم فنکاروں کے اس دیار کو کوچۂ دیر،روشنیوں کا شہر، ہندوستان کا مذہبی دار الخلافہ، دیدہ ودل کا نجات دہندہ، عرفان وآگہی کے نور سے معمور، شیو کی نگری، ادیبوں کی بستی، صوفی سنتوں کی بھومی اور علم ودانش کے علاقے کی حیثیت حاصل ہے۔
یہ شہر مشرقی اترپردیش کے دریائے گنگا کے بائیں جانب ہلالی شکل میں آباد ہے۔ دریائے گنگا کے ساحل پر واقع ہونے کی وجہ سے اس قدیم شہر کی اپنی ثقافتی تاریخ اور مذہبی اہمیت ہے۔ اس شہر کی اپنی منفرد کہانیاں ہیں اور اپنی اساطیری روایات۔ اس کے آباد ہونے کی صحیح تاریخ کا تعین کرنا آسان نہیںہے۔ تاہم اس کی قدامت پر کوئی شبہ نہیں۔ تمام مؤرخین کا اس امر پر اتفاق ہے کہ یہ دنیا کا قدیم ترین شہر ہے۔ ہندوعلم الاصنام کے مطابق اس شہرکو خود’’شیو‘‘ نے آج سے تقریباً پانچ ہزاربرس قبل آباد کیا تھا۔ اس مفروضہ میں چاہے صداقت ہو یا نہ ہو،لیکن در حقیقت یہ وہ مقدس شہر ہے جس کا ذکر ہندوئوںکے مذہبی صحائف رگ وید، اُپنشد،پران، مہابھارت اور رامائن وغیرہ میں موجود ہے۔ ایک امریکی مصنف مارک ٹوئن اس کی قدامت کے متعلق لکھتا ہے کہ ’’بنارس تاریخ سے قدیم، روایات سے قدیم یہاں تک کہ داستانوں سے بھی قدیم شہر ہے اور جب ان سب کو ایک ساتھ جمع کردیں تو اس سے بھی قدیم شہر ہے‘‘۔1؎
ہندو آستھاکے مطابق طوفانِ نوح کے دوران وشوناتھ جی نے اس شہر کو اپنے تِرشول پر اٹھا لیا تھا۔ اس لئے جب قیامت آئے گی یہ شہر آفات ارضی وسماوی سے محفوظ ومامون رہے گا۔ عام طور پر اس شہر کو تین ہزار سال قبل تصور کیا جاتا ہے۔ جب کہ ہندو روایت کے مطابق کاشی اس سے بھی زیادہ پرانا ہے۔ چودھری نبی احمد سندیلوی لکھتے ہیں:
’’تاریخ شاہد ہے کہ بنارس کاشہر چھ سو سال قبل حضرت مسیح علیہ السلام کے ایک مذہبی اورعلمی مرکزتھا اور ہرطرف سے لوگ یہاں علم حاصل کرنے اورزیارت کرنے کے لیے آتے تھے۔‘‘2؎
یہ شہر اگر چہ مختلف اوقات میں الگ الگ ناموں سے موسوم رہاہے لیکن کاشی اس کا سب سے قدیم اور پرانا نام ہے۔ اس کی توثیق ویدوں اور اپنشدوں سے ہوتی ہے۔ یہ سنسکرت کے لفظ’ کاش‘ سے بنا ہے جس کے معنی تابندہ اور درخشاں کے ہیں۔ دوسری وجہ تسمیہ یہ بتائی جاتی ہے کہ راجہ دیوداس کے خاندان میں’ کاش‘ نام کا ایک راجہ ہوا تھا، جس نے اس مقام کو خوب ترقی دی۔ اس لئے اسی کے نام پر اس کا نام کاشی پڑگیا۔ دومقامی دریائوں کے سنگم پر واقع ہونے کی وجہ سے اس کا نام’’بارانسی‘‘ پڑگیا۔ جو کثرت استعمال سے ’وارانسی‘ اور پھر بنارس ہوگیا۔ مذہبی نقطۂ نظر سے کچھ بھی ہو لیکن اس شہر سے ہمیشہ نورومعرفت اور علم وآگہی کی شعائیں پھوٹتی رہیں۔ اس لئے تعلیم یافتہ طبقہ اس کو عموماً بنارس اور عقیدت مند ہندواحتراماً کاشی کے نام سے پکارتے ہیں۔
اس شہر کو اپنی روحانی عظمت اور مذہبی اہمیت کی وجہ سے کششِ زمین کا شرف حاصل ہے۔ ہندومت کے مطابق یہ شہر ’سپت پوری‘ یعنی ان سات مقدس مقامات میں سے ایک ہے جسے ہندوئوں کے نزدیک روحانی اہمیت حاصل ہے۔ یہ شہر صرف دو دریائوں کا ہی سنگم نہیں بلکہ دو مختلف نظریات ’شیوازم‘ اور ’وشنوازم‘ کا خوبصورت اختلاط بھی ہے۔ یہ صرف ہندوئوں کے لیے ہی نہیں بلکہ بدھ مذہب کے پیروکاروں کے لیے بھی شرف وفضیلت کا باعث ہے۔ اس شہر کے چند فاصلے پر واقع سارناتھ ہے، جہاں بدھ مذہب کے بانی اور پہلے روحانی پیشوا گوتم بدھ نے بدھ دھرم کا نقطۂ آغاز کیاتھا۔ ایک زمانے میں یہ بدھ مذہب کی تبلیغ واشاعت کا ایک بڑا مرکز تھا۔ یہیں پر وہ ’دشتِ غزالاں‘ ہے جہاں پر گوتم بدھ نے اپنے دھام کی تعلیم دی تھی اور اپنے شاگردوں کو اپنا پہلا اُپدیش (درس) دیا تھا۔سارناتھ میں اشوک کے زمانے کی آٹھویں لاٹ اور بدھ عمارتوں کے آثار اب تک موجود ہیں۔ یہ شہر بدھ مذہب کے چار تیرہ مقامات (لمبنی،بودھ گیا،سارناتھ،کشی نگر) میں سے ایک ہے۔ جین دھرم کے چار تیر تھنکروں کی جائے پیدائش ہونے کی وجہ سے یہ شہر جین مت کے پیروکاروں کے لیے بھی متبرک ہے۔
مسلمانوں نے بھی اس شہر کی ثقافت پر اپنا اثر ڈالا۔ ان کی تہذیب وتمدن کی جھلک اس شہر میں واضح طور پر دیکھی جاسکتی ہے اس شہر کے مختلف علاقوں میں ایسی ایسی روحانی ہستیاں جلوہ گر ہوئیں جن کے وجود سے آج بھی روحانیت اور معرفت وبصیرت کی قندیلیں روشن ہیں۔ چونکہ یہ ایک مذہبی شہر تھا اس لیے مسلم فرمانروائوں نے اس شہر اوریہاں کے باشندوں پر خصوصی عنایات کیں۔ بالخصوص مغل بادشاہ اکبر کے دور حکومت میں ہندومت کی ثقافتی سرگرمیوں اور تہذیبی اقداروروایات کو یہاںپھلنے پھولنے کا خوب موقع ملا۔ مندروں کے اس شہر میں مشاہیر بزرگان دین کے مقبرے اور شہنشاہ اورنگ زیب کے عہد حکومت میں تعمیر مساجداور دیگر تاریخی عمارتیں اسلامی دور کی بہترین یادگار ہونے کے ساتھ ساتھ ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب اور ثقافت وتمدن کا شاندار نمونہ ہیں۔
امتداد زمانہ سے یہ شہر گوناگوں اور مختلف ومتنوع خصوصیات کا حامل رہا ہے۔ کاشی کو مندروں کا شہر کہا جاتا ہے ۔ گنگا کے دوسرے کنارے یاراج گھاٹ سے نگاہ دوڑائیں تو اسیّ سے راج گھاٹ تک گھاٹوں کے کنارے چھوٹے بڑے مندروں کا ایک طویل سلسلہ نظر آئے گا۔ اس کے علاوہ شہر کے ہر گلی کوچہ اور سڑک کے کنارے کوئی نہ کوئی مندر ضرور دکھائی دے گا۔ یہاں تقریباً سو سے زائد بڑے مندر ہیں لیکن کاشی وشوناتھ اور سنکٹ موچن مندر خصوصی عقیدت کا مرکز ہے۔ کاشی کو روشنیوں کے شہر کی حیثیت حاصل ہے جہاں بھگوان شیو کے بارہ جیوتر لنگوں میں سے ایک جیوتر لِنگ موجود ہے جس کا انعکاس مختلف شکلوں میں ہوا ہے۔ یہاں ہندو دھرم کے ۵۱؍شکتی پیٹھوں میں سے ایک شکتی پیٹھ موجود ہے جسے ہندوستان کی روحانی تاریخ میں بڑی اہمیت ہے۔ یہ شہر اپنے اسطوری اور استعاراتی گھاٹوں کے لئے جانا جاتا ہے اور چھ کلو میٹر کی مسافت پر پھیلے ہوئے ہر ایک گھاٹ کی اپنی انفرادی خصوصیات ہیں اور اپنی انوکھی کہانیاں بھی۔ اور صرف یہ گھاٹ نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے ہزاروں سال کی جیتی جاگتی تہذیب ہے ۔ ان مذہبی اور تہذیبی رنگوں کے ساتھ یہاں کی عمارتیں ثقافت کا بہترین مظہر ہیں۔ یہ شہر سادھوئوں ،جوگیوں، بیراگیوں اور سنیاسیوں کی آماجگاہ بھی ہے۔ صبح وشام مندروں کی گھنٹیوں کی نقرئی آوازوں اور سنکھ کی پُر کشش صدائوں سے یہاں کی فضا ہمیشہ معمور اور پر کیف رہتی ہے۔ کمبھ اور دیگر مذہبی تہواروں کے موقع پر یہاں کا سماں قابلِ دید ہوتا ہے۔
اس شہر کی اہمیت ہندومذہب اور عقیدت میں بڑی گہری ہے۔ہندوستان کے کونے کونے سے ہندوزائرین کی آمد کا سلسلہ یہاں صدیوں سے جاری ہے۔ ان زائرین میں سیاح بھی ہوتے ہیں اور عقیدت مند بھی۔ کاشی اور دریائے گنگا کا آپس میں بڑا جذباتی رشتہ ہے۔ ہندوعقیدے کے مطابق دریائے گنگا سب کے گناہوں کو معاف کردیتی ہے ان کے نزدیک یہ شہر اس قدر مقدس ہے کہ گنگا میں اشنان کرنے سے نہ صرف ان کے سارے پاپ دُھل جاتے ہیں، بلکہ انھیں یک گونہ روحانی تسکین حاصل ہوتی ہے۔ اس لئے زندگی میں کاشی کی ایک مرتبہ زیارت ان کے لئے ضروری ہے۔ اس سلسلے میں مولانا علی آزاد بلگرامی اپنی تصنیف’’سبحۃ المرجان فی آثارہند‘‘ میں لکھتے ہیں۔
’’بنارس پورب کے شہروںمیںسے ایک شہر اور ہندؤںکی عبادت گاہ ہے۔ اوران کے نزدیک مقدس مقامات میںشامل ہے۔ اس کی زیارت عمرمیںایک باران کے لیے ضروری ہے۔‘‘3؎
یہ شہر ہندئوںکے لئے نجات دہندہ بھی ہے ۔ شیو جی کا یہ شہر ان معنوں میںمنفرد اہمیت کا حامل ہے۔ جو لوگ تناسخ کے فلسفہ پر یقین رکھتے ہیں، ان کے نزدیک کاشی ایک ایسا متبرک شہر ہے کہ جن لوگوں کی روح اس سرزمین پر تن خاکی سے پرواز کرتی ہے، انہیں فوری طور پر نہ صرف مکتی(نجات) مل جاتی ہے بلکہ ان کی روح آواگون(تناسخ) کے جھمیلوں اور پابندیوں سے آزاد ہوجاتی ہے۔ اس لئے کچھ وارستہ اور آزاد لوگ دنیاوی علائق کو ترک کرنے کے بعد رستگاری ،عقبیٰ کی نیت سے یہاں سکونت پذیر ہوتے ہیںاور موت کا انتظار کرتے ہیں ۔
اس سلسلے میں ابو ریحان البیرونی کا یہ قول دیکھیے۔
’’ہندؤںکے متعدد مقامات ہیںجومذہبی حیثیت سے واجب التعظیم ہیں۔ جیسے شہر بنارس ۔ ان کے درویش وہاں جاکر مستقل سکونت اختیار کرلیتے ہیں جس طرح کعبہ کے مجاورین کعبہ میں۔ ان کی یہ تمنا ہوتی ہے کہ ان کی موت بنارس میںہوتاکہ مرنے کے بعدان کی عاقبت اچھی ہو۔‘‘4؎
کاشی ہر دور میں علم وفن اور حکمت ودانش کا مرکز رہاہے ۔ اس کی یہ صفت انقلابات زمانہ کے باوجود آج بھی اپنی پوری آب وتاب کے ساتھ روشن ہے۔ اس کے علمی افق پر ایسے ایسے ستارے طلوع ہوئے جن کی ضیاپاشیوں نے پورے ہندوستان کو منور کیا۔ہندوستانی کلاسیکی موسیقی کا بنارس گھرانہ کاشی سے ہی تعلق رکھتا ہے۔ استاد بسم اللہ خان جنھوں نے اپنے فن سے شہنائی کے ساز کو عالمی سطح پر پہچان دلائی،اسی گنگا جمنی تہذیب کے پروردہ ہیں۔کاشی میں موسیقی کی روایت پرانوں کے عہد سے چلی آرہی ہے۔ قدیم روایت کے مطابق شیو نے رقص وموسیقی کو ایجاد کیا تھا۔ موجودہ دور میں ٹھمری کی مقامی مشہور کلاسیکی گلوکارہ گرجہ دیوی نے خوب شہرت حاصل کی ۔کاشی نے بہت سے سازندوں اور طبلہ نوازوں جیسے پنڈت روی شنکر اور ہری پرساد چورسیاکی وجہ سے مقبولیت حاصل کی۔ اس کے علاوہ ہندوستا ن کے مشہور فلسفی ، دانشور، مفکراور شاعر نیز ادیبوں کا تعلق اسی سرزمین سے ہے۔ مشہور چینی سیاح ہوئن سانگ نے اس شہر کومذہبی،تعلیمی اور فنکارانہ سرگرمیوں کا مرکز بتا یا ہے۔ فاہیان جیسے چینی فلسفی نے اپنے نظریات ومشاہدات کی تکمیل اسی شہر میں کی۔اس دریائے بصیرت سے مشہور عرب فلسفی اور ہیئت داں البیرونی نے خوشہ چینی کی۔ اسی دیارِ علم کی آغوش میں برہمن بچہ بن کر فیضی نے سنسکرت زبان سیکھی اور اس کے اسرار ورموزسے واقفیت بہم پہنچائی۔
اس شہر نگاراں کی یہ خصوصیت بھی قابل ذکر ہے کہ علم آیوروید(طب) کی ابتداء بھی اسی شہر میں ہوئی۔ ہندو مت کے مطابق یہ ایک الہامی علم ہے ۔ مشہور طبیب اور نامور حکیم چرک 320 قبل مسیح کاشی کا ہی رہنے والا تھا ۔ اس کو اس علم کا موجد اور سرچشمہ تصور کیا جاتا ہے۔ اس کی کتاب ’چرک سہینتا‘ اس علم کی سب سے قدیم، مستنداور معتبر کتاب سمجھی جاتی ہے۔ یہیں پر سشرت نامی ایک ویدیہ اور ماہر جراحت کاشی کی درسگاہوں میں فن جراحی پر درس دیا کرتا تھا۔ اس فن سے متعلق اس نے ایک کتاب تصنیف کی ، جس میں 100 سے زائد جراحی آلات کا ذکر ہے۔
ثقافت سے بھرپوریہ شہر ملکی اور غیر ملکی سیاحوںکی خصوصی توجہ کا مرکز ہے۔ یہاں پر رام نگر کا وہ مشہور قلعہ ہے جسے کاشی نریش مہاراج بلونت سنگھ نے 18ویں صدی میں تعمیر کرایاتھا۔ مغلیہ فن تعمیر کا نمونہ اس قلعہ کے عجائب گھر میں نادر اور بیش بہا عربی، فارسی اور سنسکرت کے مخطوطات محفوظ ہیں۔خاص طور سے تلسی داس کے ہاتھ کی لکھی ہوئی پانڈولپی یہاں محفوظ ہے۔ اس کے علاوہ شیخ علی حزیں کے فارسی کلام کا مخطوطہ ، بلونت نامہ(فارسی) کا مخطوطہ ،تاریخ فرشتہ کا فارسی ترجمہ اورسبحۃ المرجان فی آثار ہندکے فارسی ترجمہ کا قلمی نسخہ موجود ہے۔اس قلعہ میں عظیم ہندوستانی رزمیہ نگار وید ویاس جی نے کچھ دنوں قیام کیا تھا اور یہاں پر رہ کر اپنی معرکۃ الآراتصنیف’’مہابھارت‘‘ کا کچھ حصہ قلمبند کیا تھا۔ اس زمانے میں مہاراجہ بنارس کے دربار سے کئی ادبی شخصیتیں وابستہ تھیں۔ بلکہ کچھ ادیبوں کو تو انھوں نے خصوصی طور پر مدعو کیا تھا۔چنانچہ ’’فسانہ عجائب‘‘ کے خالق رجب علی بیگ سرور والی بنارس مہاراج ایشری نرائن سنگھ کی خصوصی طلبی پر مہاراج کے مہمان بن کر کاشی آئے۔ اور یہیں پر مہاراجہ کے دربار سے وابستہ رہ کر ’’گلزار سرور‘‘ اور ’’شبستان سرور‘‘ جیسی تصانیف لکھیںاور آخر میں یہیں پر وہ آسودہ خاک ہوئے۔ ’’تذکرہ گلزار ابراہیم‘‘ کے مؤلف نواب علی ابراہیم خان خلیل اسی شہر میں جج کے عہدے پر معمور تھے۔ فورٹ ولیم کالج کے اہم مصنف سید حیدر بخش حیدری کی پرورش وپرداخت اسی شہر میں ہوئی۔ جنھوں نے ’’قصۂ مہروماہ‘‘ اور’’ آرائش محفل ‘‘ جیسی داستانیں تخلیق کیں۔ میر انیس نے اپنی قادر الکلامی اور مرثیہ خوانی سے یہاں کے شعراپر خوشگوار اثر ڈالا۔ یہ شہر سرسید کی علمی سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے ۔بطور ملازمت انھوں نے اس شہر میں 7سال قیام کیا۔بنارس میں اپنی ملازمت کے اس طویل عرصے میں سرسید نے بنارس کی ترقی میں عملی طور پر حصہ لیا۔ بنارس کی ملازمت کے اولین دور میں ہی سرسید ’’بنارس انسٹی ٹیوٹ‘‘ کے رکن بن گئے اور اس کی علمی و ادبی سرگرمیوں میں برابر شامل ہوتے رہے۔ بنارس سرسید کی زندگی کا ایک اہم پڑاؤ تھا، جہاں سے انھوں نے انگلستان کے لیے رخت سفر باندھا۔ انھوں نے اس شہر کو ایک علمی مرکز اور تعلیمی اعتبار سے دیگر شہروں سے ممتاز قرار دیا ہے۔یہیں پر ان کا سابقہ اردو ہندی کے اس تنازعہ سے پڑاجس نے بعد میں ان کے نظریات کو یکسر بدل دیا۔
کاشی کی سرزمین روحانیت ،مذہبی رواداری،اپنے متصوفانہ مزاج او ر بھکتی کے لیے بھی جانی جاتی ہے۔ یہ شہر کئی صدیوں سے اولیائے کرام اور صوفیائے عظام کی خصوصی آماجگاہ رہاہے۔ ان میں سے بیشتر بزرگانِ دین اطراف عالم سے تشریف لائے اور کاشی کو اپنی آخری آرام گاہ بنالیا۔ کاشی کی آب وہوا نے انھیں ہر طرح کی علمی، روحانی اور ابدی تشنگی سے سیراب کیا۔ ان بزرگوں نے یہاں پر علم ومعرفت اور تصوف ورحانیت کی قندلیں روشن کیںاور بلاتفریق مذہب وملت اتحاد،روشن خیالی،اخوت ومحبت اور وسیع المشربی کا پیغام دے کر رواداری اور انسانی جذبے کی روشن مثالیںقائم کیں۔ان صوفیائے کرام کی حیات ،تعلیمات اور پیام کا مشاہدہ یہاں کے عوام کے اخلاق وکردار، مہمان نوازی اور ان کی تعلیم وتربیت پر واضح طور پر محسوس کیا جاسکتا ہے۔ یہ قابل احترام شہر بھکتی کے لیے مشہور ہے۔ یہ وہ روحانی شہر ہے جہاں کی تنگ وتاریک گلیوں میں کبیر نے انسانیت، رواداری، اتحاد اور یکجہتی کادرس دیا۔ یہاں پر روی داس نے بھکتی کے گیت گائے ۔ یہیں پر گنگا کے کنارے گھاٹوں پر بیٹھ کر اور گنگا کا پوتراور صاف وشیریں پانی پی کر تلسی داس نے اپنی لازوال اور شہرۂ آفاق تخلیق ’’رام چرت مانس‘‘ لکھی۔اس شہر خوباں میں اتنی کشش اور مقناطیسیت ہے کہ جو یہاں ایک بار آیا وہ یہیں کا ہوکر رہ گیا۔ یہ سرزمین مشہور فارسی شاعر شیخ علی حزیں کو ہزاروں میل سے کھینچ لائی اور انھیں ایسی بوے وفا ملی کہ انھوں نے یہاں پر مستقل طور پر بودوباش اختیار کرلی۔ کاشی کی تہذیب ومعاشرت پر ان کا یہ شعر ضر ب المثل کا درجہ رکھتا ہے۔
از بنارس نروم معبد عام است اینجا
ہر برہمن پسرے لچھمن و رام است اینجا
غالب جو دنیا کو بازیچۂ اطفال سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے تھے، اپنے سفر کلکتہ کے دوران اس شہر بتاں میں تقریباً ایک ماہ قیام کیا۔یہاں کی رنگینی ولطافت ،گنگا کے کنارے کی رعنائیوں، دل فریبیوں،ہوش ربا مناظر،یہاں کی تہذیب وثقافت اور مذہبی ماحول سے اس قدر متاثر ہوئے کہ انھوں نے اپنے جذبات واحساسات کو مثنوی ’چراغ دیر‘ (فارسی) کی شکل میں پیش کرکے کاشی کو زبردست خراج تحسین پیش کیا ہے۔ یہ مثنوی نہ صرف غالب کے جمالیاتی ذوق کی آئینہ دار ہے، بلکہ سرزمین کاشی سے ان کی بے پناہ محبت اور جذباتی وابستگی کی بھی عکاسی کرتی ہے۔ اس مثنوی میں انھوں نے جس والہانہ انداز میں کاشی کی عظمت اور مذہبی تقدس کا ذکر کیا ہے، اس سے اس سرزمین کی حیثیت دوچند ہوجاتی ہے۔
تعالیٰ بنارس چشم بدور
بہشت خرم وفردوس معمور
تناس مشرباں چوں لب کشانید
بہ کیش خویش کاشی راستانید
چمن سرمایہ امید گردد
بمردن زندہ جاوید گردد
عبادت خانہ ناقوسیا نست
ہمانا کعبہ ہندوسانست
اس کے علاوہ انھوں نے اپنے متعدد فارسی اور اردو خطوط میں اس شہر کی آرائش وزیبائش اور حسن وجمال کی دل کھول کر تعریف کی ہے۔ میاں داد خاں سیاح کے نام ایک خط میں لکھتے ہیں۔
’’اب یہ سطریں جولکھتاہوں اس خط کے جواب میںہیںجوبنارس سے آیاہے۔ بھائی بنارس خوب شہرہے اورمیرے پسندہے۔ ایک مثنوی میں نے اس کی تعریف میںلکھی ہے اور چراغ دیر‘‘ اس کا نام رکھاہے وہ فارسی دیوان میں موجودہے۔5؎
شہر نگاراں اور بت کدہ کی حیثیت سے مشہور یہ علم وفضل کا معدن اور دانش وحکمت کا گہوارہ بھی ہے۔ یہاں بیک وقت تین یونیورسٹیاں ہیں ،جو علم وفن اور حکمت ودانائی کے موتی بکھیر رہی ہیں۔ بنارس ہندویونیورسٹی جسے مدن موہن مالویہ نے1916 میں قائم کیا تھا، عالمی شہرت یافتہ ایک مرکزی یونیورسٹی ہے جو روایتی اور عصری تعلیم کا خوبصورت گہوارہ ہے۔ اس یونیورسٹی کا شعبۂ اردو ہندوستان کے قدیم اور اہم شعبوں میں سے ایک ہے۔اردو زبان وادب کی درس وتدریس اور تحقیق وتنقید کے میدان میں گذشتہ ایک صدی سے اس شعبہ نے قابل قدر اور نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ محمد فائز بنارسی اس شعبہ کے پہلے استاد تھے۔ اس کے علاوہ اس شعبہ سے اردو ادب کی لائق فائق شخصیات ماہر خطوط غالب مولوی مہیش پرساد، پروفیسر حکم چند، مشہور محقق اور نقاد پروفیسر حنیف نقوی ،پروفیسر قمر جہاں، کلاسیکی اور قدیم متن کے ماہر پروفیسر ظفر احمد صدیقی، ڈاکٹر نجم الدین انصاری، کلاسیکی ادب کے ماہر اورسود اشناس پروفیسر نسیم احمد اور مشہور ادیب و معروف فکشن نگار، مترجم پروفیسر یعقوب یاور وغیرہ جیسی ہستیاں وابستہ رہیں۔ یہیںپر مشہور جامعہ کا شی ودّیا پیٹھ ہے، جس کے طالب علم ہندوستان کے دوسرے وزیر اعظم لال بہادر شاستری رہ چکے ہیں۔ سنسکرت کی تعلیم کے مختص سمپورانند سنسکرت جیسی یونیورسٹی ہے ، جو سنسکرت زبان وادب اور فلسفہ کی تعلیم و ترویج واشاعت میں ہمہ تن مشغول ہے۔ اس ادارہ کو1791 میں اس وقت کے گورنر جنرل لارڈ کارن ویلس نے ایک سنسکرت کالج کے روپ میں قائم کیا تھا۔ اس کے علاوہ شہر میں بڑی تعداد میں اسلامی مدارس اور درسگاہیں موجود ہیں، جو اپنی پوری شان وشوکت کے ساتھ علم دین کی ترویج واشاعت اور اسلامی علوم وفنون کے فروغ میں اہم خدمات انجام دے رہی ہیں۔
کاشی کی بات ہو اور ’’صبح بنارس ‘‘ کا ذکر نہ کیا جائے توکاشی کی تہذیبی تاریخ نامکمل رہے گی۔ اودھ کی شام جہاں اپنی خوبصورتی اور رعنائی کے لئے مشہور ہے، وہیں بنارس کی صبح اتنی پُر کیف اور حسین ہے کہ اس پر پری زاد مرمٹتے ہیں اور جہاں گھاٹوں پر ایک روحانی سکون کے جو یا جوق در جوق کھینچے چلے آتے ہیں۔
صبح بنارس کی اہمیت ہندومذہب،روحانیت اور ثقافتی ورثے میں بہت زیادہ ہے ۔صبح کے وقت یہاں پر گنگا میں اشنان کرنے والوں کا ہجوم لگا رہتا ہے اور مندروں کی گھنٹیوں کی نقری آوازیںاور صبح کی روشنی اس شہر کو ایک منفرد روحانی منظر بخشتی ہے۔ سورج تو پوری کائنات پر اپنا جلوہ بکھیرتا ہے۔ لیکن یہاں کی صبح کی الگ نرالی شان ہے۔ اور اس صبح کو صبح درخشاں بنانے میں یہاں کی تہذیبی وثقافتی عمارتوں، ہندودیومالائی داستانوں اور اساطیری روایات کا نمایاں ہاتھ ہے۔
علی الصباح منھ اندھیرے جب ہرسو سناٹے اور سکوت کا عالم ہوتا ہے، کاشی پوری طرح بیدار اور فعال رہتا ہے۔مندروں کی گونجتی گھنٹیوں کے شور کے بیچ اور مسجد سے بلند ہوتی مقدس اذانوں کی روح پرور فضا میں دھندلے کا سہانا منظر،صبح بنارس کا نظارہ ،گنگا کی آغوش سے نکلتے سورج کی شعائوں کی دلکشی، آب گنگا کی گل افشانی، بھگوان سے لولگائے ہوئے بادۂ عرفاں کے متوالے،تپسیااور دھیان میں منہمک جبین ناز ،برہمن کی مالا جپنے کی ادائے دل نوازی، جبین شوق پر چندن کا سرخ ٹیکا، چمکتی پیشانی پر قشقہ کی لکیریں،بھکتی اور روحانیت میں گم کا فرانہ ادائیں،پری پیکر نازک اندا م کا اداوناز کے ساتھ اشنان اور درشن کی کیفیت،مندروں کی نقرئی آوازوں اور ناقوس کی دل کش اور نشاط آفریں صدائوں سے عجب کیف وسرور کا عالم ہوتا ہے اور خوشنما نظاروں سے جمال بہشت کا گمان ہونے لگتا ہے۔ صبح کی دھندلی کیفیت میں جب سورج کی کرنیں گنگا کے پانی پر اپنا سنہرا عکس ضوفگن کرتی ہے تو اس پُر لطف نظارے کے دیدار کے لئے پوری دنیا کے سیاح اور عقیدت مند گھاٹوں کی سیڑھیوں پر جمع ہوجاتے ہیں۔
اہل کاشی کی سحر خیزی اور موج شفق میں ڈوبی ہوئی صبح بنارس کی بہارنے اردو شاعری میں ایک مستقل جگہ بنالی ہے۔ اور اس کی لطافت ورعنائی اردو شاعری میں ایک ضرب المثل کا درجہ رکھتی ہے۔ دراصل ’صبح بنارس‘ اردو شاعری کا محبوب موضوع رہا ہے۔ جسے باکمال شعراء نے طرح طرح سے باندھاہے۔ ایسے متعدد اشعار پیش کئے جاسکتے ہیںجن میں صبح بنارس کے ذکر سے لفظی اور معنوی حسن پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
ہوگئی صبح بنارس جلوہ گستر ہوگئی
(کھل گئیں دل کی کلیاں دنیا منور ہوگئی (حکیم نیرواسطی
حرم والے ذرا کاشی کا منظر دیکھتے جائیں
(کبھی دیکھیںگے جنت اورابھی دیکھیں صنم خانہ (اجتبی حسین
رنگ و وحدت کو نہ چھوڑا تیری نگی نے
(جلوہ کثرت میںدکھانے یہ بھی یکتا نکلا (عزیز لکھنو
ڈوب کر کیوں نکلتے ہیں ستارے دیکھ لو
(یہ تماشا آؤ گنگا کے کنارے دیکھ لو (صفی لکھنوی
سرساحل شباب وشیب سب اشنان کرتے ہیں
(خداسے لو لگاتے ہیں خداکادھیان کرتے ہیں (سیماب اکبر آبادی
کیاکہوںمیں کس قدر صبح بنارس ہے حسیں
(جس کا ہرنظارہ ہے صدرشک فردوس بریں (عشرت کرپوری
کہ جینے کا ساماں یہیں دیکھتاہوں
(بنارس کی صبح حسیں دیکھتاہوں (حفیظ بنارسی
کاشی ایک تاریخ،مذہبی اور تہذیبی شہر ہونے کے ساتھ ساتھ ادبی دیار کی بھی حیثیت رکھتا ہے۔ لسانی امتزاج کا مظہر یہ شہر بیک وقت تین ادبیات کا گہوارہ رہا ہے۔ سنسکرت اور ہندی کے ساتھ اردو کی شمع بھی یہاں روشن رہی۔ ان دونوں زبانوں کے شانہ بہ شانہ اردو زبان نے بھی یہاں ارتقاء کے منازل طے کئے۔ اس خطۂ خاص میں علم وادب کی ایسی لازوال اور باکمال ہستیاں جلوہ گر ہوئیں، جن کی ادبی اہمیت اور شاعرانہ عظمت مسلم ہے۔
کاشی اور سنسکرت زبان وفلسفہ کا آپس میں بڑا گہرا رشتہ ہے۔ کاشی قدیم زمانے سے ایک علمی مرکز رہا ہے۔ اور یہ سنسکرت زبان وادب اور فلسفہ کے سب سے اہم مراکز میں سے ایک رہا ہے۔ جس کا سلسلہ ویدک ادب سے لیکر مختلف پُرانوں ،عظیم رزمیوں اور جاتک کتھائوں تک پھیلا ہوا ہے۔ اس کے علاوہ سنسکرت زبان میں ناٹک،کہانیاں،منظومات،شاشتر اور دیگر ادبی تصانیف بھی تحریر کی گئیں جو ہندوستانی ادب،مذہب،علم اور فلسفہ کی علامت ہیں۔ کاشی نے سنسکرت زبان کے فروغ میں اہم خدمات انجام دیں اور سنسکرت ادب وفلسفہ کو نئی بلندیوں تک پہنچا دیا۔ قدیم زمانے سے لیکر دور جدید تک کاشی نے سنسکرت ادب ، قواعد ولغت،لسانیات اور علم کی روایت کو زندہ رکھا۔
سنسکرت کی تاریخ میں کاشی کی خدمات اس کی مذہبی اور علمی مرکزیت سے وابستہ ہے۔ کاشی صدیوں سے سنسکرت زبان اور ہندوستانی تہذیب کا مرکز رہاہے۔ جہاں سے سنسکرت زبان کو فروغ حاصل ہوا۔ سنسکرت ہندوئوں کی مذہبی زبان ہے اور ان کا تمام تر مذہبی سرمایہ اسی زبان میں موجود ہے۔ اس لئے ان مقدس متون جیسے وید، اپنشد،پُران کے مطالعہ ،درس وتدریس اور تحقیق کا یہاں خصوصی انتظام موجود تھا۔ سنسکرت زبان کے عظیم ادب، ہندوفلسفہ کی تدریس ومطالعہ،تصنیف وتالیف، ان مقدس متون کے تراجم ،تفسیر وتعبیر،تدوین اور ان کے فلسفیانہ مباحث کے لئے کاشی نے ایک مثالی ماحول فراہم کیا۔ یہاں پر سنسکرت کے عالموں، دانشوروں اور پنڈتوں نے سنسکرت زبان وفلسفہ پر بڑے عالمانہ کا رنامہ انجام دیئے، جس سے اس زبان کی وسعت اور گہرائی میں اضافہ ہوااوراس کا علمی اور لسانی دائرہ وسیع ہوا۔ سنسکرت کو ایک زندہ اور ترقی پذیر زبان بنانے میں کاشی کے پنڈتوں نے اہم کردار اداکیا۔ کاشی کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ اس نے سنسکرت زبان کو محفوظ رکھنے اور اسے زمانے کی دست برد سے بچاکر ایک ترقی یافتہ زبان بنانے میں ایک مرکزی کردار ادا کیا۔ ورنہ یہ زبان مثل دیگر زبانوں کی تاریخ کا حصہ بن گئی ہوتی۔
کاشی میں سنسکرت زبان وفلسفہ،نجوم اور علم ہیئت کی تعلیم وتدریس کے لیے قدیم زمانے سے پاٹھ شالائیں اور درسگاہیں قائم ہیں۔ اس لئے دور دراز اور نزدیک ممالک سے برہمن اور برہمن زادے تحصیل علم یا تکمیل علم کے لئے آتے تھے۔ اس لئے اسے سرّو وِدّیا کی راجدھانی کہا جاتا تھا۔ تاریخ کی کتابوں میں مشہور عرب ہیئت داں ابو معشر فلکی کے بھی کاشی آنے کا ذکر ملتا ہے، جنھوں نے یہاں رہ کر علم نجوم،ہیئت اور سنسکرت زبان سیکھی۔ مشہور عرب سیاح ابو ریحان البیرونی نے یہاں کئی سالوں تک قیام کرنے کے بعد مختلف علوم اور سنسکرت زبان سے واقفیت بہم پہنچائی۔ اس نے جابہ جا اپنی تصنیف’’کتاب الہند‘‘ میں کاشی کی عظمت اور یہاں کی علمی اہمیت کا ذکر کیا ہے۔وہ اس وقت کی زبان کے متعلق لکھتا ہے۔
’’ہندی خط بائیں طرف سے چلتاہے اورمشہور خط کانام سدھ ماترک ہے جو کشمیر کی طرف منسوب ہے اوریہی بنارس میںبھی جاری ہے۔‘‘6؎
اکبر بادشاہ کے دربار کے مشہور عالم اور مصنف فیضی نے اسی دیار سے فیض حاصل کیا اور اپنے علمی اور لسانی دائرے کو وسعت بخشی۔ سید نظام الدین بلگرامی نے بھی سنسکرت زبان کا علم حاصل کرنے کے لیے کاشی کا رخ کیااور یہاں رہ کر اس علم کی تکمیل کی۔ مغل شہزادہ دارا شکوہ کو سنسکرت زبان سے خصوصی دلچسپی تھی۔ اس کے لئے اس نے کاشی کے ہندو برہمنوں اور پنڈتوں سے قریبی تعلقات قائم کیے۔ان سے سنسکرت زبان وفلسفہ کی تعلیم حاصل کی۔ اور اہل ہنود کے علم سے آگہی حاصل کی۔ اس نے ہندئووں کے قدیم متن ویدوں اور اُپنشدوں کا فارسی زبان میں ترجمہ کرایا۔ اس کا نام’سرّ اکبر‘ رکھا۔ اس خدمات کے لئے اس نے یہاں سے ایک سو پچاس پنڈتوں اور عالموں کو مقرر کیا۔
سنسکرت کی طرح کاشی شروع سے ہی ہندی ساہیتہ کا ایک بڑا مرکزرہا ہے۔ یہاں کے علمی وادبی ماحول نے ہندی کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔کاشی نے ہندی ساہیتہ کو بہت سے شاعر،ا دیب ،ناقد، ناول نگار اور ڈرامہ نگار عطاے کئے، جنھوں نے ہندی ادب کو نئی بلندیوں تک پہنچا دیا۔ یہاں سے جدید ہندی ادب کی تخلیق واشاعت نے ہندی ساہتیہ کو عالمی سطح پر پہچان دلائی۔اس کے علاوہ یہاں سے کئی اہم ہندی کے رسائل وجرائد بھی شائع ہوتے رہے جس نے ہندی ساہیتہ میں نئے رجحانات، نئے خیالات کو فروغ دینے میں کلیدی کرداراداکیا۔ کاشی کے جن ہندی شاعرو ں اور ادیبوں اور نقادوں نے اپنی نگار شات کے ذریعہ ہندی ساہتیہ کے دامن کو گوہر آبدار عطا کیا ان میں بھارتیندو ہریش چند ر،جے شنکر پرساد، ہزاری پرساد دویدی، آچاریہ رام چند شِکل، بچن سنگھ دھومِل اور نامور سنگھ کے نام خصوصیت کے ساتھ قابل ذکر ہیں۔
بھارتیندوہریش چندر (1850-1885) جدید ہندی ساہیتہ کے امام تصور کئے جاتے ہیں۔ وہ ہندی ادب کی نشاۃ ثانیہ کے امام تھے۔ ان کا عہد قدیم وجدید کے سنگم پر واقع ہے۔ ہندی ساہتیہ میں جدید ہندی نثر کی ابتداء انھیں سے ہوتی ہے۔ انھوں نے جدید ہندی نثر کو نیا رنگ وآہنگ اور نیا طرز اسلوب عطا کیا۔ عام خیال ہے کہ سرسید احمد خان کی اردو نثر کی سادگی، صفائی بیان سے متاثر ہوکر انھوں نے یہ طرز نگار ش اختیار کی۔ یہ انسی ٹیوٹ علی گڑھ کے اہم قلمکاروں میں سے تھے۔
جے شنکر پرساد (1889-1937) ۔ہندی چھایا واد عہد کے اہم شاعر، ادیب، ناول نگار، کہانی اور ڈرامہ نگار ہیں۔ وہ ایک عہد سازادیب تھے۔ انھوں نے اپنی تخلیقات میں تہذیب و ثقافت، تاریخ وفلسفہ اور جذبۂ حب الوطنی کی نہایت خوبصورتی سے عکاسی کی ہے۔ کاماینی، آنسو، کنکال، تِتلی ان کی اہم نگار شات ہیں۔ بالخصوص کا ماینی، کو ہندی ساہتیہ میں اہم مقام حاصل ہے۔ اس میں انھوں نے انسانی زندگی کے المیہ کو نہایت فنکار انہ ہنر مندی کے ساتھ اجاگر کیا ہے۔ انھوں نے ہندی ساہتیہ کو نیا روپ عطا کیا۔ ان کی زبان خالص کھڑی بولی ہے جس میں سنسکرت کا اثر نظر آتا ہے۔
آچاریہ رام چندر شکل(1884-1941) ۔ کی پیدائش اگرچہ بستی میں ہوئی لیکن ان کی ادبی سرگرمیاں کاشی میں پروان چڑھیں۔وہ ہندی کے ایک اہم ادیب، مورخ، نقاد اور صحافی تھے۔ ہندی میں تنقید کی ابتدا انہی سے ہوتی ہے۔ انھوں نے ہندی ساہتیہ کے اتہاس کو پہلی مرتبہ منظم طریقے سے پیش کیا۔ ان کی اہم تخلیق’’ہندی ساہتیہ کا اتہاس‘‘ آج بھی ہندی ساہتیہ کے مطالعہ میں بنیادی ماخذ کا درجہ رکھتی ہے۔انھوں نے ہندی ساہتیہ کو فکری توانائی اور ثقافتی نقطۂ نظر سے مالا مال کیا۔ کبیر اور سوریہ داس جیسے عظیم شاعروں پر ان کا کام مشعل راہ کا درجہ رکھتا ہے۔
ہزاری پرساد دویدی(1908-1979) ۔ کا شمار ہندی کے نامور ادیبوں میںہوتا ہے۔ ان کا اصلی وطن بلیا تھا، لیکن گیان کی روشنی انھیں کا شی سے حاصل ہوئی ۔ اور یہیں پر انھوں نے اپنے ادبی سفر کا آغاز کیا۔ وہ ایک کثیر الجہات شخصیت کے مالک تھے۔ وہ بیک وقت ہندی کے اہم ادیب، ناول نگار، مورخ اور نقاد تھے۔ ان کی تخلیقات کا دائرہ نہایت وسیع ہے۔ انھوں نے ہندی تنقید کونئی وسعتوں سے ہمکنار کیا۔ ان کے ناولوں میں فنکارانہ وسعت اور گہرائی کے ساتھ تاریخ وتہذیب کے کئی نقوش اجاگر ہوئے ہیں۔ انھوں نے کئی ادبی اور معلوماتی مضامین قلمبند کئے جو ان کی علمی وسعت کا پتہ دیتے ہیں۔ کبیر اور سورداس کے ساہتیہ پر ان کی نگار شات غیر معمولی اہمیت کی حامل ہیں۔
ممتاز مارکسی نقاد، معروف ادیب ،دانشور اور صحافی نامور سنگھ کا تعلق بھی اسی زرخیز بھومی سے ہے۔ ترقی پسند تحریک کے زیر اثر انہوں نے ہندی میں ایک فعال کردار ادا کیا۔ وہ ایک سہ ماہی علمی ہندی جریدہ’’ آلوچنا‘‘ کے مدیر بھی رہے، انھوں نے ہندی ساہتیہ اور تنقید وتفہیم پر بڑاعمدہ کام کیا ہے۔انھوں نے جدید ہندی تنقید کو نئے رجحانات اور نئی جہات سے آشنا کیا۔ اس کے علاوہ کاشی ناتھ سنگھ،کیدار ناتھ دھومِل اور رام درش مشر جیسے تخلیق کارواں نے ہندی ساہتیہ کے ذریعہ کاشی کی ادبی اور ثقافتی وراثت کی نمائندگی کی۔ کاشی سنگھ نے اپنے ناول ’کاشی کا اَسّی‘ میں کاشی کی سماجی اور ثقافتی زندگی کی گہرائی اور خوبصورتی کے ساتھ عکاسی کی ہے۔
کاشی سے ہندی بھاشا اورساہتیہ کا اٹوٹ رشتہ رہا ہے ۔ کاشی شروع سے ہی ہندی بھاشا اور ساہتیہ کا اہم مرکز رہا ہے۔ چاہے ہندی کو عام بول چال کی زبان بنانے کی بات ہو، اسے ادبی شکل عطا کرنے کا عمل ہو یا اسے قومی زبان بنانے پر زوردینے کی بات ہو کاشی نے ہر سطح پر ہندی کی نمائندگی کی۔ کاشی نے انیسویں صدی سے ہی کھڑی بولی کو ایک ادبی زبان کے روپ میں پیش کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ یہاں کے تخلیق کاروں نے کاشی کوہندی ادب کی تخلیق،ترقی اور نشاۃ ثانیہ کا مرکز بنایا۔ اردو زبان کے مقابلے میں ہندی بھاشاکے احیاء کی سب سے پہلی کوشش یہیں پر1867میں شروع ہوئی ۔ کاشی نگری پر چارنی سبھا (1898) جیسی ادبی تنظیم نے بڑے پیمانے پر ہندی میں علمی وادبی اصطلاحات وضع کرنے کا کام انجام دیا، جس سے سائنسی اصطلاحات اور ادب کی تخلیق کی راہ ہموار ہوئی۔یہاںہندی ادب کا پہلابھاشائی میوزیم تعمیر کیا جارہا ہے، جہاں مشہور ادیبوں کی تخلیقات، تصاویر ،اہم دستاویزات اور مجسمے نصب کئے جائیں گے۔
علم وحکمت سے معمور یہ شہر اردو زبان وادب کے حوالے سے بھی شہرت رکھتا ہے۔ شہر کی علمی فضا، ثقافتی ماحول اور یہاں کی گلیوں اور گھاٹوں نے قلمکاروں کو تخلیقی ماحول فراہم کیا۔ کاشی اردو کے کئی عظیم ادیبوں کا مسکن رہا ہے جنھوں نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں اور فکری توانائی سے اردو شعر وادب کے افق کو روشن کیا۔ رونق بنارسی، طالب بنارسی، آغا حشر کا شمری، منشی پریم چند، مولوی مہیش پرساد، عشرت لال، حکم چند نیر، حنیف نقوی، شمیم طارق، امام الدین رام نگری جیسے تخلیق کاروناقد عطا کئے۔ اسی طرح فائز بنارسی، فرخ بنارسی، محشر بنارسی، آفاق بنارسی، مسلم الحریری،نذیر بنارسی، حفیظ بنارسی،ظفر الاسلام اور شمس ذبیحی بنارسی جیسے شاعروں کا نام کاشی سے جڑا ہوا ہے جنھوں نے اپنی نگارشات کے ذریعہ اردو شاعری کے دامن کو وسعت بخشی۔
رونق بنارسی(1825-1886) اور طالب بنارسی (1852-1929) کا شمار اردو کے ابتدائی ڈرامہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ رونق پارسی تھیٹرسے وابستہ تھے۔ انھوں نے اردو ڈرامے کو نئی بلندیوں تک پہنچایا۔ ’بے نظیر‘ ان کا شاہکار ڈرامہ ہے۔ اردو کے کلاسیکی ڈرامہ نگاروں میں طالب بنارسی انفرادی اہمیت کے مالک ہیں۔ ان کا اصل نام ونائک پرساد منشی تھا۔کاشی ہی میں پیدا ہوئے اور یہیں وفات پائی۔ وہ اپنے مزاحیہ ،طنزیہ ،سماجی اور اصلاحی ڈراموں کی وجہ سے جانے جاتے ہیں۔ پلاٹ کی تزئین کاری، مکالموں کی برجستگی اور شستہ وفصیح زبان کی وجہ سے ان کے ڈرامے بے حد مقبول ہوئے۔ انھوں نے تقریباً ایک درجن سے زائد ڈرامے تخلیق کیے۔
اردو ڈرامے کو نئے نقش ونگار عطا کرنے والے اور اردو ڈرامہ کا شیکسپئر کہے جانے والے آغا حشر کا شمیری(1879-1935) نے اگرچہ اپنی ادبی زندگی کا طویل حصہ بمبئی، لاہور اور امرتسر میں گذارا۔ لیکن ان کی پیدائش یہیں کاشی میں ہوئی۔ ان کے والد بغرض تجارت کشمیر سے آکر یہاں آباد ہوگئے تھے۔ اور یہیں پر ان کی ولادت ہوئی۔
آغاحشر کاشمیری کو بچپن سے ہی ڈرامہ اور شاعری سے دلچسپی رہی۔ سترہ سال کی عمر میں انھوں نے ڈرامہ نگاری میں طبع آزمائی شروع کردی تھی اور اٹھارہ برس کی عمر میں آفتاب محبت (1897) کے نام سے اپنا پہلا ڈرامہ لکھا۔ وہ مختلف تھیٹر کمپنیوں سے بھی وابستہ رہے جس نے ان کی تخلیقی ہنر مندی کونئی سمت دی۔ انھوں نے بہت سے ڈرامے تخلیق کئے،جس میں کچھ طبع زاد ہیں۔کچھ ڈراموں کے پلاٹ مغربی ڈراموں سے ماخوذ ہیں۔ انھوں نے شیکسپیئرکے بہت سے ڈراموں کو اردو کا قالب عطا کیا۔انھوں نے رامائن اور مہابھارت کے دیو مالائی قصوں پر مبنی ڈرامے بھی لکھے جو بہت مقبول ہوئے۔ ان کے مشہور ڈراموں میں شہید ناز، صید ہوس، سفید خون، خواب ہستی،سلورکنگ اور ’خوبصورت بلا‘وغیرہ شامل ہیں۔ ڈرامے میں ان کو جو شہرت اور مقبولیت حاصل ہوئی، وہ ان کے پیش روئوں اور معاصرین کو حاصل نہیں ہوئی۔
اردو ہندی فکشن کے بنیاد گزار منشی پریم چند (1880-1936) کی جنم اور کرم بھومی یہی سرزمین ہے۔ انھوں نے اپنی زندگی کا آغاز اسی شہر میں کیا۔ اور اپنی بیشتر تخلیقات اسی علمی ماحوم میں رہ کر لکھیں، انھوں نے اپنے افسانوں اور ناولوں میں قومی زندگی کے بنیاد ی حقائق کی ترجمانی کرکے اردو ادب کو نئے کردار،نئی فضا اور نئی جہت سے روشناس کرایا۔ ان کے افسانوں اور ناولوں کی سب سے بڑی خوبی ان کی سادہ وسلیس زبان اور بے تکلف طرز تحریر ہے۔
ابو محمد امام الدین رام نگری کا شی کی ایک اہم علمی وادبی شخصیت ہیں۔ ان کا شمار کثیر التصانیف ادیبوں میں ہوتا ہے۔ انھوں نے مختلف موضوعات مثلاً ادب وشاعری، مذہب وتصوف، سیاسیات، عمرانیات اور صحافت غرض کہ ہر موضوع پر قلم اٹھا۔ لیکن اس بسیار نویسی اور زود نویسی کے باوصف ان کی تحریر سطحیت اور غیرمعیاری پن سے پاک ہے۔انھوں نے جس موضوع کا انتخاب کیااس میں علم وادب کی تمام فنی روایتی قدروں کو ملحوظ رکھا۔ ان کی کتاب ہندی اردو لغت لوگوں سے داد و تحسین حاصل کر چکی ہے۔’مسئلہ تناسخ اور آواگون‘ مذاہب وادیان کے تقابلی مطالعہ پر ایک دلچسپ مگر اہم تصنیف ہے۔ شعروشاعری سے بھی انھیں خصوصی شغف رہا۔ ان کی غزلیں اور نظمیں شدت جذبات کے ساتھ سادگی کا عمدہ نمونہ ہیں۔
مسلم الحریری کا شمابر بنارس کے سربرآوردہ اور استاد شعرا ء میں ہوتا ہے۔ ان کا اصل نام عبد الحق تھا، لیکن دنیائے شاعری میں مسلم الحریری کے نام سے مشہور ہوئے۔ 1904 میں بنارس کے ایک معزز علمی وادبی گھرانے میں پیدا ہوئے ۔ آپ کی شخصیت کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ سلسلہ مصحفی کی آخری یادگار تھے۔ انھوں نے شاہنامہ اسلام کی طرز پر ایک مثنوی’’تاریخ امم‘‘ المعروف بہ اسلام نامہ لکھی ۔ ابتدائے آفرینش سے لیکر تشریح اذان تک مہتم واقعات کو مثنوی کی صورت میں قلمبند کیا ہے۔ غالب کی مثنوی چراغ دیر (فارسی)کا منظوم اردو ترجمہ ، جسے سرزمین کاشی پر سب سے پہلے آپ ہی نے انجام دیا تھا۔ 1983 میںوفات پائی ۔
نذیر بنارسی (1909-1996) کا شمار کاشی کے نمائندہ شاعروں میں ہوتا ہے۔ انھوں نے اپنی پوری زندگی یہیں گزاردی۔ اس شہر کی مشترکہ تہذیب اور ثقافتی روایتوں سے انھیں گہرا جذباتی لگائو تھا۔ وہ کاشی کا باشندہ ہونے پر فخر کرتے تھے۔ اور خود کو شیونگری کا سفیر کہلانا پسند کرتے تھے۔
میں بنارس کا نواسی ہوں کاشی نگری کا فقیر
ہندکا شاعرہوں،شیوکی راجدھانی کا سفیر
نام ہے میرانذیر اورمیرانگرہے بے نظیر
نذیر کی شاعری میں گنگا کے تقدس اور دل کشی ورعنائی کے ساتھ کاشی کے بت خانوں اور شنکر کی عظمت کا خاص طور پر ذکر ملتا ہے۔
شنکرکی چٹانوں کی طرح سایہ فگن ہے
ہر سایہ دیوار بنارس کی گلی میں
میرے بعد اے بتان شہر کاشی
مجھ ایسا اہل ایماں کون ہوگا
ہم نے تو نمازیں بھی پڑھی ہیں اکثر
گنگا تیرے پانی سے وضو کرکر کے
کاشی کے ادبی منظر نامے پر جن شعرا نے اپنی تخلیقی ہنر مندی کے سبب خصوصی پہچان بنائی، ان میں حفیظ بنارسی(1933-2008) نام قابل ذکر ہے، ان کی شاعری کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ انھوں نے مختلف اصناف سخن پر طبع آزمائی کی۔ لیکن ان کے اصلی جوہر غزلوں میں ابھر کر سامنے آتے ہیں۔ان کی غزلیں ایک طرح سے کلاسیکی روایت کی توسیع کہی جاسکتی ہیں۔ ان کی غزلیں حکایت دل کے ساتھ حکایت داستان کا دل کش مرقع ہے۔ ان کی غزلوں میں واردات قلبی کے ساتھ زندگی کی مختلف النوع کیفیات کا اظہار اپنی تمام تر فکری وفنی رچائو کے ساتھ موجود ہے۔ بادۂ عرفاں، درخشاں، غزالاں ’قول وقسم‘ ان کے اہم شعری مجموعے ہیں۔جبکہ ’سفیر شہر دل‘ کے نام سے ان کا کلیات بھی منظر عام پر آچکا ہے۔
شعروادب کی طرح یہاں صحافت کی بھی ایک توانااور صحت مند روایت رہی ہے۔ اردو ہندی دونوں زبانوں میں یہاں صحافت نے اہم خدمات انجام دیں ہیں۔ کاشی ہندی صحافت کا ایک اہم تاریخی مرکز رہا ہے جس کی جڑیں بنارس اخبار 1845 اور سدھاکار1850 جیسے ابتدائی اخباروں کی اشاعت سے لیکر بھارتیندوہریش چندرکے کوی وچن سدھا 1968 تک پھیلی ہوئی ہے۔ اور آزادی کی تحریک کے دوران مقامی ہندی اخباروں کی اشاعت نے ہندی صحافت کو کافی متاثر کیا ۔
یہاں سے 1837 میں پادری شرسن کی ادارت میں’’خیر خواہ ہند‘‘ اخبار نکلتا تھا جسے کاشی کا پہلا اردو اخبار ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ 1849 میںہربنس لال کی ادارت میں مراۃ العلوم شائع ہوتا تھا،ستارہ ہند راجہ شیوپرساد کا بنارس اخباراگرچہ ہندی میں نکلتا تھا لیکن اردو زبان کا پُر زور حمایتی ہونے کی وجہ سے اس میں زیادہ تر الفاظ اردو اور فارسی کے استعمال ہوتے تھے۔ ہفت روزہ’ آواز خلق‘ بھی کاشی کا ایک اہم اخبار تھا جس میں منشی پریم چندکا پہلا نامکمل ناول’ اسرار معابد‘ قسط وار شائع ہوتا رہا۔ہنس،رسالہ کا نقطۂ آغاز بھی کاشی سے ہوا۔ ’آفتاب ہند‘ یہاں کا ایک اہم اردو اخبار تھا جس کے مالک بابو کاشی داس مشر تھے۔ قومی مورچہ اور آواز ملک یہاں کے اہم اور مشہور اخبار تھے۔ باالخصوص قومی مورچہ بے حد مقبول رہا۔ جس کی ادارت سے اردو کی کئی علمی اور ادبی شخصیتیں وابستہ رہیں۔ عارف ہندی کی ادارت میں ’نئی صدی‘ نے جہاں نئی بلندیاں طے کیں، وہیں جاوید انور کے تحریک ادب نے نئی نسل کے شعرا کی آبیاری میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ رسالہ نئے موضوعات ومسائل کی پیشکش کے لحاظ سے اردو ادب میں اہم مقام بنا چکا ہے۔ ’’دستک‘‘ بنارس ہندویونیورسٹی کے شعبہ اردو کی جانب سے پروفیسر آفتاب احمد آفاقی کی ادارت میں لکھنے والا ایک اہم ششماہی علمی وادبی جریدہ ہے جس نے بہت کم عرصے میں کامیابی کی نئی اونچائیوں کو چھو لیا ہے۔ اردو زبان میں تحقیق وتنقید کے تناظر میں شائع ہونے والے اس ادبی جریدہ کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے مختلف گوشے کسی نہ کسی مشہور ادبی شخصیت یا کسی شعری ونثری اصناف پر مشتمل ہوتے ہیں۔
حواشی:
1 بحوالہ اسعد فیصل فاروقی۔ سرسید کا قیام بنارس (1867-1876) سر سید اکیڈمی مسلم یونیورسٹی علی گڑھ 2024 صفحہ 22
2 چودھری،نبی احمد سندیلوی۔ مرقع بنارس سلطانیہ پریس لکھنؤ 1938
3 بحوالہ مفتی عبد السلام نعمانی مجددی۔ تاریخ آثار بنارس پرنٹیا پبلی کیشن وارانسی 2015صفحہ 40
4 ایضاً
5 مرزا غالب۔ اردومعلی ۔رام نرائن لال ارن کمار پبلشر اینڈ بک ڈپو۔ الٰہ آباد۔صفحہ8
6 بحوالہ مفتی عبد السلام نعمانی مجددی تاریخ آثار بنارس پرنٹیا پبلی کیشن وارانسی2015صفحہ 39
Dr. Mohammad Arshad
Assistant Professor (Urdu Department)
M.B.S.P.G College, Gangapur,
Varansai U.P Pin. 221302
Mob: 9793890815
E-mail-ma881486@gmail.com