منتخب فرانسیسی ڈراموں کے اردو تراجم کا تنقیدی مطالعہ،مضمون نگار:محمد ریحان

April 22, 2025 0 Comments 0 tags

تلخیص

فرانسیسی ڈراما نگاری کی شاندار اور طویل روایت ہے، جس نے صدیوں سے تھیٹر کی دنیا کو اپنی تخلیقی جہات سے متاثر کیا ہے۔ فرانسیسی ڈرامے کا آغاز قرونِ وسطیٰ کے مذہبی اور اخلاقی موضوعات پر مبنی ڈراموں سے ہوا، مگر سترہویں صدی میں یہ فن اپنے کلاسیکی عروج کو پہنچا، جب پیئر کورنِئی، مولیئر اور ژاں راسِن جیسے نابغہ روزگار مصنفین نے ایسے شاہکار تخلیق کیے جن میں فنی ساخت، اخلاقی پہلوؤں،وقت، مقام اور واقعے کی وحدت کو غیرمعمولی اہمیت دی گئی۔ خصوصاً مولیئر نے اپنی طنزیہ اور مزاحیہ تخلیقات کے ذریعے معاشرتی تضادات، منافقت اور انسانی کمزوریوں کو بے نقاب کیا۔ انیسویں اور بیسویں صدی میں فرانسیسی ڈراما نئی فکری لہروں جیسے رومانویت، علامتیت اور مہملیت کے زیرِ اثر نئی جہتوں سے آشنا ہوا۔ انیسویں اور بیسویں صدی کے آغاز میں وکٹر ہیوگو اور مورس مترلِنک نے علامتی تحریک کو اسٹیج پر ایک نئے رنگ میں پیش کیا۔ ان کے ڈرامے ایک پراسرار اور شاعرانہ فضا پیدا کرتے ہیں، جہاں وہ انسانی تقدیر پر اثر انداز ہونے والی پوشیدہ قوتوں کو دریافت کرتے ہیں۔ ژاں پال سارتر، ساموئل بکیت اور البیغ کامیو وغیرہ نے ڈرامے کو فلسفیانہ گہرائی عطا کی۔
فرانسیسی زبان کے اکثر بڑے ڈراما نویس کی اہم نگارشات کو اردو میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ کچھ فرانسیسی ڈراموں کے اصل مفہوم کو سامنے رکھ کر ہندوستانی تہذیب کے مطابق پیش کرنے کی کامیاب کوشش کی گئی ہے۔ ان میں سے بیشتر ایسے بھی ہیں جن کو ہند و پاک کے بہت سے شہروں میں اسٹیج پر کھیلا بھی گیا ہے۔ اس مقالے میں کل تین ڈراموں پر تین زاویوں سے گفتگو کی گئی ہے یعنی ڈرامہ نویس کی زندگی، ڈرامے کا موضوع اور ان کے اردو تراجم کے حوالے سے بات کی گئی ہے۔ ڈراما نویس پر بات کرتے ہوئے اس کی ابتدائی زندگی اور اہم کارنامے کا تفصیلی ذکر کیا گیا ہے۔ منتخب ڈرامے کے موضوع پر بات کرتے ہوئے ان کا خلاصہ بھی پیش کیا گیا ہے۔ ترجمے پر بات کرتے ہوئے یہ دیکھنے کی کوشش کی گئی ہے کہ کہاں ترجمہ اصل متن کے قریب ہے اور کہاں اصل متن سے دور ہو گیا ہے۔ یہ کیوں اور کیسے ہوا ہے اس کو مثالوں کے ذریعے سمجھنے اور سمجھانے کی سعی کی گئی ہے۔


کلیدی الفاظ
ڈراما، فرانسیسی، اردو ترجمہ، مولیئر، مترلنک، بیویوں کا مدرسہ، تارتوف، مونا وانا، مثالیت پسندی، نرگس جمال، نفاستِ خیال، لطافتِ ادب، صوتی آہن،تہذیبی سیاق و سباق، ساختیاتی حسن، مغربی زبانیں۔
انیسویں اور بیسویں صدی میں فرانسیسی ڈراما نئی فکری لہروں جیسے رومانویت، علامتیت اور مہملیت کے زیرِ اثر نئی جہتوں سے آشنا ہوا۔ انیسویں اور بیسویں صدی کے آغاز میں وکٹر ہیوگو اور مورس مترلِنک نے علامتی تحریک کو اسٹیج پر ایک نئے رنگ میں پیش کیا۔ ان کے ڈرامے ایک پراسرار اور شاعرانہ فضا پیدا کرتے ہیں، جہاں وہ انسانی تقدیر پر اثر انداز ہونے والی پوشیدہ قوتوں کو دریافت کرتے ہیں۔ ژاں پال سارتر، ساموئل بکیت اور البیغ کامیو وغیرہ نے ڈرامے کو فلسفیانہ گہرائی عطا کی۔ انھوں نے اسٹیج کو اپنے نظریات کے اظہار کا ذریعہ بنایا، جہاں انھوں نے انسانی جدوجہد اور زندگی کی بے معنویت جیسے پیچیدہ موضوعات کو ڈرامائی انداز میں پیش کیا۔ جارج فیدو نے مزاحیہ ڈرامے کو ایک نیا روپ دیا۔ ان کے ڈرامے تیز رفتار مکالموں، پیچیدہ پلاٹوں اور کاٹ دار طنز سے بھرپور ہوتے ہیں، جو ناظرین کو نہ صرف محظوظ کرتے ہیں بلکہ سماج پر تنقید بھی کرتے ہیں۔
مذکورہ بالا تمام ڈرامہ نگاروں نے اپنے اپنے انداز اور اسلوب میں فرانسیسی ڈرامے کی ترقی، تنوع اور اس کی تازگی کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ فرانسیسی زبان کے اکثر بڑے ڈراما نویس کی اہم نگارشات کو اردو میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ کچھ فرانسیسی ڈراموں کے اصل مفہوم کو سامنے رکھ کر انھیں ہندوستانی تہذیب کے مطابق پیش کرنے کی کامیاب کوشش کی گئی ہے۔ ان میں جارج فیدو کا ڈرامہ بھی شامل ہے۔ ان میں سے بیشتر ایسے بھی ہیں جن کو ہند و پاک کے بہت سے شہروں میں اسٹیج پر کھیلا بھی گیا ہے۔
اس مضمون میں فرانسیسی اقتباسات پیش کرنے سے دانستہ طور پر گریز کیا ہے۔ذیل کی سطور میں مولیئر کے دو ڈرامے ’بیویوں کا مدرسہ‘ اور ’تارتوف‘ اور مورس مترلنک کے ایک ڈراما ’مونا وانا‘ پر تفصیلی گفتگو کی گئی ہے۔
مولیئر
مولیئرسترہویں صدی کا ایک مشہور و معروف فرانسیسی مزاحیہ ڈرامہ نویس، اداکار، ہدایت کار اور مصنف تھا۔ اس کا اصل نام ژاں باپتست پوکلیں (Jean-Baptiste Poquelin)تھا۔ مولیئر اس کا اسٹیج نام تھا۔ اس کی پیدائش کی کوئی حتمی تاریخ نہیں ملتی۔ البتہ تحقیق سے یہ ضرور پتا چلتاہے کہ 15 جنوری 1622کو بپتسمہ کیے جانے سے کچھ دن پہلے وہ پیدا ہوا تھا۔ یعنی اس کی سال ولادت کے بارے میں حتمی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے وہ پیرس میں 1622میں پیدا ہوا۔ اس کے والد ژاں پوکلیں کا قالین کا کاروبار تھا اور اس کی ماں میری کریسے بھی ایک قالین فروش کی بیٹی تھی۔ مولیئر کے والد نے بعد میں شاہ فرانس کے دربار میں ایک چھوٹی سی ملازمت بھی حاصل کر لی تھی۔ مولیئر کا خاندان خوش حال تھا۔ اس کی پرورش ایک اچھے ماحول میں ہوئی جہاں اس کے احساس جمال کی عمدہ تربیت ہوئی۔ مولیئر کی عمر جب دس سال کی ہوئی تو اس کی ماں کا انتقال ہو گیا۔ اس کے والد نے 1633میں دوسری شادی کیتھرین فلوریت سے کر لی۔
مولیئر کے والد نے اپنے بچے کی تعلیم کا پورا خیال رکھا۔ اسے اچھی سی اچھی تعلیم دلوائی۔ پیرس کے کالج Collège de Clermont میں اس کا داخلہ 1636میں کرایا گیا اور وہاں 1641تک تعلیم حاصل کرتا رہا۔ یہاں سے تعلیم مکمل کرنے بعد اس نے قانون کی بھی تعلیم حاصل کی۔ مولیئر کے والد نے شاہ فرانس سے اپنی جگہ اپنے بیٹے کو ملازمت پر رکھنے کی سفارش کی۔ شاہ فرانس نے اس کی سفارش منظور کر لی۔ اس طرح لوئی ہشتم کے دربار میں مولیئر ملازم ہو گیا۔ لیکن مولیئر یہاں زیادہ دنوں تک نہ رہ سکا۔ اسے یہ روایتی طرز کی نوکری پسند نہ تھی۔ اس کو تھیٹر سے لگائو پیدا ہو گیا تھا اور وہ اسی میں اپنا مستقبل دیکھ رہا تھا۔ اس کی ملاقات ایک تھیٹر اداکارہ مادلیں بے ژار سے ہوئی۔ اداکاری میں دلچسپی تو مولیئر کو بھی تھی۔ مادلیں بے ژار سے مل کر مولیئرنے ایک فنکار کی زندگی گزارنے کا حتمی فیصلہ کر لیا۔ مولیئر نے مادلیں بے ژار اور دیگر لوگوں کے ساتھ مل کر محض 21سال کی عمر میں 1643میںایک تھیٹر کمپنی Illustre Théâtre قائم کی اور اسی وقت اپنے لیے مولیئر نام تجویز کیا۔ اس کمپنی کو پیرس میں پیر جمانے کا موقع نہیں مل سکا۔ سترہویں صدی میں تھیٹر میں لوگ کم ہی جاتے تھے اور پیرس میں پہلے سے ہی دو مشہور تھیٹر کمپنیاں موجود تھیں۔ مولیئر کی کمپنی جلد ہی دیوالیہ ہو گئی۔ مولیئر کافی مقروض ہو چکا تھا۔ قرض ادا نہ کرنے کی وجہ سے اسے 1645میں دو بار جیل جانا پڑا۔ مولیئر اور اس کی ٹیم کو بادل ناخواستہ پیرس کو الوداع کہنا پڑا۔ مولیئر اپنی ٹیم کے ساتھ فرانس کے دوسرے چھوٹے شہروں کی طرف نکل گیا اور تقریبا بارہ سال تک فرانس کے مختلف علاقوں میں ڈرامہ اسٹیج کرتا رہا۔ پروفیسر ثریا حسین لکھتی ہیں:
’’مولیئر کے گروپ نے دو سال تک کوشش کی کہ عوام میں مقبولیت حاصل کرے لیکن شروع سے ہی ناکام رہا۔ ایسا لگتا تھا گویا پیرس کا شہر انھیں راس نہ آیا۔ اس شہر میں ’اوتل دبورگوں‘ اور تھیٹر ’دوماہے‘ پہلے سے مشہور تھے۔ جن کی موجودگی میں کسی تیسری ڈرامہ پارٹی کا پنپنا محال تھا۔ اس ناکامی کی وجہ سے مولیئرمقروض ہو گیا۔ پاداش میں اسے جیل جانا پڑا۔ جہاں سے وہ اپنے باپ اور چند دوستوں کی وجہ سے رہا ہوا۔ نتیجتاً یہ لوگ ایسے مایوس ہوئے کہ پیرس میں قدم جمانے کی ہمت نہ رہی اور انھوں نے دار السلطنت کو خیربادکہا۔ تقریبا بارہ سال تک فرانس کے مختلف علاقوں میں قسمت آزمائی کرتے رہے کیونکہ انھیں اضلاع میں کامیابی کا یقین تھا۔‘‘
(مولیئر اور اس کے دو ڈرامے: ثریا حسین، ترقی اردو بیورو،نئی دہلی1948، ص: 23)
مولیئر 1645سے 1658تک نشیب و فراز سے گزرتا رہا۔ اس نے اپنے گروپ کی کامیابی کے لیے خوب محنت کی۔ مولیئر اپنی محنت اور لگن کی وجہ سے 1652میں اپنے گروپ کا لیڈر بن گیا۔ وہ اپنے تھیٹر گروپ کا مصنف، ہدایت کار اور اداکار سبھی کچھ تھا۔ 1658میں اسے پیرس میں ایک بار پھر موقع ملا۔ یہاں اس نے شاہ فرانس کے سامنے 24اکتوبر 1658کو پیئر کورنئی کا ڈرامہ ’نکوپیڈ‘ پیش کیا جسے کافی پسند کیا گیا۔ اس کے بعد مولیئر نے اپنا لکھا ڈرامہLe Docteur amoureux (عاشق ڈاکٹر) بھی پیش کیا۔ مولیئر کی اس پیش کش کو بے حد سراہا گیا۔ اسی دوران مولیئر کو شاہ فرانس کے بھائی کی قربت بھی حاصل ہو گئی۔ اس نے پیرس کے قریب ویرسیئی کے دربار میں تفریح کے لیے مولیئر کو ڈراما پیش کرنے کی ذمہ داری دے دی۔ مولیئر اس بات سے بہت خوش تھا کہ شاہ فرانس کا بھائی اب اس کے دوستوں میں سے ہے۔ مولیئر نے مزاحیہ ڈرامے لکھ کر بہت سے لوگوں کو اپنا دشمن بنا لیا تھا۔ اس نے خاص طور پر رومن کیتھولک چرچ کے اہم لوگوں کو اپنی تنقید کا نشانہ بنایا۔ دربار سے براہ راست رشتہ کے استوار ہو جانے سے وہ بہت سی پریشانیوں سے بچ گیا۔ یہاں سے اس کی مالی پریشانی کا مسئلہ بھی حل ہو گیا تھا۔
مولیئر نے کئی ڈرامے تخلیق کیے اور انھیں خود اسٹیج بھی کیا۔ ان کے مشہور ڈراموں میں ’شوہروں کا مدرسہ‘ (L’École des maris,1661)، ’بیویوں کا مدرسہ‘ (L’École des femmes,1662)، ’تارتوف‘ (Tartuffe ou L’Imposteur, 1664)، ’ڈاکٹر کی محبت‘ (L’Amour médecin,1665)، ’عالم فاضل خواتین‘ (Les Femmes savantes,1672) اور ’وہمی مریض‘ Le Malade (1673) imaginaire قابل ذکر ہیں۔ مولیئر کے طربیہ ڈراموں میں انسانی کمزوریوں جیسے حسد، تنگ دلی اور منافقت کو بڑے فنکارانہ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ وہ اپنے کرداروں کو مضحکہ خیز حالات میں ڈال کر ایک طرف ناظرین کو تفریح کا سامان مہیا کرتا ہے اور دوسری طرف ایک سماجی اور اخلاقی پیغام بھی دیتا ہے۔
مولیئر کی زندگی کا آخری ڈراما ’وہمی مریض‘ ہے۔ جیسا کہ وہ اپنے بہت سے مزاحیہ ڈراموں میں خود ہی مرکزی کردار ادا کرتا تھا، اس ڈرامے کی چوتھی پرفارمنس کے دوران ’ارگوں‘ کا کردار ادا کرتے ہوئے وہ اسٹیج پر ہی خون کی قے کرنے لگا۔ اسے ہسپتال لے جایا گیا لیکن 17 فروری 1673میں اس کا انتقال ہو گیا۔ چرچ کے ساتھ اس کی عدم موافقت کے سبب اس کی لاش کو چرچ کے قبرستان میں دفن کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ بادشاہ کی مداخلت کے بعد اسے پیرس کے سین جوزف قبرستان میں دفن کر دیا گیا۔
مولیئر کے مزاحیہ ڈراموں میں ’بیویوں کا مدرسہ‘ کو کافی شہرت ملی۔ یہ ڈرامہ پہلی مرتبہ 26 دسمبر 1662میں تھیٹر ’پیلے رویال‘ میں اسٹیج کیا گیا۔ اس ڈرامے کا مرکزی کردار ’ارنولف‘ کا رول خود مولیئر نے ادا کیا۔ اس کی مقبولیت کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ یہ شاہی اور نجی محفلوں میں مسلسل اکتیس بار پلے کیا گیا۔ اس کی کامیابی کو دیکھتے ہوئے بادشاہ نے مولیئر کا وظیفہ مقرر کر دیا۔ پروفیسر ثریا حسین رقم طراز ہیں:
’’مولیئر کی اس عظیم الشان کامیابی پر اسے بادشاہ کی طرف سے وظیفہ مرحمت ہوا۔ یہ ڈراما شاہی اور نجی محفلوں کے علاوہ کرسمس سے اسٹر تک متواتر اکتیس بار کھیلا گیا۔ اس زمانے میں تھیٹر ہفتہ میں صرف تین بار دکھایا جاتا تھا اس لیے اتنی مدت تک کسی ڈرامے کا مسلسل چلنا تعجب خیز اور اس کی غیر معمولی مقبولیت کا ثبوت تھا۔ جون میں یہ کھیل پھر دس ہفتے تک اسٹیج ہوتا رہا۔ انیسویں صدی کے ناقدین ہینرلیٹ اور بالزاک کی رائے میں یہ مولیئر کا شاہکار اور لازوال کارنامہ ہے۔‘‘
(مولیئر اور اس کے دو ڈرامے:ثریا حسین، ترقی اردو بیورو،نئی دہلی1984، ص 42)
مولیئر سے حسد کرنے والوں کو اس کی مقبولیت برداشت نہ ہوئی۔وہ اس پر بے جا اعترضات کرنے لگے۔ مولیئر نے اپنے دشمنوں کو ڈراما ’بیویوں کے مدرسہ‘ میں تنقید کا نشانہ بنایا۔ یہ ڈراما جون 1663 میں کھیلا گیا۔اس میں مولیئر نے تنقید کی اخلاقیات اور معیاری اور غیر معیاری تنقید پر بے لاگ محاکمہ کیا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ نہ صرف ایک اچھا تخلیق کار تھا بلکہ تنقید کے بنیادی اصولوں سے بھی خوب واقف تھا۔
بیویوں کا مدرسہ
مولیئر کے کئی ڈراموں کا ترجمہ اردو میں ہو چکا ہے۔ L’École des femmes کا ترجمہ ’بیویوں کا مدرسہ‘ کے نام سے پروفیسر ثریا حسین نے کیا ہے۔ یہ پانچ ایکٹ پر مشتمل ایک طربیہ ڈرامہ ہے۔ اس میں کرداروں کی کل تعداد 8 ہے۔ اس ڈرامے کا مرکزی کردار ارنولف ایک بیالیس سالہ بیچلر ہے جس کا یہ ماننا ہے کہ ذہین خواتین پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ اسے یقین ہے کہ اگر وہ کسی پڑھی لکھی اور ذہین عورت سے شادی کرتا ہے تو اس کی بیوی اسے دھوکہ دے کر پورے سماج میں ذلیل کر سکتی ہے۔ وہ ’اگنیس‘ کو کنونٹ میں تعلیم کی غرض سے داخلہ دلاتاہے لیکن درخواست کرتا ہے کہ اس کی تعلیم محدود ہی رکھی جائے۔ اگنیس ایک چار سالہ بچی ہے جو اس کی نگرانی میں ہوتی ہے اور وہ اس سے شادی کرنے کا خواہش مند ہوتاہے۔ ’ارنولف‘ کا خیال ہے کہ عورتوں کو صرف تین چیزوں کی تعلیم دینی چاہیے: عبادت، سلائی اور شوہروں سے محبت ۔ اگر اتنی تعلیم اسے دی جاتی ہے تبھی وہ شادی کے بعد اپنے شوہر کے ساتھ وفادار رہ سکتی ہیں۔ ارنولف کا پرانا دوست ’شیری سالد‘ ذہین اور تعلیم یافتہ عورتوں کی خوبیوں کی بات کر کے اسے اپنے منصوبے سے باز رکھنے کی کوشش کرتا ہے، لیکن ارنولف اس کی بات تسلیم کرنے سے انکار کر دیتا ہے۔
جب اگنیس بڑی ہو جاتی ہے تو ارنولف اسے اپنے محل لے جاتا ہے۔ اگنیس کو اس بات کی خبر بھی نہیں ہوتی کہ ارنولف اس سے شادی کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ ہوریس نامی ایک نوجوان کردار ہے۔ اس کی نظر اگنیس پر پڑتی ہے اور اس سے محبت ہو جاتی ہے۔ اگنیس بھی ہوریس کو چاہنے لگتی ہے۔ ہوریس ارنولف کے دوست اورونت کا بیٹا ہے۔ ہوریس کو اس بات کا علم نہیں ہے کہ ارنولف اگنیس سے شادی کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اور اس کو یہ بھی نہیں معلوم ہوتا ہے کہ ارنولف کا ایک نام ’دَ لا سوش‘ بھی ہے۔ وہ ارنولف سے ہی کہتا ہے کہ اسے اگنیس سے عشق ہو گیا ہے۔ ہوریس کو لگتا ہے کہ اگنیس د لا سوش کی نگرانی میں ہے۔ ہوریس ارنولف سے کہتا ہے کہ وہ اس کی محبت کو راز ہی رکھے اور کسی طرح بھی اس کے تعلقات کا علم اس کے والد اور د لا سوش کو نہ ہو۔
ارنولف غصے اور حسد کا شکار ہے۔ اسے لگتا ہے کہ اگنیس نے اس کے ساتھ دغا بازی کی ہے۔ جب کہ اگنیس کو اس بات کا علم ہی نہیں ہے کہ ارنولف اس سے شادی کرنا چاہتا ہے۔ ارنولف اگنیس کو تنبیہ کرتا ہے کہ بنا شادی کے ہوریس کو اپنا ہاتھ چومنے کی اجازت دینا ناپسندیدہ اور نامناسب رویہ ہے۔ یہ سن کر اگنیس فورا شادی کی درخواست کرتی ہے۔ یہاں صورت حال کو سمجھنے میں ارنولف سے غلطی ہو تی ہے۔ وہ یہ سمجھ لیتا ہے کہ اگنس اس سے شادی کرنا چاہتی ہے، جب کہ حقیقت میں اگنیس نے ہوریس سے شادی کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔ جب ہوریس دوبارہ اگنیس سے ملنے آتا ہے تو اگنیس اس سے شادی کرنے کی اپنی خواہش کا اظہار کرتی ہے۔ ہوریس جس کو ابھی تک یہ نہیں معلوم ہے کہ اگنیس ارنولف کی ہی نگرانی میں ہے، وہ ارنولف سے گزارش کرتا ہے کہ وہ اگنیس کو اس کے خوفناک سرپرست دلاسوش سے بچانے میں مدد کرے۔ ارنولف ہوریس سے جھوٹ بولتا ہے اور کہتا ہے کہ وہ اس کی مدد کرے گا مگر پھر بعد میں اپنے نوکروں سے اس کی پٹائی بھی کروا دیتا ہے۔
ادھر ارنولف اگنیس سے شادی کرنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھتا ہے۔ اگنیس جب شادی سے انکار کرتی ہے تو ارنولف اسے کنونٹ میں واپس بھیجنے کی دھمکی دیتا ہے۔ آخر میں جب اگنیس کا حقیقی باپ سامنے آتا ہے اور بتاتا ہے کہ اس نے ہوریس کے والد سے شادی کی بات کر لی ہے۔ اگنیس کی شادی ہوریس سے طے ہو جاتی ہے۔ کامل بیوی کی تربیت کے لیے اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود ارنولف دھوکہ کھا تا ہے اور ذلیل ہو تا ہے۔
جہاں تک L’École des femmes کے اردو ترجمے کا سوال ہے تواس کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ ترجمہ بہت خوبصورت اور اصل متن سے قریب ہے۔ اردو ترجمے میں مفہوم کی بخوبی ادائیگی ہوجاتی ہے۔ ترجمہ سادہ اور سلیس ہے۔ جہاں جہاں مترجم کو محاوراتی زبان استعمال کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی ہے وہاں اردو کے روز مرہ کے محاورے استعمال کیے گئے ہیں۔ دونوں متون کا بہ نظر غائر تجزیہ کرنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ مترجم نے فرانسیسی زبان سے براہ راست ترجمہ کیا ہے۔ مترجم نے ڈرامے کا اردو عنوان دینے کے ساتھ اس کا فرانسیسی نام بھی درج کیا ہے۔ اگر انگریزی سے ترجمہ کیا گیا ہوتا تو انگریزی نام درج ہوتا۔ حالانکہ مترجم نے کتاب کے دیباچے میں اس کی طرف اشارہ کیا ہے کہ اس کتاب کی تیاری میں اس نے انگریزی اور فرانسیسی دونوں زبانوں کی مدد حاصل کی ہے۔ لیکن وہاں بھی یہ بہت واضح نہیں ہوتا کہ یہ ترجمہ فرانسیسی زبان سے براہ راست کیا گیا ہے۔ وہ لکھتی ہیں:
’’اس کتاب کی تیاری کے سلسلے میں انگریزی کے علاوہ فرانسیسی کتب کی مدد لی گئی ہے۔ مجھے مولیئر کے یورپین اور امریکن ناقدین کے خیالات سے واقفیت حاصل کرنے کے علاوہ اس کے ڈراموں کو فرانسیسی زبان میں تفصیل سے پڑھنے کا موقع ملا اور مولیئر کے چند شاہکاروں کو پیرس کے اسٹیج پر دیکھنے کا بھی اتفاق ہوا۔
(مولیئر اور اس کے دو ڈرامے:ثریا حسین، ترقی اردو بیورو،نئی دہلی1984، ص6)
بہت ممکن ہے کے مترجم کے سامنے انگریزی اور فرانسیسی دونوں زبانوں کے متون رہے ہوں۔ ترجمے میں جس طرح اصل متن کے معنی کو برقرار رکھا گیا ہے اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ ترجمہ فرانسیسی زبان سے ہی کیا گیا ہے۔ میں نے کئی پیراگراف کا لفظ بہ لفظ تقابلی مطالعہ کیا اور پایا ہے کہ ثریا حسین اصل متن سے ذرا بھی نہیں بھٹکی ہیں۔ یہاں ذیل میں کچھ نمونے پیش کیے جا رہیں جن سے ترجمہ اور زبان کی خوبصورتی دونوں کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ پہلے ایکٹ میں شیری سالد ارنولف سے کہتا ہے:
شیری سالد:ــ’’ـــ بقول آپ کے، آپ اس سے شادی کرنے کے لیے آئے ہیں؟‘‘
ارنولف:’’ جی ہاں! میں کل ہی اس معاملہ کو حل کیا چاہتا ہوں۔‘‘(ایضاً، ص 44)
اگر فرانسیسی متن کو سامنے رکھ کر اس کا تجزیہ کریں تو اردو متن میں صرف زبان کا فرق نظر آئے گا۔ ورنہ مفہوم دونوں کا بالکل ایک ہی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مترجم نے donner la main کا ترجمہ شادی کرنا کیا ہے۔ اس کا لفظی ترجمہ ہو گا ’ہاتھ دینا‘۔اردو میں بھی شادی کرنے کے لیے محاورے کی زبان میں ہاتھ مانگنا اور ہاتھ دینا استعمال کرتے ہیں۔ یہاں اگر یہ محاورہ استعمال ہوتا تو اس ترجمے کی خوبصورتی اور بڑھ سکتی تھی۔ لیکن چونکہ اس ڈرامے کا آغاز ہی اسی جملے سے ہوتا ہے اس لیے اس محاورے کے استعمال سے قاری کے ذہن میں کنفیوژن بھی پیدا ہو نے کا خدشہ تھاکہ ہاتھ کس کو دینا اور کس لیے دینا ہے۔ اگر شادی کا ذکر پہلے آچکا ہوتا تو اس محاورے کا استعمال مناسب ہوتا۔ مترجم نے متن کا ترجمہ نہ صرف اس کے سیاق و سباق میں کیا ہے بلکہ ٹارگیٹ ریڈر کا بھی خیال رکھا ہے۔ یہاں ایک اور ترجمہ پیش کرتا ہوں جہاں مترجم نے متن سے قریب رہتے ہوئے نہایت ہی سلیس انداز میں ترجمہ کیا ہے۔ارنولف اپنے دوست شیری سالد سے کہتا ہے:
’’آپ میرے غم میں دبلے نہ ہوں۔ وہ بڑا ہی چالاک شخص ہوگا جو مجھے زک دے سکے۔ میں ان تمام چالوں اورحربوں سے باخبر ہوں جو عورتیں اختیار کرتی ہیں۔ میں نے اس کے تدارک کی ترکیبیں پہلے ہی سوچ لی ہیں۔ جس لڑکی سے میں شادی کر رہا ہوں وہ انتہائی معصوم ہے، اس کے ذہن میں وہ سارے حربے آبھی نہیں سکتے جن سے وہ مجھے مشکلات میں ڈال سکے۔‘‘(ایضاً، ص 45)
یہاں مترجم نے اردو کے محاورے کا بھی استعمال کیا ہے اور اصل متن سے قریب رہنے کی حتی الامکان کوشش کرتے ہوئے اردو زبان کے لب و لہجے کو اپنایا ہے۔ ترجمہ میں اصل متن کی طرح مزاحیہ عنصر بھی پوری طرح نمایاں ہے۔ البتہ اس ترجمے میں بعض مقامات پر کچھ الفاظ اور اکسپریشن کی طرف سے آنکھ موند لی گئی ہے۔ مثال کے طور پر اسی پیراگراف کا فرانسیسی متن دیکھیں تو Mon Dieu کا ترجمہ نہیں ہوا ہے جس سے یہ عبارت شروع ہو رہی ہے۔ اس کا ترجمہ ’میرے خدا‘ کر کے آگے کا ترجمہ کیا جا سکتا تھا۔ بہر کیف اس سے اصل متن کے معنی کے ابلاغ میں کوئی کمی پیدا نہیں ہو رہی ہے۔ یہ ایک طربیہ ڈرامہ ہے اس لیے مترجم نے اس بات کا پورا خیال رکھا ہے کہ ترجمے میں بھی مزاح کی کیفیت پیدا ہو اور مترجم اس میں کامیاب بھی ہے۔
تارتوف
تارتوف بھی مولیئر کے مشہور و معروف مزاحیہ ڈراموں میں سے ایک بہترین مزاحیہ ڈراما ہے۔ مولیئر نے یہ ڈراما ورسئیی کے شاہی محل میں پہلی مرتبہ 1664میں پیش کیا تھا۔ اس میں کچھ کرداروں جیسے تارتوف اورگوںاور ایلمیر کو فرانس کے کلاسیکی تھیٹر کے اہم کرداروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ ڈراما پانچ ایکٹ پر مشتمل ہے لیکن اسے جب پہلی بار کھیلا گیا تھا تو اس کے صرف تین ایکٹ کو ہی دکھایا گیا تھا۔
پروفیسر ثریا حسین نے Tartuffe کا ترجمہ تارتوف کے ہی نام سے کیا ہے۔ یہ ڈراما پانچ ایکٹ پر مشتمل ہے اور اس میں کل ۱۱ کردار ہیں۔ اس ڈرامے میں مولیئر نے یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ انسان کے ظاہری اعمال اور عادات و اطوار اسے نیک اور متقی نہیں بناتے۔ کچھ لوگ نیک اور پرہیز گار صرف اس لیے دکھنا چاہتے ہیں کہ وہ اس کے پیچھے اپنے کالے کارناموں کو انجام دے سکیں۔ مذہبی ہونا اور بات ہے اور مذہبی ہونے کا ڈھونگ کرنا دوسری بات ہے۔ اس ڈرامے میں مولیئر نے مذہبی منافقت کو بے نقاب کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔
پروفیسر ثریا حسین نے اس ڈرامے کا ترجمہ بالکل اسی طرز پر کیا ہے جس طرز پر ’بیویوں کا مدرسہ‘ ڈرامے کا ترجمہ کیا ہے۔ ترجمے کی زبان بہت صاف اور ستھری ہے۔ ہر منظر اور مکالمہ سمجھ میں آتا ہے۔ کہیں کوئی پیچیدگی اور الجھاؤ نہیں ہے۔ جس طرح مولیئر کے یہاں ایک منظر کے بعد دوسرے منظر میں تسلسل باقی رہتا ہے، ترجمے میں بھی یہ تسلسل نہیں ٹوٹتا ہے۔ ترجمہ شدہ متن کو پڑھتے ہوئے یہ خیال نہیں گزرتا کہ یہ ترجمہ ہے۔ اگر اس کے کردار بدل دیے جائیں تو یہ ترجمہ بالکل طبع زاد معلوم ہوگا۔ مفہوم اور معنی کے ابلاغ اور ترسیل میں کوئی چیز حائل نہیں ہوتی ہے۔ زبان کا خلاقانہ استعمال اس ترجمہ کو مزید خوبصورت بنا دیتا ہے۔ کہیں کہیں پر البتہ یہ ہوا ہے کہ مترجم نے اصل متن کے دو جملوں کی بات کو ایک ہی جملے میں سمیٹ دیا ہے۔ اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ مترجم نے قطع و برید سے کام لیا ہے۔ اس قطع و برید سے اردو ترجمے پر کوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔ اردو ترجمے میں مفہوم کی مکمل ادا ئیگی ہوجاتی ہے۔ اردو متن پڑھتے ہوئے قاری کو یہ احساس نہیں ہوتا ہے کہ کوئی چیز درمیان سے غائب ہے۔ کہیں کہیں مترجم نے قصداََ اردو متن میں اردو اور ہندوستانی کلچر پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ جہاں جہاں ایسا کیا گیا ہے وہاں اپنی طرف سے ترجمے میں کچھ الفاظ ڈالیں گئے ہیں۔ ہم ذیل میں ایک دو پیراگراف میں ترجمے کی خوبصورتی کا جادو دیکھیں گے۔ ایک جگہ مادام پرنیل اپنی بہو سے اس کے عادات و اطوار کے متعلق کہتی ہے:
’’بہو! مجھے کہنے دو، تمھارا رویہ انتہائی غلط ہوتا ہے۔ تمھیں ان سب کے لیے نمونہ ہونا چاہیے تھا۔ ان کی مرحومہ ماں تم سے کہیں زیادہ اچھی تھی۔ تم انتہائی غیر محتاط ہو۔ تمھیں شہزادیوں کی طرح بنے ٹھنے دیکھ کر مجھے دکھ ہوتا ہے۔ اگر عورت صرف اپنے شوہر کو خوش دیکھنا چاہتی ہے تو اسے اپنی کنگھی چوٹی کی اتنی فکر نہیں ہوتی۔ سمجھیں بہو۔‘‘
(ایضاً، ص 104)
مذکورہ بالا اردوترجمے کے تجزیے سے ہی ترجمہ شدہ مکمل ڈرامے کی خوبیوں اور خامیوں کو سمجھا جا سکتا ہے۔ اس پیراگراف کا سب سے پہلا جملہ ہے Ma Bru, qu’il ne vous en déplaise, Votre conduite en tout, est tout à fait mauvaise۔ اس کا ترجمہ مترجم نے کیا ہے’’بہو! مجھے کہنے دو، تمھارا رویہ انتہائی غلط ہے‘‘ اگر اس کا لفظی ترجمہ کیا جائے تو اس طرح ہو گا ’’میری بہو، تم برا نہ مانو، ہر معاملہ میں تمھارا رویہ انتہائی خراب ہے۔‘‘ یہاں پر جو غور کرنے والی بات ہے وہ یہ کہ مترجم نے qu’il ne vous en déplaise کا ترجمہ ’’تم برا نہ مانو یا تمھیں برا نہیں لگنا چاہیے کی جگہ پر ’’مجھے کہنے دو‘‘ کیا ہے۔ یہاں لفظی ترجمے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں تھا۔ لیکن مترجم نے اردو لہجے کا خیال کرتے ہوئے اس کا ترجمہ ’’مجھے کہنے دو‘‘ کیا ہے۔ یہاں کوئی چیز حذف نہیں کی گئی ہے بلکہ کہنے کا انداز بدل دیا گیا ہے۔ اگرچہ میری نظر میں یہاں لفظی ترجمہ ہی بہتر تھا۔ اسی میں آگے ایک جملہ ہے Votre conduite en tout, est tout à fait mauvaise۔ اس کا ترجمہ کرتے ہوئے مترجم نے لفظ en tout کا ترجمہ نہیں کیا ہے۔ لیکن چونکہ یہ لفظ اس جملے کا کلیدی لفظ نہیں ہے، اس لیے اس کے ترجمہ نہ ہونے سے بھی اردو متن کے عام معنی پر کوئی اثر نہیں پڑ رہا ہے۔ البتہ ایک شدت کی کمی ضرور چغلی کھا رہی ہے۔ ظاہر ہے یہاں پر ساس اپنی بہو کے غلط رویے کو بیان کر رہی ہے جس میں وہ یہ کہہ رہی ہے کہ ہر معاملے میں اس کا رویہ غلط ہے۔ اگر اصل متن کے کسی لفظ سے معنی میں شدت پیدا ہو رہا ہے اور مصنف نے دانستہ طور پر اسے استعمال بھی کیا ہے تو مترجم کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے۔ اسی پیراگراف کا آخری جملہ ہے Quiconque à son mari veut plaire seulement, Ma Bru, n’a pas besoin de tant d’ajustement۔ پروفیسر ثریا حسین نے اس کا ترجمہ ’’اگر عورت صرف اپنے شوہر کو خوش دیکھنا چاہتی ہے تو اسے اپنی کنگھی چوٹی کی اتنی فکر نہیں ہوتی۔ سمجھیں بہو‘‘ کیا ہے۔ اس ترجمے میں مترجم نے کنگھی اور چوٹی کا اضافہ اپنی طرف سے کیا ہے۔ اصل متن میں اس کے لیے کوئی لفظ استعمال نہیں ہوا ہے۔ اصل متن کا ترجمہ ہو گا’’جو عورت صرف اپنے شوہر کو خوش کرنا چاہتی ہے، بہو! اسے اتنا بنائو سنگار کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔‘‘ مترجم نے ترجمے میں مشرقی رنگ و آہنگ پیدا کرنے کے لیے بنائو سنگار کی جگہ کنگھی اور چوٹی کا استعمال کیا ہے، جس سے ترجمہ خو بصو رت ہو گیا ہے۔ مترجم کا یہی انداز پورے ترجمہ میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ یعنی ٹارگیٹ زبان کی اپنی تہذیب و ثقافت کا بھی پورا پورا خیال رکھا گیا ہے۔ اس لیے یہ کہا جا سکتا ہے کہ پروفیسر ثریا حسین کا یہ ترجمہ کامیاب ہے۔
مورس مترلنک
مورس مترلنک کا پورا نام مورس پولیدور میری برنارڈ مترلنک (Maurice Polydore Marie Bernard Maeterlinck) تھا۔ ادبی دنیا میں وہ اپنے مختصر نام مترلنک سے مشہور ہوا۔ اسے کائونت مترلنک کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ اس کی پیدائش بلجیم کے شہر گینٹ (Ghent) میں ایک متمول خاندان میں ہوئی۔ مترلنک کے والد پولیدور ایک وکیل تھے اور اچھی ملکیت کے حامل تھے۔اس کی ماں ماتھلڈ کولیت فرانسواز کا تعلق بھی امیر گھرانے سے تھا۔ مترلنک کی ابتدائی تعلیم ایک یسوعی کالج’Sante-Barbe‘ میں ہوئی۔ اس کالج کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں صرف مذہبی موضوعات سے متعلق ڈرامے کی تعلیم کی اجازت تھی۔ فرانسیسی رومانوی تحریک کے مصنفین کی تعلیم پر پابندی تھی۔ مترلنک نے 1885 میں اپنے والد کی خواہش کے مطابق شہر کی یونیورسٹیUniversity of Ghent سے قانون کی تعلیم حاصل کی۔ وکالت کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد وہ اپنے آبائی شہر میں وکیل کی حیثیت سے کام کرنے لگا۔ مختصر عرصے میں اسے یہ احساس ہو گیا کہ وکالت کا کام اس کے مزاج سے مطابقت نہیں رکھتا۔ مترلنک اپنے کالج کے زمانے سے ہی شاعری کرنے لگا تھا۔ تعلیم کے دوران اس نے مختصر ناول بھی لکھے تھے۔ ادب میں اس کی دلچسپی شروع سے تھی۔ اسی درمیان اسے پیرس جانے کا موقع ملا۔ پیرس کے قیام کے دوران اس کی ملاقات Auguste Villiers de L’Isle-Adam اور علامتی تحریک سے جڑے بڑے ادیبوں سے ہوئی۔ یہاں ادبی ذوق کے حامل افراد سے مل کر اپنے ادبی ذوق کو جلا بخشی اور پورے طور پر ادب سے اپنا رشتہ استوار کر لیا۔ چونکہ وہ علامتی اور تمثیلی انداز و اسلوب کے پرچارک ادیبوں کے قریب تھا اس لیے ان ادیبوں کی قربت نے مترلنک کو کافی متاثر کیا اور وہ بھی علامت نگاری کے زیر اثر لکھنے لگا۔ مترلنک بنیادی طور پراپنے علامتی اور تمثیلی ڈراموں کی وجہ سے مشہور ہے، لیکن یہ بھی ایک عجیب بات ہے کہ اس کی ادبی کاوشوں میں نظموں کا مجموعہ سب سے پہلے شائع ہوا۔ 1889میں اس کی نظموں کا مجموعہ Serres chaudes کے نام سے منصہ شہود پر آیا۔ ادبی حلقوں میں اس کی نظموں پر کوئی خاص گفتگو نہیں ہوئی۔ اسی سال یعنی 1889 میں ہی اس کا ڈرامہLa Princesse Maleine (شاہزادی مالین) بھی شائع ہوا۔ اس ڈرامے کے حوالے سے Le Figaro اخبار کے ادبی ناقد اوکتاو میربو نے اس کی دل کھول کر تعریف کی۔ پروفیسر آرزو جلیلی نے پیلی یاس اور ملی ساندکے تعارف میں اوکتاو میربو کا اقتباس نقل کیا ہے۔ وہ مترلنک کے ڈرامے کے متعلق لکھتا ہے:
’’مختصر یہ کہ مورس مترلنک نے ہم لوگوں کے سامنے اپنے زمانہ کا بہترین شاہ کار پیش کیا ہے۔ عجیب وغریب اور سادہ ترین شاہکار، شیکسپیئر کے کلام کے مقابل۔ بلکہ یہ کہنے کی جرأت کروں گا کہ حسن بیاں میں شیکسپیئر کے حسین ترین کلام سے بھی بڑھا ہوا۔ اس شاہکار کانام’شاہزادی مالین‘ ہے۔‘‘
(پیلی یاس اور ملی ساند، ترجمہ تمنائی لاہور بک ڈپو، ص8)
اس کے بعد کے سالوں میں اس نے کئی علامتی اور تمثیلی ڈرامے لکھے۔ ان ڈراموں میں موت کی مسلسل موجودگی، محبت، تقدیر پرستی اور تصوف کو دیکھا جا سکتا ہے۔ مترلنک کے ڈراموں جیسے L’Intruse، Les Aveugles، Aglavaine et Sélysette، Joyzelle، Marie Magdeleine میں محبت، موت، قسمت، خاموشی اور فنا و بقا کے تصورات کو پیش کیا ہے۔ رفتہ رفتہ اس کی علامت نگاری انگریزی ڈرامے خاص طور پر ویلیم شیکسپیئر اور جیکوبین میں اس کی دلچسپی کی وجہ سے متاثر ہونے لگی تھی۔ مترلنک نے 1902 میں ایک تاریخی ڈرامہ Monna Vanna کے نام سے لکھا۔ مترلنک کی ادبی تصانیف میں تقریبا 30ڈرامے، دو شعری مجموعے اور نثری کتابیں بھی شامل ہیں۔ مترلنک کو اس کی ادبی کاوشوں کے اعتراف میں 1911 میں ادب کے نوبل انعام سے سرفراز کیا گیا۔
مترلنک نے 1903 میں فرانس کے شہر نیس میں ایک بنگلہ خریدا اور اس کا نام Orlamonde رکھا۔ 1904 میں بلجیم اور فرانس پر نازی حملوں کے ڈر سے وہ لزبن، امریکہ اور پرتگال کے مختلف شہروں میں چھپا رہا۔ اسے ڈر تھا کہ اگر وہ پکڑا گیا تو جرمن فوج اسے ماردے گی۔ 1947 میں تقریبا سات سال بعد وہ پھر فرانس واپس آیا اور نیس میں اپنے مکان میں رہنے لگا۔ یہیں اس کی وفات حرکت قلب کے بند ہونے سے 6 مئی 1949 میں ہوئی۔
مترلنک کے نزدیک اشیاء و مظاہرکی معنویت کی تکمیل اور متعدد غیر یقینی مسائل کا حل محبت اور سکوت سے ہی ممکن ہے۔ سکوت اس کے نزدیک باطنی مکالمہ و حرکت کا نام ہے۔ لفظوں سے بالا تر خفتہ حقائق اور جذبات کا اظہار اس کے ذریعے ممکن ہوتا ہے۔ مترلنک کے فلسفے جمالیات کا مرکز محبت اور سکوت ہی ہیں۔ انفرادی زندگی کے ساتھ اجتماعی حوالے سے بھی مترلنک اتحاد و محبت کا قائل رہا ہے۔ وہ زندگی کا حسن اس کے پراسرار طریقۂ کار میں پاتا ہے۔ اس لیے وہ ڈراموں میں بھی پراسرار ماحول اور ویران و خاموش زندگی کو پیش کرتا ہے۔ وہ روز مرہ زندگی کے تمام واقعات و حرکات کی بجائے ذہنی کیفیت و افعال کی تمثیلی پیشکش کا قائل تھا۔ مترلنک سے قبل ڈرامے کی امتیازی خصوصیت عمل و حرکت کو قرار دیا جاتا تھا۔ لیکن مترلنک نے اپنی تخلیقات کے ذریعے یہ ثابت کردیا کہ زندگی کے سربستہ رازوں اور تہہ در تہہ پیچیدگی کا اظہار صرف خاموش ڈرامے کے فن کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
مترلنک اسٹیج کے فن کوفن جمالیات سے تعبیر کرتا ہے۔ اس کے ڈراموں کی مجموعی فضا خاموش اور سنجیدہ موضوعات کے سہارے قائم ہوتی ہے۔ کرداروں کے جذبات و احساسات میں تبدیلی و تغیر کے ساتھ ساتھ مناظر بھی بدلتے رہتے ہیں۔ مترلنک کی مثالیت پرستی کا اظہار اس کے مثالی کرداروں سے ہوتا ہے۔ عام انسانوں کے بجائے مافوق الفطرت اور عظیم کردار ہی اس کے نظام فکر سے میل کھاتے ہیں۔ اس نے غیر مرئی عناصر کو بھی مادی روپ میں پیش کیا ہے۔ مثلا تقدیر، موت اور انسانی ضمیر اس کے ہاں کرداروں کی شکل میں نظر آتے ہیں۔ اس کے مثالی کردار آئندہ ہونے والے واقعات و حوادث کی نشاندہی بھی کسی نہ کسی طور اپنی گفتگو یا حرکات سے کر دیتے ہیں۔ مترلنک کے بیشتر ڈراموں میں کوئی نہ کوئی کردار ایسا ضرور ہوتا ہے جو اس کے افکار و خیالات کا مبلغ بن جاتا ہے مثلاً ’مریم مجدلانی‘ میں سیلانوس، ’پیلی یاس اورمیلی ساند‘ میں ارقل، ’سکون‘ میں بوڑھا آدمی، ’پروین وثریا‘ میں پروین، ’جائزل‘ میں مرلن، ’ظفر کی موت‘ میں شاکر اور ’مونا وانا‘ میں مارکو، ایسے کردار ہیں جو مترلنک کے فلسفہ وفکر کی عکاسی کرتے ہیں۔ یہ تمام کردار ڈرامے کے مرکزی کردار نہ ہونے کے باوجود اپنے علم و حکمت اور دانائی سے لبریز گفتگو سے پورے ڈرامے پر چھا جاتے ہیں۔ ان کے فلسفیانہ افکار و خیالات کو مترلنک نے جس مہارت کے ساتھ فن تمثیل سے ہم آہنگ کیا، اس میں اس کی برتری اور کمال کا راز مضمر ہے۔ فن تمثیل پر مترلنک کی مہارت اور عبور نے ان موضوعات کو بھی اور انوکھا بنادیا، جن کے ماخوذ ہونے کا اعتراف اس نے خود کیا۔ انتہا کی سنجیدگی اور فلسفیانہ انداز و اسلوب نے مترلنک کے ڈراموں کو عالمی ادب میں گراں قدر مقبولیت سے نوازا۔
مترلنک کی مثالیت پسندی، علامتی انداز اور سکوت وترک کا ایک انوکھا اسلوب فن ڈراما نگاری کے نئے امکانات کو روشناس کرانے کا موجب بنا۔شاید اسی وجہ سے وہ آج بھی اپنے فن میں یکتا ہے۔ دنیا کی متعدد زبانوں میں ا س کی تخلیقات کے تراجم ہوئے ہیں۔ اردو زبان میں مترلنک کے بہت سے ڈراموں کا ترجمہ ہوا ہے۔ اس کا سب سے پہلا ڈراما جو اسٹیج کیا گیا وہ Les Aveugles ہے۔ اس کااردو ترجمہ شاہد احمد برساقی نے ’اندھے‘کے نام سے کیا ہے۔ ممنوع اور لاحاصل محبت پر مبنی علامتی ڈراما Pelléas et Mélisande کا ترجمہ ’پیلی یاس اور میلی ساند‘ کے نام سے تمنائی نے کیا ہے۔ مترلنک کے تاریخی ڈراما Monna Vanna کے دو تراجم ہوئے ہیں اور دونوں تراجم ’مونا وانا‘ کے ہی نام سے ہوئے ہیں۔ ایک ترجمہ جلیل احمد قدوائی نے کیا ہے اور دوسرا اے این سپرو نے کیا ہے۔ Joyzelle ڈرامے کا ترجمہ شاہد احمد دہلوی نے ’نرگس جمال‘ کے نام سے کیا ہے۔ پروفیسر آرزو جلیلی نے Intérieurکا ترجمہ ’سکون‘ کے نام سے پیش کیا ہے۔ La Mort de Tintagil کا ترجمہ نور الہی اور محمد عمر نے مل کر ’ظفر کی موت‘ کے نام سے کیا ہے۔ ’پروین و ثریا‘ مترلنک کے ڈرامہ Aglaviane Celeste کا اردو ترجمہ ہے۔ مترلنک کا تمثیلی اور المیہ ڈرامہ Marie-Magdeleine کا ترجمہ ’مریم مجدلانی‘ کے نام سے مجنوں گورکھپوری نے کیا ہے۔ اردو ترجمے میں کچھ مترجمین نے اصل کردار کے نام بدل دیے ہیں۔ جیسے شاہد احمد دہلوی نے ’’نرگس جمال اور پروین و ثریا کے تمام کرداروں کے نام اردو ناموں سے بدل دیے ہیں۔ ظفر کی موت میں بھی اسمائے خاص کے نام بدل دیے گئے ہیں۔ یہاں پر ان تمام ترجمہ شدہ ڈراموں پر گفتگو نہیں کی جا سکتی ہے۔ Monna Vanna کے چونکہ دو تراجم ہوئے ہیں، اس لیے میں نے ان تراجم کو ا صل متن کے سامنے رکھ کر ترجمے کی خوبی اور خامی کو پرکھنے کی کوشش کی ہے۔
مونا و انا
مترلنک کے ڈراما Monna Vanna کا اردو ترجمہ مونا وانا ہے۔ یہ تین ایکٹ پر مشتمل ہے اور اس میں کل آٹھ کردار ہیں۔ اس ڈرامے کا عہد پندرہویں صدی کا آخری عہد ہے۔ ڈرامے کا پہلا اور تیسرا منظر پیزا میں واقع ہوتا ہے اور دوسرا پیزا سے باہر کا ہے۔ ڈرامے میں اعتبار، خلوص اور محبت کا ایک بلند تصور پیش کیا گیا ہے۔ ڈرامے کا پلاٹ پندرھویں صدی کے اختتام پر ہسپانوی ریاست میں رونما ہونے والے ایک واقعے کا احاطہ کرتا ہے۔ پرنزوال فلورنس کی فوج کا ایک نامور اور وفادار سپہ سالار ہے۔ جس نے تین ماہ سے پیزا کا محاصرہ کر رکھا ہے۔ پیزا کے عوام سامان خوردونوش اور آلات حرب سے محروم ہو چکے ہیں اور ان کی زندگی و آزادی کو شدید خطرہ لاحق ہے۔ اسے پیزا پر حملے کا حکم مل چکا ہے۔ لیکن وہ اس پرعمل در آمد سے گر یز کر رہا ہے۔ کمشنر ٹریولز حکومت فلورنس کو پرنزوال کی بے وفائی اور دغابازی کی من گھڑت کہانی کہتا ہے تو پرنزوال کو اس بات کا یقین ہو جاتا ہے کہ پیزا کی فتح کے بعد جب وہ واپس جائے گا تو اسے مار دیا جائے گا۔ اس لیے اب وہ حقیقتاً فلورنس کے ساتھ بے وفائی اور اپنی دیرینہ آرزو کی تکمیل کا ارادہ کرتا ہے۔ امیرلشکر پیزا گیڈو کا لونا کے والد مارکو کو پرنزوال کے پاس پیزا کی رہائی کی شرائط طے کرنے بھیجا جاتا ہے تو وہ پرنزوال کو اس کی عام شہرت کے برعکس ایک حساس اور انسان دوست آدمی پاتا ہے۔ پرنزوال پیزا کے فاقہ زدہ عوام کو اشیائے خوردونوش اور سامان حرب دینے کے لیے اس شرط پر تیار ہوتا ہے کہ گیڈو کی بیوی مونا وانا کو ایک رات کے لیے صرف برقعہ میں اس کے خیمے میں بھیجا جائے۔ اپنے والد سے یہ پیغام سن کر گیڈو بہت ناراض ہوا۔ لیکن مونا وانا پیزا کے عوام کو قتل و غارت اور فاقہ کشی سے بچانے کے لیے یہ قربانی دینے کو تیار ہو جاتی ہے۔ جوں ہی وہ پرنزوال کے خیمے میں داخل ہوتی ہے پیزا کے شہریوں کو سامان خوراک اور سامان حرب دینے کا حکم دے دیا جاتاہے۔ مونا وانا کی پاک بازی کا یقین کر لینے کے بعد پرنزوال نے اسے بتاتا ہے کہ جب مونا آٹھ اور وہ بارہ برس کا تھا تو وہ اپنے والد کے ہمراہ وینس میں اس کے گھر آیا کرتا تھا۔ تب سے اب تک مونا وانا کی محبت پرنزوال کے دل میں پروان چڑھتی رہی، دونوں گزرے وقت کو یاد کرتے ہیں اورعلی الصبح جب پرنزوال کوفلورنس کے کمشنر کی آمد کی خبرملتی ہے تو مونا وانا پرنزوال کو اپنے ساتھ پیزا لے جاتی ہے۔ مارکو کے علاوہ کوئی اس کی اس بات پر یقین کرنے کو تیار نہیں کہ اس کی عصمت و پاکیزگی پر کوئی حرف نہیں آیا۔ گیڈو سمجھتا ہے کہ مونا وانا پرنز وال کو اس لیے ساتھ لائی ہے کہ گیڈو اس سے انتقام لے سکے۔ گیڈو پرنزوال کو تہہ خانے میں قید کروا دیتا ہے۔ مونا وانا گیڈوسے تہہ خانے کی چابی یہ کہہ کر لیتی ہے کہ وہ پرنزوال کو خود سزادے گی، لیکن وہ پرنز وال کے ساتھ فرار ہو جاتی ہے۔
ڈرامے کا مرکزی خیال یہ ہے کہ مونا وانا اپنے شہر کو تباہ حالی سے بچانے کے لیے اپنی عفت و پاکیزگی قربان کرنے پر تیار ہو کر ایک بے مثل قربانی کا ثبوت دیتی ہے۔ اس کا یہ پاکیزہ ایثار رائیگاں نہیں جاتا۔ پیزا کے شہریوں کو مونا وانا کے پرنزوال کے خیمے میں داخل ہوتے ہی وہ سب کچھ مل گیا جو ان کی زندگی اور آزادی کے لیے ضروری تھا۔ قسمت نے مونا وانا کا ساتھ دیا اور پرنز وال ایک نیک فطرت عاشق نکلا۔ جس نے بچپن کی بارہ ملاقاتوں کے بدلے تمام عمر مونا وانا کے عشق کے شعلے سے اپنے وجود کو روشنی بخشتا رہا۔ اس کی اپنی خواہش و ہوس مونا وانا کی عظمتِ کردار کے سامنے شکست خوردہ ہو جاتی ہے۔ وہ مونا کو اپنے تصور سے بڑھ کر نیک، پاک اور حسین پاتا ہے۔ مونا وانا کی صداقت اور اپنے شوہر سے محبت وعقیدت کا جذبہ اس کے عشق کو ایک نیا رنگ دیتا ہے۔ دوسری طرف مونا بار بار اپنے شوہر کے اس اعتماد اور خلوص کا اظہار کرتی ہے، جو ان کی شادی کی بنیاد بنا۔ لیکن قلعہ میں واپس آنے پر جب وہ دیکھتی ہے کہ گیڈو اس کی صداقت اور سچائی پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں اور اعتماد ومحبت کا وہ رشتہ جس پر ان دونوں کے رشتے کی بنیاد تھی، پارہ پارہ ہورہا ہے تو بغیر کسی شش وپنج کے وہ پرنزوال کی محبت کو اپنے بہت قریب پاتی ہے اور اس کے لیے ایک بڑا خطرہ مول لے لیتی ہے۔ پرنزوال کوخود سزا دینے کا بہانہ اس کے بھیانک خواب کو ایک پرمسرت خواب میں بدل دیتا ہے۔
مترلنک نے ’نرگسِ جمال‘ کی طرح اس ڈرامے میں بھی محبت کا ایک بلند تصور پیش کیا ہے۔ محبت اور قسمت کی خفیہ اخلاقیات کو بیان کرتے ہوئے مترلنک نے مارکو کے تجربے اور مطالعے سے مدد لی ہے۔ مارکو ازمنہ وسطیٰ کے ایک عالم اور تجربہ کار شخص کی نمائندگی کرتا ہے۔ مار کو کا بیٹا گیڈواپنے بلند مقام اور رتبے کے با وصف ایک عام شوہر ہے۔ پرنزوال کا مطالبہ اسے سخت کشمکش میں مبتلا کر دیتا ہے۔ وہ اپنی تمام تر محبت کے با وجود مونا وانا کو سمجھنے اور اس پر اعتماد کرنے سے قاصر ہے۔ تاہم اس کا رویہ حالات و واقعات کا فطری ردِ عمل ہے۔ جبکہ مونا وانا اور پرنزوال کے کرداروں میں قدرے مثالیت کا رجحان ہے۔
موضوع کے علاوہ فن کے لحاظ سے بھی مترلنک نے ڈرامے کی تشکیل کی ہے۔ تاریخی پس منظر اور واقعے کے باوجود اس میں مصنف نے اپنے عہد کے مذاق اور تقاضوں کا پورا پورا خیال رکھا ہے۔ مترلنک کے دیگر ڈراموں کی طرح اس میں ویران، تنہا قلعے اور بلند و بالا مینار دکھائی نہیں دیتے تا ہم دوسرے منظر میں پیزا سے باہر خیمے کے اندر مونا وانا اور پرنزوال کی ملاقات ایک دلکش تاثر چھوڑتی ہے۔ پھر خیمے سے باہر جھانکنے پر مونا و انا روشنیوں اور ہنگاموں کا ایک طوفان دیکھتی ہے۔ جو اس کی قربانی کے نتیجے میں پیزا کے عوام کا مقدر بن گیا ہے۔ مونا وانا اور پرنزوال اپنے پس منظر کے ساتھ مترلنک کے اکثر کرداروں کے مقابلے میں تکمیل کا نمونہ پیش کرتے ہیں۔ مترلنک نے فلیش بیک کی تکنیک کی مدد سے قارئین کو ان دونوں کے ماضی سے روشناس کرایا ہے۔
جیسا کہ اوپر ذکر ہوا ہے، Monna Vanna کے دو تراجم ہوئے ہیں۔ دونوں تراجم پڑھنے کے بعد یہ تو کہا جا سکتا ہے کہ وہ دونوں انگریزی سے ترجمہ کیے گئے ہیں۔ دونوں مترجمین نے ڈرامہ نگار کے انداز و اسلوب اور موضوع کو اردو ترجمے میں پیش کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ چونکہ ترجمہ براہ راست نہیں ہوا ہے اس لیے بعض مقامات پر یہ احساس ہوتا ہے کہ کسی عبارت کا ترجمہ نہیں ہوا یا کسی منظر کی تصویر کشی میں اصل متن کا انداز اور حسن پیدا نہیں ہو سکا ہے۔ اور کہیں ہوا بھی ہے تو آدھے ادھورے طریقے سے۔ یہاں پر یہ بھی بتاتا چلوں کہ اگرچہ Monna Vanna کے دونوں تراجم براہ راست نہیں ہوئے ہیں، تاہم مجھے اے این سپرو کا ترجمہ اصل متن سے زیادہ قریب معلوم ہوتا ہے۔ کبھی کبھی یہ گمان گزرتا ہے کہ اے این سپرو کا ترجمہ براہ راست تو نہیں ہوا؟ حالانکہ اس کا کہیں ذکر نہیں کیا گیا ہے کہ انھوں نے ترجمہ فرانسیسی زبان سے کیا ہے۔ ترجمہ شدہ دونوں ڈراموں کے متن کا اصل متن سے تقابلی مطالعہ کرنے پر یہ فرق بہت واضح ہو جاتا ہے کہ اے این سپرو نے زیادہ اچھا ترجمہ کیا ہے۔ ایک دو پیراگراف میں دونوں ترجموں کے بیچ کے فرق کو واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
جلیل احمد قدوائی کا ترجمہ دیکھیں:
پرنزوال: ’’آپ اس شخص کونہیں جانتیں جو آپ کو اس طرح دیکھ رہا ہے۔ جیسے وہ پریوں کی دنیا میں ہو۔ جیسے وہ اپنی خوشی اور مسرت کے سرچشمہ کو دیکھ رہا ہو؟‘‘
وانا: ’’نہیں… کم از کم مجھے یقین نہیں۔‘‘
پرنزوال: ’’ہاں، تم بھول گئیں…. اور مجھے یقین تھا کہ افسوس تم مجھے بھول گئی ہوگی! ………….آپ آٹھ برس کی تھیں اور میں بارہ برس کا تھا جب میں آپ سے پہلے پہل ملا۔‘‘
وانا: ’’کہاں؟‘‘
پرنزوال: ’’وینس میں، ایک اتوار کے دن، جون کے مہینہ میں… میرے والد جو ایک پرانے اور مشہور سنار تھے۔ آپ کی والدہ کا ایک ہارلائے تھے۔ وہ ہار دیکھ کر خوش ہورہی تھیں… میں ٹہلتا ٹہلتا باغ میں چلا گیا… میں نے وہاں آپ کو دیکھا۔ ایک تالاب کے کنارے ایک پتلی سونے کی انگوٹھی پانی میں گرگئی تھی… آپ کنارے پر رو رہی تھیں میں تالاب میں کود گیا… حوض کی تہ میں انگوٹھی چمک رہی تھی۔ میں نے اسے نکال کر آپ کی انگلی میں پہنایا… میں ڈوبتے ڈوبتے بچا تھا… لیکن آپ نے مجھے چوما اور مجھ سے آپ خوش ہوئیں…‘‘
(مونا وانا، جلیل احمد قدوائی، مخزن لاہور، نومبر 1929،ص25-26)
اب اسی پیراگراف کا ترجمہ بھی دیکھیں جو اے این سپرو نے کیا ہے:
پرنزوال: ’’کیا تم اس آدمی کو نہیں پہچانتیں جو تمھیں اس طرح دیکھ رہا ہے جیسے پریوں کی دنیا میں اپنے وجود اور مسرت کے چشمے کو دیکھتا ہو۔‘‘
وانا:’’ نہیں، کم سے کم مجھے کچھ خیال نہیں۔‘‘
پرنزوال: ’’اچھا تو تم بالکل بھول گئیں… مجھے تو ڈر تھا ہی کہ تم بھول گئی ہوگی… تم آٹھ برس کی تھیںاور میں بارہ برس کا جب پہلی مرتبہ میں نے تمھیں دیکھا۔‘‘
وانا: ’’کہاں؟‘‘
پرنزوال: ’’وینس میں۔ اتوار کے دن۔ جون کے مہینے میں۔ میرے والد جو تمھاری والدہ کے پرانے سنارتھے، ان کے لیے موتیوں کا ہار لائے تھے۔ وہ اسے دیکھنے اور پسند کرنے لگیں۔ میں باغ میں اتفاقیہ جا پہنچا۔ میں نے تم کو ایک حوض کے کنارے حنا کے کنج کے پاس دیکھا… تمھاری سونے کی نازک انگوٹھی پانی میں گر گئی تھی… تم کنارے پر کھڑی رو رہی تھیں… میں ایک دم حوض میں کود پڑا… انگوٹھی حوض کی مرمریں تہہ پر پڑی چمک رہی تھی۔ میں نے اس کو نکالا اورتمھاری انگلی میں پہنایا۔ میں ڈوبتے ڈوبتے بچا۔ تم نے مجھے پیار کیا اور خوش نظر آئیں۔‘‘
(مونا وانا، ترجمہ اے۔ این سپرو، اترپردیش اردو اکاڈمی1968،ص:54-55)
اب ان دونوں مترجمین کے ترجمے پر بات کرتے ہیں۔ دونوں ترجمے میں جس عبارت کا ترجمہ نہیں ہو سکا ہے وہ comme je n’espérais pas vous regarder un jour ہے۔ ممکن ہے انگریزی مترجم نے اس کا ترجمہ نہ کیا ہو۔ یہ ایک باضابطہ مکمل جملہ ہے۔ ایک لفظ ہوتا تو کوئی بات نہ تھی۔ اگر اس کا ترجمہ ہوتا تو اس طرح ہوتا’’جیسا کہ میں نے کسی دن آپ کو دیکھنے کی امید نہیں کی تھی۔‘‘ اردو میں اس کا ترجمہ نہ ہونا اس لیے کھٹک رہا ہے کہ پرنزوال کے انتظارکی شدت اردو میں ماند پڑ جا رہی ہے۔ مدتوں بعد ملنے والے عاشق و معشوق کی ایک ایک بات اہمیت رکھتی ہے۔ خاص طور پر اس وقت جب وہ اپنی پرانی باتیں یاد کر رہے ہوں۔ اصل متن میں براہ راست ترجمہ نہیں ہونے سے یہ نقصان تو ہوتا ہے۔ اسی طرح جلیل احمد کے ترجمے میںsous un bosquet de myrtes کا ترجمہ بھی ندارد ہے۔ حالانکہ اس کا ترجمہ اے۔این سپرو کے ترجمے میں موجود ہے۔ اس کا ترجمہ انھوں نے ’’حنا کے کنج کے پاس‘‘ کیا ہے، جو بہت مناسب ہے۔je vous trouvai sous un bosquet de myrtes اس پوری عبارت کا ترجمہ جلیل احمد نے ’’میں آپ کو وہا ں دیکھا‘‘کیا ہے۔ اسی عبارت کا ترجمہ اے۔ این سپرو نے ’’میں نے تم کو ایک حوض کے کنارے حنا کے کنج کے پاس دیکھا‘‘ کیا ہے۔ اب ظاہر ہے ان دونوں ترجمے پر غور کرنے پر احساس ہوتا ہے کہ ثانی الذکر ترجمہ اصل متن سے زیادہ قریب ہے۔ عبارت کے علاوہ جلیل احمد کے ترجمے میں اکثر مقام پر بہت سے لفظوں کا ترجمہ نہیں ہو سکا ہے۔ مثال کے طورپرun collier de perles کا ترجمہ صرف ہار کیا گیا ہے جب کہ موتیوں کا ہار کرنا چاہیے تھا۔ اے۔این سپرو کے یہاں اس طرح کی چیزیں کم ہیں۔ ترجمے میں کہیں کہیں پر مترجم نے اپنی طرف سے الفاظ بڑھا دیے ہیں، جن کی ترجمے میں کوئی ضرورت نہیں تھی۔Mon pére, le vieil orfèvreاس کا ترجمہ صرف یہ ہونا چاہیے تھا کہ میرے والد جو ایک پرانے سنار تھے۔ مترجم نے اس کا ترجمہ ’’میرے والد جو ایک پرانے اور مشہور سنار تھے‘‘ کیا ہے۔ اس میں لفظ’مشہور‘ اضافہ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ اے۔این سپرو نے مشہور لفظ کااضافہ تو نہیں کیا ہے لیکن ان کا ترجمہ بھی ذرا مختلف انداز میں ہوا ہے۔ ان کا ترجمہ ہے ’’میرے والد جو تمھاری والدہ کے پرانے سنارتھے‘‘۔ اصل متن میں اس کا کوئی اشارہ نہیں ہے کہ وہ سنار وانا کی والدہ کا سنار تھا۔ دونوں مترجم نے ایک جگہ لکھا ہے’’حوض کی تہ میں انگوٹھی چمک رہی تھی‘‘، اس کا فرانسیسی متن میں کوئی ذکر نہیں ہے۔ حیرت ہو رہی ہے کہ یہ چیز اے۔این سپرو کے ترجمے میں بھی ہے۔ ممکن ہے انگریزی مترجم نے اپنی طرف سے اضافہ کیا ہو۔ ورنہ دونوں اردو تراجم میں موجود ہونے کا سوال پیدا نہیں ہوتا تھا۔ جلیل احمد نے کہیں کہیں پر متن کا لفظی ترجمہ کرکے ترجمہ خراب کر دیا ہے۔Vous m’avez embrassé et vous étiez heureuse اس عبارت کا ترجمہ جلیل احمد نے ’’لیکن آپ نے مجھے چوما اور مجھ سے آپ خوش ہوئیں‘‘۔ کیا ہے۔ یہاں چومنا بالکل لفظی ترجمہ ہے۔ اے۔این سپرو نے اس کا خوبصورت ترجمہ کیا ہے۔ان کا ترجمہ ہے’’۔ تم نے مجھے پیار کیا اور خوش نظر آئیں‘‘۔
دونوں اردو تراجم میں ایک اور چیز ہے جو پڑھتے ہوئے گراں گزرتی ہے۔ اصل متن میں پرنزوال نے وانا کو ’Vous‘ یعنی ’آپ‘ سے مخاطب کیا ہے۔ جلیل احمد کے ترجمے میں کہیں ’آپ‘ اور کہیں ’تم‘ استعمال کیا گیا ہے۔ اس سے اردو زبان کی اپنی چاشنی کم ہو جاتی ہے۔ اے۔این سپرو نے کچھ اور ہی انداز اختیار کر لیا ہے۔ انھوں نے ’تم‘ استعمال کیا ہے لیکن پھر افعال جمع کے استعمال کیے ہیں۔ جیسے ’’کیا تم اس آدمی کو نہیں پہچانتیں‘‘ یا تم آٹھ برس کی تھیں‘‘ یہاں ’تم‘ کے ساتھ ’پہچانتیں‘ اور ’تھیں‘ عجیب لگ رہا ہے۔ فرانسیسی زبان میں لفظ Vous فو رمل صورت حال میں استعمال کرتے ہیں۔ اس کا ترجمہ’آپ‘ بہتر ہے۔
ترجمہ بہت ٹیڑھی چیز ہے۔ اس میں نہ صرف دونوں زبانوں کا علم ضروری ہے بلکہ دونوں زبانوں کی تہذیبوں سے بھی واقفیت ضروری ہے۔ ہر لفظ کی اپنی شخصیت ہے اور اس کی اپنی آواز ہے۔ اس کو سننا اور محسوس کرنا ہوتا ہے۔ ترجمے میں ابلاغ و ترسیل بھی ضروری ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اصل متن کے دامن کو پکڑے رہنا بھی ضروری ہے۔ یہ بڑا مشکل فن ہے۔ اس میں میں کوئی کبھی کامیاب ہو جاتا ہے اورکوئی بری طرح ناکام بھی ہو جاتا ہے۔ ادبی تخلیقات کا ترجمہ تو ویسے بھی کٹھن ہے۔ اس میں اکثر و بیشتر الفاظ اپنے لغوی اور ظاہری معنی میں استعمال نہیں ہوتے۔ ایسے میں مترجم کے لیے مشکل ہوتا ہے کہ وہ کیسے ترجمہ کرے کہ مفہوم کی ادائیگی بھی ہو جائے اور ترجمہ اصل متن سے قریب بھی رہے۔ یہ ایک مشکل مرحلہ ہوتا ہے اور اس میں مترجم کے عذر کو قبول کرنا چاہیے۔ البتہ یہ کسی بھی طور پر مناسب نہیں کہ مترجم اس خوف سے کسی عبارت کا ترجمہ نہ کرے کہ اس کے کیے ہوئے ترجمہ سے اصل متن کے مفہوم کی ادائیگی نہیں ہو پا رہی ہے۔ مترجم سے جہاں تک ممکن ہو اسے مشکل عبارت کا ترجمہ کرنا چاہیے۔ مفہوم کی مکمل ادائیگی نہیں ہونے پر اسے شرمندہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کو اس بات کا اعتراف کتاب کے حاشیے میں کرلینا چاہیے کہ وہ اصل متن کے مفہوم کو اپنی زبان میں ٹھیک سے بیان نہیں کر سکا ہے۔ ایک دیانت دار مترجم کا یہ اخلاقی فریضہ ہے۔ اردو زبان اب اتنی زرخیز ہو گئی ہے کہ اس میں دنیا کی کسی بھی زبان کے متن کو پیش کیا جا سکتاہے۔ یہ ممکن ہے کہ ایک لفظ کے لیے اردو میں کوئی متبادل لفظ نہ ملے۔ لیکن مرکب الفاظ میں ہم اس کا مفہوم ادا کر سکتے ہیں۔ اردو کی تنگ دامنی کی شکایت محمد حسن عسکری کو بھی رہی ہے اور جلیل احمد بھی یہی شکایت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’مترلنک کی نفاستِ خیال اور لطافتِ ادب کو ترجمہ میں قائم رکھنا دشوار ہے اور اہل زبان مجھے معاف فرمائیں اگر موصوف کے پیرایۂ خیال کی تقلید کی کوشش میں میرے قدم ڈگمگا جا ئیں۔ اردو با وصف اپنی مفروضہ وسعت کے ابھی تنگ زبان ہے۔ خود انگریزی مترجم بعض جگہ اپنی بے چارگی کا معترف معلوم ہوتا ہے۔‘‘
(مونا وانا، جلیل احمد قدوائی، مخزن لاہور، نومبر1929،ص24)
اس بات کا اعتراف کرنا چاہیے کہ ابھی اردو میں الفاظ کی کمی ہے۔ یورپی اور مغربی زبانیں ذخیرۂ الفاظ کے معاملے میں آگے ہیں۔ اردو زبان الفاظ کے معاملے میں پیچھے ہے، لیکن اپنے انداز اوراسلوب میں کسی بھی بڑی زبان سے کسی بھی طور پر کمتر نہیں ہے۔ اس لیے مجھے ایسا لگتا ہے کہ اب ہر جگہ یہ عذر بھی قابل قبول نہیں کہ اردو میں اتنی گنجائش نہیں ہے کہ وہ مغربی زبانوں کے تمام خیالات اپنے سانچے میں ڈھال لے۔ بہر کیف! جلیل احمد کی اتنی بات تو تسلیم کی جا سکتی ہے کہ اردو میں ابھی بھی الفاظ کی کمی ہے اور بسا اوقات ترجمہ کرنے میں مشکل ہوتی ہے۔ ایسے میں مترجم کا کام ہے کہ وہ مرکب الفاظ میں خیالات کو بیان کرے یا پھر کوئی نیا لفظ یا نئی اصطلاح وضع کرنے کی کوشش کرے۔ جب تک ایسا نہیں ہوگا زبان میں وسعت پیدا نہیں ہوگی اور ترجمہ ہمیشہ آدھا ادھورا ہی ہوتا رہے گا۔
مجھے اس بات کا بہ خوبی اندازہ ہے کہ ترجمہ نگاری کا فن دو دھاری تلوار کی طرح ہے۔ کسی متن کا ترجمہ اچھا ہو یا برا، دونوں ہی صورتوں میں اس کی گرفت کی جاتی ہے اور کی جانی بھی چاہیے۔ الفاظ کے بدلے الفاظ رکھ دینے سے معنی منتقل ہوتا ہے، اس سے جڑے دوسرے اہم خصائص جیسے صوتی آہنگ، تہذیبی سیاق و سباق اور ساختیاتی حسن وغیرہ اصل زبان کے الفاظ سے ہی چپکے رہتے ہیں۔ ترجمے کا پروسیس تخلیق سے بالکل الگ ہے۔ تخلیقی عمل میں پہلا مرحلہ فکر کا ہوتا ہے، بعد میں زبان آتی ہے۔ ترجمے کے عمل میں پہلے زبان سے سابقہ ہوتا ہے، بعد میں غور و فکر سے کام لیا جاتا ہے۔ تخلیق میں خیال کو اولیت حاصل ہے اور ترجمے میں زبان کو۔ اس لیے یہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ ترجمے میں اصل متن کا بہت کچھ حصہ چھوٹ جاتا ہے۔ ان سب کے باوجود ترجمے کا کام ہوتا رہنا چاہیے کیوں کہ اس سے علم و ادب کو بڑا فروغ ملتا ہے۔ اردو کے عظیم مفکر اور نقاد شمس الرحمن فاروقی ترجمہ کے حوالے سے اپنے ایک مضمون ’دریافت اور بازیافت‘ میں رقم طراز ہیں:
’’ترجمے کو جاری رہنا چاہیے تاکہ ترجمے والی زبان، اور اس زبان کے ادب اور اس کے بولنے والوں کو تونگری حاصل ہو‘‘ (ترجمہ نگاری کا فن: مرتبہ خلیق انجم)
میں فاروقی کی اس بات سے مکمل طور پر اتفاق رکھتا ہوں کہ ترجمے کا کام ہوتے رہنا چاہیے۔ اس کی اپنی کمیاں ہیں، ترجمے کے عمل میں بہت کچھ کھو جاتا ہے، لیکن اس کی مدد سے ایک زبان کی جتنی بھی چیزیں دوسری زبان میں منتقل ہو جاتی ہیں، ان کے بھی بے شمار فائدے ہیں۔


Mohd Raihan
N-120, Abul Fazal Enclave
Jamia Nagar, Okhla
New Delhi- 110025
Mob.: 7366083119
mdraihanjmi@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

عرب کے تنقیدی نظریات،مضمون نگار :محمدحسن

عرب میں شاعری کا رنگ و آہنگ قبائلی زندگی سے عبارت تھا۔ کسی قبیلے میں کسی شاعر کی شہرت ہوتی تو دوسرے قبیلے والے مبارک باد دیتے اور قبیلے جشن

تدوینِ متن کی روایت شمالی ہند میں ،مضمون نگار:صابر علی سیوانی

تلخیص تدوینِ متن کی روایت کا آغاز شمالی ہند میں آزادی سے قبل ہوچکا تھا، لیکن اصول تدوین وضع نہیں ہوئے تھے۔ متعدد متون کو محققین نے ترتیب دے کر

سامانِ تحریر کی تاریخ اور کاغذ کی ابتدا،مضمون نگار: بمل کمار دت

ہندوستان بولنے، لکیریں کھینچنے اور صورت بنانے کے ابتدائی ادوار سے گزرا۔ ان میں سے ہر دور سیکڑوں بلکہ ہزاروں سال طویل تھا۔ ان مراحل میں لگاتار فطری اقدامات کے