خدیجہ مستور کی فکری اساس اور اردو ناول نگاری از غزالہ فاطمہ
خدیجہ مستور کی فکری اساس اور اردو ناول نگاری اردو ادب کی تاریخ ہمارے ملک کی سیاسی ،سماجی ،ثقافتی،معاشرتی تاریخ کا ایک اہم حصّہ رہی ہے ۔انیسویں صدی کے آخری
خدیجہ مستور کی فکری اساس اور اردو ناول نگاری اردو ادب کی تاریخ ہمارے ملک کی سیاسی ،سماجی ،ثقافتی،معاشرتی تاریخ کا ایک اہم حصّہ رہی ہے ۔انیسویں صدی کے آخری
حفیظ جالندھری بہ حیثیت افسانہ نگار بیسویں صدی میں اردو ادب کے اہم معماروں میں حفیظ جالندھری کا نام سر فہرست ہے۔ ان کے افکار عالیہ نے اردو نظم و
بیسویں صدی کے اوائل میں اردو فکشن میں رومانیت ایک رجحان کے طو رپر ابھری جسے سرسید کے عقلیت پسند تحریک کی ضدماناجاتا ہے اس رومانی دورمیں کئی آفاق گیرادبی
اردو زبان رنگ و نسل، مزاج وا حتیاج اور دل میں اُتر جانے والے اپنے استعاروں اور کانوں میں شہد گھولنے والی اپنی شیرینی کے باوصف آج بھی تروتازہ، شگفتہ
مخصوص تہذیب اور محدود زاویۂ نگاہ کی بنا پر کسی زبان میں اعلیٰ ادب تخلیق نہیں کیا جاسکتا۔ ادب آفاقیت سے قبل مقامیت سے عبارت ہے لہٰذا مخصوص تہذیب اور
انسانی زندگی کے کچھ واقعات و لمحات ایسے بھی ہوتے ہیں جنھیں انسان عمر بھر بھلا نہیں سکتا۔ ایسے کئی دلچسپ واقعات وہ اپنے دوستوں اور عزیز و اقارب کے
آج تاریخ کے صفحات سے نکال کر برصغیرکی ایک ایسی باہمت خاتون رقیہ سخاوت حسین سے آپ کی ملاقات کرار ہی ہوں جس نے ایک صدی پہلے اپنے قلم اور
750 صفحات پر مشتمل سید اقبال قادری کی کتاب ’رہبر اخبار نویسی‘ صحافت سے متعلق تمام ضروری امور پر معتبر دستاویزی حیثیت کی حامل ہے۔ ابتدائی صفحات ’عرضِ مصنف ‘
میرشناسی کے باب میں نثار احمد فاروقی نہایت اہم نام ہے۔ میر تقی میر:شخصیت و فن کے حوالے سے اس کتاب کی اہمیت اس لیے دوبالا ہو جاتی ہے کہ
تاریخ نویسوں نے عام طور پر کسی عہد کا تجزیہ اس وقت کے سیاسی، سماجی، معاشرتی، تمدنی اور اقتصادی حالات کو پیش نظر رکھ کر کیا ہے۔ علمی اور ادبی