تبصرہ دکن میں اردو از امتیاز احمد علیمی
دکن میں اردو اردو کے جن محققین نے اپنی تحقیقی کاوش کی بنیاد پر ادبی دنیا میں اپنے انمٹ نقوش چھوڑے ہیں ان میں نصیرالدین ہاشمی کا نام بے حد
دکن میں اردو اردو کے جن محققین نے اپنی تحقیقی کاوش کی بنیاد پر ادبی دنیا میں اپنے انمٹ نقوش چھوڑے ہیں ان میں نصیرالدین ہاشمی کا نام بے حد
مولانا ابوالکلام آزاد اور عالمِ عرب ہم میں سے شاید و باید ہی کوئی ایسا شخص ہو جو اس حقیقت سے ناواقف ہو کہ ہمارے عظیم سیاسی وقومی رہنما اور
حیدرآباد کی چند اہم خواتین ناول نگار شہرحیدرآباد اپنی بیش بہا خصوصیات کی بنا پر اپنی ایک منفرد پہچان رکھتا ہے۔ ابتدا ہی سے یہ شہر اپنی منفرد زبان، تہذیب
خدیجہ مستور کی فکری اساس اور اردو ناول نگاری اردو ادب کی تاریخ ہمارے ملک کی سیاسی ،سماجی ،ثقافتی،معاشرتی تاریخ کا ایک اہم حصّہ رہی ہے ۔انیسویں صدی کے آخری
حفیظ جالندھری بہ حیثیت افسانہ نگار بیسویں صدی میں اردو ادب کے اہم معماروں میں حفیظ جالندھری کا نام سر فہرست ہے۔ ان کے افکار عالیہ نے اردو نظم و
بیسویں صدی کے اوائل میں اردو فکشن میں رومانیت ایک رجحان کے طو رپر ابھری جسے سرسید کے عقلیت پسند تحریک کی ضدماناجاتا ہے اس رومانی دورمیں کئی آفاق گیرادبی
اردو زبان رنگ و نسل، مزاج وا حتیاج اور دل میں اُتر جانے والے اپنے استعاروں اور کانوں میں شہد گھولنے والی اپنی شیرینی کے باوصف آج بھی تروتازہ، شگفتہ
مخصوص تہذیب اور محدود زاویۂ نگاہ کی بنا پر کسی زبان میں اعلیٰ ادب تخلیق نہیں کیا جاسکتا۔ ادب آفاقیت سے قبل مقامیت سے عبارت ہے لہٰذا مخصوص تہذیب اور
انسانی زندگی کے کچھ واقعات و لمحات ایسے بھی ہوتے ہیں جنھیں انسان عمر بھر بھلا نہیں سکتا۔ ایسے کئی دلچسپ واقعات وہ اپنے دوستوں اور عزیز و اقارب کے
آج تاریخ کے صفحات سے نکال کر برصغیرکی ایک ایسی باہمت خاتون رقیہ سخاوت حسین سے آپ کی ملاقات کرار ہی ہوں جس نے ایک صدی پہلے اپنے قلم اور