حسان الہند مولانا احمد رضا خاں – مضمون نگار: محمد یٰسین
مولانا احمدرضا خاں نے شاعری کے تمام اصناف میں باکمال شاعری کی ہے۔ آپ کی شاعری میں تغزل کا رنگ زیادہ گہرا نظر آتا ہے۔ غزل کے انداز میں
مولانا احمدرضا خاں نے شاعری کے تمام اصناف میں باکمال شاعری کی ہے۔ آپ کی شاعری میں تغزل کا رنگ زیادہ گہرا نظر آتا ہے۔ غزل کے انداز میں
اکیسویں صدی اردو فکشن کے لیے بہت زرخیز ثابت ہوئی ہے۔قلم کاروںاور قارئین دونوںکونثری اصناف میں سب سے زیادہ اردو فکشن نے ہی متوجہ کیا ہے۔ یہی وجہ ہے
ماضی سے عہد حاضر تک اردو کے بے شمارادبی و نیم ادبی رسائل و جرائد شائع ہوئے لیکن تجزیہ نگاروں اور علم و ادب کے پارکھیوں نے پہلے آگرہ
آزادی کے بعد جب اردو زبان پر افتاد آن پڑی تو ایسی نا گفتہ بہ صورت حال میں بر گزیدہ اساتذۂ کرام نے ہی اس شکستہ کشتی کی نا
شام مکمل طور پر رات میں تبدیل ہوچکی تھی یا ہوا چاہتی تھی،پتہ نہیں! ایسے ہی کسی لمحے میں موبائل کی گھنٹی بجی… میں نے لپک کے موبائل اُٹھایا۔رشید
جہاں اردو صحافت نے جنگ آزادی میں ناقابل فراموش اہم کردار ادا کیا وہاں دوسری جانب اردو ادب کی مختلف اصناف کے فروغ میں بھی اپنی سرگرمی کو تاہنوز
تلخیص علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ اردو کو تاریخی طور پر تقدم حاصل ہے کہ اس کا قیام گو کہ 1932میں عمل میں آیا لیکن اس کے قیام کا
تلخیص اٹھارہویں صدی تک اردو اور ہندی میں تفریق نہیں ملتی۔ رسم الخط کے فرق کے ساتھ ہندوی، ہندی، اردوے معلی، ہندوستانی وغیرہ مختلف ناموں سے مسلسل ارتقاپذیر رہی،
شانتی رنجن بھٹا چاریہ کی شخصیت ہمہ جہت تھی۔ان کا شمار ان ادیبوں میں ہوتا ہے جنھوں نے بیک وقت تحقیق، تنقید،تذکرہ، ترجمہ، افسانہ اور ناول جیسی صنفِ ادب میں
انشائیہ نگاری کے ذریعے سرسید نے اہم مقصد اور اس کی تکمیل کے لیے بھرپور کوشش کی۔ یہی وجہ ہے کہ سرسید احمدخاں نے کئی مقاصد کی تکمیل