شارب ردولوی کی علمی و عوامی خدمات: موسی رضا
سید مسیب عباس (شارب ردولوی) کا تعلق قاضیان سلطان پور کے خاندان سے تھاجو ہجرت کر کے ردولی آگیا تھا۔ ان کے والد حسن عباس اور دادا غلام حسنین کا
سید مسیب عباس (شارب ردولوی) کا تعلق قاضیان سلطان پور کے خاندان سے تھاجو ہجرت کر کے ردولی آگیا تھا۔ ان کے والد حسن عباس اور دادا غلام حسنین کا
نئی دہلی:دہلی کے پرگتی میدان میں جاری عالمی کتاب میلے میں قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان اور این بی ٹی(نیشنل بک ٹرسٹ آف انڈیا) کے اشتراک سے ۱۵؍فروری کومیلہ
اٹھارہویں صدی کے اخیرمیں جس نوع کے تعلیمی نظام کو فروغ دیاجانے لگا تھا،اس نے انیسویں صدی میں ایک توانا شکل اختیار کرلی تھی۔اتنی توانا کہ اسے ہندستان میں جدید
ہندوستان میں مسلمانوں کی آمد سے ہند و ایرانی تعلقات کو تقویت ملی۔مسلم بادشاہ و سلاطین نے ہندوستانی زبان و ادب، فلسفہ و مذہب، علم نجوم، ہیئت، طب، تہذیب
اردو کے افسانوی و غیرافسانوی ادب کی تاریخ میں سعادت حسن منٹو کی فن کارانہ شخصیت نمایاں حیثیت کی حامل ہے۔ ان کے موضوعات اور رجحانات میں کافی تنوع
اردو تحقیق وتنقید کا نقطۂ آغاز شعرائے اردو کے تذکرے ہیں۔ تذکرہ جو کہ عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی یاد کرنا یا ذکر کرنا ہوتے ہیں۔ اردو
تاریخی اعتبار سے تقسیم کے نتیجے میں جو فکشن رقم کیے گئے اس کا کینوس بہت وسیع ہے۔ یہ ہندو مسلم فساد، بے گھری، ہجرت کا کرب، مسلم اکثریت جو
اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ کلیم الدین احمد ایوان اردومیں اپنے تنقیدی نظریات اور جرأت مندانہ افکار واظہار کے ساتھ اس طرح داخل ہوئے کہ
بیسویں صدی میں کلکتے کی شعری فضا میں جو نام آفتاب بن کر ابھرا وہ وحشت کلکتوی کا ہے۔ جنھیں علامہ، طوطی بنگالہ اور غالب دوراں جیسے القاب سے
کلیم الدین احمد کے انتہا پسندانہ، استہزائیہ، مضحکہ خیز اور طنزآمیز جملوں میں شخصیت کشی کے عناصر غالب رہتے ہیں۔ ان کا مطالعہ نہایت وسیع اور نظر گہری ہے۔ ان