ضلع بستی کا ادبی منظر نامہ آزادی سے قبل: محمد اسلام خان
اردوادب کی تاریخ میں گورکھپور کوایک مرکز کے طورپر دیکھا گیا ہے۔ 1720میں جب سعادت خاں کواودھ کی صوبیداری ملی تو گورکھپور’اودھ سلطنت‘ کے ماتحت ہوگیا اور نومبر1801تک اس
اردوادب کی تاریخ میں گورکھپور کوایک مرکز کے طورپر دیکھا گیا ہے۔ 1720میں جب سعادت خاں کواودھ کی صوبیداری ملی تو گورکھپور’اودھ سلطنت‘ کے ماتحت ہوگیا اور نومبر1801تک اس
مخمور سعیدی (پ:…، و:…) نے جب شاعری شروع کی تھی اس وقت ترقی پسند تحریک کا شیرازہ بکھر رہا تھا اور تھوڑے عرصے بعد جدیدیت نے اپنا سر نکالنا
راسخ عظیم آبادی اُردوکے معروف شاعرگزرے ہیں۔ ان کاتعلق عہد میروسوداسے ہے۔ان نابغۂ روزگار شعرا کے عہدمیں ہونے کے باوجود راسخ کی اہمیت مسلم ہے کیونکہ میراوردردکے عہد میں صنف
نشاط کلکتہ سے تقریباً 36 کلومیٹر کی دوری پر نواحی علاقہ کانکی نارہ ہے۔ دریائے ہگلی کے دونوں کناروں پر متعدد جوٹ ملوں کے قائم ہونے کے بعد یہاں
منطقی لحاظ سے اس مفروضے کو ردّ کر نے میں کوئی کلام نہیں کہ مرد صاحبِ فہم ہے اور عورت ناقص العقل۔ دونوں میں ہر طرح سے مساوی خوبیاں
قومی اردو کونسل میں یوم جمہوریہ کے موقعے پر تقریب پرچم کشائی نئی دہلی: جمہوریت بہت اہم چیز ہے مگر جمہوریت میں بہت سے چیلنجز بھی ہوتے ہیں۔ آج
میڈیا کا رشتہ تخلیق انسانی سے جڑا معلوم ہوتا ہے اور اسی وقت سے اس کا بھی وجود پایا جاتا ہے۔ دنیا میں جب انسانوں کی تخلیق ہوئی تو انھیں
نیست شہرت طلب آنکس کہ کمالے دارد ہر گز انگشت نمابدرنباشد چوں ہلال —غنی کشمیری میر غلام رسول نازکی (پ: 16 مارچ 1910، و: 16 اپریل 1998) کا شمار ریاست
اٹھارہویں صدی اردو شاعری بالخصوص غزل گوئی کے لحاظ سے نہایت اہم صدی ہے۔ اس عہد کو اردو شاعری کا عہد زریں اور عہد میر و سودا جیسے ناموں
ادیب و فنکارجس عہد میں سانس لیتا ہے، اس عہد کی تلخیاں اس کی حسیت اور آگہی کو متاثر کرتی ہیں، اسی لیے ہندوستان پر برطانوی نظام کے استحکام