تانیثیت اور خواتین ناول نگار – مضمون نگار : محمد یونس ٹھوکر
انیسویں صدی کے نصف آخر سے ہی تانیثی افکار و خیالات کی گونج شعوری یا غیر شعوری طور پر اردو ادب میں عموماََ اور اُردو فکشن میں خصوصاََ سنائی
انیسویں صدی کے نصف آخر سے ہی تانیثی افکار و خیالات کی گونج شعوری یا غیر شعوری طور پر اردو ادب میں عموماََ اور اُردو فکشن میں خصوصاََ سنائی
بنارس میں فارسی ادب کی ایک صحت مند روایت رہی ہے۔ قدیم زمانے کے بعض فارسی ادبی آثار آج بھی باشندگان بنارس کے ذاتی کتب خانوں کے علاوہ قلعہ
بلراج مین را کا شمار اردو کے ممتاز افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ انھوں نے اپنی تخلیق کے توسط سے جدید افسانے کو نئی فکر اور انوکھے طرز اسلوب
سر زمین بنگال میں ضلع ہگلی کے انگس نامی محلے کے ایک غریب گھرانے میں تاریخ 2؍اپریل 1936 ، ایک تابندہ ستارہ طلوع ہوا جسے اردو دنیا قیصر
’’نوع انسان کا دلکش ترین مرکز مطالعہ ہمیشہ سے انسان رہا ہے اور آئندہ بھی رہے گا۔‘‘ ادب کی دو اصناف سوانح اور خاکے ہمیں انسان سے متعارف کراتی
اردو فکشن میں سلمیٰ صنم صاحبہ کا نام محتاج تعارف نہیں۔ریاست کرناٹک کے شہر بنگلور سے تعلق رکھنے والی سلمیٰ صنم صاحبہ پیشہ سے لکچرر ہیں ۔ جواردو ادب
تبسم فاطمہ کی پیدائش 3؍جولائی 1967میں آرا(بہار) میں ہوئی ۔ابتدائی تعلیم آرا میں حاصل کی ۔بی ۔اے کی ڈگری آراسے ہی حاصل کی اورنفسیات میں ایم ۔اے کیا۔
ناول’کہانی کوئی سناؤ متاشا‘ ڈاکٹر صادقہ نواب سحر کا پہلا ناول ہے جس کی اشاعت 2008 میں ہوئی اور اب تک اس کے تین ایڈیشن (دوسرا2013 اورتیسر2021) میں شائع
مولانا عبدالماجد دریا بادی ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔ انھوں نے تنقید ، تفسیر ، ترجمہ اور شاعری کے ساتھ ساتھ صحافت کے میدان میں بھی
شورش عندلیب نے روح چمن میں پھونک دی ورنہ یہاں کلی کلی مست تھی خوابِ ناز میں مولانا آزاد ہندوستان کی آزادی اور ایکتا کے علمبردار تھے وہ اسلامی