عہد اکبری میں مثنوی سرائی مضمون نگار: الطاف حسین
عہد اکبری 963ہجری تا 1014ھ ق فارسی شعر و ادب و مثنوی سرائی کے لحاظ سے زریں عہد شمار کیا جاتا ہے۔ اکبربادشاہ نے اپنے اجداد کی طرح فارسی شعر
عہد اکبری 963ہجری تا 1014ھ ق فارسی شعر و ادب و مثنوی سرائی کے لحاظ سے زریں عہد شمار کیا جاتا ہے۔ اکبربادشاہ نے اپنے اجداد کی طرح فارسی شعر
یہ بات ہم بحسن و خوبی جانتے ہیں کہ ’اردو زبان کا تعلق دنیا کے سب سے بڑے لسانی خاندان ’ہندیورپی خاندان ِالسنہ ‘ کی ’ہندایرانی شاخ‘ (Indic/Indo-Aryan) سے ہے،
آج مشر ق اور مغرب کو (ہر دو اطراف کے چاہنے یا نہ چاہنے کے باوجود) قربت نصیب ہوئی لیکن اپنی اپنی مخصوص زندہ روایات کے سبب خارج اور
ولی الرحمن شیدا یعنی شین مظفر پوری (1920-1996) ہر فن مولا شخص تھے۔وہ مصنف و مدیر اور شہرت یافتہ شاعر و ادیب تھے،انھوں نے ہر صنف پر طبع آزمائی
بیانیہ اصناف کی طرح شعری اصناف میںبھی کردار ہوتے ہیںمگر دونوں کے تقاضے الگ ہیں اور دونوں کے مطالعے کا طریقہ بھی الگ۔اس فرق کو سمجھنے کے لیے پہلے چند
ہندوستان ایک قدیم تہذیبی ملک ہے جو ہزارہا سال کے تمدنی آثار رکھتا ہے۔ یہاں اہل عرب کی آمد اسلام سے بہت قبل سے جاری ہے اور ہندوستان کے
سیّدہ جعفرحیدر آباد کی ایک مایہ ناز علمی و ادبی شخصیت ہیں۔اُن کا شمار ہندوستان کی دانشور خواتین میں ہوتا ہے۔ وہ ایک اعلیٰ پایہ کی استاد، انشا پرداز، محقق
اُردو شاعری میں دیگر موضوعات کے علاوہ موسم برسات کے موضوع پر بھی شاعروں نے اظہارِ خیال کرکے اپنی فنّی دسترس اور تخلیقی قوتوں کا ثبوت فراہم کیا ہے۔
زبان ایک ذریعہ خیال ہی نہیں بلکہ سماجی عمل بھی ہے۔ اس کی غیر معمولی اہمیت اور افادیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ یہ
سوانح مولانا روم: ایک تنقیدی مطالعہ الطاف احمد اعظمی تلخیص علامہ شبلی نعمانی نے علم کلام سے متعلق جو کتابیں لکھیں ان میں ’سوانح مولانا روم‘ کا نمبر چوتھا ہے۔