میر تقی میر از نثار احمد فاروقی: تبصرہ اسما، جامعہ ملیہ اسلامیہ
میرشناسی کے باب میں نثار احمد فاروقی نہایت اہم نام ہے۔میرتقی میرکی شخصیت و فن کے حوالے سے کتاب ’’میر تقی میر‘‘ کی اہمیت اس لیے دوبالا ہو جاتی ہے
میرشناسی کے باب میں نثار احمد فاروقی نہایت اہم نام ہے۔میرتقی میرکی شخصیت و فن کے حوالے سے کتاب ’’میر تقی میر‘‘ کی اہمیت اس لیے دوبالا ہو جاتی ہے
ڈاکٹر سرورالہدیٰ اردو کی ادبی دنیا میں ممتاز مرتب کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔ ان کی ترتیب دی ہوئی کئی کتابیں قارئین سے داد و تحسین حاصل کر رہی
کتاب کا نام: شفیق جونپوری(پیپر بیک) مبصر: ڈاکٹر جسیم الدین شفیق جونپوری کا شمار ان شعرا میں ہوتا ہے، جنھوں نے اردو شاعری کی آبرو بڑھائی ہے، وہ اپنے کلام
اردو صحافت کے دو سو سال (حصّہ اوّل و دوم) مبصر: حقانی القاسمی موجودہ دور میں ابلاغیات کو موضوعی مرکزیت کی حیثیت حاصل ہوگئی ہے۔ پہلے سماجی نظام کی ترتیب
طلبا کی تعداد کے لحاظ سے چین اور امریکہ کے بعد ہندوستان کا اعلیٰ تعلیمی نظام دنیا کاتیسرا بڑا اعلیٰ تعلیمی نظام ہے۔ تاہم چین کے برعکس ہندوستان کی اعلیٰ
عہد حاضر میں عالمی برادری کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہمارا انسانی سماج مختلف اقسام کے تشدد کا شکار ہے اور اس تشدد کی آگ نے
خواجۂ خواجگان کی چوکھٹ، سلاطین و فرمان روا کی کار گاہ عمل، رشیوں اور منیوں کا آستانہ، شاعر و ادیبوں کا فکری گہوارا، فن کاروں و دستکاروں کی نمائش گاہ۔
اتساہتِ بیکل اتساہ سے لبریز بیکل نے جب ’نغمہ و ترنم‘ کا راگ الاپا اورکومل مکھڑے نے بیکل گیت سنائے تب گاؤں کے باسیوں کو یقین ہوگیا کہ ”اپنی دھرتی
میرا ہرگز یہ منصب نہیں کہ میں ادبی تحقیق کے موضوع پر لب کشائی کروں، اور وہ بھی محققین کے مجمعے میں، جو اس کام میں مصروف ہیں
تیرہویں صدی کے اختتام تک بابا فرید گنج شکر اور ہمہ گیر شاعر امیر خسرو کی نظمیں اردو ادب کی داغ بیل ڈال چکی تھیں۔ امیر خسرو کی زبان دہلی