فن خودنوشت:تحقیق و تنقید،مضمون نگار:محمد شمشیر علی
تلخیص خودنوشت سوانح حیات ایسی صنف ہے جس میں صاحب سوانح نے اپنے حالات بقلم خود نثر میں تحریر کیے ہوں۔ خودنوشت نگاری کے لیے آج تک باضابطہ اصول وضوابط
تلخیص خودنوشت سوانح حیات ایسی صنف ہے جس میں صاحب سوانح نے اپنے حالات بقلم خود نثر میں تحریر کیے ہوں۔ خودنوشت نگاری کے لیے آج تک باضابطہ اصول وضوابط
تلخیصموجودہ اترپردیش کا بہرائچ ایک بہت قدیم شہر وضلع ہے، جہاںاپنے دَور کی بہت سی اہم اور معتبر شخصیات کی تشریف آوری ہوئی، اور بہت سی نابغۂ روزگار ہستیوں نے
تلخیص سفینۃالاولیاء تذکرہ نویسی کے فن میں محمدداراشکوہ کی ایک شاہکار تصنیف ہے۔ اس تذکرے میں مجموعی طور پر 416 اولیائے کرام کے تذکرے ہیں۔ ان میں مصنف نے بغیر
تلخیص مولوی سبحان علی خاں (1180-1264ھ/ 1766-1848)اپنے دور کے معتبراور صاحب مقام و منزلت علما میں سے تھے۔ مدتوں دربار اودھ سے وابستہ اور سلاطین و وزرائے اودھ کے مقرب
تلخیص جس دور میں محمدیوسف کمبل پوش نے انگلستان کا سفر کیا، اس دور کی خاصیت یہ تھی کہ عربی ہی نہیں، بلکہ فارسی اور اردو زبان میں ان ایشیائی
تجھے ہم شاعروں میں کیوں نا اکبر معتبر سمجھیں بیاں ایسا کہ دل مانے زباں ایسی کہ سب سمجھیں اکبر الہ آبادی دنیائے شاعر میں کسی تعارف کے محتاج نہیں۔
دنیا میں کوئی بھی شاہکار اپنی تخلیق سے قبل جزوی طور پر وجود میں آچکا ہوتا ہے اور وہ اس بات کی بشارت دے دیتا ہے کہ عنقریب کوئی ایک
اردو زبان و ادب کے معروف محقق، تاریخ داں، افسانہ نگار، ناول نگار، انشاپرداز، سوانح نگارعبدالغنی شیخ مختصر علالت کے بعد 20 اگست 2024 کو سری نگر میں اس دار
لکھنؤ کو باغوں اور مرغزاروں کا شہر کہا جاتا تھا۔ فرمانروایانِ اودھ کو خوش نما باغات لگانے اور بلند و بالا، حسین و جمیل، مستحکم و استوار عمارتیں بنوانے کا
ہندوستان کی قدیم تہذیب مصر، عراق و عرب اور یونان کی تہذیبوں سے اس اعتبار سے مختلف ہے کہ اس کی روایات اس وقت تک مسلسل برقرار رہی ہیں، ماہرین