اردو اور کنڑا کا لسانی اور ثقافتی ارتباط،مضمون نگار:حلیمہ فردوس

April 2, 2026 0 Comments 0 tags

اردو دنیا، اپریل 2026:

عالمی سطح پر ہمارے ملک کی شناخت کثیرلسانی اور کثیرثقافتی مزاج کے طورپر قائم ہے۔ یہاں سینکڑوں بولیاں اورزبانیں رائج ہیں۔ کسی مستشرق نے ’’ہندوستان کو بولیوں کا عجائب گھر‘‘ قراردیا ہے۔ اس عجائب گھر کی شان قدیم وجدیدزبانوں کے رنگ وبوسے برقرار ہے۔ ہم پر اپنے ملک کی ہرزبان کا احترام لازم ہے کیونکہ زبان ذریعہ اظہار ہی نہیں تہذیب اور ثقافت کا آئینہ بھی ہوتی ہے۔ اردوہندستان میں پیداہوئی، صوفیوں کی گود میں پرورش پائی۔ بازاروں، میلوں، ٹھیلوں کی سیر کرتی رہی۔ آخرکار دربار میں اس کی رسائی ہوئی۔ وہاں جلوے لٹاتی رہی وہ وقت بھی آیا جب انگریز حکمران اس کا ہاتھ تھامنے پر مجبورہوگئے۔ ان غاصبوں کی نیت بھانپ کر وہ اٹھ کھڑی ہوئی اور ان حاکموں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ’’انقلاب زندہ باد‘‘ کا نعرہ لگایا بہت سے جانبازوں کوسولی پرچڑھایاگیا، آخرکارہتھکڑیاں ٹوٹیں اور انگریزوں کوالٹے پائوں لوٹناپڑا۔آج صدیوں کا سفر طے کرکے سارے عالم میں یہ خوشبو کی طرح پھیل گئی ہے۔
اردو وہ نوخیز ہندآریائی زبان ہے جس نے عربی اور فارسی کے علاوہ ہندوستانی کلاسیکی زبانوں کے سرمائے کو اپنی زنبیل میں محفوظ کیا اور اپنے لسانی ورثے سے ان زبانوں کے ذخیرے میں اضافہ کیا۔ اردو کا تعلق جہاں اپنے قبیلے کی زبان پنجابی، سندھی، گجراتی اورمراٹھی سے ہے وہیں تیلگو، کنڑا اور تامل جیسی دراوڑی زبانوں سے بھی اس کا رشتہ استوار رہا ہے۔ اس میں قوس قزحی رنگوں کے ہلکے اور گہرے سارے شیڈس ملتے ہیں۔
اردو اور کنڑا کے لسانی رشتے کی حقیقت جاننے کے لیے دَکنی زبان کے وجود اور مزاج کو سمجھناہوگا۔ خطہ دکن میں دکنی کو ایک بولی نہیں بلکہ باضابطہ زبان کی حیثیت حاصل تھی۔ علاء الدین خلجی کی دکن آمد ہویاتغلق کا جنونی قدم،جنوبی ہند میں اس نئی زبان کے پھلنے پھولنے کا ذریعہ بنے۔ ان حکمرانوں سے قبل عرب تاجروں اور صوفیائے کرام کے میل جول سے اجنبی زبان کے نقش ابھرچکے تھے۔ دکنی یعنی ابتدائی اردو کے نثری اور شعری ادب میں نہ صرف دیگرکلاسیکی زبانوں کے تراجم ملتے ہیں بلکہ اس ادبی سرمایہ کے ذریعے دینی و دنیاوی موضوعات کے علاوہ سلاطین کی فتوحات اور درباری قوانین اور تہذیب و ثقافت سے آگہی ہوتی ہے۔ آج بھی بیشتر ہندوستانی زبانوں میں اردوزبان کی قانونی اورانتظامی اصطلاحات مستعمل ہیں۔
کنڑا زبان کی دوہزار سالہ قدیم تاریخ ہے۔ اس کا شمارہندوستان کی کلاسیکی زبانوں میں ہوتا ہے۔ آزادی کے بعد لسانی بنیادوں پر کی گئی ریاستوں کی تشکیل سے ریاست میسور میں سابق ریاست حیدرآباد اور ممبئی کے بعض اضلاع شامل کیے گئے۔ کنڑا اس ریاست کی صوبائی زبان قرار دی گئی۔ پچھلی مردم شماری رپورٹ کے مطابق ریاست کرناٹک میں کنڑا زبان استعمال کرنے والوں کی تعداد 43.7ملین ہے جبکہ اردو بولنے والی آبادی 6.6ملین ہے اور اسے لسانی درجہ بندی میں دوسرا مقام حاصل ہے۔ ریاست میسور میں ابتداہی سے قدیم کنڑا زبان رائج تھی۔ صدیوں کے طویل سفر کے بعد کنڑا زبان میں تبدیلی کا آنا فطری امر تھا۔ بعدازاں قدیم کنڑا تاریخ کا حصہ بن گئی اور جدید کنڑاکا سفرجاری رہا۔ ریاست میسور میں راجاوڈیار کے دورحکومت میں کنڑا زبان کی حیرت انگیزترقی ہوئی۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ دکن میں پانچ نئی سلطنتوں کے وجود میں آنے سے دکنی زبان کو فروغ حاصل ہوا۔ بیجاپور میں دکنی اور کنڑا دونوں زبانوں کو عادل شاہی سلاطین کی سرپرستی حاصل رہی۔ اس حکومت کے زوال کے بعد اہل بیجاپور نے دور دراز شہروں جیسے چن پٹن، سرا اور ارکاٹ کارخ کیا۔ نواب حیدرعلی اور ٹیپوسلطان نے قلیل مدت میں دکنی زبان کی ترقی و ترویج میں نمایاں کردار ادا کیا۔ اس کے بعد وڈیارخاندان کی سرپرستی حاصل رہی۔ غرض اردومیں شامل عربی، فارسی اور ہندی الفاظ کنڑا زبان کا حصہ بن گئے اور اہل کنڑانے اسے بخوشی قبول کیا ۔
عموماً اردو اور ہندوستانی زبانوں کے اشتراک کے ذکر پر قانونی اور انتظامی اصطلاحات کا حوالہ دیا جاتا ہے مگر اردو اور کنڑا کے رابطے کے دیگر حوالے بھی ہیں۔ جن کا ذکر آگے آئے گا۔ ہندآریائی زبان پنجابی میں مقدمہ، جاگیر، پیشی، سرکار، وکیل، عرضی، فرمان، حوالات، حُکم جیسے الفاظ شامل ہیں۔ جبکہ دراوڑی زبان کنڑا میں لسانی قاعدے کے مطابق یہ الفاظ من و عن یا تبدیل شدہ شکل میں استعمال کیے جاتے ہیں۔ ان اسما کے آخر میں مصوتے ’’اُو‘‘ کا اضافہ لازمی ہے۔ جیسے عَدَالَتُّو، وَکِیلُوْ، گُلَامُوْ، دَرْبَارُو، جَاگِیْروْ، جَامِینُو وغیرہ۔
کنڑا میں اردو کے مستعمل عربی، فارسی اور ہندی الفاظ کی نوعیت کچھ اس طرح ہے۔
1ـ خالص دخیل الفاظ (تتسم)موجودہ دورمیں سرکاری احکامات میں اردو کے بے شمار الفاظ مروج ہیں۔
 تبتھو کی شکلیں:
2 الفاظ کے آخرمیں مصوتوں کا استعمال (ا۔و۔ی۔ ے) کے علاوہ حروف کی مشدد ادائیگی۔
3 دراوڑی زبانوں میں ذ،ز، ض، خ، ف، ق کی مفقودآوازوںکی جگہ متبادل صوتی حروف کا استعمال۔
4 الفاظ میں مطلوبہ حروف کے بجائے متبادل صوت کا استعمال۔
5 لاحقوں اور سابقوں کے جوڑ سے صفت یا فاعل بنانا۔
مثالیں ملاحظہ ہوں:
1 خالص دخیل الفاظ: مامولی (معمولی) رُجو (رُجوع) جاری (جاری) سرکاری (سرکاری) جما(جمع)دَفا(دفع)نوکر(نوکر) دوات (دوات) تبلا( طبلہ)
2 مصوتوں کی مدد سے بنائے گئے الفاظ:
   ۱    (رواجا بمعنی رواج) (دِنا۔ دن) (ویاپارا۔ بیوپار) (بیجا۔ بیج)
   ی    (راتری۔ رات) (جاستی۔ زیادہ) (رعایتی۔ رعایت) (تربیتی۔ تربیت)
  ے  (کھجانے۔ خزانہ) (چرچے۔ چرچا) (گنٹے۔ گھنٹہ) (تماشے۔ تماشا) (رستے۔ راستہ) (صلُحے۔ صلح)
   اُو    (جَوابُوْ۔ جواب) (نصیبُو۔ نصیب) (سَوالُوْ۔ سوال) (سِفارِشُوْ۔ سفارش)
مشدد (ثَابِتُّو۔ ثابت) (سَرحَدُّو۔ سرحد) (ردُّو۔ رد)( اَمَانَتُّوْ۔ امانت)
3 ہم آواز حروف ذ، ز، ض کو ج اور خ، غ، ق کو گ یا کھ سے ادا کرنے کا طریقۂ کار۔
(ماجی۔ ماضی) (کاگدا۔ کاغذ) (کائم۔ قائم) (بے جَارُوْ۔ بیزار) (تاجا۔ تازہ)
4 الفاظ میں مطلوبہ حروف کے بجائے متبادل صوت کا استعمال۔
(کُرچی۔کرسی) (رشیدی۔رسید) (جِمّے واری۔  ذمہ داری) (تَاکِیتُ۔ تاکید)
مذکورہ بالامثالوں سے الفاظ کی صوتی تبدیلی کا علم ہوتا ہے۔
5 کنڑا زبان میں فارسی لاحقوں کے جوڑسے فاعل اور صفات بنانے کا چلن عام ہے۔
 فارسی لاحقے ’’دار‘‘ بشکل ’’دارا‘‘ اور ’گار‘ بشکل ’گارا‘ مروج ہیں۔ جیسے (ہکُّو دارا۔ حق دار) (جمین دارا۔ زمین دار) (صُلحے گارا۔ صلاح کار) (ہاسیّاگارا۔ مسخرہ)وغیرہ۔
بعض تراکیب میں کنڑا اور اردو الفاظ کا مضبوط جوڑملتاہے۔ جیسے ماجی+سچیوا بمعنی سابق وزیر۔ شکشنا+ اِلاکھے بمعنی محکمۂ تعلیمات۔ جاتی+پترا، ذات کا تصدیق نامہ وغیرہ۔ البتہ کنڑا زبان میں سابقوں کا استعمال نہ کے برابر ہے۔ عربی کلمۂ نفی ’’لا‘‘ اور فارسی کلمہ نفی ’’بے‘‘ کے جوڑ سے بننے والی مخصوص تراکیب روزمرّہ میں کثرت سے استعمال ہوتی ہیں۔ نا+پتّے بمعنی لا پتہ۔ نا+لائیکو، نالائق۔ بے +جوابداری بمعنی غیر ذمہ دار۔ بے+وارثی(لاوارث)وغیرہ۔
 قدیم میسور علاقے میں دونوں زبانوں میں یہ لفظ بطور تحقیر زبان زد خاص و عام ہے۔ باتونی یا چُلبلی لڑکی کے لیے بَجَاری بمعنی بازاری، چالاک اور شریر لڑکے کے لیے کِلّاڑی (کھلاڑی) لفظ عام طور پر دوران گفتگو اداکیے جاتے ہیں جو اپنے سیاق و سباق میں مخصوص معنی دیتے ہیں۔ لفظ جکاتی، زکوٰۃ سے مشتق ہے جو قدیم زمانے میں محصول کے معنی میں برتاجاتا تھا۔ رَجا۔ رضا یہ لفظ آج بھی سرکاری سطح پر تعطیل کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔
ان کے علاوہ آرام، زبردست، سَکّت جیسے الفاظ بے دریغ بولے جاتے ہیں۔ کنڑیگا خیریت دریافت کرنے کے لیے ایک جملے کے بجائے صرف ایک لفظ ’’آرام‘‘ سے اپنا مُدعا اداکرتے ہیں۔ بس اس لفظ کے آخری حرف ’’م‘‘ کو  م+  ا = مَا، میں تبدیل کرکے ’’آراما‘‘ کا استفہامیہ لہجہ ’’کیا خیریت ہے؟‘‘ کا متبادل بن جاتا ہے۔ حتیٰ کہ اشتہارات میں بھی اس لفظ کا چلن ہے۔ ٹوتھ پیسٹ کے اشتہار کے لیے اس سے موزوںلفظ شایدکنڑامیں نہیں ہے۔ یہ چند جملے دیکھیں:
سینسوڈائن(Sensodyne)اُپْیُوگِیسِیْ تکْشَنا آرام پَڈْیَرِیْ۔ (سینسوڈائن استعمال کریں فوراً آرام پائیں۔)
بُمرا سَکَّتْ بُولِنگ مَاڈِیدّارے۔ (بُمرا نے خوب بولنگ کی۔)
کنڑا فرہنگ میں بے شمار اردو الفاظ کے علاوہ ہم معنی کہاوتیں بھی شامل ہیں۔ جیسے
1 مَنْسُوْ دِیدَّرے مَارْگا۔
جہاں چاہ وہاں راہ۔
2 نَمّانَائی نَمَّا وَنِے یَلِّی ہُولِین تِے۔
کتابھی اپنی گلی میں شیر ہوتا ہے۔
3 مَدْوِے ماڈی نُوڑی۔ مَنِے کَٹِّی نُوڈی۔
شادی کرکے دیکھو۔ گھر تعمیر کرکے دیکھو۔
4 اَڑلِی دِیدّرے اَمَنُّو ہَا لُوْ کوْڈوْ دِلَّا۔
روئے بغیر ماں بھی دوددھ نہیں دیتی۔
پیش کردہ جائزے سے یہ بات پایۂ ثبوت کو پہنچتی ہے کہ اردو نے کنڑا زبان پر جس قدر گہر اثر ڈالا ہے اس کے مقابلے میں اردو پر کنڑا کے اثرات واجبی سے ہیں۔ کنڑا زبان کا اثر خصوصاً دَکنی روزمرہ پر نظرآتا ہے۔ ہردس کوس پر پانی اور بانی بدل جاتی ہے۔ زبانوں میں بھی تبدیلی لازمی ہے۔ اردو زبان جب ملک کے مختلف علاقوں میں پھیلتی گئی تب اُس پر مقامی اثرات کا رنگ چڑھنے لگا، اہل اردو کے آداب گفتگو ہی نہیں ان کے رکھ رکھائو اور کھان پان کے انداز بدلتے رہے۔ شمالی ہند کے اہل زبان کا فقرہ ’’جی ہاں‘‘ جنوبی ہند میں ’’جی ہَو‘‘ ’’وَہَیْے‘‘ اور ’’ہُو‘‘ کی شکل اختیار کرگیا۔ اس پس منظر میں بلا تامل یہ کہا جاسکتا ہے کہ جنوبی ہند کی ریاست کرناٹک میں کنڑا زبان نے روزمرہ کی زندگی کو جس قدر متاثر کیا لسانی اور ادبی سطح پر اس کا اثر آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہے۔ زبانوں میں ارتباط کا عمل کبھی ماحول کے تقاضے کے تحت شعوری طورپر تو کبھی باہمی میل جول کے تحت غیرشعوری طورپررونماہوتا ہے۔  عادل شاہی حکومت اور سلطنت خداداد کی سرپرستی میں دکنی زبان کی ادبی حیثیت باقی تو تھی مگر ان ادبی تحریروں میں کنڑ کے بجائے سنسکرت اور برج بھاشا کا ہی غلبہ رہا۔ دوچارصدیوں بعد دکنی زبان، اردو کے روپ میں جلوہ گرہونے کے باوجود ریاست کے کئی علاقوں میں کنڑا آمیزاردوزبان عوام میں رائج رہی۔ البتہ لب و لہجہ پر سرحدی اورعلاقائی اثرات کا نمایاں فرق پایاجاتا ہے۔ قدیم میسور کے کئی علاقوں ، ممبئی، کرناٹک اور حیدرآبادکے اطراف میں اہل اردو کا نہ صرف لب ولہجہ بلکہ الفاظ کا استعمال بھی کا فی مختلف ہے۔ جیسے اشیائے خوردنی اور اشیائے صَرف کے لیے مختلف کنڑاالفاظ مروج ہیں۔
قدیم ریاست میسور کے علاقے کے مروجہ الفاظ: 
اشیائے خوردنی: گنجی (کھاری سیال شئے) وَبَّٹُو (حلوے کی پوری) چَوچَو بھات (نمکین اور شیریں سوجی کی ڈِش) چِتْرنّا (لیموکا بھات) پنڈو (ٹماٹر) یَنْ نیْروْ( ناریل پانی)
اشیائے صرف:  مُوٹے (تھیلا) کَپاٹوْ (الماری) جھَلْڈِی(چھاننی)وَلْٹَرا(بچوںکودودھ پلانے کا پیالا)۔
روزمرہ الفاظ: شکے بمعنی گرمی، کنتری بمعنی مکّار، پُڑی بمعنی سفوف، سُومبیری بمعنی کاہل، چیٹی (چٹھی)۔ یجمان بمعنی مالک، یجمانی (مالکن)
حیدرآباد کرناٹک اور ممبئی کرناٹک علاقوں میں مروجہ الفاظ: 
اشیائے خوردنی:  انبیل (کھاری سیال شئے) جَوالا رُوٹِّی (جوار کی روٹی) وَبَّٹُوْ(حلوے کی پوری)  چگرئوبمعنی چُگر(املی کے انکورسے بنائی جانے والی سبزی)  مُنْگارُوْ جَوْالا (موسم باراں کی جواری) شینگا (مونگ پھلی) ہُلڑّا (جواری کا بھنا ہوا بھُٹّا) چیروتِنڈی (مستعمل چیردنڈی بمعنی چبینا)
اشیائے صرف: مِلْڑی(دودھ پلانے کا پیالا)،گمّی (جس میں اناج ذخیرہ کیا جاتا ہے)  تھلڑی(برتن)  چھننی (چھاننی) پِلیّ (پیروں میں پہننے والی چاندی کی انگوٹھی) لاڑی (ازاربند)
روزمرہ: مہاڑی بمعنی اوپری منزل، چَوْڑی بمعنی چائوڑی، کچہری،بائوڑی،مستعمل بَوْلی، بمعنی کنواں، کھاناولی مستعمل کھانا واڑی بمعنی ڈھابہ، گدّل بمعنی شورشرابہ، لنچا بمعنی رشوت، بنڈی بمعنی بیل گاڑی،بَڈّی بمعنی سود، پٹّا بمعنی سندِجائیداد، سائو کارا ،سائوکارابمعنی ساہوکار مالک،سائوکارتِی مالکن۔ 
اکیسویں صدی تک آتے آتے شہروں اور قصبوں کے طور طریقوں میں بہت کم فرق باقی رہ گیا ہے۔ دیگر ریاستوں کی طرح ریاستِ کرناٹک میں بھی علاقائی تہذیبی رنگ قائم ہے۔ آج بھی قصبات کے کنڑا ماحول میں ادا کیا جانے والا فقرہ ’’ہُوگوْبَرْتِینِیْ‘‘ بمعنی ’’جاکرآتاہوں‘‘ اہل اردو بھی استعمال کرتے ہیں۔
 پان لکھنؤی اور حیدرآبادی تہذیب کی شان ہے۔ قدیم میسور علاقوں میں مہمانوں کی خدمت میں پان کی گلوریاں پیش نہیں کی جاتیں بلکہ یہاں کی مقامی تہذیب کی پیروی میں چھوٹی سی کشتی میں پان، چھالیہ اور چونے کی ڈبی رکھی جاتی ہے۔ آج پاندان، خاص دان، اُگال دان خود عجائب گھروں کا سامان بن گئے ہیں۔ ایک مشہور جملہ ہے ’’نام میں کیا رکھا ہے‘‘ نام ہی نہیں سر نیم (Sir Name) یعنی خاندانی نام بھی علاقے کی شناخت ہوتے ہیں۔ نام بہت اہم ہوتے ہیں۔ ممبئی کرناٹک اور حیدرآباد کرناٹک میں حسب و نسب، پیشے یا علاقے سے منسوب عجیب وغریب اڈے ناما بمعنی اَڑے ناموں کا رواج عام ہے۔ جیسے میلے مَنے، بمعنی اوپر گھروالے۔ دوڈّ مَنے بمعنی بڑے گھروالے۔ رنگارے بمعنی رنگ ریز، پٹوے گربمعنی ریشم کا کام کرنے والے، تامٹ گر، تامٹ بمعنی تانبے کے برتن بنانے والے یا ٹھٹھیرا، بھنڈاری بمعنی خزانچی کے علاوہ ہرپن ہلی، پتن کٹی، شیرہٹّی، کلادگی وغیرہ علاقوں سے منسوب نام ہیں۔ کیا شمال وجنوب، کیا مشرق ومغرب ہمارے ملک میں بولی جانے والی بیشترہندستانی زبانوں نے ایک دوسرے کا اثرقبول کیا ہے۔ ان ہندوستانی زبانوں کی چندری دلکش رنگوں سے سجی ہوئی ہے۔ ان کی بہار، رنگت سے نہیں، ان کے مضبوط تانے بانے سے قائم ہے۔ کسی دھاگے کو اُدھیڑناآسان نہیں ہے اس عمل سے یہ چندری بے نور ہوجائے گی۔
Dr. Haleema Firdaus
414-A1 Ganga Block, 
National Games Village
Koramangla, Bangalore-47
Mob.: 9448787013
E-mail: haleema.firdous@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

ڈراما ’انار کلی ‘ اور فلم ’مغل اعظم‘ کا تقابلی مطالعہ،مضمون نگار: وسیم احمد

اردودنیا،جنوری 2026: ناٹک اور ڈرامہ بنیادی طور پر ایک سکے کے دو پہلو ہیں یعنی ایسی کہانیاں یا قصے جو اداکاری کے ذریعہ پیش کیے جائیں۔ انھیں پیش کرنے کی

اردو ادب میں ڈیجیٹل ثقافت کی تشکیل ایک نظری و فکری مطالعہ،مضمون نگار:عبدالرزاق

اردو دنیا،مارچ2026: اردو ادب کی تاریخ میں ہر دور کسی نہ کسی فکری، سماجی یا فنی انقلاب کا آئینہ دار رہا ہے۔ کلاسیکی عہد میں داستان و قصیدہ، سرسید کے

دھرم جی کی یاد میں،مضمون نگار: فرحان حنیف وارثی

اردودنیا،جنوری 2026: مجھےجوانی میں بالی ووڈ کے جن اداکاروں نے اپنی خوبصورتی اور اداکارانہ صلاحیتوں سے متاثر کیا، ان میںدھرمیندر کا نام سرفہرست ہے۔دھرم پاجی مجھے اس قدر پسند تھے