آزادیِ ہند میں اردو زبان و ادب کا کردار ناقابلِ فراموش: پروفیسر شیخ عقیل احمد

August 16, 2023 0 Comments 0 tags

 

 

نئی دہلی:قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان میں آج 77 ویں یوم آزادی کی مناسبت سے پرچم کشائی کی تقریب منعقد کی گئی۔ اس موقعے پر قومی اردو کونسل کے ڈائرکٹر پروفیسر شیخ عقیل احمد نے تمام اہل وطن کو جشن آزادی کی مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ آج ہم بھارت کا 77 واں یوم آزادی منارہے ہیں،جو ہمارے بے لوث قائدین کی قربانیوں کی وجہ سے ہمیں حاصل ہوئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس ملک کو آزاد کروانے میں تمام طبقات اور مذاہب کے لوگوں کا حصہ رہا ہے اور سارے ہندوستانیوں نے مل کر انگریزوں کے خلاف جدوجہد کی جس کے نتیجے میں وطن عزیز کو آزادی و خود مختاری حاصل ہوئی۔  انھوں نے آزادی کی تحریک میں خاص طورپر اردو زبان کے کردار کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اردو نے شروع سے آزادی کے متوالوں کے جوش و جذبے کو مہمیز کیا اور باشندگانِ ہند کے دلوں میں بیرونی تسلط کے خلاف انقلاب و بغاوت کے بیج بوئے جس کے نتیجے میں ملک کے ہر گوشے میں حب الوطنی و آزادی کے نعرے گونجنے لگے تھے۔ انھوں نے کہا کہ اردو کے صحافیوں، شاعروں، ادیبوں اور مصنفوں نے تحریکِ آزادی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور اپنے قلم کی طاقت کا خوب استعمال کیا جس کی وجہ سے درجنوں صحافیوں اور شاعروں کو انگریز حکومت نے سخت سزائیں دیں،بلکہ 1857 کے انقلاب میں شرکت کی پاداش میں سزائے موت پانے والے اولین صحافی اردو کے ہی تھے ۔ ان کے علاوہ 1947 تک اس زبان سے تعلق رکھنے والے نہ جانے کتنے ہی جیالوں نے گلستانِ وطن کو اپنے خون سے سیراب کیا۔ شیخ عقیل احمد نے کہا کہ آج ضرورت ہے کہ ہم نئی نسل کو اپنے قائدین کی قربانیوں سے آگاہ کریں تاکہ ہمیں آزادیِ وطن کی حقیقی قدر و قیمت کا احساس ہو اور ملک کی تعمیر و ترقی میں حصہ لینے کا جذبہ بیدار ہوسکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

نئی جہت اور صداقتوں کا شاعر: جلیس نجیب آبادی – مضمون نگار: ایم اے کنول جعفری

مغربی اتر پردیش کے کئی تاریخی مقامات میں شامل ضلع بجنور کا ایک شہر نجیب آباد ہے۔نجیب آباد کو افغانی پٹھان نجیب خان نے1740میں بسایا تھا۔تاریخ میں انھیں نجیب الدولہ

دکنی کی ایک شاہکار مثنوی : قصہ بے نظیر:حکیم رئیس فاطمہ

تلخیص دبستان بیجاپور کا ایک قادرالکلام شاعر صنعتی کی مثنوی ’قصہ بے نظیر‘‘ (1055ھ؍ 1645) دکنی کی ایک اہم مثنوی ہے۔ اسے پروفیسر عبدالقادر سروری نے 1357ھ میںمرتب کر کے

تعلیم اور سماج کے تعلق کو مضبوط بنانے میں نئی قومی تعلیمی پالیسی کا متوقع کردار: شفاعت احمد

انسان کی انفرادی و اجتماعی زندگی میں تعلیم کی غیر معمولی اہمیت ہے اور جغرافیائی و قومی تفریقوں سے پرے تمام دنیا  میں تعلیم کو انسان کی مادی ،ذہنی و