راحت اندوری: منفرد لہجے کا شاعر – مضمون نگار: محمد نوشاد عالم
اردوشعروادب اورخاص کر مشاعروں کی دنیا میں راحت اندوری کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ وہ اردو غزل کے مشہور و معروف شاعرہیں اورگذشتہ پچاس سالوں میں انھوں
اردوشعروادب اورخاص کر مشاعروں کی دنیا میں راحت اندوری کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ وہ اردو غزل کے مشہور و معروف شاعرہیں اورگذشتہ پچاس سالوں میں انھوں
محمدحسن معاصرین میں زبان وادب کا ممتاز شعور رکھتے تھے۔ وہ اردو ادب میں ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔ وہ ایک دانشور، بڑے ناقد، ادبی مورخ، ڈرامہ نگار،
10اکتوبر 2020 کی صبح موبائل کی گھنٹی بجی۔ غازی آباد سے ڈاکٹر ذکی طارق کا فون تھا۔ رابطہ قائم ہوتے ہی ایک دلدوز خبر نے ذہن اور دل دونوں
پچھلے مہینے جدید شاعری کے نہایت معتبر اور نمائندہ شاعر مظفرحنفی کا انتقال ہوگیا۔ انھوں نے اپنے جدید اسلوب اور لہجے کی آمیزش سے اپنی شاعری میں سماجی معنویت
مظفر حنفی بلند قامت تھے۔ اس میں دو رائے نہیں ہوسکتی۔ انھیں عزت ملی اور شہرت بھی ملی۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی سے کلکتہ یونیورسٹی تک انھوں نے سلوک
ملک گیر سطح پر اردو کے بڑے اور مقبول شاعر وں میں مظہر امام کانام آتاہے۔وہ ہر مذاق کے قاری کو اپنے شاعرلگتے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ
خود انحصاری کا تصور کوئی نیا منطقی نظریہ نہیں ہے جس سے ہم واقف نہ ہوں۔ ہم اپنی صلاحیتوں کو پہچان کر اس کے مطابق اپنی ضرورتوں کو پورا
جگرمرادآبادی (6 اپریل 1890 – 9 ستمبر 1960) جدید اردو شعرا میں ممتاز مقام رکھتے ہیں۔ ان کا اصل نام محمد علی سکندرتھا اور جگر تخلص کرتے تھے۔ جگرکی
جدید ہندی اور میتھلی ادب کی تاریخ میں جن تخلیق کاروں کو قدآوری حاصل ہے ان میں بابا ناگارجن کی امتیازی حیثیت ہے۔وہ ایک ہمہ گیر شخصیت کے مالک تھے۔
اردو ادب میں ڈرامے کے رجحان کا غلبہ دیگر اصناف کے مقابلے میں ا گرچہ زیادہ نہیں رہا ہے۔ تاہم اندر سبھا کے ڈراموں کی روایت واجد علی شاہ