ماہنامہ ’شب خون‘ کی چالیس سالہ ادبی خدمات مضمون نگار: اسلم مصباحی
اردو کی ادبی صحافت میں ’شب خون‘ کی حیثیت ایک رجحان ساز رسالے کی ہے۔ ’شب خون ‘کا پہلا شمارہ بابت ماہ جون، 18 مئی1966 کو منظر عام پر
اردو کی ادبی صحافت میں ’شب خون‘ کی حیثیت ایک رجحان ساز رسالے کی ہے۔ ’شب خون ‘کا پہلا شمارہ بابت ماہ جون، 18 مئی1966 کو منظر عام پر
مغربی ممالک میں ڈرامہ وہاں کی ادبی اور تہذیبی زندگی کا ایک اہم جز سمجھا جاتا ہے بلکہ یوروپ کے تمام ممالک میں اس فن کو ادبی و تہذیبی
انیسویں صدی کے شعری منظر نامے پر جو نام سب سے روشن و تابندہ ہے وہ شیخ محمد ابراہیم ذو ق (1789-1854) کا ہے۔ ذوق کی ابتدائی تعلیم حافظ
ہر عہد اپنے فکری رحجان، معاشرتی طرز زندگی، معاشی نظام، تہذیبی و ثقافتی خصوصیات، سیاسی تحریکات کے اثرات سے تشکیل پاتا ہے، انہی خصوصیات کی بنا پر و ہ
فراق گورکھپوری کا نام علم و ادب کے ان اکابر میں شامل ہے، جن کے خطوط سے ہم ان کی زندگی کے تمام پہلوؤں سے بخوبی واقف ہوسکتے ہیں۔فراق
عہد اکبری 963ہجری تا 1014ھ ق فارسی شعر و ادب و مثنوی سرائی کے لحاظ سے زریں عہد شمار کیا جاتا ہے۔ اکبربادشاہ نے اپنے اجداد کی طرح فارسی شعر
یہ بات ہم بحسن و خوبی جانتے ہیں کہ ’اردو زبان کا تعلق دنیا کے سب سے بڑے لسانی خاندان ’ہندیورپی خاندان ِالسنہ ‘ کی ’ہندایرانی شاخ‘ (Indic/Indo-Aryan) سے ہے،
آج مشر ق اور مغرب کو (ہر دو اطراف کے چاہنے یا نہ چاہنے کے باوجود) قربت نصیب ہوئی لیکن اپنی اپنی مخصوص زندہ روایات کے سبب خارج اور
ولی الرحمن شیدا یعنی شین مظفر پوری (1920-1996) ہر فن مولا شخص تھے۔وہ مصنف و مدیر اور شہرت یافتہ شاعر و ادیب تھے،انھوں نے ہر صنف پر طبع آزمائی
بیانیہ اصناف کی طرح شعری اصناف میںبھی کردار ہوتے ہیںمگر دونوں کے تقاضے الگ ہیں اور دونوں کے مطالعے کا طریقہ بھی الگ۔اس فرق کو سمجھنے کے لیے پہلے چند