مشرقی پنجاب میں اردو صحافت امتیازات و خصوصیات : مضمون نگار: یوسف رامپوری
’مشرقی پنجاب‘ سرزمینِ ہند کا وہ خطہ ہے جس نے اردو کے ارتقاوفروغ میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔اردو سے اس علاقے کا رشتہ شروع سے ہی رہا ہے ۔اسی
’مشرقی پنجاب‘ سرزمینِ ہند کا وہ خطہ ہے جس نے اردو کے ارتقاوفروغ میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔اردو سے اس علاقے کا رشتہ شروع سے ہی رہا ہے ۔اسی
میں پچھلے چالیس پینتالیس برسوں سے دہلی کی شعری اور ادبی زندگی کا مشاہدہ کررہاہوں۔ ایک طالب علم کے طور پراس شہرکے بڑے بڑے ادیبوں اور شاعروں کو قریب
بلراج مینرا کا شمار دورجدید کے اہم اور منفرد افسانہ نگاروں میں کیا جاتا ہے۔مینرا ادبی صحافت کی تاریخ میں بھی ایک ممتاز حیثیت کے حامل ہیں۔رسالہ’شعور‘کی ادارت نے
آزاد ہندوستان میں حیدرآباد کی ایک مخصوص شناخت ہے۔ دکن کا یہ تاریخی شہر اپنی گنگا جمنی تہذیب اور اردو کے ایک اہم مرکز کی حیثیت سے دنیا بھر
اردو ایک اہم زبان ہے اور ہندوستان کی درج فہرست قومی زبانوں میں سے ایک ہے۔ عربی اور فارسی سے اردو نے بہت استفادہ کیا ہے۔ یہی وجہ ہے
اردو شاعری کی بیشتر اصناف میں برسات کا بیان بخوبی ملتا ہے۔ بالخصوص چار بیت گو شعرا نے تو اسے بامِ عروج پر پہنچا دیا ہے۔ واضح ہو کہ
جدیدیت ادب کی ایک مسلمہ اصطلاح ہے۔ لیکن اس کے مضمرات، نقطۂ آغاز، صحیح مفہوم، سیاق و سباق اور نتائج کے متعلق اختلافات ہیں۔جدیدیت کے سلسلے میں سرسری گفتگو
سید شاہ سراج حسینی اورنگ آبادی کی تاریخ پیدائش 11مارچ 1712( 13 صفر 1124ھ) ہے۔بعض کے نزدیک ان کا سنہ پیدائش 1715بھی ہے۔ ان کی شاعری کا کل
ہندستان کے تہذیبی افق پر حبیب تنویر(1 ستمبر 1923 – 8 جون 2009) ایک ایسے روشن ستارے کی حیثیت رکھتے ہیں جس کی تابانی کا تمام تر دارومدار اس
جغرافیائی حالات، سماجی حالات اور سیاسی حالات میں جو تبدیلیاں نمایاں ہوتی ہیں۔ ان کا سیدھا اثر ہماری زندگی پر رونما ہوتا ہے اور اسی کے تحت ہماری زندگی