غالب، ہاکنگ، خدا اور کائنات مضمون نگار: سلیم محی الدین
غالب ہماری زبان اور شاعری کا تہذیبی محاورہ ہے۔ جو اردو جانتا ہے غالب کو جانتا ہے اور جو اردو نہیں جانتا وہ بھی غالب کو جانتا ہے۔ اردو
غالب ہماری زبان اور شاعری کا تہذیبی محاورہ ہے۔ جو اردو جانتا ہے غالب کو جانتا ہے اور جو اردو نہیں جانتا وہ بھی غالب کو جانتا ہے۔ اردو
اختر انصاری ترقی پسند تحریک سے مستقل طور پر وابستہ تو نہیں تھے، لیکن انھوں نے جس تسلسل و تواتُر کے ساتھ اس تحریک کے نظریات کو عام کرنے
اردو زبان کی تاریخ گواہ ہے کہ جہاں جہاں یہ زبان بولی اور سمجھی گئی۔ وہاں نہ صرف زبان کی سطح تک اس کا اثر پڑابلکہ گاؤں اور شہروں
’مشرقی پنجاب‘ سرزمینِ ہند کا وہ خطہ ہے جس نے اردو کے ارتقاوفروغ میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔اردو سے اس علاقے کا رشتہ شروع سے ہی رہا ہے ۔اسی
میں پچھلے چالیس پینتالیس برسوں سے دہلی کی شعری اور ادبی زندگی کا مشاہدہ کررہاہوں۔ ایک طالب علم کے طور پراس شہرکے بڑے بڑے ادیبوں اور شاعروں کو قریب
بلراج مینرا کا شمار دورجدید کے اہم اور منفرد افسانہ نگاروں میں کیا جاتا ہے۔مینرا ادبی صحافت کی تاریخ میں بھی ایک ممتاز حیثیت کے حامل ہیں۔رسالہ’شعور‘کی ادارت نے
آزاد ہندوستان میں حیدرآباد کی ایک مخصوص شناخت ہے۔ دکن کا یہ تاریخی شہر اپنی گنگا جمنی تہذیب اور اردو کے ایک اہم مرکز کی حیثیت سے دنیا بھر
اردو ایک اہم زبان ہے اور ہندوستان کی درج فہرست قومی زبانوں میں سے ایک ہے۔ عربی اور فارسی سے اردو نے بہت استفادہ کیا ہے۔ یہی وجہ ہے
اردو شاعری کی بیشتر اصناف میں برسات کا بیان بخوبی ملتا ہے۔ بالخصوص چار بیت گو شعرا نے تو اسے بامِ عروج پر پہنچا دیا ہے۔ واضح ہو کہ
جدیدیت ادب کی ایک مسلمہ اصطلاح ہے۔ لیکن اس کے مضمرات، نقطۂ آغاز، صحیح مفہوم، سیاق و سباق اور نتائج کے متعلق اختلافات ہیں۔جدیدیت کے سلسلے میں سرسری گفتگو