پروفیسر لطف الرحمن کا ادبی سرمایہ – مضمون نگار: مشتاق احمد وانی
محنت ولگن، ذوق وشوق، مطالعے ومشاہدے اور مشقِ سخن سے انسانی اذہان منوّر ہوتے ہیں۔علم وادب اور زبان وبیان سے گہری واقفیت انسان سے خون جگر مانگتی ہے۔اک عمر
محنت ولگن، ذوق وشوق، مطالعے ومشاہدے اور مشقِ سخن سے انسانی اذہان منوّر ہوتے ہیں۔علم وادب اور زبان وبیان سے گہری واقفیت انسان سے خون جگر مانگتی ہے۔اک عمر
مولانامحمد علی جوہر (1878-1931) کا شمار ہندوستان کی ان مایہ ناز اور نابغۂ روزگار ہستیوں میں کیا جاتا ہے، جنھوں نے ہندوستان میں آزادی، ذہنی فکر ی بیداری، ہندو
اردو میں مکتوبات نگاری کی روایت قدیم ہے۔ مکاتیب کے اولین مجموعے، انشائے خرد افروز، مکتوبات احمدی و محمد اور رقعاتِ عنایت علی ہیں۔ (سرسید اور ان کا عہد،
ادب کیا ہے؟ ہماری زندگی کا ترجمان ہے۔ انسانی جذبات واحساسات اور بلند خیالات کے فنی اظہار کا نام ہے۔ یہ فنی اظہار کسی ذاتِ واحد تک محدود نہیں
بچپن میں سب سے پہلی کتاب جس نے ذہن و دماغ پر گہرا اثر چھوڑا وہ ہے ریاست ِ بہار کی نصابی کتاب ’دارا ، داور ، روزی‘ اس
ڈراما انارکلی اور فلم مغلِ اعظم دونوں کاتانا بانا عشق کے روایتی قصے پر بنا گیا ہے، جس میں ایک ادب کی آغوش میں پناہ گزیں ہے تو دوسرا ہندی
خانوادۂ حالی کو بہت امتیاز حاصل ہے ۔ اس میں خواجہ الطاف حسین حالی علوم و فنون و ادب کے سورج تھے اور دیگر افراد خانہ جن میں خواجہ
قبل مسیح کی چھٹی اور پانچویں صدیاں اس اعتبار سے بے حد اہم ہیں کہ ان میں کئی فلسفوں اور مذہبوں کے بانیان پیدا ہوئے جنھوں نے دنیا کوروشن
غالب ہماری زبان اور شاعری کا تہذیبی محاورہ ہے۔ جو اردو جانتا ہے غالب کو جانتا ہے اور جو اردو نہیں جانتا وہ بھی غالب کو جانتا ہے۔ اردو
اختر انصاری ترقی پسند تحریک سے مستقل طور پر وابستہ تو نہیں تھے، لیکن انھوں نے جس تسلسل و تواتُر کے ساتھ اس تحریک کے نظریات کو عام کرنے