شکیل الرحمن کی گورونانک شناسی – مضمون نگار: ریحان حسن
پندرھویں صدی میں بابا گورو نانک دنیا میں وحدانیت کا نغمہ سنانے کے لیے آئے اور انھوں نے اپنے فرمودات اور پیغامات کے ذریعے خواب غفلت میں پڑے ہوئے
پندرھویں صدی میں بابا گورو نانک دنیا میں وحدانیت کا نغمہ سنانے کے لیے آئے اور انھوں نے اپنے فرمودات اور پیغامات کے ذریعے خواب غفلت میں پڑے ہوئے
تلخیص جامعہ ملیہ اسلامیہ کے بانیوں اور اکابرین میں شیخ الہند مولانا محمود حسن، محمد علی جوہر، حکیم اجمل خاں شیدا، عبدالمجید خواجہ شیدا کے نام اہمیت کے حامل
ولیم شیکسپیئر ((1564-1616 کے154 سانیٹوں کا شمار انگریزی کے سدا بہار منظوم ادب میں ہوتا ہے۔اور اس کے سانیٹس میںعشقیہ سانیٹس((Love Sonnets شاہکار قرار دیے جاتے ہیں۔اِن میں نمبر
صحافت ایک ایسا فن ہے جسے تجارت اور خدمت دونوں مقاصد کی حصولیابی کے لیے استعمال کیا گیا۔ کارزار صحافت میںقدم رکھنے والا ایک گروہ ان حضرات کا تھا
مثنوی ’سحرالبیان‘ کا سنہ تصنیف 1784-85 بمطابق 1199ھ ہے اور اس کا سنہ اشاعت1805/ 1230 ھ ہے۔اس کے مصنف میر غلام حسین ضاحک کے فرزندِارجمند میر غلام حسن ا
عہد حاضر کے ہم عصر افسانہ نگاروں میں موسیٰ مجروح کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے۔افسانوی ادب میں مجروح کی شناخت مقصد انگیز افسانہ نگار کے طور
شام مکمل طور پر رات میں تبدیل ہوچکی تھی یا ہوا چاہتی تھی،پتہ نہیں! ایسے ہی کسی لمحے میںموبائل کی گھنٹی بجی… میں نے لپک کے موبائل اُٹھایا۔رشید بشر
دیویندر ستیارتھی اردو ادب کی تاریخ کا ایک ایسا نام ہے جس کی شہرت کے ڈنکے بر صغیر (ہند و پاک) میں آزادی سے قبل اور اس کے بعد
مغربی اتر پردیش کے کئی تاریخی مقامات میں شامل ضلع بجنور کا ایک شہر نجیب آباد ہے۔نجیب آباد کو افغانی پٹھان نجیب خان نے1740میں بسایا تھا۔تاریخ میں انھیں نجیب الدولہ
اردو زبان و ادب کے فروغ میں مشاعروں کی بڑی اہمیت رہی ہے۔ مشاعروں نے اردو زبان کو عوام تک پہنچانے اور مقبول بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔