سید اکبر علی ترمذی کی غالب پسندی – مضمون نگار: صغیر افراہیم
ممتاز مؤرخ اور معروف آرکایولوجسٹ پروفیسر سید اکبرعلی ترمذی 8؍جون 1924 کو ایک مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ 1948 میں بمبئی یونیورسٹی سے فارسی، اردو اور انگریزی کے ساتھ
ممتاز مؤرخ اور معروف آرکایولوجسٹ پروفیسر سید اکبرعلی ترمذی 8؍جون 1924 کو ایک مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ 1948 میں بمبئی یونیورسٹی سے فارسی، اردو اور انگریزی کے ساتھ
لفظ اسلوب انگریزی زبان کے لفظ(Style) کا اردو مترادف ہے۔جس کے لیے یونانی میں(Stylus)، عربی اور جدید فارسی میں ’سبک‘، سنسکرت میں ’ریتی‘ اور ہندی میں ’شیلی‘ جیسے الفاظ
ڈاکٹرحنیف ترین کو بہت قریب سے مجھے دیکھنے اورسمجھنے کاموقع ملا۔ ان کے دل میں انسانیت کے لیے بہت جگہ تھی، وہ لوگوں کے درد پرتڑپ اٹھتے اور اس
ظفر احمد صدیقی کا شمارعہد حاضر کے اہم محققین اوردانش وروں میں ہوتا ہے۔ عربی، فارسی ادبیات اوراردو زبان وادب پر انھیں یکساں قدرت حاصل تھی۔عالم باعمل تھے، گفتگو
ہرخود نوشت سوانح حیات کی اپنی ایک خاص ہئیت ہوتی ہے۔ مصنف اپنی داستانِ حیات مخصوص ترتیب و تسلسل کے ساتھ خود نوشت میںمربوط انداز میں رقم کرنے کی
کسی بھی علمی و ادبی اشاعتی ادارے کے معیار اور وقار کا اندازہ اس کی مطبوعات سے بھی لگایا جاتا ہے۔ موضوعات کا انتخاب اس میں خاص اہمیت کا حامل
چھوڑو پرانے قصوں میں کچھ بھی دھرا نہیں آؤ تمھیں بتائیں کہ علوی نے کیا کیا محمد علوی کا یہ شعر ہی ان کے شعری رویے کی طرف اشارہ
حسرت جے پوری کا نام زبان پر آتے ہی ہندوستانی فلموں کے خوبصورت گیت کانوں میں گونجنے لگ جاتے ہیں۔فلمی دنیا کے پرانے گیتوں پر جب بھی گفتگو ہو تی
مخمور سعیدی کی شعری کائنات کا جائزہ پیش کرنے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ وہ کون سے محرکات تھے جن کی وجہ سے سلطان محمد خان مخمور
خط بے ریا تحریر اور منضبط دستاویزی حوالے کا نام ہے۔یہ ایک اضطراری تحریر ہے جو اہتمام سے بے نیاز ہوتی ہے۔خط مرسل کے دلی جذبات کا نمائندہ اور