تلخیص
جس دور میں محمدیوسف کمبل پوش نے انگلستان کا سفر کیا، اس دور کی خاصیت یہ تھی کہ عربی ہی نہیں، بلکہ فارسی اور اردو زبان میں ان ایشیائی زبانوں کے مشہور داستانوی سفرنامے ترجمہ کیے جاتے تھے، جن میں بطور خاص ’حاتم طائی کا سفرنامہ‘ اور ’سندبادجہازی کا سفرنامہ‘ جیسے اہم کارنامے اردو زبان میں منتقل ہوچکے تھے مگر محمدیوسف کمبل پوش کے سفرنامے سے اندازہ ہوتا ہے کہ انھوں نے اپنی سنجیدہ طبعی اور تجربہ کار ذہنیت سے استفادہ کرکے اس طبع زاد سفرنامے کی بنیاد رکھی۔ محمدیوسف کمبل پوش کی زندگی اور ان کے سفرنامے کو نمائندگی دینے کے لیے اس حوالے سے استفادہ کیا جارہا ہے، جن کا تعلق حیدرآباد کی سرزمین سے تھا اوران کا سفرنامہ’عجائبات فرنگ‘ کی تحریر کا زمانہ 1837 قرار دیا جاتا ہے اور اس سفرنامے کو سب سے پہلے لکھنؤ کے مشہور اردو کے پبلشر مطبع نول کشور سے شائع کیا گیا۔ اردو کے تاریخی پس منظر میں ’عجائبات فرنگ‘ کو سب سے پہلے سفرنامے کی حیثیت سے شہرت کا حامل قرار دیا جاتا ہے۔
کلیدی الفاظ
عجائبات فرنگ، یوسف کمبل پوش، انگلستان، نول کشور، انسائیکلوپیڈیا، تاریخ یوسفی، آپ بیتی، غیرافسانوی نثر، اصناف نثر، داستانوی سفر، بیانیہ نثر، دیومالائی، سرگزشت۔
————
تاریخی پس منظر میں یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ سب سے پہلے مضمون جیسے موضوع کو غیرافسانوی نثر کی حیثیت سے شہرت حاصل ہوئی، جس کے بعد دوسری غیرافسانوی صنف نثر کی حیثیت سے سفرنامے کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ دہلی کالج کے مصنف کی حیثیت سے ماسٹررام چندر نے مضمون نگاری کی بنیاد رکھی، جبکہ محمدیوسف کمبل پوش نے اپنا مشہور زمانہ سفرنامہ ’عجائبات فرنگ‘ پیش کرکے اردو میں اس صنف کی نمائندگی کی ہے۔ اس دور تک سفرنامہ اور اس کی فنی خصوصیات کا تعین نہیں ہوا تھا، اردو کے بیشتر محققین نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ انگریزی ادب کے بے شمار نثری رویوں میں سفرنامہ بھی اردو میں شامل ہوا، جیسا کہ ناول اور افسانہ جیسی افسانوی اصناف بھی انگریزی سے اردو میں منتقل ہوئیں، لیکن اس قسم کا نتیجہ اخذ کرنا مناسب نہیں ہے۔ محمدیوسف کمبل پوش نے اگرچہ انگلستان کا سفر کیا تھا جو انگریز قوم کا مرکز قرار دیا جاتا تھا، جسے تاج برطانیہ کی وجہ سے شہرت حاصل تھی، لیکن کوئی ایسا ثبوت نہیں ملتا کہ جس کی وجہ سے کمبل پوش کو انگریزی زبان میں سفرنامہ پڑھنے کی سہولت حاصل ہوئی ہو، جس دور میں محمدیوسف کمبل پوش نے انگلستان کا سفر کیا، اس دور کی خاصیت یہ تھی کہ عربی ہی نہیں، بلکہ فارسی اور اردو زبان میں ان ایشیائی زبانوں کے مشہور داستانوی سفرنامے ترجمہ کیے جاتے تھے، جن میں بطور خاص ’حاتم طائی کا سفرنامہ‘ اور ’سندبادجہازی کا سفرنامہ‘ جیسے اہم کارنامے اردو زبان میں منتقل ہوچکے تھے۔ چنانچہ محمد یوسف کمبل پوش کے سفرنامے کو انگریزی ادب کے سفرنامے سے استفادہ کرکے تحریرکرنے کی دلیل کو بطور ثبوت پیش نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ اردو زبان میں داستانوی سفرناموں کی طویل روایت موجود تھی۔ صرف داستانیں لکھنے کے دوران ہی کئی ممالک کے سفر کے حالات اور خیالی ہی نہیں، بلکہ قیاسی دنیاؤں کی سیر کے مختلف تجربوں کو اردو داستانوں میں بیان کیا جاتا رہا ہے، جس سے ثبوت ملتا ہے کہ اردو میں سفرنامہ نگاری کی روایت کا آغاز انگریزی سفرنامے یعنی Travelogue کے توسط سے نہیں ہوا، بلکہ محمدیوسف کمبل پوش کے سفرنامے سے اندازہ ہوتا ہے کہ انھوں نے اپنی سنجیدہ طبعی اور تجربہ کار ذہنیت سے استفادہ کرکے اس طبع زاد سفرنامے کی بنیاد رکھی۔ اس اعتبار سے اردو میں سفرنامے کی صنف کا آغاز بلاشبہ کسی دوسری زبان کی صنف سے استفادے کی دلیل نہیں، بلکہ اردو کی اپنی منفرد صنف نثر کی حیثیت سے سفرنامے کی خصوصیت کو پیش نظر رکھا جانا چاہیے۔ درحقیقت محمدیوسف کمبل پوش کی زندگی اور ان کے سفرنامے کو نمائندگی دینے کے لیے اس حوالے سے استفادہ کیا جارہا ہے، جن کا تعلق حیدرآباد کی سرزمین سے تھا اوران کا سفرنامہ’عجائبات فرنگ‘ کی تحریر کا زمانہ 1837 قرار دیا جاتا ہے اور اس سفرنامے کو سب سے پہلے لکھنؤ کے مشہور اردو کے پبلشر مطبع نول کشور سے شائع کیا گیا۔ اردو کے تاریخی پس منظر میں ’عجائبات فرنگ‘ کو سب سے پہلے سفرنامے کی حیثیت سے شہرت کا حامل قرار دیا جاتا ہے۔ یوسف کمبل پوش کی زندگی اور ان کے سفرنامے کا مختصر تجزیہ انسائیکلو پیڈیا کے حوالے سے پیش کیا جارہا ہے:
’’کمبل پوش ، مرزا یوسف (م، 1847) : حیدرآباد کے رہنے والے تھے۔ سیاحت کا شوق تھا، اس لیے 1828 میں حیدرآباد سے نکلے اور ہندوستان کے اکثر شہروں کا سفر کرتے ہوئے نصیرالدین حیدر کے دور میں لکھنؤ پہنچے جہاں فوج میں وہ پہلے جمعدار اور پھر صوبہ دار مقرر ہوئے۔ یوسف خاں نے یہاں انگریزی سیکھی اور 1837 میں انگلستان کے لیے چل پڑے۔ دوران سفر یوروپ کے اکثر مقامات کی سیاحت کی۔ ہندوستان واپس آکر ’عجائبات فرنگ‘ کے نام سے اپنا سفر نامہ لکھا۔ یہ اردو زبان میں پہلا سفرنامہ ہے جو یوروپ کی سماجی زندگی کا عکا س ہے۔ زبان میں قدرے پراناپن ہے۔ عبارت آرائی اور قافیہ پیمائی بھی ہے لیکن سفرنامہ اس انداز سے لکھا گیا کہ شروع سے آخر تک دلچسپی برقرار رہتی ہے۔‘‘
(جامع اردو انسائیکلو پیڈیا 1، ادبیات ، از : قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی، مطبوعہ 2003،ص440)
انسائیکلوپیڈیا کے مرتبین نے مختصر انداز میں محمد یوسف کمبل پوش اور ان کے حیدرآباد سے دہلی تک سفر اور پھر انگلستان کے دورہ کا احاطہ کرتے ہوئے ان کی نثر کی چند خصوصیات کو بھی پیش کردیا ہے، جس سے غیرافسانوی نثر کی چند خصوصیات کی بھی نمائندگی ہوتی ہے، چونکہ انھوں نے سفرنامہ لکھا، اس دور تک غیرافسانوی نثر کے بجائے افسانوی نثر یعنی داستان نویسی کا چلن عام تھا، جس کے ذریعے بیانیہ خصوصیات کو پیش نظر رکھاجاتا تھا، جبکہ غیرافسانوی نثر یعنی سفرنامہ نگاری میں بیانیہ کے بجائے وضاحت کا انداز کارفرما ہوتا ہے، البتہ یہ حقیقت بھی واضح کی گئی ہے کہ غیرافسانوی نثر کے اولین نمونے کے طور پر یہ سفرنامہ اور اس کا طرزعبارت آرائی اور قافیہ پیمائی سے وابستہ استدلال کیا جارہا ہے۔ اٹھارہویں صدی سے لے کر انیسویں صدی کے آغاز تک بھی اردو نثر میں مسجع اور مقفی عبارت کا چلن عام تھا اور قافیہ پیمائی کو صرف شاعری ہی نہیں، بلکہ نثر کے لیے بھی ضروری تصور کیا جاتا تھا۔ دہلی اور لکھنؤ میں پیش کی جانے والی اہم داستانوں میں میرامن دہلوی کی ’باغ و بہار‘ اور لکھنؤ کے مرزارجب علی بیگ سرور کی داستان ’فسانۂ عجائب‘ کے توسط سے بھی قافیہ پیمائی کی روایت ملتی ہے۔ غرض افسانوی نثر کی یہ خصوصیت مرزا یوسف کمبل پوش کے سفرنامے میں بھی موجود ہے۔ تاہم ان کے سفرنامے کا جامع تعارف انسائیکلو پیڈیا کے ذریعے مکمل نہ ہوسکا، بلکہ دہلی میں اردو کے پروفیسر کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والے پروفیسر محمود نے اپنے تحقیقی مقالے کے ذریعے سفرنامے کی تاریخ اور یوسف کمبل پوش کے سفرنامے کے اہم امکانات کو اس طرح ظاہرکیا ہے:
’’اکرام چغتائی نے اپنے مضمون کی تیسری قسط مطبوعہ ’نوائے وقت‘ راولپنڈی مورخہ 28؍فروری 1984 میں ایشیاٹک سوسائٹی بنگال، کلکتہ کے فارسی مخطوطات کی فہرست مرتبہ : ایوانوف (مطبوعہ کلکتہ 1928، ص 124 تا 125نمبر شمار 289) کے حوالے سے بات کرتے ہوئے سفرنامہ ’تاریخ یوسفی‘ از یوسف خان کمبل پوش کے اصل فارسی متن کی طرف توجہ دلائی ہے۔ مذکورہ فہرست کے مطابق اس سفرنامے کا اصل فارسی متن ایشیاٹک سوسائٹی کلکتہ کے کتب خانے میں محفوظ ہے اور فارسی متن پر مصنف کا نام ’یوسف خان گلیم پوش‘ رقم ہے۔
محولہ بالافہرست کے مطابق اس سفرنامے کے فارسی متن کی ترتیب کا سال 1259ھ بمطابق 1843ء قرار پاتا ہے۔ جبکہ یہ تحریر وکٹوریہ اول کے نام معنون کی گئی۔ اس قلمی مخطوطے کے کل اوراق 235 ہیں اور فی صفحہ گیارہ سطریں ہیں۔
ہندوستانی خط نستعلیق میں یہ نسخہ معمولی قسم کے نقش و نگار سے مزئین ہے۔
محولا بالا مضمون میں اکرم چغتائی لکھتے ہیں:
’’1847ء میں جب یہ سفر نامہ پہلی بار دہلی کالج کے پریس میں مطبع العلوم سے طبع ہوتا ہے تو اس کا عنوان ’سیر و سفر‘ قائم کیا جاتا ہے‘‘
جبکہ درحقیقت ایسا نہیں ہے۔مطبع العلوم مدرسہ دہلی سے شائع ہونے والا اولین اردو متن ’تاریخ یوسفی‘ کے نام سے ہی سامنے آیا۔
ماسٹر رام چندر نے ’فوائد الناظرین‘ (اگست 1948) اور’محب ہند‘ (1849-50) نامی دور سالوں میں اس سفرنامے کے اقتباسات بعنوان ’حال سفر یوسف خان کمبل پوش کا ملک انگلستان میں‘ محض قارئین کی سہولت کے پیش نظر شائع کیے جبکہ گارساں دتاسی کے خطبات میں ہندوستان سے شائع ہونے والی بیشتر کتب کا جائزہ عموماً سرسری نوعیت کا ہی رہا ہے۔ بیشتر کتب کے سال تصنیف یا طباعت سے متعلق گارساں و تاسی کی فراہم کردہ معلومات گمراہ کن ہیں۔
گارساں دتاسی (De tassy, joseph Heliodore Sagesse Vertu Garcin پورا نام) کی ہندوستانی کتب سے متعلق معلومات کا تمام تر انحصار ان خطوط پر تھا جو وقتاً فوقتاً ہندوستان سے لکھے جاتے رہے۔ خودگارساں دتاسی نے زندگی بھر ہندوستان کی سرزمین پر قدم نہیں رکھا۔ یوں دتاسی کے پانچویں خطبے (4دسمبر1854) اور چھٹے خطبے (2دسمبر 1855) کو تاریخ یوسفی کے سلسلے میں اہم مصادر کی حیثیت نہیں مل سکتی۔ جبکہ دتاسی نے اپنے پانچویں خطبے میں محض ناقص معلومات کے سبب ’تاریخ یوسفی‘ کو ’سفرنامہ یوسف خان لکھنوی‘ اور چھٹے خطبے میں ’سفرنامہ یورپ‘ لکھا ہے۔ کچھ یہی سبب ہے کہ اس سفرنامے کے اصل اردو متن کا معاملہ تاحال کھٹائی میں پڑا ہوا ہے۔
حقیقت حال یہ ہے کہ یوسف خان کمبل پوش حیدرآبادی کا یہ سفر نامہ پہلی بار ’’تاریخ یوسفی‘‘ کے نام سے پنڈت دھرم نرائن کے زیراہتمام مطبع العلوم مدرسہ دہلی سے شائع ہوا تھا۔ ’تاریخ یوسفی‘ کاسنہ طباعت 1263ھ مطابق 1847 ہے۔ کتاب کے سرورق پر کتاب کا نام :
’’تاریخ یوسفی (سفر نامہ انگلستان یوسف خان کمبل پوش)‘‘ اور مصنف کا نام۔ ’یوسف خان کمبل پوش حیدرآبادی‘ درج ہے۔
تاریخ یوسفی 297 صفحات پر مشتمل کتاب ہے جس میں عام طور پر صحب کتابت کا خیال رکھا گیا ہے البتہ املا میں یاے معروف و مجہول کا لحاظ نہیں کیا گیا۔ کتاب میں پرانی ترکیبیں جابجا ملتی ہیں۔
منشی نول کشور نے 1873 میں اس سفرنامے کا نام ’تاریخ یوسفی‘ سے تبدیل کرکے ’عجائبات فرنگ‘ کردیا اور مصنف کے نام کا ایک حصہ حذف کرکے صرف ’یوسف خان کمبل پوش‘ رہنے دیا۔ یہی صورت 1898 کے نول کشوری ایڈیشن میں بھی برقرار رکھی گئی۔
نول کشور لکھنؤ جیسے نامی ادارے نے اصل متن کاچہرہ بگاڑنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔ ذیل میں اصل متن مطبوعہ ’مطبع العلوم مدرسہ دہلی‘ 1847 سے تحسین فراقی اور مظفرعباس کے متن کا فرق ملاحظہ ہو:
’عجائبات فرنگ‘ مرتبہ تحسین فراقی، مظفر عباس۔
تحقیق کی بنیاد : نول کشوری ایڈیشن 1873، 1898۔‘‘
(اردو سفرنامے کی مختصر تاریخ : مرزا حامدبیگ، مطبوعہ اورینٹ پبلشرز، لاہور، 2014، ص45 تا 47)
عجائبات فرنگ جیسے سفرنامے کی حقیقت اور اس کے مختلف ادوار میں مختلف ناموں سے شائع ہونے کا جائزہ خود یہ بتاتا ہے کہ اس سفرنامے کی اشاعت مختلف ادوار میں مختلف ناموں سے ہوتی رہی۔ اس کے باوجود بھی اردو کے تمام محققین اور ناقدین اس حقیقت کا انکشاف کرتے ہیں کہ اس کا وجود افسانوی نثر کی اصناف سے نہیں، بلکہ غیرافسانوی نثر سے قائم ہوتا ہے، کیونکہ اردو زبان میں سفرنامہ لکھنے کے لیے بھی افسانوی بیانیہ کا استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حقیقی سفرنامے کو ادبی حیثیت سے فروغ حاصل ہونے سے قبل داستانوی سفرنامے کا سلسلہ بڑا طویل ہے۔ غرض یہ حقیقت مان لی جاچکی ہے کہ محمد یوسف کمبل پوش اردو کے پہلے غیرافسانوی نثری صنف یعنی سفرنامے کی روایت کو فروغ دینے والے اہم قلمکار قرار دیے جاتے ہیں۔ ان کے سفرنامے کا نثری انداز اور اظہار کی کیفیت کو بیانیہ کے بجائے وضاحت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ افسانوی نثر یعنی Fiction میں بیانیہ یا Narration کا طریقہ کارفرما ہوتا ہے، اس کے بجائے غیرافسانوی نثر Non Fiction کے دوران بیانیہ کے بجائے وضاحت یعنی Description کا انداز کارفرما ہوتا ہے۔ محمدیوسف کمبل پوش کے سفرنامے کے ذریعے اس تجزیے کی ضرورت ہے کہ انھوں نے اس نئی صنف نثر کو اختیار کیا تو اس میں اپنے اظہار کو اس انداز سے وضاحت سے وابستہ کیا ہے، جبکہ اس سفرنامے کے اسلوب کو عبارت آرائی اور قافیہ پیمائی کی حیثیت سے شناخت دی گئی ہے۔ چنانچہ کمبل پوش کے سفرنامے کے طرز تحریر کو پیش کرکے ان حقائق کی نشاندہی کی جائے گی، جس کے ذریعے اس سفرنامے کے اسلوب اور اس کے طریقے کی نشاندہی کی جاسکے۔ چنانچہ ’عجائبات فرنگ‘ سے اقتباس پیش ہے:
’’یہ فقیر ہیچ سن اٹھارہ سو اٹھائیس (1828 مطابق سن بارہ سو چوالیس ہجری کے حیدرآباد وطن خاص اپنے کو چھوڑکر عظیم آباد، ڈھاکہ، مچھلی بندر’ مندراج، گورکپور، اکبرآباد، شاہجہاں آباد وغیرہ دیکھتا ہوا بیت السلطنت لکھنؤ میں پہنچا۔ یہاں بہ مددگاری نصیبے اور یادری کپتان ممتازخاں مینکنس صاحب بہادر کی ملازمت نصیرالدین حیدر بادشاہ سے عزت پانے والا ہوا۔ شاہ سلیمان جاہ نے ایسی عنایت اور خاوندی میرے حال پر اختلال پر مبذول فرمائی کہ ہرگز نہیں تاب بیان اور یارائے گویائی۔ رسالہء خاص سلیمانی میں عہدہ جماعہ دار کا دیا۔ بعد چند روز کے صوبہ داری اسی رسالہ کی دے کر دربارہٹ ٹھہرایا۔ بندہ چین سے زندگی بسر کرتا اور شکرانہ منعم حقیقی کا بجالاتا۔ ناگہاں شوق تحصیل علم انگریزی کا دامنگیر ہوا۔ بہت محنت کرکے تھوڑے دنوں میں اسے حاصل کیا۔ بعد اس کے بیشتر کتابوں تواریخ کی سیر کرتا دیکھنے حال شہروں اور راہ و رسم ملکوں سے محظوظ ہوتا۔ اکبارگی سن اٹھارہ سو چھتیس عیسوی میں دل میرا طلب گار سیاحئی جہان خصوص ملک انگلستان کا ہوا۔ شاہ سلیمان جاہ سے اظہار کرکے رخصت دو برس کی مانگی۔ شاہ گردوں بارگاہ نے بصدعنایت و انعام اجازت دی۔ عاجز تسلیمات بجالایا اور راہی منزل مقصود کا ہوا۔ تھوڑے دنوں بعد دارالامارۃ کلکتہ پہنچا۔ پانچ چھ مہینے وہاں کی سیر کرتا رہا۔ بعدازاں جمعرات کے دن تیسویں تاریخ مارچ کے مہینے سن اٹھارہ سو سینتیں عیسوی میں جہاز پر سوار ہوکر بیت السلطنت انگلستان کو چلا۔ نام جہاز کاازابیلہ، کپتان اس کا نام ڈبیڈبراں صاحب مع اپنی بی بی کے تھا۔ جہازوزن میں چھ سو ٹن کا کنارے گنگا پر آلگا تھا۔ یہاں سے دریائے شور پہنچنے تک اس کی اعانت کو دھوئیں کا جہاز مقرر ہوا۔ تھوڑے دنوں میں اپنے زور سے ہمارے جہاز ارابیلہ کو گنگا سے کھینچ کر سمندر میں لے گیا۔ وہاں سے جہاز ہمارا چل نکلا۔ دونوں طرف گنگا کے کنارے سبزہء آبدار لہلہارہا تھا۔ جابجا مکان صاحبان انگریز کا بنا ہوا نادر اور زیبا جہاز رواں پر عجب سماں تھا۔ بیان میں نہیں سماتا۔ اس سبزے کو دیکھ کر دل میرا ملول ہواکہ دیکھیے پھر کبھی یہاں آنا ہو یا نہیں۔ جمعہ کے دن اکتیسویں تاریخ مارچ کے کھجڑے میں پہنچ کر جہاز ٹھہرا۔ جب آدھی رات کا وقت ہوا طوفان شدید آیا۔ سبھوں کا دل گھبرایا اور جہاز ڈگمگایا مگر قدرت الٰہی سے زنجیر لنگر کی نہ ٹوٹی۔ روح کسی ذی حیات کے قفس بدنسے نہ چھوٹی۔ مصرع
رسیدہ بود بلائے و لے بخیر گزشت
(عجائبات فرنگ، مرتب : تحسین فراقی ، مطبوعہ مکہ بکس ، لاہور، 1983، ص 98 تا99)
عام طور پر سفرنامہ نگاری کے دوران وضاحت کی روایت کا لحاظ رکھا جاتا ہے۔ تاہم وضاحت کے سلسلے میں ہر ادیب کو اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنے انداز کو مزاج کے مطابقت کے تحت نمائندگی دے۔ محمدیوسف کمبل پوش کے سفرنامے کے اس اقتباس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ انھوں نے ’عجائبات فرنگ‘ کے آغاز کے سلسلے میں سفرنامے کی روایت کو باضابطہ آپ بیتی کے انداز سے شروع کیا ہے۔اگرچہ سفرنامہ کسی اعتبار سے بھی آپ بیتی نہیں قرار دیا جاسکتا۔ آپ بیتی کو بھی غیرافسانوی نثر کی ایک اہم صنف کا مرتبہ حاصل ہے۔ اس کے توسط سے کوئی بھی شاعر یا ادیب ہی نہیں، بلکہ فلسفی، محقق یا پھر نقاد کے علاوہ عام انسان بھی اپنی زندگی کے واقعات کو بیان کرنے کا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ محمدیوسف کمبل پوش نے عجائبات فرنگ کے توسط سے ابتدائی طور پر سفرنامے کی روایت کو آپ بیتی سے مربوط رکھا ہے۔ اس طرح سفرنامہ غیرافسانوی نثر کی ایک اہم صنف ہے، اسی طرح آپ بیتی کو ہی غیرافسانوی نثر کا موقف حاصل ہوتا ہے۔ خودنوشت سوانح کا انداز بھی سفرنامے کی دلیل بنتا ہے۔ چونکہ محمدیوسف کمبل پوش کی تحریر کردہ کتاب ’عجائبات فرنگ‘ کو اردو میں سفرنامے کی ابتدائی شکل کا درجہ دیا جاتا ہے، اس لیے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ مصنف نے اپنے اسلوب کو غیرافسانوی نثر کے کئی انداز سے مربوط رکھا ہے۔ اس سفرنامے کے دوران کسی مرحلے پر تذکرہ نویسی کا انداز غالب ہوتا ہے اور کہیں یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ انشائیہ اور خودنوشت کی خصوصیت کو بھی بروئے کار لایا گیا ہے۔ اقتباس کے مطالعے کے بعد یہ اندازہ ہوتا ہے کہ عجائبات فرنگ کا ابتدائی حصہ ’آپ بیتی‘ کی روش کی نمائندگی کرتا ہے۔ چنانچہ فنی اعتبار سے آپ بیتی کی خصوصیت کو واضح کیا جائے تو اندازہ ہوگا کہ عجائبات فرنگ کے توسط سے محمد یوسف کمبل پوش نے اس سفرنامے کو ابتدائی طور پر آپ بیتی کی روش سے وابستہ کیا ہے، چنانچہ آپ بیتی کی فنی خصوصیت کا تجزیہ کرنے سے اس کی حقیقت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے اور فیصلہ کرنے میں آسانی ہوتی ہے کہ جس دلیل کو پیش کیا گیا ہے، اس کی صداقت کو بھرپور نمائندگی دی جائے:
’’نثر کا ایک ایسا انداز جس میں کسی انسان پر کسی مخصوص وقت پر گذرے ہوئے حالات کا ذکر کرنا ’آپ بیتی‘ کہلاتا ہے۔ اردو میں مروج لفظ آپ بیتی مرکب ترکیب کی نمائندگی کرتا ہے۔ اردو کی بیشتر اصناف شاعری اورنثر مفرد طرز کی نمائندہ ہیں اور بیشتر اصناف عربی یا فارسی زبانوں سے ماخوذ ہیں۔ اس کے علاوہ انگریزی زبان سے اردو میں مروج ہونے والی شعری اور نثری اصناف بھی مفرد انداز کی نمائندگی کرتی ہیں جبکہ ’آپ بیتی‘ جیسی صنف کا تعلق مرکب لفظ سے ہے۔ یہ ترکیب دوہندی الفاظ آپ اور بیتی کے اشتراک سے وجود میں آئی ہے۔ آپ بیتی ایک ایسی صنف نثر ہے جو وہ الفاظ کے اشتراک سے وجود میں آئی ہے۔ انگریزی میں آپ بیتی کے لیے the Story of ones own suffering کا استعمال خود ثابت کرتا ہے کہ خود نوشت سوانح اور آپ بیتی میں بہت بڑا فرق ہے۔ آپ بیتی موقتی حالات پر مبنی ہوتی ہے۔
ہندی سے مرکب اصطلاح :
’’اردو میں استعمال ہونے والی بیشتر اصناف کا تعلق عربی اور فارسی کے علاوہ انگریزی سے قائم ہے، لیکن آ پ بیتی خالص ہندی ترکیب کی وجہ سے اہمیت رکھتی ہے۔ اس مرکب اصطلاح میں انسان کی ان کیفیتوں کا اظہار ہوتا ہے جو درحقیقت موقعتی طور پر اس کی زندگی پر اثرانداز ہوتی ہیں۔ عام طور پر یہ تاثر موجود ہے کہ دو اصناف جو نثر سے متعلق ہیں، یعنی آپ بیتی جیسی صنف اور خودنوشت سوانح میں کوئی فرق نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ خود نوشت سوانح کسی انسان کی زندگی کی ابتدا سے ضبط تحریر میں لانے تک کے مختلف رویوں کی نمائندگی کرتی ہے، جس میں ایک انسان اپنی زندگی کے حالات اپنی پیدائش سے لے کر حین حیات تک تفصیل کے ساتھ تحریر کرتا ہے۔ اس کے مقابل آپ بیتی ایک ایسی مختصر صنف نثر ہیں، جس میں زندگی کے چند گذرے ہوئے حالات یا پھر کوئی انہونے سانحہ کو پیش کرکے اس صنف کی نمائندگی کی جاتی ہے۔ آپ بیتی مکمل طور پر کسی انسانی زندگی کی پیدائش سے لے کر اس کی حیات تک کے واقعات پر مبنی نہیں ہوتی، بلکہ کسی ایک موقع یا مرحلہ کے لیے انسان پر جس انداز کے سانحات گزرتے ہیں، ان کو بیان کردینے کا عمل ہی آپ بیتی کہلاتا ہے۔ صنفی اعتبار سے آپ بیتی مکمل حیات کی نشاندہی نہیں کرتی اور نہ ہی اس میں کسی انسان کی پیدائش اور اس کی زندگی کے مختلف واقعات کی نمائندگی ممکن ہے بلکہ اگر کسی انسان کو کچھ وقت کے لیے قید میں رکھا جائے یا اسے چند مہینوں یا چند سالوں کے لیے جیل کی صعوبتیں برداشت کرنی پڑیں یا پھر غیریقینی حالات کے دوران کسی شریف انسان کو وقتی طور پر حبس بے جا کی سزا دی جائے تو ایسے وقت اس پر گزرنے والے واقعات اور سانحات کو وہ تحریر میں لائے تو اس قسم کی تحریریں ’آپ بیتی‘ کی نشاندہی کرتی ہیں۔
(اردو کی شعری و نثری اصناف : پروفیسر مجیدبیدار، مطبوعہ لولو پرنٹس اینڈ گرافکس، 2014، ص 217 تا 218)
اردو کی نثری اصناف میں فن اور تکنیک کی طرف توجہ نہ دینے کا نتیجہ یہ ہوا کہ بیشتر خودنوشت سوانح کو بھی آپ بیتی کی حیثیت سے شہرت حاصل ہوئی اور آپ بیتی کو بالکلیہ نظرانداز کیا گیا۔ موجودہ دور میں نثری اصناف کی درجہ بندی ہوچکی ہے۔ اس اعتبار سے اپنے آپ پر طویل عرصے یا مختصر عرصے کے دوران گزرنے والے حالات یا حادثات کے علاوہ واقعات کو کسی تاریخی پس منظر کے بغیر واضح کیا جائے تو اس کے توسط سے عہد اور واقعات کے تسلسل کو مخصوص انداز سے وابستہ کیا جائے تو اس کا رویہ آپ بیتی کہلاتا ہے۔ محمدیوسف کمبل پوش کی تحریر کردہ کتاب ’عجائبات فرنگ‘ کے ابتدائی حصے سے واضح ہوتا ہے کہ انھوں نے اس سفرنامے کی بنیاد درحقیقت آپ بیتی کے طرز پر کی ہے، چنانچہ پانی کے جہاز پر سوار ہونے کے بعد درپیش مسائل کو نمائندگی دیتے ہوئے سفرنامے کی خصوصیت کو آپ بیتی سے مربوط کیا ہے۔ کوئی ایسی اصول کی پابندی نہیں کہ سفرنامے میں کسی دوسری صنف کو شامل نہ کیا جائے، ہر مصنف کو اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنے تحریر کے اظہاری رویے کو دلچسپ اور قابل قبول بنائے، جس کے لیے وہ جس طرز کا چاہے صنفی رویہ اختیار کیا کرسکتا ہے، چنانچہ سفرنامہ نگاری کے دوران محمدیوسف کمبل پوش نے باضابطہ سفر کے آغاز کو پیش کرنے کے لیے آ پ بیتی کے طرز کو اہمیت دی ہے۔ سفرنامے میں دوسری غیرافسانوی اصناف کی شرکت بھی ممکن ہے۔ چنانچہ آپ بیتی کے دوران دوسری نثری اصناف کے تجزیے سے پتہ چلتا ہے کہ کسی بھی ایک غیرافسانوی نثر کو نمائندگی دینے کے لیے دوسری غیرافسانوی اصناف کا سہارا لیا جاسکتا ہے۔ اسی حقیقت کو پیش نظر رکھتے ہوئے محمدیوسف کمبل پوش نے اپنے سفرنامے ’عجائبات فرنگ‘ میں آپ بیتی کی خصوصیت کو پیش نظر رکھا ہے۔ آپ بیتی کے ساتھ دوسری نثری اصناف کی ہم آہنگی کو پیش کرنے کے لیے چند اہم غیرافسانوی اصناف سے تقابل اہمیت کاحامل ہے ،چنانچہ غیرافسانوی اصناف نثر سے آپ بیتی کے ربط و ضبط کو پیش کیا جارہا ہے۔
آپ بیتی اور دیگر نثری اصناف :
’’اردو نثر کی غیرافسانوی صنف کی حیثیت سے آپ بیتی میں گزرے ہوئے واقعات کا بیان ہوتا ہے۔ اس بیان میں جس حد تک شگفتگی اور بے ساختگی کو شامل کیا جائے گا اس کی حیثیت منفرد نوعیت کی ہوجائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ صاحب اسلوب افراد کی تحریر میں جب متاثر کرنے کا حسن شامل ہوتا ہے تو ان کی لکھی ہوئی آپ بیتیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ فنی اعتبار سے سوانح، خودنوشت سوانح اور آپ بیتی کا نفس مضمون ایک ہی انداز کا ہے۔ یعنی سوانح عمری جو کسی دوسری شخصیت کے حالات پر مبنی خیالات کی پیشکش کا طریقہ ہے جبکہ خودنوشت سوانح میں انسان خود اپنے حالات از ابتدا تاحال پیش کرنے کی کامیاب کوشش کرتا ہے۔ اس اعتبار سے سوانح اور خودنوشت میں موجود انتہائی اہم فرق کو سمجھنا ضروری ہے۔ خودنوشت اورآپ بیتی میں موجود مختصر یہ فرق ہے، خودنوشت سوانح فن کے اعتبار کسی شخصیت کے ذاتی واقعات کی تفصیل کی نمائندہ ہے جبکہ آپ بیتی میں اختصار کی خصوصیت جلوہ گر ہوتی ہے۔ خودنوشت سوانح کسی صاحب شخصیت کی زندگی کے حالات پیدائش سے لے کر اس کے وجود تک کے مختلف رویوں کی غماز ہے جبکہ آپ بیتی صرف اور صرف صاحب شخصیت پر طاری ہونے والی غیریقینی حالات کی نشاندہی کرتی ہے۔ اس طرح سوانح، خودنوشت اور آپ بیتی میں موجود فرق کو آسانی سے محسوس کیا جاسکتا ہے۔ عام طور پر ادبی اصناف کی نمائندگی کے دوران اس فرق کے دوران کوئی خط فاصل نہیں کھینچا گیا۔ جس کی وجہ سے اصناف کی درجہ بندی میں اعتدال کی راہ نمایاں نہیں ہوسکتی۔
فنی حقیقت: آ پ بیتی کی فنی بنیاد یہی ہے کہ آپ بیتی نویس فنی چابکدستی اور خود پر گذرنے والے واقعات کی حقیقت پر نظر رکھتا ہے کیونکہ کامیاب آپ بیتی اسی وقت لکھی جاسکتی ہے جبکہ اس کو لکھنے والا مبالغہ سے پرہیز اور غیرحقیقی واقعات سے گریز برتنے کا طریقہ اختیار کرے۔ بعض اوقات اپنے حالات میں شدت اور اثر پیدا کرنے کے لیے آپ بیتی نویس بیجا مبالغہ اور غیرضروری انکشافات سے کام لیتے ہیں۔ جس کی وجہ سے آپ بیتی کا فن متاثر ہوتا ہے۔ صنف کے اعتبار سے آپ بیتی کی بنیادی خصوصیات یہی ہیں کہ لکھنے والے کا اظہار پر مکمل قابو رہے اور وہ تسلسل کے سات اپنے اوپر گزرے ہوئے واقعات کو شستہ زبان میں بیان کرنے کی صلاحیت سے آشنا ہو۔ اس کے علاوہ اظہار میں طاقت و قوت پیدا کی جائے تاکہ پڑھنے والے کے ذہن پر اس کا بھرپور تاثر قائم ہو تاکہ وہ واقعات سے متاثر کرنے کی صلاحیت سے مالامال ہوجائے۔ آپ بیتی کی زبان سادہ اور دلچسپ ہونی چاہیے۔ اس کے علاوہ جن نثرنگاروں کو اسلوب پر قابو ہوتا ہے، وہی کامیاب آپ بیتی نویس سمجھے جاتے ہیں۔
(اردو کی شعری و نثری اصناف:پروفیسر مجیدبیدار، مطبوعہ لولو پرنٹس اینڈ گرافکس، 2014، ص 218 تا 219)
فن کی تحقیق کرنے والے ناقدین اس حقیقت سے پوری طرح متفق ہیں کہ کوئی بھی سفرنامہ نگار اپنے تحریری رویے کو کسی بھی غیرافسانوی صنف کی بنیاد پر مکمل کرسکتا ہے، جس طرح محمدیوسف کمبل پوش نے سفرنامہ لکھنے کے دوران ابتدائی حصے کو آپ بیتی کی حیثیت سے پیش کیا ہے۔ چنانچہ سفرنامے کے آغاز کی خصوصیت کو واضح کرنے کے لیے آپ بیتی اور اس کے تکنیکی انداز کو نمائندگی دی گئی ہے۔ سفرنامے کے ابتدائی مرحلے کو زیرمطالعہ رکھاجائے تو خود اندازہ ہوتا ہے کہ محمدیوسف کمبل پوش کا ابتدائی انداز بلاشبہ آپ بیتی کی نمائندگی کرتا ہے، جس کی حقیقت کو نمائندگی دینے کے لیے اس سفرنامے کے ابتدائی انداز کی مزید خصوصیت پیش کی جارہی ہے، جس کے مطالعے کے ذریعے ہی اندازہ ہوتا ہے کہ اس سفرنامے کی ابتدا بلاشبہ آپ بیتی کی مرہون منت ہے۔
خدا خدا کرکے تیسری اپریل کو جہاز ہمارا دریائے گنگ سے سمندر میں پہونچا۔ ہوا موافق کا بہنا شروع ہوا۔ کپتان صاحب نے بادبانوں کو کھول دیا۔ جہاز تیر کی طرح چلا۔ ننکوخدمت گار میرا تیزروی جہاز سے ڈرکر کہنے لگا کپتان صاحب بادبانوں کو باندھیں۔ نہیں تو جہاز اولٹ (الٹ) جاوے گا۔ مینے (میں نے) کہنا اس کا کچھ نہ سنا ہراساں ہوکر جہاز میں بیٹھ گیا اور کہتا تھا کہ میں عبث اپنے تئیں یہاں لایا اگر نہ آتا یہ مصیبتیں کیوں اوٹھاتا (اٹھاتا) کپتان صاحب ہم سب لوگوں پر اتنی مہربانی فرماتے تھے کہ تکلیف اور مصائب جہاز کے کچھ نہ ہوکے (ہونے) پاتے۔ ہر طرح کے کھانے پینے۔ میوے، دودھ، گوشت، شراب، شام پئیں وغیرہ موجود تھے۔ عنائیت کپتان صاحب سے ابواب تکلیف ہر صورت سے مسدود تھے۔ اتوار اور جمعرات کو موافق رسم مقرر انگریزوں ہر قسم کے کھانے اور مٹھائی زیادہ پکتے۔ ہر ایک کے کھانے میں آتے۔ غرض کہ ہر نہج سے آسائش تھی۔ گھر میں یہ بات میسر نہیں آتی۔
منگل کے دن چوتھی تاریخ ہوا بند تھی۔ ایک عجیب تماشا اور کیفیت نظر آئی۔ ہزاروں کچہوے (کھچوے) لہراتے ہوئے پانی پر پھرتے۔ کپتان صاحب نے جہازیوں کو حکم دیا کہ کشتی پر سوار ہوکر ان کا شکار کرو۔ جہازیوں نے بموجب حکم ان کے ناؤ پر سوار ہوکر کانٹوں آہنی سے کچھوؤں کو زخمی کیا۔ بعد اس کے جیسے کوئی جنگل سے بنوا کنڈے چنتا ہے، ان کو پانی سے اٹھاکر کشتی پر رکھا۔ اسی طرح دوتین گھڑی خوب شکار کیا۔ اتنے عرصے میں دودومن کے چوبیس عدد کچھوؤں کو پکڑا۔ ایک امر عجیب دیکھا کہ ہر ایک کی گردن میں نیچے ایک چھوٹی مچھلی جونک کی طرح چمٹی تھی۔ کپتان صاحب نے ہڈی چمڑے سے گوشت اُن کا صاف کرواکر لوگوں کو بانٹ دیا، مجھے اس گوشت سے نفرت اور کراہیت آئی۔ ہر چند کپتان صاحب نے اصرار کیا، پر میں نے نہ کھایا اور لوگوں نے دو تین دن تک کباب اور شوربا اس کا بڑے مزے سے کھایا۔ یہ طرفہ ماجرا تھا کہ جس روز ہوا کا چلنا موقوف ہوتا، غول کچھوؤں کا خواب غفلت میں آکر بے باکانہ پانی کے اوپر آتا۔ اس وقت جس کا جی چاہتا آسانی سے ان کو پکڑلیتا۔
جہاز رواں تھا ساتویں تاریخ مٹی کا بڑا طوفان آیا۔ پانی ایسے زور سے اچھلتا کہ لب جہاز تک آتا۔ آخر صدمے اسکے سے دونوں کنارے جہاز کے ٹوٹے۔ گیارہ بھیڑیں اور کئی مرغیاں اوربطخیں اورکتنے اسباب پانی میں ڈوبے۔ سب آدمی اپنی زندگی سے مایوس ہوکر اور خداوندتعالیٰ کی درگاہ میں عجز و نیاز کرتے۔ نویں تاریخ کچھ کم ہوا۔ کپتان صاحب نے بادبانوں کو کھولا۔ دسویں تاریخ اس سے زیادہ آیا پھرہرا (پھریرا) بادبانوں کاشدت ہوا سے ٹکڑے ٹکڑے ہوکر پانی میں گرا اور مستول جہازکا ٹوٹ گیا۔ ایک میز جہاز میں جڑا تھا۔ صدمے ہوا سے جڑ سے اکھڑکر پانی میں ڈوبا۔ جہاز کے دونوں طرف سے پانی آئینہ ساں قریب سر ہمارے کے اچھلتا مگر فضل الٰہی نے ہم کو اس صدمے سے بچایا۔ سب لوگ بہت گھبرائے اور اس نسخہ سے سخت حیران ہوئے کہ اے خدا سوائے تیرے ہمارا کوئی مددگار نہیں اورہم سے کوئی اپنے بچانے کا مختار نہیں۔ حق تعالیٰ نے اپنی عنایت سے گیارہویں تاریخ اس طوفان کو دور کیا۔ خسرو خاوری نے تخت زریں فلک پر جلوہ نور دکھلایا۔ دھوپ نکلنے سے میں ایسا مسرور ہوا کہ بیان اس کے سے زبان معذور۔ جیسے عاشق مہجور طالب دیدار معشوق کا ہوا ویسے جہاز والے کمال شوق سے دھوپ کو دیکھتے ہر سو۔ آخر بتائیدالٰہی جہاز ان بلاؤں سے نجات پاکر روانہ ہوا۔
(عجائبات فرنگ، مرتب : تحسین فراقی ، مطبوعہ مکہ بکس ، لاہور، 1983، ص 99 تا101)
محمد یوسف کمبل پوش نے اپنے سفرنامے کے دوران سمندری سفر اور جہاز کی صورت حال کا جائزہ لینے کے دوران بلاشبہ حقیقت پسندی سے کام لیا ہے۔ کوئی بھی سفرنامہ حقیقت سے بعید ہو تو پھر اس سفرنامے کو ’داستانوی سفرنامہ‘ قرار دیا جاتا ہے۔ محمدیوسف کمبل پوش کی تحریر سے خوداندازہ ہوتا ہے کہ انھوں نے بلاشبہ سمندری جہاز کے ذریعے سمندر کا سفر کیا اور اس سفر کے دوران درپیش معاملات کی نشاندہی کے لیے انھوں نے پانی کے جہاز کے ہچکولے کھانے اور طوفان میں گھرنے کے ساتھ ساتھ کئی دنوں تک سورج کی روشنی سے محروم رہنے کی حقیقت کو پوری دیانتداری کے ساتھ پیش کیا ہے۔ البتہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ پیشکش کے دوران ان کی زبان کے الفاظ موجودہ زمانے کے تقاضوں کے مطابق نہیں ہے۔ اس دور میں چونکہ داستانوی تحریروں کا چلن عام تھا، اس لیے انھوں نے اس دور کے تقاضے کے مطابق پانی کے جہاز کے سفر کو خدا کی نعمت اور حالات کے قابو میں آنے کو مذہب پرستی سے وابستہ کیا ہے، چونکہ وہ مذہبی اعتبار سے اسلام پسند تھے، اس لیے ان کے سفرنامے کا انداز بھی مذہب دوستی اور تحریر کی خصوصیت قدیم داستانوں کی نہج کی نشاندہی کرتی ہے۔ اس طرح سفرنامے کے ذریعے حقیقت کو آشکار کرنے اور اپنے تجربات اور مشاہدات کے علاوہ مجبوریوں کو پیش کرنے کی وجہ سے کمبل پوش کے اس تحریری کارنامے کو سفرنامے کی حیثیت سے شناخت دی جاتی ہے، لیکن انھوں نے اس کے ابتدائی حصے کو آپ بیتی کے طرز سے وابستہ کیا اور جابجا تحریر کے انداز کو داستانوی نثر کے اسلوب سے آراستہ کیا ہے۔
عجائبات فرنگ میں وضاحت کی نمائندگی
خیالی، قیاسی اور تخیلی سطح پر کسی چیز کو نمایاں کیا جائے تو وہ بیان کہلاتا ہے۔ اس کے بجائے کسی حقیقی چیز کو ظاہر کرنے کے لیے بیان کا سہارا نہیں، بلکہ ایک ایک چیزکو واضح کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ چونکہ غیرافسانوی نثری اصناف میں وضاحت کا عمل کارفرما ہوتا ہے، جس کا مطلب ہی یہی ہوگا کہ انسان کے روبرو جو بھی منظر اور حالات درپیش ہوں گے، ان کو نمائندگی دینا بیان کے بجائے وضاحت کا درجہ رکھتا ہے۔ چونکہ سفرنامے کی صنف کو غیرافسانوی نثر کا قیمتی وصف قرار دیا جاتا ہے، اس لیے اس صنف میں جابجا واقعات، حالات اور تجربات کے علاوہ حادثات کے بیان کے سلسلے میں حقیقت پسندی کو پیش نظر رکھا جائے گا، بلکہ جو چیز سامنے پیش ہوتی ہے، اسی کو تحریر کا درجہ قرار دیاجائے گا۔ یہ عمل وضاحت کے دائرے میں شامل ہے۔ کسی بھی چیزکو دیکھ کر اس پر اظہار خیال رکھنا وضاحت ہے اور اگر کسی چیز کو دیکھے بغیر اس کی وضاحت کی جائے تو وہ بیان کہلاتا ہے، کیونکہ بغیر دیکھی ہوئی چیز کی مثال نہ ہونے کی وجہ سے اس کی وضاحت کے بجائے بیان کا سہارا لیاجائے گا۔ اس طرح افسانوی نثر میں بیانیہ Narration کی خصوصیت شامل ہوتی ہے ،جسے تخلیقی نثر بھی قرار دیا جاتا ہے، جبکہ غیرافسانوی نثر میں تخلیقی خصوصیت شامل بھی ہوجائے تو اس میں بیان کے انداز کے بجائے آنکھوں کے سامنے نمایاں ہونے والے مناظر کو وضاحت کے ساتھ پیش کیا جائے گا، اس لیے غیرافسانوی نثر میں وضاحت یاDescription کی خوبی کاشامل ہونا ضروری ہے۔ اردو کی تمام غیرافسانوی اصناف میں وضاحت کی نمائندگی ہوتی ہے۔ چنانچہ محمدیوسف کمبل پوش کے سفرنامے عجائبات فرنگ میں بھی وضاحت کی کیفیت نمایاں ہے۔ ابتدائی طور پر پیش کردہ اقتباس کے مطالعے سے خود اندازہ ہوتا ہے کہ جہاز میں سفر کرتے ہوئے اور پانی کے تھپیڑوں کے تجزیے کے ساتھ حالات کے مشاہدے کے نتیجے کو محمدیوسف کمبل پوش نے اپنی تحریر کا ذریعہ بنایا ہے۔ یہ تمام حالات بلاشبہ سفر کے دوران انھیں درپیش تھے۔ درپیش واقعات کو تحریر کا وسیلہ بنانا ہر لحاظ سے وضاحت کہلاتاہے۔ اسی خصوصیت کی بنیاد پر ’عجائبات فرنگ‘ کو وضاحتی نثر کی دلیل قرار دیا جائے گا۔ انھوں نے سفر کے دوران ہر منظر کا مشاہدہ کیا اور اس منظر کو پیش کرنے کے لیے زبان وبیان اور اظہار کے ساتھ ساتھ پیشکش کی خصوصیت کو بھی کام میں لایاہے، اس لیے عجائبات فرنگ کی نثر کو کسی اعتبار سے بھی بیانیہ نثر نہیں، بلکہ وضاحتی نثر کی حیثیت سے قبول کیا جائے گا۔ اس سفرنامے میں محمدیوسف کمبل پوش کی وضاحتی خصوصیت کو نمائندگی دینے کے لیے سفرنامے کے کئی مناظر کی نشاندہی کی جاسکتی ہے۔ چنانچہ انھوں نے جس انداز سے انگلستان کو دیکھا اور اس کے مشاہدے سے متاثر ہوکر اپنے تجربات کا حصہ بنایا، اس کی خصوصیت کے لیے ’عجائبات فرنگ‘ سے اقتباس بطور نمونہ پیش ہے:
’’تیسرے دن شہر کی سیر کو گیا جو کچھ دیکھا دل ہی جانتا ہے، زبان پر نہیں آتا۔ کنارے دریاکے جاکر دیکھا، سیکڑوں جہاز وہاں تھے اور ہزاروں ناؤرواں۔ جہاز دہویں (دھویں) کے ادھر ادھر آتے جاتے۔ اوس پر سے صاحبان انگریز اپنی بی بیوں (بیبیوں) کے ساتھ دریا کاتماشا دیکھتے۔ کیا ہی عورتیں تھیں حسن و جمال میں پریوں کو شرماتیں۔ ایک اندھیرے تہہ خانے کی سیر کی۔ صاحب خانہ نے راہ بتائی۔ دو آدمیوں نے ہاتھ میں مشعل لی۔ اوس میں پیپے شراب کے رکھے تھے۔ اگر شاید کھلتے شراب کے دریا بہتے، جہاز اون میں چلتے۔ اون پیپوں پر ایسا روغن ملاتھا کہ ہر گز اون میں آگ کا اثر نہ ہوتا۔ شراب یہ خواص رکھتی ہے کہ ایک چنگاری سے رال کی طرح بھڑکتی ہے۔ یہ اون لوگوں کی کاریگری تھی کہ آگ اوس میں اثر نہ کرتی۔ دو گھنٹے اوس میں روشنی مشعل سے پھرے تو بھی اس سرے سے اوس سرے تک نہ پہونچے۔ نہ معلوم تہ خانہ کتنا بڑا تھا کہ میں اتنے عرصہ میں کنارے نہ پہونچا۔ لاچار ہوکر باہر آیا۔دوسری طرف جاکر دیکھا۔ تنباکو (تمباکو) کا ڈھیر تھا۔ بخدا اس قدر ڈھیر نہ کبھی آنکھوں سے دیکھا نہ کانوں سے سنا جو تنباکو بابت چوری محصول کے چھین آتی تھی۔ ڈھیر کے ڈھیر جل رہے تھے۔ اگر اتنی تنباکو ہندوستان میں جلائی جاوے ہندوستانیوں کے دماغ سے ریزش نادانی کی ہوجائے۔‘‘
(عجائبات فرنگ، مرتب : تحسین فراقی ، مطبوعہ مکہ بکس ، لاہور، 1983، ص112)
آنکھوں کے منظر کو لفظوں میں بیان کرنے کا انداز بلاشبہ وضاحت کہلاتا ہے۔ اس اقتباس میں واضح ہوتا ہے کہ جس انداز سے چراغ کو محفوظ رکھنے اور تمباکو کی چھپائی ہوئی ذخیرہ اندوزی کے خلاف اقدام کا حوالہ دے کر یہ ثابت کیا گیا ہے کہ شراب کو آگ سے محفوظ رکھنے کے مرحلے اور تمباکو کو جلانے کی خصوصیت کا ذکر کرکے محمدیوسف کمبل پوش نے نظروں کے سامنے درپیش منظر کو پوری وضاحت کے ساتھ پیش کیا ہے، جس کی وجہ سے ان کے سفرنامے میں وضاحت کی بھرپور نمائندگی ہوتی ہے۔ کہانیوں، قصوں اور داستانوں کے علاوہ دیومالاؤں میں ہی نہیں، بلکہ تمثیل کے ساتھ ساتھ حکایتوں میں ایسے مناظر کی نشاندہی کی جاتی ہے، جس کو انسان نے کبھی زندگی میں دیکھا ہی نہیں، اس قسم کی منظرنگاری کو بیانیہ کا درجہ دیا جاتا ہے۔ جبکہ محمدیوسف کمبل پوش نے تہہ خانے میں موجود شراب کے بیارل اور انہیں آگ سے محفوظ رکھنے کی خصوصیت کے علاوہ تمباکو کو جلانے کی حقیقت کو پیش کرکے ثابت کردیا ہے کہ محمدیوسف کمبل پوش کے پیش نظر بیانیہ کا کارنامہ نہیں، بلکہ وضاحت کا انداز کارفرما ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ’’عجائبات فرنگ،، کے توسط سے اس سفرنامے میں وضاحت کی کیفیت پوری طرح جلوہ گر ہے۔ وضاحت کی ایک اور کیفیت کو اسی سفرنامے سے بطورنمونہ پیش کیا جارہا ہے:
لندن عجب شہر گلستان ہے، دانائی کی وہاں کان ہے، یہ تماشے دیکھ کر سراے بل موت میں پھر آیا۔ راجڑ صاحب کو ساتھ لے کر مکان کرایہ کا تلاش کیا۔ بہت جستجو سے محلہ سمور پلیس میں لمبرتیسرا قریب سینکرک کلیسا کے ایک مکان سو روپے کر ایہ پر ٹھہرایا۔ ایک شخص اور کو شریک کرکے اوس میں رہا۔ بعد اس کے دوکانوں اور بازار کی سیر کرنے گیا۔ ایک رستہ دیکھا پشت ماہی سا بنا تھا اور دونوں طرف زمین کے برابر توہا لگا، اس لیے کہ پھیا (پہیہ) گاڑیوں دودی کا اونچا نیچا نہ ہوجاوے اور کنکریوں کا اون میں صدمہ نہ آوے۔ وہاں آٹھ سات گاڑیاں کھڑی تھیں۔ ایک بڑی گاڑی سب سے آگے۔ اوس میں تین آدمی بیٹھے کوٹیلے سلگاتے۔ ہر گاڑی کی زنجیر دوسری گاڑی سے لگی تھی۔ بڑی گاڑی تک زنجیرہ بندی یونہی تھی، جب سب آدمی اون میں بیٹھ جاتے، بڑی گاڑی کے پیچ کو پھیرتے، فی الفور وہ تیر کی طرح دہویں کے زور سے رواں ہوتی۔ ہر ایک گاڑی زنجیر کے لگاؤ سے اوس کے ساتھ چل نکلتی۔ میں نے ایسا کبھی تماشا نہیں دیکھا نہایت مشتاق تھا۔ گاڑی بان سے پوچھا۔ کہاں جاؤگے۔ اوس نے کہا آٹھ کوس پر۔ میں نے کہا مجھ کو بھی سوارکر۔ اوس نے کہا بہتر۔ آخر میں اوس پر سوار ہوا۔ اوس نے گاڑی کاپیچ موڑا۔ فوراً گاڑی چلی۔ طبیعت بہلی۔ راہ میں ایک دفعہ سر نکال کر دیکھا۔ قریب تھا کہ تیزروی اوس کی سے پگڑی میری گرے۔ جلدی سے سر اندر کرلیا۔ پادساعت میں آٹھ کوس جاپہونچا۔ وہاں سے دہویں کی ناؤ پر سوار ہوکر موضع گرنچ میں سیر کو گیا۔ شہر دیکھا بہت گلزار اور آباد۔ عمارتیں شاہی اوس میں جیسے باغ میں شمشاد۔ گورے جہاز کے جب کار سرکاری میں زخمی ہوتے ہیں انگلس پاکر چین سے زندگی وہاں بسر کرتے ہیں۔ میں نے دیکھا کھانے نفیس میزوں پر چنے ہیں۔ پیالے شراب بیئر کے بھرے رکھے ہیں۔ گورے بڑے مزے سے کھاتے تھے اور خوشی سے بیٹھے تھے۔ میرے دل میں آئی صاحبان انگریز کی دانائی کہ کیا اچھی عقل رکھتے ہیں۔ جب سپاہی کچھ اچھا کام کرتے ہیں، اون کو انگلس دیتے ہیں۔ وہ آرام سے بسر کرتے ہیں۔ مالک جب نوکر کے حال پر اتنی مہربانی کرے نوکر کس طرح آقا کے کام میں جان کو جان سمجھے۔
آگے بڑھے (بڑھے) ایک اور مکان میں پہونچے کہ وہاں تصویریں جہاز جنگی اور امیروں نامدار فرنگی کی تھیں۔ نشان جنگی لڑائی واٹرلو کابطریق تحفہ و یادگاری وہاں رکھا۔ مارے گولیوں کے سوراخ دار تھا۔ اوس کے سامنے ایک الماری میں شیشہ تصویر لاڈنسن کا اور کرتے خون بھرے ہوئے اس کے رکھے۔ وہ بھی گولیوں سے چھلنی ہورہے۔ مونے جہاز وغیرہ کے اور طرح طرح کی تصویریں رکھیں۔ اوس کے مقابل حضرت پالوس اور حواریوں کی تھیں۔ آدمیوں سے ایسی تصویریں بنا (بننا) ممکن تھیں۔ مگر خدا کی قدرت سے بنیں۔ امریکہ سے ایک رئیس وہاں آیا تھا۔ عوض اون تصویروں کے دیڑھ لاکھ روپیہ دیتا تھا مگر انگریزوں نے نہ مانا اور تصویروں کو ندیا (نہ دیا) ایک جاسات ستون سنگ مرمر کے ایک ڈال ترشے کھڑے تھے۔ نہیں معلوم پتھر کتنے بڑے تھے کہ اون سے اتنے اتنے بڑے ستون ایک ڈال ترشے۔ یہ سیریں دیکھ کر شام کو اپنے مکان میں پھر آیا۔‘‘ (ایضاً، ص 112 تا 114)
محمدیوسف کمبل پوش نے سفرنامے کے دوران جس طرز کی نشاندہی کی ہے، اس کے ذریعے مختلف جگہوں پر مقفی عبارت کا انداز دکھائی دیتا ہے۔ اس اقتباس کے پہلے جملے سے ہی اندازہ ہوتا ہے کہ انھوں نے داستانوی نثر کے انداز کی نمائندگی کی ہے۔ اس قسم کی نثر نگاری کا رویہ سرسید کے انشائیوں میں بھی دکھائی دیتا ہے، جس سے یہ ثبوت فراہم ہوتا ہے کہ غیرافسانوی نثر میں بھی اس انداز کی روایت برقرار تھی، جو بعد میں غیرافسانوی نثر کی خصوصیت میں شامل نہیں رہی۔ غرض ’عجائبات فرنگ‘ کے ذریعے محمدیوسف کمبل پوش نے سفرنامے کی ابتدا کو آپ بیتی کی حیثیت سے پیش کیا، جبکہ دوسرے اقتباس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس طرز کے دوران محمدیوسف کمبل پوش یادداشت کی خوبی کو بروئے کارلائے ہیں۔ بلاشبہ غیرافسانوی نثر میں اظہاری طریقے کو مصنف کی دین کا درجہ دیا جاتا ہے، اس لیے اس کے ہر انداز کو قبول کیا جانا چاہیے۔ بلاشبہ محمدیوسف کمبل پوش کی اس تحریر کو غیرافسانوی نثر کی ابتدائی خصوصیت کا درجہ حاصل ہے، جبکہ افسانوی نثر اور غیرافسانوی نثر کا تعین نہیں ہوا تھا، البتہ سارے ہندوستان میں داستانوں کے انداز کو قبول کیا جارہا تھا، اس لیے کسی حد تک یوسف کمبل پوش کے سفرنامے میں موجود اظہاری رویے کی مخالفت نہیں کی جاسکتی، بلکہ ان کے انداز کو بہرحال غیرافسانوی نثر میں ہی شمار کیا جائے گا، کیونکہ ان کا نثری انداز ’سفرنامے‘ کی نمائندگی کرتا ہے اورانگریزی زبان میں سفرنامے کے لیے Travegule کی اصطلاح مروج ہے۔ ابتدا میں سوانحی حالات سے پتہ چلتا ہے کہ محمدیوسف کمبل پوش نے انگریزی زبان کی تعلیم حاصل کی تھی اوران سے قبل ہندوستان کی سرزمین میں داستانوی سفرناموں کا چلن عام تھا۔ انہیں اردو کے پہلے غیرافسانوی سفرنامہ نگار کا درجہ حاصل ، اس لیے ان کی نثر کی خصوصیت کو کہیں پر آپ بیتی کی حیثیت سے قبول کیا جاتا ہے اور بعض جگہوں پر وہ سرگزشت کاانداز اختیار کرتے ہیں۔ درج شدہ اقتباس میں ان کی سرگزشت کی روش نمایاں ہوتی ہے۔ یہ ثبوت نہیں ملتا کہ محمدیوسف کمبل پوش نے سفر کے دوران اپنے مشاہدات اورتجربات کو خود نقل کیا یابعد میں آکر اس کو تحریری شکل دی۔ اس پس منظر میں یہ ثابت ہوجائے کہ انگلستان کے سفر کے بعد اپنی یادداشت کو یکجا کرکے انھوں نے اس سفرنامے کی بنیاد رکھی ہو تو بلاشبہ اس سفرنامے میں موجود اظہاری رویے کو سرگذشت کی سمت میں ہی نہیں، بلکہ بازگشت کی حیثیت سے بھی شہرت حاصل ہوتی ہے۔ کسی بھی واقعے کے انجام پانے کے بعد لکھی جانے والی تحریرکو سرگزشت اور حافظے پر زور ڈال کر لکھی جانے والی تحریر کو بازگشت کا درجہ دیا جاتا ہے۔ ’عجائبات فرنگ‘ میں شامل تحریری روش کو پیش نظر رکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ محمدیوسف کمبل پوش نے جہاں آپ بیتی کے انداز کو پیش نظر رکھا ہے، وہیں سرگزشت اور بازگزشت کے انداز کا بھی لحاظ رکھا ہے۔ ان تمام خصوصیات کو غیرافسانوی نثر اور وضاحت کی کیفیت میں شمار کیا جاتا ہے۔
یوسف کمبل پوش کی غیرافسانوی نثر میں سفرنامے کی صنف کو اہم مقام حاصل ہے۔ چنانچہ ان کی تحریر کردہ کتاب سے غیرافسانوی نثر کی خصوصیت کو واضح کرتے ہوئے یہ ثابت کیا گیا ہے کہ انھوں نے وضاحت کے مختلف طریقوں کو اپنے اسلوب کا حصہ بنایا ہے۔ چنانچہ سرگزشت کے لیے عام طور پر خودنوشت سوانح کا بیانیہ استعمال کیا جاتا ہے۔ سرگزشت کی انگریزی میں مناسبت کو بھی واضح کیا گیا ہے، جس کے تحت کئی متبادل اصطلاحات موجود ہیں۔ انگریزی زبان میں Auto Biography کے لیے سرگزشت خود کی اصطلاح مروج ہے۔ عام طور پر سرگزشت کے لیے انگریزی میں An Acounte کے علاوہ Memoirs کی اصطلاح بھی مروج ہے۔ اس کے علاوہ سرگزشت کے لیے Incident اور Chronicle کی اصطلاح کا چلن بھی عام ہے۔ عام طور پر سرگزشت لکھنے کے لیے دو اصطلاحوں کا چلن عام ہے ،جن کے ذریعے یہ بتایا گیا ہے کہ To Record in a Chronicle کے علاوہ To Write Memoirs کی اصطلاح بھی مروج ہے۔ کسی بھی گزرے ہوئے واقعے کو تاریخ اور عہد کی ترتیب میں پیش کرنا سرگزشت کہلاتا ہے۔ اسی طرح اپنی یادداشتوں کو جمع کرکے پیش کرنا بھی سرگزشت کی فہرست میں آتا ہے۔ ان دونوں طریقوں میں انسان کے سوچنے اور لکھنے کے عمل کی خصوصیت شامل ہوتی ہے، اس لیے اس قسم کی تحریر کو سرگزشت کہا جاتا ہے۔ عجائبات فرنگ سے درج شدہ اس اقتباس کا انداز لگایا جاسکتا ہے کہ محمدیوسف کمبل پوش نے اس سفرنامے کے دوران جس انداز سے مکان کی خریداری اور مختلف مقامات کے دورے کرنے کی خصوصیت کو پیش کیا ہے، اس سے خود اندازہ ہوتا ہے کہ اس سفرنامے کے دوران جہاں وضاحت کو پیش نظر رکھا گیا ہے، وہیں آپ بیتی کے ساتھ ساتھ سرگزشت کی خوبی کو بھی نمائندگی دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور اصطلاح اردو میں مروج ہے ،جسے یادداشت کی حیثیت دی جاتی ہے۔ یہ انداز بھی وضاحت کے دوران اختیار کیا جاتا ہے۔ گزرے ہوئے واقعہ یا سانحہ کے علاوہ کوئی تجربے یا اہم حقیقت کو یاد کرکے دوبارہ پیش کرنا یادداشت کہلاتا ہے۔ انگریزی زبان میں یادداشت کے لیے Memorandum کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے، جبکہ یادداشت لکھنے کے عمل کو To Note کا استعمال ہوتا ہے۔ انفرادی یادداشت ہی نہیں، بلکہ اجتماعی یادداشت بھی اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ انگریزی میں میمورنڈم کے معنی یہی لیے جاتے ہیں کہ کسی محضر کو پیش کرنا میمورنڈم کہلاتا ہے، جبکہ تحریری سطح پر یادداشت کی نمائندگی کی جائے تو اسے بلاشبہ To Note کہا جائے گا۔ محمدیوسف کمبل پوش کے سفرنامے میں محسوس کیا جاسکتا ہے کہ انھوں نے جہاں سرگزشت کے انداز کو پیش نظر رکھا ہے، وہیں وضاحت کو مزید نمائندگی دینے کے لیے یادداشت کی کیفیت پر بھی توجہ دی ہے، جس کے نتیجے میں صرف وضاحت کی نمائندگی کرنے والے اس سفرنامے میں غیرافسانوی نثر کے چاراہم انداز یعنی آپ بیتی، یادداشت اور سرگزشت کے علاوہ روایتی داستانوی انداز کی کیفیت بھی دکھائی دیتی ہے، لیکن ان کا کوئی منظر سفرنامے کے دوران غیرفطری اور خیالی اور قیاسی نہیں ہے ،چنانچہ اسی بنیاد پر ان کے سفرنامے کو افسانوی نثر (Fiction) کے بجائے غیرافسانوی نثر یعنی (Non Fiction) ایک اہم صنف کو سفرنامے کی سرشت میں شامل کیا جاتا ہے۔ اقتباسات کے توسط سے نہ صرف ان کے اسلوب کو واضح کرنا ہے، بلکہ یہ ثبوت بھی فراہم کرنا ہے کہ سارے ہندوستان میں اردو نثر کے ذریعے داستانوں کا چلن عام تھا، اس دور میں محمدیوسف کمبل پوش نے غیرافسانوی نثر کی صنف کو بروئے کار لاکر مکمل طور پر یہ کوشش کی کہ وضاحت کے طریقے کو اپنے سفرنامے میں شامل کرنے کے لیے آپ بیتی جیسی غیرافسانوی نثر کے علاوہ یادداشت اور سرگزشت کے طریقوں کو پیش نظر رکھ کر اس سفرنامے کی اہمیت میں اضافہ کردیا۔ یہ حقیقت ہے کہ ادبی پس منظر میں محمدیوسف کمبل پوش کے سفرنامے کو بلند درجہ نہیں دیا جاتا اور ان کے اسلوب میں بھی جدت طرازی اور حددرجہ فکرانگیزی کادخل بھی نہیں ہے، اسی لیے ’عجائبات فرنگ‘ کو اردو کے پہلے سفرنامے اور اس کے توسط سے وضاحتی نثر کی نمائندگی کی وجہ سے اس کی اہمیت و افادیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔
Dr. S. A. Majeed Bedar
H. No.: 9-4-135, Raghava Colony
Behind Azaan International School, Toli Chowki
Hyderabad- 500008 (Telangana)
Mob.: 9441697072
majeedbedar@gmail.com