تلخیص
موجودہ اترپردیش کا بہرائچ ایک بہت قدیم شہر وضلع ہے، جہاںاپنے دَور کی بہت سی اہم اور معتبر شخصیات کی تشریف آوری ہوئی، اور بہت سی نابغۂ روزگار ہستیوں نے اسے اپنی رہائش گاہ بنایا۔ اسی طرح یہا ں کی ادبی وشعری فضابھی خاصی قدیم ہے یعنی پونے تین سو سال سے زائد عرصے پر محیط ہے۔ اس مدت میں 200 سے زائد شعرا وادبا یہاں پیداہوئے، جنھوں نے بہرائچ کی ادبی وشعری فضا کو تاب ناک بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔یہ سلسلہ مرزا مظہرجان جاناں کے خلیفہ ومجاز حضرت شاہ نعیم اللہ نقش بندی بہرائچی سے شروع ہوا،او رہنوز جاری وساری ہے۔
کلیدی الفاظ
بہرائچ، نیپال، اودھ، اترپردیش، شاعر، ادیب، نواب، بیگم،حکومت، تاریخ فرشتہ، شکارنامہ، آزاد انٹر کالج، فنا فی ا لحسین،فطرسِ خیال، ادنْ منّی۔
————
’بہرائچ‘دور ِ قدیم میں اودھ اور موجودہ اتر پردیش کا ایک قدیم خوبصورت شہر ہے؛ جو دریائے سرجو کے کنارے اترپردیش کی دارالحکومت لکھنؤ سے 130 کلو میٹر کے فاصلے پر شمال مشرقی جانب نیپال کی سرحدپرہمالیہ کی گود میںواقع ہے۔قدیم زمانے میںیہ ہندو سلطنت (جسے کوشل کہا جاتا تھا اور اس کا دارالحکومت ایودھیا تھا)کے زیر نگیں تھا۔بعد میں یہی کوشل اودھ کے نام سے جانا گیا۔ کیونکہ مغل شہنشاہ اکبر کے عہد میں جب اس کے حکم کی تعمیل میں ٹوڈر مل نے زمین کی پیما ئش کی تو پورے ملک کو درج ذیل بارہ صوبوں میں تقسیم کیاتھا:دہلی،آگرہ،اودھ،الٰہ آباد، اجمیر،احمدآباد، بہار،بنگال، کابل، لاہور، ملتان اور مالوہ۔
اس وقت صوبۂ اودھ کو خاص اہمیت حاصل تھی،جو مشرق میں بنارس، مغرب میں بریلی،شمال میں نیپال اور جنوب میں دریائے گنگا تک پھیلاہواتھا ؛ اوراس میں حسب ِ ذیل 5 سرکاریںیا قسمتیں تھیں : لکھنؤ، فیض آباد،خیرآباد،بہرا ئچ اورگو ر کھپور۔ جیساکہ پروفیسر سور یہ پرساد دیکشت تحریر کرتے ہیں:
’’اکبر نے پورے مغل راجیہ کو 1590میں کل 12صوبوں میں بانٹا تھا، صوبۂ اودھ میں پانچ سرکاریں تھیں۔‘‘ 1؎
اودھ نوابوں کے عہد میں ایک بہت مضبوط اور دولت مند ریاست تھی،مگر1856میں جب آخری نواب واجد علی شاہ سے انگریزوں نے اودھ کی حکومت چھین لی،اور نواب کلکتہ چلے گئے توان کی زوجہ بیگم حضرت محل (جو نواب کے ساتھ کلکتہ نہیں گئی تھیں) نے انگریزوں سے اودھ کی حکومت واپس لینے کے لیے 1857 میں جنگ لڑی، جس میں انھیں زبردست شکست کاسامناکرنا پڑا، بالآخر انھوں نے اپنے 15 سالہ بیٹے برجیس قدر کے ساتھ لکھنؤ سے ہردوئی اور سیتاپور ہوتے ہوئے راجہ بونڈی (بہرائچ) میںجاکر پناہ لی، بونڈی کے راجہ بلبھدر سنگھ نے ان کے رہنے سہنے کا مکمل انتظام کیا، جب بیگم حضرت محل کے بونڈی (بہرائچ) پہنچنے کی خبر ان کے سپاہیوں کو ہوئی تو وہ ایک ایک کرکے بونڈی (بہرائچ) آنے لگے، یہاں تک کہ وہاںتقریباًڈیڑھ لاکھ فوج اکٹھاہوگئی، جب انگریزوں کواس کی خبر ملی تو اس نے فوج پر حملہ کردیا۔پھر بیگم فوج کو لے کرنانپارہ (بہرائچ ) کی طرف روانہ ہوگئیں، جہاں انگریزوں سے زبردست معرکہ آرائی ہوئی حتی کہ پوری فوج لڑتے لڑتے شہید ہوئی،اور بیگم حضرت محل اپنے بیٹے کے ساتھ نیپال کے راجہ سے اجازت لے کر وہاں کی دارالحکومت کاٹھمانڈو میں جاکر قیام پذیر ہوگئیں، یہیں 1879 میں ان کا انتقال ہوا،اورخود کی بنوائی ہوئی ’ہندوستانی مسجد‘ کے احاطے میں مدفون ہوئیں۔ اور برجیس قدر اہل خانہ کے ساتھ کلکتہ چلے گئے۔اس طرح بہرائچ کا 1857کی تحریک آزادی میں بھی ناقابل ِ فراموش حصہ رہاہے۔
قدیم شہر ہونے کے ساتھ دریاکے کنارے آباد ہونے کے سبب بہرائچ کی زمین بڑی زر خیز تھی۔ اور یہاںکے لوگ اودھی بولتے تھے۔ معروف سیّاح ابن بطوطہ (ولادت 24 فروری 1304مطابق 703ھ، وفات 1377مطابق779ھ) کابرصغیر میں 443-734ھ مطابق1333-1342 تک تقریباً 9سال تک قیام رہا ہے، اس دوران محمد بن تغلق کے ساتھ ابن بطوطہ نے بہرائچ کا بھی سفر کیا تھا۔ بہرائچ سفر کے متعلق وہ اپنے سفر نامہ میں رقم طراز ہے :
’’وقصد السّلطان ونحن معہ الی مدینۃ بہرائج (وضبط اسمہابفتح الباء الوحّدۃ وہاء مسکن وراء و الف ویاء آخرالحروف مکسورۃ وجیم) وہی مدینۃ حسنۃ فی عدوۃ نہرالسّرو، وہووادکبیر شدید الانحدار، واجازہ السلطان برسم زیارۃ قبرالشیخ الصالح البطل سالار مسعود، الذی فتح اکثر تلک البلاد، ولہ اخبار عجیبۃ وغزوات شہیرۃٌ‘‘2؎
(ترجمہ) پھر بادشاہ نے بہرائچ کی طرف جانے کاارادہ کیا۔یہ ایک خوبصورت شہر دریائے سرجوکے کنارے واقع ہے، سرجوایک بڑادریاہے جواکثراپنے کنارے گراتا رہتا ہے۔ بادشاہ شیخ سالار مسعود کی قبر کی زیارت کے لیے دریاپار گیا، شیخ سالار نے اس نواح کے اکثر ملک فتح کیے تھے اوران کی بابت عجیب عجیب باتیں مشہور ہیں۔3؎
مترجم حاشیہ میں لکھتے ہیں:
’’بہرائچ: ابوالفضل لکھتاہے کہ یہ شہر دریائے سرجو کے کنارے بستا ہے، شہر بہت بڑا ہے، نوح دلکشا ہے اور باغات بکثرت ہیں۔سالار مسعود اور سالاررجب (فیروز شاہ کے باپ) کے اس جگہ مزار ہیں۔ فی الحال ملک اودھ میں یہ شہر ایک ضلع کاصدر مقام ہے۔‘‘4؎
بہرائچ کی وجہ ِ تسمیہ کے سلسلے میں بہت سی افسانوی اور تاریخی باتیں بیان کی جاتی ہیں؛جو مدت سے کتبِ تواریخ وسیر کے حوالوں سے بیان ہوتی آرہی ہیں۔ مثلاً یہاں ’بھڑ ‘نام کی قوم آباد تھی، جس کے نام پر شہرکانام ’بہرائچ ‘ پڑگیا پھررفتہ رفتہ بہرائچ بولاجانے لگا۔
بہرائچ گزیٹیئر میں مرقوم ہے:
Little in know of the history of district before the invasion by the Musalman. The orthodox legend connects the name of the district with Brahma, who is said to have chosen it as his own kingdom, and calling together a number of Rishis to have stablished his worship here in the Ghandarvavan of the epics; the place was thus called Bahraich.؎5
جب کہ بعض دوسری کتابوں سے پتہ چلتا ہے کہ بہرائچ کو راجہ بہراج نے اپنے نام پر 723 ق م بسایا تھا،جیسا کہ مرزا محمدکاظم برلاس مرادآبادی راجہ بہراج اوراس کے والد راجہ سورج کے بارے میں تفصیل بیان کرتے ہوئے تاریخ الہند جلد ششم (تاریخ اوج قنوج )میں تحریر کرتے ہیں :
’’چونکہ رستم پہلوان ایران سے فیروزرائے نے بیوفائی کاسلوک کیاتھا اس لیے فیروز رائے کے بعد رستم نے تخت حکومت سے اس کی اولاد کو بھی محروم رکھا (مکن بد کہ بد بینی از یار نیک) اور دیگر سردارانِ ہندمیں سے ایک شخص عاقل ودانا اور بہادر کار آزمودہ سورج نامی کو تخت حکومت سونپ کر عیسی علیہ السلام سے 973برس قبل تمام ہندوستان کا فرماں روا بنادیا…..راجہ سورج نے بلدۂ قنوج آباد کیا اوراس میں ایک عظیم الشان بت خانہ تعمیر کرایا اور اسی شہر کواپنا پایہ تخت قراردیا۔راجہ کی اس عقیدت مندی کو دیکھ کر عوام میں بہت بت خانے بن گئے۔ چنانچہ سورج کے آخر عہد میں پچیس ہزار (25000)تک بتوں کی تعداد پہنچ گئی تھی۔ اس نے آخرعہد میں شہر بنارس کی آبادی کی بنیاد ڈالی، لیکن اس کی زندگی میں تمام نہ ہوسکاتھا۔ الغرض راجہ سورج کی حکومت دوسو پچاس (250)برس محسوب ہو رہی ہے۔ اس کی وفات کے وقت اس کے 35 پسر زندہ تھے۔…… راجہ بھراج (بہراج) بن سورج عیسیٰ سے 723 برس قبل قنوج میں تخت نشین ہوا،اس نے بہراج نامی ایک شہر آباد کیاجس کو بہرائج کہتے ہیں۔اس خوش طبع راجہ نے علم موسیقی کے شوق میں اپنی عمر کابڑاحصہ صرف کیا۔ شہر بنارس جوسورج کے زمانہ میںناتمام رہ گیاتھاالبتہ اس نے اپنے علو ہمتی سے اس کو پورا کرکے خوب آبادکیا۔‘‘6؎
اس قول کی تائید عشرت کرتپوری کی ’صبحِ بنارس‘ نامی کتاب کی درج ِ ذیل تحریر سے بھی ہوتی ہے،جس میںوہ تحریر کرتے ہیں :
’’مورخین کا کہنا ہے کہ اس شہر (بنارس)کی باقاعدہ آبادی کی بنیاد راجہ سورج نے ڈالی تھی۔ جس کا دارالحکومت قنوج تھا، اس کے بعداس کے لڑکے راجہ بیراج جس نے بہرائچ آباد کیا تھا،اس کی تکمیل کی اوراسے ایک اچھا شہر بنادیا۔‘‘ 7؎
اسی طرح تاریخ فرشتہ میں ہے :
’’ بہراج نے باپ کے بعد تخت سلطنت پر بیٹھتے ہی بہراج (بھڑائچ ) نام کا ایک شہر اپنے نام سے آباد کیا۔ ‘‘8؎
مذکورہ بالا تفاصیل کی روشنی میںاس بات کا امکان قوی ہوجاتا ہے کہ بہرائچ تقریباً 2700 سال قدیم شہر ہے، یہی وجہ ہے کہ بہرائچ میںبڑے بڑے اہل فضل و صاحب ِکمال شخصیات وافراد گزرے ہیں جنھوں نے دینی، علمی،اصلاحی، ادبی،تاریخی، تحریکی اورسیاسی میدان میںنمایاںاور گراں قدر خدمات اور کارنامے انجام دیے ہیں،جیساکہ سلطان محمود غزنوی (971-1030) کے بھانجے حضرت سید سالار مسعود غازی(1015-1033) نے اپنے قدوم ِ میمنت سینہ صرف بہرائچ کو فیض یاب کیا، بلکہ وہ ہمیشہ کے لیے اسی سرزمین کے پیوند ِخاک ہو گئے۔
ان کے بعد حضرت سیدافضل الدین ابو جعفر الملقب بہ امیر ماہ(متوفی 14؍جون 1371مطابق 29؍ذی قعدہ 772ھ) کا دور آتا ہے جنھو ں نے اس علاقے کو اپنے فیوض وبرکات سے لالہ زار کیا۔ پھرحضرت مولاناشاہ نورمحمد نقشبندی کے صاحب زادے مفکرِ ملت حضرت مولانامحفوظ الرحمن نامی (بانی جامعہ مسعودیہ نورالعلوم وآزادانٹرکالج )کاورود مسعود ہوتا ہے، جنھوںنے اپنے عہد میں بہرائچ کو علمی، دینی، اصلاحی اورسیاسی بلندیوں تک پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی،اور اپنے والد ِمحترم کے نام سے منسوب ایک ایسا علمی پودا لگایا ؛جو چند ہی روز میں ایک تناور درخت کی شکل اختیارکرگیا؛ اورمشرقی اترپردیش کی ایک عظیم اور مقبول درسگاہ کی حیثیت سے شہرت کی بلندیوں کو چھونے لگا،جس سے خوشہ چینی کرنے والے سیکڑوں آفتاب وماہتاب ملک کے گوشے گوشے میں پھیلے ہوئے ہیں اوربہرائچ کانام روشن کررہے ہیں۔
علاوہ ازیں وقت کی اہم اور معتبرترین علمی وادبی شخصیات نے اس شہر سے اپنی عقیدت ومحبت کا اظہار فرمایاہے، جیسے میرتقی میر (1723-1810) آخر ِ محرم 1198ھ /دسمبر 1783میں نواب آصف الدولہ کے ہمراہ شکار کے قصد سے بہرائچ گئے، اس سفرمیں نواب آصف الدو لہ اوران کے رفقا کے بہرائچ کے کترنیا گھاٹ کے جنگل میںجانوروں کے شکارکی تمام ترتفاصیل میر نے اپنی مثنوی ’شکارنامہ‘ میں بیان کی ہے۔جیساکہ رام بابو سکسینہ لکھتے ہیں:
’’نواب آصف الدولہ جب شکار کے لیے بہرائچ تک گئے تو میر صاحب بھی ہم رکاب تھے، اس کی یاد گار میں شکار نامہ موزوں کیا۔‘‘9؎
میرتقی میرخود اپنی خودنوشت ’ذکر ِ میر‘ میں بہرائچ کا ذکر کرتے ہوئے یوںرقم طراز ہیں:
’’ایں جا فقیر بانواب عالی منزلت است۔دردعاگوئی ایشاں بسری کند۔ بندگان ِ عالی برائے شکار تابہرائچ رفتند، من دررکاب بودم، شکار نامۂ موزوں نمودم۔ بارے دیگر باز برائے شکار سوار شدند، تادامن کوہ شمالی بروند۔اگرچہ مردماں از نشیب وفراز این سفر دوردراز سخت خوردندلیکن شکار چنیں وفضائی چنیں نہ دیدہ بودند، بعد از سہ ماہ بدارالقرار خود آمدند۔‘‘10؎
مندرجہ بالا فارسی عبارت کا ترجمہ کرتے ہوئے نثاراحمد فاروقی تحریر کرتے ہیں:
’’یہاں فقیر (میر)نواب عالی منزلت (آصف الدولہ ) کے ساتھ ہے اوران کی دعا گوئی میں بسر کررہا ہے۔ بندگان ِ عالی شکار کے لیے بہرائچ تک گئے۔ میں بھی رکاب میں تھا۔ ایک ’شکار نامہ‘ موزوں کیا۔ دوبارہ پھر شکار کے لیے سوار ہوئے اور کوہِ شمالی (ہمالیہ) کے دامن تک تشریف لے گئے۔ اگرچہ لوگوں نے اس دوردراز سفر کے نشیب وفراز سے بڑی زحمتیں اٹھائیں مگرانھوں نے ایسی فضا،ایسی ہوا،اورایسا شکار کبھی نہ دیکھاتھا۔ تین مہینے کے بعد اپنے دارالقرار (لکھنؤ) میں آئے۔‘‘11؎
میر شکار کی منظر کشی کرتے ہوئے ’شکار نامہ اول‘ کاآغاز اس طرح کرتے ہیں ؎
چلا آصف الدولہ بہر شکار
نہاد بیاباں سے اٹھا غبار
روانہ ہوئی فوج دریا کے رنگ
لگا کانپنے ڈر سے شیر و پلنگ
طیور آشیانوں سے جانے لگے
وحوش اپنی جانیں چھپانے لگے12؎
میر نے بہرائچ کاذکر درج ِ ذیل شعر میں اس طرح کیا ہے ؎
چلے ہم جو بہرائچ سے پیش تر
ہوئے صید دریا کے واں پیش تر13؎
نواب آصف الدولہ،ان کے رفقائِ سفر اور میر تقی میر جب بہرائچ آئے تودریائے گھاگھرا سے بھی واسطہ پڑا، اور گھاگھرا کاپانی، اس کی موجیں اوراس کا تلاطم انھیں بڑا اچھا،لائق ِ لطف اندوز، قابل ِ دید اور دل کو موہ لینے والالگا، چنانچہ میر نے گھاگھرا ندی اور اس کی طغیانی وغیرہ کے خوش نما مناظر کا ذکر بھی ’شکار نامہ اول‘ میں حسب ِ ذیل انداز میں کیا ہے ؎
ہوا حائلِ راہ بحر عمیق
کہ ہو وہم ساحل پہ جس کے غریق
قریب آکے اتری یہ خائف تھی فوج
کہ بے ڈول اٹھتی تھی ہر ایک موج
مہیب اور آلودۂ خاک و آب
بعینہ پھٹی آنکھ تھا ہر حباب
غضب لجہ خیزی بلا جوش پر
تلاطم قیامت لیے دوش پر
چلے بس تو کچھ کوئی چارہ کرے
مگر دیکھ ہی کر کنارہ کرے
تردّد میں ہر اک کہ ہوں کیونکے پار
کنارے پہ سرگشتہ گرداب وار
رواں آب ایسی روانی کے ساتھ
کہ جوں رفتگی ہو جوانی کے ساتھ
لگے پاؤں چلنے جہاں شور تھا
کہ کم آب میں بھی بڑا زور تھا14؎
میرتقی میر کے بعد انشاء اللہ خاں انشا (1752-1817) بھی بہرائچ آئے، اور انھوں نے بہرائچ کاذکر اپنے شعر میںاس طرح کیا ہے ؎
دل کی بہرائچ نہیں ہے ترک تازی کا مقام
ہے یہاں پر حضرت ِمسعود غازی کا مقام15؎
علاوہ ازیںمشہور فلمی شخصیت کیفی اعظمی(1919-2002) کا پچپن اسی شہربہرائچ میں گزرا ؛کیونکہ کیفی اعظمی کے والدصاحب نواب گنج علی آباد ضلع بہرائچ کے نواب قزلباش کے یہاں ملازم تھے،اور شہر بہرائچ کے محلہ سید واڑہ قاضی پورہ میں رہتے تھے۔ یہاں تک کہ کیفی اعظمی نے اپنی پہلی غزل بہرائچ ہی میں پڑھی تھی۔16؎
اسی طرح معروف ناول نگار عصمت چغتائی (1915-1991) کی عمر کا ابتدائی حصہ بہرائچ ہی میں گزراہے۔جیسا کہ ساغر مہدی لکھتے ہیں:
’’میں جس شہر میں رہتاہوں اور پیداہواہوں،وہ بے حد قدیم اور پرانا شہر ہے۔ اس کی قدامت کااندازہ ابن بطوطہ کے سفر نامے اور انشاء اللہ خاں انشا کی غزل کے ایک مطلع ؎
یوں چلی آنکھوں سے اشک ِ خوں فشاں کی میدنی
جیسے بہرائچ چلے بالے میاں کی میدنی
سے ہوسکتاہے۔ میر تقی میر کی مثنوی ’شکارنامہ‘ بھی اسی علاقے کی تصنیف ہے۔ غالب کے ایک شاگرد بے صبر کاٹھوی کاقیام بھی ایک عرصہ تک یہاں رہا۔ بہرائچ کی چھوٹی سی آبادی میں پیلے رنگ کے کچے مکان اِدھر ادھر بکھرے تھے، خاک آلود راستوں پر سے بیل گاڑیاں گزررہی تھیں، اوراداسی کی سی بے رنگ بے نام کیفیت سارے میں طاری تھی، سنا تھا کسی زمانے میں یہاں ایک بے حد عظیم الشان شہر آباد تھا جسے شراوستی کہتے تھے اسی کے سوم ونشی بادشاہ بڑے جاہ وجلال والے تھے۔ ‘‘
(آگ کادریا،قرۃ العین حیدر)
یہ سلاطین شرقیہ کے عہد کابہرائچ ہے، علاوہ ازیں پروفیسر سید مسعودحسن رضوی، عصمت چغتائی، عظیم بیگ چغتائی اور کیفی اعظمی کی ابتدائی زندگی کا ایک دور یہاں گزرا ہے۔ ‘‘17؎
اردو فکشن کے افق پر پوری تابانی کے ساتھ چمکنے والی اور اپنے مشہور ِ زمانہ ناول ’آگ کا دریا‘ کے ذریعے اردو ناول نگاری کوعروج عطاکرنے والی شخصیت مشہور مصنفہ قرۃالعین حیدر (1927-2007) نے بارہا اس شہر میں حاضری دی، حتیٰ کہ اپنے معروف اور ضخیم ناول’آگ کادریا‘ میں بڑی محبتو ں کے ساتھ شہر بہرائچ کا ذکر کیا ہے۔جیسا کہ اوپر گزرا۔
اسی طرح لکھنؤ یونیورسٹی میں 1930 میں شعبۂ اردو کی داغ بیل ڈالنے والے پروفیسر سید مسعود حسن رضوی ادیب (1893-1975)کا مولداور جائے پیدائش بھی یہی شہربہرائچ ہے۔جیساکہ مرزاجعفر حسین ایڈوکیٹ اپنی کتاب ’مسعود حسن رضوی ادیب : حیات و خدمات‘ میں رقم طرازہیں :
(پروفیسر مسعود حسن رضوی ادیب کہتے ہیںکہ)’اودھ کے ضلع اناؤ میں نیوتی کا قصبہ ان کاوطن تھا۔مگر علم کا شوق لکھنؤکھینچ لے گیاتھا؛اور آب و دا نے کی کشش نے بہرائچ پہنچا دیا تھا(والد نے محلہ ناظر پورہ میں ایک مکان لے کر اس کو حسب ِ منشادرست کرنے کی غرض سے کچھ سامان عمارت خریدلیا تھا۔لیکن بہرائچ کاقیام ترک کرتے وقت وہ مکان مع اسباب ودواخانہ وقف عام کردیا)… وہیں 15؍محرم 1311ھ (29؍جولائی 1893)کو میں پیداہوا۔‘‘18؎
معروف ادیب اورعظیم افسانہ نگارمنشی پریم چند (1880-1936) جیسی اہم شخصیت بھی تقریباً تین ماہ تک شہر بہرائچ میں قیام پذیررہی، جیسا کہ جنید احمد نور نے تحریر کیا ہے:
’’ آپ صرف 20 سال کی عمر میں ٹیچر کے عہدے پر فائز ہوگئے تھے ،اس دوران 2جولائی 1900میں آپ کا ٹرانسفر بہرئچ کے گورنمنٹ انٹر کالج میں 20 روپیے ماہانہ پر ہوا ، جہاں پرآپ نے تین ماہ تک بطور ٹیچر تعلیمی خدمات انجام دیں،اور یہیں بہرائچ میں ہی اپنے ناول ’اسرار ِ معابد‘ کی شروعات کی تھی۔‘‘ 19؎
کتب ِ تواریخ وادب کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ بہرائچ کی ادبی وشعری تاریخ تقریباً تین سوسال قدیم ہے،اس مدت میں سرزمین ِ بہرائچ نے ا یسے دُررِ نایاب جنم دیے، جنھوں نے علمی، ادبی، نثری، شعری، تالیفی،تصنیفی، سیاسی، سماجی اور اقتصادی ومعاشی غرضیکہ ہر سطح پر بہرائچ کا نام روشن کرنے کا فریضہ انجام دیا، اور یہ اساطین ِ ادب اور قرطا س و قلم سے اپنا رشتہ استوا ر کرنے والے خود بھی بہرائچ سے مستفیدہوئے اور دوسروں کو بھی فیضیاب کیا، جن کاشمار لیلاے اردوادب کے گیسو سنوارنے والوں اور علم وفن، شعر وادب، تقریر وتحریراورتصنیف وتالیف کے میدان کے باکمال شہسواروں میں ہوتا ہے۔
اس سلسلے میںنعمت بہرائچی اپنی تصنیف ’ تذکرہ شعرائے ضلع بہرائچ ‘ میں رقم طراز ہیں:
’’ سرزمین بہرائچ جسے ابدی آرام گاہ حضرت سید سالار مسعود غازی ہونے کاشرف بھی حاصل ہے ، ارباب ِ علم وادب سے نہ کبھی خالی رہی ہے ، اورنہ آج ہے۔ اودھ کے شہروں میں بہرائچ شہرامتیازی حیثیت کا مالک ہے۔ اس شہر کی تاریخ بہت قدیم ہے۔ یہاں اردواور ہندی کے ایسے ایسے کوی اور شاعر پیداہوئے ہیں جو ملک کے صف ِاول کے شعرا میں امتیازی خصوصیت کے مالک تھے ،اورآج بھی ایسی باکمال ہستیاں موجود ہیں جن کو منفرد واعلی حیثیت حاصل ہے۔ ‘‘ 20؎
چنانچہ بہرائچ کے انھیںآب دار اور قیمتی موتیوں میں؛ اردوزبان و ادب کی خدمت کرنے والی شخصیات، عظیم و عزیز الوجود ہستیاںاور علمی، روحانی،ادبی، شعری اور تصنیفی کام کو انجام دینے والے اشخاص وافرادمیں سر فہرست بل کہ بہرائچ میں اردو شاعری کی بنیاد ڈالنے والے اردواور فارسی کے مشہور عظیم شاعر حضرت مرزا مظہر جانجانا ں(1699-1781) کے تلمیذ ِ خاص اور خلیفہ و جانشین شاہ نعیم اللہ بہرائچی ہیں جن کی ولادت بہرائچ کے قصبہ فخرپور میں 1738میں اور وفات 5؍صفر 1218ھ مطابق 1803، 65 سال کی عمر میں بروزجمعہ نماز عصر کی تیسری رکعت کے سجدے میں ہوئی،اورتدفین گیند گھر کے میدان میں واقع احاطہ شاہ نعیم اللہ میں ہوئی۔21؎
شاہ صاحب نے اردو،عربی اور فارسی میں بہت سی کتابیں تصنیف فرمائیں،جیساکہ خانقاہ ِ نعیمیہ کے سجادہ نشین سیدظفر احسن نے تالیفات ِ حضرت شاہ نعیم اللہ بہرائچی کے عنوان سے شاہ صاحب کی 26 تصانیف کی فہرست تحریر کی ہے22؎ جن میں مطبوعہ وغیر مطبوعہ اور اردو،عربی اور فارسی تمام کتابیں شامل ہیں۔
شاہ نعیم اللہ صاحب نے اپنے شیخ ومرشد حضرت مرزا مظہر جان جاناں کے حالات پر بھی دوکتابیں بشارات مظہریہ اور معمولات مظہریہ تصنیف کی تھیں۔ شاہ صاحب کے چند اردو اشعار درج ذیل ہیں ؎
الٰہی مرے دل کو روشن تو کر
بنورِ محبّت منوّر تو کر
مجھے یاد اپنی میں دائم تو رکھ
مجھے نورِ سنّت پہ قائم تو رکھ
ثنا چار یاروں کی ایمان ہے
مرا جان و دل ان پہ قربان ہے
یہاں ہے ز بس اتّباعِ رسول
بجز پاس سْنّت نہیں کچھ قبول
بہرائچ سے تعلق رکھنے والے ادباوشعرکی فہرست میں سرزمین ِ بہرائچ کواپنی ہجرت گاہ بنانے والے شہنشاہ طنزوظرافت سیدریاست حسین المتخلص بہ شوق بہرائچی (1884-1964) بھی ہیں ؛جن کی پیدائش 6؍جون 1884 کواگرچہ فیض آباد (ایودھیا) میں ہوئی تھی، لیکن بعد میں ملازمت کے سلسلے میںہجرت کرکے بہرائچ چلے آئے،اوریہیںاپنی پوری زندگی بسر کی۔انھوں نے اپنی طنزیہ ومزاحیہ شاعری کے ذریعے لوگوں کے ہونٹوں پر ہنسی بکھیری،اوراپنے مبنی بر حقیقت اشعار سے عوام وخواص کو مسکرانے پر مجبور کیا، ان کا ایک بہت ہی معروف زبان زد شعر یہ ہے ؎
برباد گلستاں کرنے کو بس ایک ہی الو کافی تھا
ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے انجامِ گلستاں ہوگا
شوق بہرائچی نے بہرائچ ہی سے اپنا ادبی وشعری سفرشروع کیا،اس وقت بہرائچ شعروادب کا گہوارہ تھا۔ جگر بسوانی، رافت بہرائچی، حکیم اظہر وارثی، مولاناجمال الدین باباجمال بہرائچی، لاڈلی پرشاد حیرت، سورج نرائن آرزو، مولاناسجاد حسین طورنانپاروی، ابوالفضل شمس لکھنوی اور پیارے صاحب رشید لکھنوی وغیرہ (بہرائچ، نانپارہ اور جرول جیسے ادب پرور وادب نواز علاقے میں پھیلے ہوئے تھے اور جن کی غزلوں کے چرچے لوگوں کی زبان زد تھے ) کے ہم عصر تھے۔
اپنی ہجویہ ومزاحیہ شاعری کے ذریعے کم وبیش نصف صدی تک لوگوں کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھیرنے والا فنکار 80 سال کی عمر میں 13؍جنوری 1964 کو اپنے مالکِ حقیقی سے جاملا۔ شہر کے چھڑے شاہ تکیہ قبرستان میں تدفین ہوئی۔
شوق بہرائچی کے کلام کا مجموعہ عرفان عباسی کا مرتب کردہ اترپردیش اردواکادمی لکھنؤ نے 2009 میںشائع کیا ہے۔ اس کے علاوہ ان کادیوان مارچ 2011 میں ’ طوفان ‘ کے نام سے جناب شمیم اقبال خاں کی محنت اور جد وجہد سے منظر عام پر آچکاہے۔ ان کے چند مشہور اشعار درج ِ ذیل ہیں ؎
یہاں ہر اہل ِ فن کی قدر بعد المرگ ہوتی ہے
یہاں ہر ایک دعویٰ خارج المیعاد ہوتا ہے
یہاں ہر چیز اب میراث اپنی سمجھی جاتی ہے
یہاں جو وقف ہوتا علی الاولاد ہوتا ہے
چل پڑا گھر سے آیا بہرائچ
دانہ اور پانی لایا بہرائچ
اللہ غنی اس دنیا میں سرمایہ پرستی کا عالم
بے زر کا کوئی بہنوئی نہیں زردار کے لاکھوں سالے ہیں
سرشار اور نسیم کی پالی ہوئی زباں
چکبست ذی حشم کی سنبھالی ہوئی زباں
آلودۂ غبارِ تعصب نہ ہو کہیں
گنگ و جمن کے جل میں کھنگالی ہوئی زباں
اگر تم ابن ِ آدم ہو، تو وہ بھی بنت ِ آدم ہے
مری بیوی نے تم کو کہ دیا بھائی، تو کیا ہوگا ؟
بہرائچ کی ادبی وشعری فضا کو معطر کرنے والوں میں مولانا جمال الدین احمد باباجمال بہرائچی بھی تھے ؛جو نام ونمود سے بے نیازاور شہرت سے کوسوں دورتھے، چھپنے چھپانے میں کوئی دل چسپی نہیں تھی۔
بابا جمال کی ولادت 1901 میں شہر بہرائچ کے محلہ بشیر گنج میں ہوئی تھی۔جامعہ مسعودیہ نورالعلوم کے فارغ التحصیل تھے اوربانی جامعہ مولانا محفوظ الرحمن نامی سے گہری دوستی تھی، علوم ادبیہ وشعریہ پر ماہرانہ قدرت رکھنے کے ساتھ زودگواورقادرالکلام شاعر تھے۔ ڈاکٹر عبرت بہرائچی ان کے بارے میں رقم طرازہیں:
’’ شام کے وقت بازار میں دواسکول لگتے تھے ایک اسکول گھنٹہ گھر میں اشوک کے پیڑکے نیچے باباجمال لگاتے تھے جس میں ان کے شاگرد شریک ہوتے تھے۔‘‘23؎
باباجمال نے اپنی شاعری کے ذریعے انسانی محبت و اخوت کا پیغام دینے کے ساتھ وطنیت، قومی یک جہتی اور جذبۂ حب الوطنی کو فروغ دیا۔ ان کی نظموں کے عنوانات ’آوازۂ اتحاد، لباس ِ اتحاداورفکر ِآشیاں‘وغیرہ سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ایک سچے اور پکے محبّ ِوطن تھے۔ انھوں نے اپنی شاعری میں اپنے وطن دوست ہونے کا نہ صرف ثبوت پیش کیا بلکہ حصو ِل آزادی کے لیے انھوں نے اپنی شاعری اور اپنے قلم کوآلۂ جہادبناکر تحریک ِآزادی میںبڑھ چڑھ کر حصہ لیا،نظموں اور نغموں میں روشنائی کی جگہ خو ِن دل استعمال کیا اور آزادی کے متوالوں کو وہ جوش و خروش، ولولہ اور ہمت و حوصلہ عطا کیا۔
بابا جمال کی وفات 1982میں ہوئی،اور تدفین مقامی قبرستان چھڑے شاہ تکیہ میں ہوئی۔ان کے شاگردوں کی فہرست بڑی طویل ہے۔ ان کا مجموعۂ کلام ’صدائے وطن ‘ہے ؛جو اگست 2024 میں برادرعزیز جنید احمد نور کی کد وکاوش سے شائع ہوکرمنظرعام پر آیا ہے۔چند اشعاردرج ِذیل ہیں ؎
نہ جانے کس ہوا میںہے دماغ ِ باغباں برہم
چمن اپنا تھا، اور ہو کر رہے گا پھر چمن اپنا
یہیں کے گل گلے کا ہار ہیں اور ہم نشیں ہوں گے
نہ چھوٹا ہے، نہ چھوٹے گا چمن اپنا،وطن اپنا
پھولوں کو خزاؤں کے لیے چھوڑ دیں کیسے
شادابی گلشن ہے جمال اپنے ہی دم سے
جس سے بنتا ہو لباسِ اتحاد و اتفاق
ایسا تانا چاہیے اور ایسا بانا چاہیے
محبت کے جو گل بوٹے ہر اِک جانب کھلے ہوتے
تو صحن ِ قید خانہ بھی جواب ِ گلستاں ہوتا
آزادی اپنی شان کے ساتھ آئی ہے اس طرح
شاہی کی آن بان گئی سرکشی کے ساتھ
بہرائچ کے شعراوادبا کی فہرست میںبابو سورج نرائن سنگھ آرزوبھی تھے ؛جو فطری شاعر تھے، کم گو تھے؛ لیکن خوب گو تھے، گورنمنٹ انٹر کالج میں ٹیچر تھے، انگریزی گرامر پر کافی دسترس تھی۔ جن کی پیدائش 1903 میں شہر بہرائچ میں ہوئی۔سیدخالد محمود مرحوم آرزو بہرائچی کے بارے میں لکھتے ہیں:
’’1947کے بعد افق ِ اردو پر غیر مسلم شعرائے کرام میں تلوک چند محروم، جگن ناتھ آزاد، گوپی ناتھ امن اور آنندنرائن ملّا نے اردوکاجھنڈااٹھا رکھاتھا۔ بہرائچ میں سورج نرائن آرزو تمام محبان ِ اردو سے بے حد متأثر تھے کہ اس دور میں آپ نے اپنے مادر ِ علمی الٰہ آباد کی سرزمین سے سکھدیو پرشاد سنہا بسمل الٰہ آبادی کایہ شعر سنا ؎
ہمارا سلسلہ ہے خاندانِ داغ سے بسمل
جسے ہو سیکھنا وہ سیکھ لے اردو زباں ہم سے
اورآرزو صاحب نے بسمل کے رنگ ِ تغزل سے متأثر ہوکر انھیں کاانداز اپنایا، اور شاعری کی ہر صنف میں لب کشائی کی۔‘‘24؎
آرزو بہرائچی کی وفات 1970میں ہوئی۔ آپ کا کوئی مجموعۂ کلام شائع نہیں ہوا۔ چند اشعار درج ِذیل ہیں، جن میں پہلاقطعہ بہت مشہورہوا ؎
کوئی ہے ایٹمی طاقت پہ نازاں
کسی کے ہاتھ سے مردے جیے ہیں
کوئی اب چاند پہ پہنچے نہ پہنچے
کسی نے چاند کے ٹکڑے کیے ہیں
کتنی مضبوط ہے تنظیمِ جہانِ اردو
مٹ نہیں سکتا مٹانے سے نشانِ اردو
اسی سلسلے کی ایک اہم علمی کڑی مولانا بلالی تھے، جوشہربہرائچ سے تقریباً 40 کلومیٹر کے فاصلے پر قصبہ علی آباد ( نواب گنج)میں 1912میں پیداہوئے تھے۔ ابتدائی سے لے کر مڈل تک کی تعلیم مقامی اسکول میں حاصل کرنے کے بعد ضلع کے معروف ادارہ جامعہ مسعودیہ نورالعلوم بہرائچ میں داخل ہوئے اور بانی جامعہ مولانا محفوظ الرحمن نامی کی سرپرستی میں فارسی نصاب کی تکمیل کے بعدعربی کی ابتدائی کتب پڑھیں،پھر دارالمبلغین لکھنؤ چلے گئے جہاں مولانا عبدالشّکور فاروقی کی نگرانی میں تعلیمی زندگی کا خاصا حصہ گزارا،اور مولانا فاروقی سے خوب خوب استفادہ کیا۔
مولانابلالی بچپن ہی میں شعر کہنے لگے تھے،پھر جب لکھنؤ آئے تووہاں کی شعری وادبی فضا سے بالخصوص سراج لکھنوی، شمس لکھنوی اورعلامہ شفیق جون پوری سے بھرپور فائدہ اٹھایا۔
مولانا بلالی کااصل نام علی شیراور تخلص شیدا تھا، لیکن جامعہ نورالعلوم کی طالب علمی کے زمانے میں ناظم جامعہ مولانا محفوظ الرحمن نامی نے جب آپ کا کلام سنا تو بے حد خوش ہوئے،اور انھوں نے آپ کی سیاہ فامی اورخوش الحانی کی بناپر حضرت بلال حبشی کی مناسبت سے بلالی تخلص رکھ دیا، پھر یہ تخلص اتنا عام اور مشہورہوا کہ لوگ اصل نام تک نہیں جانتے تھے۔ مولانابلالی خود اپنے متعلق یہ شعر پڑھتے تھے ؎
بلالی رنگ می دارم کہ رنگِ مصطفیٰ دارم
بہ دل حبّ ِ محمد چوں بلالِ پارسا دارم
مولانا بلالی کاحافظہ غضب کاتھا، چنانچہ حفظ قرآن کریم کا واقعہ بہت مشہور ہے کہ قصبے کی مسجد کے امام صاحب کسی وجہ سے ناراض ہوگئے اور تراویح پڑھانے سے انکار کردیا تو مولانا بلالی نے رمضان آنے پرروزایک پارہ یاد کرنااورتراویح میں سناناشروع کردیا، اس طرح ماہ ِ رمضان المبارک میں پورا قرآن کریم حفظ کرلیا۔ ڈاکٹر تابش مہدی مولانا بلالی کے بارے میں تحریر کرتے ہیں:
’’مولانا بلالی علی آبادی میرے استاذ بھی تھے اور مربی اور محسن ومشفق بھی۔ میں نے ان کی خدمت میں ایک لمبا عرصہ گزاراہے۔ عربی کی ابتدائی اور فارسی کی تقریباً تمام بڑی کتابیں میں نے انھیں سے پڑھی ہیں۔ شعروسخن سے مجھے اس وقت دلچسپی پیدا ہو گئی تھی جب میں پرائمری درجات میں پڑھتا تھا۔ یہ دلچسپی عمر،تجربے اور مشاہدے کے ساتھ بڑھتی اور پروان چڑھتی رہی۔ جب میں مولاناکی خدمت میں نواب گنج علی آباد حاضر ہوا تومیری اس دلچسپی میں نظم کی شکل پیداہوگئی۔ میں جو کچھ لکھتا یابہ الفاظ دیگر تک بندیاںکرتاتھا،انھیں استاذ محترم کو دکھاتاتھا۔ یہ استاذ محترم کی بے پناہ شفقت و محبت ہی تھی کہ وہ کسی تاکید و تنبیہ کے بغیر ان تک بندیوں کو درست فرماتے تھے۔ حوصلہ افزا کلمات سے نوازتے تھے اور بڑی تفصیل سے شاعری کے آداب ورموز بھی سمجھاتے تھے۔‘‘ 25؎
ڈاکٹر تابش مہدی دوسرے مقام پر رقم طراز ہیں:
’’ مولانا جب شاعری کی طرف متوجہ ہوتے تھے، کسی مصرعے پر طبع آزمائی فرماتے تھے یااردو وفارسی کے اساتذہ کاذکر کرکے ان کے اشعار سے استدلال فرماتے تھے تو وہ بھول جاتے تھے کہ وہ عالم اور واعظ بھی ہیں۔ شاعری میں آمد کا یہ عالم تھا کہ چند منٹ میں سخت سے سخت زمین اور مشکل سے مشکل تر قوافی میں درجنوںا شعار کہہ ڈالتے تھے۔ برجستہ گوئی میں انھیں ید ِ طولیٰ حاصل تھا۔ ‘‘26؎
مولانا بلالی جملہ اصناف شاعری پر حاکمانہ قدرت رکھتے تھے،غزل گو ئی ہویا نظم گوئی، قصیدہ نگاری ہویامرثیہ نگاری،حتی کہ نعت گوئی، غرض کہ ہر صنف پر طبع آزمائی کی ہے،اور کام یاب بھی رہے۔ ان کاانتقال 17/مارچ 1987کو لکھنؤ میں ایک ایکسیڈنٹ میں ہوا،جنازہ آبائی وطن نواب گنج علی آباد (بہرائچ ) لایا گیا،جہاں مقامی قبرستان میں تدفین عمل میں آئی۔
ان کی غزلوں کا مجموعہ ’ساغر ِ حسن‘ ہے، جب کہ مذہبی شاعری پر مشتمل ’ ہجرت، لیلۃ المعراج اورآفتابِ کربلا‘ نامی شعری مجموعے کافی مقبول ہوئے اوران کتابوں کے کئی ایڈیشن شائع ہوئے۔ان کے علاوہ دیگر تصانیف میں پل صراط(نثری) اور منظوم لآلی ہیں۔ چنداشعار پیش خدمت ہیں ؎
دل رنج کے عالم میں بھی رنجور نہیں ہے
آزاد طبیعت مری مجبور نہیں ہے
ہیں دار و رسن آج بھی حق گوئی کی خاطر
ناصر تو بہت ہیں کوئی منصور نہیں ہے
باتیں تو بڑے ہوش کی کرتا ہے بلالی
دنیا کے طلسمات سے مسحور نہیں ہے
بہرائچ کے ادبی افق پر طلوع ہونے والی ایک شخصیت وصفی بہرائچی کی بھی ہے، جن کااصل نام عبد الرحمن خاں تھا،لیکن وصفی بہرائچی کے نام سے مشہورتھے۔جن کی ولادت 22؍اکتوبر 1914کو شہر کے محلہ میراخیل پورہ میں ہوئی تھی۔
ان کے دادا ضامن علی خا ں انیق بہرائچی میر انیس کے ہم عصر تھے۔ وصفی صاحب خود بہرائچ کے مشہور استاد شاعر توتھے ہی،ان کے بھائی ڈاکٹر محمد نعیم اللہ خاں خیالی بھی مشہور ماہر لسانیات ہونے کے ساتھ ساتھ تقریباًچاردرجن کتابوں کے مصنف اور قادرالکلام شاعرتھے۔
وصفی صاحب کے بارے میں والی آسی لکھنوی لکھتے ہیں:
’’سیدسالار مسعودغازی کی آخری آرام گاہ (بہرائچ) عبدالرحمن خاں وصفی کا مولد ومسکن ہے۔ آپ کاخاندان بہرائچ میں کئی پشتوں سے آباد ہے،اوران کے خانوادے میں تصوف اور شاعری کی روایت بڑی قدیم ہے، چناں چہ وصفی صاحب کے کلام پر صوفیانہ رنگ کی جھلک نمایاں طور پر نظرآتی ہے۔ ‘‘27؎
وصفی بہرائچی کا رافت بہرائچی، شوق بہرائچی،بابو لاڈلی پرشاد حیرت بہرائچی، بابا جمال، حکیم اظہر وارثی، واصف القادری نانپاروی، ایمن چغتائی نانپاروی،محسن زیدی، سید ساغر مہدی، اظہار وارثی، ڈاکٹرعبرت بہرائچی، والی آسی لکھنوی، فنا نانپاروی، اثر بہرائچی اورشاعر جمالی وغیرہ سے دیرینہ اور گہرا تعلق تھا۔وصفی صاحب کے شاگروں میں حاجی لطیف نوری بہرائچی،اطہر رحمانی اور فیض بہرائچی کا نام بطور خاص قابل ذکر ہے۔
وصفی بہرائچی کا انتقال 13؍اپریل1999کو ہوا تھا،اور تدفین شہر کے مشہور قبرستان عیدگاہ میں ہوئی تھی۔
وصفی بہرائچی کی غزلوں پر مشتمل صرف ایک مجموعہ کلام بنام ’افکارِ وصفی‘1986 میں فخرالدین علی احمد میموریل کمیٹی لکھنؤ اتر پردیش کے مالی تعاون سے شائع ہوچکاہے۔وصفی صاحب کے چند اشعار حسب ِ ذیل ہیں ؎
قدرت کے کرشمے ہیں یہ ہیں وقت کے حالات
سورج کو اب آئینہ دکھانے لگے ذرّات
یہ چاند یہ سورج یہ نجوم ارض و سماوات
ہیں خلق مگر خالقِ اکبر کی ہیں آیات
اسی فہرست کی ایک کڑی ڈاکٹر محمد نعیم اللہ خیالی بھی تھے؛جو عبدالرحمن خاں وصفی کے بھائی تھے۔ ان کی ولادت15؍اپر یل 1920کوشہر کے محلہ قاضی پورہ میں ہوئی۔
خیالی صاحب اردو،عربی اورفارسی کے ماہرتھے۔روایتی اور رسمی اسکولوں اور کالجوں میں قدم رکھے بغیر ہائی اسکول سے لے کر ایم اے تک سارے تعلیمی مراحل پرائیویٹ امیدوار کی حیثیت سے طے کرنے کے بعد 1973میں آگرہ سے ’اردوکی بین الاقوامی حیثیت ‘ کے عنوان سے پی ایچ ڈی کے لیے رجسٹریشن کرایا، اور ڈاکٹر ہوگئے۔ علاوہ ازیںمنشی کامل،دبیر کامل،فاضل طب وغیرہ کے امتحانات بھی نمایاں پوزیشن سے پاس کیا۔ پروفیسرایم ایم جلالی (رئیس شعبۂ فارسی،بریلی کالج، روہیل کھنڈ یونیورسٹی ) خیالی صاحب کے بارے میں تحریر کرتے ہیں:
’’موصوف کو عربی، فارسی، ہندی اوراردو، تامل، تلگو، بنگلہ کے علاوہ روسی، فرنچ، جرمن، انگریزی، چینی، ترکی اور لاطینی زبانوں میں بھی کافی عبورہے۔ لسانیات کے علاوہ ایلوپیتھی، یونانی،آیورویدک طریقۂ علاج میں عملی طور پر زبردست مہارت ہے۔ اورصبح سے شام تک ہرروز صدہامریض آپ کے دست شفاء سے فیض یاب وصحت یاب ہوتے ہیں۔ لیکن آپ نے علمی اور ادبی ذوق کی پرورش اور تعلیم وتدریس کے جذبات کے پیش نظر کسب ِ معاش کے لیے پیشۂ علمی کاانتخاب کیا۔ 1956سے 1980تک (مسلسل 25 سال تک ) آزاد انٹر کالج بہرائچ میں اردواورعربی کادرس دیتے رہے۔ آخر میں کچھ مدت کے لیے کسان ڈگری کالج میں بحیثیت پروفیسر اردو تقررہوگیا۔‘‘28؎
خیالی صاحب نے فروری1953 میںاپناایک ادبی ماہانہ رسالہ ’چودہویں صدی‘ بھی جاری کیا تھا، جس کے وہ خود ہی مدیر تھے۔اس کے پہلے شمارے کے اداریے میں’نظارے‘ کے عنوان سے لکھتے ہیں:
’’ عرصہ ہوا کہ فن لطیف کے نام سے ایک ماہنامہ کا ڈیکلریشن داخل کیا گیاتھا اور بعض کرم فرمادوستوں خصوصاً معراج لکھنوی، انجم شاہانی، وقار خلیل شاہ پوری، خان سعید اڈیٹر صبوحی، بسمل لکھنوی اور بہن وحیدہ نسیم صاحبہ وغیرہم کی مخلصانہ کوششوں سے کافی مضامین نظم ونثر کی فراہمی بھی ہوگئی تھی مگرافسوس کہ گوناگوں پریشانیوں کے سبب پرچہ کا اجرا عمل میں نہ آسکا۔ یہ سلسلۂ تعطل اتنا دراز ہوا کہ دوسراڈیکلریشن ’چودہویں صدی‘ کے نام سے داخل کیا گیا جس کا پہلا شمارہ جیسے تیسے کرکے بدقت ِ تمام حاضر خدمت کیاجارہاہے۔‘‘ 29؎
خیالی صاحب نے 31؍دسمبر 1991کو اس دار ِفانی سے کوچ کیا۔ تدفین شاہ نعیم اللہ کے احاطے میں ہوئی۔
ڈاکٹرخیالی کی مطبوعہ اور غیر مطبوعہ تصانیف تقریباً چار درجن ہیں؛جن میں صرف اردوزبان وادب پر دس کتابیں ہیں۔ چند اشعار درج ِ ذیل ہیں ؎
شگفتہ آج کچھ دل کی کلی معلوم ہوتی ہے
بہارِ خندۂ گل زندگی معلوم ہوتی ہے
وہ میرے دل کی کہتے ہیں،میں ان کے دل کی کہتاہوں
محبت اتفاقِ باہمی معلوم ہوتی ہے
دل کچھ سمجھ سکا نہ معمّے جناب کے
انداز ہی عجب ہیں سوال و جواب کے
کیوں کر نہ منفرد ہوں خیالی غزل کے شعر
اوراقِ منتشر ہیں یہ دل کی کتاب کے
بہرا ئچ کے ایک ادیب وشاعر نعمت اللہ المتخلص بہ نعمت بہرائچی بھی تھے؛ جن کی ولادت 2؍جولائی 1927کو شہرکے محلہ بشیر گنج میں ہوئی۔ بچپن ہی میں شاعری کاشوق پیداہوگیا جو عمر کے ساتھ نکھرتاچلاگیا،بابا جمال بہرائچی کے شاگردتھے۔ تمام اصناف کے قادرالکلام اور نہایت زود گو شاعر کی حیثیت سے متعارف تھے۔
نعمت بہرائچی کی وفات 4؍مئی 2006کو بہرائچ میں ہوئی۔
نعمت بہرائچی کی دو تصانیف ہیں، ایک شعری مجموعہ ’ پیاسے جام ‘، دوسری نثری تصنیف ’تذکرہ شعرائے ضلع بہرائچ‘ ہے؛ جوضلع بہرائچ کے 111شعرا کے تذکرہ اوران کے منتخب کلام پر مشتمل ہے۔ چند اشعار ذیل میں پیش کیے جارہے ہیں ؎
مصروف زندگی سے جو موقع ملا مجھے
فکر سخن کے ذوق نے اپنا لیا مجھے
سیکھنا ہے اگر وفا داری
ملتے رہیے گا بے وفاؤں سے
اس جادۂ عشق میں اے لوگو! ہے ذرّہ ذرّہ انگارا
گزرے تھے کبھی ان راہوں سے،پاؤں میں ابھی تک چھالے ہیں
جس رُخ سے نظم کرنا تھا افسانۂ حیات
وہ رُخ بھی پاگئے ہیں تری بے رْخی سے ہم
اسی سلسلے کی ایک کڑی محسن زیدی کی شکل میں بھی بہرائچ کی سرزمین پر رہی ہے، جس کااصل نام سید محسن رضا زیدی تھا۔ 10؍جولائی 1935 کو شہربہرائچ میں ولادت ہوئی۔ ابتدائی تعلیم پرتاپ گڑھ میں حاصل کرنے کے بعد ہائی اسکول اور انٹرمیڈیٹ بہرائچ کے کالجوں میں، پھر بی اے لکھنؤ یونیورسٹی سے اور معاشیات میں ایم اے کی ڈگری الٰہ آباد یونیورٹی سے حاصل کی۔ 1956میں گورنمنٹ ملازم ہوگئے اورریٹائرمنٹ (1993) تک کئی اہم عہدوں پر فائز رہے۔
محسن زیدی نے پرتاپ گڑھ کے قیام کے دوران نازش پرتاپ گڑھی سے متأثر ہوکرکم عمری ہی میں شاعری شروع کردی۔ محسن زیدی غزل کے شاعر تھے۔
محسن زیدی کی شاعری کے درج ِ ذیل چھ مجموعے شائع ہوئے : شہرِدل، رشتۂ کلام، متاعِ آخر شب، باب ِ سخن، جنبش ِ نوک قلم اور کلیات محسن زیدی۔چند اشعا ر پیش خدمت ہیں ؎
جنبشِ نوکِ قلم ہی سہی خنجر کے خلاف
کوئی میدان میں آئے تو ستم گر کے خلاف
کوئی کشتی میں تنہا جا رہا ہے
کسی کے ساتھ دریا جا رہا ہے
دکھا رہی ہے جہاں دھوپ اب اثر اپنا
بکھیرتا تھا وہیں سایہ اِک شجر اپنا
اسی فہرست میںایک نام سید ساغر مہدی کابھی ہے، جن کی ولادت شہر کے محلہ سیدواڑہ قاضی پورہ میں 14؍جولائی 1936کو ہوئی۔ 1958 میں شہر کے آزاد انٹر کالج سے انٹر کا امتحان پاس کیا، اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے بی اے کیا۔ کم عمری ہی میں شاعری شروع کردی تھی،جس میں عمر کے ساتھ نکھار آتا چلاگیا، اور ایک کہنہ مشق شاعر کے طور پر متعارف ہوئے۔ شاعری میں شوق بہرائچی کے شاگردتھے۔
ساغر مہدی نے 20؍دسمبر 1980کوبہرائچ میں اپنی قیام گاہ پر یہ شعر پڑھتے ہوئے اپنی جان جان آفریں کے سپرد کی ؎
ہر ایک چیز لٹا کر پیمبروں کی طرح
صداقتوں کا امیں موت کے دیار میں ہے
ساغر مہدی کے دوشعری مجموعے’حرف ِ جاں‘ اور ’دیوانجلی‘ منظر عام پر آئے،جب کہ ’ تحریر وتحلیل ‘ کے نام سے نثری مضامین کا مجموعہ بھی شائع ہوچکاہے۔ چند اشعار درج ِ ذیل ہیں ؎
اک اجنبی خیال سے دل سے جدا رہا
نیند آ گئی تھی رات مگر جاگتا رہا
تم اب کے خط میں یہ لفظوں کا سلسلہ رکھنا
ہر ایک لفظ کا مفہوم دوسرا رکھنا
عجب دورِ نمائش ہے کیا کہوں ساغر
مجھے محال ہوا گھر میں بوریا رکھنا
اسی سلسلۃ الذہب میں اظہاروارثی بھی شامل تھے،جن کی ولادت شہر کے محلہ برہمنی پورہ میں 21؍نومبر 1940کو ہوئی۔ والدکانام حکیم محمد اظہر وارثی تھا، مشہور صوفی بزرگ حضرت وارث علی شاہ کی نسبت سے وارثی کالاحقہ اپنے نام کے ساتھ لگاتے تھے۔اعلی درجے کے شاعر تھے اور ہر صنف میں شاعری کرتے تھے لیکن مشاعرہ پڑھنے نہیں جاتے تھے۔ 21؍ اگست 2018 کو سہ پہر بہرائچ میں انتقال کیا اور اگلے روزصبح بعدنماز عیدالاضحی چھوٹی تکیہ کے قبرستان میں تدفین ہوئی۔
آپ کے پانچ شعری مجموعے کبوتر سبز گنبدکے،کشت ِ خیال، سوچ کی آنچ، بوند بوند شبنم، شہب ِ تنہائی کا چاند منظرعام پرآچکے ہیں۔ آپ کے فن اور شخصیت پرایک کتاب ’اظہاروارثی :شخصیت اورفن‘ کے نام سے جناب شارق ربّانی نے 2017میںترتیب دی ہے۔اظہار صاحب کے چند اشعار حسب ِ ذیل ہیں ؎
لمحہ لمحہ دستک دے کر تڑپاتا ہے جانے کون
رات گئے من دروازے پر آ جاتا ہے جانے کون
زندگی میں تری یادوں کو بھلادوں کیسے
رات باقی ہے چراغوں کو بجھادوں کیسے
باقی وفا کا نام رہے گا جفا کے ساتھ
اِک ربط ہے چراغ کو ظالم ہوا کے ساتھ
سرزمین ِ بہرائچ سے تعلق رکھنے والی ادبی شخصیات میں عنبر بہرائچی بھی تھے؛جن کااصل نام محمد ادریس تھا، اور 5؍جولائی 1949ضلع بہرائچ کی تحصیل مہسی کے سکندرپور گاؤں میں پیداہوئے تھے۔ جغرافیہ میں ایم اے اور صحافت میں ڈپلوما کے علاوہ سول سروسز کے مقابلہ جاتی امتحانات میں کامیاب ہوکر مختلف عہدوں پر فائز رہے۔
ساہتیہ اکادمی کے ایوارڈ یافتہ تھے۔شاعری میں اپنااستاذ باباجمال کو منتخب کیاتھا، اور انھوں نے ہی ان کا تخلص عنبر تجویزکیاتھا۔
عنبر بہرائچی نے ریٹائر ہونے کے بعد لکھنؤ کواپنا مسکن بنالیا تھا، وہیں 7؍مئی 2021 مطابق 24؍ رمضان 1442ھ بروزجمعہ وفات پائی، اور ان کی اہلیہ کی تعمیر ہوئی’مسجد عنبر‘میں مدفون ہوئے۔
آپ کی تصانیف روپ انوپ، سنسکرت شاعری، خالی سیپیوں کااضطراب، سنسکرت بوطیقا، لَم یَآتِ نَظِیرْکَ فِی نَظَرٍ،سوکھی ٹہنی پر ہریل، ملنگ ملہار، آنندوردھن اوران کی شعریات، گمنام جزیروں کی تمکنت‘‘ ہیں۔ چند منتخب اشعار پیش خدمت ہیں ؎
چلو اس بار پھر یہ مرحلہ میرے ہی سر پر ہے
وہی پتھر کی کشتی ہے وہی گہرا سمندر ہے
آم کے پیڑوں کے سارے پھل سنہرے ہو گئے
اس برس بھی راستہ کیوں رو رہا تھا دیکھیے
چہروں پہ زر پوش اندھیرے پھیلے ہیں
اب جینے کے ڈھنگ بڑے ہی مہنگے ہیں
شعراے بہرائچ کی فہرست کاایک نمایاں نام شاعر جمالی کا ہے، جن کااصل نام سید نظرالحسنین اور تخلص شاعرتھا، جمالی کالاحقہ شاعری کے استاذ باباجمال کی نسبت سے لگاتے تھے۔ شاعر جمالی کی پیدائش 15؍جون 1943کو شہر کے محلہ قاضی پورہ میں ہوئی۔ ایم اے (اردو )تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد جونپور میں سرکاری ملازم ہوگئے۔
شاعر جمالی نے بیرون ِ ملک میں بھی مشاعرے پڑھے، اور بہرائچ کو وہاں بھی متعارف کرایا۔ ان کا انتقال 18؍اکتوبر 2008فیض آباد ریلوے اسٹیشن پر ایک مشاعرے میں جاتے ہوئے ہوا، تدفین بہرائچ کے قصبہ نانپارہ میں ہوئی۔
تین شعری مجموعے ’ کرب، صحیفہ، لہجہ‘ شائع ہو چکے ہیں۔ شاعرجمالی کا یہ شعر بہت پسند کیا گیا ؎
تم آسماں کی بلندی سے جلد لوٹ آنا
ہمیں زمیں کے مسائل پہ بات کرنی ہے
دیگر اشعار حسب ِ ذیل ہیں ؎
چھپ گیا عید کا چاند نکل کر دیر ہوئی پر جانے کیوں
نظریں اب تک ٹکی ہوئی ہیں مسجد کے میناروں پر
بھیڑ میں بھی یہ میرا ساتھ نہیں چھوڑتی ہے
میری تنہائی میرا ہاتھ نہیں چھوڑتی ہے
اس سیاست کو کبھی گھر میں نہیں آنے دینا
یہ طوائف ہے کبھی ذات نہیں چھوڑتی ہے
ادباوشعرا کی فہرست میں ایک اہم اور نہایت معتبر شخصیت عبدالعزیزخا ں المتخلص بہ ڈاکٹر عبرت بہرائچی کی تھی،جنھوںنے شہر بہرائچ کے محلہ ناظر پورہ میں یکم جنوری 1927کو آنکھیں کھولیں، شاعری ان کو ورثے میں ملی تھی۔میرانیس کے ہمعصر ضامن علی خاں انیق بہرائچی ان کے جدِ امجدتھے؛جو اپنے دور کے قادر الکلام شعرامیں سے تھے اور فن ِشاعری اوراس کے اسرار ورموزپر غیر معمولی گرفت رکھتے تھے۔ انیق بہرائچی کی شعری وراثت اور حضرت نشور واحدی جیسے غزل گو شاعر کی تربیت نے عبرت بہرائچی کی شعری صلاحیتوں کو وہ جلا بخشی کہ شعر و ادب کے ماہتاب بن کر چمکے،اورایک کثیر التصانیف شاعر و ادیب کی حیثیت سے متعارف تھے۔
گریجویشن تک تعلیم مکمل کرنے کے بعد سرکاری ملازم ہوگئے۔ آپ ہومیو پیتھی کے ماہروحاذق اورتجربہ کار ڈاکٹر تھے، اس لیے ملازمت کے ساتھ ہی طبابت شروع کردی،اور یہ سلسلہ زندگی کی آخری سانس تک جاری رہا۔
گریجویشن کے دوران ہی آپ نے حضرت نشورواحدی مرحوم کی زیرِ نگرانی شعری سفرکاآغاز کیا، پھر دنیائے شعروادب کے مایہ ناز وشہر ۂ آفاق شاعر جگر مرادآبادی سے شرفِ تلمذ حاصل کرتے ہوئے ان کے خاص شاگرد بن گئے اور ان کے ساتھ کئی مشاعروں میں شرکت بھی کی اور ان سے بھی داد وتحسین حاصل کی۔
ڈاکٹر عبرت کی وفات 25؍اپریل 2021 مطابق 12؍رمضان 1442ھ افطار سے نصف گھنٹہ قبل محلہ ناظر پورہ میں واقع گھر پر ہوئی۔ بعد نماز عشاچھڑے شاہ تکیہ قبرستان میں سپردِ خاک ہوئے۔
ڈاکٹر عبرت بہرائچی نے نثر ونظم پر مشتمل 61 کتابیں یادگار چھوڑی ہیں، جن میں 10 کتابیں غزلیات اور 17 کتابیں نعتیہ کلام پر مشتمل ہیں، بقیہ نثری کتابیں مختلف موضوعات پر ہیں۔(جن کی فہرست راقم السطور کی ترتیب کردہ کتاب ’ڈاکٹر عبرت بہرائچی :حیات وخدمات‘ میں درج ہے)
چند منتخب اشعار حسب ِ ذیل ہیں ؎
میت کو میری دوستو آہستہ لے چلو
میں موت سے لڑا ہوں بدن چور چور ہے
ایماں کی حفاظت میں لگے رہتے ہیں ہردم
مومن کبھی ایماں کی تجارت نہیں کرتے
خدانے اپنی کریمی سے مجھ کو بخش دیا
کوئی گناہ مرا قابلِ معاف نہ تھا
گیا بچپن، جوانی آخری منزل پہ آپہنچی
مجھے لگتا ہے جلدی آفتابِ شام آئے گا
حالات سے دنیا کی جو ڈر جاتا ہے
زندہ نہ کہو اس کو، وہ مر جاتا ہے
کون کہتا ہے کہ آنگن کی وہ دیوار سے ہے
بھائی تو خوف زدہ بھائی کے کردار سے ہے
آبِ رواں پہ ہم نے بنائے ہیں راستے
دشوار منزلوں کا پتہ ہم سے پوچھیے
رُکنا بھی چاہتا ہوں تو رُکتے نہیں قدم
منزل کی جستجو میں کچھ اتنا چلا ہوں میں
بہرائچ کے ادبی افق پر بحیثیت افسانہ نگار اور علامہ اقبال کی فکر رکھنے والا شاعر سلیم اختر مکرانی تھا، جس کی ولادت 15 جولائی 1961کو محلہ چھاؤنی شہر بہرائچ میں سبحان اللہ مکرانی کے گھر ہوئی۔ابتدائی تعلیم شہر کے معروف قدیم ادارے جامعہ اشرفیہ مسعودالعلوم چھوٹی تکیہ میں حاصل کرنے کے بعد انٹرمیڈیٹ تک کی تعلیم آزاد انٹر کالج سے حاصل کی؛اس کے بعد بی اے اور ایم اے (اردو)کی ڈگری مقامی کسان پی جی کالج سے حاصل کی۔تعلیم سے فراغت کے بعد گورنمنٹ آف انڈیا کے محکمۂ ڈاک میں ملازم ہو گئے،جس سے جولائی 2021میں ریٹائر ہوئے۔
آزاد انٹر کالج میں ان کے خاص استاذ ممتاز محقق، ادیب و مصنف ڈاکٹر محمد نعیم اللہ خاں خیالی تھے، جنھوں نے سلیم اختر صاحب کو افسانہ نگاری کی طرف خاص طور سے متوجہ کرنے کے ساتھ ان کے فن کو نکھارنے میں بڑا اہم اور کلیدی کردار اداکیا؛جس کی بنا پر وہ ایک کامیاب اور ممتاز افسانہ نگار کے طور پر متعارف ہوئے،اور سیکڑوں افسانے ملک کے مختلف رسائل اور اخبارات میں شائع ہوئے، جن میں بیسویں صدی، لاریب، اِمکان اورسب رس وغیرہ بطور ِخاص قابل ِذکر ہیں۔
اسی طرح فرحت احساس کا نام بھی بہرائچ سے تعلق رکھنے والوں میں شامل ہے، جن کااصل نام فرحت اللہ خان ہے، لیکن فرحت احساس کے نام سے مشہور ہیں۔ جن کی پیدائش 25؍دسمبر 1952 میں شہر کے محلہ قاضی پورہ میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم بہرائچ میں حاصل کرنے کے بعد لکھنؤ یونیورسٹی، جامعہ ملیہ اسلامیہ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا رُخ کیا، جہاں سے انگریزی اور اسلامیات میں ایم اے کیا۔ ’قومی آواز‘ نئی دہلی سے وابستہ ہوئے اوراس کے تحقیقی ضمیمہ کے نگرانی کافریضہ بخوبی نبھایا اور جامعہ کے تحقیقی علمی جریدے کی ادارت سے بھی وابستگی رہی۔ اس دوران تقریبا ً250 مضامین لکھے،اور اردودنیامیں ایک مضمون نگار کے طور پر متعارف ہوئے۔
فرحت احساس جدید لب ولہجے کے شاعر بھی ہیں، جن کے اشعار میں حالات ِ زمانہ کی جھلک صاف طور پر دکھائی پڑتی ہے۔بطور نمونہ چند اشعار درج ِ ذیل ہیں ؎
میں بچھڑوں کو ملانے جا رہا ہوں
چلو دیوار ڈھانے جا رہا ہوں
اِک رات وہ گیا تھا جہاں بات روک کے
اب تک رُکا ہوا ہوں وہیں رات روک کے
سرزمین ِ بہرائچ کی ادبی وشعری فضاکاایک معروف اوراہم نام اطہراللہ خاں اطہر رحمانی کا بھی ہے، جو بہرائچ کے ادبی افق پر تقریباً 6دہائیوں سے اپنے پورے آب و تاب کے ساتھ چمک رہا ہے، ان کاشماربزرگ اور کہنہ مشق بلکہ استاذ شاعروں میں ہوتاہے۔
اوّلاً باباجمال الدین جمال بہرائچی کی شاگرد ی اختیار کرنے والے اطہرجمالی، پھران کے انتقال کے بعد اپناادبی وشعری استاد عبدالر حمن خاں وصفی بہرائچی کو بنانے والے اطہررحمانی صاحب نے 15؍نومبر 1943کو محمداللہ عرف عبدالسلام کے گھر شہر کے محلہ گدڑی میں آنکھیں کھولیں۔ نانا کی سرپرستی میں ابتدائی تعلیم کی شروعا ت گھر پر ہوئی،اور آزاد انٹرکالج سے میٹرک کاامتحان پاس کرنے کے بعد اگرچہ تعلیمی سلسلہ موقوف ہوگیا تاہم گھریلو تعلیم جاری رہی۔تعلیم سے فراغت کے بعد 1962سے 1964تک درگاہ حضرت سیدسالار مسعود غازی کے زیرانتظام چلنے والے مکتب مسعودیہ میں تدریسی فرائض انجام دیتے رہے، پھر 19؍ مارچ 1964 محکمۂ صحت میں سرکاری ملازم ہوکر 2003میں سبک دوش ہوئے۔
شعروشاعری کاآغاز ابتدائے عمر ہی میں ہوگیا تھا لیکن باقاعدہ اسٹیج پر شاعری کی شروعات 1962 میں 19 سال کی عمر میں ہوئی؛فی الحال کبرسنی کے سبب اسٹیج کے مشاعرے پڑھنے کاسلسلہ موقوف ہے، تاہم عمر کی 8 دہائیاں مکمل کرلینے کے بعد بھی ان کاقلم ابھی بھی حسب ِ سابق رواں دواں ہے، اور غزلیں، نظمیں اور گیت آپ کے قلم سے ابھی بھی ترتیب پارہے ہیں۔ البتہ عمر کے اس پڑاؤ پر پہنچنے کے ساتھ اب انھوں نے گوشہ نشینی اختیار کرلی ہے، بہت کم ہی کسی ادبی محفل ومجلس یا شعری نشست میں شرکت کرتے ہیں، زیادہ تر وقت اپنے مکان پر ہی گزارتے ہیںاور کتب بینی و مطالعے میں اپنا بیش تر وقت صرف کرتے ہیں۔ اطہررحمانی صاحب نے غزل، نظم، گیت، رباعی،قطعہ وغیرہ ہر صنف میں طبع آزمائی کی ہے لیکن بنیادی طور پر وہ غزل کے شاعر ہیں اورغزل ان کا محبوب وپسندیدہ میدان ہے۔ جیساکہ ان کے استاد عبدالرحمن خاں وصفی ان کے بارے میں لکھتے ہیں:
’’(اطہر رحمانی) اپنے ہم عصروں میں ممتازحیثیت کے حامل ہیں، بزم میں قادرالکلامی اورپر گوئی کی بدولت باوقارنگاہوں میں دیکھے جاتے ہیں۔اطہر صاحب مزاجاً حسن وعشق کے شاعر ہیں۔‘‘30؎
اطہر رحمانی کی تخلیقات ملک کے موقر اخبارات مثلاً قومی آواز،راشٹریہ سہارا اردو،روزنامہ آگ اور روزنامہ انقلاب میں شائع ہو کر اہل ِادب سے داد حاصل کر چکی ہیں۔علاوہ ازیںغزلیات پر مشتمل پہلا مجموعۂ کلام 1987میں ’تبسّم ِ حیات‘ دوسرا ’گفتگو‘کے نام سے فخرالدین علی احمد میموریل کمیٹی اترپردیش کے مالی اشترا ک سے شائع ہوچکے ہیں،جب کہ تیسرا مجموعۂ کلام نعتیہ ہے جو 2011میں’مہکتے لفظ‘ کے نام سے اترپردیش اردواکادمی لکھنؤ کے مالی تعاون سے شائع ہواہے۔بطور مثال چند اشعاردرج ِذیل ہیں ؎
میرے محبوب کی ٹوٹی ہوئی انگڑائی ہے
زندگی بن کے جو شیشے میں اتر آئی ہے
کروٹ بدل بدل کے گزاری تمام رات
شاید اسی کا نام شبِ انتظار ہے
آیا نہ کوئی کام برے وقت میں کبھی
کرتے تھے دوستوں پہ بہت اعتبار ہم
لفظ کے تیر جو سینے میں اتر جاتے ہیں
شعر بن کر وہی کاغذ پہ بکھر جاتے ہیں
شہر بہرائچ کا ایک معتبرنام سید مبشر حسین اثر بہرائچی کاہے۔جنھیں شعروادب کی دنیا میں شہنشاہ ِ نعت کی حیثیت سے جانا وپہچانا جاتاہے۔ان کی ولادت شہر کے محلہ چکی پورہ (چھوٹی بازار)میں یکم اکتوبر 1946کو ہوئی۔ والد کا انتقال ہوجانے کے سبب صرف ہائی اسکول تک ہی تعلیم حاصل کی، اورتعلیمی سلسلہ منقطع ہوگیا۔ اور 1964 میں شہر بہرائچ کے کلکٹریٹ میں سرکاری ملازم ہوگئے،جس سے 2006میں سبک دوش ہوئے۔
اوائل عمری ہی میں شاعری شروع کردی تھی؛ جس کاسلسلہ تاہنوز جاری ہے، اوراب بھی نعتِ رسولؐ کے حوالے سے آپ کی شناخت اور پہچان اہل ادب کے درمیان مسلم ہے، نعت گوئی کا ہنر اورملکہ اللہ نے آپ کو خوب خوب عطافرمایا ہے۔ ملک وبیرونِ ملک کے نعتیہ مشاعروں میںشرکت کرکے بہرائچ کا نام دور دور تک پہنچایا ہے۔
آپ کی شاعری کے تین مجموعے اب تک منظر عام پرآچکے ہیں، جن میں ’روح ‘ اور ’سرتاج خوباں‘ نعتیہ مجموعے ہیں، جب کہ ’ حرف حرف خوشبو‘ غزلوں کا مجموعہ ہے۔چند اشعار درجِ ذیل ہیں ؎
ہیں بزرگ آپ بعد از خدا مصطفیؐ
کوئی ثانی نہیں آپ کا مصطفیؐ
سوتے ہیں بڑی شان سے پہلو میں نبی کے
اللہ رے کیا رْتبۂ صدیقؓ وعمرؓ ہے
بے خبر راہوں سے ہم، ناآشنا منزل سے ہم
اٹھ کے جائیں تو کہاں جائیں تری محفل سے ہم
ان کی کیف آگیں نگاہوں میں یہ دیکھا ہے اثر
اٹھ گئیں جس سمت برپا اِک قیامت ہو گئی
بہرائچ کے ادبی سلسلے کی ایک اہم کڑی پروفیسر سید طاہر محمودبن سید محمودحسین (علیگ)کی صورت میں بھی ملک کے دارالحکومت دہلی میں قیام پذیر ہے۔ ولادت 6؍ستمبر 1941کو لکھنؤ میں ہوئی۔ عربی، اردو، فارسی کی تعلیم آبائی وطن بہرائچ کے محمود حسن ہاؤس میں حاصل کرنے کے بعد شہر کے آزاد انٹر کالج سے 1954میں اسکول کاامتحان پاس کیا، پھر کرسچین کالج لکھنؤ،سینٹ انڈریوز کالج گورکھپور کے بعد قانون کی تعلیم لکھنؤ، علی گڑھ اور لندن سے حاصل کی،پھر تدریسی خدمات کے سلسلے میںجون پور، بلرام پور اور علی گڑھ ہوتے ہوئے 1967 میں دہلی پہنچے،اور مختلف تعلیمی درسگاہوں میں تدریسی فرائض انجام دیتے رہے۔ ساتھ ہی قومی اقلیتی کمیشن حکومت ہندکے چیئر مین، لاکمیشن آف انڈیاکے وائس چیئر مین اور دہلی یونیورسٹی کی لا فیکلٹی کے ڈین بھی رہے۔ اور قانون کی درجنوں کتابیں تحریر کیں۔ انگریزی میں پہلی کتاب 1968میں شائع ہوئی۔اسی طرح اردوزبان میں اب تک 11 کتابیں منظر عام پرآچکی ہیں۔ تقریباً چار دہائیوں سے اخباروں میں مستقل اردو مضامین لکھ رہے ہیں۔ اس کے علاوہ آپ شاعری بھی کرتے ہیں، اپنے وطن بہرائچ کی شان میں کہی گئی ایک نظم کے چند اشعار درج ِ ذیل ہیں ؎
مری حیات کا ہر پل عطائے بہرائچ
مرے دْکھوں کا مداوا دوائے بہرائچ
اودھ کی شام، بنارس کی صبح کے صدقے
کہ اک جہاں سے جدا ہے ادائے بہرائچ
ہے علم و فن کی روایات کا امیں یہ شہر
ادب نواز ہے کیسی ہوائے بہرائچ
میں راجدھانی میں رہ کر یہیں تو سوتا ہوں
ہے روز لوری سناتی نوائے بہرائچ
اسی طرح ایک دوسرا شعر بھی بہرائچ کو نذر کرتے ہوئے کہاہے ؎
لڑکپن جن میں گزرا تھا وہ گلیاں یاد آتی ہیں
بڑی حسرت سے لب پر ذکر ِ بہرائچ آتا ہے
بہرائچ کی ادبی وشعری فہرست کا بڑا معتبرنام مظہرسعید کی شکل میں ابھی ہمارے سامنے ہے، جن کا اصل نام سید مظہر عباس رضوی اور قلمی نام مظہر سعید ہے۔ ولادت شہر کے محلہ سید واڑہ قاضی پورہ میں 30؍اگست 1959 کو ہوئی۔ والد سید یاورحسین رضوی یاور بہرائچی بھی صاحبِ تصنیف شاعر تھے،’دُر ِ نایاب‘ ان کا مجموعۂ کلام تھا۔
مظہرسعیدمختلف علمی درسگاہوں سے ہوتے ہوئے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی پہنچے، جہاں سے انھوں نے اردو میںایم اے کیا، یونیورسٹی کے اساتذہ میں بطور خاص پروفیسر ابوالکلام قاسمی،پروفیسر عتیق احمدصدیقی، پروفیسر نورالحسن نقوی، قاضی افضال حسین، شہر یار، وغیرہ تھے۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ایم اے کرنے کے بعدجامعہ اردو علی گڑھ سے معلّم ِاردو کی سند حاصل کی، اور بہرائچ میں شعبۂ تعلیم میں ملازم ہو گئے، ملازمت کی ذمے داریوں اور مصروفیات کے باوجود اپنے علمی اور فکری جوہر کو مضمحل نہیں ہونے دیا،اور شعر و ادب سے اپنارشتہ کبھی منقطع نہیں کیا، بلکہ ابھی بھی ان کا شعری سفر شباب پر ہے۔برجستہ گوئی بلا کی اللہ نے عطافرمائی ہے۔ انھیں شاعری ددھیال اور ننھیال دونوں طرف سے ورثے میں ملی تھی۔وہ ایک پختہ، کہنہ مشق اوراستاذ شاعر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ راجستھان کے معروف ادیب سید گلزار جعفری اپنے مضمون بعنوان ’ مظہر سعید شخص اور شخصیت‘ میں تحریر فرماتے ہیں :
’’بہرائچ کی سرزمین یوں بھی ادب کے مہ پاروں سے خالی نظر نہیں آتی، مگر مظہر سعید بہرائچ کے ان گنت ادبی ستاروں کے درمیان بدر ِ منیر کی حیثیت رکھتے ہیں۔‘‘31؎
ان کی ادبی سرگرمیوں اور تخلیقی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے مختلف تنظیموں نے گراں قدر ایوارڈ وں سے نوازا۔
مظہرسعیدکے شعری مجموعے :فنا فی ا لحسین،فطرسِ خیال، ادنْ منّی، آنسوؤں کی کتاب، اشک ریز اور آنسوؤں کی زباں ‘‘ طباعت کے مراحل سے گزر کرمنصہ شہود پر آچکی ہیں، اور اہلِ علم و فکر سے داد و تحسین حاصل کرچکی ہیں۔ اس کے علاوہ ’خوشبوؤں کی روانی، زخم ِ تازہ، کربلائے سخن وغیرہ کتابیں زیر ترتیب ہیں جوجلد ہی منظر عام پر آیاچاہتی ہیں۔بطور مثال چند منتخب اشعار حسب ِ ذیل ہیں ؎
غزل بھی اشک فشانی میں، میں نے رکھ دی ہے
جو دل میں آگ تھی پانی میں میں نے رکھ دی ہے
مرے سخن کا سمندر سراب ہو جائے
میں جھوٹ بولوں تو لہجہ خراب ہو جائے
ہر بار لہو جسم کا سارا نکل آیا
اک شعر کو کہنے میں کلیجہ نکل آیا
میں پیاس میں سب پی گیا صحرا کی کڑی دھوپ
یہ دیکھ کے سورج کو پسینہ نکل آیا
میں اپنے شعروں کی تاثیر کو سمجھتا ہوں
مہکتے پھولوں پہ خوشبو مجھے لگانا نہیں
عجیب ضد تھی کبھی چاند کو پکڑنے کی
اب آفتاب کو شب بھر بْلاتا رہتا ہوں
دریا میں میں نے پیاس کا رستہ بنالیا
آبِ رواں کو جس سے گزرنے نہیں دیا
مذکورہ بالا تفصیل بہرائچ کے تین سوسالہ اردو شعروادب مختصر تاریخ کے طور پر پیش کی گئی ہے، یہ مکمل تاریخ نہیں ہے،بلکہ اس فہرست میں بہت سارے نام طوالت کے خوف سے ترک کردیے گئے ہیں۔
بہرائچ ابتدا ہی سے علمی،روحانی اورادبی مرکز ہونے کے ساتھ شعر و ادب کا گہوارہ رہا ہے، شعر وادب کی ایسی بے مثال صاحب ِتصانیف ہستیاں یہاںگزری ہیں جنھوں نے اردو زبان وادب کے لیے اپنی زندگی وقف کردی،اس تین سو سالہ مدت میں بہرائچ کی سرزمین پر 200سے زائد شعرا وادبا گزرے ہیں،جنھوںنے بہرائچ کی ادبی فضا کو تاب ناک بنایاہے،اور یہ کارواں پوری آب و تاب کے ساتھ ہنوز رواں دواں ہے، کوئی اضمحلال نہیں۔خدا کرے یہ سلسلہ آئندہ بھی باقی رہے۔
حواشی
1 پروفیسر سوریہ پرساد دیکشت، اودھ سنسکرتی وشوکوش،ص 12،ج1
2 رحلۃ ابن بطوطۃ، تحفۃ النّظّار فی غرائب الامصار وعجائب الاسفار، مطبوعہ داراحیاء العلوم بیروت، طبع اول 1407ھ مطابق 1987،ص 505،506
3 عجائب الاسفار ترجمہ سفر نامۂ ابن بطوطہ،ص190جلد 2، زاہد بشیر پرنٹرز لاہور، بہ اہتمام قومی ادارہ برائے تحقیق تاریخ وثقافت اسلام آباد، 1404ھ مطابق 1983(ترجمہ، حواشی وتعلیقات کاکام خان بہادر مولوی محمد حسین (ریٹائرڈ سیشن جج)نے کیا ہے )
4 ایضاً،ص191جلد 2)
5 Bahraich Gazetteeres, H.R. Nevill I. C.S. Page 115, Chapter V, History
Printed 1921
6 تاریخ اوج قنوج،ص 14تا17، مطبع الہند پریس مرادآباد،مطبوعہ1900
7 صبح ِ بنارس، ص 14، عشرت کرتپوری، مطبوعہ :اردو رائٹرز کوآپریٹو سوسائٹی دہلی،1963
8 ترجمۂ تاریخ فرشتہ،ص 30 جلد 1، مترجم مولوی محمد فداعلی صاحب طالب رکن دارالترجمہ جامعہ عثمانیہ سرکارعالی، مطبوعہ 1926
9 رام بابوسکسینہ،تاریخ ادب ِ اردو یعنی ہسٹری آف اردو لٹریچر، ص 175،مطبوعہ منشی نول کشور لکھنؤ 1963
10 ذکر ِ میر،ص 131،132،مطبوعہ قومی کونسل برائے فروغ اردوزبان،نئی دہلی،2011
11 نثار احمد فاروقی مترجم، میر کی آپ بیتی ترجمہ ذکر ِ میر،ص 204،205،مطبوعہ انجمن ترقیِ اردو ہند دہلی 1996
12 شکار نامہ اول،ص 343،مشمولہ کلیات میر،دوم،مطبوعہ قومی کونسل برائے فروغ اردوزبان نئی دہلی 2013
13 شکار نامہ دوم،ص361،مشمولہ کلیات میر،دوم،مطبوعہ قومی کونسل برائے فروغ اردوزبان نئی دہلی 2013
14 شکار نامہ اول،ص 345،مشمولہ کلیات میر،دوم،مطبوعہ قومی کونسل برائے فروغ اردوزبان نئی دہلی 2013
15 کلیات انشاء اللہ خان،ص 86، مطبع نول کشور 1876
16 تلخیص بہرائچ ایک تاریخی شہر،ص 48 جلد 2
17 دیوان جلی،ص 13،14
18 مسعود حسن رضوی ادیب :حیات وخدمات،ص16، میراکیڈمی،اقبال منزل لکھنؤ1977
19 جنید احمد نور، بہرائچ ایک تاریخی شہر، ص 47، ج 2، مطبوعہ 2021
20 نعمت احمد نور: بہرائچ ایک تاریخی شہر، ص 77، ج 1،مطبوعہ 2019
21 تلخیص بہرائچ ایک تاریخی شہر 77ج1
22 آثار حضرت مرزامظہر جان جاناں شہید،ص 223
23 نقوش ِرفتگاں،ص 17
24 نثری خوشے،ص 121، مطبوعہ2010
25 مہک چھوڑ گئے،ص278، 279،مطبوعہ 2015
26 ایضاًص 273
27 افکارِ وصفی، بیک کور،مطبوعہ 1986
28 اردو کی بین الاقوامی حیثیت،ص11ج1۔مطبوعہ 1982
29 ماہنامہ چودہویں صدی، شمارہ 1ص5،6 (فروری 1953)
30 اطہررحمانی،تبسّم ِ حیات،ص10تقریظ
31 مظہرسعید :فن اور شخصیت
Sufyan Ahmad Ansari
Mohalla: Nazirpura Purbi
Near Qadri Montessori School
Bahraich- 271801 (UP)
Mob.: 8840660091
sufyanahmadansari2@gmail.com