ساحرلدھیانوی کی غزل گوئی،مضمو ن نگار:قسیم اختر

April 9, 2026 0 Comments 0 tags

اردو دنیا،اپریل 2026:

ترقی پسند شعرا میں ساحر کی شخصیت بھی مجاز کی شخصیت کی طرح ہمیشہ سے دلچسپی کا مرکز رہی ہے۔ جس طرح مجاز کی شخصیت کی تعمیر اور اس کی زندگی کے تارو پود میں ان کے ہنگامہ خیز رومان کی کشش اور کسک کی لذت رچی بسی ہے اسی طرح ساحر کی شخصیت اور زندگی کے دروبست میں بھی ان کے رومان کی ہنگامہ خیزی اور نا کام عشق کا کرب رچا بسا ہوا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اکثر لوگ جب ساحر لدھیانوی پرگفتگوکرتے ہیں تو ان کی شخصیت کے اسرار اور زندگی کے پیچ و خم پر زیادہ توجہ کرتے ہیں اور ان کی شاعری کے لہجے، اسلوب اور آہنگ کو بھی ان کی زندگی سے جوڑ کر دیکھتے ہیں۔ نتیجتاً بیشتر لوگ ان کی نظموں اور نغموں کو ہی اپنے مطالعے میں شامل کرتے ہیں اور ان کی غزلوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بیشتر ترقی پسند شعرا نے نظموں پر توجہ کی ہے۔ کیونکہ نظم کے فارم میں اپنی بات کو زیادہ وضاحت سے پیش کرنے کے سارے امکانات پائے جاتے ہیں۔ ساحر نے بھی زیادہ تعداد میں نظمیں کہی ہیں جو ان کے یہاں غزلوں کے مقابلے میں آٹے میں نمک کے برابرتونہیں بلکہ کچھ زیادہ ہے۔ مگر یہ غزلیں ان کی شاعری میں نمکینی کاباعث ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ لوگوں نے ساحر کی نظموں پر اس قدر توجہ نہیں دی اور ان کی غزلوں کو اس طرح نظر انداز کیا کہ اس دور کے بیشتر دوسرے شعرا کی طرح ساحر کے متعلق بھی یہ بات عام ہو گئی کہ وہ صرف نظموں اور نغموں کے شاعر بن کررہ گئے ۔ یہ بات بھی درست ہے کہ کچھ ناقدین نے ان کی نظموں کا جائزہ لیتے ہوئے ان کی غزلوں کا بھی وقفے وقفے سے ذکر کیاہے مگر دل جمعی کے ساتھ کسی ناقد نے ان کی غزلوں کا مطالعہ پیش نہیں کیاہے۔
ڈاکٹرنغمہ پروین اپنی کتاب، ’’ساحر لدھیانوی حیات اور کارنامے‘‘ میں پروفیسرنظیر صدیقی کا ایک اقتباس نقل کرتے ہوئے لکھتی ہیں۔
’’ اگر چہ ساحر نے نظمیں زیادہ کہیں لیکن وہ اردو کے معدودے چند شاعروں میں سے ہیں جو نظم و غزل پر یکساں قدرت رکھتے ہیں اور میرے ایک نظریے کے مطابق نظم میں ان کی کامیابی کا راز یہی تھاکہ وہ ایک کامیاب غزل گو تھے۔ یہ بات جس طرح اقبال اور فیض پر صادق آتی ہے اسی طرح ساحر پر بھی منطبق ہوتی ہے۔‘‘1
اردو کا جو شاعر غزل کی خوبیوں سے آشنا نہیں ہوتا اور جو غزل کے منہاج اورمزاج کو نہیں سمجھتا وہ نہ تو اچھی نظمیں لکھ پاتا ہے اور نہ اچھی نثرتحریرکرسکتا ہے۔ ساحر اتنے کامیاب نظم گو شاعر اور نغمہ نگار اس لیے بن سکے کہ وہ غزل اور غزلیہ شاعری کی روایات اور اس کی ترجیحات سے پوری طرح واقف تھے۔ غزل کا فن اختصار اور ایجاز کا فن ہے۔ غزل کا مزاج نہایت رو مانی ہوتا ہے۔ نیز،جیساکہ ہم جانتے ہیں، ترقی پسند تحریک کی رگوں میں دوڑنے والے لہو میں حقیقت پسندی سے زیادہ رومانیت اور انقلابیت کی بجلی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ غزل کے مزاج آشنا شعرا ترقی پسند تحریک کی ہمنوائی میں زیادہ چمکے اور دیر تک چمکتے رہے۔ فریڈرک اینگلز نے بہت پہلے کہاتھا:
’’ مقصدی میلان کو اشاروں کے ذریعے بے ساختہ اور غیر محسوس طور پر اثر ڈالنا چاہیے اس کی ضرورت نہیں کہ مصنف اپنے خیالات اور عقائد کا ڈنکا پیٹ کر زبردستی پڑھنے والے پر اپنا اثر ڈالے۔۔۔۔مصنف کے نظریات جس قدر پوشیدہ رہیں فن کاری کے حق میں اسی قدر بہتر ہوتا ہے۔‘‘2
اینگلز نے جس بے ساختگی اور اثر پذیری کا ذکر کیا ہے دراصل وہی شعر کی شعریت، رمزیت، کیفیت، غنائیت اور تغزل ہے۔ نیز نظر یات کی پوشیدگی سے مراد رمزیت، اشاریت اور کنایہ ہے، جسے ہم کسی حدتک ابہام کا نام بھی دے سکتے ہیں۔ کیونکہ ان ہی خوبیوں اور صفات کی بدولت غزل کی فضا بنتی ہے۔اسی طرح یہ صنف دوسری اصنافِ شاعری سے ممتازبنتی ہے۔
ساحر کا انفراد یہ ہے کہ وہ نہ صرف استعارات کے ذریعے کیفیت پیدا کرنے کے ہنر سے واقف ہیں بلکہ ان کی غزلوں میں صنائع کا بھی بڑے قرینے اور سلیقے سے استعمال ہوا ہے۔ چنانچہ جب وہ کہتے ہیں کہ:
کون جانے یہ ترا شاعرِ آشفتہ مزاج
کتنے مغرور خداؤں کا رقیب آج بھی ہے
تو یہ نہ صرف حالات کے جبر کے خلاف رد عمل کا طاقتور اظہا ر ہوتا ہے بلکہ زمانے کے استبداد کے خلاف احتجاج کی آواز بھی بن جاتاہے۔
ساحر لدھیانوی کی غزلوں کے بیشتراشعاران کے تجربات و مشاہدات کی بھٹی سے نکلے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے اشعار قارئین کو بھی اپنے تجربات کا حصہ بنالیتے ہیں۔ ساحر تو بالکل واضح الفاظ میں کہتے ہیں کہ:
دنیا نے تجربات و حوادث کی شکل میں
جو کچھ مجھے دیا ہے وہ لوٹا رہا ہوں میں
کسی بھی فن پارے کے حوالے سے تہذیبی اقدار اور تجربے کی آنچ کی تلاش ناقد کا ذمہ ہے اور ناقد یہ با ت جانتا ہے کہ خارجی حالات کے جبر سے تہذیبی قدریں بدلتی رہتی ہیں اور ان ہی بدلتی قدروں کے درمیان فن کار پروان چڑھتاہے اوراس کے فن پر نکھارآتاہے۔ فی زمانہ تہذیبی اقدار میں تغیر اور سما جی و سیاسی اورمعاشرتی زندگی کے متنوع مسائل دراصل تمدنی اور صنعتی زندگی کے عروج کی دین ہوتے ہیں۔ لہٰذا کسی بھی فن پارے کا مطالعہ اس تہذیبی و معاشرتی اقدار یا زندگی کے بدلتے تیور کو سمجھے بغیر ممکن اور مکمل نہیں ہوتا ہے۔ یہاں یہ بات بھی ذہن نشین رہنی چاہیے کہ ساحر کے یہاں شاعری میرا جی یااخترالایمان کی طرح موضوعات کا انتخاب نہیں بلکہ زندگی کے براہ راست تجربے کا اظہا ر اور تلاش کا نام ہے۔ چند اشعار ملاحظہ فرمائیں:
پہلے ہنس کے ملتے ہیں پر نظر چراتے ہیں
آشنا صفت ہیں لوگ اجنبی دیاروں کے
پیدائش کے دن سے موت کی زد میں ہیں
اس مقتل میں کون ہمیں لے آیا ہے
کیسے کیسے چشم و عارض گردغم سے بجھ گئے
کیسے کیسے پیکروں کی شان زیبائی گئی
اس طرح سے زندگی نے دیا ہمارا ساتھ
جیسے کوئی نباہ رہا ہورقیب سے
زندگی کا نصیب کیا کہیے
ایک سیتا تھی جو ستائی گئی
ان اشعار کی معنویت ، ان کے استعاراتی نظام اور تشبیہی ندرت کی بدولت دو چند ہو گئی ہے اور شعریت کے چہرے کا غماز بن گئی ہے۔ ان اشعار میں ساحر کے سماجی شعور کی نشاندہی بہ آسانی کی جا سکتی ہے۔ کیونکہ زندگی اور زمانے سے متعلق ان کا یہ رویہ عصر حاضر کے مسائل و مصائب اور خود ان کے حالات و ماحول سے اثرپذیرہواہے۔ یہ درست ہے کہ ساحر کی حقیقت نگاری میں رومان کا رنگ شامل ہے مگر سچ یہ ہے کہ ان کی فکر کا پر تو بہت روشن ہے۔ علی سردار جعفری لکھتے ہیں:
’’ترقی پسند شاعروں کا محور رومان اور احتجاج ہے۔ فیض کے یہاں محبوبہ کا وہ تصور نہیں ہے جو ساحر کے یہاں ہے۔ مخدوم اور مجاز کی شاعری کا محوربھی رومان اور احتجاج رہا ہے مگر ان چاروں ہم عصر شعرا کے مزاج الگ الگ ہیں، مجاز کے یہاں سرفروشانہ سر شاری ہے۔ فیض کے یہاں معشوق نواز حسن پر ستی اور ساحر کے یہاں عاشقانہ انانیت۔‘‘3
ساحر کی شاعری میں احتجاج کی لَے واضح طور پردکھائی دیتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ انسانوں کی تذلیل برداشت نہیں کر پاتے ہیں۔ انھیں اپنے آس پاس کی زندگی میں جو اونچ نیچ اور جہد و استحصال نظر آتا ہے وہ انھیں اندر سے دہکا دیتا ہے۔ مگر چوں کہ وہ ایک پختہ کار فنکار بھی ہیں اس لیے انا کی شاعری سراپا احتجاج اور پروپیگنڈہ نہیں بنتی ۔ اشعارتو دیکھیں:
اس رینگتی حیات کا کب تک اٹھائیں بار
بیمار اب الجھنے لگے ہیں طبیب سے
تنگ آچکے ہیں کشمکش زندگی سے ہم
ٹھکرا نہ دیں جہاں کو کہیں بے دلی سے ہم
اس دور احتیاج میں جو لوگ جی لیے
ان کا بھی نام شعبدہ کا روں میں آئے گا
تلخ سے تلخ بات کو اس طرح کہنا کہ شاعری کا حسن برقرار رہے، فن شاعری پر مکمل قدرت کے بغیر ممکن نہیں۔ ساحر کو فن شاعری کی ساری نزاکتوں کا علم تھا اور انھیں شاعری کی زبان کی ندرت پر بھی دسترس حاصل تھی۔ اس لیے وہ کسی بھی موقعے پر شعریت کی حدود سے باہر نہیں نکلتے ہیں۔ خواجہ احمد عباس نے لکھا ہے کہ:
’’ جب میں یہ کہتا ہوں کہ ساحر ہمارے ملک کے تین مقبول زندہ شاعروں میں سے ایک ہیں تو یہ بات معمولی نہیں، علاوہ از یں ساحر کا فن شعر پر عبور، اس کا انداز تحریر ،اس کا لفظوں کا انتخاب، تشبیہوں اور استعاروں کے استعمال کا سلیقہ اتنا مکمل اور جامع ہے جو دوسرے جدید شعرا کی دسترس سے باہر ہے ۔بزرگ شعرا بھی اسے حقیقی شاعر تسلیم کرتے ہیں اور اس کے شعر تنقید کے معیار پر پورے اترتے ہیں۔‘‘4
ساحر لدھیانوی کا تعلق چو نکہ جاگیر دارانہ نظام سے تھا اس لیے انھوں نے جاگیر داروں کے جبربھی دیکھے تھے اور کسانوں کی نا آسودگی اور ان کی زندگی کی بے یقینی کا بھی انھیں اندازہ تھا۔ یہی سبب ہے کہ ان کا دل عوام کے دلوں کی دھڑکنوں سے ہم آہنگ ہوگیا تھااور عوام کا غصہ ان کے اپنے سینے میں لاوا بن کر ابلنے لگا تھا۔ مگر ان تمام کے باوجود انھوں نے فن کی حرمت پر حرف نہیں آنے دیا۔ کیونکہ وہ خوب جانتے تھے کا فن کا پیر ہن حریری بہت نفیس اور نازک ہوتا ہے۔ اگر یہ پیر ہن تار تار ہو جائے تو پھر موضوعات اور مواد کیسے ہی سچے اور سلگتے ہوئے کیوں نہ ہوں وہ فن کا مقام حاصل نہیں کر سکیں گے۔ ساحر لدھیانوی ایک طرف احتجاج کی آواز تھے تو دوسری طرف فکر و فن کی پرواز کے بھی پاس دار تھے۔ ان کی تجزیاتی فکر زمانہ شناس ہی نہیں معاشی و معاشرتی بیداری کا پیغام اور جدید اور روشن امکانات کی ترجمان بھی ہے۔
اہل دل اور بھی ہیں اہل وفا اور بھی ہیں
ایک ہم ہی نہیں دنیا سے خفا اور بھی ہیں
بھڑکا رہے ہیں آگ لب نغمہ گرسے ہم
خاموش کیا رہیں گے زمانے کے ڈر سے ہم
ستم کے بہت سے ہیں رد عمل
ضروری نہیں چشم تر کیجیے
معمورۂ احساس میں ہے حشر سا برپا
انسان کی تذلیل گوارہ نہیں ہوتی
ساحر کا کمال یہ ہے کہ ان کے یہاں غزل اپنے تمام لوازمات کے ساتھ غزل ہی رہتی ہے، جن میں کلاسکیت اور رومانیت کے ساتھ ساتھ تجربات و مشاہدات کی آمیزش سیاسی و سماجی کشمکش اور ترکِ الفت کے تاثر کو موثر انداز میں پیش کرنے کی کوشش نظر آتی ہے۔ وہ بندھے ٹکے استعارات و علامات اور تشبیہات و کنایات سے کام نہیں لیتے بلکہ نئی تشبیہات و علائم کو ضرورت کے تحت نہایت خوداعتمادی اور سلیقے سے استعمال کرتے ہیں ان کی ان ہی خوبیوں نے انھیں زندگی میں ہی ان شہرتوں اور کامیابیوں سے ہمکنار کر دیا تھاجن کی جستجو میں اکثر فنکارکی عمریں تمام ہوجاتی ہیں۔ مخمور سعیدی لکھتے ہیں:
’’ایسی شخصیتیں کم ہوتی ہیں جن کے کارناموں کی وقعت اور شہرت سے ان کی زندگی میں ہی انھیں ہر دلعزیز بنادے اورہزاروں لاکھوں دلوں پران کی حکمرانی ہوجائے ساحر لدھیانوی ایک ایسی ہی شخصیت کا نام تھا۔ساحر کا شاعرانہ مرتبہ اختلافی بحث کا موضوع بن سکتا ہے مگر یہ دعویٰ بلا خوف تردید کیا جا سکتا ہے کہ اپنے ہم عصروں میں انھیں سب سے زیادہ عوامی مقبولیت حاصل ہوئی۔ ان کی اکثر نظمیں،غزلیں اور گیت نوجوان نسلوں کا عزیز ترین ذہنی سرمایہ رہے ہیں۔‘‘5
ساحرکوزندگی میں بڑی مقبولیت حاصل ہوئی۔ اس کی ایک بڑی وجہ تو یہی ہے کہ انھو ں نے انسانی زندگی کے دکھ درد کو اپنی شاعری کا موضوع بنایااور ایسے انداز و اسلوب میں پیش کیا کہ عوام و خواص دونوں کے دلوں پر نقش ہو گیا۔ دوسری بات یہ کہ انھوں نے زندگی کی ناکامیوں کے ساتھ ساتھ دل کی بے تابیوں کو بھی اپنی شاعری میں کامیابی کے ساتھ پیش کیاہے۔ اس طرح ان کی شاعری دو آتشہ بن گئی اور ان کے قارئین ان کے ہم نوا ہو گئے۔ چنداشعارملاحظہ کیجیے جو آج بھی تازہ اور زندہ جذبات سے بھرپور معلوم ہوتے ہیں:
دیکھا تو تھا یوں ہی کسی غفلت شعار نے
دیوانہ کر دیا دل بے اختیار نے
تجھ کو خبر نہیں مگر اک سادہ لوح کو
برباد کر دیا ترے دو دن کے پیار نے
جب کبھی ان کی توجہ میں کمی پائی گئی
از سر نو داستان شوق دہرائی گئی
نگا ہیں جھکتے جھکتے بھی بہم ٹکراہی جاتی ہیں
محبت چھپتے چھپتے بھی نمایاں ہوتی جاتی ہے
ان اشعار میں ساحرکے بیان کی شگفتگی ، جذبہ وخیال کی رعنائی اور اسلوب کی رنگا رنگی کو دیکھا جا سکتا ہے۔ ان میں کسی طرح کے نظریاتی تغیر کا کوئی زور و شور نہیں ہے جو آج کے دور کے مزاج اور منہاج سے بہت حدتک وابستہ ہے۔ ان اشعار میں گرچہ محرومی و داد رسی کے ساتھ خلوص اور احساس کی شدت دیکھی جاسکتی ہے لیکن خود ترحمی کی کوئی کیفیت نہیں پائی جاتی۔ اس سے صاف ظاہرہے کے شاعر قنوطی نہیں ہے۔ نظیر صدیقی نے بجا طور پر لکھا ہے کہ:
’’عشق کے تجربات اور مسائل کے تعلق سے ساحر کا وہی، مخصوص رویہ جھلکتا ہے۔ جو ان کی عشقیہ نظموں میں بھی نمایاں ہوا ہے۔ اس عشق میں محبوب کے قرب و و صال کی گھڑیاں بہت مختصر رہی ہیں۔ اول تو غم دوراں نے اس کی مہلت کم دی پھر سما ج نے ان کے چاہنے والوں کے درمیان مستقل طور پر دیوار یں کھڑی کر دیں۔ چنانچہ اس قسم کے اشعار جن میں آغاز محبت،عشق کی کیفیات اور معاملات کا بیان ہو۔ساحر کی غزلوں میں خال خال ہی ملتے ہیں۔‘‘6
باوجود اس کے کہ وہ عشق کی ناکام حسرتوں سے عمر بھر پیچھا نہ چھڑا سکے، ناکامی عشق کے تدارک کے لیے ہمیشہ وہ کوشاں رہے لیکن ساحر لدھیانوی نے مجروح سلطان پوری جیسے غزل گو شاعر کی طر ح اپنے فکرو شعور کو صرف غزل کا پابند نہیں کیا اور نہ انھوں نے کبھی جم کر غزلیں کہنے کی کوشش کی۔ ان کے یہاں گنتی کی جو چند غزلیں ہیں وہ اس پا یہ کی ہیں کہ انھیں مطالعے کا حصہ بنایا جائے اور ان کی خوبیوں کا ذکر کیا جائے۔ اس کے علاوہ ان کی فنی نزاکت،زبان و بیان کی سلاست اورموضوعات کی رنگا رنگی کے حوالے سے ترقی پسند تحریک میں شامل غزل گو شعرا کے باب میں ساحر کی غزلوں پربھی گفتگوہو۔

حواشی
1 ساحر لدھیانوی حیات اور کارنا مے‘‘ ڈاکٹر نغمہ پروین، سرسوتی پریس الہ آباد ۔2007۔ص:353
2 جدید غزل پاکستان اور ہندوستان میں ۔ پروفیسر نظیر صدیقی۔ فنون،لاہور ۔ص:168۔1969
3 دیباچہ ،ساحر لدھیانوی حیات اور کارنا مے‘‘ ڈاکٹر نغمہ پروین، سرسوتی پریس الہ آباد ۔2007۔ص:8
4 ایضاً۔ص:274
5 ساحرلدھیانوی ایک مطالعہ۔ مرتب:مخمورسعیدی۔ موڈرن پبلشنگ ہاؤس ،دہلی۔1981۔ص:11
6 ایضاً۔ص:12

Dr. Qaseem Akhtar
Assistant Professor Deptt. of Urdu
Marwari College,
Kishanganj-855107, (Bihar)
Mob.: 9470120116
E-mail: qaseemskhtar786@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

مظہر امام کی شاعری، مضمون نگار: نیر وہاب

بیسوی صدی سماجی، معاشی، سیاسی، معاشرتی، تہذیبی، اقتصادی ہر لحاظ سے بہت اہم صدی رہی ہے۔ عالمی سطح پر بھی صدی میں کئی انقلابات رونما ہوئے۔ ہندوستان میں سیاسی سطح

غالب کی فارسی شاعری،مضمون نگار:ملک سلیم جاوید

اردو دنیا،دسمبر 2025: مرزا اسداللہ خاںغالب نہ صرف اپنے عہد کے سب سے بڑے شاعر تھے بلکہ وہ اس دور کی خاص شاعرانہ روایات کے بہترین ترجمان بھی ہیں۔ غالب

ڈاکٹر منشاء الرحمن خان منشا کی غزل گوئی،مضمون نگار: شیخ عمران

اردودنیا،جنوری 2026: سرزمین ودربھ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس نے ایسے ہیرے پیدا کیے جو شایان زماں کے تاجوں کی زینت بنے اور لوگوںکے دلوں میں روشنی جگانے