اردو دنیا، اپریل 2026:
اردوصحافت محض خبر رسانی کا ذریعہ نہیں بلکہ برصغیر کی تہذیبی اور سیاسی تاریخ کا ایک متحرک باب ہے۔ اس نے نہ صرف سماج کی اصلاح کی بلکہ جمہوریت کے استحکام میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔ ابلاغِ عامہ کے مختلف ذرائع، اخبارات، رسائل، ریڈیو، ٹیلی ویژن اور اب ڈیجیٹل میڈیا، نے اردو صحافت کو ہر دور میں نئے امکانات اور نئے چیلنجز فراہم کیے ہیں۔ بدلتے ہوئے عہد میں اردو صحافت آج ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں ایک طرف طباعتی صحافت کے زوال کا سامنا ہے تو دوسری طرف ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعے عالمی سطح پر اپنی رسائی بڑھانے کے بے شمار مواقع موجود ہیں۔
ہندوستان میں اردو صحافت کا باقاعدہ آغاز 1822 میں کلکتہ سے شائع ہونے والے پہلے اردو اخبار ’’جامِ جہاں نما‘‘ سے ہوا۔ یہ اخبار دراصل فارسی زبان میں شائع ہوتا تھا، بعد میں اس کا اردو ایڈیشن جاری کیا گیا، جس نے اردو صحافت کی بنیاد رکھی۔ انیسویں صدی میں جب طباعت کی صنعت نے ترقی کی تو اردو صحافت نے بھی تیزی سے فروغ پایا۔ اس دور میں اخبارات محض خبریں فراہم کرنے کا ذریعہ نہیں تھے بلکہ یہ عوامی شعور کی تربیت، سماجی اصلاح اور سیاسی آگہی کے اہم مراکز بن گئے۔
انیسویں صدی کے وسط، خصوصاً 1850 کی دہائی سے لے کر 1947 تک اردو صحافت کا سنہری دور کہا جا سکتا ہے۔ اس عرصے میں اردو اخبارات نے برطانوی سامراج کے خلاف عوامی رائے ہموار کی، سیاسی شعور کو بیدار کیا اور آزادی کی جدوجہد کو فکری بنیاد فراہم کی۔ اردو صحافت نے زبان و ادب کے ساتھ ساتھ سیاست، معاشرت اور تعلیم کے میدان میں بھی نمایاں خدمات انجام دیں۔
1857 کی جنگِ آزادی اردو صحافت کی تاریخ کا ایک اہم سنگِ میل ہے۔ اس دور میں اردو اخبارات نے ہندوستانیوں کو انگریز حکومت کے خلاف بغاوت پر آمادہ کرنے میں مؤثر کردار ادا کیا۔ ’’صدق الاخبار‘‘، ’’دہلی اردو اخبار‘‘، ’’ہندوستان‘‘، ’’سراج الاخبار‘‘ اور دیگر اخبارات نے حق گوئی، جرات مندی اور قومی حمیت کا مظاہرہ کیا۔ ان اخبارات نے نہ صرف عوام کو ظلم و جبر کے خلاف آواز اٹھانے کی ترغیب دی بلکہ قومی تشخص اور آزادی کے تصور کو بھی مضبوط کیا۔
جنگِ آزادی کی ناکامی کے بعد جب پورے ملک میں مایوسی اور خوف کی فضا قائم تھی، اردو صحافت نے مضامین، اداریوں اور شاعری کے ذریعے عوام کے حوصلے بلند کیے۔ اس دور میں اردو اخبارات نے شکست خوردہ قوم کو نئی امید، تازگی اور فکری استقامت عطا کی۔
اردو صحافت کی تاریخ میں سر سید احمد خان کا نام نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ ان کے جاری کردہ رسالے ’’تہذیب الاخلاق‘‘ نے اصلاحِ معاشرہ کی ایک مضبوط بنیاد رکھی۔ اس رسالے کا مقصد مسلمانوں میں جدید تعلیم، سائنسی سوچ اور سماجی اصلاح کا شعور پیدا کرنا تھا۔ تہذیب الاخلاق نے مذہب، سیاست، سماج اور ادب پر گہرے اثرات مرتب کیے اور اردو صحافت کو ایک فکری اور اصلاحی سمت عطا کی۔
انیسویں اور بیسویں صدی کے اوائل میں اردو صحافت پورے برصغیر میں پھیل چکی تھی۔ شمالی ہندوستان، دکن، بنگال اور پنجاب میں اردو اخبارات بڑی تعداد میں شائع ہو رہے تھے۔ اس دور کے معروف اخبارات میں ’’زمیندار‘‘، ’’ہمدرد‘‘، ’’الہلال‘‘، ’’البلاغ‘‘ اور دیگر شامل ہیں۔ ان اخبارات نے نہ صرف سیاسی بیداری پیدا کی بلکہ اردو زبان و ادب کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کیا۔
1947 کی تقسیمِ ہند اردو صحافت کے لیے ایک شدید دھچکا ثابت ہوئی۔ تقسیم کے وقت ہندوستان میں تقریباً 415 اردو اخبارات شائع ہو رہے تھے، جن میں روزنامے، ہفت روزہ، پندرہ روزہ اور ماہنامے شامل تھے۔ تقسیم کے بعد 70 اخبارات کے مالکان پاکستان منتقل ہو گئے، جس کے نتیجے میں ہندوستان میں اردو اخبارات کی تعداد گھٹ کر 345 رہ گئی۔
آزادی کے بعد ہندوستان نے ایک سیکولر ریاست کے طور پر خود کو منظم کیا اور اردو صحافت نے بھی نئے سیاسی و سماجی حالات میں اپنی جگہ بنانے کی کوشش کی۔ اس دور میں ’’پرتاب‘‘، ’’ملاپ‘‘، ’’ہند سماچار‘‘، ’’آزاد ہند‘‘ اور ’’آزاد‘‘ جیسے اخبارات سامنے آئے، جنھوں نے اردو صحافت کے وقار کو برقرار رکھا اور اسے نئی شناخت دی۔
آزادی کے بعد اردو صحافت نے شدید سیاسی، سماجی اور لسانی چیلنجوں کے باوجود اپنی بقا کی جدوجہد جاری رکھی۔ تقسیم ہند کے بعد اردو زبان کو سرکاری سرپرستی کم ملنے لگی، مگر اس کے باوجود ملک کے مختلف شہروں- خصوصاً دہلی، لکھنؤ، پٹنہ، ممبئی اور حیدرآباد-سے اردو اخبارات اور رسائل کی اشاعت کا سلسلہ جاری رہا۔
ابتدائی برسوں میں اردو اخبارات کی تعداد اور اثرپذیری کم ہوئی اور وہ ملکی اخبارات کی فہرست میں چوتھے نمبر پر چلے گئے، مگر جلد ہی قارئین کی دلچسپی اور ادبی وابستگی کی وجہ سے تیسرے مقام تک پہنچ گئے۔ اسی دوران ادبی صحافت نے بھی تیزی سے ترقی کی اور 1960 سے 2000 تک درجنوں اہم ادبی رسائل منظر عام پر آئے جنھوں نے اردو زبان و ادب کی روایت کو زندہ رکھا۔
اپریل 1956 میں جمناداس اختر نے ہفت روزہ ’’سویرا‘‘ جاری کیا، جو بعد میں روزنامہ کی صورت اختیار کر گیا۔ اس اخبار نے سماجی اور ادبی موضوعات کو جگہ دے کر سنجیدہ قاری کا ایک طبقہ پیدا کیا۔اس دور میں اردو صحافت نے بتدریج خود کو مستحکم کیا۔ اگرچہ وسائل محدود تھے، مگر لکھنؤ، دہلی اور پٹنہ سے کئی اخبارات نکلے۔ ادبی رسائل کی اشاعت میں بھی اضافہ ہوا، جنھوں نے ترقی پسند فکر، جدید نظم و نثر اور تنقیدی رجحانات کو فروغ دیا۔
سلامت علی مہندی کی ادارت میں نکلنے والے ہفتہ وار ’’بنیاد‘‘ اور ہفتہ وار ’’عوام ‘‘نے دہلی میں سنسنی خیز صحافت کی طرح ڈالی اور اسکی پیروی ہفت روزہ ’’نئی دنیا‘‘ نے کی،جسکا آغاز 1973 میں ہوا تھا۔ عبدالوحید صدیقی اسکے بانی ایڈیٹرتھے-سال 1978 میں ہی نئی دہلی سے جاوید حبیب کی ادارات میں شایع ہونے والا ہفتہ وار ’’ہجوم ‘‘نے اپنا ایک منفرد مقام بنایا۔ لیکن اسکی اشاعت بھی چند برسوں تک ہی جاری رہی۔ اگر یہ اخبار رہتا تو دہلی میں ہفتہ واری صحافت کا مزاج اور انداز طے کرتا۔
سنہ 1980 میں دہلی سے عشرت علی صدیقی کی ادارت میں روزنامہ ’’قومی آواز‘‘ کی اشاعت شروع ہوئی۔ یہ اخبار دراصل اس صحافتی روایت کا تسلسل تھا جس کی بنیاد پنڈت جواہر لال نہرو نے 1945 میں لکھنؤ سے نیشنل ہیرالڈ (انگریزی)، نوجوان (ہندی) اور قومی آواز (اردو) کی صورت میں رکھی تھی۔ دہلی ایڈیشن نے اردو صحافت میں سیاسی سنجیدگی اور قومی بیانیے کو مضبوط کیا۔
سنہ 1985 میں دہلی سے روزنامہ ’’فیصل جدید‘‘ جاری ہوا۔ یہ اخبار زیادہ تر جذباتی اور سنسنی خیز اندازِ تحریر کی وجہ سے سنجیدہ صحافتی معیار قائم نہ رکھ سکا، مگر ایک عرصے تک قارئین کی توجہ حاصل کرتا رہا۔ خاص طور پر اس وقت جب قومی آواز کی اشاعت متاثر ہوئی۔ممبئی کے مقبول عام اردو روزنامہ ’’انقلاب‘‘ نے 1986 میں دہلی ایڈیشن نکالا، مگر یہ تجربہ زیادہ عرصہ کامیاب نہ رہ سکا اور چند ماہ بعد بند ہو گیا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ دہلی کی اردو صحافت میں مقابلہ سخت تھا اور مالی استحکام ایک بڑا مسئلہ تھا۔
جون 1992 اردو صحافت میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوا جب یونائیٹڈ نیوز آف انڈیا (UNI) نے اردو کی پہلی ٹیلی پرنٹر نیوز سروس شروع کی۔اس اقدام سے پورے ملک کے اردو اخبارات کو خبروں کے ترجمے کے بھاری بوجھ سے نجات ملی اور قومی و بین الاقوامی خبروں تک فوری رسائی ممکن ہوئی۔ یہ پیش رفت اردو صحافت کی پیشہ ورانہ ترقی میں نہایت اہم تھی۔
1999 میں نئی دہلی سے سہارا انڈیا گروپ نے اردو روزنامہ ’’راشٹریہ سہارا‘‘ جاری کیا (جو اس سے قبل ہفت روزہ تھا)۔یہ اخبار اپنی رنگین اور معیاری طباعت کی وجہ سے جلد مقبول ہوا۔ اگرچہ سنجیدہ قارئین نے اداریہ اور زبان کے معیار پر تنقید بھی کی، لیکن جدید طباعتی انداز اور بڑے میڈیا ہاؤس کی پشت پناہی نے اسے اردو صحافت میں ایک نمایاں مقام دلایا۔ 21ویں صدی میں ٹیکنالوجی نے اسے نئے امکانات دیے، مگر بقا کی جدوجہد اب بھی جاری ہے۔ آج کی اردو صحافت روایت اور جدت کے سنگم پر کھڑی ہے اردو اخبارات نے آزادی کے بعد بھی سماجی مسائل، اقلیتی حقوق، جمہوری اقدار اور قومی یکجہتی کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔ تاہم وسائل کی کمی اور بدلتے ہوئے میڈیا منظرنامے نے اردو صحافت کو مسلسل چیلنجز سے دوچار رکھا۔
ابلاغِ عامہ کسی بھی معاشرے میں معلومات، خیالات اور نظریات کی ترسیل کا بنیادی ذریعہ ہوتا ہے۔ اردو صحافت نے ابلاغِ عامہ کے ایک طاقت ور وسیلے کے طور پر عوامی رائے سازی میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ اخبارات اور رسائل کے ذریعے اردو صحافت نے نہ صرف معلومات فراہم کیں بلکہ عوام کی فکری اور ذہنی تربیت بھی کی۔
اکیسویں صدی کے آغاز کے ساتھ ہی اردو صحافت کو شدید چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔ اردو اخبارات کی اشاعت میں بتدریج کمی واقع ہوئی، حتیٰ کہ ان ریاستوں میں بھی جہاں اردو صحافت کبھی مضبوط تھی۔ نئی نسل کی دلچسپی طباعتی صحافت سے کم ہوتی جا رہی ہے اور لوگ تیزی سے ڈیجیٹل میڈیا کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔
یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ ڈیجیٹل میڈیا اردو صحافت کا مستقبل ہے۔ انٹرنیٹ، اسمارٹ فون اور سوشل میڈیا نے اردو صحافت کو عالمی سطح پر پہنچنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ آن لائن اخبارات، ای، پیپر، نیوز پورٹلز، یوٹیوب چینلز اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے اردو صحافت کو نئی زندگی بخشی ہے۔
روزنامہ ’’سیاست‘‘ نے 30 اکتوبر 2004 کو اپنا ای-پیپر لانچ کر کے اردو صحافت میں ڈیجیٹل دور کا آغاز کیا۔ اس کے بعد انقلاب، ہند سماچار، کشمیر عظمیٰ اور دیگر اخبارات بھی ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر فعال ہو گئے۔
آج اردو صحافت صرف اخبارات تک محدود نہیں رہی بلکہ بی بی سی اردو، نیوز18 اردو، ڈی ڈی اردو اور متعدد یوٹیوب چینلز کے ذریعے عالمی سطح پر اپنی موجودگی درج کرا رہی ہے۔ یہ پلیٹ فارمز ویڈیو، آڈیو اور تحریری مواد کے ذریعے اردو زبان کو نئی نسل سے جوڑ رہے ہیں اور ابلاغِ عامہ کے نئے امکانات پیدا کر رہے ہیں۔
صحافت محض ایک نظریاتی خدمت نہیں بلکہ ایک باقاعدہ صنعت بھی ہے۔ اس کے تین بنیادی ستون ہیں: انتظامیہ، اشاعت اور تجارت۔ طباعتی اخبارات کا سب سے بڑا ذریعہ آمدنی اشتہارات ہوتے ہیں، مگر موجودہ دور میں پرنٹ اشتہارات کی افادیت کم ہو چکی ہے۔ اس کے برعکس ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر اشتہارات اور سبسکرپشن ماڈل زیادہ مؤثر ثابت ہو رہے ہیں۔
اردو صحافت کے زوال کی کئی وجوہات ہیں، جن میں تقسیمِ ہند کے بعد اردو کو ایک مخصوص برادری سے جوڑ دینا، اردو تعلیم کی کمزوری، مالی وسائل کی کمی، حکومتی عدم توجہی، پیشہ ورانہ تربیت کے اداروں کا فقدان اور معیارِ مواد میں کمی شامل ہیں۔
ان تمام مشکلات کے باوجود اردو صحافت کا مستقبل مکمل طور پر تاریک نہیں۔ ڈیجیٹل میڈیا، سوشل نیٹ ورکنگ، پوڈکاسٹ، ویب جرنلزم اور موبائل ایپلی کیشنز اردو صحافت کے لیے نئے دروازے کھول رہی ہیں۔ اگر اردو صحافت جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہو جائے، تربیت یافتہ صحافی تیار کیے جائیں اور معیاری مواد پر توجہ دی جائے تو اردو صحافت ایک بار پھر اپنے وقار کو بحال کر سکتی ہے۔
ابلاغِ عامہ کسی بھی معاشرے کی فکری تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ یہ محض اطلاعات کی ترسیل کا ذریعہ نہیںبلکہ اقدار، نظریات اور سماجی رویّوں کی تشکیل کا مؤثر نظام ہے۔ ہندوستان جیسے کثیر لسانی اور کثیر تہذیبی معاشرے میں ابلاغِ عامہ کی ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ اردو صحافت نے اس تناظر میں ہمیشہ ایک پل کا کردار ادا کیا ہے، جو مختلف تہذیبوں، مذاہب اور سماجی طبقات کو باہم جوڑتا رہا ہے۔ اردو کی نرم اور شیریں زبان نے اختلافات کو کم کرنے، ہم آہنگی پیدا کرنے اور قومی یکجہتی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
اردو صحافت کا امتیاز یہ رہا ہے کہ اس نے خبر کے ساتھ ساتھ فکر کو بھی جگہ دی۔ اداریے، کالم، فیچر اور ادبی مضامین اردو اخبارات کا لازمی حصہ رہے ہیں، جن کے ذریعے قارئین کی ذہنی تربیت کی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ اردو صحافت محض اطلاعاتی صحافت نہیں بلکہ فکری صحافت کی روایت کی امین رہی ہے۔
زبان کسی بھی قوم کی تہذیبی شناخت کی بنیاد ہوتی ہے۔ اردو زبان نے ہندوستان میں مختلف تہذیبی عناصر کو سمو کر ایک مشترکہ تہذیب کو جنم دیا۔ اردو صحافت نے اس تہذیبی ورثے کو محفوظ رکھنے اور آگے بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اردو اخبارات میں شائع ہونے والے ادبی صفحات، افسانے، نظمیں اور تنقیدی مضامین نے اردو ادب کو عوامی سطح پر مقبول بنایا۔
اردو صحافت نے زبان کو محض خواص تک محدود نہیں رہنے دیا بلکہ عوامی سطح پر اسے زندہ اور متحرک رکھا۔ یہی وجہ ہے کہ اردو زبان آج بھی اپنے تمام تر مسائل کے باوجود زندہ ہے اور نئے ذرائع ابلاغ کے ذریعے نئی نسل تک پہنچ رہی ہے۔
جمہوریت کی بقا کے لیے آزاد، ذمہ دار اور باخبر صحافت ناگزیر ہے۔ اردو صحافت نے ہندوستان میں جمہوری اقدار کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ آزادی سے قبل اردو اخبارات نے استعماری نظام کے خلاف عوامی رائے ہموار کی، جبکہ آزادی کے بعد جمہوری اداروں، آئین، شہری حقوق اور سماجی انصاف کے موضوعات پر مسلسل آواز اٹھائی۔
اردو صحافت نے ہمیشہ اقتدار کے ایوانوں سے سوال پوچھنے کی روایت کو زندہ رکھا۔ اگرچہ اس راستے میں اسے بندشوں، سنسرشپ اور معاشی دباؤ کا سامنا بھی کرنا پڑا، لیکن اس کے باوجود اردو صحافت نے اپنی حق گوئی اور جرات کو برقرار رکھا۔
تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی کی بنیاد ہوتی ہے۔ اردو صحافت نے تعلیمی شعور کی بیداری میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ اخبارات اور رسائل کے ذریعے تعلیم کی اہمیت، تعلیمی اصلاحات، نصابی مسائل اور نئی تعلیمی پالیسیوں پر بحث کی گئی۔ خاص طور پر مسلمانوں میں جدید تعلیم کے فروغ میں اردو صحافت کا کردار ناقابلِ فراموش ہے۔
سر سید احمد خان کی اصلاحی تحریک ہو یا بعد کے تعلیمی مباحث، اردو صحافت ہمیشہ تعلیم اور ترقی کے درمیان تعلق کو واضح کرتی رہی ہے۔ آج بھی ڈیجیٹل اردو پلیٹ فارمز تعلیمی مواد، لیکچرز اور معلوماتی پروگراموں کے ذریعے تعلیمی شعور کو فروغ دے رہے ہیں۔
اردو صحافت میں خواتین کا کردار بھی اہم رہا ہے۔ بیسویں صدی کے اوائل میں خواتین کے لیے مخصوص اردو رسائل منظرِ عام پر آئے، جنہوں نے خواتین کے حقوق، تعلیم اور سماجی مسائل کو اجاگر کیا۔ ان رسائل نے خواتین کو اظہارِ رائے کا پلیٹ فارم فراہم کیا اور انہیں سماجی دھارے میں شامل ہونے کا موقع دیا۔
آج کے ڈیجیٹل دور میں خواتین صحافی اور بلاگرز اردو صحافت کو نئے موضوعات اور نئے زاویے عطا کر رہی ہیں، جس سے اردو میڈیا کا دائرہ مزید وسیع ہو رہا ہے۔
اردو صحافت اور سیاست کا تعلق ہمیشہ گہرا رہا ہے۔ اردو اخبارات نے سیاسی شعور کی آبیاری کے ساتھ ساتھ سماجی مسائل جیسے غربت، بے روزگاری، فرقہ واریت اور عدم مساوات کو بھی اجاگر کیا۔ اردو صحافت نے عوام اور حکومت کے درمیان ایک رابطے کا کردار ادا کیا اور سماج کی آواز اقتدار تک پہنچائی۔
ڈیجیٹل میڈیا کے فروغ کے ساتھ ڈیجیٹل خواندگی ایک اہم مسئلہ بن چکی ہے۔ اردو صحافت کے لیے ضروری ہے کہ وہ نہ صرف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر موجود ہو بلکہ قارئین کو ڈیجیٹل ذرائع کے استعمال کی تربیت بھی فراہم کرے۔ آسان زبان، سادہ انٹرفیس اور معیاری مواد اردو ڈیجیٹل صحافت کی کامیابی کی ضمانت ہیں۔
عالمی سطح پر اردو صحافت کی رسائی پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔ خلیجی ممالک، یورپ، امریکہ اور آسٹریلیا میں مقیم اردو داں طبقہ نہ صرف اپنی زبان و ثقافت سے جڑا ہوا ہے بلکہ اردو اخبارات، رسائل، ویب پورٹلز، یوٹیوب چینلز اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے عالمی حالات و مسائل سے بھی باخبر رہتا ہے۔ ہجرت اور عالمگیریت کے اس دور میں اردو صحافت نے سرحدوں سے ماورا ہو کر ایک مشترکہ فکری اور تہذیبی رابطے کا کردار ادا کیا ہے۔
ڈیجیٹل میڈیا کی ترقی نے اردو صحافت کو عالمی سطح پر نئی توانائی بخشی ہے۔ آن لائن اخبارات، ای پیپرز، پوڈکاسٹس اور سوشل میڈیا نے اردو صحافت کو وقت اور مقام کی قید سے آزاد کر دیا ہے۔ اب ایک خبر یا تجزیہ بیک وقت ہندوستان، پاکستان، مشرقِ وسطیٰ، یورپ اور امریکہ میں پڑھے اور سنے جا سکتے ہیں۔ اس عالمگیری رسائی نے اردو صحافت کو بین الاقوامی مکالمے کا مؤثر ذریعہ بنا دیا ہے۔
عالمی تناظر میں اردو صحافت کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ یہ بیرونِ ملک مقیم اردو داں افراد کے مسائل، شناخت اور ثقافتی تشخص کو اجاگر کرتی ہے۔ مہاجرین کے سماجی، تعلیمی اور معاشی مسائل، اسلاموفوبیا، اقلیتی حقوق، بین الثقافتی ہم آہنگی اور عالمی امن جیسے موضوعات اردو صحافت میں نمایاں طور پر زیرِ بحث آتے ہیں۔ اس طرح اردو صحافت نہ صرف خبر رسانی کا فریضہ انجام دیتی ہے بلکہ عالمی سطح پر امن، رواداری اور باہمی احترام کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔
مزید برآں، عالمی اردو صحافت نے مختلف ممالک کے صحافیوں، ادیبوں اور دانشوروں کو ایک دوسرے سے جوڑنے میں بھی نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ بین الاقوامی کانفرنسیں، آن لائن مذاکرے اور مشترکہ صحافتی منصوبے اردو صحافت کو ایک عالمی فکری تحریک کی صورت دے رہے ہیں۔ یوں اردو صحافت عالمی منظرنامے میں اپنی شناخت مستحکم کرتے ہوئے ایک ذمہ دار، باخبر اور امن پسند میڈیا کے طور پر ابھر رہی ہے۔
Md. Kaif Habibullah
B-57, 1st Floor Back side,
Toker No.7, Shaheen Bagh, Okhla,
New Delhi -110025
Mob. 9871184132
Email: advent.kaif@gmail.com