شریف احمد قریشی کی فرہنگ نویسی: زبان، ادب اور ثقافت کی زندہ میراث ،مضمون نگار:شہپرشریف

April 22, 2026 0 Comments 0 tags

اردو دنیا،اپریل2026

ادب کی دنیا میں ایسے افراد بہت کم ہوتے ہیں جو اپنی تمام علمی و فکری صلاحیتیں محض اپنی زبان، معاشرے اور اپنی تہذیب کے تحفظ و فروغ کے لیے وقف کر دیں۔اردو زبان کی تاریخ میں ڈاکٹر شریف احمد قریشی کا شمار انہی نادر و کمیاب شخصیات میں ہوتاہے جنھوں نے اپنی زندگی کا قیمتی سرمایہ اس زبان کی خدمت میں صرف کردیا۔ وہ نہ صرف ایک جید محقق، عالمانہ بصیرت رکھنے والے لسانیات داں، اور صاحب ذوق استاد تھے بلکہ اردو تہذیب و ثقافت کے ایک ایسے پاسبان بھی تھے جنھوں نے زبان کے عام و خاص پہلوؤں کو اپنی تحقیق کی روشنی میں زندہ جاوید بنا دیا۔ڈاکٹر شریف احمد قریشی کا علمی سفر اس وقت شروع ہوا جب اردو تحقیق میں شعری رجحانات کو فوقیت حاصل تھی اور نثری ادب کے دقیق پہلو نسبتاً نظر انداز کیے جا رہے تھے۔ انھوں نے اس عمومی دھارے سے الگ ہو کر فرہنگ نویسی جیسے محنت طلب، مگر بے حد ضروری میدان کا انتخاب کیا۔ وہ میدان جہاں تحقیق کے ساتھ زبان، محاورے، کہاوت اور عوامی فکر کی تہذیبی گہرائیوں کا بھی مطالعہ درکار ہوتا ہے۔انھوں نے نہ صرف اس راستے کوچنابلکہ اپنی شبانہ روز محنت سے اس میں وہ چراغ روشن کیے جنھوں نے اردو لغت نگاری کو ایک نئی جہت عطا کی۔فرہنگ نویسی بظاہر محض الفاظ کے معنی و مفاہیم کا تعین ہے مگر دراصل یہ زبان کی روح تک رسائی کا فن ہے اور ڈاکٹر شریف احمد قریشی نے اسے صرف فن نہیں، ایک علمی مشن کے طور پر نبھایا۔ان کی تحریروں میں علم کا وقار، زبان کی سادگی اور فکر کی گہرائی ایک ساتھ جلوہ گر نظر آتی ہے۔ انھوں نے کہاوتوں، محاورات اور عوامی اظہار کی چھوٹی چھوٹی اکائیوں کو ایک بڑے ثقافتی و ادبی سیاق میں رکھ کر ان کی معنوی پرتیں وا کیں۔یہی وجہ ہے کہ ان کی کتابیں جیسے ’’کہاوتیں اور ان کا حکایتی و تلمیحی پس منظر‘‘، ’’کہاوت کتھا کوش‘‘، ’’کہاوت اور حکایت‘‘، ’’اردو کہاوتیں‘‘ وغیرہ صرف فرہنگیں نہیں بلکہ اردو تہذیبی تاریخ کے معتبر دستاویزات کی حیثیت رکھتی ہیں۔ڈاکٹر شریف احمد قریشی کا کارنامہ اس لحاظ سے بھی منفرد ہے کہ انھوں نے اپنی تحقیقی سرگرمیوں کو محض کتب خانوں یا علمی نشستوں تک محدود نہیں رکھا بلکہ زبان کے عوامی مزاج کو براہ راست اپنی تحقیق میں شامل کیا۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ کہاوت یا محاورہ محض الفاظ کا کھیل نہیں بلکہ قوم کے اجتماعی شعور، اس کی نفسیات اور اس کی دانش عامہ کی عکاسی کرتاہے۔انھوں نے اردو فرہنگ نویسی کو بین اللسانی رخ دیتے ہوئے ہندی رسم الخط میں بھی کام کیا تاکہ دونوں زبانوں کے لسانی اور تہذیبی تقارب کو نئی معنویت دی جا سکے۔یہی علمی وسعت اور فکری تنوع انھیں محض ایک محقق نہیں بلکہ لسانی مورخ کے درجے پر فائز کرتا ہے۔
اردو زبان کی وسعت، رنگا رنگی اور تہذیبی تنوع میں اگر کوئی وصف سب سے نمایاں ہے تو وہ اس کے الفاظ کا وہ سرمایہ ہے جو صدیوں سے مختلف زبانوں اور بولیوں کے امتزاج سے تشکیل پایا ہے۔ اس ذخیرے کو علمی بنیادوں پر محفوظ کرنے اور اس کے تہذیبی پس منظر کو سمجھنے کاکارنامہ جن اہل علم نے انجام دیاان میں ڈاکٹر شریف احمد قریشی کا نام نہایت وقعت رکھتا ہے۔
اردو دنیا میں ڈاکٹر شریف احمد قریشی کا نام نہایت احترام، وقار اور علمی عظمت کے ساتھ لیا جاتا ہے۔ وہ ایک ایسے محقق، مدون، لغت نگار اور استاد کامل ہیں جنھوںنے اپنی علمی بصیرت، تحقیقی جستجو اور لسانی شعور کے ذریعے اردو ادب میں ایک منفرد اور نمایاں مقام حاصل کیا۔اردوادب کے اس روشن ستارے کی پیدائش 15 جولائی1953 بروز بدھ مطابق4 ذی القعدہ 1372ھ کو قصبہ گھاٹم پور، ضلع کان پور میں ہوئی۔ آغاز ہی سے ان میں علم و ادب کا شوق اور زبان کی لطافتوں کو سمجھنے کا سلیقہ نمایاں تھا۔ یہ ذوق علم انھیں تدریجاً تدریس اور تحقیق کے میدان تک لے آیا۔ڈاکٹر شریف احمد قریشی نے اپنی تدریسی خدمات گورنمنٹ رضا پوسٹ گریجویٹ کالج، رام پور کے شعبہ اردومیں انجام دیں اور طویل عرصہ تک وہاں ایسوسی ایٹ پروفیسرکے طورپرعلمی فرائض سرانجام دیتے رہے۔ اپنے اخلاص، علمی دیانت اور تعلیمی محنت کے باعث وہ اپنے رفقا اور طلبا دونوں میں یکساں طورپرمحبوب و محترم رہے۔ اسی ادارے سے وہ باعزت طور پر سبکدوش ہوئے۔ ڈاکٹرشریف احمد قریشی صاحب کا علمی سرمایہ نہایت وسیع ہے۔ اب تک ان کی تین درجن سے زیادہ کتابیں منظر عام پر آ چکی ہیں جن میں تحقیق، تنقید، لغت نگاری، تذکرہ نگاری اور ادبی تجزیے جیسے متنوع موضوعات شامل ہیں۔ خصوصاً فرہنگ نویسی کے میدان میں ان کے کارنامے غیر معمولی اہمیت کے حامل ہیں۔ انھوں نے کہاوتوں، محاوروں، تلمیحات اور ضرب الامثال پر مبنی ایسی فرہنگیں مرتب کی ہیں جو ان کی لسانی مہارت، محققانہ نگاہ اور تخلیقی بصیرت کی عکاس ہیں۔ڈاکٹر شریف احمد قریشی کا شمار ان اہل قلم میں ہوتا ہے جنھوں نے اردو لغت نویسی کو محض الفاظ کے مجموعے کی حد تک نہیں رکھا بلکہ اسے تہذیبی، ثقافتی اور فکری حوالوں سے ایک زندہ اور فعال علم کے طور پر متعارف کرایا۔ ان کی تصانیف نہ صرف محققین کے لیے ماخذ کی حیثیت رکھتی ہیں بلکہ زبان و ادب کے ہر طالب علم کے لیے ایک علمی رہنما کی مانند ہیں۔ تحقیقی بصیرت، لسانی شعور اور علمی جستجو کے باعث ان کا نام نہایت احترام کے ساتھ لیاجاتاہے۔ انھوں نے فرہنگ سازی کے میدان میں نمایاں اور وقیع کارنامے انجام دیے ہیں۔ انھوں نے اردو فرہنگ نویسی کو محض لغت نویسی کی سطح سے بلند کرکے لسانی و تہذیبی تحقیق کی منزل عطا کی۔ ان کی تین نادر تصانیف ’’فرہنگ روح نظیر‘‘، ’’فرہنگ نظیر‘‘ اور ’’تلمیحات نظیراکبر آکبرآبادی‘‘نہ صرف نظیر اکبرآبادی کی شاعری کو سمجھنے کی کنجی ہیں بلکہ اردو لسانیات کی تاریخ میں سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔
ڈاکٹر شریف احمد قریشی کی علمی و تحقیقی زندگی کا آغاز ’’فرہنگ روح نظیر‘‘ سے ہوتا ہے جو ان کے ایم۔ فل۔ کا تحقیقی مقالہ تھا۔ یہ مقالہ انھوں نے جواہر لال نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی میں پروفیسر نصیر احمد خاں کی زیر نگرانی مکمل کیا۔ اس کی علمی عظمت کا اندازہ اس وقت کے معروف شاعر اور ممتحن معین احسن جذبی کے اس تبصرے سے لگایا جا سکتا ہے جس میں انھوں نے فرمایا تھا کہ:’’اس مقالے پر ایم۔فل۔ نہیں بلکہ پی ایچ۔ڈی۔ کی ڈگری دی جانی چاہیے۔’’یہ جملہ دراصل اس فرہنگ کی قدر و قیمت کا سب سے بڑا اعتراف ہے۔یہ کتاب مخمور اکبرآبادی کے مرتبہ مجموعہ ’’روح نظیر‘‘ (1978) پر مبنی ہے جس کے کلام سے ڈاکٹرشریف احمد قریشی نے تقریباً4000 اہم الفاظ، محاورات، اصطلاحات نہایت باریک بینی سے اخذ کیے۔انھوں نے الفاظ کے محض معنی بیان نہیں کیے بلکہ ان کے استعمالی پہلو، امثال، اور لسانی پس منظر کو بھی واضح کیا جس سے نظیر کی زبان کی تہذیبی و عوامی روح سامنے آتی ہے۔اس فرہنگ میں ترکی، پنجابی، مارواڑی، عبرانی، ہندی اور سنسکرت کے الفاظ کے ساتھ ساتھ تیراکی، میلوں ٹھیلوں، کھیل تماشوں، زیورات اور رسومِ ہند سے متعلق اصطلاحات بھی شامل کی گئیں۔یوں ’’فرہنگ روح نظیر‘‘ صرف ایک لغت نہیں بلکہ اردو زبان کے عوامی اور تہذیبی محاورے کا آئینہ بن گئی۔ڈاکٹر شریف احمد قریشی کی دوسری تصنیف ’’فرہنگ نظیر‘‘ ان کے تحقیقی سفر کا نقطہ عروج ہے۔ یہ کتاب ان کی پی ایچ۔ڈی۔ کے دوران مکمل ہوئی اور بلاشبہ اردو فرہنگیات کا ایک جامع اور معیاری کارنامہ ہے۔یہ فرہنگ نظیر اکبرآبادی کے تمام اردو کلام پر مشتمل ہے۔ ڈاکٹر شریف احمد قریشی نے مختلف مستند نسخوں کلیات نظیر (مرتبہ عبدالباری آسی و اشرف علی)، کلیات نظیر (اظہر راہی)،گلزار نظیر (سلیم جعفر) اور روح نظیر (مخمور اکبرآبادی)کاتقابلی مطالعہ کیا اور کلام نظیرمیں پائے جانے والے متعدد اختلافات، تغیرات اور لفظی املا کو علمی دلائل کے ساتھ درست کیا۔ ڈاکٹر شریف احمد قریشی نظیر کے کلام کے بارے میں رقم طراز ہیں:
’’نظیر کے کلام کا ایسا کوئی نسخہ طبع نہیں ہوا جو غلطیوں سے پاک ہو۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ نظیرنے چھوٹے چھوٹے مضمون پر مفصل طبع آزمائی کی اور اپنی وارفتہ مزاجی کے باعث کبھی اپنے کلام کو جمع یا مرتّب کرنے کی کوشش نہیں کی، نہ جانے کتنا کلام فرمائشوں پر لکھ کر دے دیا۔ اس کے پاس فقیر یا گداگر آئے اور صدائیں لگانے کے لیے اشعارلکھوا کر لے گئے۔ دکاندار اور خوانچے والے، آواز لگا کر سامان بیچنے کے لیے اپنی اپنی فرمائشوں کے مطابق کلام لکھوا کر لے گئے۔ پتہ نہیں،اس نے اپنا کتنا کلام لوگوں کو بخش دیااور کتنا ضائع ہو گیا۔ ان کے شاگردوں اور مرتبین کو جیسا ہاتھ لگا ویسا مرتّب کر دیا اور کچھ غلطیاں تو کاتبوں کی ستم ظریفیوں کے باعث رونما ہوئیں۔‘‘ 1؎
اس میں کوئی شک نہیں کہ نظیر کا مکمل کلام محفوظ نہیں رہ سکا اور پبلشروں نے جو کلام نظیر کے نام سے شائع کیا، اسے زیادہ تر تبدیلی الفاظ کے ساتھ شائع کردیا۔ ڈاکٹر شریف احمد قریشی نے نظیر کے کلام کے مطالعے میں ایک نہایت دقیق اور سنجیدہ علمی کاوش کوانجام دیا۔ نظیر کے کلام کی اصل تدوین اور حفاظت ایک مشکل کام تھا کیونکہ ان کا کلام منتشر تھا اور اکثر ضائع ہو چکا تھا۔ کئی مرتبہ فرمائشوں کے تحت اشعار لکھے گئے یا شاگردوں اور مرتبین نے مختلف انداز سے اس میں رد و بدل کیا۔ اس کے نتیجے میں مختلف نسخوں میں اختلافات پیدا ہو گئے اور اصل متن کی درستگی متاثر ہوئی۔ اس علمی چیلنج کا مقابلہ کرتے ہوئے ڈاکٹر شریف احمد قریشی نے مختلف مرتّبہ نسخوں کامفصل تقابلی مطالعہ کیا جن میں کلیات نظیر، گلزار نظیر اور روح نظیر شامل تھے۔ انھوں نے ہر شعر اور مصرعے کے مضمون، معنی اور وزن کو مدنظر رکھتے ہوئے درستگی کی کوشش کی۔ جہاں کہیں الفاظ یا جملوں میں تضاد تھا وہاں انھوں نے مستند دلائل پیش کیے اورثابت کرنے کی کوشش کی کون سا لفظ یا فقرہ اصل متن کے مطابق درست ہے۔اس تحقیق کے نتیجے میں فرہنگ نظیر میں شامل اشعار کی مستند تدوین اور تشریح ممکن ہوئی۔ اس سے قاری کو نہ صرف لغوی معنی کی تفہیم ہوئی بلکہ کلام کے ادبی، تاریخی اور سماجی پس منظر سے بھی روشناس ہونے کا موقع ملا۔اس کتاب میں تقریباً 7000 الفاظ، محاورات، اصطلاحات، کہاوتیں اور ضرب الامثال شامل ہیں جن کے مفاہیم و مطالب کو لسانی، ثقافتی اور معنوی سیاق کے ساتھ درج کیا گیا ہے۔ڈاکٹرشریف احمد قریشی نے بعض ایسے الفاظ بھی شامل کیے جو کسی لغت میں موجود نہ تھے، ان کے معنی انھوں نے اہل زبان سے براہ راست استفسار اور تحقیقی تتبع کے ذریعے متعین کیے۔’’فرہنگ نظیر‘‘ کی ترتیب میںایک غیرمعمولی خوبی یہ ہے کہ اس میں نظیر کی شاعری سے وابستہ چرند و پرند، پھل ، پھول، زیورات، کپڑے، تیوہاروں، میلوں ٹھیلوں اور پیشہ ورانہ اصطلاحات کو ایک مربوط نظام کے تحت پیش کیا گیا ہے۔یوں یہ کتاب اردو کی موضوعاتی اور ثقافتی لغت کا درجہ اختیار کر لیتی ہے۔یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ’’فرہنگ نظیر‘‘ کے بغیر نظیرکے کلام کوپوری معنویت کے ساتھ سمجھناممکن نہیں۔یہ کتاب ایک طرف لسانی تحقیق کا شاہکار ہے تو دوسری جانب فرہنگ نگاری کے فن کا عملی نمونہ۔نظیر اکبرآبادی کے کلام کا ایک اہم پہلو ان کی تلمیحات و اشارتی نظام ہے۔ڈاکٹر شریف احمد قریشی نے اس میدان میں بھی ایک منفرد علمی خدمت انجام دیتے ہوئے ’’تلمیحات نظیر اکبرآبادی مع شخصیات‘‘ کے عنوان سے ایک ایسی کتاب مرتب کی جو اپنے موضوع کے اعتبار سے اردو ادب میںمنفرد اور وقیع مثال ہے۔اس کتاب میں نظیر کے اشعار میں موجود دیومالائی، مذہبی، تاریخی اور ثقافتی تلمیحات کی تشریح نہایت تحقیق اور حوالہ جاتی استناد کے ساتھ کی گئی ہے۔ڈاکٹر شریف احمد قریشی نے فارسی، عربی،ترکی اور ہندی ماخذات سے مدد لے کر ہر تلمیح کا وقوع محل، تاریخی پس منظر اور معنوی جہت واضح کی ہے۔ یہ کتاب ان کے گہرے مطالعے اور تلمیحی شعور کی آئینہ دار ہے۔ اس میں تلمیحات کے ساتھ ساتھ متعلقہ شخصیات، واقعات اور اصطلاحات کی تفصیل بھی شامل ہے جس سے نظیر کے اشعار کے معنی ایک نئے تناظر میں کھلتے ہیں۔یوں یہ تصنیف صرف ایک وضاحتی کتاب نہیںبلکہ اردو شاعری کی تلمیحی لغت کے طور پر اپنی مثال آپ ہے۔ڈاکٹر شریف احمد قریشی کی یہ تینوں تصانیف فرہنگ روح نظیر، فرہنگ نظیر، اور تلمیحات نظیر اکبرآبادی اردو زبان کے لسانی سرمائے کی حفاظت کے ساتھ ساتھ نظیر اکبرآبادی کی شاعری کی تفہیم کے لیے ناگزیر حوالہ جات بن چکی ہیں۔انھوں نے فرہنگ نویسی کو محض الفاظ کے معنی تک محدود نہیں رکھا بلکہ ہر لفظ کو اس کے سماجی، تہذیبی اور معنوی تناظر میں دیکھا۔
اردو ادب کی تاریخ میں ہمیشہ شعر و شاعری کو غیر معمولی اہمیت حاصل رہی ہے۔ صدیوں سے تخلیقی اظہار کا یہ پہلو اردو ادبی روایت کا بنیادی ستون رہا ہے مگر اس کے برعکس نثر کے شاہکاروں کی تدوین، تجزیہ اور لسانی مطالعہ کو عموماً ثانوی حیثیت دی گئی۔ ایسے ماحول میں جب نثر پر سنجیدہ اور منظم علمی کام کی روایت کمزور پڑ رہی تھی تب ڈاکٹر شریف احمد قریشی نے نہایت فکری بصیرت، جرأت تحقیق اور علمی اخلاص کے ساتھ ایک ایسا قدم اٹھایا جس نے اردو تحقیق کو نئی جہت عطا کی۔انھوں نے پہلی مرتبہ پنڈت رتن ناتھ سرشار کے ضخیم، دلکش اور شہرہ آفاق ناول ’’فسانہ آزاد‘‘ کو اپنی تحقیقی کاوش کا موضوع بنایا۔ وہ ناول جو اردو نثر کی داستانوی روایت، تہذیبی تنوع اور لسانی رنگا رنگی کا درخشاں استعارہ ہے۔ اس عظیم الشان تصنیف پر انھوں نے عمرانی اور لسانی نقطہ نظر سے ایسا عالمانہ تجزیہ پیش کیا جو اردو تحقیق کی تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی میں پی ایچ۔ڈی۔ ڈگری کے لیے قلم بند کی گئی ان کی فرہنگ ’’فرہنگ فسانہ آزاد اور اس کا عمرانی و لسانی مطالعہ‘‘ اپنی نوعیت کے اعتبار سے نہ صرف ایک غیر معمولی تحقیقی دستاویز ہے بلکہ اردو لسانیات اور تنقید میں ایک نئی روایت کی بنیاد بھی رکھتی ہے۔
یہ تصنیف محض لغوی توضیحات یا لسانی نکات کا مجموعہ نہیں بلکہ اردو نثر کی ساخت، اس کے تہذیبی و فکری پس منظر اور سماجی معنویت کا ہمہ گیر مطالعہ ہے۔ ڈاکٹر شریف احمد قریشی نے اس فرہنگ کے ذریعے یہ ثابت کیا کہ اردو ادب کی تخلیقی اساس میں نہ صرف فنی حسن بلکہ معاشرتی شعور، عوامی زبان کی سادگی اور ہندوستانی تہذیب کی روح شامل ہے۔ ان کی یہ تحقیق کئی غلط فہمیوں کا ازالہ کرتی ہے اور اس حقیقت کوواضح کرتی ہے کہ اردو زبان کی بنیاد ہندو اور مسلم تہذیبوں کے حسین امتزاج پر قائم ہے۔ڈاکٹر شریف احمد قریشی کا امتیاز یہ ہے کہ وہ ہر علمی موضوع کا انتخاب زندہ شعور اور تازہ زاویہ نظر کے ساتھ کرتے ہیں۔ وہ فرسودہ یا بار بار دہرائے گئے مباحث سے گریز کرتے ہوئے ہمیشہ ایسے علمی گوشوں کو موضوع بناتے ہیں جو اردو کے علمی سرمایے میں حقیقی اضافہ کا باعث ہوں۔ ان کے نزدیک تحقیق محض تعلیمی ضرورت نہیں بلکہ ادبی فریضہ اور قومی خدمت ہے۔اس طرح ’’فرہنگ فسانہ آزاد اور اس کا عمرانی و لسانی مطالعہ‘‘ نہ صرف ان کی علمی بصیرت، گہری زبان دانی اور تنقیدی فہم کا مظہر ہے بلکہ اردو تحقیق میں ایک نئے دور کا آغاز بھی ہے،ایک ایسا دور جس میں نثر فہمی کو لسانی، تہذیبی اور فکری سطحوں پر نئے انداز میں سمجھنے کی روایت قائم ہوئی۔ ڈاکٹر شریف احمد قریشی کی یہ کاوش اردو اسکالروں کے لیے رہنما چراغ کی حیثیت رکھتی ہے جو آنے والے زمانے تک علمی دنیا کو روشنی فراہم کرتی رہے گی۔2؎
اگرچہ انشانے ’’رانی کیتکی کی کہانی‘‘ تخلیق کرتے وقت اس التزام کا خاص خیال رکھا کہ نہ صرف عربی اور فارسی کے الفاظ استعمال نہ ہوں بلکہ مشکل اور غیر عام الفاظ سے بھی پرہیز کیا جائے تاہم ڈاکٹر شریف احمد قریشی نے اپنی باریک بینی، ژرف نگاہی اور تحقیقی مہارت کے سبب اس میں بھی بہت سے نادر الفاظ، محاورات اور لائق تشریح حوالہ جات تلاش کر کے پیش کیے۔ ان کی یہ کاوش کہانی کے ہر لفظ اور محاورے کو اس کے اصلی معنوی اور لسانی پس منظر کے ساتھ بیان کرتی ہے اور قاری کو اصل متن کے حسن سے روشناس کراتی ہے۔ڈاکٹر شریف احمد قریشی نے اپنی تحقیق اور علمی بصیرت سے اس داستان کی فرہنگ مرتب کی۔ انھوں نے نہ صرف اس زمانے کے الفاظ کے معانی اور استعمال کو واضح کیا بلکہ متن کو من و عن نقل کر کے قاری کے لیے اصل لسانی حسن کوبرقرار رکھا۔ فرہنگ میں الفاظ، محاورات اور اصطلاحات کی تفصیل فراہم کی گئی، جس سے یہ کتاب ایک انسائیکلوپیڈیا کی حیثیت اختیار کر گئی۔ ڈاکٹر شریف کی محنت نے یہ ممکن بنایا کہ اب قاری نہ صرف کہانی کو سمجھے بلکہ اس کے لسانی، ثقافتی اور تاریخی پس منظر سے بھی بخوبی واقف ہو۔زبان کے تناظر میں ’’رانی کیتکی کی کہانی‘‘ کی نوعیت پر کافی بحث ہو چکی ہے۔ ڈاکٹر شریف احمدکے مطابق اگر یہ داستان اردو رسم الخط میں لکھی جائے تو اردو کہلائے گی اور اگر دیوناگری میں تو ہندی۔ انشا نے اس میں جادو ٹونے، میلوں ٹھیلوں، رسومات، موسیقی، رقص، اور دیگر سرگرمیوں کے مخصوص الفاظ استعمال کیے جن کے صحیح معنی انھوں نے باریک بینی سے درج کیے۔ اس تحقیق سے قاری کو اس دور کی معاشرتی اور تہذیبی صورتِ حال کا واضح نقشہ بھی حاصل ہوتا ہے۔ڈاکٹر شریف احمد قریشی نے نہ صرف لفظی تحقیق کی بلکہ نادر اور متروک الفاظ و اصطلاحات کے حقیقی معنی بھی اجاگرکیے۔ ان کے تجزیے اور حوالہ جاتی توضیحات کی بدولت کہانی کے فنی و تخلیقی حسن کے ساتھ ساتھ اس کا سماجی و تہذیبی پس منظر بھی سمجھنا آسان ہو گیا۔ فرہنگ میں آلات موسیقی، راگ و راگنی، زمینی و بحری سواری، محل و مکانات اور رقّاصوں و مغنیوں کے ناموں اور ان کی تفصیل کو بھی دلچسپ انداز میں پیش کیا گیا جو اس کتاب کو نہ صرف لسانی بلکہ تہذیبی حوالہ بھی بناتا ہے۔یوں کہا جا سکتا ہے کہ ڈاکٹر شریف احمد قریشی کی فرہنگ نے ’’رانی کیتکی کی کہانی‘‘ کے لفظی حسن اور معنوی گہرائی کو اجاگر کیا اور اس کے تاریخی، سماجی اور ثقافتی پس منظر کو روشن کر کے اردو و ہندی ادب میں ایک قابلِ قدر تحقیقی حوالہ فراہم کیا۔ یہ فرہنگ نہ صرف انشا کی داستان کو سمجھنے کے لیے ناگزیر ہے بلکہ ادب کے محققین کے لیے بھی ایک منفرد اور قیمتی کارنامہ ہے۔ڈاکٹر حسن احمد نظامی (سابق چیرمین فخرالدّین علی احمد میموریل کمیٹی،لکھنؤ)اپنے ایک مضمون بعنوان ’’رانی کیتکی کی کہانی کی فرہنگ: مختصر جائزہ‘‘ میں رقم طراز ہیں:
’’ڈاکٹر قریشی فرہنگ اور لغت سے متعلق جتنے کام کر چکے ہیں اس کے لحاظ سے اگر ان کو دور حاضر کا ’بابائے فرہنگ‘ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ اردو اور ہندی زبانوں پر یکساں عبور حاصل ہونے کے سبب ان فرہنگوں میں الفاظ، محاورات، ضرب الامثال اور یہاں تک کہ متروکات کا ایک خاصہ ذخیرہ جمع ہو گیا ہے۔ انھوں نے فرہنگ روح نظیر، فرہنگ نظیر، فرہنگ فسانہ آزاد اور اس کا عمرانی لسانیاتی مطالعہ، کہاوتیں اور ان کا حکایتی وتلمیحی پس منظر، کہاوت کتھا کوش (ہندی) اور تلمیحات نظیر اکبرآبادی لکھ کر اپنا نام ماہرین فرہنگیات یا Lexicographistsمیں درج کرا لیا ہے۔‘‘
ڈاکٹرحسن احمد نظامی صاحب کا عطا کردہ خطاب ادبی حلقوں میں اس قدر مقبول و مشہورہوا کہ اب ڈاکٹر شریف احمد قریشی کو ’’بابائے فرہنگ‘‘ کے لقب سے یاد کیا جانے لگا ہے۔ڈاکٹر شریف نے رجب علی بیگ سرورکی شہرہ آفاق کتاب فسانہ عجائب کی فرہنگ سازی کا کام سرانجام دیاہے۔
’’فسانۂ عجائب‘‘ کی عبارت مقفّیٰ و مسجّیٰ اور انتہائی پر تکلف و پیچیدہ ہے۔ تشبیہ، استعارے، قافیہ پیمائی اور دیگر صنعت کے استعمال کے ذریعہ عبارت کو صنّاعی، رنگینی، رعنائی اور دلکشی سے ہموار کیا گیا ہے۔ سرور آسان اور عام فہم عبارت پر بھی قدرت رکھتے تھے مگر اہلِ لکھنؤ اور خود سرور اسے کسرِشان تصور کرتے تھے۔ رعایتِ الفاظ، صنائع، لفظی و معنوی، مصنوعی تراکیب، پیچیدہ فقروں، عربی اور فارسی زبانوں کے الفاظ کی کثرت اور قافیہ پیمائی کے سبب ’’فسانۂ عجائب‘‘ آورد اور تصنّع کے اعتبار سے تو ایک بہترین نمونہ قرار دی جاسکتی ہے مگر اس کی زبان اس قدر بوجھل اور دقیق ہو گئی ہے کہ جسے عہدِحاضر کے عام قارئین و طلبا سمجھنے سے قاصر نظر آتے ہیں۔ جس کے متعلق ڈاکٹرشریف احمد قریشی اس طرح رقم طراز ہیں:
’’شادی بیاہ کے پرانے رسوم و رواج متروک ہوگئے ہیں۔ بازاروں میں سودا بیچنے والوں کی بولیاں گم ہوگئی ہیں۔ عورتوں کے قدیم زیورات، گہنوں اور ان کی ملبوسات کے نام مفقود ہو گئے ہیں۔ قدیم کھیل تماشوں اور عیش و عشرت کی محفلوں سے اب کسی کا لگاؤ نہیں رہا۔ چوسر، گنجفہ وغیرہ کا شوق بھی کتنا رہ گیا ہے؟ طوائفوں کی تہذیب خاک میں مل گئی ہے اور ان کے کوٹھے نہ جانے کب کے ویران ہو چکے ہیں۔ کسبیاں اور ڈومنیاں خدا جانے کہاں روپوش ہوگئی ہیں۔ بھانڈ بھَگتیے، ہیجڑے، فہدے اور مُر چڑے اپنی قسمت کو روبیٹھے ہیں۔ پتنگ بازی،بٹیربازی، مرغ بازی، کبوتر بازی اور نہ جانے کتنی بازیاں کب کی مات کھا چکی ہیں۔ فقیر، ٹھگ، دَلّال، کنجڑے بھٹیارے، حلوائی، نانبائی اور مِیلے ٹھیلے والے اپنی پرانی بولیوں اور اصطلاحوں کو بھول چکے ہیں۔نہ جانے ایسے کتنے الفاظ ہیں جن کا چلن ختم سا ہو گیا ہے اور نہ جانے کتنی اصطلاحیں متروک ہو چکی ہیں۔ اردو زبان و ادب کی ان مخصوص بولیوں اور اصطلاحوں کو یکجا کرکے محفوظ کرنا ہماری اہم ذمّہ داری ہے۔ ’’فسانۂ عجائب‘‘ جابجا ایسے فقروں اور اصطلاحوں سے بھری پڑی ہے جنھیں ہم بھول گئے ہیں یا بھولتے جارہے ہیں جو ہماری تہذیب کی بنیادیں ہیں۔ ’’فسانۂ عجائب‘‘ کی فرہنگ مرتب ہونے سے مخصوص الفاظ، محاورات، روزمرہ، ضرب الامثال اور مخصوص بولیوں کا ایک خزینہ محفوظ ہو جائے گا اور یہ فرہنگ اردو زبان و ادب کے لیے کئی طرح سے اہمیت کی حامل ہوگی۔‘‘ 3؎
فسانہ عجائب اردو ادب کا شاہکارہے جسے رجب علی بیگ سرورنے تصنیف کیاہے۔ڈاکٹر شریف احمد قریشی نے ’’فرہنگ فسانہ عجائب‘‘ کی تمام عبارت کا احاطہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ انھوں نے دقیق الفاظ و تراکیب، اصطلاحات، محاورات، ضرب الامثال، تلمیحات وغیرہ کی فہرست سازی کے بعد ان کا اندراج بہ اعتبارحروف تہجّی اور تلفظ کی صحت کا خیال رکھتے ہوئے کیا ہے۔ انھوں نے ہر لفظ کے معنی و مفاہیم اسناد و شواہد کے ساتھ تحریر کیے ہیں۔ جن الفاظ و اصطلاحات کی صراحت کے لیے مختلف لغات اور فرہنگیںناکافی ثابت ہوئی ہیں ان کے لیے انھوں نے اساتذہ اور ماہرین فن سے رابطہ قائم کرکے ان کے مفاہیم تک پہنچنے کی کوشش کی ہے یا پھر سیاق و سباق کی روشنی میں تحریر کیے ہیں۔ صحیح معانی و مفاہیم تک رسائی حاصل کرنے کے لیے انھوں نے رجب علی بیگ سرور کی دیگر تخلیقات اور ان کے عہد کی متعددکتب کانہایت گہرائی وگیرائی سے مطالعہ بھی کیا ہے۔
ڈاکٹر شریف قریشی نے’’رانی کیتکی کی کہانی‘‘ اور ’فسانہ عجائب‘‘ کی فرہنگیں مرتّب کرکے ایک ادبی و لسانی ضرورت کی تکمیل کی ہے۔ انھوں نے یہ فرہنگیں اس لیے بھی مرتب کی ہیںکہ اردو کی بیشترکتب لغات اور فرہنگوں پر شعری سرمایہ کا اثر دورقدیم سے دورحاضر تک برقرار ہے۔ کسی لفظ یا محاورے وغیرہ کے معنی یا مفہوم کے لیے عام طور پر بطورسند شعراہی کے کلام کو پیش کیا جاتا ہے۔ شعراکے کلام پر مبنی فرہنگوں کی تعداد کی بہ نسبت نثرنگاروں کی تخلیقات سے متعلق فرہنگیں برائے نام نظر آئیں گی۔ کیا اس حقیقت سے انکار ممکن ہے کہ تمام شعری نگارشات میں اب تک ایسے بے شمار الفاظ استعمال نہیں کیے گئے ہیںجنھیں نثری فن پاروں میں استعمال کیا جاچکا ہے۔
ڈاکٹر شریف احمدنے کہاوتوں، محاورات اور ضرب الامثال پر مبنی متعدد فرہنگیں مرتب کی ہیں جو ان کی علمی بصیرت، تحقیقی ژرف نگاہی اور لسانی ذوق کی آئینہ دار ہیں۔ ان کی اس سلسلے کی اہم اور قابل قدر تصنیفات میں ’’کہاوتیں اور ان کا حکایتی و تلمیحی پس منظر‘‘، ’’کہاوت اور حکایت‘‘، ’’اردو کہاوتیں‘‘ اور ’’کہاوت کتھا کوش‘‘ (دیوناگری رسم الخط میں) خصوصیت کے ساتھ قابل ذکر ہیں۔ ان کتب نے فرہنگ نویسی کے میدان میں ایک نیا معیار قائم کیا ہے۔
ڈاکٹرشریف احمد قریشی کا تحقیقی رجحان ہمیشہ ایسے موضوعات کی طرف رہا ہے جو نہایت خشک، محنت طلب اور عرق ریزی کے متقاضی ہوتے ہیں۔ ان موضوعات پر عام طور پر پہلے سے زیادہ مواد دستیاب نہیں ہوتا، مگر انھوں نے اپنی علمی بصیرت اور مستقل مزاجی کے بل پر ان میں بھی تحقیق کے روشن دریچے کھول دیے۔ اردو ادب میں عموماً شاعری پر تنقید و تحقیق زیادہ ہوئی جب کہ نثر کے مختلف اصناف کو وہ توجہ کم حاصل ہوئی جس کے وہ مستحق تھے۔ شریف احمد قریشی نے نثر کے اسی نظر انداز شدہ شعبے کو اپنی توجہ کا مرکز بنایا اور اس میں اپنی محنت و مطالعے سے ایک نئی جہت پیداکی۔ایک استاد کی حیثیت سے شریف احمد قریشی تدریسی تقاضوں سے بخوبی واقف ہیں۔ ان کی تصنیفات میں طلبا و محققین کی رہنمائی کے لیے وافر مواد موجود ہے۔ وہ ہمیشہ یہ خیال رکھتے ہیں کہ ان کی کتابوں سے کم علم یا ابتدائی سطح کے طالب علم بھی بھرپوراستفادہ کر سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تحریروں میں سادگی، روانی اور شفاف اسلوب کا حسین امتزاج پایاجاتاہے۔ ان کی زبان میں غیر ضروری پیچیدگی نہیں بلکہ وضاحت اور شائستگی ہے جو ان کی تصانیف کو دوسرے محققین سے منفرد مقام عطا کرتی ہے۔ ڈاکٹرشریف احمد قریشی کاامتیازیہ ہے کہ چاہے وہ کہاوتوں کے تاریخی و حکایتی پس منظر پر لکھیں یا فرہنگ کا خالص علمی مقدمہ تحریر کریں، ان کے بیان کی تفہیم کے لیے کسی دوسری لغت کی ضرورت نہیں پڑتی۔ ان کی زبان خود وضاحتی ہے اور یہی ان کا بڑا کارنامہ ہے۔ان کی متعدد فرہنگیں محاورات، کہاوتوں اور حکایتوں پر مشتمل ہیں۔ ان میں سب سے پہلی قابل ذکر کتاب ’’کہاوتیں اور ان کا حکایتی و تلمیحی پس منظر‘‘ ہے جو خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری، پٹنہ سے شائع ہوئی۔ اس کتاب کا پیش لفظ اس وقت کے ڈائرکٹر، محمد ضیاء الدین انصاری نے تحریر کیاہے۔ کتاب میں تقریباً 500کہاوتیں اپنے تلمیحی اور حکایتی پس منظر کے ساتھ شامل کی گئی ہیں جو اردو کہاوتوں کے ماخذ، تاریخی بنیاد اور معنوی جہتوں کو نہایت عمدگی سے واضح کرتی ہیں۔اسی سلسلے کی دوسری اہم تصنیف ’’کہاوت کتھا کوش‘‘ ہے جو دیوناگری رسم الخط میں شائع ہوئی۔ اس کتاب میں600 سے زائد کہاوتیں ان کی متعلقہ حکایات کے ساتھ درج ہیں۔ اس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ ڈاکٹر شریف احمد قریشی نے اردو اور ہندی دونوں زبانوں میں لسانی مطالعے کوبھی یکجا کرنے کی کوشش کی ،جو ان کے بین اللسانی شعور کی دلیل ہے۔اسی سلسلے کی ان کی تیسری اہم کتاب ’’کہاوت اور حکایت‘‘ ہے جس میںتقریباً1500 سے زائد کہاوتیں اور حکایتیں نہایت ترتیب اور خوبصورتی سے پیش کی گئی ہیں۔ ہر کہاوت کے ساتھ اس کی تاریخی یا ادبی حکایت کا حوالہ دیا گیا ہے جس سے یہ کتاب اردو محاوراتی ادب کے مطالعے کے لیے ایک مکمل دستاویز بن جاتی ہے۔ شریف احمدکی ایک اوراہم تحقیقی کاوش ’’اردو کہاوتوں کی جامع فرہنگ‘‘ ہے جو ان کا ڈی لٹ کا ضخیم مقالہ ہے۔ یہ ان کی زندگی کا ایک بڑا کارنامہ ہے جس میں کئی ہزار کہاوتوں کو یکجا کیا گیا ہے۔ اگرچہ یہ فرہنگ تاحال غیر مطبوعہ ہے مگر اپنی نوعیت کے اعتبار سے اردو لغت نویسی میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس میں شامل مواد، محنت اور ترتیب نے اردو کہاوتوں کے تحقیقی سرمائے میں ایک نئی جہت کا اضافہ کیا ہے۔ آئندہ جب اردو کی معیاری لغات تیار کی جائیں گی تو یہ فرہنگ ان کے لیے ایک لازمی ماخذ کی حیثیت رکھے گی۔ڈاکٹرشریف احمد قریشی کا یہ کارنامہ نہ صرف موجودہ محققین بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی مشعل راہ ہے۔ جب زبان میں نئے الفاظ داخل ہوں گے اورپرانے محاورے و کہاوتیں ماضی کی چیز بن جائیں گی، تب قاری ان کے مفہوم کو سمجھنے کے لیے شریف احمدکی فرہنگوں کا سہارا ضرور لے گا۔ان فرہنگوں کے مختلف ایڈیشن ہندوستان، پاکستان، انگلینڈاور امریکہ وغیرہ کے معروف اداروں سے بھی شائع ہو چکے ہیں۔ ’’کہاوتیں اور ان کا حکایتی و تلمیحی پس منظر‘‘ کا ایڈیشن دارالنوادر پبلی کیشن، لاہور سے جب کہ ’’اردو کہاوتیں‘‘ کے ایڈیشن بک کارنر، جہلم اور فرید بک ڈپو، اردو بازار، کراچی سے شائع ہوئے ہیں۔ ان اشاعتوں سے ڈاکٹرشریف احمدکی اہمیت کااندازہ ہوتاہے۔ انھوںنے فرہنگ نویسی کے میدان میں اردو زبان کو ایک نئی جہت عطا کی ہے۔ ان کی تحقیقی کاوشیں محض الفاظ کی تشریح نہیں بلکہ ایک تہذیب، ایک طرز فکر اور ایک تاریخی ورثے کی حفاظت بھی ہیں۔ ان کی تحریریں آئندہ نسلوں کے لیے نہ صرف لسانی سرمایہ ہیں بلکہ اردو زبان کی علمی بنیادوں کو مستحکم کرنے والا پایہ فخر کارنامہ بھی ہیں۔
ڈاکٹر شریف احمد قریشی کو ہائر ایجوکیشن اترپردیش سرکار کے اعلیٰ اعزاز ’’شِکشَک شری‘‘ سے2011 میں نوازاگیا، اس کے علاوہ آٹھ مرتبہ اترپردیش اردو اکادمی اور تین باربہار اردو اکادمی کے ذریعہ انعامات و اسناد توصیف سے بھی انھیںنوازا جا چکا ہے۔ انھیں آل انڈیا میر اکیڈمی لکھنؤ نے بھی1997 میں ’’میر ایوارڈ‘‘ سے سرفراز کیا تھا۔ ان کے علاوہ بھی انھیں سرکاری، نیم سرکاری اورغیرسرکاری اکیڈمیوں، انجمنوں اور سوسائٹیوںکے ذریعہ تقریباً بیس مرتبہ انعامات و اعزازات یا اسناد توصیف سے بھی نوازاجاچکاہے۔ ڈاکٹرشریف احمدقریشی کی مورخہ 28دسمبر2023بروز جمعرات مطابق14جمادی الثانی1445ھ کو صبح تقریباً5بجے دہلی کے میکس اسپتال میں مختصر علالت کے بعد وفات ہوگئی۔
ڈاکٹر شریف نے محض علمی اسناد یا تصانیف کی تعداد بڑھانے کے لیے قلم نہیں اٹھایا بلکہ ان کا ہر کام ایک سنجیدہ فکری شعور اور ادبی مقصدیت کا مظہر ہے۔ ان کی تحریری اور تحقیقی کاوشوں کے پیچھے شہرت یا نمود و نمائش نہیں بلکہ اردو زبان و ادب کی خدمت، اس کے فروغ اور فکری سرمائے کی تکمیل کا جذبہ کارفرما رہا ہے۔ ایسے وقت میں جب ادبی تحقیق اکثر سطحی رجحانات کی نذر ہو رہی تھی، ڈاکٹر شریف احمد قریشی نے نہایت بصیرت مندی کے ساتھ فرہنگ سازی جیسے محنت طلب اور دقیق علمی میدان کا انتخاب کیا۔ یہ وہ راستہ ہے جو نہ صرف گہرے مطالعے اور مضبوط علمی پس منظر کا متقاضی ہے بلکہ صبر، استقامت اور زبان کے ذوق و اسرار سے گہری وابستگی بھی چاہتا ہے۔ ڈاکٹر شریف احمد قریشی نے اس پرخار راہ کو خندہ پیشانی، خلوص اور بشاشت کے ساتھ اختیار کیا اور اس میں اپنی زندگی کا بہترین وقت صرف کیا۔ان کی فرہنگی کاوشیں محض لغوی یا لسانی مجموعے نہیں بلکہ اردو تہذیب، محاوراتی ثقافت اور عوامی دانش کی آئینہ دار ہیں۔ ان کے یہاں کہاوتوں اور تلمیحات کی ترتیب میں نہ صرف زبان کی نفاست اور تہذیبی شعور جلوہ گر ہے بلکہ ان کی علمی دیانت اور تحقیقی بصیرت بھی پوری آب و تاب سے سامنے آتی ہے۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ ڈاکٹر شریف احمد قریشی نے فرہنگ نویسی کو محض ایک تحقیقی موضوع نہیں بلکہ اپنا ادبی فریضہ اور قومی خدمت سمجھ کرانجام دیا۔ ان کی محنت، اخلاص اور علمی گہرائی نے اس فن کو ایک نئی جہت عطا کی ہے ۔ ان کی تصانیف اردو ادب میں ایک روشن اور پائیدار اضافہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔
شریف کی علمی و تحقیقی زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ جب علم خلوص کے ساتھ جڑ جائے تو وہ محض کاغذی ریکارڈ نہیں رہتا بلکہ ایک زندہ ورثہ بن جاتا ہے۔ان کی تصانیف میں نہ صرف زبان کی روح بولتی ہے بلکہ اردو تہذیب کی سانسیں بھی سنائی دیتی ہیں۔ انھوں نے فرہنگ نویسی کو الفاظ کے معنی لکھنے سے بلند کر کے تاریخ تہذیب کے مطالعے میں بدل دیا۔ ایک ایسا مطالعہ جس کے ہر صفحے پر محنت، اخلاص، اور لسانی شعور کی روشنی جھلکتی ہے۔ان کے کام نے یہ ثابت کیا کہ زبان محض رابطے کا وسیلہ نہیں بلکہ قوم کے فکری مزاج کا مظہر ہے۔ جب ہم اردو کہاوتوں، محاورات یا عوامی حکایات کو پڑھتے ہیں تو دراصل ہم اپنے ماضی کی ذہنی تصویر دیکھ رہے ہوتے ہیں ۔ شریف نے ان تصویروں کو نہایت نفاست کے ساتھ محفوظ کیا۔یہی ان کی علمی میراث کا سب سے قیمتی پہلو ہے کہ انھوں نے صرف اردو کے الفاظ نہیں سنبھالے بلکہ اردو کے احساسات، خیالات اور ثقافتی شعور کو بھی ابدی زندگی بخشی۔ان کی وفات اگرچہ اردو دنیا کے لیے ایک گہرا صدمہ تھی مگر ان کی تصانیف آج بھی ان کی موجودگی کا احساس دلاتی ہیں۔ان کے قلم سے نکلے ہوئے ہر صفحے میں ایک استاد کی رہنمائی، ایک محقق کی باریک بینی اور ایک عاشق اردو کی محبت جھلکتی ہے۔آج جب زبانوں کے تیزی سے بدلتے ہوئے منظرنامے میں اردو اپنی شناخت کے لیے جدوجہد کر رہی ہے، ڈاکٹر شریف احمد قریشی جیسے علما کی علمی وراثت اس کے لیے روشنی کا مینار ہے۔ درحقیقت انھوںنے ہمیںیہ سبق دیا کہ زبان کی خدمت صرف تصنیف سے نہیں بلکہ ذمہ داری، احساس اورعشق سے کی جاتی ہے۔ان کا نام آنے والے زمانوں میں اردو فرہنگ نویسی کے امام، اردو تحقیق کے معمار اور لسانی بصیرت کے پیکر کے طور پر ہمیشہ تابناک اور زندہ جاوید رہے گا۔
حواشی
1 فرہنگ نظیر،شریف احمدقریش،1991،ص27
2 ڈاکٹرشریف احمد قریشی کا ایک اہم ’’رانی کیتکی کی کہانی‘‘کی فرہنگ سازی ہے۔
3 فرہنگِ فسانۂ عجائب، ڈاکٹر شریف احمد قریشی، 2018، صفحہ39، تا 40


Dr. Shahpar Shareef
Deptt. of Urdu, School of Humanities,
Uttarakhand Open University,
Haldwani,(Nainital) 263139
Mob.: 9027690292
E-mail: sshareef@uou.ac.in

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

اردو دنیا : نومبر2025

Magazine Name : Urdu Duniya   میگزین کا نام: اردو دنیا Publish Date: 07-11-2025 اشاعت کی تاریخ: ۰۷-۱۱-۲۰۲۵ Download : Book Download ڈاؤن لوڈ    

بالی وڈ اور اردو:زبان، ثقافت اور شناخت کا امتزاج،مضمون نگار: عبدالحفیظ فاروقی

اردودنیا،جنوری 2026: اردو زبان کی تاریخ محض ادبی ارتقا کی کہانی نہیں بلکہ مختلف تہذیبی اثرات کا حسین امتزاج ہے۔ اس کی بنیاد میں ہندی کی مٹھاس، فارسی کی نزاکت،

دھرمیندر: مَداحِ اردو،مضمون نگار: محی الدین عبدالطیف

اردودنیا،جنوری 2026: مشہور اداکار دھرمیندر نے اپنی رومانی اداکاری مردانہ وجاہت، شفقت بھرے لہجے اور جذباتی انداز کے سبب پانچ دہائیوںتک شائقین کے دلوںپر راج کیا۔ ان کا اس دنیا