دیویندر ستیارتھی: ہندوستانی لوک ادب کی دنیا کا کولمبس – مضمون نگار: حیات افتخار
دیویندر ستیارتھی اردو ادب کی تاریخ کا ایک ایسا نام ہے جس کی شہرت کے ڈنکے بر صغیر (ہند و پاک) میں آزادی سے قبل اور اس کے بعد
دیویندر ستیارتھی اردو ادب کی تاریخ کا ایک ایسا نام ہے جس کی شہرت کے ڈنکے بر صغیر (ہند و پاک) میں آزادی سے قبل اور اس کے بعد
مغربی اتر پردیش کے کئی تاریخی مقامات میں شامل ضلع بجنور کا ایک شہر نجیب آباد ہے۔نجیب آباد کو افغانی پٹھان نجیب خان نے1740میں بسایا تھا۔تاریخ میں انھیں نجیب الدولہ
اردو زبان و ادب کے فروغ میں مشاعروں کی بڑی اہمیت رہی ہے۔ مشاعروں نے اردو زبان کو عوام تک پہنچانے اور مقبول بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
26 جنوری دوہزار اکیس کی شام ہے کہر آلود آسمان میں سورج پہلے سے غروب ہے۔شام کے ڈھلنے اور رات کی ابتدا کا کوئی اَتا پتا نہیں ہے۔ سرد
مئو ناتھ بھنجن مشرقی اترپردیش کا ایک علمی،ادبی اور صنعتی شہر ہے۔پارچہ بافی اس شہر کی اہم ترین صنعت ہے۔ یہ اعظم گڑھ کے پورب اور غازی پور کے
اردو زبان و ادب،تاریخ و ثقافت اور تحقیق و تنقید کے میدان کارزار میں ماہر غالبیات مالک رام (22 دسمبر 1906- 16 اپریل 1993) کا شمار ادبیات و لسانیات
اردو زبان کی نثری اصناف میں تذکرے کو جو اہمیت حاصل ہے محتاج وضاحت نہیں۔ اِ س صنف ِ ادب میں تذکرہ نگار اپنے محسوسات، جذبات اور تاثرات مثبت
ہما ری مشترکہ تہذیب کے علمبردار اور عہد ساز شعرا، جنھوں ں نے افق ادب پر چمک کر ایک عہد کو چونکا دیا ان میں ایک نما یا ں
گذشتہ چند دہائیوں کے دوران سیاحت کی صنعت نے زبردست ترقی حاصل کی ہے۔ترقی یافتہ اورترقی پذیرملکوںمیں سیاحت کی صنعت معاشی اورمعاشرتی سطح پر نمایاں کردار ادا کرتی نظرآرہی
ساتویں دہائی کا عرصہ ہندی افسانوی ادب کا سنہرا دور تسلیم کیا جاتا ہے۔جہاں ایک طرف سماجی مسائل کی حکایت تھی تو دوسری جانب انسان کی ذات کا کرب