’گلزار نسیم‘ میں ایہام گوئی کی شمیم رواں – مضمون نگار : سرور مہدی
ایہام کا نام آتے ہی سطح خیال پر ایک مسترد شدہ اور معتوب صنعت کا تصور ابھرتا ہے جس نے بیشتر ناقدین کے مطابق اردو شاعری کو سادگی خیال
ایہام کا نام آتے ہی سطح خیال پر ایک مسترد شدہ اور معتوب صنعت کا تصور ابھرتا ہے جس نے بیشتر ناقدین کے مطابق اردو شاعری کو سادگی خیال
گزشتہ چند دہائیوں کے دوران جن خاتون گلوکاروں نے ہندوبیرون ہند اپنی آواز کا جادو جگایا، اور جنھیں عوام وخواص میں بہت زیادہ مقبولیت حاصل ہوئی ان میں لتامنگیشکر
اردو زبان کی چند نمایاں خصوصیات میں سے ایک یہ ہے کہ اردو شیریں اور میٹھی زبان ہے اسی لیے اردو جیسی حسین، خوبصورت اور دلکش زبان سے محبت
’سحرسامری‘ اودھ کاایک بے باک، بے لاگ اورمقبول عام اخبارتھا۔ لکھنؤسے یہ ہفتہ وار اخبار 17 نومبر 1856مطابق 1273ھ کوجاری ہوا۔ 1 مالک اور مہتمم پنڈت بیج ناتھ تھے
سرزمین متھلا علم و ادب کا گہوارہ رہا ہے۔ اسی لیے یہاں میتھلی اور ہندی کے ساتھ اردو زبان کا بول بالا دیکھنے کو ملتا ہے۔ یہ تاریخی حقیقت
متحدہ عرب امارات سات ریاستوں ابوظہبی، دبئی، شارقہ، ام القیوین، رأس الخیمہ، عجمان اور فجیرہ کا وفاق ہے،جس کا دار الحکومت ابوظہبی ہے۔ یہ جزیرہ عرب کے مشرقی ساحلی
علم نفسیات یعنی Psychology کی اصطلاح یونانی زبان سے ماخوذ ہے۔ یہ دو الفاظ Psyche یعنی روح اور Logos یعنی علم سے مرکب ہے۔اس طرح سائیکولوجی کے معنی ہوئے
بھارت رتن ہو،یا ہندوستاں کا لعل ، سبھی فانی ہیں۔ اس لیے سبھی کو ایک دن موت کا مزہ چکھنا ہے۔ سو ہماری دیدی بھی ہم سے رخصت ہوکر
ایرانی تاریخ نگاری کاآغاز شاہناموںسے ہوتا ہے۔ ایرانی تہذیب کے تحت لکھی گئی تاریخوں کا موضوع سیاسی تھا۔شخصی حکومت ہونے کی وجہ سے پورے عہد کی تاریخ نہ لکھ
اردو زبان و ادب کے فروغ میں مختلف دبستانوں، اداروں، کالجوں اور تحریکوں نے نمایاں اور بے پایاں کردار ادا کیا ہے۔ان کالجوںمیں سے ایک اہم کالج فورٹ ولیم