شہزادی کلثوم:راجستھان کی ایک شاعرہ – مضمون نگار : مسرت پروین
راجستھان کے شعر و ادب میں خواتین نے بھی وقتاً فوقتاً اپنی موجودگی درج کرائی ہے۔ صالحہ بیگم پروین (جے پور، 1866۔ 1944)راجستھان کی پہلی صاحب دیوان شاعرہ ہیں۔ان
راجستھان کے شعر و ادب میں خواتین نے بھی وقتاً فوقتاً اپنی موجودگی درج کرائی ہے۔ صالحہ بیگم پروین (جے پور، 1866۔ 1944)راجستھان کی پہلی صاحب دیوان شاعرہ ہیں۔ان
ہندوستانی معاشرے کا نا م آتے ہی ہماری آنکھوں کے سامنے ممتاز ملی جلی تہذیب و ثقافت کا ایک رنگین چمن کھلتا اور خندۂ گل کی طرح مہکتا
عربی تاریخ میں حکومتِ بنو عباس کا دور (750-1258) مختلف نیرنگیوں،ترقی و تنزل، اتھل پتھل، نشیب و فراز اور قیامت خیز تغیرات سے عبارت رہا ہے۔ اس عہد میں
ہندوستان کی جدوجہد آزادی کی تاریخ میں 1857کا سال ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے جب صدیوں سے دبے کچلے عوام نے انگریزوں کے غاصبانہ اور جابرانہ
بیسویں صدی کی خواتین فکشن نگاروں میں قرۃ العین حیدر کا نام سب سے نمایاں ہے۔انھوں نے اپنی ہمہ جہت تخلیق کے ذریعے ادب کے قاری کو باور
اس میں کوئی شک نہیں کہ منٹو اردو ادب کا ایک بڑا افسانہ نگار ہے۔اس نے اپنی چھوٹی سی زندگی میں اردو ادب کو جن مسائل سے روشناس کرایا
ہندوستان کی ریاست بھوپال میں نواب شاہ جہاں بیگم ریاست بھوپال کی تیسری حکمران تھیں۔ ان کی پیدائش 6 جمادی الاول 1254ھ /30 جولائی 1838 کو قلعہ اسلام نگر،
سلطان حیدر جوش علیگ صاحب (ولادت: 1886، وفات: 1946) کا شمار افسانوی تاریخ میں ہراول دستے کے سپاہیوں میں ہوتا ہے۔ آپ نے اردو ادب میں اپنی معتددتصنیفات مختلف
تاریخ شاہد ہے کہ کئی شخصیتیں پسِ پردہ رہ کر کارنامے انجام دیتی رہی ہیں۔نظام سادس میر محبوب علی خان نہایت کم سنی میں تخت پر بٹھائے گئے تھے
جوہونہار طالب علم آٹھویں جماعت میں ہی شاعری کا آغاز کرے اور ایک نظم میں اپنے کلاس فیلو محمد آفاق کی دکھ بھری زندگی کی روداد لکھ دے وہ