اردو زبان کی ترویج و اشاعت میں صوفیائے دکن کا حصہ – مضمون نگار : احمد
اردو بر ِ صغیر میں عام بول چال کی وہ زبان ہے جس کا قدیم ہند آریائی زبان سے بڑا گہرا رشتہ رہا ہے۔ ہندوستان میں رابطے اور بول
اردو بر ِ صغیر میں عام بول چال کی وہ زبان ہے جس کا قدیم ہند آریائی زبان سے بڑا گہرا رشتہ رہا ہے۔ ہندوستان میں رابطے اور بول
اجنبی شہر میں داخل ہونے سے پہلے لوگ کافی محتاط رہتے ہیں، پتہ نہیں وہاں کی سرزمین ہمیں کیا رنگ وبو دکھائے، لیکن جب اس کی سیرکی
پروفیسرابوالکلام قاسمی (1950-2021) ایک استاد ہونے کے علاوہ ادب میں تنقید نگار کی حیثیت سے بھی اپنا ایک منفرد مقام رکھتے تھے۔علاوہ ازیں کئی رسائل کے ساتھ عملی طور
حسین الحق کو پہلی بار دسمبر2016 میں قریب سے دیکھنے کا موقع میسر آیا جب ونوبا بھاوے یونیورسٹی، ہزاری باغ(جھارکھنڈ) کے شعبۂ اردو میں ’اردو شاعری میں قومی یکجہتی
اردو تنقید،تذکروں کے ابتدائی مراحل طے کرتے ہوئے مکمل فن کی صورت ـ’کاشف الحقائق‘ میں رونما ہوئی۔ اس کی شہرت و مقبولیت علمی اور تاریخی لحاظ سے کسی قدرحالی کی
ڈاکٹرسحرسعیدی مرحوم پرانی تہذیب کے علمبردار تھے۔ نہایت وضعدار اور اصول پسند شخص تھے۔ اپنی اصول پسندی کی وجہ سے کئی بار انھیں نقصان بھی اٹھانا پڑا، لیکن وہ
گزشتہ دوسو سالوں میں غیر حکومتی تنظیموں کے فلسفے، کام کے طریقے اورفلاحی عمل کی حصے داری میں تبدیلی آئی ہے۔ یہ تنظیمیں تاریخی نقطۂ نظر سے جدید معاشرے
کسی بھی انسان کی تعلیمی زندگی میں مادری زبان کی حیثیت بنیاد کے پتھر کی ہے۔تمام تر تعلیمی اور علمی ترقی اس کی مادری زبان پر منحصر ہوتی ہے۔درس
ادب معاشرے کا عکاس ہوتا ہے اور معاشرہ وجود زن کے بغیر نامکمل۔ چونکہ ادب اور سماج کا گہرا رشتہ ہے لہٰذا ادب کا تصور بھی سماج کے بغیر
’’بچے قوم کا مستقبل ہو تے ہیں،‘‘یہ مقولہ بڑا معروف ہے۔ اس لیے یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ بچوں کی عمدہ تعلیم و تر بیت کابندوبست کیا جائے۔