اردو صحافت کی خشتِ اوّل: جام جہاں نما – مضمون نگار : محمد ضیا المصطفیٰ
ہندوستان میں انگریزی، بنگلہ، فارسی اور ہندی کی طرح اردو صحافت کی ابتدا بھی کلکتہ سے ہوئی۔ 27 مارچ 1822 کو ’جام جہاں نما‘ کے نام سے کلکتہ سے
ہندوستان میں انگریزی، بنگلہ، فارسی اور ہندی کی طرح اردو صحافت کی ابتدا بھی کلکتہ سے ہوئی۔ 27 مارچ 1822 کو ’جام جہاں نما‘ کے نام سے کلکتہ سے
تیج بہادر سپرو (پ:8دسمبر 1875، و: 20 جنوری 1949) کا شمار ان ممتاز ہندستانی شخصیات میں کیا جاتا ہے، جو نہ صرف ہندستانی تہذیب کا ایک روشن چہرہ تھے،
بیسویں صدی کے ابتدائی چالیس پینتالیس سال کی یہ مختصر ترین انداز میں مختلف تحریکوں کی تاریخ ہے، جس سے ہمیں ملک کے معاشی، سیاسی، تعلیمی اور سماجی حالات
ہم میں سے ہر شخص اس بات سے واقف ہے کہ بچے میں کم عمری یا یوں کہیں کہ بچپن سے ہی پڑھنے لکھنے کا شوق پیدا کرنے کی
عائشہ عودہ کی پیدائش رام اللہ کے ایک گاؤں دیر جریر میں1944 میں ہوئی۔ اسرائیلی فوجیوں نے 1969 میں قیدی بناکر ان کے ساتھ زبردست ظلم وجارحیت کا رویہ
انیسویں صدی کے نصف آخر سے ہی تانیثی افکار و خیالات کی گونج شعوری یا غیر شعوری طور پر اردو ادب میں عموماََ اور اُردو فکشن میں خصوصاََ سنائی
بنارس میں فارسی ادب کی ایک صحت مند روایت رہی ہے۔ قدیم زمانے کے بعض فارسی ادبی آثار آج بھی باشندگان بنارس کے ذاتی کتب خانوں کے علاوہ قلعہ
بلراج مین را کا شمار اردو کے ممتاز افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ انھوں نے اپنی تخلیق کے توسط سے جدید افسانے کو نئی فکر اور انوکھے طرز اسلوب
سر زمین بنگال میں ضلع ہگلی کے انگس نامی محلے کے ایک غریب گھرانے میں تاریخ 2؍اپریل 1936 ، ایک تابندہ ستارہ طلوع ہوا جسے اردو دنیا قیصر
’’نوع انسان کا دلکش ترین مرکز مطالعہ ہمیشہ سے انسان رہا ہے اور آئندہ بھی رہے گا۔‘‘ ادب کی دو اصناف سوانح اور خاکے ہمیں انسان سے متعارف کراتی