سلمیٰ صنم کی افسانہ نگاری – مضمون نگار : ڈاکٹر عائشہ فرحین
اردو فکشن میں سلمیٰ صنم صاحبہ کا نام محتاج تعارف نہیں۔ریاست کرناٹک کے شہر بنگلور سے تعلق رکھنے والی سلمیٰ صنم صاحبہ پیشہ سے لکچرر ہیں ۔ جواردو ادب
اردو فکشن میں سلمیٰ صنم صاحبہ کا نام محتاج تعارف نہیں۔ریاست کرناٹک کے شہر بنگلور سے تعلق رکھنے والی سلمیٰ صنم صاحبہ پیشہ سے لکچرر ہیں ۔ جواردو ادب
تبسم فاطمہ کی پیدائش 3؍جولائی 1967میں آرا(بہار) میں ہوئی ۔ابتدائی تعلیم آرا میں حاصل کی ۔بی ۔اے کی ڈگری آراسے ہی حاصل کی اورنفسیات میں ایم ۔اے کیا۔
ناول’کہانی کوئی سناؤ متاشا‘ ڈاکٹر صادقہ نواب سحر کا پہلا ناول ہے جس کی اشاعت 2008 میں ہوئی اور اب تک اس کے تین ایڈیشن (دوسرا2013 اورتیسر2021) میں شائع
مولانا عبدالماجد دریا بادی ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔ انھوں نے تنقید ، تفسیر ، ترجمہ اور شاعری کے ساتھ ساتھ صحافت کے میدان میں بھی
شورش عندلیب نے روح چمن میں پھونک دی ورنہ یہاں کلی کلی مست تھی خوابِ ناز میں مولانا آزاد ہندوستان کی آزادی اور ایکتا کے علمبردار تھے وہ اسلامی
بیسویں صدی کی تیسری دہا ئی میں جب ترقی پسند تحریک اپنے نقطۂ عروج پر تھی تو اس تحریک نے دنیا کی تمام زبانوں کے ادب کو متاثر
انیسویں صدی کے تاریخی تناظر میں جن عظیم المرتبت شخصیات نے جنم لیا ان ہی میں سید احمد خاں منارئہ نور کی شکل میں رونما ہوئے ۔سرسید احمد خاں
نام منّی بائی، تخلص حجاب تھااورمنجھلی کے نام سے مشہور تھیں۔ اردو کے قدیم تذکروں مثلاً تذکرۂ بہارستان ناز، تذکرۂ نشاط افزا ، تذکرۃ النساء ، تذکر ۃ الخواتین،
فضا کی منظومات کے دو مجموعے ہیں۔ پہلا ’’شعلۂ نیم سوز‘‘ جو کہ 1978 میں شائع ہوا اور دوسرا ’’سرشاخ طوبیٰ‘‘ جو کہ 1990 میں شائع ہوا۔ان کی نظم
قائم چاند پوری کا تعلق اردو شاعری کے عہد ذریں سے ہے ۔ انھوں نے میر،سودا اور درد کے پہلو بہ پہلو اردو زبان کو سجانے ، سنوارنے اور