ساجدہ زیدی کی شعری کائنات – مضمون نگار : ڈاکٹر مسرت
ساجدہ زیدی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبۂ تعلیم سے وابستہ رہیں۔ان کی پہچان ایک شاعرہ اور تخلیق کار کے طور پر بھی قائم ہے۔ ساجدہ زیدی ایک
ساجدہ زیدی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبۂ تعلیم سے وابستہ رہیں۔ان کی پہچان ایک شاعرہ اور تخلیق کار کے طور پر بھی قائم ہے۔ ساجدہ زیدی ایک
لوک ادب سے مراد وہ ادب جس کو عوام نے جنم دیا ہو۔ کوچہ وبازار میں، قریہ اور دیہات میں، اور کھیت کھلیانوں میں جو لوک ادب پروان
تنقید بھی الہامی یا کشفی ہو سکتی ہے، یہ چونکانے والا نظریہ ہے۔ہمارے یہاں اس نظریے کے بنیاد گزار حامدی کاشمیری ہیں۔ان کا دور جدیدیت کے دور سے ہم
خلیق انجم کی پیدائش 22 دسمبر 1935 کو دہلی میں ہوئی ان کا پیدائشی نام غلام احمد تھا لیکن بچپن میں جب انھیں غلام غلام کہہ کر پکارا
علم و اہمیت کا اعتراف روزِ اول سے ہر مہذب معاشرے نے کیا ہے۔تعلیم یافتہ عوام ہی ایک بہتر سماج اور ایک ترقی یافتہ ملک و قوم کی
شمالی ہند میں جدید تحقیق کے مطابق نواب صدرالدین خاں فائز دہلوی اردو کے پہلے صاحب دیوان شاعر ہیں ان کے آباو اجداد سلطنت مغلیہ کے منصب داروں میں
بھارت رتن ایوارڈ یافتہ اٹل بہاری باجپئی جدید ہندوستان کے معماروں میں اہم مقام رکھتے ہیں۔ ہندوستان صرف ایک جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ ایک نظریۂ حیات (Ideology) کا نام
ہندوستان میں مطبوعہ اردو صحافت کی تاریخ 199 برس پرانی ہے۔مولوی محمد باقر کے دہلی ارد و اخبار کو بیشتر حضرات نے اردو کا اولین اخبار تسلیم کیا ہے۔کثرت
پریم چند (31 جولائی 1880-8 اکتوبر 1936) ہمہ گیر شخصیت کے مالک تھے۔ انھیں زندگی کے مختلف شعبوں سے دلچسپی تھی۔اپنے وقت کے سماجی، سیاسی اور تعلیمی حالات اور اس
جموں وکشمیر ہمیشہ علم وادب کی آبیاری کرتا رہا ہے۔ یہ وادی جس طرح حسین اورخوبصورت ہے ٹھیک اسی طرح یہاں کے ادیبوں کے قلم سے حسین اور دل