اردو ادب میں خواتین کا کردار – مضمون نگار : صبا زہرا رضوی
یوں تو زندگی کے ہر شعبے میں خواتین نے اپنی نمائندگی کو یقینی بنایا ہے لیکن ادب سے ان کی دلچسپی اس لیے زیادہ رہی ہے کہ ادب
یوں تو زندگی کے ہر شعبے میں خواتین نے اپنی نمائندگی کو یقینی بنایا ہے لیکن ادب سے ان کی دلچسپی اس لیے زیادہ رہی ہے کہ ادب
بہار میں اردو افسانہ نگاری کاپہلا دور 1936سے شروع ہوتا ہے۔ بہار میں اردو کے پہلے افسانہ نگار مسلم عظیم آبادی کو تسلیم کیا جاتا ہے۔ ان کے
بیسویں صدی میں اردو فکشن کے جن علم برداروں نے اسے نئے خدوخال اور نئی وسعتوں سے ہمکنار کرایا اور زندگی کے مختلف اقدار کو سمجھنے اور اسے
اردو ادب کے مراکز ہمیشہ سے ہی لکھنؤ اور دہلی گردانے جاتے رہے ہیں مگر اس زبانِ شیریں کی ترقی میں جتنا اہم رول خطۂ
جامعہ عثمانیہ حیدرآباد ایسی عظیم مادر علمیہ ہے جس نے زندگی کے تمام شعبوں میں کارہائے نمایاں انجام دینے والے کئی انمول رتن پیدا کیے۔ شعبۂ
ٹی ایس ایلیٹ اپنی شاہ کار نظم کی ابتدا میں کہتا ہے :April is the cruelest monthیاد رہے ہر فن مولا عزیز احمد نے اس شاہ کار نظم کا
نیا سورج کا تحفہ دے رہا ہوں زمانہ خواب سے بیدار بھی ہے شائق مظفر پوری نے 1983 میں اپنے پہلے شعری مجموعے ’نیا سورج ‘ کے انتساب میں
نوبل انعام یافتہ جارج برنارڈ شا عالمی ادبیات کا نہایت محترم نام ہے۔ ولیم شیکسپیئر کے بعد انگریزی ڈرامے کی روایت کو پروان چڑھانے والے قلم کاروںمیںجارج برنارڈ شا
عورت قدرت کا حسین شاہکار ہے ۔ اس کا وجود فطرت کی دلکشی کا مظہر ہے۔ عورت، خاندان میں پائیدار ترقی اور معیار زندگی کی کلید ہے۔ انسان کو
اردو ہندوستان میں جنم لینے والی ایک ایسی زبان ہے جس نے زندگی کے ہرشعبے پر اپنا گہرا اثر مرتب کیا ہے۔ یہ اس زبان کی شیرینی، سادگی اور