تلخیص
معاصراردونظم کی نسائی آوازیں ان شاعرات کی نظموں کے تنقیدی اور تجزیاتی مطالعے پر مبنی ہے جنھوں نے اکیسویں صدی میں اپنے فکر وفن سے اردو قارئین کے بڑے حلقے کو متاثر کیا اور اپنی شعری شناخت قائم کی۔ اس مقالے میں تقریباً سات ایسی شاعرات کی نظموں کا تجزیہ کیا گیا ہے جنھیں موجودہ صدی کی اہم نسائی آوازوں میں شامل کیا جاسکتا ہے۔ ان کے موضوعات اور اسالیب کے ساتھ ساتھ نسائیت اور تانیثیت کے امتیازو افتراق کے مختلف پہلوئوں کا تعارف پیش کیا گیا ہے۔
کلیدی الفاظ
نسائیت، تانیثیت ، معاصر،نظم، ہیئتی تجربہ، تنوع
——
معاصر اردو نظم بالخصوص ہندوستان میں لکھی جانے والی اردو نظموں کا مطالعہ کیا جائے تو یہ احساس ہوتا ہے کہ یہ صنف اپنی بوقلمونی اور تنوع کے سبب عام و خاص میں مقبول ہے۔مشاعروں اور ادبی محفلوں میں غزل کے ساتھ نظم کی بھی قرأت ہوتی ہے۔ رسائل و جرائد میں بھی اس کی اشاعت خاصی مقدار میں ہورہی ہے۔ کئی ایسے شعری مجموعے بھی گزشتہ برسوں میں شائع ہوئے جن میں صرف نظمیں ہیں۔ نظموں کی یہ تعداد اور تنوع حوصلہ بخش ضرورہے مگر معیار اور فن کی کسوٹی پر جب انھیں پرکھاجاتا ہے تو یہ نظمیں اپنی تمام تر خصوصیات کے باوصف بڑے اور تادیر قائم رہنے والے عناصر سے خالی نظر آتی ہیں۔ ان میں وہ زندگی اور رعنائی نہیں ہے جو میراجی، راشد، فیض، مجیدامجد،مجاز، اخترالایمان وغیرہ کی نظموں میں محسوس ہوتی ہے۔ یہی بات معاصراردو نظم کی نسائی آوازوں کے تعلق سے بھی کہی جاسکتی ہے لیکن ان آوازوں میں کوئی ایسی بات تو ضرورہے کہ دامن دل کھینچتی ہے اور فکر وخیال کو متحرک کرتی ہے۔
اردو میں خواتین کی نظموں کا جو سلسلہ مہ لقا چندا بائی اور ز-خ-ش(زاہدہ خاتون شیروانیہ) سے شروع ہوا تھا اور پروین شاکر، کشورناہید، فہمیدہ ریاض، نسرین انجم بھٹی، سارا شگفتہ، عذراعباس، فاطمہ حسن سے ہوتا ہوا ساجدہ زیدی،اداجعفری، زاہدہ زیدی، شفیق فاطمہ شعری،زہرا نگاہ، شائستہ یوسف وغیرہ تک پہنچا اور پھر بلقیس ظفیرالحسن، نیر جہاں،فاطمہ تاج، عذرا پروین، رفیعہ شبنم عابدی، شہناز نبی، شبنم عشائی، صادقہ نواب سحر، ترنم ریاض، نغمہ جاوید، نجمہ عثمانی، شیریں دلوی،تبسم فاطمہ وغیرہ سے گزرتا ہوا ہماری نسل تک پہنچا ہے، اسے ایک تسلسل اور ارتقائی صورت میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ایک صدی کی رنگارنگ داستان کو ایک مختصر مضمون میں قلمبند کرنا اس موضوع کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔ اس لیے اس مقالے کو گزشتہ پچیس برس کی تخلیقات کے مطالعے تک محدود رکھا گیا ہے۔ یعنی اس مقالے کاموضوع اکیسویں صدی کے ربع اول میں شائع ہونے والی تخلیقات کا مطالعہ ہے تاکہ یہ دیکھا جاسکے کہ اس درمیان ابھرنے والی وہ کون سی نسائی آوازیں جو تخلیقیت اور ہنرمندی کے سبب منفردقرار دی جاسکتی ہیں۔ اردو نظم کے فروغ اور ارتقا میں خواتین کی خدمات کا مناسب تعین ابھی تک نہیں ہوسکا ہے۔ تانیثیت کی تحریک اور اس کے مطالعے نے اردو نقادوں کو اس طرف متوجہ ضرور کیالیکن اس توجہ میں اخلاص کی کمی نظرآتی ہے۔ خواتین کی خدمات کا اعتراف بھی مرداساس اصولوں کے سایے میں کیا جاتارہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خواتین کی نظموں کے بیشتر پہلو ہماری اکیڈمک بحث سے باہر رہے اور عام قاری کی نظر بھی ان ابعاد تک نہیں گئی۔ تانیثیت کی پرزورتحریک اور نسائی آوازوں کی شدت کے باوجود ان کی شعری تخلیقات سے اغماض اور بے نیازی کا رویہ عام رہا۔ جن شاعرات نے اپنے وجود اور تخلیقی جوہر سے مرداساس معاشرے کو متاثر کیا اور اپنے ناگزیرہونے کا احساس دلایا ان میں پروین شاکر، کشورناہید،فہمیدہ ریاض، ساراشگفتہ وغیرہ کے نام تو لیے جاتے ہیں مگر نسائی آوازوں کو انھی شاعرات تک محدود کرکے دیگر نسائی آوازوں کو نظرانداز کرنے کا رویہ بھی ملتا ہے۔ اردو میں جو تانیثی مطالعات سامنے آئے ہیں ، ان کا دائرہ انھی شاعرات تک محدود ہے جن کے نام ابھی لیے گئے۔
ہندوستان میں جن شاعرات نے اپنی موجودگی کا احساس کرایا اور اپنی تخلیقی انفرادیت کے سبب قابل توجہ قرار پائیں ان میں شفیق فاطمہ شعری، ساجدہ زیدی، زاہدہ زیدی، بلقیس ظفیرالحسن،شائستہ یوسف، رفیعہ شبنم عابدی، عذرا پروین،شہناز نبی،شبنم عشائی وغیرہ خصوصیت کے ساتھ قابل ذکر ہیں۔ گوکہ ان میں سے بیشتر شاعرات نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کااظہار گزشتہ صدی کے نصف آخر میںکیا تھا لیکن ان کی تخلیقات موجودہ صدی میں بھی اپنی انفرادیت اور فنی پختگی کے سبب اردو کے اہم اسالیب نظم اور منفرد نسائی آوازوں میں شامل کی جاتی ہیں۔
اس مقالے کی تیاری میںاردو کے مختلف رسائل و جرائد بالخصوص شب خون، ذہن جدید، نیاورق،شعروحکمت،استفسار،امروز وغیرہ کے شماروں کی ورق گردانی کی گئی ہے تاکہ یہ دیکھا جاسکے کہ وہ کون سی شاعرات ہیں جن کی تخلیقات ہم تک پہنچ رہی ہیں اور کون سی آواز منفرد یا اہم نسائی آواز کہی جاسکتی ہے۔ رسائل و جرائدکے ان شماروں میں شاعرات کی تعداد دیکھ کر مایوسی ہوئی۔ جس زبان میں شاعروں کی تعدادحدِ شمارسے باہر ہے، وہاں شاعرات کی تعداد دو درجن بھی مشکل سے سے مل سکی۔ اکیسویںصدی میں شائع ہونے والے مختلف رسائل میں جن شاعرات کی تخلیقات شائع ہوئی ہیں ان میں ساجدہ زیدی،زاہدہ زیدی، شفیق فاطمہ شعری، بلقیس ظفیر الحسن، نیرجہاں، نغمہ جاوید، نجمہ عثمان، شہناز نبی، ترنم ریاض، تبسم فاطمہ، شیریں دلوی، شبنم عشائی، عذراپروین، فوزیہ فاروقی، اسنیٰ بدر وغیرہ کے نام ملے۔ان میںساجدہ زیدی،زاہدہ زیدی، شفیق فاطمہ شعری، بلقیس ظفیر الحسن اور نیرجہاں ایسی شاعرات ہیں جن کی تخلیقات کا بیشتر حصہ گزشتہ صدی میں قارئین کے سامنے آچکا تھا۔ رواں صدی میں ان کی زندگی کا نچوڑ اور تجربات کا حاصل، اپنی فنی پختگیکے ساتھ نظم کی صورت میں شائع ہوا۔ مثال کے طور پر ساجدہ زیدی کی نظم ’’نشان راہ زندگی‘‘ ملاحظہ کی جاسکتی ہے:
’’تلاش کرتے کرتے تم بھی ایک دن!/ زماں کے دشت بیکراں میں کھو گئے/ میں یاد کی ایک متاع مختصر لیے/ساحل وجود پر سیپیاں سی ڈھونڈتی رہی/ شبان ہجر/ ایک ایک کرکے سب گزر گئیں/ نہ کہکشاں ملی نہ ماہ نیم شب/ سب طیور شاخسارآرزو سے اُڑگئے/ برگ گل بھی صرصرِ حیات میں بکھر گئے/ حسابِ روزو شب کیا تو/ عقدۂ غروب شب کھلا/ کہ ہجر کی سیاہ رات کی سحر کوئی نہیں/ جشن نوبہار میں/ہمارے ہاتھ ہی نہ آیا کوئی ساغرِطرب/ لبوں تلک نہ آسکے وہ تشنگی کے حرف ہائے معتبر/ زباں پہ مہر لگ گئی سکوت کی/ نہ جانے کس دیار میں نکل گئیں/ وہ بال و پر کی آرزو وہ شعر وفن کی جستجو/ تمھارے شعر میرے شعر/ برگ ہائے خشک تھے/ ہوائے روزگار میں بکھر گئے/ آسمان کے ورق سادہ پر/ نہ ہم نہ تم/ فسانۂ طلسمِ یاد بھی نہ کرسکے رقم/ خلا میں تیرتے رہے وہ حرفِ غم‘‘1؎
اس نظم میں گہری اداسی اور حاصلِ حیات کی لاحاصلی محسوس کی جاسکتی ہے۔ زندگی کا حاصل چند یادگار حسین لمحے ہوتے ہیں، جن کی یاد میں پوری زندگی گزار دی جاتی ہے۔ یہاں زندگی اپنے آخری پڑائو پر ہے مگر زندگی کی تمام تر حصولیابیوں پر متکلم کو سراب کا گمان ہوتا ہے۔ عام طور پر یہی سمجھاجاتا ہے کہ مخصوص انسانی جذبے پر مبنی شاعری اور دیگر تخلیقات زندہ رہتی ہیں۔ اسی لیے انسانی غم کو شاعری میں زیادہ توجہ دی جاتی کہ دیگر جذبوں کے مقابلے میںاس کی عمر طویل ہوتی ہے۔اس نظم میں شاعری کے حروف کے خلا میں تیرنے کا ذکر ہے۔ حرف غم کی ایک خاص بات یہ ہے کہ یہ کبھی بھی مکمل صورت میں کسی کی دسترس میں نہیں آتا۔ فسانۂ طلسم یاد کی ترکیب بھی خوب ہے، جسے رقم نہ کرپانے کا دکھ ایک بڑے دکھ کے طور پر سامنے آیا ہے۔ شاعر یا تخلیق کار کی دولت یہی حرف غم اور فسانۂ طلسم یاد ہے۔ اگر وہ بھی میسر نہیں ہے تو اس زندگی کو عبث ہی تصور کیا جانا چاہیے۔ زندگی کی اسی رائیگانی کے رنج سے اس نظم کی تعمیر ہوئی ہے۔ بقیہ تمام آرزوئیں جو حسرتوں میں تبدیل ہوکررہ گئیں ہیں ان کا دکھ اپنی جگہ ، اصل دکھ وہ ہے جس کے بیان سے متکلم کی زبان قاصر ہے یا جسے بیان کرنے کا موقع میسر نہیں آیا۔
زندگی کی لایعنیت اردو شاعری کا اہم موضوع رہا ہے۔ ساجدہ زیدی کی طرح زاہدہ زیدی کے یہاں بھی زندگی کی بے ثباتی اور کاروبارجہاں کی کاوش لاحاصل پر مبنی نظمیں ملتی ہیں۔ اس سیاق میں ان کی نظم ’ریگ رواں‘ملاحظہ کی جاسکتی ہے۔ یہ نظم ان کے تجربات اور مشاہدات کا آئینہ ہے، جس میں تخلیقیت سے زیادہ ہنرمندی اور جذبے سے زیادہ تجربے کا عکس نمایاںہے:
’’زماں کی بیکرانی میں/مرے افکار کی کشتی/لرزتی، سمتِ منزل کھوجتی/حیران، آوارہ/یہ بے پایاں خلا ہے/یا کوئی تشویش کا صحرا/جہاں ریگ رواں/ جذبات کے سوتوں کا رستہ روک لیتی ہے/ یہ مبہم ریت کے ٹیلے/ جو تہ در تہ/ سلگتی رائیگاں کاوش کا مدفن ہیں/ اسی ریگ رواں پر/ پابرہنہ چل کے مجھ کو دور جانا ہے/ جہاں بے انت سناٹا ہے/ بے پایاں اندھیرا ہے‘‘2؎
زاہدہ زیدی نے نظم کو جس مقام پر ختم کیا ہے وہاں سے تاریکی اور ظلمت کا سفر شروع ہوتا ہے۔ زمانے کی بے کرانی میں افکار کی کشتی سفر تو کررہی ہے مگر اسے بھی معلوم ہے کہ اس سفر کا حاصل کچھ بھی نہیں۔ متکلم کا خوف ، اندیشہ اور حیرانی عام انسانی رویے سے قریب ہے۔ وقت کا اپنا مزاج اور منہاج ہوتا ہے، وہ اسی کے مطابق سفر کرتا ہے۔ انسان خود کو اس کے مطابق ڈھالنے کی کوشش تو کرتا ہے مگر اس کی کاوش اور فرصتِ حیات کی ایک حد ہے جبکہ وقت ایک دائرے میں مستقل گھومتا رہتاہے جس کا کوئی پڑائو نہیں ہوتا۔ نظم میں انسان کی مجبوری اور بے بسی بھی ملاحظہ کی جاسکتی ہے کہ ریگ رواں پر برہنہ پا چلنا ہے اور اس کے سوا کوئی راستہ بھی نہیں ہے۔ پھر اس سفر کا حاصل کیا ہے ’بے انت سناٹا‘اور ’بے پایاں اندھیرا‘ یعنی اس سفر کوخاموشی اور موت پرمنتج ہونا ہے۔
اردو شاعری کے سیاق میںزندگی کی لایعنیت اور انسان کی مجبوری قدیم اور قدرے پامال موضوعات ہیں لیکن ان میں تازگی اور برجستگی کے پہلو نکالے جاسکتے ہیں۔ ساجدہ زیدی اور زاہدہ زیدی کی نظمیں اسی تازگی اور برجستگی کی عمدہ مثالیں ہیں۔
ساجدہ زیدی اورزاہدہ زیدی کے ساتھ ہی شفیق فاطمہ شعری ، بلقیس ظفیر الحسن اور فاطمہ تاج کی تخلیقات قارئین کے سامنے آئیں۔ان میں بلقیس ظفیرالحسن کا قلم تازہ ہے۔ انھوںنے گزشتہ برسوں میں جس تخلیقیت اور فنی ہنرمندی کا اظہار کیا اس کی مثال نئی نسل کے یہاں مشکل سے ملے گی۔ ان کے فکر وخیال کا دائرہ عمررسیدہ شاعرات کی طرح کسی خاص دائرے تک محدود نہیں ہے اور نہ وہ محض تانیثی مسائل سے سروکار رکھتی ہیں۔ وہ نئے نظام اقتدار اور سیاسی و سماجی تبدیلیوں کو محسوس کرتی ہیں اور اپنے آس پاس کے بدلتے ماحول پر گہری نگاہ بھی رکھتی ہیں۔ اس سیاق میں ان کی ایک نظم دیکھئے:
’’خبریں دیکھتے دیکھتے اک دم چونک اٹھتی ہوں/ دوڑ کے کھڑکی سے لگ جائوں/ سانس روک کے باہر سے آنے والی/ ہر آہٹ کی سن گن لوں/ دل ہی دل میں دل کو تھامے گنتی رہوں میں/ آس پاس کے اپنے نام سے ملتے جلتے ناموں والے/ گھر والوں کو/کس کو پتہ کل صبح کی خبروں میں میرے نام کے ساتھ /ان کا نام بھی آجائے/گھر کو آگ لگا کے ماردیے جانے والوں میں/ (نام میں کیا رکھا ہے، یہ اب میری سمجھ میں آیا ہے)۔‘‘3؎
اس نظم میںخوف اور اندیشے کی وہ صورت ملاحظہ کی جاسکتی ہے جو برسوں کی سازش اور منصوبہ بندی کے نتیجے میں سامنے آئی ہے۔ نام، کپڑے اور حلیے بشرے کی بنیاد پر انسان کی مخصوص شناخت پر اصرار کرنا اور اسی شناخت کو ختم کرنے کے درپے ہونا یا اس شناخت سے وابستہ افراد اور جماعت کو مشق ستم بنانا،ختم کرنے کی سازش کرنا نسل کشی اور فرقہ واریت کی کریہہ صورتیں ہیں۔اس نظم کے سیاق اول سے آشنائی نہ ہوتو بھی اس نظم کی اہمیت اور معنویت پر فرق نہیں پڑتا۔ ہندوستانی سیاق میں اس کا آغاز موجودہ صدی کے اولین برسوںمیں ہوا۔رفتہ رفتہ نام اور کپڑوں سے پہچان لینے کا رجحان قوی ترہوتا گیا اور پھر اس شناخت کو جرم قرار دے کراس سے فاصلہ بنانے اور اسے مٹانے کا رویہ زور پکڑنے لگا ہے۔سیاسی اور سماجی اشاریت سے بھرپور اس نظم میں جس اندیشے کا اظہار کیا گیاہے وہ مجسم بن کر ہمارے سامنے موجود ہے۔اس قسم کی گہری فکرمندی شاعرات کی نظموں میں کم ہی ملتی ہے۔اصل میں وہ ابھی تک اپنے ذاتی اور تانیثی مسائل ہی سے اس قدر پریشان ہیں کہ باہر کی دنیا کی طرف توجہ دینے کا موقع ہی نہیں ملتا ہے۔ جب وہ اپنے ذاتی درد وکرب اور تانیثی مسائل پر قابو پالیتی ہیں تو ان کے یہاں بھی گہری فکرمندی اور دردمندی کی صورتیں نمودار ہونے لگتی ہیں۔ بلقیس ظفیرالحسن کی طرح فاطمہ تاج کی نظمیں بھی ایک مخصوص نسائی لب و لہجے کی عکاسی کرتی ہیں۔ان کی نظموں میں روایت کی پاسداری اور اس سے نکلنے کی راہ تلاش کرنے کی جدوجہد نظرآتی ہے۔ رومان کے پردے میں احتجاج کی چنگاری چھپادینے کا رویہ ان کی نظموں کا امتیازی وصف ہے اس سیاق میں ان کی نظم ملاحظہ کیجیے:
’’ یادوں کے چاند میں بیٹھی/ اُس کا چرخہ کات رہی ہوں/ دیکھ رہی ہوں بام فلک سے/ نیلی زمیں کا سارا نقشہ/ جس پر آڑے ٹیڑھے گچھے/ پیار کا دامن بنتے ہیں/ اور مقدران دھاگوں کو/ الجھا الجھا دیتا ہے/گرہوں کے انبار کے نیچے/ دونوں سرے چھپ جاتے ہیں/ جانتی ہوں میں سب کچھ لیکن/ اب تک چرخہ کات رہی ہوں/ خواب محل کی تنہائی میں/ روئی کے گالے اڑتے اڑتے/ پلکوں سے گر جاتے ہیں/ رشتوں کی نئی اک راہ دکھا کر/ جذ بے مرجاتے ہیں / دل کا چرخا چلتے چلتے / سینے میں تھم جاتا ہے/ چودھویں شب کی بات نہیں ہے/ ایسا اکثر ہوتا ہے‘‘4؎
فاطمہ تاج کی یہ نظم اس مخصوص نسائی لہجے کی نمائندگی کرتی ہے جسے روایتی بھی کہا جاتارہا ہے۔ اس میں بغاوت، سرکشی یا انقلاب کا کوئی واضح عنصر تو نظر نہیں آتامگر احتجاج کی ایک خفیف لَے ضرور محسوس کی جاسکتی ہے۔یہ دبی دبی آواز معاشرے میں برسوں سے موجود ہے، اس میں سرکشی نہیں، ایک قسم کا شکوہ ہے اور یہ شکوہ بھی زیرلب ہے۔ اسے اُس تانیثیت کی آواز یا چنگاری کہنا درست نہیں ہوگا جو مخصوص فلسفے کی پیداوار ہے۔ متکلم کو احساس ہے کہ وہ زندہ ہے اور اپنی خارجی زندگی میں خوشحال بھی ہے۔ بام فلک سے زمین کے نیلے نقشے کو دیکھنا ،بلندی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اس میں اُس اسطوری کہانی سے بھی استفادہ کی کوشش نظر آتی ہے جو چاند، عورت اور چرخا کے اشتراک سے ترتیب دی جاتی ہے۔ تنہائی اس کا مقدر ہے۔ اس نظم میں بھی تنہائی اور اس کے عذاب کی مختلف صورتوں کو الفاظ کے رومانی پیکر میںاس طرح چھپا دیا گیا ہے کہ پہلی نظرمیں اس طرف ذہن نہیں جاتا۔ احساسات کو دل میں چھپائے رکھنے کی مجبوری کا اظہار ہماری نسائی شاعری کا اہم پہلو ہے۔ متکلم کا یہ کہنا ’’ چودھویں شب کی بات نہیں ہے/ایسا اکثر ہوتا ہے‘‘اس عمل کے تکرار اور تسلسل کو بیان کرتا ہے۔ نسائی لب و لہجے کی ایک خاص بات اس کی خودکلامی اور اس میں موجود نرمی اور جھنجھلاہٹ کی آمیزش ہے جس کے اظہار کی راہیں جب مسدود ہوجاتی ہیں تو نسائیت ،تانیثیت میں تبدیل ہونے لگتی ہے۔ اس صورت کی بہترین مثالیں شفیق فاطمہ شعریٰ کی نظموں میں ملتی ہیں۔
شفیق فاطمہ شعری نے اردو نظم کو ایک منفرد اور توانا لہجہ عطاکرنے کی کوشش کی۔ ان کی نظموں کے مطالعے سے محسوس ہوتا ہے کہ ان کے یہاںکلاسیکی شعریات کا احترام بھی اور نظم جدید کی مختلف ہیئتوں سے استفادے کی صورتیں بھی ملتی ہیں۔ یہ بھی گمان ہوتا ہے کہ لفظ و معنی کے رشتوں پر انھوں نے خصوصی توجہ صرف کی ہے کیونکہ وہ لفظوں کے انتخاب اور ان کے برتاؤ میں حددرجہ احتیاط سے کام لیتی ہیں۔ ان کی نظموں کو پڑھتے ہوئے جدیداردو نظم کے اہم شعرا بالخصوص راشد،بلراج کومل،مجیدامجد اور اخترالایمان کی تخلیقات اور اسالیب کی طرف بھی ذہن جاتا ہے۔شفیق فاطمہ شعری کا تعلق اس نسل سے ہے جس نے ہندوستان میں اردو نظم کی نسائی آوازکو وقار عطا کیا۔ انھووں نے نئے موضوعات و مسائل کو اپنے فکر وخیال کا حصہ بنایا اور کلاسیکی رچائو کے ساتھ شعری پیکر میں ڈھالا۔وہ خواہ مخواہ کی تانیثیت کو اپنا شعار نہیں بناتی ہیں بلکہ نسائی احساسات سے اپنی نظموں کو توانائی بخشتی ہیں۔بطور مثال ان کی نظم ’’یاد نگر ‘‘ملاحظہ کی جاسکتی ہے۔ بطور نمونہ نظم کا پہلا اور آخری بند پیش ہے:
’’میں اوس بن کے برس جاؤں تیرے سبزے پر
میں گیت بن کے تری وادیوں میں کھو جاؤں
بس ایک بار بلا لے مجھے وطن میرے
کہ تیری خاک کے دامن میں چھپ کے سوجائوں
یہ چاندنی کا اجالا یہ نیم شب کا سکوں
سفید گنبد و در دودھ میں نہائے ہوئے
ستارو کوئی کہانی کہو کہ رات کٹے
نہ یاد آئیں مجھے روز و شب بھلائے ہوئے5؎
دکھ اور افسردگی سے معمور اس نظم میں شفیق فاطمہ شعری نے جو لہجہ اختیار کیا ہے وہ موضوع سے مناسبت رکھتا ہے۔13بنداور 52مصرعوں پر مشتمل اس نظم میں ہجرت،غریب الوطنی، فساد،تباہی اور قتل و غارت گری کے جس منظر کو پیش کیا گیا ہے اس کی پیش کش ہماری تاریخی کتابوں، ناولوں اور افسانوں میں بھی ہوئی ہے مگر وطن کو یاد کرتے ہوئے عموماً اس میں ایک طرح کی رومانیت حاوی ہوجاتی ہے۔ شفیق فاطمہ شعریٰ نے اس رومانیت اور جذبۂ وطنیت کو بڑے تحمل کے ساتھ اپنی نظم میں باندھنے کی کوشش کی ہے۔ یاد اور ناسٹلجیا انسان کے ساتھ ہمہ وقت موجود ہوتا ہے۔ اس سے نکلنا خود کو آزمائش میں ڈالنا ہے اور اس کے ساتھ زندگی گزارنا بھی عذاب سے کم نہیں ہے۔شاعرہ ان یادوں کو بھلانے کی کوشش کرتی ہے یا بھلانا چاہتی ہے مگر اسے بھلانا ممکن نہیں۔ یہ نظم ایک عہد کی تاریخ اور اس کی بے رحمی کو محیط ہے۔ تانیثیت کی اس بلند آہنگی اور بغاوت و انقلاب کی آواز کو خاطر میں نہیں لاتی ہیں جسے ان کی معاصر شاعرات نے اپنی شاعری کا جزولازم سمجھ کر اپنی نظموں میں برتنے کی کوشش کی۔ ان کے شعری امتیازات کی نشاندہی کرتے ہوئے شہنازنبی لکھتی ہیں:
’’شفیق فاطمہ شعری اور ساجدہ زیدی کی نظمیں موضوعات کے اعتبار سے کچھ مختلف ہیں۔ ان کے یہاں گھسی پٹی رومانیت نہیں ملتی۔ خواہ مخواہ کا جذباتی ابال یا انقلاب کا فرضی احساس بھی ان کی شاعری کا حصہ نہیں۔ ان کے یہاں شاعری وجودی تجربہ ہے۔ انہوں نے ذات و کائنات کے تصادم کو کچھ اس طرح پیش کیا ہے کہ خود ان کا اپنا استعاراتی نظام تیار ہو گیا ہے۔ ‘‘6؎
شہناز نبی نے ان کے لسانی عمل اور تراکیب کے استعمال پر بھی عمدہ بحث کی ہے۔شفیق فاطمہ شعری کی شاعری پر اردو کے تقریباً تمام نقادوں نے اپنی فہم و بصیرت کے مطابق اظہار خیال کیا ہے۔ شہنازنبی نے ان کی جن خصوصیات کا تذکرہ کیا ہے ان سے اختلاف نہیں کیا جاسکتا۔ شفیق فاطمہ شعری کی نظموں میں جذباتی ابال اور تانیثی افکار کی ویسی گھن گرج سنائی نہیں دیتی جوان کی معاصراور بعد کی شاعرات کے یہاں ملتی ہے۔ یہاں یہ واضح کردینا بھی ضروری ہے کہ نسائی آواز اور تانیثی لب و لہجے میں فرق ہوتا ہے۔ عورت کی ہر آواز کو نسائی اور تانیثی آواز قرار دینا درست نہیں۔ نسائیت کا وجود ازل سے رہا ہے اور ہماری شعری و ادبی تاریخ میں اس کی آواز اٹھارہویں صدی سے سنائی دیتی ہے۔جب کہ تانیثیت گزشتہ صدی کی ایک خاص تحریک اور علم و فلسفے سے پیدا ہونے والے افکار و خیالات سے عبارت ہے۔
تانیثی اور نسائی آوازوں کے مابین جو فرق ہے اسے سمجھے بغیر اردو کی نسائی آوازوں کو سمجھنا اور خواتین کی تخلیقات کے ساتھ انصاف کرنا ممکن نہیں۔ تانیثیت کی تحریک کے ساتھ ہی یہ بحث بھی شروع ہوگئی تھی کی اس تحریک کے وجود میں آنے سے پہلے جو شاعری ہورہی تھی، اسے کس نام سے یاد کیا جائے گا۔ نسائیت اور تانیثیت کے فرق و امتیاز کو واضح کرتے ہوئے ارجمند آرالکھتی ہیں:
’’شاعرات کی کہکشاں کے واضح طور پر دورنگ ہیں۔ ایک وہ جو عورت پن یا نسائیت یعنی ان احساسات کی شاعری کرتی ہیں جنھیں صرف عورتوں سے وابستہ کیا جاتا ہے، اور دوسری وہ جنھوں نے عورتوں کی تحریکات کے نتیجے میںپنپنے والے ڈسکورس سے متاثر ہو کر عورت کے وجود اور حیثیت سے متعلق بنیادی سوال اٹھائے ہیں۔ ان میں پہلی کو نسائی اور دوسری کو تانیثی شاعری کا نام دے سکتے ہیں۔ پہلی کا تعلق عورت کی روایتی امیج سے اور دوسری کا تعلق عورت کے وجود کو درست تناظر میں رکھنے سے ہے۔‘‘7؎
ارجمند آرا نے نسائیت اور تانیثیت کے تعلق سے جو کچھ لکھا ہے اس سے خواتین کی تخلیقات کے مطالعے میں سہولت پیدا ہوجاتی ہے۔ نسائی اور تانیثی پہلو کے اس امتیازی نکتے کو ذہن میں رکھتے ہوئے معاصر شاعرات کی نظموں کا مطالعہ کیا جائے تو ان میں دونوں صورتیں ملتی ہیں۔بسا اوقات یہ دونوں صورتیں ایک ہی شاعرہ کی مختلف تخلیقات میں نظرآجاتی ہیں۔ مثلاً فوزیہ فاروقی کی نظم ’’تم ایک نظم لاتے ہو‘‘ ملاحظہ کی جاسکتی ہے:
’’ تم ایک نظم لاتے ہو میرے لیے/ بہت خوبصورت ہے یہ نظم/ کیا میں اس نظم میں ایک رات گزار سکتی ہوں/ جب بارش بہت تیز ہورہی ہو/تم ایک نظم لاتے ہو میرے لیے/اور ڈھانپ دیتے ہو مجھے/ اس سے، کیا کافی ہے یہ میرے لیے/ جب گاڑیوں کی ہیڈلائٹس اچانک چمک اٹھیں/ تم ایک نظم لاتے ہو میرے لیے/ تمھاری نظم میرے اندر/ آگ روشن کردیتی ہے/ کیا تمھاری نظم / اپنی لگائی ہوئی آگ بجھا سکتی ہے/ تم ایک نظم لاتے ہو میرے لیے/ اس نیلام گھر میں/ جہاں بولی لگائی جارہی ہے/ کیا تمھاری نظم/ میری قیمت ادا کرسکے گی؟‘‘8؎
فوزیہ فاروقی کی بیشتر نظموں کا لہجہ ایسا ہی ہے۔وہ نسائیت اور تانیثیت کے ہم آہنگ اورہم آمیز لہجے سے اپنی آواز خلق کرتی ہیں۔مذکورہ بالا نظم میں خیال اور حقیقت کے تصادم کو پیش کرکے ایک ایسی صداقت کو ابھارنے کی کوشش کی گئی ہے جس میں ہمارے معاشرے کا چہرہ آئینہ ہوجاتا ہے۔ عورت کو صرف خیالی باتوں اور ماورائی، ناقابل تعبیر وعدوں سے خوش کرنے کا رویہ ہمارے شعری مزاج کا حصہ رہا ہے۔ چاند تارے توڑنے اور مہ و انجم کو ماتھے کا زیور بنادینے کا خیال بھی اردو شاعری میں کثرت سے ملتا ہے۔ آج کی عورت ٹھوس حقائق سے واقف ہے۔ وہ جانتی ہے کہ خیالی اور تصوراتی چیزیں روزمرہ کی ضروریات کی تکمیل نہیں کرسکتیں۔نظم میں اسی حقیقت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔وہ سوالات جو اس نظم کی سطور اور بین السطور میں قائم کئے گئے ہیں ان کا حل تلاش کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ یہ نظم نسائیت اور تانیثیت کی خوبصورت آمیزش سے وجود میں آئی ہے۔ اس سیاق میں فوزیہ فاروقی کی کئی نظمیں پیش کی جاسکتی ہیں لیکن یہاں صرف ایک مثال پر اکتفا کیاجاتا ہے۔
معاصر اردونظم کی شناخت قائم کرنے اور اسے نئی شعری و ادبی چاشنی سے آشناکرنے والی خواتین میں شبنم عشائی کا نام اہم ہے۔ گوکہ ان کی نظموں کا غالب پس منظر کشمیر اور اس کے بنتے بگڑتے حالات ہیں لیکن ان کا تخیل اور مشاہدہ کسی مخصوص خطے تک محدود نہیں ہے۔ اس کا اندازہ ان کی نظموں پر مشتمل کتاب ’من میں جمی برف‘ کے مطالعے سے لگایا جاسکتا ہے۔ان کی نظمیں مختصر مگر جامع ہوتی ہیں۔ وہ لفظوں کے آہنگ اور روانی سے واقف ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی نظموں میںایک خاص طرح کی تازگی اور شگفتگی پائی جاتی ہے۔شبنم عشائی کی ایک نظم ملاحظہ کیجیے:
’’کرفیو زدہ شہر کی/ بیوہ سڑکیں،/ آنکھیں کھولتی ہیں/نگر کے گربھ میں،/کیا دیکھتی ہیں نہیں معلوم/ حیرت زدہ ہیں،/ دھرتی شاید/گربھ دھارن/کر رہی ہے،/چاند چھپ کر/کھڑکیوں سے جھانکتا ہے،/ آوارہ کتے/ ٹولیوں میں بھونکتے ہیں،/ زندگی/ برہنہ سو رہی ہے،/ میں/ رات سی کٹ رہی ہوں/ پوری وادی میں/ کرفیو نافذ ہے‘‘ 9؎
وقتی کرفیو اور لاک ڈائون کی ہولناکی انسانی زندگی کو کس طرح متاثر کرتی ہے اس کا اندزہ سبھی کو ہے لیکن ملک عزیزکا ایک خطہ مستقل کرفیو کی زد میں رہا ہے۔جن لوگوں نے کرفیو اور لاک ڈائون کی صعوبتوں کو برداشت نہیں کیا ہے ان کے لیے بھی وہاں کی زندگی اور عام نظم و نسق کا تصورتکلیف دہ ہوسکتا ہے۔ اسی کرفیو میں زندگی اپنا سفر طے کررہی ہے۔ انسان بہتر مستقبل کی امید میں حال کی آزمائشوں کو برداشت کررہا ہے۔ متکلم نے رات کاٹنے اور خود کو اسی رات کی طرح گزرنے سے تعبیر کیا ہے۔ رات ہماری شاعری میں ظلم و ظلمت اور جبر وتاریکی کا استعارہ ہے۔ اس نظم کو اسی استعاراتی نظام کے سیاق میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔
خواتین کی نظموں میں جن آوازوں پر زیادہ توجہ دی گئی ان میں جذبات اور احساسات کے ساتھ ان معاملات کی بازگشت بھی ہے جنھیں روزمرہ کے موضوعات کہے جاسکتے ہیں۔ عموماً ایسی نظمیں نظرانداز کردی جاتی رہی ہیں جن میں فکر وخیال اور مشاہدے کو شعری پیکر میں ڈھالنے کی کوشش کی گئی ہو۔یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ فکری اعتبار سے توانا تخلیقات اور غور وفکر پر مائل کرنے والی نسائی نظموں میں بھی نسائیت کا کوئی نہ کوئی پہلو نمایاں ہوجاتا ہے۔ یہ عیب کی بات نہیں بلکہ فطری عمل ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس پہلو کے نمایاں ہوتے ہی ثقہ ناقدین کی تیوری پر بل پڑنے لگتا ہے۔ نسائی آواز کی بلند آہنگی اور تانیثیت کے زور نے ایسے ناقدین کو بدگمان کرنے اور ان کی تخلیقات سے سرسری گزرجانے پر مائل کیا۔ جن شاعرات نے اپنے لہجے کی توانائی اور خیال کی بلندی کے ساتھ فکر و عمل کو متحرک کرنے کا فریضہ ادا کیا ان کی تخلیقات دیر تک اپنی معنویت برقرار رکھنے میں کامیاب رہیں۔ اس سیاق میںنیر جہاں کی نظم ’’جیل سے فرار‘‘ملاحظہ کی جاسکتی ہے:
’’دوستو، ساتھیو! / تم رکو تو سہی/ جارہے ہو کدھر/ کچھ سنو تو سہی/جیل سے بھاگ کر/ تم کہاں جاؤ گے/ ان سلاخوں کو تم توڑبھی دواگر/جیل خانہ یہاں ختم ہوتا نہیں۔۔۔/ان حدوں سے پرے /وہ تو باہر بھی ہے/جن سلاخوں سے تعمیر اس کی ہوئی/ان سلاخوں کو تم دیکھ سکتے نہیں۔۔۔/وہ سلاخیں جو مذہب کی ملت کی ہیں/وہ جو رنگت کی، رسم وروایت کی ہیں/جو ہواؤں، فضاؤں میں تعمیر ہیں /ان سلاخوں کو تم توڑ سکتے نہیں!!/رسم کے، ریت کے جیل خانے۔ جنہیں /ہم ازل سے بنانے میں مصروف ہیں/ ان سے بچ کر بتاؤ کہاں جاؤ گے؟؟ /یہ تو چھوٹا سا اک جیل خانہ ہے۔ یاں/ ہم بھی ملزموں کی قطاروں میں ہیں/ کچھ تو انصاف ہے / اس سے باہر ،مگر/ منصفی کے لئے /جاؤ گے تم کہاں؟ /کون ظالم ہے اور کون مظلوم ہے؟/کون قاتل ہے اور کون مقتول ہے؟ /دوست دشمن بھی ایک جیسے ہیں واں/ دوستو! ساتھیو! /رک سکو تو ر کو/ یاں سے جانے سے پہلے ذرا سوچ لو/ جیل خانہ کہیں ختم ہوتا نہیں!!!10؎
فرار خواہ کسی جیل سے ہو یا زندگی کے مسائل اور ذمہ داریوں سے، فرار کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ انسان کی آزادی مطلق نہیں ہے۔ وہ طرح طرح کی مرئی اور غیرمرئی پابندیوں سے گھرا ہوتا ہے۔ بسا اوقات اسے احساس بھی نہیں ہوتا کہ وہ رسم خاص کے سلاسل کا پابند ہے۔ وہ مرئی قید سے آزاد ہونے کی جدوجہد کرتا ہے اور کبھی کبھی اس سے فرار بھی ہوجاتا ہے لیکن کیا مفرور شخص واقعی آزاد ہوتا ہے۔ اس نظم میں قید کو ایک بڑے سیاق میں پیش کیا گیا ہے۔ قید اور جیل کی مختلف صورتیں ہیں جن میں انسان ہمہ وقت مقید رہتا ہے اور ان سے فرار کی صورت کسی دوسری قید کی راہ ہموار کرتی ہے۔ اس لیے قید کا سامنا کرنا اور اس کی ذمہ داریوں سے باخبر ہونا ضروری ہے۔متکلم اپنے ساتھیوں کو اسی نکتے سے باخبر کررہا ہے کہ فرار کی ہر صورت ایک نئی قید کا پیش خیمہ ہے۔
معاصر نظم کے حاوی ہیئتی اظہار کو’ نستعلیق‘ ناقدین نے سہولت پسندی اور آرام طلبی سے تعبیر کیا ہے۔ آزاد نظم اور نثری نظم کی ہیئت میں اظہار خیال کرنے والے شعرا کو نگاہ کم تر سے دیکھنے کا رویہ بھی ملتا ہے۔ ہماری شعری روایت پر غزل کارنگ اس قدر حاوی رہا ہے کہ نظم جدید کے لسانی اور ہیئتی تجربوں سے خوف زدہ ہونے اور انھیں شک کی نگاہ سے دیکھنے کی روش عام رہی ہے۔ اردو نظم کی وادی میں شاعرات نے اس وقت قدم رکھا جب نظم جدید میں ہیئتی تجربے ہورہے تھے۔ خواتین نظم نگاروں کے لیے یہ صنف زیادہ موزوں ثابت ہوئی۔ انھوں نے اس کے ہر رنگ سے استفادہ کیا۔ معرا، آزاد اور نثری نظم کے علاوہ دیگر شعری اصناف میں بھی اپنے تخلیقی جوہر کا استعمال کیا ہے۔ یہاںعفت صدیقی کی نظم پیش کی جاتی ہے تاکہ یہ دیکھا جاسکے کہ روایتی آہنگ میں بھی نسائی آواز کیسے بلند ہورہی ہے۔ نظم کا عنوان اس کے مصرعے ’’مجھے آواز دے لینا‘‘ سے ماخوذ ہے۔ نظم ملاحظہ کیجیے:
کبھی ڈھونڈو گے تم گوشہ کہیں تنہا جو رہنے کو
کہ بس کافی یہی ہوگا میرے بے چین ہونے کو
مجھے معلوم ہے آنسو تمہارے بیش قیمت ہیں
انہیں گرنے سے روکوں یہ میں وعدہ کر نہیں سکتی
تمہارے ساتھ کچھ آنسو مگر میں بھی بہادوں گی
مجھے آواز دے لینا مجھے آواز دے لینا
بہت بے چین ہو جاؤ زمانے بھر کی فکروں سے
اک الجھن بھی ٹپکتی ہو بہت بے تاب نظروں سے
مچلتا ہو تمہارا دل کہیں بس دور جانے کو
تمھیں جانے سے روکوں یہ تو ممکن بھی نہیں مجھ سے
تمہارے ساتھ ہاں کچھ تو قدم میں بھی بڑھاؤں گی
مجھے آواز دے لینا مجھے آواز دے لینا
تمہارا دل اگر تڑپے کبھی خاموش رہنے کو
کہ دھڑکن بھی کبھی دل کی گراں تم پر گزرتی ہو
زباں پر بھی تمہارے گرلگی ہوں ضبط کی مہریں
یہ وعدہ ہے سکوت ہر گز تمہارا میں نہ توڑوں گی
کہ بس خاموش رہ کر ہی تمہارا غم بٹاؤں گی
مجھے آواز دے لینا مجھے آواز دے لینا
ہاں ایسا ہو کبھی شاید کہ تم آواز دو مجھ کو
جواب آئے نہ پھر میرا یا گہری سی خموشی ہو
میری آواز بھی تم تک کبھی شاید نہ پہنچے گی
سمجھ لینا مجھے اس پل تمہاری بس ضرورت ہے
ہاں آنے میں اگر تم نے ذرا بھی دیر کردی
تو پھر شاید کبھی تم سے دوبارا مل نہ پاؤں گی
مجھے آواز دے لینا مجھے آواز دے لینا ‘‘11؎
اس نظم میں پیش کردہ احساسات کو نسائیت اور تانیثیت کے درمیان کی کڑی قرار دیا جاسکتا ہے۔ ہم نوائی اور ذمہ داریوں کی برابر تقسیم کی خواہش نسائی نظم کا ایک اہم پہلو ہے۔ شاعرات نے دنیا کے مختلف موضوعات کو اپنے فکر و خیال کا حصہ بنایا ہے لیکن ان اظہار میں ان کا اپنا زاویۂ نگاہ ہمیشہ موجود رہا ہے۔ ان کے دیکھنے اور محسوس کرنے کا انداز مختلف رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی نظمیں اپنے اسلوب کی انفرادیت سے زیادہ موضوع اور احساس کے سبب منفرد ہوگئی ہیں۔
عذرا پروین،رفیعہ شبنم عابدی اور شہناز نبی کی نظموں کا لہجہ مختلف ہے۔ ان تینوں شاعرات نے موجودہ صدی میں اردو نظم کو اپنے فکر وخیال اور فنی اسالیب سے توانا اور ثروت مند بنانے میں اہم رول ادا کیاہے۔ عذراپروین کے یہاں تانیثیت کا اولین اثر نمایاں ہے اور وہ عورت کو صرف ہندسہ یا غیرمحسوس وجود تصورکرنے والے رویے پر ضرب لگاتی ہیں اور اپنے وجود کے اثبات اور شناخت پر اصرار کرتی ہیں۔ اس سیاق میں ان کی نظم’’میں اور ہی کوئی ہندسہ ہوں‘‘ ملاحظہ کیجیے جس میں شاعرہ بحیثیت جدید عورت کے اپنا تعارف پیش کررہی ہے۔
میں اب نیا کوئی ہندسہ ہوں/میں اور کوئی ہندسہ ہوں/تمہارے پہلو میں کل سے اب تک/جو اک بہ صورت صفر صفر تھی/وہ میں نہیں تھی/جو تجھ میں تیرے سفر کی دھن تھی/جو خود مسافر نہ ہو کے بس تیری رہ گزر تھی/وہ میں نہیں تھی/وہ میں نہیں ہوں/جو اپنے سینے کی آگ دے کر/ترے سروں کا سہاگ بھرتی/جو تیری دنیا کا راگ بھرتی/وہ میں نہیں تھی/سنو تذبذب کی قید پگھلی/میں ایک نشچت اڑان ہوں اب/جو اک انشچت، اگر مگر تھی/وہ میں نہیں تھی وہ میں نہیں ہوں/میں اب نیا کوئی حادثہ ہوں/میں اب نئی کوئی انتہا ہوں/چلو یہ مانا میں سانحہ ہوں/چلو یہ سچ ہے میں اک سزا ہوں/مگر جو اب تک تمہارے پہلو میں/اک بہ صورت صفر صفر تھی/وہ میں نہیں تھی‘‘13؎
نظم کا لہجہ اور تیور اس جدید عورت کا لہجہ اور تیور ہے جسے صدیوں سے صرف اعدادوشمار کے وقت یاد کیا جاتا تھا بلکہ بسااوقات شمار بھی نہیں کی جاتی تھی۔ جدید عورت اپنے حقوق اور صلاحیتوں سے واقف ہے اور اپنے راستے منتخب کرنے میں بھی اپنے حق و اختیار کا استعمال کرنا جانتی ہے۔اردو میں جن خواتین نے اپنی نگارشات کے ذریعہ تانیثیت کو مستحکم کرنے کی کوشش کی اور اس کے فکری ابعاد روشن کیے ان میں شہنازنبی کا نام نمایاں ہے۔ انھوں نے نہ صرف اپنے تنقیدی مضامین اور فکری و عملی کاوشوں سے اس تحریک کو قوت بخشی بلکہ اپنی شاعری سے اسے تخلیقی اساس بھی فراہم کی۔شہناز نبی کی نظموں کے کئی مجموعے منظرعام پر آچکے ہیں اور وہ آج بھی اسی سرگرمی کے ساتھ نظمیں کہہ رہی ہیں۔ ان کی نظمیں معاصر شعری منظرنامے میں اپنی فنی پختگی اور فکری صلابت کے سبب منفرد مقام رکھتی ہیں۔ میں نے ان کی شاعری پر الگ سے مضمون لکھا ہے اس لیے یہاں ان کی صرف ایک نظم’’پاپ‘‘ بطور مثال پیش کی جاتی ہے:
برا نہ مانو/نمازیں اب بھی یہیں پڑی ہیں/پہ سجدہ گاہیں اٹھا کے جانے کدھر چلے تھے/وہ صبح تم کو بھی یاد ہوگی/الگ تھے گھر اور علیحدہ چولھے/تمہارے پرچم کا رنگ الگ تھا/وطن تمہارا نیا نیا تھا/سبھی تو بانٹا تھا آدھا آدھا/مگر پڑی ہیں وہاں پہ اب تک/ہماری رادھا کی ایک پائل/ہمارے کرشنا کی ایک بنسی/پہ ہیرؔ کیسے اٹھا کے دے دیں/کہاں سے لائیں تمہارا رانجھا/کہ ہم سے پاگل/حساب رکھتے نہیں دنوں کا/ہمیں تو یہ بھی پتہ نہیں ہے/کہ آریائی سے بابری ہم بنے تو کیسے/ہمیں تو شنکھ اور اذاں ہے یکساں/ہماری تاریخ کے کتنے صفحے/چرائے تم نے؟/کہاں کہاں سے نشاں ہمارے/مٹائے تم نے؟/ہماری ہولی تمہارے بن ہے اداس کتنی/تمہیں پتہ کیا/ہماری عیدوں کو تم سے ملنے کی پیاس کتنی/کہاں چلے تھے اٹھا کے منبر/کہاں سجائی دکان تم نے/کہاں پہ بیچے ہیں مال کتنے/کہو منافع کمایا کتنا/ہمارے جیسے/تمہارے جیسے/خدا کے بندے/جو اپنے حصے کا پانی/کھودیں کنواں تو پائیں/جو اپنے تن کو دھواں بنائیں تو روٹی کھائیں/ہمیں لکیروں کے کھیل سے کیا/ہمیں تجارت سے واسطہ کب/جنہیں تھا سود و زیاں سے مطلب/وہ کاروبار جہاں سے رخصت/پہ آگ اب بھی بھڑک رہی ہے/چلو بزرگوں کا پاپ دھوئیں/ہمارے مندر سنبھالو تم سب/تمہاری مسجد کے ہم نگہباں‘‘14؎
اردو میں اس وقت جن شاعرات کی تخلیقات رسائل و جرائد میں شائع ہورہی ہیں ان میں کسی ازم یا تحریک کی آواز حاوی نہیں ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کا فن اور اسلوب بھی کسی سے متاثر نظر نہیں آتا۔ سی لیے ان پر کسی قسم کا لیبل چسپاں کرنا مشکل ہے۔ ان نظموں میں فنی ہنر مندی اور تخلیقی رچائو سے زیادہ موضوعاتی تنوع اور فکر وخیال کی انفرادیت قابل توجہ ہے۔ شہناز نبی نے خواتین کی نظموں کے تعلق سے بجاطور پر لکھا ہے:
’’خواتین قلمکاروں نے اپنی الگ پہچان بنائی اور اس میں ان کے اسالیب سے زیادہ ان موضوعات کا ہاتھ رہا جو انہیں بہر حال مرد شاعروں سے الگ اور ممتاز ثابت کرتے تھے چونکہ عورتوں نے ایک طویل عرصے تک مرداد یبوں و شاعروں کا لہجہ اپنائے رکھا، اس لئے اسالیب میں کوئی نمایاں تبدیلی نظر نہیں آتی لیکن جہاں تک موضوعات کا تعلق ہے،یہ عورتوں کے اپنے تجربات اور داخلی احساسات کا نتیجہ ہیں۔‘‘17؎
اردو شاعری کی موجودہ صورتحال بہت حوصلہ بخش تو نہیں کہی جاسکتی ہے اور اس عہد کو کسی ازم یا تحریک سے وابستہ بھی نہیں کیا جاسکتا۔ اس وقت جو نظمیں کہی جارہی ہیں ان میں سیاسی، سماجی اور نفسیاتی صورت حال کا اظہار تو ہورہا ہے لیکن مجموعی طور پر ایک عہد کے آشوب کو سمونے کی کوشش کم نظر آتی ہے۔ یہ باتیںمعمولی فرق کے ساتھ خواتین کی شاعری بھی بالخصوص نظموں کے سیاق میں بھی کہی جاسکتی ہیں۔
حواشی
1 ساجدہ زیدی،ذہن جدید،نئی دہلی: شمارہ۔62
2 زاہدہ زیدی،شب خون، الٰہ آباد:شمارہ نمبر؛291، 2005
3 بلقیس ظفیرالحسن، شب خون، الٰہ آباد:شمارہ؛264، 2003
4 فاطمہ تاج،شب خون، الٰہ آباد:شمارہ؛276،جنوری2004
5 سلسلۂمکالمات،شفیق فاطمہ شعریٰ،نئی دہلی: ایجوکیشنل پبلشنگ ہائوس، 2005،ص؛274-277
6 تانیثی تنقید، شہنازنبی،کولکاتا:کلکتہ یونیورسٹی، 2009،ص؛53
7 تانیثی مطالعات اور دوسرے مضامین، ارجمندآرا۔نئی دہلی:ایجوکیشنل پبلشنگ ہائوس، 2015، ص؛61
8 فوزیہ فاروقی، شب خون، الٰہ آباد:شمارہ؛270،2003
9 من میں جمی برف، شبنم عشائی،نئی دہلی:عرشیہ پبلی کیشنز،2013،ص؛42-43
10 نیرجہاں، ذہن جدید،نئی دہلی: شمارہ؛51
11 عفت صدیقی۔نیاورق،ممبئی:شمارہ؛46
12 نغمہ جاوید،نیاورق، ممبئی:شمارہ؛34
13 بارہ قباؤں کی سہیلی، عذرا پروین،نئی دہلی:ایجوکیشنل پبلشنگ ہائوس،2010،ص؛173-174
14 پس دیوار گریہ، شہناز نبی،علی گڑھ:ایجوکیشنل بک ہائوس،2008،ص؛18-20
15 تانیثی تنقید، شہنازنبی،کولکاتا:کلکتہ یونیورسٹی، 2009،ص؛23
Dr. Abdus Sami
Assistant Professor
Deparment of Urdu
BHU, Varanasi, India-221005
Mob: +91-9891553520