اردو دنیا،مارچ 2026:
تعلیمی پالیسی کسی بھی قوم کی فکری، سماجی اور معاشی ترقی کی بنیاد ہوا کرتی ہے، جو اس بات کا تعیّن کرتی ہے کہ علم کو دوسرے تک کیسے منتقل کیا جائے، مہارتوں کو کس طرح حاصل کیا جائے، اور تعلیمی نظام کو کیسے معاشرتی تقاضوں، ثقافتی اقدار اور عالمی مطالبات سے ہم آہنگ کیا جائے۔ قومی تعلیمی پالیسی 2020 ایک انقلابی وژن کی علمبردار ہے جو نہ صرف تعلیمی ڈھانچے کو اکیسویں صدی کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرتی ہے بلکہ قومی ورثے کے تحفظ کی بھی بات کرتی ہے۔ اس پالیسی کی سب سے نمایاں خصوصیت اور اختراعی پہلو مادری زبان میں درس و تدریس کی وکالت و ترجمانی ہے، جو تعلیمی فہم و فراست کو بہتر بنانے، ثقافتی شناخت کو محفوظ رکھنے، اور لسانی تنوع کی روشنی میں تعلیم و تعلم کو زیادہ جامع اور قابل رسائی بنانے کی حمایت کرتی ہے۔ ہندوستان میں قومی تعلیمی پالیسیوں کا سفر 1968 میں اس وقت شروع ہوا جب پہلی مرتبہ ایک مربوط تعلیمی خاکہ تیار کیا گیا۔ اس پالیسی نے سائنس و ٹیکنالوجی، پیشہ ورانہ تعلیم(Professional Education) اور علاقائی زبانوں کے فروغ پر زور دیا۔ بعد ازاں 1986 کی پالیسی نے تعلیمی مساوات، سب کے لیے تعلیم، اور بنیادی سطح پر تعلیمی ڈھانچے کو بہتر بنانے جیسے اقدامات پر توجہ دی، جن میں ’’آپریشن بلیک بورڈ‘‘ جیسی اسکیمیں شامل تھیں۔ موجودہ پالیسی جو 29 جولائی 2020 کو حکومت ہند کی منظوری سے نافذ ہوئی، ایک ہمہ جہت اور بصیرت افروز اقدام ہے جو ہندوستان کو ایک عالمی طاقت میں ڈھالنے کے خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے ترتیب دی گئی ہے۔
سابقہ پالیسیوں کے برعکس، یہ پالیسی ایک لچکدار، بین لسانی، اور طالب علم مرکوز (Child Centeric) نقطہ نظر کی حامل ہے، جو عالمی تعلیمی رجحانات سے ہم آہنگ ہوتے ہوئے ہندوستان کی ثقافتی و لسانی جڑوں سے جڑی رہتی ہے۔ اس پالیسی کا سب سے اہم جزو یہ ہے کہ یہ ابتدائی تعلیمی مراحل میں مادری زبان یا علاقائی زبان کو ذریعہ تعلیم بنانے کی بات کرتی ہے، یعنی کم از کم پانچویں جماعت تک، اور ترجیحاً آٹھویں جماعت بلکہ اس سے بھی آگے تک، بعد ازاں دیگر زبانوں کو تدریجاً شامل کرنے کی بات کرتی ہے۔ جب بچے اپنی مانوس زبان میں تعلیم حاصل کرتے ہیں، تو وہ زیادہ بہتر طریقے سے سیکھتے ہیں، سوالات کرتے ہیں۔ تعلیمی پالیسی کسی بھی قوم کی فکری، سماجی اور معاشی ترقی کی بنیاد ہوتی ہے، جو علم کی ترسیل اور مہارتوں کی آبیاری کا وہ خاکہ فراہم کرتی ہے جس کے تحت ایک صحت مند، باشعور اور ترقی یافتہ معاشرہ پروان چڑھتا ہے۔
معیاری زبان کا تاریخی پس منظر
ہندوستان میں زبان سے متعلق تعلیمی پالیسیوں کی تاریخ کو عموماً تین ادوار میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: پیش از نوآبادیاتی دور، نوآبادیاتی دور، اور آزادی کے بعد کا دور۔
1 پیش ازنوآبادیاتی دور(Pre-Colonialism Period):
پیش از نوآبادیاتی دور میں تعلیم زیادہ تر مقامی زبانوں جیسے سنسکرت، فارسی، تمل، بنگالی اور دیگر علاقائی زبانوں میں دی جاتی تھی، جو ہر خطے کے ثقافتی و تمدنی ماحول سے ہم آہنگ تھی۔ اس دور کے گروکل، مدارس، پاٹھشالائیں، اور دیگر روایتی تعلیمی ادارے مقامی زبانوں میں تعلیم دیتے تھے، جو طلبہ کی ذہنی و لسانی دنیاسے مربوط ہوتی تھی۔ ان اداروں میں ادب، ریاضی، منطق اور دینیات جیسے علوم مادری زبان میں پڑھائے جاتے تھے، جس سے نہ صرف علم کاحصول آسان ہوتا تھا بلکہ زبان و ثقافت کا رشتہ بھی مضبوط ہوتا تھا۔
2 نوآبادیاتی دور (Colonialial Period):
نوآبادیاتی دور میں تعلیمی نظام میں ایک بنیادی تبدیلی رونما ہوئی، خصوصاً جب انگریزی کو ذریعہ تعلیم بنایا گیا۔ لارڈ میکالے کی ’’منٹ آن ایجوکیشن‘‘ (1835) اس تبدیلی کی بنیادبنی، جس میں مقامی زبانوںاور ہندوستانی علوم کو کمتر قرار دے کر انگریزی زبان و تعلیم کو برتر قرار دیا گیا۔ مقصد ایک ایسا طبقہ تیار کرنا تھا جو انگریزی میں سوچے، انگریزی میں بولے، اور نوآبادیاتی حکمرانوں کے لیے مقامی عوام سے رابطے کا ذریعہ بنے۔ چنانچہ انگریزی میڈیم اسکول اور کالج قائم کیے گئے جو صرف اشرافیہ تک محدود رہے، جب کہ مقامی زبانوں اور روایتی اداروں کو دانستہ طور پر نظرانداز کیا گیا۔ اس پالیسی نے ایک لسانی درجہ بندی کو جنم دیا جس میں انگریزی کو ترقی، طاقت، اور عزت کی زبان بنا دیا گیا اور یہی درجہ بندی آج تک تعلیمی و سماجی نظام پرحاوی ہے۔
3 آزادی کے بعد(Post-Independence):
آزادی کے بعد ہندوستان نے ایک ایسا تعلیمی ڈھانچہ تشکیل دینے کی کوشش کی جو قومی اتحاد کو فروغ دے، مگر ساتھ ہی لسانی و ثقافتی تنوع کا احترام بھی کرے۔ 1968 کی قومی تعلیمی پالیسی (NPE1968) اس ضمن میں پہلا سنگ میل ثابت ہوئی، جس میں ’’سہ لسانی فارمولے‘‘کو متعارف کرایا گیا۔ اس کا مقصد کثیر لسانی مہارتوں کو فروغ دینا تھا، جس کے تحت طلبہ کو اپنی مادری زبان، ہندی اور انگریزی سیکھنا تھا۔ اس پالیسی نے نظریاتی طور پر مادری زبان کی اہمیت کو تسلیم کیا، لیکن اس کا عملی نفاذ غیر متوازن رہا۔ بہت سی ریاستوں اورشہری علاقوں نے معاشی اغراض کے پیش نظر ہندی یا انگریزی کو ترجیح دی، جس سے مقامی زبانیں پیچھے رہ گئیں۔ 1986کی تعلیمی پالیسی نے’’سہ لسانی فارمولے‘‘ کو مزید مضبوط کرنے اور تعلیم کی ہمہ گیر رسائی پر زور دیا، لیکن یہ بھی علاقائی زبانوں کو بطور ذریعہ تعلیم لازم قرار دینے میں ناکام رہی۔
مادری زبان کے حوالے سے قومی تعلیمی پالیسی کی تجاویز:
ہندوستان جیسے لسانی، ثقافتی اور جغرافیائی طور پرثروت مند ملک میں، تعلیم کا شعبہ صرف کتابوں اور کلاس روم تک محدود نہیں بلکہ یہ اس بچے کی زبان، شناخت اور ثقافت سے براہ راست جڑا ہوا ایک حساس میدان ہے۔ خاص طور پر وہ طلبہ جو دیہی، قبائلی یا لسانی طور پر پسماندہ برادریوں سے تعلق رکھتے ہیں، اور جن کی مادری زبان نہ ہندی ہے نہ انگریزی، ان کے لیے ہندوستان کا موجودہ تعلیمی نظام اکثر ایک اجنبی زمین کی مانند ہوتا ہے۔ یونیسکو، NCERT اور کئی عالمی و قومی تحقیقی ادارے اس حقیقت کی تصدیق کر چکے ہیں کہ ابتدائی تعلیم اگر بچے کی مادری زبان میں ہو تو اس کا ذہن نہ صرف تیزی سے سیکھتا ہے بلکہ اس کے اندر سوالات اٹھانے، مفاہمت قائم کرنے، اور فکری ارتقاء کی صلاحیت بھی فروغ پاتی ہے۔ لیکن افسوس کہ کروڑوں ہندوستانی بچے آج بھی ایسی زبانوں میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں جو ان کے لیے نہ صرف اجنبی بلکہ بعض اوقات خوف کا باعث بن جاتی ہیں۔ جب ایک چھوٹے گاؤں کا بچہ، جس کی مادری زبان مثلاً سنتھالی یا بنگالی ہو، پہلی جماعت میں داخل ہوتا ہے تو وہ تعلیم سے زیادہ زبان کی جنگ لڑ رہا ہوتا ہے۔ اسے حروف تہجی سیکھنے سے پہلے اس زبان کو سمجھنا ہوتا ہے جس میں وہ بولنا تک نہیں جانتا۔ اس کی دنیا، اس کی بولی، اس کا ماحول۔ سب پیچھے رہ جاتے ہیں اور وہ ایک ایسے تعلیمی نظام کی طرف ڈھکیل دیا جاتا ہے جو اس کے لیے اجنبی، بے جان اور سرد ہے۔
پانچویں یاآٹھویں جماعت تک مادری زبان کو ذریعہ تعلیم بنانے کی اہمیت:
قومی تعلیمی پالیسی کے مطابق کم از کم پانچویں جماعت (اور ترجیحاً آٹھویں جماعت یا اس سے آگے تک) تک مادری زبان یا علاقائی زبان کو ذریعہ تعلیم بنانے کی بات کی گئی ہے۔ یہ سفارش یونیسکو، این سی ای آر ٹی اور دیگر قومی و بین الاقوامی تحقیقی اداروں کی تحقیق پر مبنی ہے، جن کے مطابق بچے ابتدائی تعلیمی سالوں میں اپنی مادری زبان میں زیادہ بہتر سیکھتے ہیں، کیونکہ یہ زبان ان کے ذہن سے ہم آہنگ اور فطری ہوتی ہے۔ جب تعلیم کسی ناواقف زبان میں دی جائے، تو طالب علم کو بیک وقت مضمون کو بھی سمجھنا پڑتا ہے اور زبان کو بھی، جو ان کے ذہنی بوجھ میں اضافہ کرتا ہے اور سیکھنے کی صلاحیت کومتاثرکرتاہے۔ یہ تجویزان کروڑوں ہندوستانی طلبہ کی لسانی بیگانگی کا تدارک کرتی ہے جو دیہی، قبائلی یا لسانی اقلیتوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ مثلاً چھتیس گڑھ کے کسی قبائلی علاقے میں رہنے والا بچہ، جس کی مادری زبان گونڈی ہے، اگر اسے ہندی یا انگریزی میں تعلیم دی جائے تو وہ نہ صرف تعلیمی لحاظ سے پیچھے رہ جاتا ہے بلکہ تعلیم سے ذہنی طورپرکٹ بھی جاتاہے۔ آٹھویں جماعت تک مادری زبان میں تعلیم کی ترجیح اس بات کا اعتراف ہے کہ زبان کے تسلسل سے ہی علمی بنیادیں مضبوط ہوتی ہیں۔ اس کے بعد کسی دوسری زبان جیسے ہندی یا انگریزی کی جانب بتدریج منتقل ہو، تاکہ طالب علم کواچانک کسی اجنبی زبان کے بوجھ تلے نہ دبنا پڑے۔
معیاری زبان(Standard language) کے متعلق ریاستوں کو اختیارات :
قومی تعلیمی پالیسی کے تحت ریاستوں اور خطوں کو اپنے مقامی، لسانی و ثقافتی حالات کے مطابق پالیسی نافذ کرنے کی اجازت ہے۔ چونکہ ہر ریاست کی لسانی شناخت جداگانہ ہے،مثلاً بنگال میں بنگالی،کیرلہ میں ملیالم،تمل ناڈو میں تمل، آسام میں آسامیہ اور دیگر قبائلی زبانیں۔اس کا مقصد اس زمینی حقیقت کو تسلیم کرنا ہے کہ ہندوستان جیسے ملک میں ایک ہی زبان تمام طلبہ کے لیے موثر ذریعہ تعلیم نہیں بن سکتی۔ مثال کے طور پر ناگالینڈ یا منی پور میں جہاں ایک ہی علاقے میں کئی زبانیں بولی جاتی ہیں، وہاں اسکولوں کو مختلف زبانوں میں تعلیم کابندوبست کرناپڑتاہے۔ اسی طرح شہری علاقوںمیں جہاں مہاجرین کی تعداد زیادہ ہے، اسکولوں کو دو یا تین زبانوں میں تعلیم فراہم کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ موجودہ پالیسی میںسہ لسانی فارمولے(Three Language Formula) کو ایک نئی جہت کے ساتھ دوبارہ متعارف کرایا گیا ہے۔ یہ فارمولا سب سے پہلے 1968 کی قومی تعلیمی پالیسی میں پیش کیا گیا تھا۔ اس کے تحت طلبہ کو تین زبانیں سیکھنے کی ترغیب دی گئی ہے: مادری یا مقامی زبان، قومی زبان (جیسے ہندی)، اور ایک بین الاقوامی زبان (عمومی طور پر انگریزی)۔ اس پالیسی کے تحت اس فارمولے میں لچک فراہم کی گئی ہے تاکہ ہر ریاست یا اسکول اپنے مخصوص لسانی و ثقافتی حالات کے مطابق زبانوں کا انتخاب کر سکے۔
مادری زبانوں میں درسی کتب اور تدریسی مواد کی تیاری:
حالیہ پالیسی کی سب سے اہم سفارشات میں سے ایک یہ ہے کہ علاقائی زبانوں میں معیاری درسی کتابیں اور تدریسی مواد تیار کیا جائے۔ تاریخ گواہ ہے کہ مادری زبان میں تعلیم کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ رہی ہے کہ مقامی زبانوں میں تعلیمی مواد دستیاب نہیں تھا۔ اس کمی کو دور کرنے کے لیے پالیسی مرکز، ریاستوں، اور تعلیمی اداروں جیسے این سی ای آر ٹی اور ایس سی ای آر ٹی کے درمیان باہمی اشتراک کی تجویز پیش کرتی ہے۔ اس مقصد کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز جیسے DIKSHA کا استعمال کیا جا سکتا ہے تاکہ بنگالی،مراٹھی، تیلگو، آسامی جیسی زبانوں میں معیاری مواد تیار اور فراہم کیا جا سکے۔ نیزپالیسی مقامی علم، لوک کہانیوں اور ثقافتی تناظر کو نصابی مواد میں شامل کرنے کی سفارش کرتی ہے۔ مثلاً اڑیسہ میں سائنس کی کتاب میں مقامی زرعی مثالیں یا ماحولیاتی چیلنجز کو شامل کرنا، طلبہ کے لیے تعلیم کو مزید مربوط اور بامعنی بناتا ہے۔ یہ نہ صرف سمجھ میں بہتری لاتا ہے بلکہ ثقافتی افتخار اور شناخت کو بھی تقویت دیتا ہے۔ پالیسی میں مادری زبان کو ذریعہ تعلیم بنانے پر جو زور دیا گیا ہے، وہ محض ایک لسانی فیصلہ نہیں بلکہ ایک ہمہ جہت علمی، نفسیاتی، معاشرتی اور ثقافتی منطق پر مبنی انقلابی قدم ہے۔ ابتدائی تعلیمی مراحل میں مادری یا علاقائی زبان کے استعمال کو ترجیح دینااس پالیسی کاایک کلیدی پہلوہے، جو ہندوستان کے لسانی طور پر متنوع تعلیمی نظام میں موجود تدریسی، نفسیاتی اورمعاشرتی چیلنجزکاحل پیش کرتا ہے۔
مادری زبان بولنے والے طلبہ کو درپیش چیلنجز :
پالیسی میں خاص طورپرابتدائی جماعتوں میں مادری زبان یا علاقائی زبانوں کو ذریعہ تعلیم بنانے پر زور دیا گیا ہے تاکہ تدریسی نتائج بہتر ہوں، ثقافت کا تحفظ ممکن ہو اور شمولیت کو فروغ ملے۔ لیکن ہندوستان جیسے لسانی اور سماجی و اقتصادی طورپرمتنوع ملک میں اس اصلاحات پرموثر طریقے سے عمل درآمد کے لیے کئی سنگین رکاوٹیں درپیش ہیں۔ ان میں مادری زبان میں تدریس کے لیے بنیادی ڈھانچے اور اہل اساتذہ کی کمی، علاقائی زبانوں میں تعلیمی اور ڈیجیٹل مواد کی قلت، انگریزی تعلیم کے حق میں شہری متوسط طبقے کی مزاحمت، اور بین ریاستی مہاجرین و کثیر لسانی جماعتوں جیسے پیچیدہ مسائل شامل ہیں۔تعلیمی اداروں میں معیاری زبان کے طور پر مادری زبان کو اختیار کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ ہمارے تعلیمی ادارے، خاص طور پر دیہی اور پسماندہ علاقوںمیں، مناسب انفرا اسٹرکچر اور علاقائی زبانوں پر عبور رکھنے والے تربیت یافتہ اساتذہ کی شدید قلت ہے۔ اگرچہ پالیسی پانچویں جماعت تک مادری زبان یا علاقائی زبانوں میں تعلیم دینے کی بات کرتی ہے، لیکن اکثر سرکاری اسکولوں کے پاس اس پالیسی کو عملی جامہ پہنانے کے لیے درکار وسائل موجود نہیں ہیں۔کم بولی جانے والی یا معدوم ہوتی زبانوں جیسے سنتھالی میں تدریس کے لیے اہل اساتذہ دستیاب نہیں ہیں۔ بیشتر اساتذہ ہندی یا انگریزی میں تعلیم دینے کی تربیت رکھتے ہیں اور انھیں ان مقامی زبانوں پر عبور حاصل نہیں ہوتا جو طلبہ گھروں میں بولتے ہیں۔
مادری زبان میں درس و تدریس: اصول و ضوابط:
اس پالیسی کی روح یہ ہے کہ ہر بچہ اپنے ابتدائی تعلیمی سال اپنی مادری زبان میں گزارے تاکہ وہ علم سے جڑنے کے ساتھ ساتھ اپنی جڑوں سے بھی وابستہ رہے۔ یہی وابستگی آگے چل کر نہ صرف تعلیمی کارکردگی کو بہتر بناتی ہے، بلکہ شناخت کے بحران کا ازالہ بھی کرتی ہے۔ لیکن ایک ایسی سرزمین پر جہاں ہزاروں زبانیں اور بولیاں زندہ ہیں، وہاں یہ خواب صرف سیاسی ارادے سے حقیقت میں نہیں بدل سکتا۔ یہ عمل ایک مربوط، منظم اور ہمہ گیر کاوش کا تقاضا کرتا ہے، جو تعلیمی اداروں، اساتذہ، طلبہ، والدین، زبان دانوں، اور حکومتی و غیر حکومتی اداروں کی باہمی شراکت سے ہی ممکن ہے۔مادری زبان کو ذریعہ تعلیم بنانے کے لیے سب سے بنیادی شرط یہ ہے کہ اساتذہ اس زبان میں نہ صرف مہارت رکھتے ہوں، بلکہ وہ جدید تدریسی طریقوں سے بھی واقف ہوں۔ ان کے لیے ایسی تربیت درکار ہے جو انہیں زبان کی تدریس کے ساتھ ساتھ جدید سائنسی و فکری مضامین کو بھی مقامی تناظر میں پڑھانے کے قابل بنائے۔ اس کے لیے نہ صرف مرکز اور ریاستی اداروں کی جانب سے باقاعدہ تربیتی پروگرام تشکیل دینا ہوگا بلکہ علاقائی زبانوں میں معیاری نصاب، درسی کتابیں، اور تدریسی مواد بھی تیار کرنا ہوگا۔ جب بچے مقامی مثالوں جیسے برہماپُترا ندی، ہزاردواری، نواب بنگال و اودھ، راجستھان کے قلعے کو اپنی زبان میں پڑھتے ہیں تو ان کے ذہن میں مفاہمت کا عمل زیادہ گہرا ہوتا ہے۔ تعلیم ان کے لیے اجنبی چیز نہیں رہتی، بلکہ وہ اسے اپنی زندگی کاحصہ سمجھنے لگتے ہیں۔
مادری زبان کی تدریس: خواب اور حقیقت:
جب قومی تعلیمی پالیسی 2020 نے یہ اعلان کیا کہ ابتدائی تعلیم بچوں کو ان کی مادری یا علاقائی زبان میں دی جائے گی، تو بظاہر یہ ایک روشن خیال، انقلابی اور ثقافتی طور پر مربوط نظریہ معلوم ہوا۔ ایسا نظریہ جو نہ صرف تعلیم کو آسان اور فطری بنا دے گا، بلکہ زبان و تہذیب کے رشتے کو نئی زندگی بھی عطا کرے گا۔ لیکن جوں جوں اس تصور کو زمینی سطح پر اتارنے کی کوششیں شروع ہوئیں، ایک ایک کر کے وہ تلخ حقیقتیں سامنے آنے لگیں جو صرف تعلیمی ڈھانچے ہی نہیں بلکہ ہمارے سماجی، لسانی، نفسیاتی اور سیاسی نظام کی پیچیدگیوں کی آئینہ دار تھیں۔ ہندوستان کا لسانی تنوع ابتدا ہی میں سب سے بڑی رکاوٹ بن کر ابھرا۔ جہاں ایک ہی گاؤں میں دو یا تین زبانیں بولی جاتی ہوں، وہاں یہ طے کرنا کہ تدریس کس زبان میں ہو، کسی پیچیدہ مسئلہ کو سلجھانے جیسا تھا۔ بعض زبانیں تو محض زبانی وراثت کی صورت میں موجود ہیں جن کا کوئی تحریری رسم الخط نہیں، اور بعض ایسی ہیں جن کے بولنے والے معدودے چند ہیں۔ ان زبانوں میں نصاب تیارکرنا، اساتذہ فراہم کرنا، اور معیاری تدریسی وسائل مہیاکرناایک بڑا انتظامی اور مالی چیلنج ہے۔
ایک اور بڑا سوال یہ تھا کہ جہاں اسکولوں میں اساتذہ کی شدید قلت ہے، اور جو موجود ہیں بھی تو وہ ہندی یا انگریزی میں تدریس کے عادی ہیں تو وہ مادری زبان میں بچوں کو کیسے تعلیم دیں گے؟ نہ ان کے پاس لسانی تربیت ہے، نہ ان زبانوں کے تدریسی اصول و قواعد سے وہ واقف ہیں۔ اور اگر کسی اسکول میں ایک ہی استاد ہو، اور کلاس میں بچے مختلف لسانی پس منظر سے تعلق رکھتے ہوں، تو وہاں تدریس کا عمل عملاً تعطل کا شکار ہو جاتا ہے۔مزید برآں، ایک ایسی رکاوٹ جو شاید سب سے زیادہ نظرانداز کی جاتی ہے، وہ والدین کی انگریزی زبان سے نفسیاتی وابستگی ومرعوبیت ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ مادری زبان میں تعلیم طلباکا صرف لسانی حق نہیں بلکہ اساتذہ اورہمارے تعلیمی نظام کا ایک تہذیبی فریضہ بھی ہے- ایسا فریضہ جو نسلوں کو ان کی جڑوں سے جوڑتا ہے، تعلیم و تعلم کو فطری بناتا ہے، اور شناخت کو مضبوطی عطا کرتا ہے۔ قومی تعلیمی پالیسی 2020 نے اگرچہ ایک روشن راستہ دکھایا ہے، لیکن اس راستے پرکامیابی کے ساتھ چلنے کے لیے ہمیں ذہنی تیاری، سماجی تبدیلی، تعلیمی جدت، اور سیاسی قوتِ ارادی وغیرہ کی ضرورت ہے۔ ہمیں لچکدار تعلیمی ماڈلز کی طرف بڑھنا ہوگا، جہاں مکمل طور پر ایک ہی زبان پر انحصار کے بجائے بین لسانی اشتراک (Translanguaging) کو فروغ دیا جائے۔ اس میں استاد ایک سے زائد زبانوں کو بیک وقت استعمال کرتا ہے، تصورات کو مقامی زبان میں سمجھاتا ہے، اصطلاحات کو قومی یا عالمی زبان میں ادا کرتا ہے، اور مختلف زبانوں میں مشق کرواتا ہے۔ یہ ماڈل خاص طور پر ان اسکولوں میں مفید ثابت ہو سکتا ہے جہاں لسانی تنوع ہو۔ اساتذہ کی تربیت اس پورے عمل کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ اس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ ریاستی جامعات، تربیتی کالجز اور ادارے، علاقائی زبانوں میں تدریسی مہارتوں پر مبنی خصوصی تربیت کا اہتمام کریں۔ آن لائن کورسز، تدریسی ماڈیولز، اور لسانی مراکز اس خلا کو پر کر سکتے ہیں۔ ساتھ ہی، مقامی کمیونٹیز کی شمولیت اور مقامی علما و ماہرینِ لسانیات کی شرکت سے نہ صرف تعلیمی مواد بہتر بنایا جا سکتا ہے بلکہ زبان کے ساتھ وابستگی کو بھی مضبوط کیا جا سکتا ہے۔ والدین کی نفسیات کو بدلنے کے لیے ہمیں کہانیوں، نظیروں اور میڈیامہمات کا سہارا لینا ہوگا۔ کامیاب شخصیات کی مثالیں، جنھوں نے ابتدائی تعلیم مادری زبان میں حاصل کی اور بعد ازاں عالمی سطح پر پہچان بنائی، والدین کو مطمئن کر سکتی ہیں۔ سوشل میڈیا، اسکول پروگرام، ریڈیو اور کمیونٹی اجلاس ان تاثرات کو مثبت سمت میں موڑنے کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ جہاں تک درسی مواد کا تعلق ہے، تو مصنوعی ذہانت، مشینی ترجمہ، اور اوپن سورس پلیٹ فارمز ہماری مدد کر سکتے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ قومی سطح پر ایک’’لسانی مواد تیار کنندہ یونٹ‘‘ قائم کرے جو تمام ریاستی بورڈز اور جامعات کے ساتھ مل کر علاقائی زبانوں میں معیاری نصاب، لغات، اور تربیتی مواد تیار کرے۔ ساتھ ہی، مترجمین کی تربیت اور ترجمہ کی اخلاقیات پر مشتمل کورسز متعارف کروائے جائیں۔ یہ تمام کوششیں تبھی بارآور ہوں گی جب مضبوط قوت ارادی ہو، بجٹ مختص کیا جائے، اور شفاف نگرانی کا نظام قائم ہو۔ ہر ریاست میں ایک خود مختار ’’مادری زبان تعلیمی بورڈ‘‘ قائم کیا جانا چاہیے جو سالانہ رپورٹ پیش کرے، نفاذ کی سطح کا تجزیہ کرے اور مقامی سطح پر ماہرین کے مشوروں کو عملی صورت دے۔ اگر ہم یہ سب حاصل کر لیں، تو نہ صرف ہمارا تعلیمی نظام عالمی معیار پر کھڑا ہوگا، بلکہ ہندوستان مادری زبانوں کی تدریس میں دنیا کے لیے ایک عملی ماڈل بھی بن کر ابھرے گا۔
Dr. Aiyaz Ahmad Khan
Asstt. Prof., Deptt. of Education
AMU Centre Murshidabad
Jangipur Barrage (Ahiran)
West Bengal-742223
Mob.: 8348564789
E-mail:aakhan_co@myamu.ac.in