رابندر ناتھ ٹیگورکی افسانہ نگاری ،مضمون نگار:سراج انور محمد میراں

March 10, 2026 0 Comments 0 tags

اردو دنیا،مارچ 2026:

ہندوستانی ادبیات میں اردو اور بنگلہ ادب کو امتیازی حیثیت حاصل ہے۔ بنگلہ زبان تقریباً سوسے زیادہ بولیوں کوملاکرایک زبان کی شکل میں وجودمیں آئی۔ اسی طرح اردو زبان نے بھی مختلف زبانوں، علاقوں اور ادوار سے استفادے کے نتیجے میں ایک مستقل اور معیاری زبان کی شکل اختیار کی اور جب زبان کا یہ سفر ادب کی طرف گامزن ہوا تو اس میں افسانوی اور غیر افسانوی ادب نے جگہ پائی۔
ہر ادب کسی نہ کسی مخصوص معاشرے اور تہذیب کی پیداوار ہوتا ہے۔ ادب کے ساتھ ایک پورا تہذیبی و تاریخی پس منظر بھی ہوتا ہے۔ خود ہندوستان جیسے تہذیبی ولسانی اعتبار سے وسیع وعریض ملک میں کئی بڑی زبانیں ہیں جن کے پاس ادب کی متحرک اور شاندار روایت موجود ہے اور آج بھی یہ زبانیں اور ان کا ادب زندہ و توانا ہے۔ رابندر ناتھ ٹیگور ہندوستانی ادب کے ایک عظیم فن کار تھے جنھوں نے اپنی علمی اور تخلیقی صلاحیتوں سے ہندوستان کی فکری و فنی روایات کو ثروت مند بنایا۔
رابندر ناتھ ٹیگور نے اپنی تخلیقات کے ذریعے بنگلہ زبان و ادب کو عالمی سطح پر متعارف کرایا۔ انھوں نے اپنے مجموعہ کلام ’گیتانجلی‘ کا انگریزی میں ترجمہ کر کے مغربی دنیا میں بھی اپنی انفرادی حیثیت قائم کی۔ ان ہی خصوصیات کی بنا پر انھیں نوبل پرائز جیسا عالمی انعام حاصل ہوا۔
ٹیگور نے اپنے عہد کی زندگی، زمانہ اور ثقافت کے بدلتے ہوئے منظر نامے کی تلخیوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ انھوں نے اپنے مشاہدے اور غور و فکر سے ایسے ادب کی تخلیق کی جو عصری شعور سے ہم آہنگ ہے۔ ان کی تخلیقات کو سامنے رکھ کر انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے اوائل کی سماجی وسیاسی، معاشی اور تہذیبی تاریخ مرتب کی جاسکتی ہے۔
ان کے یہاں حقیقی ہندوستان نظر آتاہے۔ انھوں نے ہندوستان، ہندوستانی عوام کی زندگی اور مسائل کی تصویر کشی کی ہے۔ ٹیگور نے افسانوی ادب کو ایک نئی جہت، نئی فکر اور نیا انداز بیان عطا کیا۔ نفسیاتی الجھنوں اور معاشی مسائل کا اظہار ملتا ہے۔
بچوں کی نفسیاتی خصوصیات کو اپنے افسانوں کا مرکز بنا کر انھوں نے اپنے فن کو ایک نئی جہت عطا کی۔ فن اور تکنیک کے حوالے سے تجربے بھی کیے خواہ وہ موضوعات کی سطح پر ہوں یا ہیئت اور تکنیک کی سطح پر۔ ان کے یہاں تکنیک میں کئی ایسے نئے تجربے کیے گئے جو دوسرے افسانہ نگاروں سے بالکل مختلف ہیں۔ ٹیگور اس وقت کی سیاسی اور سماجی ہنگامہ خیزیوں سے ایک ساتھ ایک ہی طرح متاثر ہوئے۔ ٹیگور نے نہ صرف اپنے ملک کی زبان کے ادب کو مالا مال کیا بلکہ دنیا کی دوسری زبانوں کے عظیم ادبیوں کو بھی متاثر کیا۔ فنی نقطہ نظر سے ہندوستانی ادب کو عالمی ادب کی برابری کے قابل بنایا، جس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ جہاں ایک طرف ہندوستانی قوم کے مزاج، مسائل اور مصائب پر ان کی گہری نظر تھی وہیں عالمی ادب کے فنی اقدار، مزاج اور معیار کے نمونے بھی ان کے سامنے تھے۔ وہ ادب کے ذریعے عوامی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے کوششیں کرتے رہے۔
رابندر ناتھ ٹیگور کے افسانوں کے متعلق کوئی بھی گفتگو ان کے پس منظر کو جانے بغیر نتیجہ خیز نہیں ہو سکتی۔ اس لیے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اس عہد کے مختلف تصورات کا اجمالی جائزہ پیش کر دیا جائے۔ ٹیگور کے عہد میں ملک کی اجتماعی زندگی عجیب دور سے گزر رہی تھی۔ سیاسی، سماجی، مذہبی اور معاشرتی صورت حال بد سے بدتر ہو رہی تھی۔
ٹیگور نے جب اپنا تخلیقی سفر شروع کیا تو انگریزی تہذیب شہری زندگی میں داخل ہو چکی تھی۔ قدیم طرز معاشرت کے بطن سے جدید تہذیب جنم لے چکی تھی۔ راجہ رام موہن رائے کی نئی طرز فکر کے ساتھ ہی بنگال میں جدید رجحانات کی داغ بیل پڑ چکی تھی۔
ٹیگور کے افسانوں میں اس عہد کے مختلف رجحانات کا اثر نظر آتا ہے۔ ان میں انیسویں صدی کی اصلاحی تحریکوں کے دور رس اثرات کے ساتھ ساتھ بیسویں صدی میں شروع ہونے والی سیاسی سرگرمیوں اور ہندوستانی قومیت کے تصور کی جھلک بھی دیکھنے کو ملتی ہے۔ ان کی کہانیاں تغیرپذیرمعاشرے کا نمونہ پیش کرتی ہیں۔ انھوں نے فلسفیانہ لغزشوں سے پر ہیز کیا ہے۔ ان کا وہ انداز جس کے ذریعے وہ اپنے کرداروں کو نمائندہ بناتے ہیں، وہ بنگالی معاشرے میں پوری طرح جذب ہوجاتاہے۔ ان کی کہانیاں اس دور کے رسم و رواج اور سماجی قوانین کی بخوبی وضاحت کرتی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی یہ اس دور کی ہندوستانی تاریخ کو سمجھنے میں ہماری مدد کرتی ہیں۔ وہی دور جس میں ’مہاتما گاندھی ‘نے انھیں ’گرو د یو‘ یعنی ’روحانی رہنما‘ کا خطاب دیا تھا۔ جس طرح ٹیگور نے تقریباً 66 سال کے عرصے تک قلم کے ذریعے پر اثر حکمرانی کی، وہ دور متوسط طبقے کے لیے نہایت ترقی یافتہ دور تھا۔
ماہیت، تناسب اور موضوع کے اعتبار سے ٹیگور کے افسانوں کی مختلف قسمیں ہیں۔ عشق و محبت سے لے کر بھوت پریت تک ان کے افسانوں کے موضوع رہے ہیں۔ فنی اعتبار سے ٹیگور کے افسانے صاف ستھرے اور بے عیب ہیں ان کا مقابلہ کسی بھی زبان کے بہترین افسانوں سے کیا جاسکتا ہے۔ شاعری اور گیتوں کی طرح ٹیگور نے آخری دنوں تک افسانے بھی لکھے۔ ان کے افسانوں کا بغور مطالعہ کرنے پر ان کے فنی ارتقا کے مختلف مدارج اور فرق کا تعین کیا جا سکتا ہے۔ ٹیگور کے 9 افسانوی مجموعے شائع ہوئے ہیں جن میں ہر طرح کے افسانے شامل ہیں۔
ٹیگور کے افسانے نئے پیشہ وارانہ طبقے اور سماج کی جاگیردارانہ ساخت کی تنزلی کے گواہ ہیں۔ صنعتی نظام، نقل و حمل، ترسیلی ابلاغ و ذرائع کی ترقی نے طبقہ، فرقہ، اور مذہب کی درمیانی خلیج کو کسی حد تک عبور کیا تھا۔ سیاسی، معاشی اور تہذیبی اثرات سے ٹیگور بھی محفوظ نہ رہ سکے، انھوں نے سماجی، سیاسی اقتصادی، رومانی، اور مافوق الفطری جیسے تمام موضوعات پر کہانیاں لکھیں۔ لیکن زیادہ تر کہانیوں میں سماجی مسائل کو پیش کیا ہے۔ ان کے اہم موضوعات میں دیہاتی اور شہری زندگی کے عناصر کے مابین کشیدگی، انگریزی تعلیم کی قدروں کو غلط استعمال کرنے کا رجحان، قومیت کے ہنگامی حالات کا اثر، اور بنگالی عورتوں کی گومگو والی کیفیات جن کے ساتھ رسم و رواج کے نام پر ناروا سلوک کیا جاتا تھا اور جو،اب نئے طوفان کے اثر سے بنگلہ گھروں کے لیے خطرہ بن چکی تھیں، زیادہ اہمیت کے حامل ہیں۔
جب ان کاافسانہ’گھٹیرکتھا‘(گھاٹ کی باتیں) شائع ہوا تو اس وقت وہ مشرقی بنگال میں خاندانی زمین کی دیکھ بھال کے سلسلے میں مصروف تھے۔ وہاں بنگالی کسانوں کے معمولات کا ہمدردانہ مشاہدہ، دیہات کے موسم، وہاں کے لوگوں کی طبیعت اور ان کے مزاج سے قریبی تعلقات نے ادبی نگارشات کے لیے مواد فراہم کیا۔ پرماندی پر سنہری کشتی پر سوار ان کی سیاحت کا اصل مقصد اگر چہ جائداد کی دیکھ بھال تھا لیکن جہاں جہاں وہ رکتے، رعایا سے ملتے، ان کی درخواستیں سنتے، ان کی شکایات کو دور کرنے کی کوشش کرتے، اس طرح وہ گاؤں کے لوگوں کی زندگی سے بہت قریب ہو گئے۔ رابندر ناتھ ٹیگور پہلے ایک شاعر تھے بعد میں افسانہ نگار۔ حقیقت میں وہ ایک رومان پسند فن کار تھے۔ بچپن ہی سے انھیں فطرت سے قلبی لگاؤ تھا۔ ان کے تمام ادبی کارنامے فطرت کے حسین وجمیل مرقعوں سے پر ہیں۔ ٹیگور اوائل عمری میں اپنے والد کے ہمراہ سفر ہمالہ میں حسن قدرت سے مسحور و متاثرہوئے۔ اس سفرمیں انھیں قدرتی مناظر دیکھنے کا موقع ملا اور ٹیگور کو نہایت فرحت و مسرت حاصل ہوئی۔ اس کے بعد یہ جادو برابر اثر کرتا رہا انھوں نے ابتدا سے ہی نیچر کو مادر شفیق سمجھا اور اسی کی آغوش محبت میں دینی پرورش اور روحانی تربیت پائی۔
ان کے افسانوں میں مناظر قدرت، اور فطرت انسانی کی مختلف النوع کیفیات کااظہارملتاہے۔ صرف انسانی زندگی ہی نہیں، انھیں فطرت میں منعکس زندگی سے بھی پیار تھا۔ فطرت ان کی نظر میں بذات خود ایک جانداروجودہے۔ حسن فطرت کی پرستش اوراس کی نیرنگیوں کا محاکاتی مطالعہ ٹیگور کے فن کی جان ہے۔ فطرت ان کے آرٹ میں بے جان نہیں، ذی روح حساس اور کہیں کہیں باشعور نظر آتی ہے۔
ٹیگور نے پوری کائنات سے ایک تعلق خاطر قائم رکھا ہے۔ انھوں نے سمندر کے سکوت سے ہم کلامی کی تھی۔ انھوں نے اپنے افسانوں میں پہاڑوں اور رات کی تاریکیوں سے سرگوشی کی ہے۔ اپنی یادداشت پیش کرتے ہوئے جہاں کہیں بھی موقع ملا ہے اس طرح کے مناظر پیش کیے ہیں:
’’اس وقت رات بھیگ چکی تھی۔ سمندر کی لہریں ساکت ہوچکی تھیں۔ اورجھاؤں کی جھاڑیوں کی سرسراہٹ بالکل تھم چکی تھی۔ سمندر کے ساحل پر پھیلی ہوئی ریت پردرختوں کے سائے بے حس و حرکت تھے۔ نیز شفق پر نیلے پہاڑی سلسلے امبر تلے خاموش تھے۔ اس کھلے اجلے پن اور گہری خاموشی کے درمیان ہم کئی لوگ اپنی سیاہ پر چھائیوں کے ساتھ خاموشی سے چلتے رہے۔‘‘
ٹیگورسے پہلے مناظرفطرت کوافسانے میں خوبصورتی کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ لیکن ٹیگور نے انھیں انسانی جذبات و احساسات کے اظہار کی زبان دی۔ چاند کو انسان کاراز دار اور غمگسار دوست بنایا، ندی کو ایک رقاصہ سے تشبیہ دی، چاندنی کو کہیں غشی کی حالت میں دکھایا تو کہیں سناٹے کی چادر اوڑھے ہوئے ایک وداع ہوتے ہوئے مہمان کا نام۔ الغرض فطرت کے ان حسین نظاروں کے ذریعے انھوں نے اپنے کرداروں کی نفسیات کا اظہار کیا ہے۔ اور ان کے جذبات کی ترجمانی کے لیے ان کا موزوں استعمال کیا ہے۔
ٹیگور کا تخیل انتہائی وسیع ہے۔ مناظر فطرت کی عکاسی اور جذبات کی مصوّری ٹیگور کا خاص حصہ ہے۔ وہ ہر طرح کے انسانوں اور مختلف انسانی جذبات کی کیفیات کو اسی طرح اپنا لیتے ہیں اور ان میں شاعرانہ جوش وخروش اس طرح بھر دیتے ہیں، گویا وہ ان کا ہی حصہ ہو۔ عورتوں کی مزاج شناسی اور ان کے جذبات کے اظہار میں ٹیگور کو خاص ملکہ حاصل ہے۔ ان کے بہت سے ایسے افسانے ہیں جن میں عورتوں کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے وہ نسوانی فطرت کی تہ تک پہنچ گئے ہیں۔ ان کا تخیل فطرت انسانی پر اتنا حاوی ہے گویا اپنی شخصیت ان لوگوں کی شخصیت میں تحلیل کر دی ہے۔ ان کی وسیع نظر ان کی جذ بہ شناسی،اور ہمدردی ہمہ گیر ثابت ہوئی۔ انھیں غریب کا شتکاروں کی اس سپاٹ اور سادہ زندگی سے بھی سابقہ پڑا جس میں تکلف اور تصنع نہیں تھا۔ جھونپڑوں میں انھیں غریبی اور امیری کی وہ نمایاں تفریق نظر آئی، جو وہ پہلے محسوس نہیں کر سکے تھے۔ ان کی کہانیوں، اشعار اور خطوط سے اندازہ ہوتا ہے کہ ٹیگور پہلے تصورات کی دنیا میں تھے۔ لیکن شیلائی پہنچنے کے بعد حقیقت کی دنیا میں آگئے۔
ٹیگورکے ابتدائی دورکے افسانوں میں قدیم مشرقی تمثیلی اور تخیلی انداز نمایاں نظر آتا ہے۔ اس نوع کے افسانوں میں’انار کلی‘، ’ہڈیوں کا پنچر‘ (Skeleton) وغیرہ قابل ذکر ہیں۔’انار کلی‘ تاریخی واقعے کے پس منظر میں لکھا گیا افسانہ ہے۔ یہ عہد مغلیہ کے اس دور کی کہانی ہے جب ہندوستان کے تخت شاہی پر اکبر اعظم کی حکومت تھی۔ اس کا موضوع محبت، رومان اور اصولوں کے درمیان کشمکش اور اختلاف ہے۔ سلیم اور انار کلی کی لازوال عشقیہ داستان کا مرکزی کردار شہزادہ سلیم ہے۔ جو اپنے دربار کی ایک کنیز انارکلی کی محبت میں گرفتار ہو جاتا ہے۔ جب شہنشاہ اکبر کو اس کا علم ہوتا ہے تو وہ انار کلی کو اذیتوں اور ظلم کا نشانہ بناتا ہے اور اپنے بیٹے کو آگاہ کر دیتا ہے کہ ایک کنیز کسی بھی طرح تخت شاہی کی ملکہ نہیں بن سکتی۔اس میں قصہ گوئی کا بیانیہ انداز ہے۔ انار کلی کا کردار اس افسانے میں دلکش اور موثر ہے۔ اس کے ذریعے ٹیگور نے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ محبت جب اپنے اعلی ترین پیکر یعنی ایثار و قربانی کے روپ میں ظاہر ہوتی ہے تو امر ہو جاتی ہے۔
’ ہڈیوں کا ڈھانچہ‘ بظاہر ایک تخیلی افسانہ ہے لیکن ٹیگور نے اسے آپ بیتی کے انداز میں لکھا ہے۔ بچپن میں وہ جب علم طب سیکھ رہے تھے تو انسانی ہڈیوں کا ایک ڈھانچہ اکثر ان کے زیر مطالعہ رہتا تھا اسے دیکھ کر انھیں اس انسان کا خیال آتا جس کی وہ ہڈیاں تھیں، اور وہ سوچتے کہ انسانی روح جوان ہڈیوں سے جدا ہو گئی ہے شاید کبھی اپنے پرانے مکان کو دیکھنے آجاتی ہو، اچانک ایک رات ایسا ہی ہوا۔ وہ روح آگئی اور اس نے اپنی مادّ ی زندگی کی مکمل روداد سنائی۔ اسے اپنے بے پناہ حسن پر کتنا ناز تھا، اپنے قدرشناس شوہر کی موت سے وہ کتنا خوش ہوئی، اور پھر کیسے اس نے ایک خوش رو ڈا کٹر ستیش کمار سے والہانہ عشق کیا اور جب عشق میں ناکامی ہوئی تو اس نے عین اس روز جب ستیش کمار کی شادی ایک دوسری لڑکی سے ہونے والی تھی اسے زہر دے دیا اور خود بھی زہر کھا کر اپنے ہی ہاتھوں انجام کو پہنچی۔
ٹیگور کے افسانوں کو تاریخ کے لحاظ سے مختلف ادوار میں تقسیم کیا جائے تو ان میں مختلف موضوعات کے علاوہ اس زمانے کی حقیقی تصویر کی جھلک بھی دکھائی دے گی۔ ٹیگور کا پیغام بنگال کے دیہاتی اور شہری لوگوں کی فطرت کے درمیان خلاکو پر کرنے کا پیغام ہے۔ جن لوگوں کا معیار زندگی پست ہے، جو شہری زندگی سے کوئی رابطہ نہیں رکھتے، مہذب لوگوں کی نظر میں ان کی کوئی عزت نہیں رہتی اور رئیسوں کے تعلیمی رجحان کے پر فریب خیال سے ٹیگوربہت پریشان رہا کرتے تھے۔ وہ پر مسرت آزادی کا احساس جس کے ذریعے بہت سارے بنگالی نوجوانوں نے انگریزی تعلیم کو خوش آمدید کہا لیکن تعلیم کا غلط استعمال کر کے اپنی پرانی جگہ بھی چھوڑ دی۔ ٹیگور کے تین افسانے ایسے ہی مختلف لہجوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔’پرائشچت‘ (1896)،’را شمنی کا لڑکا‘ (1910)، ’تپسوی‘ (1916)۔ یہ تین افسانے تعلیمی نظام کے ذریعے پیداہونے والے تصادم سے تعلق رکھتے ہیں۔
’راشمنی کا لڑکا‘ افسانے میں ایک دولت مند خاندان کی ایک مفلس شاخ اپنی شرافت قائم رکھنے کے لیے جس طرح تکلیف دہ جد و جہد کرتی ہے اس کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ وہ تعلیم حاصل کرنے کلکتہ جاتا ہے۔ وہاں بھوکا پیاسا رہ کر اندھیری سیلن زدہ کوٹھری میں تعلیم حاصل کرتا ہے۔ اور تنگ دستی کی وجہ سے اپنے والدین کو اپنی ضرورتوں اور بیماری سے بھی لاعلم رکھتا ہے۔ بیماری نے بڑھ کر خطرناک شکل اختیار کر لی اور جب تک اس کے والدین آئے اس کا افسانہ زندگی ختم ہو چکا تھا۔ اسی طرح افسانہ ’تپسوی‘ کا ’برودہ‘ بھی پرائشچت کے انا تھ بندو کی طرح انگریزی تعلیم حاصل کرنے کا خواہش مند ہوتا ہے لیکن دوبارہ امتحان میں نا کام ہونے کی وجہ سے گھر سے غائب ہو جاتا ہے۔ کچھ دنوں کے بعد اس کے سادھو بننے کی خبر ملتی ہے۔ برودہ اپنی بیوی کو چھوڑ جاتا ہے جو اپنے شوہرکے خواب کو پورا کرنے کے لیے خود بھی جو گن بن جاتی ہے۔ بارہ سال کے بعد اس کا شوہر واپس آتا ہے، لیکن مغربی لباس میں اور ایک انگریزی واشنگ مشین کا سیلز مین بن کر۔ افسانہ اس جگہ ختم ہو تاہے جہاں وہ اپنی جیب سے ایک فہرست نکال کر پیش کرتا ہے۔ ان افسانوں میں ٹیگور نے یہ دکھانے کی کوشش کی ہے، کہ دولت کے ذریعے انگریزی تعلیم حاصل کرنے کا وہم ہی جدت پسند اور روایت پسندی کے درمیان تصادم کی وجہ ہے۔
رابندر ناتھ کا کمال یہ ہے کہ انھوں نے مافوق الفطری عناصر کے ذریعے کہانی میں ایسے موضوعات پیش کیے ہیں جو پر اسرار اور غیر یقینی ہوتے ہوئے بھی اس دور کی سماجی زندگی کے رسم ورواج اور عقائد کی عکاسی کرتے ہیں۔ ٹیگور کا ایک اور وصف ہے۔ انھوں نے افسانوں میں پہلی دفعہ غرباکو مناسب مقام دیا، علاوہ ازیں حالات اور ماحول کا عکس دکھائی دیتا ہے، ان پر جو تصورات اور احساسات غالب تھے ان کا پتا چلتا ہے۔
ٹیگور کو فنون لطیفہ سے روحانی لگاؤ تھا۔ ان کا مطالعہ وسیع اور مشاہدہ بے حد عمیق تھا۔ وہ ادب کے تمام نکات ورموز سے واقف تھے۔ ان کے فکشن میں حسنِ ترتیب، توازن اور واقعات میں فطری ربط ہے۔ فضا، ماحول، مکالمہ بلکہ جزئیات کا بیان بھی نہایت دلکش ہے۔ لیکن جو چیز ان کے افسانوں میں سب سے زیادہ نکھر کر آئی ہے وہ کردار نگاری ہے۔ ان کے افسانوں کے بیشتر کر دار فعال اور متحرک ہیں جو اپنے اعمال وافعال کا قاری کے ذہن پر دیر پا اور بھر پور تاثر ثبت کرتے ہیں۔ ٹیگور نے انسانی فطرت کو بے نقاب کر کے رکھ دیا ہے۔ 1918میں جب شانتی نکیتن کو ’وشو بھارتی‘کے بطور بین الاقوامی تعلیمی ادارے کی شکل عطا کی گئی تو ٹیگور نے اس کے قیام کے مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھا تھا:
’’ہندوستان کو دنیا سے سچے اور صحیح رشتوں کے ساتھ جوڑنا ہوگا۔ انسانیت دنیا کی تمام سچائیوں سے بڑی حقیقت ہے۔ ہندو، بدھ، سکھ، عیسائی، اور مسلمان ہر نسل و مذہب اپنے اپنے مذہبوں کی عظیم روایات رکھتے ہیں اور یہ سب الگ الگ دھارے آگے بڑھتے ہوئے ایک دھارے میں بدل جاتے ہیں۔سب لوگوں کو حق ہے کہ وہ سچائی کی تلاش میں جس میں انسان مصروف ہے،شامل ہو جائیں مشرق و مغرب میں کوئی فرق نہ ہو۔ ’’وشوا بھارتی‘‘ ہی ایسی جگہ ہوگی جہاں حق کی یہ جستجو ہندوستان کو دنیا کے بقیہ حصوں کے ساتھ منسلک کر دے گی۔ ‘‘
ٹیگورکو مطالعے کاحد درجہ شوق تھا اور یہ مطالعہ نہایت متنوع اور ہمہ پہلو تھا۔ انھوں نے بنگلہ کے علاوہ سنسکرت، اردو اورانگریزی ادبیات کا عمیق مطالعہ کیا تھا۔ ان کے ذاتی کتب خانے میں ادب، تاریخ، فلکیات، طب، ارضیات، کیمیا سے لے کر دیہی معاشیات، امداد باہمی، بنگ کاری کے ساتھ ریشم کے کیڑوں کی افزائش، تیل اور برتن سازی، چرم سازی، نقاشی، پکوان، سرک سازی، وغیرہ سے متعلق کتابیں موجود تھیں۔ انھوں نے ان کتابوں کا مطالعہ محض وقت گذاری کے لیے نہیں، بلکہ اپنے ذہنی افق کو وسیع تر کرنے کے لیے کیا۔ ان کے اندر مختلف چیزوں کو جاننے اور محسوس کرنے کا فطری داعیہ موجود تھا اور ان کے مطالعے کا تنوع ان کے اس فطری رجحان کی غمازی کرتا ہے۔ شاعری کی طرح ٹیگور کے افسانے بھی فطرت کے نغموں سے معمور ہیں۔ ان کی نگاہ میں فطرت کوئی مردہ، بے جان، ساکت چیز نہیں بلکہ زندگی کی حرارت سے متحرک ہے اور اس کے مختلف مظاہر میں انسانی صفات شامل ہیں۔ انھوں نے موسم کو رقص کرتی خواتین لکھا اور اوس پر چمکتی کرنوں کو سورج سے آنے والا محبت کا پیغام قرار دیا۔
ٹیگور کے افسانوں کے مرد کرداروں کو بھی مختلف روپ میں پیش کیا گیا ہے۔ ایک طرف ہم تن تنہا پوسٹ ماسٹر کو دیکھتے ہیں، تو دوسری طرف ندا کشور کی شکل میں ایک عملی شخص کو۔ ٹیگورجس عہدمیں پیداہوئے اس وقت مغربی تہذیب نے ہندوستانی زندگی کے پرسکون سمندر میں ایک تموج پیدا کر دیا تھا۔ جس سے ہر طرف بیداری کی ایک لہر دوڑ گئی تھی۔ بیداری کی یہ لہر سب سے پہلے بنگال میں پیدا ہوئی۔ کلکتہ اور اس کے نواح میں نہ صرف تاجر اور فوجی افسران آئے بلکہ منتظمین، عیسائی مبلغین، اور سب سے زیادہ ایسے مبلغین آئے جو اپنے فن میں کمال رکھتے تھے۔ان میں برطانیہ کے علاوہ فرانس، ہالینڈ، اور یوروپ کے دوسرے ملکوں کے لوگ بھی شامل تھے۔ اس کے ابتدائی اثرات ہندوستانیوں نے قبول کیے اور اہل علم نے یوروپ کی تقلید کو اپنا شعار بنایا۔ لیکن آہستہ آہستہ یہ اثرات زائل ہونے شروع ہوئے۔ پھر بھی مغربی تہذیب نے زندگی کے جو نصب العین پیش کیے تھے وہ اب بھی سامنے تھے۔ اس کے ساتھ ہندوستان کے ماضی کی قدریں بھی روز بہ روز اجاگر ہوتی جا رہی تھیں۔ ٹیگور کا ایک امتیاز یہ بھی ہے کہ انھوں نے جدید تہذیب کے مطالبات کو قدیم ہندوستانی اور عہد وسطی کی قدروں کو ترک کیے بغیر قبول کیا اورجوان روایات سے ہٹ گئے اور مغربی روایات کو قبول کر لیا، انھوں نے اپنی بنیادوں کو کھوکھلا کر دیا۔
رابندر ناتھ ہر کام کوبہترانداز سے کرناچاہتے تھے۔ اس کے لیے وہ خود محنت اور جد و جہد کرتے اور دوسروں کو بھی اس کی تلقین کرتے۔ ان کی زندگی جب کسی ہموار دور سے اطمینان کے ساتھ گزرنے لگتی، تو وہ ایسا محسوس کرتے جیسے مقید ہو گئے ہوں۔ پھر وہ اسے چھوڑ کر ایک ایسے نئے راستے پر نکل پڑتے جہاں ان کی قوت تخلیق و اختراع کو اظہار کا موقع ملتا۔
وطن پرستی اور قومی شعور ٹیگور کو ورثے میں ملا تھا۔ سودیشی تحریک سے بھی ان کی وابستگی رہی۔ ٹیگور نے اپنی زندگی اور اپنے ادب کو محض قومیت تک محدود نہیں رکھا بلکہ ان کی فلسفیانہ بصیرت سے دیار ہند میں جس نشاۃ الثانیہ کی شروعات ہوئی اس نے ملکوں اور سرحدوں کے فاصلے مٹادیے۔
رابندر ناتھ ٹیگور کی تخلیقات بین الاقوامی سطح پر پسندیدگی کی نظر سے دیکھی گئیں اور انھیں آفاقی شہرت بھی حاصل ہوئی۔ اس کے باوجودان کی تخلیقات ہندوستانی عناصر کی بھینی بھینی خوشبو اور قومی جذبے سے سرشار ہیں۔ ٹیگور نے جو کردار تخلیق کیے ہیں وہ انتہائی معمولی درجے کے عام انسان ہیں لیکن ان کے حرکات و سکنات، غموںاور خوشیوںسے غیرمعمولی بصیرت کا انعکاس ہوتا ہے۔ راجہ رام موہن رائے اور برہمو، سماج کی تعلیمات نے بھی ان کو متاثر کیا تھا۔ ان تعلیمات کے زیر اثر ان کے خیالات اور فکر میں وسعت پیدا ہوئی اور انھوں نے مغربی تہذیب کی اچھائیوں کو اپنانا ضروری سمجھا۔ انگریزوں کی آزادہ روی نے بھی ٹیگور کو بے حد متاثر کیا تھا۔ وہ یوروپ کے اعلیٰ تمدن اور اور بے شمار سائنسی ترقی کی تحسین کرتے تھے۔ انگریزوں کے ذریعے لائی ہوئی نئی تہذیب اور نئے علوم وفنون سے مستفید ہونے کی ترغیب دیتے تھے۔ انگریز مصنفوں خاص کر’ورڈس ور تھ‘ اور’شیلی‘جیسے شاعروں کی تخلیقات بھی انھیں پسند تھیں کیوں کہ ان میں انسانی محبت، انصاف اور انسان کی آزادی جیسے موضوعات سب سے زیادہ نمایاں ہیں۔
رابندر ناتھ ٹیگور کبھی سیاست داں نہیں رہے لیکن وہ ایک سیاسی مفکر ضرور تھے۔ ان کی حب الوطنی الگ نوعیت کی ہے۔ انسانیت کے لیے ان کے دل میں محبت کا جو جذبہ تھا اس نے انھیں اپنے ملک اور قوم سے بھی محبت کرنا سکھایا۔ افسانہ نگار بہر حال ایک فنکار ہوتا ہے اور اس لیے ان کی کوئی فنی تخلیق ان کی شخصیت کی رنگ آمیزی سے خالی نہیں ہو سکتی ہے۔ اس کے مصداق ان کے افسانے ہیں جن میں ان کی زندگی کے حالات و حوادث کے نقوش بھی ملتے ہیں۔
ٹیگور کے افسانوں کے پلاٹ بنگال کے ماحول سے ظہور میں آتے ہیں۔ بنگال کی دل موہ لینے والی ہریالی، ندی، پہاڑ، وادی، جنگل، چشمے، درخت، پرندے، موسم، ہوا، کشتی،کھیت، مزدور اور ملاح ان کے افسانوں میں روح ڈال دیتے ہیں اور ان کے دل و دماغ کی صداقت ان میں اثر پیدا کر دیتی ہے۔ سیکڑوں ایسے واقعات کو وہ افسانوں کا موضوع بناتے ہیں اور ان میں حقیقت کا رنگ بھر کر اپنی تخلیقی صلاحیت سے سحر آفرینی پیدا کر دیتے ہیں۔
ٹیگور نہ صرف فطرت کی رعنائیوں سے خود لطف اندوز ہوتے بلکہ اس میں دوسروں کو بھی شریک کرنا چاہتے تھے۔ ان کے افسانوں میں بھی وہی انفرادی حسن، فکر و نظر کی تازگی اور شاعرانہ حسن کاری ہے جو شاعری اور دوسری اصناف میں ان کی جمال آفریں شخصیت کے افسوں سے روح بن کر دوڑتی ہے۔
ٹیگور حق بینی اور حق شناسی سے کام لینے والے فنکار تھے، زندگی کو وہ حقیقی نقطہ نظر سے دیکھنے کے عادی تھے۔ وسیع القلب، بیدار مغز اور کشادہ فکر و نظر کے مالک تھے۔ وہ ایک ایسے ملک و معاشرے کی تشکیل چاہتے تھے جس میں انسان آزاد ہو، نہ کوئی ظلم کرنے والا ہو اور نہ کوئی ظلم سہنے والا ہو۔ ان کے یہاں مساوات انسانی کا مرتبہ سب سے مقدم ہے اور سماج کو تمام برائیوں سے پاک ہونے کی آرزو کرتے ہیں، جس میں نہ کسی قسم کی لوٹ ہو اور نہ بدعنوانی۔ یعنی ایک معمولی غریب بھی خوشحال زندگی بسر کرے۔
غرض کہ ٹیگور کے افسانوی ادب نے ملک کی ہر زبان کے فن کاروں اور ادیبوں کو شدت سے متاثر کیا ہے۔ ناول ہوں یا افسانے رابندر ناتھ نے ہمیں جونئی چیز دی ہے وہ عوام کی زندگی اور ان کے روز مرہ مسائل کی حقیقت پسندانہ عکاسی ہے۔ ٹیگور سے پہلے ہمیں ناولوں اور افسانوں میں زمیندار ، رئیس اور راجے مہارا جے ملتے ہیں لیکن کہیں کوئی عام آدمی کا کردارا بھر کر نہیں آتا۔ کسی کسان یا مزدور کا ذکر نہیں آتا۔ ٹیگور نے ہمیں ایسے لوگوں کی زندگی سے پہلی بار آگاہ کیا۔ ان کے کئی افسانوں میں شہزادیاں اور بنگال کی دیہاتی لڑکیاں ایک دوسرے کے شانہ بہ شانہ کھڑی دکھائی دیتی ہیں۔ ٹیگور کے افسانوں کا کمال یہ ہے کہ اس میں ایک طرف اعلیٰ خاندانوں کے افراد کو او ردوسری طرف نچلے اور غریب طبقے کے لوگوں کو جگہ دی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوام وخواص میں ان کے افسانے یکساں طور پر مقبول ہوئے۔

Siraj Anwar Md. Miran
Plot. No: 10 Near Sana School
Chaitantaya Nagar Taroda (BKD)
Nanded- 431605 (Maharashtra)
Mob.: 9021745378
sirajanwr98@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

شمس الرحمن فاروقی کے افسانے : ہند ایرانی تہذیب کابیانیہ ، مضمون نگار: محمد ارشد

اردو دنیا،نومبر 2025 شمس الرحمن فاروقی نے ادبی دنیا میں نقاد اور جدیدیت کے بنیاد گزار کی حیثیت سے اپنی منفرد شناخت قائم کی۔ افسانے اور ناول کی شکل میں

اقبال مجید کی افسانہ نگاری کا تخلیقی تجزیہ،مضمون نگار: ریاض توحیدی کشمیری

اردو دنیا،دسمبر 2025: ’’تخلیقی عمل کی طرح تخلیقی مطالعہ بھی ہوتا ہے۔‘‘ (آرڈبلیو ایمرسن) تخلیقی کام جتنا معیاری ہوگا اتنا ہی اس کا تجزیہ تخلیقی نوعیت کا ہونا چاہیے کیونکہ

حسین الحق کی ناول نگاری ،مضمون نگار:زبیدہ نسیم

اردو دنیا، مارچ 2026: جدیداردو ناول نگاروں میں حسین الحق ایک ممتاز حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کا شمار 1960 کے بعدآنے والے فکشن نگاروں کی صف میں ہوتاہے۔ انھوں نے