اردو دنیا، مارچ2026:
وادی کشمیر میں اردو ادب کی آبیاری کرنے میں جہاں شعرانے اپنے جوہر لطیف سے نگارشات عالیہ میں ا ضافہ کیا ،وہیں شاعرات نے بھی اپنے قمیتی جواہر پاروں سے ادب کو مالا مال کیا ہے۔ یہاں کے ادبی ماحول میں اردو کے بڑے بڑے شاعر پیدا ہوئے جن میں یقینی طورپر اگرچہ اردو شاعرات کی تعداد کم ہے لیکن اس کم تعداد نے ہی اردو ادب میں اپنی شناخت کو یقینی بنایا۔شاید زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں جس میں عورت کا عمل دخل نہ ہو۔ انھوں نے فن کی پختگی اور خلوص وصداقت کے ساتھ اپنے تجربات،مشاہدات اور احساسات کا اس طرح اظہار کیاجسے واردات قلبی کی سچی ترجمانی کہا جاسکتا ہے۔ یہ بھی ایک سچ ہے کہ خاتون ادیبوں کو پہلے اتنی فکری صلاحیت اور آزادی حاصل نہیں تھی کہ وہ اپنی فنکارانہ صلاحیتوں کا برملا اظہار کر سکیں۔لیکن اس کے باوجود بھی ان کی جولانی طبع کے انتہائی نفیس اور اعلیٰ درجے کا ادب وجود میں آیا ہے۔ اردو غزل جسے ہر زمانے میں لعن طعن کا نشانہ بنایا گیا،لیکن یہاں کی شاعرات نے اردو شاعری میں اپنے فکری اثاثے سے ادب میں نئے زاویے تراشے ہیں۔ کشمیر میں جہاں تک اردو غزل کا تعلق ہے یہاں کی پہلی شاعرہ زینب بی بی معجوب کو تصور کیا جاتاہے۔ ان کا شعری سرمایہ ’’گلبن نعت‘‘ کے نام سے شائع ہوا جس میں غزلوں کے علاوہ حمد،نعت اور منقبت پر بھی تذکرہ ملتا ہے۔ یہاں یہ کہنا ضروری معلوم ہوتاہے کہ کچھ محققین نے انھیں ریاست جموں وکشمیر میں اردو کی پہلی غزل گو شاعرہ کے طور پر یاد کیا ہے اوریہ بڑی حدتک درست ہے۔
یہاں اس بات کاتذکرہ کرناضروری معلوم ہوتا ہے کہ ریاست جموں وکشمیر کے لوگ ہندوستان کے مختلف شہروں میں روزگار،تجارت اور دیگرضروریات کے لیے سفر کرتے رہے۔ لیکن کچھ حضرات تجارت اور روزگارکے لیے بہت مدت تک کچھ شہروں میں آبادہوکر رہ گئے۔لیکن اس کا ہرگزیہ مطلب نہیں کہ تجارت کے سلسلے میں کسی شہر میں رہ کر وہ وہاں کا مستقل شہری بن گیابلکہ حقیقت کچھ اور ہے۔ اسی تجارت کے سلسلے میں شہرسرینگر کاایک خاندان راجستھان کی راجدھانی جے پور جاکر شال وغیرہ کا کاروبار کرنے کے لیے مقیم ہوا۔ مختلف محققین کا خیال ہے کہ وادی کشمیر میں اردو غزل کانام جس صاحب فہم اور روشن خیال شاعرہ پر جاتا ہے وہ شہزادی کلثوم ہی ہے۔ شہزادی کلثوم اردو ادب میں بالخصوص جموں وکشمیر کے ادبی دبستان میں یگانہ روزگار تھیں۔ ان کا اصلی نام شہزادی کلثوم اور تخلص کلثوم تھا۔ ان کی پیدائش جے پور راجستھان میں ایک تعلیم یافتہ گھرانے میں 1928 میں ہوئی۔ دستور کے مطابق ابتدائی تعلیم حاصل کی لیکن1949میں محض اکیس سال کی عمر پاکرسرینگر میں انتقال کرکے اپنے حقیقی مالک سے جاملی ۔
یہاں یہ بات واضح رہے کہ کچھ محققین نے شہزادی کلثوم کو راجستھان کی شاعرہ قرار دیا ہے لیکن کشمیر کے کچھ محققین نے انھیں وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والی شاعرہ کے طور پر یاد کیا ہے۔اس سلسلے میں عبدالقادر سروری نے اپنی کتاب ’’کشمیر میں اردو‘‘میں اس بات کو ثابت کیا ہے کہ شہزادی کلثوم وادی کشمیر کی ایک اہم شاعرہ تھیں۔اس بات کی تصدیق مندرجہ بالا سطورسے خوب ہوجاتی ہے۔ جہاں ایک طرف راجستھان کے محققین انھیں جے پور کی شاعرہ مانتے ہیں لیکن اس ذیل میں شاہد احمدجمالی کاموقف زیادہ معتبرمعلوم ہوتا ہے:
’’1947 میں آپ بیمار ہوئیں۔ جب طبیعت سنبھل نہ سکی تو کشمیر کے شہر ِ سرینگر اپنے بھائی کے ہمراہ چلی گئیں۔ یہ شہر آپ کے بزرگوں کا قدیم شہر ہے۔ یہاں کی آب وہوا میں معمولی راحت ملی۔ دو سال کے اندر بیماری کی ہی حالت میں عینِ عالم شباب میں21سال کی عمر پاکر1949 میں وادیِ کشمیر میں انتقال کیا۔‘‘
(شاہد احمد جمالی،چند شاعرات راجستھان اور کچھ بھولے بسرے شعرا ،ص:35-34)
اس بات کی مزیدوضاحت بابائے جمالیات اور صدر شعبہ اردو کشمیریونیورسٹی ڈاکٹر شکیل الرحمٰن نے کی ہے۔ ان کاخیال ہے کہ:
’’شہزادی کلثوم ریاست جموں وکشمیر کی پہلی اردو شاعرہ ہیں اور شاید اس وقت تک آخری بھی۔ مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ انھیں ادبی ماحول اور ادبی محفلوں اور مشاعروں سے استفادہ کا کبھی کوئی موقع نہیں ملا۔‘‘
(یاد گارکلثوم1962،دیباچہ از ڈاکٹر شکیل الرحمن ،ص:15)
مندرجہ بالااقتباسات سے پتہ چلتا ہے کہ شہزادی کلثوم وادی کشمیر سے تعلق رکھتی تھیں۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو ڈاکٹر شکیل الرحمنٰ شہزادی کلثوم کے شعری مجموعے کے دیباچے میں کیسے اس بات کو درج کرتے کہ کلثوم وادیِ کشمیر کی پہلی غزل گو شاعرہ ہیں، جس نے بہت کم عمر پاکر اس دنیائے فانی سے کوچ کیا۔ان دلائل سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ شہزادی کلثوم کشمیر کی پہلی غزل گو شاعرہ تھیں جنھوں نے کم عمری میں ہی اپنا شعری مجموعہ تخلیق کیا۔عالم شباب میں انتقال کرنے کے باعث وہ اپنا شعری کلام شائع نہ کر سکی۔ شہزادی کلثوم کاشعری مجموعہ ’’یاد گار کلثوم‘‘ کے نام سے 1962 میں ان کے برادر اکبرنے مرتب کرکے شائع کیا۔
شہزادی کلثوم ادبی حلقوں میں ایک شاعرہ کے طورپرمتعارف ہوئیں۔انھوں نے زندگی کے قلیل عرصے میں شاعری کی اور شاید وباید محض پانچ سال تک اپنے خیالات وقلبی جذبات کی سچی ترجمانی کرتی رہی۔لیکن انہی پانچ سال کی مدت میں انھوں نے اردو غزل میں اپنے فنی نقطہ نظر سے ایک نیا انداز ایجاد کیا۔ ان کے مجموعہ کلام میں غزلیں،نظمیں،نعت اورمنقبت شامل ہیں۔ اردومیں ان کی پہچان ایک شاعرہ کے طورپرہے اور شایدان کی غزل گوئی کاپلڑاہی باقی کلام پربھاری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی غزلوں میں وہ تمام فنی وفکری لوازمات نظر آتے ہیں جو ایک کامیاب غزل گو شاعرہ کے کلام سے مطلوب ومقصودہیں۔ ان کی غزلوں میں جہاں فلسفہ تصوف، الہام اور آورد کا احساس ملتا ہے وہیں دوسری طرف زمانے کی نابرابری، دردوکرب، انتشار، موت،تقدیر، قسمت،عشق حقیقی ومجازی، استحصال اور انسان کی زبوں حالی پر غزلیں ملتی ہیں۔ ان کی غزل گوئی میں تشبیہات واستعارات کے ساتھ ساتھ نادر تلمیحات کا بھی خوب استعمال کیا گیاہے۔ان کے کلام کو پرکھتے ہوئے مختلف ناقدینِ فن نے جس انداز سے اپنی رائے پیش کی ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ عالم جوانی میں ایک نوجوان شاعرہ کے ظاہری وباطنی احساسات فی البدیہہ وجود میں آسکتے ہیں ۔اس بات سے یہی نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ وہ ایک کامیاب اور فنی پیچیدگیوں پر مہارت رکھنے والی شاعرہ تھیں ،جن کی فنی مہارت کااعتراف واقرار بڑے بڑے نقادوں نے کیا ہے۔
شہزادی کلثوم ایک کشادہ ذہن،وسیع القلب، فکروفن کی بلندیوں کو چھونے والی خوش گو شاعرہ تھیں۔ ان کی شاعری میں تصوف کے اعلیٰ نمونے بھی مل جاتے ہیں۔ان کی غزلوں میں فکروفن کی بلندی، شدت جذبات، اظہار، جوش،اجتماعی فکرواحساس،تخیل کی بلند پروازی، احساس کی گہرائی ،حسین ودلکش الفاظ کی روانی اور سادہ بیانی بدرجہ اتم موجودہے۔ اردو غزل ونظم کے ساتھ ساتھ انھوں نے اردوسلام میں بھی طبع آزمائی کی ہے۔ ان کی غزلیں متنوع موضوعات پرمشتمل ہیں اور شاید اسی لیے یہ کہا جاسکتاہے کہ ان کی غزلوں میں ذہنی اور فکری میلانات کاایک لامتناہی سلسلہ مل جاتا ہے۔ بہ الفاظ دیگریوں کہاجاسکتاہے کہ غزلوں میں مثبت خیالات، نشست الفاظ اور سلاست وروانی ایسی خوبیاں ہیں جن کی وجہ سے ان کی غزلیں ادب پر اپنانقش ثبت کرنے میں کامیاب ہوچکی ہیں۔
ان ہی خیالات اوراحساسات کی صداقتوں کی ترجمانی،مع مکمل تفسیر وتشریح نہ صرف ذہن کے دریچے وا کرتی ہے بلکہ وارفتگی دل کا بھی خیال ملتا ہے۔ اس بات کا صحیح اندازہ ان کے کلام سے لگایا جاسکتا ہے۔
جب اہل وطن کو عشق کا عرفان ہوگیا
حسن فریب کار پشیمان ہو گیا
آرہی ہے میری آنکھوں میں سمٹ کر کائنات
خواب پورا ہوچکا اب وقت ہے تعبیر کا
نکلا نہ بعد مرگ بھی سینے سے تیر ناز
دل میں ادھر چبھا ادھر ارمان ہو گیا
غزل میں ان کے یہاں کلاسیکی شعرا کی پرچھائیں خوب نظر آتی ہے اور نظم عہد جدید کے میلانات سے مملوہے۔ لیکن کلثوم کو جس صنف کی وجہ سے شہرت اور مقبولیت حاصل ہوئی وہ غزل ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شاید کلثوم غزل کے سبھی فنی وادبی لوازمات اور اس کے آداب واسلوب نگارش سے بخوبی واقف تھیں۔ گویا کلثوم نے اساتذہ فن کی نازک خیالی، زبان کا رچاؤ، طرز نگارش،لب ولہجے کی فراوانی کے ہوتے ہوئے شعر کہے ہیں۔ بعض اشعار میں تو ان کا عکس صاف نظر آتا ہے۔ چند اشعار ملاحظہ فرمائیں جو اسلوب اور لب ولہجے کے تیکھے پن سے ہمارے دلوں کو مسحور کرلیتے ہیں۔
نہ ملی پناہ دل کو تیرے حسن بے اماں سے
مری حسرتوں کو رویے کوئی کہہ دے نوحہ خواں سے
سوئے دل جو نگاہ ہوتی ہے
بخدا بے پناہ ہوتی ہے
سر اٹھا تھا نہ ابھی سجدوں سے
سامنے ان کا آستانہ تھا
ڈگمگاتا ہے دل جہاں کلثوم
وہ محبت کی راہ ہوتی ہے
شہزادی کلثوم کی فنی اور فکری بصیرتوں کے مینار کافی بلنداوراعلیٰ تھے مگر افسوس کہ وہ کم سنی میں ہی انتقال کرگئیں۔ لیکن پھر بھی انھوں نے جومختصرسا شعری سرمایہ یاد گارچھوڑا ہے وہ چیز دیگر معلوم ہوتی ہے۔ ان کا کلام مختصر ہی صحیح لیکن متلاطم ضرور ہے۔ان کے بارے میں کشمیر کے ایک مشہور شاعر ایاز رسول نازکی لکھتے ہیں:
’’کشمیر کے اردو شعری افق پر جو خواتین نہایت آن بان کے ساتھ روشن ہوئیں ان میں ایک نام اپنی کم عمری میں ہی انتقال کرنے والی’’شہزادی کلثوم‘‘کا بھی ہے۔‘‘
(مشمولہ ’’شیرازہ جموںوکشمیر اردو شاعری نمبر‘‘،جموں وکشمیر اکیڈمی آف آرٹ کلچر اینڈ لینگویجز سرینگر کشمیر،جلد 52،شمارہ 7-6،ص:84)
جیسا کہ پہلے بھی عرض کیا جاچکا ہے کہ کلثوم کی شاعری متنوع موضوعات کی حامل ہے ۔ ان کی شاعری میں مدحت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی مضامین ملتے ہیں۔ گویا یوں کہا جاسکتا ہے کہ کلثوم کے دل میں ابتداسے ہی اسلام اور اسلام کے متعلقات ومنسلکات کی عظمت ورفعت موجود تھی۔ انھوں نے جگہ جگہ پر اشارے دیے ہیں کہ ان کی زندگی حسن وعشق کی سچی تصویریں پیش کرتی ہیں۔ یوں کہا جاسکتا ہے کہ ان کے دل میں انسان کامل حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آلِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور عظمت اپنی اتھاہ گہرائیوں کے ساتھ رچی بسی ہے۔ان کے اشعار میں حضرت علی ؓ سے والہانہ محبت وعقیدت کا اظہار خوب نظر آتا ہے۔چند اشعار پیش ہیں:
مٹتے مٹتے کہہ رہا ہے موج دریا سے حباب
میرے دم کے ساتھ ہے رشتہ میری تعمیر کا
ہوں غبار کارواں منزل عشق علی
خاک ہے نظروں میں میری مرتبہ اکسیر کا
آرزو کلثوم کی بس یہ ہے بہر پنج تن ؑ
دیکھ لے آنکھوں سے روضہ حضرت شبیرؑ کا
کلثوم کے کلام میں تصوف کے اعلیٰ نمونے بھی ملتے ہیں۔ یعنی تصوف کے وہ مسائل جو اردو کے تقریباََ سبھی شعراکے یہاں موجودہیں۔ کلثوم نے بھی اپنے کلام میں ان خشک اور پیچیدہ مسائل پر اظہار خیال کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ان کی شاعری کا مطالعہ کرنے سے اس بات کا پختہ یقین ہوتا ہے کہ وہ کسی حدتک اپنی زندگی سے مایوس نظرآرہی تھیں۔ مطلب یہ کہ ا ن کی زندگی میں حسرت ویاس، ناامیدی، خوابوں کی شکستۂ تعبیر،ویرانی اور قنوطیت کا عنصر غالب نظرآرہا ہے۔ زمانے کی کرب ناکی،انتشار، جنگ آزادی کی تلاش وجستجو،معصوموں کا قتل عام، انگریزوں کا ظلم وستم، استحصال اور لوگوں کے خودغرضانہ رویے نے انھیں قدرے مایوس کیاہے،جس کا تذکرہ ان کے کلام میں ہرسطح پر ملتا ہے۔ان کا کلام پڑھ کر انسان کی بے بسی وبے کسی آنکھوں کے سامنے عیاں ہو جاتی ہیں۔ چند اشعار ملاحظہ فرمائیں۔
مایوسیوں نے حسرت و ارماں مٹا دیے
کیسا یہ گھر بھر ا تھا کہ ویران ہو گیا
اب تک ہے میرے دل میں وہی حشر آرزو
بھولی نہیں ہوں آپ کی پہلی نظر کو میں
میرا حال تباہ سن لیجیے
یہ حکایت نہیں حقیقت ہے!
ابتدا جس کی موت ہے اے دل
اس محبت کی انتہا بھی مانگ!
مرنا نہ میرا مرنا ، جینا نہ میرا جینا
پھر کیوں گنا رہا ہے کوئی مری خطائیں
شہزادی کلثوم اردوکے کلاسیکی شعرامیں میر، غالب اور اقبال سے براہ راست متاثرنظر آتی ہیں۔ ان کی کلاسیکی شاعری میں چونکہ منطقی اور استدلالی طور طریقے سے ’زمانہ‘ کی تراش خراش ہوئی۔ اردو کی کلاسیکی شاعری مختلف نظریے اور فکر (Attitudes)کی چھان پھٹک کے بعد وجود میں آتی ہے۔ گویا ایک روح بے چین نظر آتی ہے جس کی وجہ سے تلاش وجستجو،شوق وآرزو، استعجاب ،بے خودی، حوصلہ اور ہمت گویاایک دائرے میں چھوٹے چھوٹے کئی دائرے ملتے ہیں۔ان کا کلام پڑھنے کے بعد ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کلثوم سوال وجواب کا پیرایہ اختیار کرکے ایک نیا انداز اختیار کر نا چاہتی تھی۔ گویا کلثوم سوال کرتی ہیں اور کوئی دوسرا جواب دے کر بات کو مکمل کر لیتاہے۔ یعنی ایک مکالماتی فضاہے۔ ان کے کلام میں ایسے بہت سے اشعار ہیں جن میں سوال وجواب کا انداز مل جاتا ہے۔ کچھ اشعار پیش کیے جاتے ہیں۔
کعبہ نہیں، کلیسا نہیں، دیر بھی نہیں
پھر کیا سمجھ رہی ہوں تری رہ گزر کو میں؟
کرو تم لاکھ تدبیریں تو کیا ہے
وہی ہوگا جو قسمت کا لکھا ہے
تعبیر اس کی حشر ہے ،کس کو خیال تھا؟
اتنا اہم نہ سمجھی تھی خواب سفر کو میں؟
خار و گل ہی میں الجھ کر رہ گئی میری نظر
کب یہ ہم آہنگی سود و زیاںسمجھی تھی میں!
ہر قطرہ ہے تلاطم دریا کی یادگار
ہر ذرہ ہے مواد بیاباں لیے ہوئے
محو تھی یاد یار میں کلثوم
موت کب آگئی خدا جانے!
ان اشعار کا مطالعہ کرنے کے بعد یہ واضح ہو جاتاہے کہ کلثوم نے اپنے قلبی حالات وجذبات کوجس فنی چابکدستی کے ساتھ بیان کرنے کی کوشش کی ہے وہ قابلِ تعریف ہے۔ گویا ان کی زندگی کی داستان شکستہ دل کی داستان ہے اور زمانے کے کرب وانتشار کو بھی انھوں نے اپنے کلام میں بیان کرنے کی حتی الامکان کوشش کی ہے۔ان کی شاعری گویا اپنے تمام داخلی وخارجی معاملات کو اپناتے ہوئے دل کی داستان پیش کرتی ہے۔ کلثوم کی شاعری پرتبصرہ کرتے ہوئے پروفیسر شکیل الرحمنٰ ’’یاد گارِکلثوم‘‘کے پیش لفظ میں لکھتے ہیں:
’’شہزادی کلثوم کی شاعری کی عمر ان کی اپنی عمر سے اتنی کم ہے کہ صورت ومعنی کے ارتقا کا کوئی خیال بھی پیدا نہیں ہوتا۔غالباََ اس شاعری کی عمر صرف پانچ سال ہے ۔یہ صرف ایک اشارہ،ایک ادا اور ایک پیکر ہے۔ یہ پہلا زینہ بھی نہیں کہا جاسکتا ،یہ صرف ایک تبسم اور ایک گہرا نقش ہے۔‘‘
(پروفیسر شکیل الرحمنٰ،پیش لفظ ’’یاد گار کلثوم،1962،ص:15)
شہزادی کلثوم زندگی سے کسی حد تک مایوس نظرآتی ہیں اور ان کے کلام میں احساس کمتری کا مادہ جنم لینے لگتاہے ۔ان کی زندگی آلام ومصائب میں گزری،اسی لیے ان کے اکثر اشعار میں زندگی کی شکست وریخت کا اندازہوتا ہے۔ وہ اپنی قسمت سے اتنی نالاں تھیں کہ ان کے چھونے سے گوہر بھی سیاہ پتھر بن جاتا ہے۔ انھوں نے اپنے اشعارسودااورآتش کی زمینوں میں موزوں کیے ہیں۔ان شعرا کی اتباع میں لکھے گئے دو اشعار مثال کے طور پر پیش کیے جاتے ہیں۔
جان دے دی یہ کہہ کے عاشق نے
تو نے دی ہے تیری امانت ہے
طور سے پوچھ اہل طور سے پوچھ
طالب دید کی سزا کیا ہے
آج کل کچھ ایسا برگشتہ ہوگیا
لعل چھوتے ہی میری قسمت سے پتھر ہوگیا
شہزادی کلثوم نے اردو غزل میں اپنی قلبی واردات، محسوسات اورجذبات کو زیادہ تر اخلاق کی تربیت میں پیش کیا ہے۔ان کی شاعری کی ایک انفرادیت یہ بھی ہے کہ انھوں نے بعض شاعرات کی طرح تذکیر کے نقرئی اور روایتی بستے میں رہنے کی کوشش نہیں کی بلکہ اپنے لہجے میں مضمون آفرینی اور خیال کی جدت سے شاعری کو بلند سے بلند مقام عطا کیا۔ ان کے کلام کے مطالعے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ وہ کم لکھنے کے باوجود اردوشاعری میں ایک منفرد طرزکی شاعرہ ہیں۔ان کی شاعری میں رومانیت کا عنصر نہ ہونے کے برابر ہے۔ بلکہ عشق ومحبت کو ایک نیا موڑ دینے کی ہمیشہ جستجو رہتی تھی،اخلاقیات کا درس جگہ جگہ نظر آتا ہے۔وہ باربار اس بات کا احساس دلاتی ہیں کہ:
غیروں پہ بھروسہ ہو، تعجب کا محل ہے
اپنا بھی برے وقت میں اپنا نہیں ہوتا
دشمن پہ بھی اللہ، برا وقت نہ ڈالے
غربت میں تو سایہ بھی ہمارا نہیں ہوتا
بہرحال شہزادی کلثوم وادی کشمیر کی ایک فعال اور شعروشاعری میں نئی جہتیں پیش کرنے والی ایک شاعرہ تھیں۔ جنھوں نے اپنی قلیل المدت زندگی میں اپنی عظمت کالوہامنوایاہے۔ انھوں نے اردوشاعری میں جس فکر کی طرف لوگوں کے اذہان کو متوجہ کیا وہ جلی حروف سے لکھے جانے کے قابل ہے۔ بلکہ یوں کہنا مناسب ہوگاکہ انھوں نے اردو شاعری کو خلوص، صداقت اور زبان کی سادگی سے مالا مال کردیا۔
Dr. Manzoor Ahmad Ganie
Deptt.of Urdu Govt Degree College for Women Anantnag (Kashmir),Pin:192124 Ph No:6005903959 E-mail: mganie283@gmail.com