داغ دہلوی کی شاعری میں عاشق و معشوق کا کردار،مضمون نگار:طریق العابدین

March 13, 2026 0 Comments 0 tags

اردو دنیا،مارچ 2026:

اردوغزل کی روایت میں عاشق و معشوق محض دو کردار ہی نہیں ہیں بلکہ وہ ایک مکمل شعری کائنات کی تشکیل کرتے ہیں۔ عاشق غزل میں جذبات و احساسات، اضطراب، وفاداری اور بے قراری کا نمائندہ ہوتا ہے جب کہ معشوق حسن، بے نیازی، تغافل اور جمالیاتی وقار کی علامت ہے۔ ان دونوں کے باہمی تعلق سے ہی غزل کا فکری، جذباتی اور جمالیاتی نظام وجود میں آتا ہے۔اس رشتے کے درمیان رقیب، ہجر، وصال، امید و یاس اور شکایت جیسے عناصر جنم لیتے ہیں جو غزل کو ذاتی تجربے کے بجائے آفاقی بنا دیتے ہیں۔
داغ دہلوی کلاسیکی غزلیہ روایت کے متاخرین شعرا میں سے ہیں۔ ان کی شاعری میں جہاں عاشق کی بے قراری اور تڑپ وجود کا لازمی حصہ ہے، وہیں محبوب کا حسن و جمال اپنی تمام تر کیفیات کے ساتھ عاشق کے دل کو سکون اور قرار بھی عطا کرتا ہے۔ اس غزلیہ فضا میں رقیب بھی آس پاس گھات لگائے موجود ہوتا ہے جو عشقیہ واردات میں کشمکش اور ڈرامائیت پیدا کرتا ہے۔ داغ کی شاعری میں کلاسیکی اور جدید موضوعاتی تنوع واضح طورپرنظرآتاہے۔ کلاسیکی شاعری کے بیشتر عناصر خواہ وہ مضامین کی نوعیت ہو یا جذبات و کیفیات کا بیان داغ کے کلام میں موجود ہیں، لیکن ان کی انفرادیت اس امر میں ہے کہ وہ تعبیر و تفہیم کی ایسی سہولت فراہم کرتے ہیں جو اکثر کلاسیکی شعرا کے یہاں مفقود نظر آتی ہے۔ لہٰذا کہا جا سکتا ہے کہ کلاسیکیت کا ارتقائی سفر غالب سے گزرتا ہوا داغ کی شاعری میں ایک فطری تکمیل کو پہنچتا ہے۔
داغ کا کلام اپنے ہم عصروں میں نہایت منفرد دکھائی دیتاہے۔ ان کے کلام کی زبان آسان، رواں اور مقبول عام ہے، وہ اسی سہل زبان میں نہایت عمدہ اور بامعنی مضامین باندھتے ہیں۔ یہ ہنرمندی داغ کو اپنے عہد کے شعرامیں ممتاز مقام عطا کرتی ہے۔ غالب اور ذوق کے زیر سایہ علمی و شعری روابط نے بھی داغ کی شعری روش پر گہرے اثرات مرتب کیے، تاہم داغ نے ان دونوں اساتذہ کی مشکل پسندی اور دقت طلبی کے برعکس سادہ، شفاف اور عام فہم اسلوب اختیار کیا۔ مومن کی شعری روایت نے بھی داغ کو سہل پسندی اور معاملہ بندی کی طرف مائل کیا جو بعد میں ان کی شاعری کی شناخت بن گئی۔ ان کی شاعری میں سادگی محض سطحی یا عامیانہ وصف نہیں بلکہ ایک شعوری جمالیاتی انتخاب ہے۔ اس سادگی سے مراد یہ ہے کہ شعر میں باندھا گیا مضمون قاری پر بلا رکاوٹ منکشف ہو سکے۔ اس نکتے کی وضاحت حالی نے ’’مقدمہ شعر و شاعری‘‘میں اس طرح کی ہے کہ کلام کی سادگی کا معیاریہ ہوناچاہیے کہ خیال کیسا ہی بلند ہو اور دقیق ہو مگر پیچیدہ اور نا ہموار نہ ہو۔
داغ کی شاعری کا ایک اور اہم وصف ان کی شعری حکمتِ عملی ہے، جس کی بنیاد زور کلام اور صفائیِ مضمون پر ہے۔ ان کے یہاں مضمون میں کسی قسم کی الجھن یا غیر ضروری پیچیدگی نظر نہیں آتی۔ اس نکتے کو پروفیسر احمد محفوظ نے اپنے مضمون ’’داغ کی شعری حکمت عملی کے چند پہلو‘‘ میں نہایت وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے۔ اقتباس ملاحظہ ہو:
’’داغ کی شعری حکمت عملی کا ایک نہایت اہم پہلو زور بیان ہے۔ ہم اکثر دیکھتے ہیں کہ بیان کا زور وہیں زیادہ کارفرما ہوتا ہے، جہاں کلام میں برجستگی کی صفت زیادہ ہوتی ہے۔ اور برجستگی کے لیے عام طور سے کلام کی صفائی ضروری خیال کی جاتی ہے۔ اس صفت کو کلاسیکی ادبی تہذیب میں صفائیِ بیان، صفائی ِکلام اور صفائیِ گفتگو وغیرہ الفاظ سے ظاہر کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ اس سے زبان کی صفائی مراد نہیں ہے، بلکہ اس سے مضمون کو ایسے پیرائے میں ادا کرنا مراد ہے، جس میں کوئی الجھاوکی کیفیت نہ پائی جائے۔ اس طرح دیکھاجائے تو صفائی بیان، برجستگی اور زورِ بیان سب ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔‘‘1
داغ کی زبان اور شعری ذوق استاد ذوق کی سرپرستی میں پروان چڑھا۔ ذوق کی شاعری میں دہلی کی با محاورہ زبان جس کثرت سے استعمال ہوئی ہے، اس کا اثر داغ کے یہاں بھی نمایاں ہے۔ اسی لیے داغ کی شاعری میں سہل، رواں اور محاوراتی زبان کا غلبہ ملتا ہے۔ ان کی شاعری میں جذبات کی فراوانی ہے؛ عاشق کی داخلی کیفیات اس طرح ابھرتی ہیں کہ قاری ان کی تڑپ اور اضطراب کو براہ راست محسوس کرتا ہے۔ اس اعتبار سے داغ نے مجازی عشقیہ شاعری کے دائرے کو وسعت دینے میں اہم کارنامہ انجام دیا۔
داغ کے یہاں عشقیہ جذبات کے بیان میں معاملہ بندی کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ معاملہ بندی کے سبب رقیب جیسے کردار کو ان کی شاعری میں نمایاں مقام حاصل ہے۔ اس ضمن میں داغ، مومن کی روایت کی پیروی کرتے دکھائی دیتے ہیں، کیوں کہ مومن کے کلام میں بھی معاملہ بندی کے وصف نے رقیب کو ایک باقاعدہ شعری کردار بنا دیا ہے۔ معاملہ بندی دراصل اردو غزل کا ایک نفسیاتی اور خارجی پہلو ہے، جس کے ذریعے حسن و عشق کی واردات کو مجرد صورت دی جاتی ہے۔ اگرچہ اس خارجیت سے غزل کے داخلی امکانات میں کسی حد تک محدودیت پیدا ہوتی ہے مگر رنگینیت، شوخی اور جذباتی شدت کے ذریعے اس کمی کی تلافی ہوجاتی ہے۔ فراق گورکھپوری نے اپنی کتاب ’’اردو کی عشقیہ شاعری‘‘ میں معاملہ بندی کے تصور پر نہایت وقیع اور مفصل بحث کی ہے۔ فراق کے نزدیک معاملہ بندی محض عشقیہ واردات کاسطحی بیان نہیں بلکہ یہ نفسیات کے اس شعبے سے تعلق رکھتی ہے جسے حرکات و سکنات (Behaviorism) کہا جاتا ہے۔ وہ معاملہ بندی کو خارجی محاکات کا نام دیتے ہیں اور اس کی جمالیاتی اور اساسی اقدار کو واضح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’خارجی محاکات جسے عام طور پر معاملہ بندی کہتے ہیں نفسیات (Psychology) کے اس شعبے سے متعلق ہے جسے حرکات و سکنات (Behaviorism) کہتے ہیں۔ معاملہ بندی میں داخلیت تو نہیں ہوتی لیکن لطیف مصوری اور رنگینی کا اس میں نہایت دل کش عنصر ہوتا ہے۔۔۔ لیکن معاملہ بندی والی شاعری کے لیے یہ لازمی نہیں کہ وہ سوقیانہ ہو یا سطحی ہو۔ احتیاط اور بچاؤ سے کام لیا جائے تو معاملہ بندی کے اشعار میں بھی پاکیزگی کا امکان ہے۔ شرط یہ ہے کہ خارجیت کو نکھارا بھی جائے اور اسے کچھ دبایا بھی جائے۔ اس میں داخلیت کا امتزاج ہو اور لب و لہجہ میں وضاحت اور کنایہ، شوخی اور سنجیدگی کا میل ہو۔ معاملہ بندی کے ساتھ اردو غزل کی عشقیہ شاعری اپنی ہمہ گیر وسعتوں سے ذرا ہٹ آئی۔ اب حقائق اور معارف کچھ اتر کر مخصوص طور پر مجازی حسن و عشق کے تاثرات کا اظہار شروع ہوتا ہے۔ لیکن معنویت کی کمی حسن و عشق کی دل فریب رنگینیوں اور کیفیتوں سے ہو جاتی ہے۔‘‘ 2
فراق کی یہ توضیح داغ دہلوی کی عشقیہ شاعری کو سمجھنے میں کلیدی اہمیت رکھتی ہے، کیوں کہ داغ کی غزلوں میں معاملہ بندی نہ تو محض خارجی واقعہ نگاری ہے اور نہ ہی سطحی جذباتیت، بلکہ اس میں شوخی اور رنگینی کے ساتھ سادگی اور نزاکت کا حسین امتزاج ہے، اس لیے داغ کے یہاں رقیب، وصل، ہجر اور شکایت جیسے عناصر محض واقعات نہیں رہتے بلکہ ایک نفسیاتی فضا قائم کرتے ہیں۔
یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ ذوق اور مومن دونوں داغ کی شاعری کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ مشاعروں میں داغ کے کلام کو غیر معمولی پذیرائی حاصل ہوتی تھی۔ داغ کی زبان میں شائستگی، سلاست اور روانی اس حد تک موجود تھی کہ غالب جیسے عظیم شاعر بھی اس کے معترف نظر آتے ہیں۔ اس ضمن میں ڈاکٹر خلیق انجم نے اپنے مضمون ’’غالب اور داغ‘‘میں نثار علی شہرت کے حوالے سے غالب کا ایک نہایت معنی خیز واقعہ نقل کیا ہے:
’’ایک روز میں غالب کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس وقت آپ کھانا نوش فرما رہے تھے۔ میں مؤدب ہو کر ایک طرف بیٹھ گیا۔ پھر فرمانے لگے۔ دہلی والوں کی جو اردو ہے (جس کو مشک و عنبر کہنا چاہیے) اس کو ہی اشعار میں لکھنا چاہیے۔ آخر عمر میں تو ہماری یہی رائے قائم ہوئی ہے۔ میں نے ادب کے ساتھ گزارش کی کہ داغ کی اردو کیسی ہے۔ فرمانے لگے ایسی عمدہ کہ کیا کسی کی ہوگی۔ ذوق نے اردو کو اپنی گود میں پالا تھا۔ داغ اس کو نہ صرف پال رہا ہے بلکہ تعلیم دے رہا ہے۔‘‘3
یہ اقتباس داغ کی لسانی عظمت کا اعتراف ہے اور داغ دہلوی بلاشبہ دہلی کی کلاسیکی اردو روایت کے آخری عظیم نمائندوں میں شمار کیے جا سکتے ہیں۔ ذوق نے جس زبان کی پرورش کی، داغ نے اسی زبان کو تہذیبی وقار، عشقیہ نزاکت اور عام فہم اظہار کے لیے ایک نئی توانائی عطا کی۔
داغ کی عشقیہ شاعری کی تفہیم میں ان کی ذاتی زندگی کا ایک پہلو بھی اہمیت رکھتا ہے۔ داغ کو منی بائی جو حجاب کے تخلص سے شاعری کرتی تھیں، سے گہری انسیت بلکہ محبت تھی۔ اس تعلق نے جہاں داغ کی عشقیہ شاعری کو شدت، تجربے اور سچائی عطا کی، وہیں اس نے انھیں ذہنی کرب اور سماجی آزمائشوں سے بھی دوچار کیا۔ کلکتہ کا سفر، رقیبوں کی چشمک اور معاشرتی دباؤیہ سب تجربات داغ کے لیے کسی بھی طور خوش گوار ثابت نہ ہوئے۔ تاہم ان تمام تر اضطراب کے باوجود داغ کا عشق دبنے کے بجائے اور زیادہ نکھر کر سامنے آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ داغ کے اشعار میں عشق محض خیالی واردات نہیں بلکہ جیتی جاگتی، آزمودہ اور محسوس کی ہوئی حقیقت بن کر جلوہ گر ہوتا ہے۔ ڈرامہ منی بائی کا اقتباس دیکھیں جو داغ دہلوی کی دلی کیفیات، عشقیہ اضطراب اور رقیب کے احساسِ کمتری کو نہایت موثر انداز میں آشکار کرتا ہے۔ یہ مکالمہ داغ کے شعور اور نفسیاتی کشمکش کا آئینہ دار ہے:
حجاب: میری زبان میں یہ طاقت کہاں کہ ہر بات کا جواب شعر سے دوں لیکن قسم کھا کے کہتی ہوں کہ آپ سے ملنے کے لیے بہت بے چین تھی۔
داغ: منی بائی عاشقوں کو تڑپانا معشوق کا ہمیشہ سے وطیرہ رہا ہے۔ لیکن میرا تڑپنا کسی معمولی عاشق کا تڑپنا نہیں۔ میں نے پہلی بار محسوس کیا کہ دل دینا کسے کہتے ہیں اور وہ بھی ایسے کو جورقیب کے پہلو میں بیٹھ کر جلانے میں لطف حاصل کرے۔ میرا دل جل کر کباب ہوا جا رہا ہے لیکن تمھیں کاہے کو خبر ہوگی اور ہو بھی تو تمھیں میری فکر کیوں ہو۔ جانتی ہو چھوٹے نواب حاکم کے بھائی ہیں اور داغ صرف ایک شاعر۔ وہاں دولت ہے جاہ ہے حکومت ہے۔4
اس اقتباس سے واضح ہوتا ہے کہ داغ نے عاشق کے احوال کو محض خارجی واقعات کے بیان تک محدود نہیں رکھا، بلکہ اس کے جذبات و خیالات کی تہوں میں اتر کر اس کی تعبیر کی ہے۔ داغ کے یہاں عاشق کا طرہ امتیاز یہی ہے کہ وہ معشوق پر فدا اور اس کی ایک ایک ادا پر اپنا سب کچھ نثار کرنے کو آمادہ نظر آتا ہے۔ تاہم شعری سطح پر یہ سب کیفیات علامتوں کے پیکر میں ڈھل جاتی ہیں۔ یوں عشق میں درپیش پریشانیاں دراصل ان داخلی غموں کی علامت بن جاتی ہیں جنہیں شاعر اپنے تجربے اور مشاہدے سے محسوس کرتا ہے۔ اسی علامتی تناظر میں ان میری شمل کی کتاب’’رقص شرر (مترجم: قاضی افضال حسین) کا یہ اقتباس نہایت بامعنی ہے، جس میں عشق کو اذیت، اندوہ اور تطہیرِ باطن کے استعارے کے طور پر دیکھا گیا ہے:
’’مسلسل اذیت اور اندوہ سے عشق ثابت ہوتا ہے۔ جیسے سونا تپ کر کندن ہو جاتا ہے۔ اسی وجہ سے شاعر کبھی عشق کے ان شدائد کے لیے پیکر تراشتے نہیں تھکتے؛ بلبل الوہی حسن و وقار کی درخشاں علامت گلاب کی زخم خوردہ ہے۔ یا دیوانہ عاشق مجنوں جو صحرا میں جانوروں سے اپنے معشوق کی باتیں کرتا ہے یا فریب خوردہ فرہاد جو ملکہ شیریں کا پجاری ہے۔ (یہ عشق کے اسی رنج و اندوہ کی علامتیں ہیں)‘‘5
داغ کے یہاں عاشق کے احوال و کوائف چاکِ گریباں کی طرح صاف اور شفاف نظر آتے ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ داغ نے ان کیفیات کو محض تخیل کے زور پر نہیں برتا بلکہ انہیں اپنی ذاتی زندگی میں برتااورجھیلاہے۔ حسد، رشک اوررقیب کی بدعملی پر غصہ،یہ سب جذبات داغ کی شاعری میں پوری شدت کے ساتھ جلوہ گر ہوتے ہیں،اسی لیے عاشق ہر آن سب کچھ لٹانے پر آمادہ دکھائی دیتا ہے:
جو تجھ کو پایا توکچھ نہ پایا، یہ خاک داں ہم نے خاک پایا
جو تجھ کو دیکھا توکچھ نہ دیکھا، تمام عالم خراب دیکھا
کہتی ہے مری قبر پہ رو رو کے محبت
یوں خاک میں ملتے ہوئے ارماں نہیں دیکھا
داغ کی شوخ پسند طبیعت نے انہیں منی بائی کے علاوہ بھی دیگر معاشقوں کی طرف مائل کیا، جن سے انھیں عشق کے مختلف تجربات حاصل ہوئے۔ عام طور پر عشقیہ شاعری میں عاشق کا بنیادی مطالبہ وصال ہوتا ہے، مگر داغ کے یہاں ایک نیا اور نفسیاتی طور پر پیچیدہ پہلو سامنے آتا ہے۔ یہ احساس کہ معشوق کو پا لینے کے بعد بھی عاشق سیراب نہیں ہوتا۔ محبوب پر قابو پانے کی خواہش تو پیدا ہوتی ہے، لیکن عاشق اس قابو کے لطف کو بھی برقرار رکھنا چاہتا ہے:
یہ شوق، یہ ارمان، یہ حسرت، یہ تمنا
کیا ہو مرے قابو میں تم آ جاؤ اگر آج
ان کے کلام میں عاشق، معشوق کی چھیڑ چھاڑ اور ناز و انداز سے خاص لطف اٹھاتا ہے۔ کلاسیکی شعرا میں اس نوع کی شوخی نسبتاً کم ملتی ہے، تاہم داغ کے متعدد معاشقوں کے باعث ان کی شاعری میں شوخ پسندی اور چلبلا پن نمایاں ہو گیا ہے۔ اگرچہ سودا کے یہاں بھی اس مزاج کی جھلک ملتی ہے، مگر داغ نے اسے ایک مستقل عشقیہ رویّے کے طور پر برتا ہے۔ عاشق کا چلبلا مزاج گویا اس کا ذوق بن جاتا ہے، جس کے ذریعے وہ معشوق سے قربت اور بے تکلفی قائم رکھتا ہے:
ان کو بغیر چھیڑ کیے چین ہی نہیں
کتنی شریر طبع ہے کیا چلبلا مزاج
دل لگی ہو یا ہنسی یا چھیڑ چھاڑ
ہوتے ہیں پیاروں کے پیارے ذوق، شوق
اس طرح داغ دہلوی کی عشقیہ شاعری میں عاشق ایک جیتا جاگتا، جذباتی طور پر متحرک اور نفسیاتی طور پر پیچیدہ کردار بن کر سامنے آتا ہے، جس میں کلاسیکی روایت کی پاس داری ہے اور ذاتی تجربے کی تازگی بھی۔ یہی امتزاج داغ کی شاعری کو اپنے عہد میں منفرد اور بے مثال بناتا ہے۔
داغ دہلوی کی شاعری میں محبوب کا سراپا جس فنی مہارت، جمالیاتی شعور اور حسی تجربے کے ساتھ کھینچا گیا ہے، وہ اپنی مثال آپ ہے۔ داغ نے معشوق کے حسن و جمال سے نجی اور ذاتی سطح پر محظوظ ہو کر اس تجربے کو شعری پیکر میں ڈھالا ہے، اور یہ وصف ان کے ہم عصر شعرا کے یہاں کم ہی نظر آتا ہے۔ محبوب کا سراپا بیان کرنا اردو شاعری میں عاشق کا سب سے محبوب مشغلہ رہا ہے، لیکن داغ کے یہاں یہ بیان محض روایت کی تقلید نہیں بلکہ ایک زندہ، متحرک اور محسوس کی ہوئی جمالیات کی ترجمانی ہے۔ داغ کے نزدیک معشوق کا حسن گویا انقلابِ زمانہ ہے اور اس حسن کا ٹھہر جانا وقت اور احساس کے رک جانے کے مترادف ہے۔ معشوق کی زلفیں سنوارنا، اس کی مختلف اداؤں کو آشکار کرنا ہے—کبھی عاشق کو جلانے کے لیے اور کبھی اپنے ناز و نخرے دکھانے کے لیے۔ اس تناظر میں معشوق کے حسن و سراپا کے بیان کے یہ اشعار ملاحظہ ہوں:
وہ جب چلے تو قیامت بپا تھی چاروں طرف
ٹھہر گئے تو زمانے کو انقلاب نہ تھا
زلفیں نہیں کہ شانے سے آراستہ کیا
بگڑا ہوا مزاج بنایا نہ جائے گا
داغ کے یہاں معشوق محض سراپاحسن نہیں بلکہ ایک بااختیار اور خود سر کردار بھی ہے۔ وہ بے رحم بھی ہے اوربے توجہی اس کاشیوہ بھی۔ اگرچہ اس نوع کے مضامین کلاسیکی شعرا کے یہاں بھی ملتے ہیں، لیکن داغ کے بیان میں ایک الگ طرح کاجمالیاتی ذوق، نزاکت اور نفسیاتی گہرائی پائی جاتی ہے۔ معشوق کے تیکھے اور بے نیازی سے بھرپور الفاظ عاشق کے دل پر سخت گراں گزرتے ہیں، کیوں کہ عاشق کے اضطراب کو کم کرنے کی طاقت بھی محبوب کے الفاظ ہی رکھتے ہیں۔ معشوق کا بے التفاتی بھرا لب و لہجہ داغ کے یہاں یوں جلوہ گر ہوتا ہے:
کہا ظالم نے میرا حال سن کر
وہ اس جینے سے مر جائے تو اچھا
داغ نے جہاں محبوب کے حسن و جمال کی تعریف میں بے دریغ الفاظ صرف کیے ہیں، وہیں انھوں نے معشوق کی مختلف اداؤں کو نہایت خوب صورت پیرائے میں پیش کیا ہے۔ ان وارداتوں میں خوبیاں بھی ہیں اور خامیاں بھی ۔ معشوق کی شوخی، ظرافت اور نزاکت داغ کے کلام میں خاص طور پر نمایاں ہیں۔ معشوق کا حسن قیامت خیز محسوس ہونا اور اس کے نتیجے میں عاشق کا اضطراب بڑھ جانا عشقیہ کیفیت کی شدت کو ظاہر کرتا ہے:
ہزار پردوں میں مشتاق دیکھ لیتے ہیں
اسے حجاب تھا، موسیٰ کو تو حجاب نہ تھا
کل اس نگاہ میں شوخی تھی کس قیامت کی
لڑا ہوا تو مرے دل کا اضطراب نہ تھا
داغ کے یہاں عاشق کے جذبات معشوق کے لیے نہایت شدید ہیں۔ عاشق کو ہر وہ شے ناپسند ہے جس میں معشوق کا عکس نظر آئے، کیوں کہ اسے اندیشہ رہتا ہے کہ کوئی اور بھی اس حسن تک رسائی حاصل نہ کر لے۔ یہاں تک کہ معشوق کی تصویر بھی عاشق کو گوارا نہیں، کیوں کہ محبوب کا تصور وہ صرف اپنے دل و دماغ تک محدود رکھنا چاہتا ہے:
ہم شکل ترا کوئی بھی دیکھا نہیں جاتا
ہم تو تری تصویر سے بھی چیں بجبیں ہیں
عاشق و معشوق کے دلی جذبات کے اظہار کے اعتبار سے داغ کی شاعری اپنے عہد کی نمائندہ اور بہترین عشقیہ شاعری شمار کی جاتی ہے۔ یہ بات بھی مسلم ہے کہ اگر داغ محض قدما کی اندھی تقلید کرتے تو ان کی زبان عوام کے قریب نہ آ پاتی۔ داغ نے مانوس، سبک اور سہل الفاظ کا انتخاب کیا، جو ان کے عہد کا اہم تقاضا تھا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ زندگی کے آخری دور میں خود غالب بھی سہل پسندی کی طرف مائل دکھائی دیتے ہیں۔ میر کی شعری روایت نے بھی شعرا کو اس حقیقت کی طرف متوجہ کیا تھا کہ شاعری کو عوام سے جوڑنے کے لیے سبک اور سلیس زبان ناگزیر ہے۔
داغ نے مشکل پسندی کا وہ عہد بھی دیکھا جہاں شاہ نصیر اور شیخ ذوق کی زبان دانی نے شاعری کو ایک محدود دائرے میں مقید کر دیا تھا، اور غالب کی فارسی زدہ اردو شاعری بھی ان کے سامنے تھی۔ تاہم مومن اس دور کے واحد شاعر تھے جن کے یہاں مشکل پسندی کو حد سے زیادہ دخل حاصل نہ تھا۔ یہی تاریخی اور ادبی پس منظر داغ کی شاعری میں ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوا، اور یہی تسہلِ زبان ان کے کلام کے زبان زدِ عام ہونے کی سب سے بڑی وجہ بنی۔ اس طرح داغ نے اردو شاعری میں جو چراغ روشن کیا، اسے بجا طور پر اردو شاعری کی سہل پسندی کا عہدِ زرّیں کہا جا سکتا ہے۔
حوالہ جات
1 سہ ماہی،اردو چینل،جلد19،شمارہ 2،مدیر ڈاکٹر قمر صدیقی،
http:؍؍www۔urduchannel۔in؍dagh-ki-sheri-hikmat-e-amli-ahmed-mahfooz؍
2 اردو کی عشقیہ شاعری،فراق،کراچی،مکتبہ عزل و عمل، 1966،ص 91؍93؍94
3 داغ دہلوی نمبر،مرتبہ: شاہد ماہلی،نئی دہلی،،غالب انسٹی ٹیوٹ،2001،ص37؍38
4 منی بائی حجاب،سید محمد مہدی،الہ آباد،انجمن تہذیب ِنو پبلی کیشنز ڈیویژن،1978،ص17؍18
5 رقص شرر،پروفیسر ان میری شمل،مترجم: قاضی افضال حسین،نئی دہلی،غالب اکیڈمی،2001،ص 19؍20

Tariqul Abdeen
Research Scholar
Jawahar Lal Nehru University
New Delhi

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

مثنوی عکس کوکن ایک ادبی اور تاریخی کارنامہ،مضمون نگار: محمد دانش غنی

اردودنیا،فروری 2026: اردوشاعری کے ضمن میں عام طور پر کہا جاتا ہے کہ اس میں ایسا کوئی بڑا رزمیہ وجود میں نہیں آیا جس کو ہم عالمی زبانوں کے ادب

مثنویات میر میں مشترکہ ہندوستانی تہذیب ،مضمون نگار:افضل مصباحی

اردو دنیا،مارچ2026: مشترکہ ہندوستانی تہذیب‘سے مراد وہ تہذیب ہے جو مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان مشترک ہو۔ اسلامی تہذیب اور ہندو تہذیب کے اختلاط اور تاثیر و تاثر سے جو

غالب کی فارسی شاعری،مضمون نگار:ملک سلیم جاوید

اردو دنیا،دسمبر 2025: مرزا اسداللہ خاںغالب نہ صرف اپنے عہد کے سب سے بڑے شاعر تھے بلکہ وہ اس دور کی خاص شاعرانہ روایات کے بہترین ترجمان بھی ہیں۔ غالب