شاطر گورکھپوری کی یاد میں،مضمون نگار:ارشاد احمد

March 12, 2026 0 Comments 0 tags

اردو دنیا، مارچ 2026:

مجھےزندگی میں گورکھپور کی تین ادبی ہستیوں سے ملنے کا اتفاق ہوا۔ ان میں سے دو قلمکار اب خلد نشیں ہو چکے ہیں۔ ایک مسلم انصاری، دوسرے ابرارالحق شاطر گورکھپوری اور تیسرے ڈاکٹر عبیداللہ چودھری جو ابھی بقیدحیات ہیں اوران سے ملاقات و مکالمات کا سلسلہ جاری ہے۔ تقریباً پندرہ سال قبل شاطر گورکھپوری سے مل کر ایسا محسوس ہوا تھاکہ وہ علم وادب کے نہ صرف شیدائی ہیں بلکہ شخص شناس بھی ہیں۔ ان کی باتوں میں طنز و مزاح کا پہلو نمایاں ہوتا تھا۔ وہ خوبصورت تھے، چہرہ پر کشش تھا اور خوش لباسی سے ان کی شخصیت دل آویز بن جاتی تھی۔ ان سے ایک ملاقات کا نقش ایسا ہوتا تھاکہ انھیں فراموش کرنا ممکن نہیں تھا۔ وہ سراپا باغ و بہار تھے۔ میرے جیسے کم آمیز اور کم سخن شخص سے بھی آخری وقت تک ادبی رشتہ نبھاتے رہے۔ آخر کار شاطر گورکھپوری 22؍جون 2023کو داغ مفارقت دے گئے۔
9؍ مئی2013کی بات ہے۔ شام کا وقت تھا۔ میں پتہ پوچھتے پوچھتے الٰہی باغ جناب شاطر گورکھپوری کے دولت کدے پر پہنچ گیا۔ تاریخ اس لیے یاد ہے کہ اس دن انھوں نے دستخط کے ساتھ ’دیوان چرکین‘ عنایت کیا۔ دیوان چرکین پر اردو بک ریویو میں تبصرہ شائع ہوا تھا اور اس میں شاطر صاحب کا پتہ بھی درج تھا۔ دروازے پرپہنچا توان کی نظر مجھ پر پڑگئی۔ میں نے سلام کیا اور کہا ’’مجھے شاطر صاحب سے ملنا ہے‘‘۔ انھوں نے نہایت والہانہ انداز سے جواب دیا کہ ـ’’ میں ہی شاطر گورکھپوری ہوں،کہیے کہاں سے تشریف آوری ہوئی ہے‘‘؟گول مٹول صاف ستھرا چہرہ، کالے گھنے بال، درمیانہ قداور آنکھو ں کے پیچھے سے جھانکتی شوخ، زمانہ شناس آنکھیں اوردیدہ زیب کپڑوں میں ملبوس شاطر گورکھپوری کا میں پہلی ملاقات میں ہی گرویدہ ہو گیا۔
’’کچھ دنوں قبل میں نے آپ کی ترتیب دی ہوئی کتاب ’دیوانِ چرکین ‘ پر تبصرہ پڑھا تھا۔ میں اسی کتاب کے لیے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں‘‘۔میں نے ایک ہی سانس میں اپنی بات کہہ دی۔ شاطر صاحب مکان کے اگلے حصے میں بنے مہمان خانے میں داخل ہو گئے۔ میں بھی ان کے ہمراہ اس کمرے میں چلا گیا۔ صوفے پر دراز ہوتے ہی باتوں کا سلسلہ چل پڑا۔ ادبی گفتگو کے ساتھ ساتھ سیاسی اور مذہبی باتیں بھی ہوئیں۔ چرکین کی ادبی حیثیت پر بھی تبادلہ ٔ خیال ہوا۔ حقیقت یہ تھی کہ اس وقت چرکین پر میری معلومات کافی کم تھی۔
اس دوران انھوں نے دیوان چرکین کا ایک نسخہ نکالا، صفحہ پلٹا اور لکھا۔
ہدیۂ خلوص، برائے ڈاکٹر ارشاد احمد صاحب
شاطر گورکھپوری۔ 9؍ مئی 2013
نیچے اپنا موبائل نمبر بھی ڈال دیا تاکہ بہ آسانی گفتگو ہو تی رہے۔
اسی دن شاطر صاحب نے اپنے استاد جناب مسلم انصاری سے ملوانے کا اہتمام کیا۔ جناب مسلم انصاری ان کے بغل گیر تھے۔ وہ درجنوں کتابوں کے مصنف و مؤلف تھے۔ اس دن مسلم انصاری نے اپنی کتاب ’دبستان گورکھپور ‘ کی ایک جلد عنایت فرمائی۔ وہ ایک ادبی تنظیم ’دائرۂ ادب‘ کے سکریٹری تھے۔ گورکھپور کا یہ ادارہ آج بھی فعال ہے۔
میں22فروری 2022کو گورکھپور کے سبز پوش ہاؤس کسی کام کے سلسلے میں گیا۔ وہاں کے خواجہ فرید سے گزارش کی کہ الٰہی باغ چلنے کا اہتمام کریں۔ ارادہ تھا کہ شاطر صاحب سے ملاقات ہو۔ خواجہ فرید نے اپنی اسکوٹی نکالی اور ہم دونوں شاطر گورکھپوری کے پاس پہنچ گئے۔وہ مہمان خانے میں تنہا بیٹھے تھے اور اپنی پرانی ڈائری کی ورق گردانی کر رہے تھے۔ میں نے سلام کیا تو پہچان گئے۔ پھر اسی جوش و خروش سے میرا استقبال کیا۔ میں نے ایک بھرپور نظر ان کے جسم پر ڈالی۔ ان کا جسم ناتواں ہو چلا تھا، چہرے پر افسردگی اور پیروں کی نقاہت واضح طور پرعیاں تھی۔ کچھ دیر مرض و معالجے پر گفتگو ہوئی۔ میں سمجھ گیا کہ شاطر صاحب کی زندگی مشکلوں میں ہے۔ اس دن انھوں نے اپنا شعری مجموعہ ’آئیں بائیں سائیں‘ کی ایک کاپی بڑے خلوص سے میرے حوالے کی۔
شاطر گورکھپوری سے پہلی مگر یہ مختصر ملاقات دیرینہ رفاقت میں بدل جائے گی، میں نے سوچا نہیں تھا۔ جب مہینے دو مہینے گزر جاتے تو مرحوم خود فون کر تے اور حال چال پوچھتے اور گورکھپور آنے کی دعوت دیتے۔
شاعر مذکور کا اصل نام ابرارالحق اور تخلص شاطر گورکھپوری ہے۔موصوف کی ولادت15؍جولائی 1941 کو محلہ الٰہی باغ ضلع گورکھپور میں ہوئی۔ ان کے والد بزرگوار کا اسم گرامی محمد سمیع ہے۔شاطر کی ابتدائی تعلیم والد محترم کے زیر سایہ ہوئی۔ بعد ازاں انصار انگلش اسکول، گورکھپور سے دسویں تک تعلیم حاصل کرکے میاں صاحب انٹر کالج، گورکھپورمیں داخلہ لیا۔ابھی تعلیمی سلسلہ جاری تھا کہ 1966 میں انھوں نے بیک وقت تین مقابلہ جاتی امتحانات میں کامیابی حاصل کی۔ دبستان گورکھپور کے مؤلف جناب مسلم انصاری کے مطابق:
’’ حسن اتفاق کہ 1966 میں بیک وقت تین محکموں ریلوے، فرٹیلائزراور اسٹیٹ بینک آف انڈیاکے امتحانات میں شرکت کی اور کامیاب امیدواروں میں ابرارالحق کا نام سر فہرست تھا۔ اب ان کے لیے یہ طے کرنا مشکل ہو گیا کہ کس ایک محکمے کو ترجیح دیں۔ کچھ تجربہ کا ر اشخاص کی صلاح پر انھوں نے اسٹیٹ بینک آف انڈیا کی ملازمت کو ترجیح دی‘‘۔
(دبستان گورکھپور: مؤلف، مسلم انصاری، ص641)
شاطر گورکھپوری کو طالب علمی کے زمانے سے ہی شعر و سخن سے لگاؤ پیدا ہو گیا تھا۔ گورکھپور کا ادبی ماحول بھی اچھا تھا۔ اکثر وبیشترشعر و ادب کی محفلیں سجتی تھیں۔ شاطر ان محفلوں میں با قاعدگی سے شریک ہوتے تھے۔ اسی زمانے میں انھوں نے شعر موزوں کرنا شروع کیا اورقریب ہی مقیم جناب مسلم انصاری کے حلقۂ تلمذ میں شامل ہو گئے۔ اس وقت گورکھپور کے ادبی افق پر طنز و مزاح کے شاعر ایشوری شرن سریواستو کی بڑی دھوم تھی۔ وہ دائرۂ ادب، گورکھپور کے تربیت یافتہ شاعر تھے اور ان کا تخلص نادم تھا۔ جب نادم گورکھپوری کا انتقال ہو گیا تو طنز و مزاح کی دنیا پھیکی پڑ گئی۔ تبھی جناب مسلم انصاری نے انھیں مشورہ دیا کہ ’’ آپ طنزیہ و مزاحیہ شاعری کریں اور شاطر تخلص رکھ لیں‘‘۔شاطر گورکھپوری نے ان کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے ظریفانہ شاعری شروع کر دی۔ ابتدائی دور میں انھوں نے نادم صاحب کے مصرعوں پر تضمینیں لکھیں لیکن بہت جلد انھوں نے اس روش کو ترک کر دیا اور آزادانہ طور پر ظرافت نگاری کرنے لگے۔ اس زمانے کو یاد کرتے ہوئے شاطر گورکھپوری رقم طراز ہیں:
’’1975 کے اوائل سے نادم صاحب کی طبیعت کچھ زیادہ نا ساز رہنے لگی اور وہ ادبی نشستوں میں شرکت کرنے سے معذورہو گئے۔ جس کی وجہ سے ادب کے ماحول میں ایک بڑا خلاپیدا ہو گیا،جسے پُر کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ جناب مسلم انصاری نے مشورہ دیا کہ ’دیر کس بات کی، آگے بڑھو اور شعر گوئی شروع کر دو‘۔ میں ان کی بات پر مسکرا کر راضی ہو گیاتو انھوں نے شاطر تخلصرکھنے کا مشورہ دیاجس پر آج تک کاربند ہوں۔‘‘
(آئیں بائیں سائیں: شاطر گورکھپوری، ص 5)
شاعری در اصل انسان کے جمالیاتی شعور اور نفسیات کی دلفریب ترجمانی کا نام ہے۔شاعری میں فکر و وجدان کی آمیزش اسے رفعت و بلندی عطا کرتی ہے۔ شاعری کا موضوع کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ بعض ناقدین کا خیال ہے کہ شاعری صرف اعلیٰ قدروں اور لطیف جذبات کی ترجمانی کا نام ہے۔ ایسی حالت میں انسان کی وہ ذہنی کیفیت جب کسی کی بد اخلاقی اور کردار کی کج روی سے رنجیدہ ہو کر مغلظات سنانے کی ہوتی ہے، وہ صفحۂ قرطاس پر نہیں آ سکتی ہے۔ لیکن اردو شاعری میں چند شعرا ایسے ہیں جنھوں نے اس متضاد کیفیت کی ترجمانی فنی اور فکری بالیدگی کے ساتھ کی ہے۔ اس ضمن میں جعفر زٹلی(1658-1713 )کا نام سر فہرست ہے۔ بعض شعرا کے فحش کلام یا تو ضائع ہو گئے یا اخلاقی کٹرپن اور مذہبی دقیانوسی کی وجہ سے شرف قبولیت سے محروم رہے۔ اس ضمن میں سید باقر علی چرکین خوش قسمت ہیں کہ ان کے کلام کو متعدد ناشروں نے نہ صرف شائع کیا بلکہ قارئین تک رسائی کو ممکن بنایا۔
شاطرگورکھپوری طنز و مزاح کے شاعر تھے اس لیے انھیں چرکین کی شاعری سے قلبی، ذہنی و فکری لگاؤ تھا۔ ان کے دل میں یہ خواہش تھی کہ چرکین کے مستند کلام کو جمع کر کے ایک دیوان شائع کیا جائے۔ لیکن تمام طبع شدہ اور غیر مطبوعہ کلام تک ان کی رسائی نہیں تھی۔ شاطر گورکھپوری نے اس سمت میںاپنی کوشش جاری رکھی۔ کچھ دنوں کے بعد چرکین کی شائع شدہ تخلیقات کے بارے میںانھیں جانکاری مل گئی۔ اس کے بعد انھوں نے رضا لائبریری، رامپور اور خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری، پٹنہ کے عہدیداران سے رابطہ کیا اور دیوان چرکین کے طبع شدہ نسخوں کا عکس حاصل کیا۔ کچھ دوسرے اہل ِ ذوق نے بھی ان کی مدد کی۔ اس طرح شاطر گورکھپوری کے پاس دیوان چرکین کے تین مطبوعہ اور دو غیر مطبوعہ نسخے دستیاب ہو گئے۔ انھوں نے تمام نسخوں کا مطالعہ اور موازنہ کرکے ایک نیا دیوان چرکین تیار کیا۔ پرانے نسخوں کی کتابت و طباعت کی غلطیوں کی اصلاح کی اور لفظوں کو یکسانیت سے ہمکنار کیا۔اس نئے دیوان کی اشاعت 2007 میں ہوئی۔اس کا دوسرا ایڈیشن 2009 میں منظر عام پر آیا۔ اس کا مفصل مقدمہ شمس الرحمن فاروقی نے لکھا ہے۔ بقول فاروقی:
’’ہمیں جناب شاطر گورکھپوری کا ممنون ہونا چاہیے کہ انھوں نے کئی مطبوعہ اور مخطوطہ نسخوں کی مدد سے دیوان چرکین کا یہ بہت اچھا نسخہ تیار کیا ہے۔ علاوہ بریں ان کی یہ جرأت رندانہ بھی لائقِ داد ہے کہ انھوں نے ترتیب و تدوین نو کے لیے چرکین جیسے مشکل اور اکثر لوگوں کی نظر میں محض ہزال و اضحوکہ شاعر چرکین کا دیوان منتخب کیا۔ مجھے یقین ہے کہ یہ جدید اشاعت ثابت کر دے گی کہ چرکین نرے ہزال اور ہنسوڑ قسم کے فحش گو نہیں ہیں بلکہ ان کے کلام میں شاعرانہ فنکاری، لسانی در وبست، استعارہ سازی اور مضمون آفرینی کے بھی رنگ چوکھے ہیں‘‘۔
( دیوان چرکین، مرتب: شاطر گورکھپوری۔ ص 16)
اردو شاعری میں چرکین کا مقام و مرتبہ منفرد ہے۔ ان کا اپنا نظریہ ہے جس پر وہ مضبوطی سے کاربند ہیں۔ وہ ایک ایسے زمانے کے نمائندہ شاعرہیں جنھوں نے نتیجہ کی فکر کیے بغیر برازیات میں بڑا نام کیا۔ انھوں نے بڑی بہادری سے اور بے خوف ہو کرایک غیر مقبول اور بدنام رنگ سخن کو اختیار کیا اور اسے اعتبار بخشا۔ عام قارئین برازیات اور فحشیات میں فرق کو نہیں سمجھتے اور کلام چرکین کو فحشیات کے خانے میں ڈال کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ بعض ناقدین نے حقارت آمیز رویہ اپنایا اور چرکین کی تمام نگارشات کو اخلاقی اقدار کے نقطۂ نظر سے پرکھا۔ اس طرح وہ اشعار بھی تسلیم نہیں کیے گئے جن میں جنسی تلذذ، غلاظت ِفکر، نجاست کا بیان، معشوق کی سفلہ پروری، بد تہذیبی اور ذلت و خواری جیسے موضوعات نہیں ہیں۔ شاطر گورکھپوری نے ادبی دیانت داری سے چرکین کی شاعری پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے اور ان کے شعری و فکری امتیازات کی نشاندہی کی ہے۔انھوں نے بلا تفریق ان کے تمام کلام کو یکجا کیا ہے اور اشعار کی روشنی میں چرکین کے مقام و مرتبے کا تعین کیا ہے۔ شاطر کا یہ کارنامہ نہ صرف لائق ستائش ہے بلکہ قابل تقلید بھی ہے۔ چند اشعار ملاحظہ کریں ؎
اک نہ اک عارضہ رہا ہم کو
تھم گئے دست تو بخار آیا
چرکین رہا نہ پاس تجھے نام و ننگ کا
قائل ہوں اپنے نشۂ مے کی ترنگ کا
ناپاک ہیں اغیار، تم ان کو نہ کرو قتل
ہووے گا نجس خنجرِ خوں خوار تمھارا
مے کدے سے نہ غرض مجھ کو نہ میخانے سے
مجھ کو چرکین ہے شب و روز درِ یار سے ربط
نہ پایا اس سے کبھی اپنی گفتگو کا جواب
دہانِ یار نظر آیا لا جواب ہمیں
صاحب کی بے وفائی سے خطرہ نہیں مجھے
تم پھر گئے تو پھر گئے، پروا نہیں مجھے
شوق گلگشت کا چرکین کو جس دم ہو جائے
گل ہر ایک باغ میں رشکِ گلِ آدم ہو جائے
’آئیں بائیں سائیں‘ ابرارالحق شاطر گورکھپوری کے طنزیہ و مزاحیہ کلام کا مجموعہ ہے،جس کی اشاعت جنوری 2020میں ہوئی۔اس شعری مجموعے کو انھوں نے ڈاکٹرعزیز احمد، گورکھپور کے نام منسوب کیا ہے۔ اس کتاب کی ابتدا حسب روایت نعت پاک سے ہوئی ہے۔دیگرنعتوں میں انھوں نے حضرت محمد ؐسے اپنی گہری محبت و عقیدت کا اظہار کیا ہے۔یہ اشعار شاطر کے مخلصانہ جذبات و احساسات کے ترجمان ہیں ؎
دور شباب ہو کہ وہ بچپن حضور کا
بے داغ تھا ہمیشہ ہی دامن حضور کا
ہر اک عدو کو فتح کے دن کر دیا معاف
دیکھو یہ حوصلہ یہ بڑکپن حضور کا
شاطر گورکھپوری کی شاعری کا اصل میدان طنز و مزاح ہے۔ گورکھپور میں نادم گورکھپوری کی وفات کے بعد خالی ہوئی ظرافت کی دنیا کو آباد کرنے کے لیے شاطر اس جانب ملتفت ہوئے اور تا حیات اسی راستے پر گامزن رہے۔ ان کا شعری مجموعہ ’آئیں بائیں سائیں‘ تقریباً پچاس سالہ شعری و ادبی زندگی کا حسین گلدستہ ہے۔ اس میں نعت، منقبت، نظم، قطعات اور غزلیں ہیں۔ لیکن بجز مذہبی کلام کے تمام تخلیقات کا رنگ،اسلوب اور انداز طنزیہ و مزاحیہ ہے۔
شاطر گورکھپوری کا مزاج ظریفانہ ہے۔ ان کی طبیعت میں بذلہ سنجی ہے۔ سرکاری ملازمت ایسی تھی کہ جس نے انھیں وقت کا پابند بنا دیااور بھلے برے لوگوں کے ساتھ زندگی گزارنے کا سلیقہ سکھا دیا۔ چونکہ ان کی معاشرتی زندگی کا حلقہ وسیع تھا اس لیے مختلف عادات و اطوار کے افراد سے سابقہ پڑا۔ شاطر گورکھپوری کا شعری سرمایہ ایسے ہی فر ومایہ اور بلند پایہ افراد اور کردار کے نفسیاتی مطالعے کا ما حصل ہے، جسے وہ اشعار کے قالب میں قارئین کے سامنے پیش کرتے ہیں ؎
ذہانت جہالت کی مرہون نکلی
شرافت خباثت کی معجون نکلی
اٹھایا جو کل شیخ جی کا مصلیٰ
تو نیچے اک پاؤ افیون نکلی
ہے اگر مطلب براری کا خیال
ان کے در پہ دم ہلاتے جایئے
جبیں تراش لینے کا ماہر بنا دیا
بننا چاہتا تھا جو آخر بنا دیا
ایسا دیکھا جا تا ہے کہ ظریفانہ شاعری میں سیاسی رہنما اور مذہبی مولوی سب سے زیادہ تضحیک کا نشانہ ہیں۔ یہ دونوں موضوعات طنز و مزاح کے لیے اولیت کا درجہ رکھتے ہیںاور اس کے ذائقے کا مزا طفل و جواں، خواندہ و ناخواندہ، عاقل و ناداںاور حاکم و محنت کش سبھی لیتے ہیں۔ اس طرح ایک مزاحیہ شاعر کی تخلیقات اگر حقیقت پر مبنی ہو تو اس کے متعدد اشعار ضرب المثل بن جاتے ہیںاور انہی اشعار کی بنا پر وہ شاعر حیاتِ جاوداں حاصل کر لیتا ہے۔ حضرتِ چرکین بھی اسی زمرے میں آتے ہیں۔ شاطر گورکھپوری نے چرکین کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے طنز و مزاح کا راستہ اپنایالیکن برازیات و فحشیات اور رکاکت و ابتذال سے اپنے دامن کو پاک رکھا ؎
ہر منسٹر کی آرزو ہے یہی
زندگی گزرے عیش و مستی میں
یعنی اول تو موت آئے نہیں
اور اگر آئے بھی تو کرسی میں
جب سے لگی ہے ان کو شکم پروری کی چاٹ
تفریق مٹ گئی ہے حلال و حرام کی
واعظ بہک بہک کے کریں کیوں نہ گفتگو
اب لت جو لگ گئی ہے انھیں سو گرام کی
شاطر گورکھپوری کی ہزلیات میں بھی طنز و مزاح کا رنگ غالب ہے۔ چونکہ شاطر کا مزاج خالص ہندوستانی ہے اس لیے ان کی ہزلیات میں ہندوستانی آداب و اطوار، رسم و رواج اور معاشرتی زندگی کا عکس واضح طور پر نظر آتاہے۔ ان کی شاعری میں صد فی صد ہندوستانی لفظیات اور محاورات کا استعمال ہواہے۔ کہیں کہیں بھوجپوری اور ہندی لفظوں کا استعمال بڑی چابکدستی سے کیا ہے۔ اس طرح کے اشعار ہماری قرأت پر گراں نہیں گزرتے بلکہ خالص مقامی اور علاقائی ہونے کا حظ دیتے ہیں۔ چند اشعار ملاحظہ کریں ؎
لائی اس مقام پہ اب دوستی مجھے
دنیا دکھائی دیتی ہے دس نمبری مجھے
رسمِ وفا نباہ دی زندہ دلی کے ساتھ
جوتے بھی کھائے عشق میںہم نے خوشی کے ساتھ
اس پیار کی منزل پہ لے آئی ہے رسوائی
جب مجھ پہ پڑے جوتے جوتوں کو حیا آئی
تم چوٹ محبت کی کھا کر تو ذرا دیکھو
ملتے ہیں مزے کیا کیا جب چلتی ہے پروائی
اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ شاطر گورکھپوری کا ادبی کارنامہ منفرد، اہم اور دلچسپ ہے۔ انھوں نے چرکین جیسے بدنام زمانہ شاعر کے منتشرکلام کو یکجا کیا اور اس کی صحت کی جانچ پرکھ کی اور تدوینی مرحلے کو سر کرتے ہوئے طباعت سے ہمکنار کیا۔ ساتھ ہی معیاری ظریفانہ شاعری سے اردو ادب بالخصوص دبستان گورکھپور کو مالا مال کیا۔ آنے والی نسلیں شاطر گورکھپوری کے ادبی کارناموں کا یقینا اعتراف کریں گی۔

Dr. Irshad Ahmad
1731, Amna Manzil, Islamia Nagar
Siwan- 841226 (Bihar)
Mob.: 9771443219
drirshadahmad05@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

عشق اورنگ آبادی کی شعری جہات،مضمون نگار: کلیم احمد

اردودنیا،فروری 2026: عشق اورنگ آبادی کا نام مرزا جمال اللہ تھا۔ یہ مرزا داؤد بیگ اور نگ آبادی کے بیٹے تھے۔ اورنگ آباد میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد مرزا

آسمان ادب کا نیر تاباں: قاسم خورشید،مضمون نگار: عشرت صبوحی

اردو دنیا،دسمبر 2025: ادب کے آسمان پر کبھی کبھی ایسے نام جگمگاتے ہیں جنھیں وقت کے غبار میں چھپانا ممکن نہیں ہوتا۔ یہ وہ آفتاب ہیں جو اپنی زندگی میں

پروفیسردیوان حنان خاں کی یاد میں،مضمون نگار: معصوم مرادآبادی

اردودنیا،جنوری 2026: پروفیسردیوان حنان خاں نے جس خاموشی اور گوشہ نشینی کے ساتھ زندگی بسر کی ، وہ اسی خاموشی کے ساتھ دنیا سے رخصت ہوگئے۔ یہ خاموشی اتنی مہیب