غالب کا شعری لہجہ ،مضمون نگار: ابوالکلام قاسمی

March 16, 2026 0 Comments 0 tags

مرزا غالب کی شاعری کی تعبیر اور قدرو قیمت کے تعین کی خاطر جن تنقیدی معیاروں کو روبہ عمل لایا گیا ہے ان میں غالب کے بالواسطہ طرزِ تخاطب کو بنیادی اہمیت حاصل رہی ہے۔ شاید یہی سبب ہے کہ ہیئتی تنقید کے وہ پیمانے جو شاعری کی استعاراتی اور علامتی معنویت، کفایت لفظی اور معنوی امکانات کو زیادہ نمایاں کرتے ہیں وہ غالب فہمی کے عمل کو زیادہ راس آئے۔ اس بات کو دوسرے الفاظ میں اس طرح بھی کہا جا سکتا ہے کہ غالب کی استعارہ سازی کو ان کی معنی آفرینی کے سرچشمے کے طور پر دیکھنے کا رجحان عام رہا ہے۔ مگر اس تنقیدی طریقِ کار نے غالب کے شعری لہجے، اسلوب اور اندازِ بیان کی طرف متوجہ ہونے کا موقع بہت کم دیا۔ اس ضمن میں زبانی روایت (Oral Tradition) کے زیر اثر پروان چڑھنے والی شاعری کے لوازم سے بھی صرف نظر کیا گیا۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ انیسویں صدی کے ا واخر تک کی اردو شاعری کو اگر اس سیاق و سباق میں دیکھا جاتا تو شعری لہجہ کے تشکیلی عناصر کے بارے میں بعض بنیادی باتیں سامنے آسکتی تھیں۔ زبانی روایت سے وابستہ شاعری میں سننے سنانے کے عمل، الفاظ کو رموزِ اوقاف کی رعایت سے ادا کرنے، صرف و نحو کی مناسبت سے حروف اور الفاظ پر زور دینے اور زبان کو لہجے اور آہنگ کے ساتھ ترسیلی سطح پر برتنے کی اہمیت کو انداز نہیں کیا جاسکتا۔ اس نوع کی نزاکتوں کو نشان زد کرنے کی خاطر اگر کسی ایک اصطلاح کا سہارا لیا جائے تو اسے شعری لہجے کا نام دیاجا سکتا ہے۔ اس لیے غالب کی تفہیم کا ایک تنقیدی طریق کار ان کے شعری لہجے کی دریافت کو بھی بنایا جانا چاہیے۔
شاعری میں محاوراہ اور روز مرہ کا خیال، زبان کو روایتی سلاست اور روانی کے ساتھ استعمال کرنا اور رائج لسانی ضابطوں کو غایت احتیاط کے ساتھ برنے کی کوشش کرنا ایک بات ہے اور زبان میں اپنے مخصوص طرزِ ادا کے ذریعے نئے معنی کا امکان پیدا کرنا اور لہجے کے نشیب و فراز سے مفہوم میں کسی نئی جہت کی گنجائش پیدا کر دینا دوسری۔ اول الذکر معاملے میں غالب کے متعدد معاصرین اور متقدمین کو امتیاز حاصل تھا مگر غالب نے اپنے لیے دوسرا راستہ منتخب کیا تھا، جس میں لفظی اور معنوی رعایت اور محاورہ اور روز مرہ تک کا استعمال غیرروایتی اور انفرادی معلوم ہوتا ہے۔ غالب کے دو شعر ہیں جن میں مرنے اور موت کو روز مرہ کے اعتبار سے بھی استعمال کیا گیا ہے اور محاورے کے اعتبار سے بھی۔ مگر یہ استعمال روایتی اس لیے نہیں بن پاتا کہ ایک لفظ کے دوہرے معنوں کے لیے استعمال نے ’قول محال‘ کی صورت پیدا کردی ہے اور روز مرہ اور محاورے کے ظاہری تضاد نے معنی کی ایک تیسری سطح کو نمایاں کیا ہے جسے Paradox کا نام بھی دیا جاسکتا ہے:
محبت میں نہیں ہے فرق جینے اور مرنے کا
اسی کو دیکھ کر جیتے ہیں جس کافر پہ دم نکلے
مرتے ہیں آرزو میں مرنے کی
موت آتی ہے پر نہیں آتی
پہلے شعر میں ’اُسی کو دیکھ کے جیتے ہیں‘ روز مرہ کے طور پر اور ’جس کافر پہ دم نکلے‘ محاورے کے طور پر استعمال کیا گیا ہے اور اس تضاد سے جینے اور مرنے میں فرق نہ ہونے کے مفہوم کی توثیق کی گئی ہے۔ اسی طرح دوسرے شعر کا پہلا حصہ محاورے پر اور دوسرا حصہ روز مرہ پر مبنی ہے، اور توثیق ہوتی ہے۔ ایک تیسری بات کہ ’موت آتی ہے پر نہیں آتی‘ اس مثال سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ غالب کے متن میں استعارہ اور تمثیل کے علاوہ بھی بعض ایسے شعری طریق کار کا استعمال کیا گیا ہے جن کے باعث کبھی معنی کی نئی جہات نمایاں ہوتی ہیں۔ کبھی سامنے کے معنی التوا میں جا پڑتے ہیں اور کبھی ایک ایک شعر میں لہجہ اور صوت کی کئی کئی اکائیاں اپنی الگ ادائیگی کا مطالبہ کرتی ہیں۔
غالب کے شعری لہجے کے تعین میں زبان کی نحوی ساخت سے انحراف اور حرف وصوت کی ادائیگی کا انفرادی انداز بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ بات درست ہے کہ غالب کا متن اپنی معنوی دبازت کی عقدہ کشائی کے لیے استعاراتی اور علامتی طرز تنقید سے زیادہ ہم آہنگ ہے۔ لیکن غالب کے شاعرانہ لہجے نے بھی معنی آفرینی کے عمل میں کم حصہ نہیں لیا ہے۔ غالب ’تنقید‘ میں لہجے کی شناخت کی طرف ہر چند کہ کوئی منظم اور مربوط کوشش سامنے نہیں آئی۔ تاہم ایسا بھی نہیں ہے کہ اس اہم طریق کار کی طرف کسی نقاد نے توجہ ہی نہ دلائی ہو۔ غالب کے کلام کے پہلے نقاد الطاف حسین حالی نے یادگار غالب میں ’پہلودار بیان‘ اور ’انداز بیان‘ کا ذکر بار بار کیا ہے اور کئی اشعار کی تشریح اسی زاویۂ نظر کے ساتھ کی ہے۔ حالی کے اس زاویۂ نظر کی بہترین مثال اس وقت سامنے آتی ہے جب وہ :
کون ہوتا ہے حریف مئے مرد افگن عشق
ہے مکرر لب ساقی پہ صلا میرے بعد
کی تشریح کرتے ہیں اور واضح کرتے ہیں کہ ’لب ساقی کے صلا‘ کی تکرار سے کتنے اور کیسے پہلو پیداہو سکتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:
’’مئے مرد افگنِ عشق کا ساقی یعنی معشوق بار بار صلا دیتا ہے، یعنی لوگوں کو شراب عشق کی طرف بلاتا ہے۔ مطلب یہ کہ شرابِ عشق کا کوئی خریدار نہیں رہا۔ اس لیے اس کو بار بار صلا دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ مگر زیادہ غور کرنے کے بعد جیسا کہ مرزا خود بیان کرتے تھے ، اس میں ایک نہایت لطیف معنی پیدا ہوتے ہیں ، اور وہ اس مصرعے کو مکرر پڑھ رہا ہے۔ ایک دفعہ بلانے کے لہجے میں کہتا ہے۔ ’’کون ہوتا ہے حریف مئے مردافگنِ عشق‘‘؟ یعنی کوئی ہے جو مئے مرد افگن عشق کا حریف ہو؟ پھر جب اس آواز پر کوئی نہیں آتا تو اسی مصرعے کو مایوسی کے لہجے میں مکرر پڑھتا ہے۔ ’’کون ہوتا ہے حریف مئے مرد افگنِ عشق‘‘ یعنی کوئی نہیں ہوتا۔ اس میں لہجے اور طرز ادا کو بہت دخل ہے۔ کسی کو بلانے کا لہجہ اور ہے اور مایوسی سے چپکے چپکے کہنے کا انداز اور ہے جب اس طرح مصرعہ مذکور کی تکرار کرو گے۔ فوراً یہ معنی ذہن نشیں ہو جائیں گے۔‘‘
حالی کی اس تشریح میں بلانے کے لیے ، مایوسی کے لہجے یا چپکے چپکے کہنے کے انداز کی نشان دہی سب موجود ہے، اور یہ وضاحت بھی کہ’’ اس میں لہجے اور طرزِ ادا کو بہت دخل ہے۔‘‘ اس شعر میں ان لہجوں کے ماسوا چیلنج کی کیفیت اوپری سطح پر محسوس کی جاسکتی ہے۔ یہ غالب کا ایک ایسا مخصوص طریق کار ہے جس کا استعمال ان کے متعدد اشعار میں کہیں مکرر یا تکرار کے لفظ سے اور کہیں اس لفظ کے استعمال کے بغیر بھی ملتا ہے:
سر اُڑانے کے جو وعدے کو مکرر چاہا
ہنس کے بولے کے ترے سر کی قسم ہے ہم کو
بہرا ہوں میں تو چاہیے دونا ہو التفات
سنتا نہیں ہوں بات مکرر کہے بغیر
یارب زمانہ مجھ کو مٹاتا ہے کس لیے
لوحِ جہاں پہ حرف مکرر نہیں ہوں میں
مرتا ہوں اُس آواز پہ ہر چند سر اڑ جائے
جلاد سے لیکن وہ کہے جائیں کہ ہاں اور
پہلے شعر میں ’مکرر‘ کے لفظ نے ’سر کی قسم‘ کے لفظ کو مثبت اور منفی دونوں معنوں کا حامل بنا دیا ہے اور آخری شعر میں ’ہاں اور‘ کے لفظ نے مسلسل تکرار کی کیفیت پیدا کر دی ہے۔
یہ محض اتفاق ہے کہ بعد کے نقادوں نے غالب کی شاعری کے ضمن میں لہجے کی پہچان کا سلسلہ آگے نہیں بڑھایا۔ البتہ ماضی قریب میں جدید زندگی کے تقاضے اور بیسویں صدی کے سوالیہ مزاج کے پیش نظر غالب کی معنویت کے اس تناظر کو کسی قدر اہمیت دی گئی ہے مگر اس اندازِ نقد کا انحصار شعری لہجے کے مختلف پہلوؤں کی نشان دہی پر کم اور سماجی یا ثقافتی حوالے کے طور پر زیادہ رہا۔ اور اس طرح بات وہیں پہنچی کہ حالیؔ کی لہجہ شناسی کے باوجود غالب کے شعری لہجے کی شناخت کو کسی مربوط اور منظم تنقیدی طریق کار کی حیثیت حاصل نہ ہو سکی۔ جب کہ اس اندازِ مطالعہ کی اہمیت اس وقت اور بڑھ جاتی ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ ’لہجہ‘ پرمبنیاشعار کی تعداد غالب کے متداول دیوان میں بیش از بیش ہے۔ اس کے مقابلے میں ’نسخۂ حمیدیہ‘ میں یا بحیثیت مجموعی غالب کی شاعری کے اس حصے میں جس کو خود غالب نے انتخاب کے وقت دو ثلث کے قریب نکال دیا تھا، بہ مشکل گنتی کے دو چار اشعار ایسے ملتے ہیں جن کے معنی ’لہجے‘ سے متعین ہوتے ہوں۔ اس لیے حالی کا یہ اندازہ غلط نہیں معلوم ہوتا:
’’چوں کہ مرزا کی طبیعت فطرتا نہایت سلیم واقع ہوئی تھی ، اس لیے نکتہ چینیوں کی تعریضوں سے ان کو بہت تنبّہہ ہوتا تھا۔ آہستہ آہستہ ان کی طبیعت راہ پر آتی جاتی تھی۔ اس کے سوا جب مولوی فضل حق سے مرزا کی راہ و رسم بہت بڑھ گئی ، اور مرزا ان کو خالص دوست اور خیر خواہ سمجھنے لگے تو انھوں نے اس قسم کے اشعار پر بہت روک ٹوک شروع کی، یہاں تک کہ انھیں کی تحریک سے انھوں نے اپنے اردو کلام میں سے جو اس وقت موجود تھا، دو ثلث کے قریب نکال ڈالا اور اس کے بعد اس روش پر چلنا چھوڑ دیا—‘‘
اس بیان سے غالب کے انتخاب یا متداول دیوان میں شامل شاعری کو غالب کا نمائندہ ترین کلام قرار دینے پر حالی کا اصرار ثابت ہوتا ہے۔ اس لیے اس بات کو تسلیم کر لینے میں کوئی مضائقہ نہیں ہونا چاہیے کہ خود غالب کے نزدیک بھی اپنے مخصوص لہجے یا طرز ادا کی نمائندگی کرنے والے کلام کو کیا اہمیت حاصل تھی ؟— چنانچہ غالب کی تفہیم میں لہجے کی کارفرمائی اور لہجے کی تشکیل میں معاون عناصر کی نشان دہی کی طرف توجہ مبذول کر کے غالب فہمی کے دائرہ کار کو مزید وسعت دی جاسکتی ہے۔
غالب کے یہاں استفہامیہ اور استعجابیہ لہجے کی کثرت کا ذکر پہلے آچکا ہے۔ ان کی متعد د غزلیں ایسی ہیں جن میں زمین کا استعمال اور ردیف کا انتخاب پوری پوری غزل کو سوالیہ اور استفہامیہ اشعار کا مجموعہ بنا دیتا ہے۔ وہ کبھی لفظوں اور آوازوں کی تکرار سے، کبھی کسی لفظ میں تخفیف یا اضافے کے ذریعے، کبھی مناسباتِ لفظی کی بنیاد پر اپنے لہجے میں ارتعاشات پیدا کرتے ہیں، اور کبھی مکالمے ، تقابل اور موازنے کا طریقہ استعمال کر کے مناسب یا متضاد صورت حال کو ابھارتے ہیں۔ لہجے کا یہ تنوع ان کی شاعری میں بلند آہنگی اور شکوہ کی بالا دستی کے ساتھ ساتھ کبھی ان کے لہجے میں ٹھہراؤ، کبھی سرگوشی، کبھی محزونی، کبھی دھیما پن اور کبھی نرم روی پیدا کر دیتا ہے اس پر مستزاد یہ کہ اندازِ بیان کی اس کثرت کے باوجود ان کا لہجہ بھی پست اور انفعالیت زدہ نہیں ہوپاتا۔
غالب کی شاعری میں لہجے کے تنوع کو بعض نقادوں نے ان کے انشائیہ بیان کے دائرہ کار میں سمیٹنے کی کوشش کی ہے ، اور انشائیہ بیان کو ایک ایسے مطلق بیان سے تعبیر کیا ہے جو جھوٹ اور سچ کے احتمال سے ماورا ہو۔ ممکن ہے کہ علمائے بلاغت نے انشائیہ بیان کو خبر یہ بیان پر اسی باعث مقدم قرار دیا ہو کہ اس کا اطلاق دور رس ہو اور اس کی باعث تعمیم کا ایک بڑا دائرہ بنتاہے۔ تاہم اس کے علاوہ بھی غالب نے اپنے لہجے میں بعض ایسے پہلو نکالے ہیں جن کی وجہ سے معنی آفرینی کی نت نئی راہیں نکلتی ہیں، جن میں سے بعض کی طرف گزشتہ سطور پر توجہ دلائی گئی ہے۔ ابھی اس بات کا ذکر بھی آچکا ہے کہ غالب بعض لفظوں کی جگہ تبدیل کر کے یا بعض الفاظ میں حروف کی تخفیف یا سابقہ اور لاحقہ کا اضافہ کر کے مفہوم کے نئے امکانات پیدا کر دیتے ہیں۔ خورشید کی جگہ ’خور‘ اور نگاہ کی جگہ ’نگہ‘ کے الفاظ دوسرے شاعروں کے یہاں بھی ملتے ہیں مگر دوسروں کے یہاں بات مترادف لفظ کے استعمال سے آگے نہیں جاتی جب کہ غالب کے کلام میں اس طرح کی لفظی تحریف یا تقلیب مفہوم یا مدلول کی تحریف یا تقلیب کا اشاریہ ہوتی ہے۔ وہ کبھی ایک مصدر سے ایک ہی شعر میں کئی مشتقات نکالتے ہیں اور ہر لفظ اپنی جگہ انفرادی رول ادا کرتا ہے۔ وہ بھی مفر دلفظ کو مختلف تراکیب کے ساتھ استعمال کرتے ہیں اور کبھی لفظ کو مدلول یا شئے کا متبادل بنا کر پیش کرتے ہیں۔ شارحین غالب نے اس نوع کے اشعار میں ایک سے زیادہ معنی کی گنجائش کا ذکر کیا ہے، مگر اس بات کا تجزیہ بالعموم نہیں کیا گیا کہ معنی کی کثرت کی بنیا د لسانی سطح پر کیوں کر قائم ہوتی ہے۔ اس ضمن میں بعض مثالوں کے ذریعے الفاظ کی کارکردگی کو زیادہ واضح طور پر بیان کیا جا سکتا ہے۔ غالب کا ایک شعر ہے:
وفور اشک نے کاشانے کا کیا یہ رنگ
کہ ہو گئے مرے دیوار و در، در و دیوار
اس شعر کے دوسرے مصرعے میں دیوار کی جگہ ’در‘ اور ’در‘ کی جگہ دیوار کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ مگر لفظ کی جگہ تبدیل کر کے شئے یا مدلول کی جگہ کی تبدیلی کا جو انداز اختیار کیا گیا ہے وہ بلا شرکت غیرے غالب کا وہ بیا نیہ طریق کار ہے جو معنی آفرینی کے بالکل اچھوتے انداز کو سامنے لاتا ہے۔ اسی طرح غالب کا شعر ہے کہ :
منحصر مرنے پہ ہو جس کی امید
ناامیدی اس کی دیکھا چاہیے
اس شعر میں بہ ظاہر امید اور ناامیدی کی صنعت تضاد کو استعمال کیا گیا ہے۔ مگر تضاد کی صنعت یہاں محض ایک فنی تدبیر نہیں۔ شعر کی پوری منطق ’امید‘ کے لفظ پر قائم ہے۔ پہلے مصرعے میں مرنے کی امید پر جینے کا انحصار ملتا ہے مگر دوسرے مصرعے میں اسی امید یا جینے کے انحصار کو ناامیدی کے انسانی رویے پر مبنی دکھلایا گیا ہے۔ استعارے یا تمثیل کے استعمال کے بغیر ایک مثبت رویے سے منفی رویے کا مفہوم مخالف پیدا کر لینا غالب سے ہی مختص ہے:
غالب نے اپنے دو شعروں میںنگاہ، نگہ اور مژگاں کو قریب قریب ہم معنی الفاظ کے طور پر استعمال کیا ہے:
بہت دنوں میں تغافل نے تیرے پیدا کی
وہ اک نگہ جو بہ ظاہر نگاہ سے کم ہے
وہ نگا ہیں کیوں ہوئی جاتی ہیں یارب دل کے پار
جو مری کوتاہی قسمت سے مژگاں ہوگئیں
پہلے شعر میں توجہ اور تغافل کے لیے نگاہ اور نگہ میں ایک حرف کی کمی اور زیادتی پیدا کر کے پوری کھلی ہوئی آنکھ اور ادھ کھلی آنکھ کا تاثر پیدا کیا گیا ہے، اور لفظ کو معنی یا دال کو مدلول کا ایسا متبادل بنایا گیا ہے کہ توجہ ، عدم توجہ معمولی توجہ اور تغافل کا نازک اور باریک فرق معنوی سطح کے ساتھ لفظی سطح پر بھی قائم ہو گیا ہے۔ جب کہ دوسرے شعر میں نگاہوں کی دورری اور مژگاں کی کوتاہ ری کو دل کے پار ہونے اور کوتاہی قسمت کی مناسبت سے مژگاں کی کو تاہ قدی کو نمایاں کیا گیا ہے۔ اسی طرح غالب کا ایک شعر ہے:
ہے ہوا میں شراب کی تاثیر
بادہ نوشی ہے باد پیمائی
اس شعر کے بارے میں شارحین غالب نے بالعموم حالی کی وضاحت پر انحصار کیا ہے مگر یہ نہیں بتایا کہ دور اور قریب کے دو مفہوم کیوں کر محض ایک لفظ کی تحریف کے ذریعے واضح کیے گئے ہیں۔
اس شعر کا بنیادی لفظ ’باد‘ ہے اور اس سے بادہ نوشی اور باد پیمائی کی تراکیب بنائی گئی ہیں۔ باد کی مناسبت سے بادہ پیمائی اور بادہ کی مناسبت سے بادہ نوشی کے الفاظ نہ صرف یہ کہ اسم کو فعلیت سے ہم آہنگ کرنے کا ذریعہ ہیں بلکہ ایک ترکیب میں لغوی اور دوسری میں محاوراتی معنی کی گنجائش اس طرح پیدا کی گئی ہے کہ کبھی بادہ نوشی مبتدا معلوم ہوتی ہے اور باد پیپیمائی اس کی خبر اور کبھی باد مبتدا اور بادہ نوشی خبر بن جاتی ہے۔ مزید یہ کہ باد پیمائی کو ہوا خوری کے معنی میں سمجھا جائے تو اس سے سامنے کے معنی پیدا ہوتے ہیں اور کار فضول کے معنی میں اس کی تشریح کی جائے تو شراب نوشی ایک لایعنی فعل بن جاتی ہے۔ روز مرہ اور محاورے کا ایسا تخلیقی استعمال جو معنوی حد بندی کی نفی کرتا ہے اس کا دارو مدار غالب کے شعری لہجے کے لفظی طریق کار کے علاوہ کسی اور صنعت پر نہیں۔ غالب کا ایک شعر ہے:
ترے سر و قامت سے اک قد آدم
قیامت کے فتنے کو کم دیکھتے ہیں
اس پورے شعر کا انحصار قد و قامت کی لفظی ترکیب پر ہے۔ دونوں لفظ ہم معنی ہونے کے سبب مترادف کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ غالب نے قامت میں ایک حرف کا اضافہ کر کے قیامت کا لفظ بنایا اور قد کی رعایت سے قد آدم کی ترکیب اس طرح بنائی کہ سروقامت اور قد آدم میں مناسبت ہونے کے باوجود فرق باقی رہے اور اس طرح محبوب کے قامت کو قیامت کا مشابہ بتاتے ہوئے اک قد آدم کا استثنا کیا اور قیامت کے فتنے کی شدت کچھ اس طرح کم کر دی گویا قیامت کے فتنے میں محبوب کا قامت شامل بھی ہے اور الگ بھی۔ پھر یہ کہ عام قد آدم اور سروقامت محبوب کی رعایت کے باعث دونوں کا فرق بھی قائم رکھا گیا ہے۔ یہ لسانی ہنر مندی قد اور قامت کو بنیادی الفاظ کی طرح استعمال کرنے کے سبب ہی ممکن ہوسکی ہے جس کی بنیاد لفظ کی تحریف ہے۔ اسی طرح غالب کے ایک اور شعر میں ملنے اور کھانے کے مصدر سے شعری لہجے کی نوعیت متعین کی گئی ہے۔ شعر ہے:
زہر ملتا ہی نہیں مجھ کو ستم گر ورنہ
کیا قسم ہے ترے ملنے کی کہ کھا بھی نہ سکوں
اس شعر کا لہجہ بنیادی طور پر کھانے کے فعل پر قائم ہے۔ قسم بھی کھائی جاتی ہے اور زہر بھی کھایا جاتا ہے، لیکن قسم کے لیے کھانے کا لفظ محاور تا استعمال ہوتا ہے اور زہر کا کھانا ، لسانی روز مرہ کہلاتا ہے۔ یہاں محاورے اور روز مرہ کو ایک دوسرے میں خلط ملط کر کے دو پہلو پیدا کیے گئے ہیں ، ایک کھانے کا پہلو جو ملنے کی قسم کے لفظ سے محاور تاً وابستہ ہے اور دوسرا وہ کھانا جوزہر کے لیے استعمال ہوا ہے۔ اسی طرح دونوں مصرعوں میں کھانے کے فعل کے ساتھ ملنے کا عمل بھی زہر کے ملنے اور محبوب کے ملنے سے مربوط ہے۔ اس طرح ملنے اور کھانے کے الفاظ کی نحوی منطق پورے شعر کے لیجے کا تعین بھی کرتی ہے اور مفہوم کے ایک سے زیادہ پہلو بھی نمایاں کرتی ہے۔
غالب کے کلام میں روز مرہ محاورہ ، استعارہ اور تمثیل کا جو استعمال ملتا ہے وہ عمو ماکسی معروض کی نمائندگی کے بجائے اپنے آپ میں الفاظ کو معروض کی حیثیت سے برتنے پر قائم ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ الفاظ بجائے خود انسانی تجربے یا تصویر کائنات کی تخلیق کرتے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ وہ مناسبت یا تضاد جس کو لفظوں کی سطح پر روارکھا گیا ہے ، وہ کائنات کے مناسب یا متضاد نظام کو نئے سرے سے مرتب کرتا ہے۔ متذکرہ مثالوں میں لغوی اور محاوراتی معنوں کے تصادم سے قول محال یا پیراڈوکس (Paradox) کی تخلیق کی جو کیفیت ملتی ہے اس کا سلسلہ عام انسانی تجربات سے لے کر روحانی یا متصوفانہ تصور کائنات تک جاتا ہے۔ وہ تصوف تک کے گہرے مسائل کی ترجمانی کرنے کے بجائے لفظوں کی مدد سے اس تصویر کائنات کی تشکیل کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر ان کا ایک شعر ہے:
ہے غیبِ غیب جس کو سمجھتے ہیں ہم شہود
ہیں خواب میں ہنوز جو جاگے ہیں خواب میں
پہلے مصرعے میں غیب کے غیب سے شہود کے معنی کا استخراج کیا گیا ہے اور دوسرے میں ایک خواب کو سونے کے معنی میں اور دوسرے خواب کو دیکھنے کے معنی میں اس طرح استعمال کیا گیا ہے کہ خواب میں جاگنا بھی خواب دیکھنے کی ہی ایک شکل بن کر سامنے آیا ہے۔ اس طریق کار سے اندازہ ہوتا ہے کہ توافق میں تضاد کیسے ابھارا گیا ہے اور ظاہری تجربے کی گہرائی میں باطنی ادراک کے امکانات کیسے ترتیب دیے گئے ہیں۔
غالب کے یہاں الفاظ میں تحریف یا ایک لفظ کو فعل بنا کر کئی طرح کے اسم کے لیے اس فعل کا اطلاق کثرت سے ملتا ہے۔ ان کا ایک مطلع ہے:
نکتہ چیں ہے ، غم دل اس کو سنائے نہ بنے
کیا بنے بات جہاں بات بنائے نہ بنے
اس غزل میں ’نہ بنے‘ کی ردیف سے پوری غزل میں طرح طرح کے معنوی امکانات پیدا ہوئے ہیں۔ خود اس شعر میں چار جگہ ’بنے‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ مگر شاعرکا ڈرامائی لہجہ ہر مصرعے کو اس طرح مختلف حصوں میں تقسیم کرتا ہے کہ نکتہ چیں ہے—غم دل— اس کو سنائے نہ بنے ، اور ، کیا بنے بات جہاں— بات بنائے نہ بنے— جیسے پانچ چھوٹے چھوٹے فقرے بن جاتے ہیں اور ہر فقرہ صوتی اعتبار سے ایک مکالمے کی شکل اختیار کر جاتا ہے۔ مگر جب تک ان فقروں کو الگ الگ آوازوں کی حیثیت سے نہ دیکھا جائے اس کی ڈرامائیت کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔ اس شعر میں بنے اور نہ بنے کے فعل نے مختلف صفات اور ضمائر کے ساتھ مل کر شعری لہجے کی تشکیل کی ہے۔ غالب کے لہجے میں ڈرامائیت کے ساتھ ساتھ خود کلامی کا انداز بھی ملتا ہے متذکرہ بالا غزل کے زیادہ تر اشعار میں ڈرامائیت اور خود کلامی ، دونوں مخلوط ہو کر مختلف آوازوں کا احساس دلاتے ہیں۔ اختصار کی خاطر صرف ایک شعر سے مثال دی جاسکتی ہے۔
موت کی راہ نہ دیکھوں؟ کہ بن آئے نہ رہے
تم کو چا ہوں؟ کہ نہ آؤ تو بلائے نہ بنے
دونوں مصرعوں کے پہلے حصے سوالیہ ہیں اور ان سوالوں میں تخاطب کم اور خود کلامی زیادہ ہے جب کہ دوسرے حصے میں جواب دیے گئے ہیں اور سوال کے ساتھ جواب میں بھی خود کلامی کا لہجہ برقرار رکھا گیا ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ تخاطب کی ضمیر کے استعمال کے باوجود خود کلامی کا غیر مشروط لہجہ کیسے قائم کیا جا سکتا ہے۔ اس شعر کے دونوں مصرعوں میں ’کیوں‘ کے لفظ سے سوال کرنے کا تاثر ملتا ہے مگر کیوں دونوں جگہ مخفی ہے۔ یعنی موت کی راہ کیوں نہ دیکھوں؟ اور تم کو کیوں چاہوں؟ ایک سوال محض استفہام اور دوسرا استفہام انکاری۔ مگر نتیجہ دونوں جگہ منفی جواب کی صورت میں نکلتا ہے۔ اگر ان مصرعوں کی ادائیگی میں آوازوں کے اتار چڑھاؤ کا خیال نہ رکھا جائے تو بسا اوقات مفہوم کے خبط ہونے کا اندیشہ بھی ممکن ہے۔
غالب کے ڈرامائی لہجے میں عاشق اور محبوب کا مکالمہ محبوب کے حال پر تبصرہ اور خود کلامی کے انداز میں معروضی طریقے سے تاثرات پیش کرنے کی کیفیت ، سب کچھ شامل ہے۔ نمونے کے طور پر ان چند اشعار سے آوازوں کی تفریق اور لہجیکے اتار چڑھاؤ کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
ترے وعدے پر جیے ہم/ تو یہ جان/ جھوٹ جانا کہ خوشی سے مر نہ جاتے/ اگر اعتبار ہوتا ہر ایک بات پہ/کہتے ہو تم/کہ تو کیا ہے؟ تمہیں کہو/ کہ یہ انداز گفتگو کیا ہے؟ زہے کرشمہ/ کہ یوں دے رکھا ہے ہم کو فریب کہ بن کہے ہی/ انھیں سب خبر ہے/ کیا کہئے لیتا ہوں مکتب غم دل میں سبق ہنوز لیکن وہی کہ رفت، گیا / اور بود، تھا کہتے ہو/ نہ دیں گے ہم/دل اگر پڑا پایا دل کہاں ؟ / کہ گم کیجیے/ ہم نے مدعا پایا دیا ہے دل اگر اس کو/ بشر ہے کیا کہیے ہوا رقیب تو ہو/ نامہ بر ہے/ کیا کہیے۔
ان شعروں میں لہجے کا رول زبان کے رول سے کسی طرح کم نہیں۔ لہجے کے فرق سے ہی قائل اور قول کی نوعیت متعین ہوتی ہے اور صحیح قرأت کے بغیر عام فہم الفاظ کے استعمال کے باوجود معنی مہم رہتے ہیں۔ شمیم حنفی نے اپنے ایک مضمون میں لہجے اور ادائیگی کا ذکر کرتے ہوئے زیادہ تر اشعار غالب کی شاعری سے پیش کیے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ :
غزل کے اشعار میں الفاظ کے معنی بعض اوقات مصرعے یا شعر کے آہنگ سے متعین ہوتے ہیں۔ بعض الفاظ کی حیثیت مرکزی اور کلیدی ہوتی ہے جن پر لہجے کا مناسب دباؤ نہ ڈالا جائے تو معنی کے کچھ زاویے روپوش رہ جائیں گے۔ مثلاً
کوئی ویرانی سی ویرانی ہے
دشت کو دیکھ کے گھر یاد آیا
گو ہاتھ میں جنبش نہیں، آنکھوں میں تو دم ہے
رہنے دو ابھی ساغر و مینا مرے آگے
رنگ شکستہ صبح بہار نظارہ ہے
یہ وقت ہے شگفتنِ گلہائے ناز کا
پہلے شعر میں لہجہ خوف کا ہے یا حیرانی کا یا تأسف کا تمسخر کا۔ اسی طرح دوسرے شعر میں غصے کا اظہار ہے یا حسرت کا۔ تیسرے شعر کا لہجہ بیانیہ ہے یا استفہامیہ۔ ظاہر ہے کہ کوئی قطعی فیصلہ نہیں کیا جاسکتا کیوں کہ ان اشعار کے لب ولہجہ میں بیک وقت کئی امکانات سمٹ آئے ہیں۔ ‘‘ (اہمال کی منطق )
لیکن اگر ان اشعار کے لہجے سے تشکیلی عناصر پر غور کیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ پہلے شعر میں خوف، حیرانی ، تأسف یا تمسخر کے پہلوؤں کی موجودگی تو یقینا ہے لیکن ’ویرانی سی ویرانی‘ کے ساتھ ’کوئی‘ یا ’کیسی‘ کی سوالیہ علامت نے پورے شعر میں بنیادی لہجہ استفہام کا پیدا کیا ہے ، اس لیے باقی دوسرے لہجے بھی اسی سوال یا استفہام کے نتیجے میں اشتراک یا اختلاف کے پہلو یکساں طور پر نمایاں ہوئے ہیں۔ اگر آپ اسے مشترک ماحول کی نشان دہی تسلیم کریں تو گھر کی ویرانی اور دشت کی ویرانی یکساں نظر آئے گی اور اگر دونوں میں آپ کو اختلاف کے پہلو نظر آئیں تو شعر کا بنیادی لہجہ حیرانی کا لہجہ قرار پائے گا اور دشت کی ویرانی کے لیے تمسخر اور گھر کی ویرانی کے لیے اطمینان یا افتخار کا احساس نمایاں دکھائی دے گا۔
غالب کے استفہامیہ لہجے کا ذکر پہلے بھی آچکا ہے مگر محض اشارتاً۔ جب کبھی کسی شاعر کو اپنے زمانے کے سیاق و سباق میں سمجھنے کی کوشش کی جاتی ہے تو اس کی شاعری کے ایسے عناصر پر اصرار کیا جاتا ہے جن عناصر کو اپنے زمانے کے لیے کارآمد تصور کیا جاتا ہے۔ یہ بات درست ہو سکتی ہے کہ بیسویں صدی کا مزاج چوں کہ تشکیک یا سوال قائم کرنے کا ہے اس لیے یہ سمجھ لینا کہ غالب کی شاعری اپنے استفہامیہ یا تشکیکی لہجے کے باعث اس عہد سے زیادہ ہم آہنگ ہے۔ مگر اس نوع کے مفروضے قائم کرنے میں اس بات کا اندیشہ یقینا سر اٹھاتا ہے کہ اگر مستقبل میں انسانی صورت حال کی شناخت تشکیک کے علاوہ کسی اور غالب انسانی رویے پر قائم ہوتی ہے، تو اس عالم میں ایسے تمام عناصر جو غالب کی شاعری کو بیسویں صدی کے مزاج کا شاعر ثابت کرتے ہیں از کار رفتہ ثابت ہو جائیں گے اس لیے زمانی طور پر مشروط شاعری کے معنوی امکان کا مسئلہ بڑا پیچیدہ ہو جاتا ہے۔
غالب کی شاعری میں استفہامیہ لہجے کی کارکردگی کو اگر انسان کے فطری تجسس کے پس منظر میں دیکھا جائے تو شاید اس لیجے کی معنویت غیر زمانی بنیادوں پر بھی قائم ہو سکے۔ غالب کے استفہام میں انکاری عصر نے اس کی شاعری کو محض تجسس تک محدود نہیں رکھا بلکہ سوالات کے طویل سلسلے اور اس سے عدم اطمینان کا رویہ بھی واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ غالب نے اپنے دیوان کے سرنا مے کے طور پر جس مطلع کا انتخاب کیا تھا وہ کسی مخصوص زمانے کے بجائے علی الاطلاق کائنات کی تخلیق کی نوعیت پر ہی سوال قائم کرنے سے عبارت ہے۔
نقش فریادی ہے کس کی شوخی تحریر کا
کاغذی ہے پیرہن، ہر پیکر تصویر کا
اس مطلع میں استفہام کے ساتھ حیرانی کے لہجے نے جہاں ایک طرف کائنات کے تضاد یا طنزیہ طریق کار کو نمایاں کیا ہے وہیں دوسری طرف ’نقش فریادی ہے کس کی شوخی تحریر کا‘ کے الفاظ ہستی مطلق کی عظمت کے اعتراف اور مصور کائنات کے حیرت انگیز انداز تخلیق کے سامنے انسان کی پسپائی کو بھی ثابت کرتے ہیں۔ اس شعر میں حیرت، اعتراف، طنز اور مفاہمت کے جو لہجے بنتے وہ سب کے سب استفہام اور استعجاب کے بنیادی لہجے کے تابع ہیں۔ غالب کے استفہامیہ لہجے کو اسی وجہ سے ان کا بنیادی لہجہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ یوں تو اس لہجے کے لیے بیش تر جگہوں پر غالب نے سوال یا استفہام کی علامت تک استعمال نہیں کی ہے مگر انھوں نے متعدد غزلوں کی ساخت ہی ایسی متعین کی ہے کہ اس کی زمین اور ردیف و قوافی کا التزام پوری پوری غزل کو ہمہ جہت سوال اور استفسار بنا دیتا ہے۔ مثال کے طور پر سامنے کے چند مطلعوں کو ملاحظہ کیا جا سکتا ہے:
جب تک دہانِ زخم نہ پیدا کرے کوئی
مشکل کہ تجھ سے راہ سخن وا کرے کوئی
دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے
آخر اس درد کی دوا کیا ہے
دوست غم خواری میں میری سعی فرمائیں گے کیا
زخم کے بھرنے تلک ناخن نہ بڑھ جائیں گے کیا
کسی کو دے کے دل کوئی نواسنج فغاں کیوں ہو
نہ ہو جب دل ہی سینے میں تو پھر منھ میں زباں کیوں ہو
ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے
تمہیں کہو کہ یہ انداز گفتگو کیا ہے
ابن مریم ہوا کرے کوئی
میرے دکھ کی دوا کرے کوئی
ان اشعار میں کیا ہے، کیا، کیوں، کوئی، کیا ہے جیسی استفہامیہ علامتیں ردیف میں موجود میں اور ان علامتوں سے ہی پوری پوری غزل کا لہجہ متعین ہوتا ہے۔ ان علامتوں کے علاوہ غالب نے کثرت سے ایسے اشعار بھی کہے ہیں جن میں دعویٰ اور دلیل یا سوال اور جواب کا گمان گزر رہتا ہے مگر اکثر ان کی دلیل یا ان کا جواب بھی سوال کی توسیع بن کر قطعیت کے بجائے مفہوم کو سیال یا عمومی صورت حال کا نمونہ بنادیتا ہے۔
سب کہاں ؟ کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں
خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں
کیا وہ نمرود کی خدائی تھی؟
بندگی میں مرا بھلا نہ ہوا
مانع وحشت خرامی ہائے لیلیٰ کون ہے
خانۂ مجنون صحرا گرد بے دروازہ تھا
جاں کیوں نکلنے لگتی ہے سن کر دم سماع
گر وہ صدا سمائی ہے چنگ و رباب میں
ز ہے کرشمہ کہ یوں دے رکھا ہے ہم کو فریب
کہ بن کہے ہی انھیں سب خبر ہے کیا کہیے
پہلے شعر میں ’ خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں‘ کی مبتدا کی بنیاد پر کچھ لالہ وگل میں نمایاں ہو گئیں کی خبر اس طرح پہلے مصرعے میں تحیر کے لہجے کے ساتھ واضح کر دی گئی ہے کہ بہ ظاہر دعوئی اور دلیل کے سبب شعر تمثیلی انداز بیان کا نمونہ معلوم ہوتا ہے۔ لیکن غور کرنے پر اندازہ ہوتا ہے کہ شعر کا پہلا ہی لفظ ’سب‘ تمثیل سے کہیں زیادہ استثنا کے ساتھ ساتھ استعجاب اور حیرت کا ایسا لہجہ تشکیل دیتا ہے جو دوسرے مصرعے میں ’کیا صورتیں ہوں گی ‘کے تحیرآمیز لہجے سے مل کر صوتی اور اسلوبیاتی ’کل‘ کی تکمیل کرتا ہے۔ اسی طرح دوسرے شعر میں استفہام انکاری تیسرے میں تضاد اور طنر کی کیفیت، چوتھے شعر میں استفہامیہ خود کلامی اور پانچویں شعر میں تحیر کے ساتھ ساتھ تشکیک کے لہجوں نے غالب کے ان اشعار کو مفہوم کی قطعیت کے ساتھ لہجے کی قطعیت سے بھی آزاد رکھا ہے۔
غالب نے اپنی غزلوں میں تقابل اور مواز نے کا انداز بھی جگہ جگہ اختیار کیا ہے۔ وہ تضاد کو محض تضاد کے طور پر ابھارنے کے بجائے ، موازناتی یا تقابلی فضا کی تخلیق کرتے ہیں اور دو طرح کے معروض یا تجربے میں بو العجبی کی صورت حال نمایاں کرتے ہیں۔
واں کرم کو عذر بارش تھا عناگیر خرام
گریے سے یاں پنبہ بالش کف سیلاب تھا
واں خود آرائی کو تھا موتی پرونے کا خیال
یاں ہجوم اشک میں تار نگہہ نایاب تھا
جلوہ گل نے کیا تھا واں چراغاں آبجو
یاں رواں مژگان چشم تر سے خون ناب تھا
فرش سے تا عرش واں طوفاں تھا موج رنگ کا
یاں زمیں سے آسماں تک سوختن کا باب تھا
اسی طرح ایک دوسری غزل کے دو شعروں میں علامت تقابل کے بغیر تقابلی صورت حال نمایاں کی گئی ہے:
جب کہ میں کرتا ہوں اپنا شکوۂ ضعف دماغ
سرکرے ہے وہ حد یث زلف عنبر بار دوست
چپکے چپکے مجھ کو روتا دیکھ پاتا ہے اگر
ہنس کے کرتا ہے بیان شوخی گفتار دوست
ویسے تو تقابل اور موازنے کی صورت حال غالب کے ان گنت شعروں میں ملتی ہے۔ لیکن مذکورہ بالا پہلی غزل میں معروض کی مشابہت کی بنیاد پر متکلم اور محبوب کی دو متضاد کیفیات نمایاں کی گئی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ گویا پوری غزل معروضی تلازمہ خیال کا ایک ایسا نمونہ ہے جس کے ہر شعر کا ایک مصرعہ دوسرے مصرعے کی مناسبت سے کوئی نہ کوئی منظر سامنے لاتا ہے۔ لیکن مماثل ہونے کے باوجود ایک کے طربیہ انداز کو دوسرے کے المیہ کی شدت نے حددرجہ عبرت خیز بنادیا ہے۔ مزید برآں یہ کہ ہر شعر میں تضاد، تطابق، تشبیہ اور تناسب لفظی و معنوی نے شاعر کے تقابلی لہجے کو کچھ اور مستحکم کر دیا ہے۔ موازنے کا یہ ا نداز دوسری غزل کے اشعار میں بھی ہے لیکن تلازمۂ خیال کا استعمال اس میں نہ ہونے کے برابر ہے۔ تاہم اس کا لہجہ بھی تقابل کی بنیاد پر قائم ہے۔
ان معروضات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ غالب کی شاعری میں لہجہ اور اندازِ گفتگو نے نحوی اور معنوی سطحوں پر کن جہات کا اضافہ کیا ہے اور یہ توقع بھی کی جا سکتی ہے کہ شعری لہجے کے نقطۂ نظر سے غالب کی قدروقیمت کا تعین آئندہ ان کی لسانیاتی اور صوتی کافرمائیوں کا سحر اور بھی نمایاں کر سکتا ہے۔ (1997)

ماخذ:شاعری کی تنقید،مصنف: ابوالکلام قاسمی، طباعت: 2011
ناشر: قومی قونسل برائے فروغ اردو زبان

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

,عجائباتِ فرنگ میں غیرافسانوی طرز وضاحت کی جھلکیاں ، مضمون نگار:مجید بیدار

تلخیص جس دور میں محمدیوسف کمبل پوش نے انگلستان کا سفر کیا، اس دور کی خاصیت یہ تھی کہ عربی ہی نہیں، بلکہ فارسی اور اردو زبان میں ان ایشیائی

غالب خستہ کے بغیر …مضمون نگار:قدوس جاوید

تلخیص دراصل غالب کی’ عصری معنویت ‘کی تفہیم و تعبیر کے لیے غالب کے دور اور عہد حاضر کو ایک صفحے پر رکھ کر غالب کی نئی قرات لازمی ہے۔

تنوع پسند شاعر: مرزا محمد رفیع سودا،مضمون نگار: ابوبکرعباد

تلخیص: مرزا محمد رفیع سودا ہمارے بڑے اور اہم شاعر ہیں۔ان کی پرورش و پرداخت ایک مخصوص معاشرتی اور معاشی ماحول میں ہوئی۔انھوں نے اپنے زمانے کے مقتدر، با ثر