مرزا غالب اور ان کے بہاری تلامذہ،مضمون نگار:سلطان آزاد

March 18, 2026 0 Comments 0 tags

تلخیص


مرزا غالب اردو کے پہلے فلسفی شاعر ہیں۔ ان کا سارا فلسفہ اور تصوف ان کی فکر روشن کی کرشمہ سازی ہے، ایسا ان کے ناقدین کہتے ہیں۔ مرزا غالب نے نہایت اعلیٰ درجے کا دل و دماغ پایا تھا اور ان میں خود اپنی اصلاح کی صلاحیت بہ درجہ اتم موجود تھی۔ اس لیے انھوں نے ساری عمر ہر گوشے کو مس کیا جس کی بدولت ان کا شعری فن آسمان کی بلندیوں تک جاپہنچا۔
روایت ہے کہ غالب کی فکر شعر کا طریقہ یہ تھا کہ وہ اکثر رات کے عالم سرخوشی میں فکر سخن کیا کرتے تھے اور جب کوئی شعر سرانجام ہوجاتا تھا تو کمربندمیں ایک گرہ لگا لیا کرتے تھے۔ اسی طرح آٹھ آٹھ،دس دس گرہیں لگاکر سورہتے تھے اور دوسرے دن صرف یاد سے سوچ سوچ کر تمام اشعار قلم بند کرلیتے تھے۔
مرزا غالب اپنی شاعری میں فارسی شاعری کو مقدم مانتے تھے کیونکہ وہ دور ہی فارسی زبان و ادب کا تھا۔ چنانچہ وہ فارسی شاعری میں اساتذہ شعرا میں مرزا بیدل، ظہوری، عرفی اور نظیری سے متاثر تھے۔ گویا مرزا غالب کو اپنی فارسی شاعری پر ناز تھا۔ لیکن ان کی شہرت و مقبولیت اردو سے ہوئی جسے وہ ’بے رنگ‘ کہتے تھے۔
غالب نے مومن کے علاوہ میر سے بھی استفادہ کیا اور جو غزلیں میر کے رنگ میں لکھیں وہ بلاشبہ سہل ممتنع کی مصداق ہیں۔ اپنے اساتذہ شعرا سے کسب فیض کے بعد انھوں نے اپنی جودت طبع اور مشق سخن کی بدولت اپنا انداز بیان خود ایجاد کیا۔
مختصر یہ کہ مرزا غالب کے خصوصی کلام اور اندازِبیان جس پر ان کی شاعرانہ عظمت کا قصر تعمیر ہوا۔ مرزا غالب کی شہرت و مقبولیت کے باعث ان کے دوست و احباب کی طویل فہرست ہے۔ ان کے حلقہ تلامذہ میں اندرون دہلی کے علاوہ دوسرے شہروں بالخصوص صوبہ بہار کے بھی کئی تلامذہ رہے ہیں۔ ان کے تذکرے، کتابوں اور دیگرعلمی تحقیقی ذرائع سے حاصل ہوئے ہیں۔انھیں اس مضمون میں شامل کیا گیا ہے۔


کلیدی الفاظ
خلعت فاخرہ،معزول، مس،گرہ، مشق سخن، قلزم فیض، استفادہ، جودت طبع، قصر، شرح، تلامذہ، عالم سرخوشی، فکر سخن۔

مرزا اسد اللہ بیگ خاں اصلی نام، مرزا نوشہ عرفی اور نجم الدولہ دبیر الملک اسد اللہ خاں بہادر جنگ، خطاب اور مرزا غالب قلمی نام، اسد اور غالب تخلص، ابن مرزا عبداللہ بیگ کی پیدائش 27دسمبر1797 آگرہ میں ہوئی۔ اگرچہ ان کی تاریخ پیدائش میں اختلاف رائے ہے۔ بعض محققین کی رائے میں1798 ہے۔ بقول مالک رام ’’ہمیں غالب کی تاریخ ولادت 8رجب 1212ھ ہی ماننا پڑے گا۔ جو ان کے خاندان کی روایت کے مقابل عیسوی تاریخ 27دسمبر 1797 تھی اور دن چہار شنبہ،تاریخ وصال15فروری 1869 مدفون بستی نظام الدین، دہلی۔
چونکہ غالب بچپن میں ہی یتیم ہو گئے تھے اس لئے ان کی پرورش وپرداخت ان کے چچا مرزا نصراللہ بیگ خاں نے کی۔ جب وہ آٹھ سال کے تھے اس وقت چچا کا بھی انتقال ہو گیا۔ اس طرح نواب احمد بخش بیگ نے مرزا کے خاندان کے لیے انگریزی حکومت سے وظیفہ مقرر کرا دیا۔ مرزا نے ابتدائی تعلیم آگرہ کے مشہور عالم مولوی محمد معظم صاحب سے حاصل کی۔ بعد ازاں ایرانی عالم سلسلہ سیر و سیاحت وارد آگرہ ہوا جس سے انھوں نے دو سال تک تعلیم حاصل کی۔
مرزا غالب کی شاعری کی ابتدا بچپن میں ہوگئی تھی جب وہ دس سال کے تھے۔ اس وقت انھوں نے ایک فارسی غزل اپنے استاد مولوی معظم کی خدمت میں بغرض اصلاح پیش کی تھی۔ ان کی شاعری کے تلمذ کے سلسلے میں الطاف حسین حالی لکھتے ہیں:
’’اگرچہ کبھی کبھی مرزا کی زبان سے یہ بھی سنا گیا ہے کہ مجھ کو مبدا فیاض کے سوا کسی سے تلمذ نہیں ہے۔ عبدالصمد محض ایک فرضی نام ہے۔ چونکہ لوگ مجھے بے استادا کہتے تھے، اس لیے ان کا منہ بند کرنے کے لیے میں نے ایک فرضی استاد گڑھ لیا۔ مگر اس میں شک نہیں کہ عبدالصمد فی الواقع ایک فارسی نژاد آدمی تھا اور مرزا نے اس سے فارسی زبان سیکھی تھی۔‘‘
(بحوالہ: شرح دیوان غالب، شارح پروفیسر یوسف سلیم چشتی،ص25)
1810 بہ عمر13سال مرزا غالب کی شادی نواب احمد بخش خاں کے چھوٹے بھائی نواب الٰہی بخش خاں معروف کی صاحبزادی امرائو بیگم سے ہوئی اور1812 میں انھوں نے اپنے آبائی وطن آگرہ کو خیرباد کہہ کر دہلی میں سکونت اختیار کرلی۔ اس طرح نقل مکانی سے ان کی زندگی میں ایک انقلاب رونما ہوگیا۔ یہاں آکر ان کی راہ و رسم بعض ایسے علم دوست حضرات سے ہوئی جن کی ذات سے انھیں گوناگوں علمی اور اخلاقی فوائد حاصل ہوئے۔ اور ان کی شاعری اسی شہر میں پھلی پھولی۔ اگرچہ سیاسی اعتبار سے مغلیہ حکومت زوال پذیر ہو رہی تھی اور انگریزی حکومت رفتہ رفتہ پورے ہندوستان پر قابض ہوچکی تھی۔ا س پر آشوب ماحول میں مرزا غالب کی آمدنی کا واحد ذریعہ پنشن تھی۔ یہ اور بات ہے کہ غالب کو بہادر شاہ ظفر نے 1850 میں حکیم ا حسن اللہ خاں مدار المہام اور مولانا نصیر الدین عرف میاں کالے صاحب کی سفارش پر ان کو خلعت فاخرہ اور ’’نجم الدولہ دبیر الملک نظام جنگ‘‘ کا خطاب عطا کیا۔ پچاس روپے تنخواہ مقرر کی اور خاندان تیموری کی تاریخ لکھنے پر مامور کیا۔ 1854 میں مرزا فخرالدین ولی عہد ان کے شاگرد ہوئے۔ انھوں نے چار سو روپے سالانہ تنخواہ مقرر کی۔ اسی زمانہ میں واجد علی شاہ کی سرکار سے پانچ سو روپے وظیفہ مقرر ہوا۔ مگر بدقسمتی سے واجد علی شاہ معزول ہوگئے اور جولائی 1856 میں مرزا فخرو کا انتقال ہوگیا۔ ساتھ ہی1857 میں لال قلعہ ہمیشہ کے لیے اجڑ گیا۔ انقلاب 1857 کے بعد مرزا غالب کی مالی حالت بہت زبوں ہوگئی تھی۔ اس لیے انھوں نے نواب یوسف علی خاں والی رامپور کو مستقل وظیفے کے لیے لکھا۔ چنانچہ رام پور کا وظیفہ مرزا غالب کو تادم وفات ملتا رہا۔
چونکہ مرزا غالب نے نہایت اعلیٰ درجے کا دل و دماغ پایا تھا اور ان میں خود اپنی اصلاح کی صلاحیت بہ درجہ اتم موجود تھی۔ اس لیے انھوں نے ساری عمر ہر گوشے سے استفادہ کیا، جس کی بدولت ان کا شعری فن آسمان کی بلندیوں تک جا پہنچا۔ روایت ہے کہ غالب کی فکر شعر کا طریقہ یہ تھا کہ وہ اکثر رات کو عالم سرخوشی میں فکر سخن کیا کرتے تھے اور جب کوئی شعر سرانجام ہوجاتا تھا تو کمربند میں ایک گرہ لگالیا کرتے تھے۔ اس طرح آٹھ آٹھ، دس دس گرہیں لگاکر سو رہتے تھے اور دوسرے دن صرف یاد سے سوچ سوچ کر تمام اشعار قلم بند کرلیتے تھے۔
مرزا غالب اپنی شاعری میں فارسی شاعری کو مقدم مانتے تھے کیونکہ وہ دور ہی فارسی زبان و ادب کا تھا۔ چنانچہ وہ فارسی شاعری میں اساتذہ شعرا میں مرزا بیدل، ظہوری، عرفی اور نظیری سے متاثر تھے۔ گویا مرزا غالب کو اپنی فارسی شاعری پر ناز تھا، جیسا کہ ان کے اس شعر سے ظاہرہوتا ہے ؎
فارسی بین تابہ بینی نقش ہائے رنگ رنگ
بگذر از مجموعہ اردو کہ بے رنگ من است
لیکن ان کی شہرت و مقبولیت اسی مجموعہ اُردو سے ہوئی جسے وہ ’’بے رنگ‘‘ کہتے تھے۔ روایت ہے کہ مرزا غالب نے اردو کلام کا انتخاب خود کیا تھا۔ جس کا پہلا ایڈیشن 1841 میں شائع ہوا۔ دوسرا ایڈیشن 1847، تیسرا ایڈیشن 1861، چوتھا ایڈیشن1862 اور پانچواں ایڈیشن 1863 میں شائع ہوا۔ گویا 1863 سے لے کر اب تک اردو دیوان کے بہت سارے ایڈیشن مختلف اداروں سے شائع ہوچکے ہیں لیکن کون سا دیوان اردو مستند ہے یہ نہیں کہا جاسکتا۔ اس کی وضاحت کرتے ہوئے ’’شرح دیوان غالب‘‘ کے شارح پروفیسر یوسف سلیم چشتی لکھتے ہیں:
’’افسوس یہ ہے کہ اگرچہ 1863 سے لے کر تاایندم اردو دیوان کے بہت سے ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں۔ مگر کوئی ایڈیشن ایسا نہیں ہے کہ جسے مستند کہاجاسکے۔ موجودہ زمانہ میں جس قدر ایڈیشن دستیاب ہوتے ہیں، وہ سب ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ا س اختلاف کی تفصیل بہ خوف طوالت نظرانداز کی جاتی ہے۔‘‘
(بحوالہ:شرح دیوان غالب، شارح پروفیسر یوسف سلیم چشتی، مطبع دہلی،2017 ص:47)
مرزا غالب کی فارسی شاعری میں ان تمام شعرا کا رنگ جھلکتا ہے جن سے وہ متاثر تھے۔ مثلاً مرزابیدل، ظہوری، عرفی اور نظیری۔ اردو شاعری میں ناسخ اور مومن کو پسند کیا۔ بقول ’’غالب آخر میں میر کے رنگ میں در آئے‘‘۔ حالانکہ اردو شاعری میں بھی مرزا بیدل ہی کو سامنے رکھ کر مشق سخن کی ہے۔ مرزا بیدل سے انھیں بے پناہ عقیدت تھی جس کا اظہار بھی کیا ہے۔
چند اشعار ملاحظہ ہوں ؎
طرز بیدل میں ریختہ کہنا
اسد اللہ خاں! قیامت ہے
——
آہنگ اسد میں نہیں جز نغمہ بیدل
عالم ہمہ افسانہ مادارد وما، ہیچ
——
مجھے راہ سخن میں خوف گمراہی نہیں غالب
عصائے خضر صحرائے سخن ہے خامہ بیدل
——
اسد! ہر جا سخن نے طرح باغ تازہ ڈالی ہے
مجھے رنگ بہار ایجادی بیدل پسند آیا
——
ہم چناں آں محیط ہے ساحل
قلزم فیض میرزا بیدل
مختصر یہ کہ غالب نے بیدل کو’’قلزم فیض‘‘ اس لیے قرار دیا کہ ان کے بہت سے بلند پایہ اشعار دراصل بیدل کے تخیلات پر مبنی ہیں۔
مثلاً بیدل کا یہ شعر ؎
ہم ز نا رسائی شد اشک و با عرق ساخت
پسیتست گر خجالت شبنم کند ہوا را
غالب کا یہ شعر ؎
ضعف سے گریہ مبدل بہ دم سرد ہوا
باور آیا ہمیں پانی کا ہوا ہو جانا!
مرزا غالب نے اردو شاعری میں مرزا بیدل کے علاوہ ناسخ کی پیروی کی۔جس کا ذکر خود مرزا غالب نے کیا ہے۔
’’میری غزل گوئی کی ابتدا تھی کہ ناسخ کا دیوان پہلے پہل دہلی میں پہنچا۔ شیخ (ناسخ) کی سخن سنجی کی سارے شہر میں دھوم مچ گئی۔ میں نے اور مومن نے ان سے متبع ہونا چاہا۔ ہم نے شیخ (ناسخ) کے رنگ میں مشق کلام شروع کی، مگر ان کا رنگ ہم لوگوں میں نہ آیا۔ مومن تو مشق کے بعد ویسے ہو گئے جیسا کہ ان کا رنگ دیکھا جاتا ہے اور ہم میر کے رنگ میں در آئے۔‘‘
بحوالہ:مشمولہ کتاب:شرح دیوان غالب، شارح از پروفیسر یوسف سلیم چشتی،ص85-84)
مختصر یہ کہ مرزا غالب نے مرزا بیدل کے علاوہ ناسخ کی تقلید بھی کی مگر ان کا رنگ ان کی طبیعت سے کوئی مناسبت نہیں رکھتا تھا۔ چنانچہ انھوں نے اس کی پیروی ترک کردی۔ اس کے بعد انھوں نے مومن کا اتباع کیا۔ جو غزلیں غالب نے ان کے رنگ میں کہیں وہ بہت بلند پایہ ہیں۔ غالب نے مومن کے علاوہ میر سے بھی استفادہ کیا اور جو غزلیں میر کے رنگ میں لکھیں وہ بلاشبہ سہل ممتنع کی مصداق ہیں۔ میر سے غالب کو جو عقیدت اور عظمت تھی اس کا اظہار مرزا غالب نے یوں کیا ہے ؎
غالب اپنا یہ عقیدہ ہے بقول ناسخ
آپ بے بہرہ ہے جو معتقد میر نہیں
اپنے اساتذہ شعرا سے کسب فیض کے بعد انھوں نے اپنی جودت طبع اور مشق سخن کی بدولت اپنا انداز بیان خود ایجاد کیا اور کہا:
ہیں اور بھی دنیا میں سخنور بہت اچھے!
کہتے ہیں کہ غالب کا ہے انداز بیاں اور
اب مرزا غالب کے خصوصی کلام اور انداز بیان، جس پر ان کی شاعرانہ عظمت کا قصر تعمیر ہوا ہے کے چند اشعار ملاحظہ ہوں:
ادائے خاص سے غالب ہوا ہے نکتہ سرا
صلائے عام ہے یاران نکتہ داں کے لیے
——
یہ مسائل تصوف، یہ ترا بیان غالب
تجھے ہم ولی سمجھتے جو نہ بادہ خوار ہوتا
——
وا کر دیے ہیں شوق نے بند نقاب حسن
غیر از نگاہ اب کوئی حائل نہیں رہا
——
ذکر اس پری وش کا اور پھر بیاں اپنا
بن گیا رقیب آخر تھا جو رازداں اپنا
——
گنجینہ معنی کا طلسم اس کو سمجھیے
جو لفظ کہ غالب مرے اشعار میں آوے
مندرجہ بالا اشعار سے مرزاغالب کی فنی خصوصیات کا اندازہ ہوتا ہے اس لیے ناقدین نے انھیں’طرز ادا‘، ’جدت ادا‘،’جدت طرازی‘، ’طرفگی ادا‘،’ادائے خاص‘ اور’جدت بیان ‘سے تعبیر کیا ہے۔ غالب کے سب سے بڑے مداح اور ناقد خواجہ الطاف حسین حالی نے لکھا ہے:
’’مرزا کی طبیعت اس قسم کی واقع ہوئی تھی کہ وہ عام روش پر چلنے سے ہمیشہ ناک بھوں چڑھاتے تھے۔ عامیانہ خیالات اور محاورات سے حتی الوسع اجتناب کرتے تھے۔‘‘
(بحوالہ:یادگار غالب از الطاف حسین حالی،ص121)
مرزا غالب کی شخصیت کے بارے میں مولانا الطاف حسین حالی نے لکھا ہے کہ مرزا کے اخلاق نہایت وسیع تھے۔ وہ ہر ایک شخص سے جو ان سے ملنے جاتا تھا بہت کشادہ پیشانی سے ملتے تھے۔ روایت ہے کہ ان کے دوست و احباب ہر ملت و مذہب سے تعلق رکھنے والے تھے۔ نہ صرف دہلی بلکہ پورے ہندوستان میں تھے۔ ان سے خط و کتابت پابندی سے کرتے تھے۔ اسی طرح ان کے تلامذہ میں بھی ہر مکتب و فکر اور مذہب کے لوگ تھے۔ ان کے حلقہ تلامذہ میں اندرون دہلی کے علاوہ بیرون دہلی میں مسلمانوں کے ساتھ ساتھ ہندو تلامذہ بھی تھے۔ بالخصوص صوبہ بہار جو ابتدا ہیسے علم و ادب کا مرکز رہا ہے، بہار کے کئی اہم تلامذہ مرزا غالب سے شرف تلمذرکھتے تھے۔ ان کی تفصیل یہاں بالترتیب بیان کی جاتی ہے۔
خلیل و فوق آروی
شیخ محمد ابراہیم نام، فارسی شاعری میں فوق اور اردو شاعری میں خلیل تخلص فرماتے تھے۔ والد کا نام شیخ ابوالحسن تھا۔ جد امجد مظفر پور (بہار) کے اطراف کے باشندہ تھے۔ ان کے بزرگوں کو مغلیہ سلطنت سے کچھ جاگیر سارن، چھپرہ (بہار) میں ملی تھی۔آپ کے بڑے بھائی مولوی نورالحسن شہر آرہ میں منصف تھے ۔اور آپ خود بھی آرہ میں ڈسٹرکٹ رجسٹرار کے عہدے پر فائز تھے۔ اگرچہ مشہور دانشور مالک رام نے انھیں آرہ عدالت کا محرر بتایاہے اور چوک مسجد ان کی بودو باش لکھا ہے جسے ش۔ م۔آروی نے اپنی کتاب میں ان کے تذکرے میں اپنی تحقیق سے غلط ثابت کیا ہے اور صحیح یہ ہے کہ ان کا مکان ملکی محلہ آرہ کے شمالی حصہ نزد کھیراہائوس دھوبی ٹولہ میں تھا۔
موصوف کو عربی، فارسی اور اردو پر یکساں عبور حاصل تھا۔ مرزا غالب کے خاص تلامذہ میں تھے۔ ان کا کلیات 1290ھ بمطابق 1873میں مطبع نور الانوار سے شائع ہوا تھا۔ جس کے صفحہ 146-145پر مرزا غالب کا ایک خط بھی شامل ہے۔علاوہ ازیں ش۔م۔ عارف ماہر آروی لکھتے ہیں کہ ان کا ردیف وار دیوان ِاردو ان کے ہاتھ کا لکھا ہوا میری نظر سے گذرا ہے۔
(بحوالہ:غالب کے آروی شاگرد، ش۔م۔عارف، ماہر آروی، مشمولہ کتاب خستہ تیغ ستم،مطبع1990،ص93)
جناب خلیل کی تاریخ پیدائش اور تاریخ وصال تذکرے کے آخر میں درج کی گئی ہے۔ یعنی تاریخ پیدائش 1820 اور تاریخ وصال 1900ہے۔
نمونہ کلام ملاحظہ ہوں :ـ
ہوتی فروتنی ہے تنک ظرف سے کہاں
ظاہر ہے دیکھ گردن مینا میں خم نہیں
شکوے کا کیا مجال بہرحال شکر ہے
دنیا میں کون ہے جسے اندوہ و غم نہیں
——
کوئی کہتا ہے کعبہ رخ کو تیرے کوئی بت خانہ
غرض جھگڑا رہا اے یار ہر شیخ وبرہمن میں
——
اشک ہے سُرخ مرا رنگ ہے زرد
حالتِ دل کو بیاں کیا کیجیے

بخدا شکر کی جا ہے ہر طور
شکوہ جورِ بتاں کیا کیجیے
——
ہم سن چکے ہیں حضرت ِآدم کی سرگذشت
جنت میں بھی رہے گا یہ کھٹکا لگا ہوا
ڈرتا ہے جسم زار مرا ہر نفس کے ساتھ
سینہ میں دل ہے یا کہ ہے پنکھا لگا ہوا
گردن میں ہاتھ ڈال کے بولے وہ مجھ سے فوق
لو اب تو خوش ہو تم کہ تمھارا کہا ہوا
——
فوق ہے آغاز سے انجام پر میری نظر
ابتدا سے ہی ہماری انتہا ہے سامنے
سید شاہ باقر علی باقر گیاوی (آروی)
سید شاہ محمد باقر علی المتخلص بہ باقر ابن سید شاہ وارث علی اشکی ؔکی ولادت 19 جون1831 کو ہوئی۔ ابتدائی تعلیم پیربیگہہ جوگیا (بہار) سے چھ میل پٹنہ کی جانب چاکند ریلوے اسٹیشن سے ڈیڑھ میل کے فاصلے پر جانب شمال و مغرب ایک بستی ہے وہیں ہوئی۔ اپنے بڑے چچا حضرت شاد اہل اللہ سجادہ نشیں پیر بیگہہ سے سلسلہ فردوسیہ اور سلاسل ابوالعلائیہ نقشبندیہ اور چشتیہ و قادریہ میں خلافت حاصل کی اور آرہ چلے آئے اور اپنے والد کے ہمراہ محلہ ناظر گنج نزد محلہ دودھ کٹورہ (آرہ) میں رہنے لگے اور اپنے بڑے بھائی سید شاہ حسین علی، جو آرہ میں ڈپٹی کلکٹر تھے اور خان بہادر بھی ہوئے کے اصرار پر 1859 میں سررشتہ افیون میں گماشتہ کا عہدہ قبول کرلیا۔ 1878 میں برہڑدا ضلع موتیہاری تبادلہ ہوا۔ پھر وہاں1882 میں پٹنہ اور1886 میں گیا تبادلہ ہو گیا۔ گیا سے ہی 1889میں سبکدوش ہوکر پنشن لے کر آرہ میںمستقل سکونت اختیار کرلی۔ 1859 میں ہی حضرت قیام الصدق چشتی قادری فخری قدس سرہٗ سے شہر آرہ میں مرید ہوئے اور 2ربیع الاوّل 1296ھ بمطابق 1877 کو سلسلہ علیہ و چشتیہ فخریہ اور سلسلہ علیہ قادریہ کبیریہ فخریہ میں خلافت پائی۔
جناب باقرمتنوع صفات کے حامل تھے۔ مثلاً گتکا، بانک، بنوٹ،نیزہ بازی، شہسواری میں یکتائے روزگار تھے۔ فن بندوق اور پنجہ کشی میں آپ کا کوئی ثانی نہ تھا۔ فن خطاطی منشی واصل حسین سے سیکھی۔ نسخ اور نستعلیق کی مشق بہم پہنچائی۔ علم ریاضی اور اقلیدس میں خاص مہارت حاصل تھی۔ علم طب سے بھی واقف تھے اور عربی لغات پر حاوی تھے۔ اردو اور فارسی کے بلند پایہ شاعر تھے۔
جناب باقر کو قصیدہ گوئی میں کمال حاصل تھا۔ یعنی اس فن میں یدطولیٰ رکھتے تھے۔
1276ھ بمطابق1860 میں خواجہ فخرالدین سخن تلمیذ غالب کے مشورے پر مرزا غالب کے شاگرد ہوئے۔ مداح غالب ہونے کے باعث خواجہ فخرالدین سخن کے ساتھ معرکہ غالب میں حق شاگردی ادا کیا۔ اس کا تفصیلی تذکرہ مضمون کے آخر میں درج کیا جائے گا۔ جناب باقر کا تذکرہ ش۔م۔عارف ماہر آروی نے ’’آرہ ایک شہر سخن ‘‘میں کیا ہے۔ جناب باقر کا فارسی دیوان بہ نام ’دیوان باقر‘ کے نام سے ان کے صاحبزادے نے طبع کرا دیا تھا۔ 24جولائی1908بمطابق 24جمادی الثانی1326ھ کو گیا میں وصال ہوا۔ پیر بیگہہ میں اپنے خاندانی قبرستان میں مدفون ہوئے۔ نمونہ کلام اس طرح ہے۔
شکل تصویر ہو خاموش تماشا کیا ہے
بیٹھے بیٹھے کھچے جاتے ہو یہ نقشہ کیا ہے
——
تمھاری دید کی حسرت میں دیکھو جان جائے گی
کھلی رہ جائیں گی آنکھیں نکل جائے گا دم اپنا
کلیجہ تھامے ہاتھوں سے مرے گھر روز آئوگے
کسی دن تو اثر دکھلائے گا اندوہ غم اپنا
——
فرزند احمد صفیر
سید فرزند احمد نام المتخلص بہ صفیر خلف سید عبدالحئی عرف میر سید احمد، داروغہ آبکاری ضلع مونگیر بن حکیم حاجی مولوی سید غلام یحییٰ حسین واسطی بلگرامی، وطن اصل قصبہ بلگرام ضلع ہردوئی، صوبہ اودھ تھا۔ 28ذی قعدہ 1249ھ بمطابق ماہ اپریل 1833 کو بمقام مارہرہ ضلع ایٹہ متصل علی گڑھ کول اپنی نانیہال میں پیدا ہوئے۔ اگرچہ ش۔م۔ عارف ماہر آروی نے اپنے تذکرہ ’’آرہ ایک شہر سخن ‘‘مطبع 1991 میں 8اپریل 1834 تاریخ پیدائش درج کی جبکہ اپنے مضمون بعنوان’’غالب کے آروی شاگرد‘‘ مشمولہ مجموعہ مضامین ’’خستہ تیغ ستم‘‘، مطبع 1990 میں اپریل1833لکھا۔ والد بزرگوار کے نام میں بھی سہوا سید عبدالحق، اپنے تذکرے میں لکھا جو کہ غلط ہے۔ کیونکہ سید عزیز الدین احمد بلخی راز عظیم آبادی نے اپنی کتاب تاریخ شعرائے بہار جلد اوّل، مطبع میں والد بزرگوار کا نام سید عبدالحئی عرف میر سید احمد لکھا ہے جو صحیح ہے۔ تین برس کی عمر میں اپنے وطن بلگرام آئے اور پانچویں برس بمقام آرہ ضلع شاہ آباد (سابقہ) صوبہ بہار اپنے والد کے ساتھ آکر سکونت پذیر ہوگئے اور پھر یہیں کے ہوکر رہے۔ چنانچہ وہ خود فرماتے ہیں ؎
مولد و مسکن، وطن ہے اے صفیر
تین چار مارہرہ، آرہ بلگرام
جناب صفیر بلگرامی کے نانیہالی قرابت مندوں میں اکثر لوگ اہل سنت والجماعت تھے۔ ان کے نانا حضرت صاحب عالم سجادہ نشیں مارہرہ تھے۔ اپنی شاعری کے ذوق کی خاطر سب سے پہلے اپنے پھوپھا سید محمد مہدی خبر بلگرامی سے شرف تلمذ حاصل کیا۔ شیخ امان علی سحر سے بھی مشورہ سخن کیا۔
ماہ محرم الحرام1274ھ میں جب مرزا دبیر، امام باندی بیگم بہ عفت عظیم آبادی، وقف ہائوس گلزار باغ پٹنہ بہ غرض مرثیہ پڑھنے آئے تو صفیر نے نہ صرف ملاقات کی بلکہ مرثیہ گوئی کا شوق ہوا تو مرزا دبیر سے اصلاح بھی لی۔ بقول سید عزیز الدین احمد بلخی راز عظیم آبادی 1280ھ میں ان کی خواہش ہوئی کہ غالب کی شاگردی نصیب ہو۔ چنانچہ انھوں نے عریفہ مع دو غزل فارسی اور دو غزل اردو کے برائے اصلاح مارہرہ سے روانہ کیں۔ حضرت غالب نے بعد اصلاح آٹھویں دن جواب سے سرفراز فرمایا۔ کچھ دنوں تک اسی طرح خط و کتابت رہی۔ یہاںتک کہ1282ھ میں یہ اپنے ماموں حضرت شاہ عالم کو ساتھ لے کر دہلی میں حضرت غالب کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بطور ایک عزیز اور معزز مہمان کے کئی مہینے تک وہاں مقیم رہے۔ آخر رمضان1282ھ تک آرہ واپس آگئے۔
(بحوالہ:تاریخ شعرائے بہار جلد اوّل، از سید عزیز الدین احمدبلخی، راز عظیم آبادی، مطبع 1931 ص:127)
عظیم آباد کے رئیس نواب سید ولایت خاں بہادر کے خلف اکبر نواب تجمل حسن خاں عرف سلطان صاحب سلطان اور شہرکے بعض عمائدین ان کے فیض تلمذ سے بہرہ مند ہوئے۔خاکسار (سلطا ن آزاد) نے اپنی کتاب ’’بہار میں رثائی ادب آغاز و ارتقا‘‘ مطبع 2020 میں جناب صفیر بلگرامی کا تذکرہ بحیثیت رثائی شاعر نمونہ کلام کے ساتھ کیا ہے۔
صفیر بلگرامی شاعر کے علاوہ مورخ،تذکرہ نگار، ناقد، ناول نگار، صحافی اور خوش نویس بھی تھے۔ شہر آرہ سے1852 میں ایک اخبار’’نورالانوار‘‘ نکالا تھا اور1873 میں ہفتہ وار جریدہ بنام ’’ضیاء الابصار‘‘ بھی جاری کیاتھا، جس کے مالک سید محمد ہاشم بلگرامی اور ایڈیٹر صفیر بلگرامی تھے۔
اردو ادب کی تاریخ میں صفیر بلگرامی کی ایک امتیازی حیثیت رہی ہے۔ ان کی تصنیف و تالیف میں نظم او رنثر دونوں ہیں۔ شاعری میں ان کے آٹھ دیوان ہیں، وہ خود فرماتے ہیں ؎
مشق تیری یہ بیالیس برس کی ہے صفیر
آٹھواں فضل الٰہی سے ہے دیوان ترا
ذاکر حسین فاروقی مصنف ’’دبستان دبیر ‘‘صفیربلگرامی کے پوتے سید وصی احمد کے حوالے سے لکھتے ہیں:
’’انھوں نے (صفیر نے) چھوٹی بڑی کل تین سو چھیاسی تصانیف چھوڑیں جن میں سے اب بھی اکثر خاندان والوں کے پاس محفوظ ہیں۔ اردو میں غزل کے آٹھ دیوان اور فارسی میں غزل کے تین دیوان کیا کم تھے کہ خمسہ جات رباعیوں اور قطعات کے بھی مکمل دیوان چھوڑے۔ قصائد اور مثنویاں بھی بکثرت کہیں۔ بوستان خیال کی اٹھارہ جلدیں تیار کیں۔ ’جلوہ خضر‘ کے نام سے ایک تذکرہ اور رشحات صفیر کے نام سے تذکیرو تانیث کے متعلق رسالہ مرتب کیا۔ مرغوب القلوب ترجمہ تغیر منہج الصادقین، طبقات الکرام، محشر شان خیال، سراج العقول اور جواہر مقالات کے ضخیم مجلے تیار کیے۔ غرض نظم و نثر میں اتنا بڑا ذخیرہ یادگار چھوڑا ہے جسے دیکھ کر انسان حیرت میں رہ جاتا ہے۔
(بحوالہ:دبستان دبیر از ذاکر حسین فاروقی، مطبع1966، ص208-207)
صفیر بلگرامی کا انتقال ماہ رمضان المبارک 1307ھ بمطابق 12مئی 1890 بمقام پٹنہ ہوا اور آرہ میں مدفون ہوئے۔ نمونہ کلام ملاحظہ ہو ؎
نہ کوئی حال پہ اپنے رویا
روئے ہم سارے زمانے کے لیے
——
ترے لب پہ ہم جو فدا ہوئے تو اثر نمائے بقا ہوئے
جو چلے تو قم کی صدا ہوئے جو گرے تو خاکِ شفا ہوئے
——
کیا جانیے موت آئے کس وقت
ہمراہ رہے کفن ہمیشہ
——
کاسۂ سر ہاتھ میں لے کر چلا منصور کیا
یہ تو ادنیٰ عاشق آشفتہ سہ کا کھیل ہے
——
راز خلوت کا بیاں کس نے کیا کیا جانیں
ایک میں ایک ہو تم بس کوئی آیا نہ گیا
——
اس گھروندے میں خدا جانے تکلف کیا ہے
روح قالب سے جو نکلی تو بدقت نکلی
——
خواجہ فخرالدین حسین سخن دہلوی ثم آروی
خواجہ فخر الدین حسین المتخلص بہ سخن دہلوی ثم آروی (بہار) ابن خواجہ سید جلال الدین باشندہ لکھنؤ، کی پیدائش ماہ جمادی الاوّل 1253ھ بمطابق ماہ جولائی1839 کو دہلی میں ہوئی۔ ابھی ایک ہی سال کے تھے کہ والدہ ماجدہ کا انتقال ہوگیا۔ چنانچہ ان کی نانی جو قلعہ معلّیٰ میں استانی تھیں انھیں اپنے پاس رکھ لیا۔ سخن جب بارہ برس کے تھے تب نانی کا بھی انتقال ہوگیا۔ بعدازاںجناب سخنؔ بہ عمر 12سال1857 میں والد کے پاس لکھنؤ آگئے۔ اپنے چچا خواجہ بشیر کے ساتھ ٹھہرے۔ خواجہ بشیر نے انھیںمتبنیٰ بنالیا۔ غدر کے فوراً بعد ماہ نومبر-دسمبر1857کو جب ان کے پھوپھا مرزا محمد ابراہیم آروی لکھنؤ پہنچے تب ان ہی کے ہمراہ آرہ(سابق ضلع شاہ آباد) آئے اور چند ماہ بعد22مئی 1858 کو پھوپھی زاد بہن سے ان کی شادی کردی گئی۔ جولائی 1861 میں وکالت کی سند حاصل کرکے ستمبر1861 میں آرہ شہر میں ہی وکالت کرنے لگے۔ چند سال بعد جولائی 1870 میں بہ عہدہ منصف بحال ہوکر شہر پورنیہ (بہار) چلے گئے اور بہار کے مختلف مقامات پر فرائض منصبی ادا کرکے 1897 میں سبکدوش ہوئے۔ تین چار سال بعد ان کا وصال ہوگیا۔ ش۔م۔عارف ماہر آروی نے اپنے مضمون ’’غالب کے آروی شاگرد ‘‘مشمولہ مجموعہ مضامین ’’خستہ تیغ ستم‘‘،مطبع1990 میں سال وصال ستمبر1900 لکھا ہے جبکہ اپنی ہی تالیف ’’آرا:ایک شہر سخن‘‘ مطبع 1991 ص 193میں بقول لالہ سری رام 1318ھ بمطابق 1901 لکھا ہے۔ ساتھ ہی مولوی محمد وزیر صاحب مطبع گوہر آصفی کلکتہ نے جو قطعہ تاریخ لکھا تھا وہ شامل کیا ہے۔ ملاحظہ ہوں ؎
سال رحلت آں وزیر دل حزیں
گفت، دردا آہ فخرالدین حسین
فخرالدین سخن کا مزار پٹنہ سٹی کے تکیہ محلے میں ہے۔
ان کا سلسلہ نسب اس طرح ملتا ہے، ملاحظہ ہو:
’’خواجہ فخرالدین حسین بہ سخن کا سلسلہ نسب حضرت خواجہ قطب الدین مودود چشتی غنیؒ سے جاملتا ہے۔ خواجہ مودود چشتی کے والد کا نام حضرت خواجہ خواجگان خواجہ ابو یوسف ولی ناصر الدین چشتی قدس سرہ تھا جو محمد سمعان کے فرزند تھے۔‘‘
(بحوالہ:آرا:ایک شہر سخن از ش۔م۔عارف ماہر آروی، مطبع 1991،ص169)
حضرت سخن کو نظم اور نثر دونوں پر عبور حاصل تھا۔ نثر میں ’’سروش سخن‘‘ لکھا جس کے متعدد ایڈیشن شائع ہوئے۔ دوسری تصنیف ’’تہذیب النفوس‘‘ اور تیسری کتاب ’’دیوان سخن‘‘ ہے۔ دیوان سخن میں مرزا غالب کی تقریظ ہے جس میں غالب نے اپنے آپ کو ’’جدفاسد‘‘ لکھا ہے۔ جس سے ظاہر ہے کہ حضرت سخنؔ مرزا غالب کے عزیز ترین شاگرد اور نانا بھی ہیں۔ مرزا غالب کی وہ تقریظ اس کا بین ثبوت ہے۔ ملاحظہ ہو وہ تقریظ:
’’نام خدا سلطان قلم رو سخن دیوان خاص میں رونق افروز ہوا اور نگاہ روبرو بادشاہ سلامت کا شور ہر طرف برپا ہوا۔ اہل نظربادشاہ کا حسن و جمال اور بارگاہ کی عزو شان دیکھیں۔ سخنوروں کے ہزاروں دیوان دیکھے ہوں گے۔ اب سخن کا خاص دیوان دیکھیں۔ زہے شاعر یکتا و نامی کہ جس کا پیارا نام سخن ہے۔ قرۃ العین خواجہ فخرالدین حسین کو اگر سخنور بے عدیل کہوں تو بجا ہے۔ کیونکہ اس کا حسن کلام میرے دعویٰ پر دلیل قول ہے۔ اس سخن کار جادو نگار نے پری زادان معنی کو الفاظ کے شیشوں میں اس طرح اتارا ہے جیسے آبگینہ سے رنگِ مئے نظرآئے۔ لفظ سے جلوۂ معنی آشکار ہے۔ میں مغلوب دہر غالب نام جو بازار ہستی میں متاع کاسد ہوں۔ بہ حسب اصطلاح فقہا اس سید زادہ قدس نہاد کا جدفاسد ہوں۔ چشم بدور ہنوز آغاز جوانی اور نو بہار باغ زندگانی ہے۔ عمر کے لیے دفتر قضا و قدر میں حکم دوام لکھا گیا ہے۔ بس اگر یہی جودت فکر اور طبیعت کی روانی ہے۔ اغلب ہے کہ ذوق شعر اور پھر تویہ دیوان اوراق افلاک میں نہ سمائے گا۔‘‘
مختصر یہ کہ حضرت سخن بہار کے جس حصّے میں بغرض ملازمت گئے وہاں شعر و سخن کو آباد رکھا۔ بالخصوص عظیم آباد کی تمام تر اہم نشستوں میں شریک ہوئے اور اپنا طرحی اور غیر طرحی کلام پیش کیا۔ حضرت سخن کے کئی شاگرد ہوئے، ان میں بالخصوص حبیب اللہ طبیب، فیاض حسن فیاض، میاں جان حیرت، نواب جان گل، گلاب ناز وغیرہ۔ نمونہ کلام اس طرح ہے ؎
غنچہ ہے ترا دہن ہمیشہ
رخسار اس کا یاسمن ہمیشہ
رہتا ہے ہزار جا سے صد چاک
دیوانوں کا پیراہن ہمیشہ
مضمون نئے سنیں گے تم سے
کہتے ہو غزل سخن ہمیشہ
——
اب آپ جاکے کسی اور کو یہ دم دیجیے
یہاں تو آپ کے وعدوں کو بس سلام کیا
——

ذرا تاثیر دیکھو آسماں اب تک ہے چکر میں
کیا تھا ایک نالہ ہم نے اپنی زندگی بھر میں
——
کیا مجھ کو مزا پڑ گیا اس ردوبدل کا
پھر آج بھی ہم سے وہی وعدہ ہوا کل کا
غالب کے ہو شاگرد سخن کہتے ہو کیا خوب
ہر شعر میں ملتا ہے مزا ایک غزل کا
——
درد جگر نہیں مجھے کچھ درد سر نہیں
وہ درد ہے کہ جس کی دوا چارہ گر نہیں
آشفتگی میں شعر کا کس کو سخن دماغ
فرمائشوں سے یار کی لیکن مفر نہیں
——
غلام حسین قدربلگرامی
غلام حسین تاریخی نام المتخلص بہ قدر جائے پیدائش بلگرام۔ تاریخی نام سے مادہ تاریخ بقول ش۔ م۔عارف ماہر آروی نے 1249ھ بمطابق 1833 نکلتا ہے۔ انھوں نے والد کا نام سید علی حسنین واسطی بلگرامی لکھا ہے۔ جبکہ مالک رام نے تلامذۂ غالب میں سید خلف علی ابن سید کرامت علی بلگرامی محلہ سیلہڑہ بلگرام لکھا ہے۔ شہر آرہ(بہار) کے موضع کواتھ میں ان کی شادی ہوئی تھی۔ عرصہ تک سسرال میں رہے پھر اپنے وطن بلگرام چلے گئے اور وہاں سے لکھنؤ گئے۔ ایام غدر تک بلگرام میں رہے۔ بعد غدر تلاش معاش میں پنجاب گئے جہاں سرکار کی فوج میں منشی رہے مگر جلد ہی مستعفی ہوکر دہلی چلے آئے اور غالب کے شاگرد ہوئے۔ اس سے قبل لکھنؤ میں شیخ امان علی سحر اور پھر مرزا محمد رضا برق اور شیخ امداد علی بحر سے صلاح و مشورہ کیا۔ ایک رباعی میں اپنے اساتذہ کا ذکر یوں کیا ہے ؎
سیکھے سحر و برق سے بندش کے بند
پھر غالب و بحر نے بتائے پیوند
مجھ سا کبھی زمانے میں نہ ہوگا اے قدر
بدنام کنندۂ نکو نامے چند
لکھنؤ اور دہلی میں عربی و فارسی کے استاد بھی مقرر ہوئے اور وہیں سے دسمبر 1883 میں سبکدوش ہوئے۔ اسی سال میر محبوب علی خاں نظام دکن کی نمائش دیکھنے کلکتہ گئے تو نواب آغاز مرزا سرورالملک بہادر کی ایما پر جناب قدر نے ایک قصیدہ اعزاز لکھ کر حضور نظام میں پیش کیا۔ چنانچہ جنوری 1884 میں جناب قدر حیدر آباد گئے جہاں ان کا وظیفہ 400 ماہوار مقرر ہوا۔ وہاں مرض ضیق النفس اور ضعف معدہ کے باعث لکھنؤ واپس آگئے اور3ذیقعدہ 1301ھ مطابق چہار دہم ماہ ستمبر1884 میں وفات پائی۔ ان کی تصنیفات میں مثنوی کلیلہ دمنہ، مثنوی قصائد قدر، واسوخت قدر، قواعد العروض اور کلیات قدراہم ہیں۔ آپ کا دیوان قدرمرثیہ محمد نسیم خاں شائع ہوچکا ہے۔ جناب قدر کو تاریخ گوئی میں بھی ملکہ تھا۔ اپنے استاد غالب کے قطعہ رحلت میں پہلے مصرعے سے عیسوی اور دوسرے مصرعے سے ہجری نکالا ہے، ملاحظہ ہوں ؎
مرے استاد عالی جاہ غالب = 1869
دو ذیقعدہ کو اب مر گئے آہ = 1285ھ
جناب قدر کا تذکرہ تلامذۂ غالب از مالک رام، خم خانہ جاوید از لالہ سری رام اور ’’آرا:ایک شہر سخن ‘‘ از ش۔م۔عارف ماہر آروی کے علاوہ غالب کے آروی شاگرد مضمون مشمولہ مجموعہ مضامین ’خستہ تیغ ستم‘ از ش۔م۔عارف ماہر آروی مطبع 1990 میں شامل ہے۔ نمونہ کلام اس طرح ہے ؎
اے قدر ایسا آدمی اپنی پسند ہے
جو دل میں آیا کہہ دیا جو کچھ کہا کیا
——
قدر کو کیا آبرو بخشی جناب سحر نے
ذرے کو سورج کیا قطرے کو دریا کر دیا
——
جو بحر کی عنایت یوں قدر پر رہے گی
ہو جائے گا یہ شاگرد استاد رفتہ رفتہ
——
ہند میں اے قدر غالب کا کوئی ثانی نہیں
بے عدیل و بے نظیر و بے مثال و لاجواب
——
دشمن اگر قویست نگہبان قوی تراست
اے قدر تم نے حال سنا ہے خلیلؑ کا
——
قدر کو بتکدے میں دیکھا ہے
اس مسلمانی کا خدا حافظ
——
جب ملایا خاک میں بولے قضا تھی میں نہ تھا
کرکے پھر برباد فرمایا صبا تھی میں نہ تھا
قدر ان مردہ پرستوں نے مجھے تڑپا دیا
غم یہی ہے میری شہرت جابجا تھی میں نہ تھا
——
صوفی منیری
شیخ ابو محمد جلیل الدین حسین عرف سید شاہ فرزند علی المتخلص بہ صوفی ابن شاہ محمد علی کی پیدائش 1253ھ میں ہوئی۔آپ کے آباواجداد پہلے موضع دیبی سرائے متصل بہار شریف میں سکونت پذیر تھے۔ پھر وہاں سے منتقل ہوکر موضع شرف آباد عرف پارتھو میں آکر رہ گئے۔ والد کا سایہ سر سے اٹھ جانے کے باعث صوفی اپنے بڑے بھائی شاہ اولاد علی کے ساتھ منیر شریف چلے آئے، جو ان کی نانیہال تھی۔ ابتدائی تعلیم نانیہال میں اپنے ماموں سے حاصل کی۔
صوفی منیری کی شادی اوّل اور دوم دونوں قصبہ اسلام پور ضلع پٹنہ سابقہ، میں ہوئی۔ شادی کے بعد صوفی کا قیام زیادہ تر اسلام پور میں رہنے لگا اور اسلام پور میں ہی تقریباً پچپن سال کی عمر میں بہ سال 1308ھ میں انتقال ہوا۔
کلیم عاجز نے اپنی کتاب ’’دفتر گم گشتہ‘‘ (بہار میں اردو شاعری کا ارتقا) میں تذکرہ لکھتے ہوئے مرزا غالب کاشاگرد بتایا ہے، وہ لکھتے ہیں:
’’شاعری میں غالب کے شاگرد تھے اور عزیز شاگرد تھے۔ جس زمانے میں غالب کے کلام پر اعتراض ہوا کرتے تھے، صوفی نے غالب کی حمایت میں رباعیاں کہیں۔‘‘
جناب کلیم احمد عاجز کی اطلاع کے مطابق جناب صوفی منیری پر خالد رشید صبا نے ایک سیر حاصل مقالہ لکھا اور ان کے کلیات کو ایڈٹ کرکے پی ایچ۔ ڈی کے لیے پیش کیا۔ قلمی کلیات خانقاہ منیر شریف کے سجادہ نشیں کے پاس ہے۔ خالد رشید صبا نے مکمل کلیات چھپوا دیا ہے۔
کلیات صوفی منیری میں چند چھوٹی بڑی مثنویاں، چند قصیدے، کچھ غزلیں، رباعیاں، قطعات، مسدس، ہجو، ہزل سب کچھ ہے۔ نثر میں ’’راحت روح‘‘ وجہی کی ’’سب رس‘‘ کے طرز پر لکھی ہے۔علاوہ ازیں تصوف میں ’’وسیلہ شرف‘‘ (فارسی) اور ’’ذریعہ دولت ‘‘ان کی مشہور تصنیفات ہیں۔ ان کی غزلوں میں استاد مرزا غالب کے رنگ و آہنگ طرز اور اسلوب کی پوری پیروی ملتی ہے۔
صوفی منیری کے چند اشعار بطور نمونہ پیش کیے جاتے ہیں ؎
باغ جنت جس کی تو کرتا ہے تعریف اس قدر
ہے وہ اک گلدستہ واعظ بزم وصل یار کا
——
تھا کوئی گُل فروش خوبا نام
دل کے کوچے میں رہتا تھا ناکام
——
وہ آئے بھی تو کیا آئے کہ ان کے جلوہ رخ سے
شب وصل اڑ گئی پردہ اٹھاتے ہی دھواں ہوکر
——
اگرچہ حزن ہماری سرشت ہی میں سہی
نوید وصل سے خوش ہوں بہشت ہی میں سہی
ریا و کبر سے زاہد ذرا بچے رہنا
بقول تیرے گہنہ فعل زشت ہی میں سہی
——
کیفی بہاری
شیخ احمد علی المتخلص بہ کیفی بہاری عظیم آبادی ابن مظہر علی، بہار شریف (سابقہ پٹنہ)، حال نالندہ کے رئیس اور خوش فکر اور خوش گو شاعر تھے۔ حکیم سید احمد اللہ ندوی مؤلف ’’تذکرہ مسلم شعرائے بہار‘‘ نے جلد چہارم میں آپ کا تذکرہ بطور شاعر کیا ہے۔ جس میں ان کی تاریخ پیدائش تخمیناً 1833 بتائی ہے۔ جبکہ کیفی بہاری کے نواسے جناب احمد محمد نے کلیم عاجز کو ان کی تاریخ پیدائش 1845 اور تاریخ وصال 1923 بتایا ہے، جسے کلیم عاجز نے اپنی تھیسس، مطبع 1998’’دفتر گم گشتہ (بہار میں اردو شاعری کا ارتقا) میں ان کے تذکرے میں ذکر کیا ہے۔ اس کے علاوہ کلیم عاجز کی کتاب سے یہ بھی خبر ملتی ہے کہ جناب کیفی بہاری کے ایک شاگرد جن کا تخلص محشر تھا، انھوں نے کیفی بہاری کا مکمل دیوان جو مرزا غالب کا تصحیح شدہ یعنی اصلاح شدہ ہے اسے چرا کر لے گئے، جو اپنے نام سے کلام پڑھتے رہے۔ اس طرح جناب کیفی کا مکمل تیارشدہ دیوان اندوختہ دیگراں ہو گیا۔
جناب کیفی مرزا غالب کے شاگرد تھے، باوجودیکہ اپنے انداز میں سادگی اور صفائی کے ساتھ شعر کہتے تھے۔ ’’قومی مثنوی‘‘ کیفی بہاری کی کتاب ہے جس کی اشاعت اوّل 1912 میں ہوئی تھی جو مولانا عبدالحلیم شرر لکھنوی کے دلگداز پریس سے شائع ہوئی تھی جو اس کے مہتمم تھے۔ انھوں نے دوصفحات پر مشتمل اپنی رائے بھی درج کی تھی۔ مذکورہ ’’قومی مثنوی‘‘ کے جدید ایڈیشن کی تدوین و تقدیم پروفیسر احمد بدر نے کی ہے۔ جس میں پروفیسر علی احمد فاطمی، ڈاکٹر ریحان غنی اور دیگر دوسرے حضرات کی گراں قدر رائے بھی شامل ہے۔ اس کا جدید ایڈیشن 2021 میں شائع ہوا۔ اس مثنوی میں اس عہد کے سیاسی، سماجی، ثقافتی اور تہذیبی مزاج و ماحول کی پوری عکاسی ہے۔ زبان نہایت ہی شستہ ہے۔ شاعرانہ نازک خیالیاں ہیں جو دل پراثر کرنے والی تشبیہیں ہیں اور ہر شعر بتا رہا ہے کہ مصنف صاحب کیسے پختہ مغز اور کہنہ مشق شاعر ہیں۔
جناب کیفی بہاری عظیم آبادی کے مزاج میں صوفیانہ جھکائو اور کلام میں اخلاقی اثرات نمایاں رہتے ہیں۔ یہی صوفیانہ رنگ کبھی قدیم رنگ سخن کے میدان میں گامزن ہو جاتا ہے تو کلام غالب کا قدیم انداز اورنظیری کے تتبع کا پیدا ہوجاتا ہے۔ نمونہ کلام کے طورپر چند اشعار ملاحظہ ہوں ؎
قرب پیدا کر اگر چاہے کمال معرفت
صاف دکھلائی نہیں دیتی کوئی شئے دور سے
——
گرمی کی وہ شدت ہے کہ راتوں کو بھی کیفیؔ
معشوق کو بھی ساتھ سلایا نہیں جاتا
——
کچھ آب تیغ کا پیاسا نہیں گلو میرا
اتر چکا ہے مرے حلق سے لہو میرا
ہزار حیف اگر ناقبول سامع ہو
کلام کیا ہے بجز حرف آرزو میرا
محمد علی خان انجم شیخ پوروی
محمد علی خاں المتخلص بہ انجم، شیخ پورہ (بہار) کے رہنے والے تھے۔ تلامذہ غالب از مالک رام میں بہت مختصر تذکرہ درج ہے۔ انھوں نے لکھا ہے:
چہار شنبہ25شوال1308ھ(3جون1891) کو وفات پائی۔ آہ غروب انجم، سے تاریخ نکلتی ہے۔ افسوس کہ ان کا کلام نہیں ملا۔ اپنے استاد بھائی ہرگوپال تفتہ کی وفات پر دو قطعات تاریخ کہے تھے، جو اودھ اخبار، لکھنؤ میں چھپے تھے۔دونوںقطعات اس طرح ہیں:
انتقال از تپ وبائی کرد
نقشہ شاگرد حضرتِ غالب
گفت سالِ وفات او انجم
’’وائے صد حیف نائب غالب‘‘
(1296ھ)
ہاں مگر تفتہ مُرد در دہلی
مرد و زن اشک ریزمی آیند
سالِ او ریخت ازلبِ انجم
مُردہ نام سخنوری آرہند
195=1296
(بیاضِ جابر علی خان بحوالہ معاصر (18)،147، اودھ اخبار13دسمبر، 1879)
انجم شیخ پوروی کی مزید اطلاعات مع کلام محمد رضوان احمد خاں کے مضمون بعنوان ’’انجم شیخ پوروی:شاگرد غالب‘‘ مطبع رسالہ روح ادب، اکتوبر تا دسمبر1993 سے ملتی ہیں:
’’یہ رسالہ انجم سے متعلق ہماری معلومات میں یہ اضافہ بھی کرتا ہے کہ ان کے والد کا نام مصاحب حسین خاں تھا، وہ بھی شاعر تھے، عدل تخلص کرتے تھے۔ نیز یہ کہ انجم 1281ھ تک ’ساکن فریہ حسین آباد‘ تھے۔ یعنی اس وقت تک وہ شیخ پوروی نہیں حسین آبادی تھے۔‘‘
حسین آباد، شیخ پورہ سے دکھن ایک میل کے فاصلے پر آباد ہے)
…محمد علی خاں انجم رفیع المکان، عظیم الشان، راس و رئیس مردم تھے۔ عالی نژاد و والا جاہ بھی تھے۔ شجاعت و کرم و عدل میں بھی یکتائے زمانہ تھے۔ علاوہ ازیں انھیں حکمت و فلسفہ، نحو و ریاضی، فقہ و معرفت اور زہد و اتقا سے بھی گہرا لگائو تھا۔ ذہن و ذکا اور ذوق شعری سے بھی قدرت نے نوازا تھا۔
نمونہ کلام کے طور پر ان کے چند اشعار ملاحظہ ہوں ؎
حمد ایزد را کہ در شکرش زباں
لال باشد لب معطل از بیاں
کنہ او کیخد نہ ہرگز در قیاس
فکر باشد در ہش ظلمت اساس
——
نعت احمد نیز آمد فرض عین
بعد تحمید خدائے مشرقین
فرض شد تصدیق امرش برانام
واجب ست اتباع نہیش لاکلام
——
انجمؔ بد اختر بہ روز بہ کردار آہ
دارد از اعمال بہ دردست خود فرد سیاہ
چند باش غافل از مایند گان عذر خواہ
بندہ بیچارہ کاشی ازدل و جاں سال و ماہ
شیر خاں شیر بہاری
سید محمد شیر خان المتخلص بہ شیر بہاری، قصبہ بہار شریف کے رئوسا میں شمار تھا۔ سید محبوب شیر صولت رئیس عظیم آباد کے خویش تھے۔ انجمن رفاہِ عام بہار کے سکریٹری رہے۔ حج بھی کیا تھا۔ مرزا غالبؔ کے علاوہ وحید الٰہ آبادی سے بھی مشورہ سخن کیا۔ تلامذہ غالب از مالک رام میں ان کے تین اشعار درج ہیں۔ چندملاحظہ ہوں ؎
ہم کو دلیل عشقِ حقیقی ہوا مجاز
آوارگی نے کام دیا خضرِ راہ کا
——
کس رنگ پر ہے حسن مرے گلعذار کا
سر سے قدم تک ایک ہے عالم بہار کا
سیماب و برق کو نہیں لاتا خیال میں
جو حال دیکھتا ہے تیرے بیقرار کا
(یاد گار ضیغم،209، تاریخ شعرائے بہار125)
فرزند علی اخگر عظیم آبادی
مولوی فرزند علی المتخلص بہ اخگر تلمیذ غالب کے بارے میں تلامذہ کی غالب کے مصنف مالک رام نے لکھا ہے:
’’موضع یوسف پور کے رہنے والے تھے جو عظیم آباد کے نواح میں ہے۔تعلیم کی تکمیل کے بعد مرزا پور میں سکونت اختیار کرلی۔ یہیں مدتوں وکیل عدالت رہے۔ ان کے خاندان کے لوگ اب تک وہاں مقیم ہیں۔‘‘
نمونۂ کلام اس طرح ہے:
خود نما تھا سب حسینان زمن میں آئینہ
ہے مگر حیران تری انجمن میں آئینہ
گرمیِ آہِ شرر بار دِل مغموم سے
شعلۂ جوالہ ہے بیت الحزن میں آئینہ
عکسِ عارض جلوہ افزا ہے جو طشت آب میں
صاف یہ آیا تصور ہے لگن میں آئینہ
عشرت گیاوی
سید احمد علی نام المتخلص بہ عشرت ابن سید بندہ علی، ساکن ارول۔ جدی وطن موضع سوسنا ضلع گیا ہے لیکن ارول میں سکونت اختیار کی تھی۔ ان کے والد ٹکاری راج میں دیوان کی حیثیت سے ملازم ہوئے۔ لہٰذا مستقل قیام گاہ گیا کو بنایا۔
عشرت1200ھ میں ارول میں پیدا ہوئے اور10صفر 1227ھ بمطابق 15نومبر1918 کو پٹنہ سٹی (عظیم آباد) کے محلہ باغ پاتو میں انتقال ہوا اور وہیں دفن ہوئے۔ تحصیل علم اپنے زمانے کے مقتدر اساتذہ سے کیا جن میں حضرت مولانا بشارت کریم صاحب، جو ایک جید عالم ہونے کے ساتھ بڑے پائے کے صوفی بھی تھے کا نام سب سے نمایاں ہے۔
شعر و سخن کا ذوق ایام طفلی ہی سے تھا۔جناب نادر خاں شاہ صاحب شوخی رامپوری جو ان دنوں گیا میں تھے،قیام کے دوران ان سے کسب فیض کیا۔ جناب شوخی نے اپنے دیگر تلامذہ کو عشرت کے سپرد کیا۔
دفتر گم گشتہ (بہار میں اردو شاعری کا ارتقا) کے مولف کلیم احمدعاجزکی اطلاع کے مطابق ’’عشرت کا سلسلہ تلمذ غالب سے ہے۔ خالص دہلوی سلسلہ اور عظیم آبادی مزاج ہونے کے باوجود بہتر اشعار میں لکھنوی اثرات نمایاں ہیں۔‘‘(ص349)
عشرت گیاوی کا دیوان جناب حسن امام صاحب وارثی گیاوی نے بڑے اہتمام سے 1347ھ میں شائع کیا۔ ’’کان صدر گہر‘‘ ان کی رباعیات کا مجموعہ ہے۔ ان کی شاعری میں سادگی، شائستگی اور خیال کا ستھرا پن امتیازی حیثیت رکھتاہے۔
آرام دے ہمیں بھی الٰہی کہیں سہی
زیر فلک نہیں سہی زیر زمیں سہی
کیوں امتحان تیغ سے باز آتے ہیں حضور
مجرم اگر کوئی نہیں ملتا ہمیں سہی
——
دل دیوانہ کیا رسوا نہ ہوگا
ہوا ہے عشق تو کیا کیا نہ ہوگا
الٰہی کب شب فرقت کٹے گی؟
خدایا دن بھی ہو گا یا نہ ہوگا
وہ کمسن مہر الفت پر ہے مجبور
ستم کرنا ابھی آتا نہ ہوگا
——
مرزا غالب کے بہاری تلامذہ کے تذکرے مختلف تذکروں اور کتابوں سے حاصل ہوئے، انھیں اس مضمون میں شامل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ممکن ہے کہ کچھ اور بہاری تلامذہ ہوں جو میری نظروں سے اوجھل رہے۔ فی الحال اس پر اکتفا کرتا ہوں۔ کیونکہ باوجود کوشش کہ کوئی بھی تحقیقی کوشش حتمی نہیں ہوسکتی۔
اس مضمون کے آخری حصے میں مرزا غالب کا وہ ادبی معرکہ، جس میں ان کے دو بہاری شاگرد مردانہ وار مقابلہ آرائی میں سینہ سپر ہوئے اور اپنی علمی بصیرت سے ان کی موافقت میں نثر و نظم کا انبار لگا دیا اور حق شاگردی ادا کرکے استاد کی عظمت کی گرتی ہوئی دیوار کو سنبھال لیا۔ اس واقعے کا ذکر ش۔م۔عارف ماہر آروی نے اپنی کتاب ’’آرا:ایک شہر سخن‘‘، مطبع1991 میں یوں کیا ہے:
’’محمد حسین برہان ابن خلف تبریزی کی ضخیم فرہنگ ’برہان قاطع‘ 1062ھ، 1652میں لکھی گئی تھی۔ اس کی بعض غلطیوں اور تصحیح کی صورت میں مرزا غالب نے 1276ھ، 1860 میں ’قاطع برہان‘ شائع کی۔ا س کا چھپنا تھا کہ غالب کے مخالفین کا سیلاب امڈ پڑا اور مضامین نثر و نظم کا ایک انبار لگ گیا۔ غالب کی موافقت میں مولوی نجف علی، میاں داد خاں سیاح، مولوی عبدالکریم، شاہ باقرآروی اور خواجہ فخر الدین حسین سخنؔ دہلوی، ثم آروی پیش پیش رہے۔ غالب کے مخالفوں میں آغا احمد علی ،مدرس مدرسہ عالیہ کلکتہ متوطن ڈھاکہ عرف جہانگیر نگر، میر آغا شمس لکھنوی، جواہر سنگھ جواہر لکھنوی، تلمیذ ناطق مکرانی،مولوی سعادت علی، مرزا رحیم،بیگ میرٹھی، فدا سلہئی اور امین الدین دہلوی کا نام قابل ذکر ہے۔ اس معرکے میں مندرجہ ذیل کتابیں سامنے آئیں:
برہان قاطع از محمد حسین برہان
قاطع برہان از مرزا غالب
درفش کاویانی از مرزا غالب (قاطع برہان ہی کا نظرثانی ایڈیشن)
درفع ہذیان از نجف علی
لطائف غیبی از میاں داد خاں صباح تلمیذ غالب کے نام سے چھپی
سوالات عبدالکریم از مولوی عبدالکریم
محرق قاطع برہان
موید برہان از آغا احمد علی احمد، مدرس ہگلی کالج زبان فارسی، اس کا جواب تیغ تیز میں 31شعر کے قطعے میں غالب نے دیا۔ جو مطبع اکمل المطابع سے 1867 میں شائع ہوئی۔ اس کا جواب آغا احمد علی نے پھر ایک قطعہ اپنے ایک شاگرد عبدالصمد فدا سہلئی کے نام سے شائع کرایا۔ اس کے جواب میں منظومات جواب الجواب کی باضابطہ جنگ شروع ہوئی۔ ایسے تمام قطعات کو یکجا کرکے منشی سنت پرشاد نے اپنے مطبع واقع آرا سے ’’ہنگامہ دل آشوب ‘‘کے نام سے دو جلدوں میں شائع کیا۔ حصّہ اوّل5ذی الحجہ 1283ھ مطابق 11اپریل 1867 کو شائع کیا جس میں31شعر کا قطعہ غالب، 46شعر کا قطعہ فدا، 34 شعر کا قطعہ باقر آروی اور 37 شعر کا قطعہ سخن (دہلوی) آروی کل 148اشعار ہیں۔
اس معرکہ میں جو دوسری تصنیفات منظر عام پر آئیںوہ’’ تیغ تیز تر‘‘ کی اشاعت کے بعدآئینی منشی جواہر سنگھ لکھنوی شاگرد ناطق مکرانی نے اس کی حمایت میں ایک قطعہ سپرد قلم کیا۔ باقر اور سخن نے جواہر کے جواب میں پھرقطعات لکھے۔ اسی زمانے میں آغا علی شمس لکھنوی نے ایک مضمون غالب کی مخالفت میں اودھ اخبار، مورخہ 25جون1867 میں شائع کرایا۔ اس مضمون کا جواب اردو میں سخن اورفارسی میں باقر نے دیا۔ اسی زمانے میں منشی محمد امیر نے اردو زبان میں ایک قطعہ غالب کی حمایت میں لکھ کر اودھ اخبار میں شائع کرایا۔ متذکرہ کتابوں اور قطعات کے علاوہ ’’سطح برہان‘‘ از مرزا رحیم بیگ میرٹھی’’شمشیر تیز تر‘‘ 1868 میں از آغا احمد علی ’’قاطع القاطع‘‘ از مولوی امین الدین بھی غالب کی مخالفت میں لکھی۔ آخرش غالب نے ’’قاطع برہان‘‘ میں کچھ اضافے کے ساتھ ’’درفش کاویانی‘‘ کے نام سے طبع کراکر بحث کا خاتمہ کر دیا۔
(بحوالہ:آرا:ایک شہر سخن از ش۔م۔عارف ماہر آروی، مطبع 1991۔ص 141-137)

حواشی:
1 شرح دیوان غالب- از پروفیسر یوسف سلیم چشتی
2 آرا:ایک شہر سخن-ش۔م۔عارف ماہر آروی
3 خستہ تیغ ستم- ش۔م۔عارف ماہر آروی
4 تلامذۂ غالب-مالک رام
5 دفتر گم گشتہ (بہار میں اردو شاعری کا ارتقا-کلیم احمدعاجز)
6 یادگار غالب-الطاف حسین حالی
7 خمخانہ جاوید-لالہ سری رام
8 تذکرہ مسلم شعرائے بہار-جلد چہارم از حکیم سید احمد اللہ ندوی
9 قومی مثنوی-کیفی بہاری

Mohammad Sultan (Sultan Azad)
Pannu Lane, Gulzarbagh
Patna-800007(Bihar)
Mob.:8789934730, 8084694103
maktabaeazadhind@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

نسلی لسانیات یا بشریاتی لسانیات اور سماجی لسانیات،مضمون نگار:گیان چند جین

بشریات (Anthropology) کا موضوع انسان ہے۔ نام کے مطابق تو اس علم میں انسان سے متعلق جملہ علوم کو شامل ہونا چاہیے تھا لیکن ایسا نہیں ہے ہو بھی نہیں

اردو شعر وادب کے فروغ میں بہرائچ کا حصہ،مضمون نگار:سفیان احمد انصاری

تلخیصموجودہ اترپردیش کا بہرائچ ایک بہت قدیم شہر وضلع ہے، جہاںاپنے دَور کی بہت سی اہم اور معتبر شخصیات کی تشریف آوری ہوئی، اور بہت سی نابغۂ روزگار ہستیوں نے

علامہ شبلی کے بچپن کے احباب ،مضمون نگار:محمدالیاس الاعظمی

تلخیص علامہ شبلی نعمانی (1857-1914)اعظم گڑھ کے ایک گائوں بندول میں پیدا ہوئے، عربی وفارسی کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی، وکالت کاامتحان پاس کیا، پھروہ حج بیت اللہ کے لئے