رامائن کی معنویت:عصر حاضر کے تناظر میں،مضمون نگار:بلوندر سنگھ

May 11, 2026 0 Comments 0 tags

اردو دنیا، مئی 2026:

جدیدسہولیات نے دنیا کو ایک بین الاقوامی گاؤں بنا دیا ہے۔ دور دراز ممالک سے واقفیت کے لیے ہمیں مہینوں لمبے سفر طے نہیں کرنے پڑتے۔ واقعہ یہ کہ بے شمار مال و دولت اور لامحد و دتکنیکی و سائنسی ترقی کے باوجو د روحانی طور پر ہماری دنیا بے حد غریب ہو گئی ہے۔ روحانی اور اخلاقی طور پر ہم ایک دوسرے سے بہت دور ہوتے جا رہے ہیں۔ موجودہ معاشرہ اخلاقی اقدار سے کوسوں دور ہوتا جا رہا ہے، خصوصاً معاشی طور پر ترقی یافتہ مغربی دنیا میں سخت بے چینی و بے اطمینانی نظر آرہی ہے۔ اس لیے ایک ایسے پارس پتھر کی تلاش ہے جسے چھو کر انسانی ذہن سکون واطمینان حاصل کر سکے۔ ہندستان صدیوں سے رشیوں منیوں کی سر زمین رہی ہے، جس نے مادی ترقی سے پیدا ہونے والے مسائل کو پہلے ہی محسوس کر لیا تھا۔ ان دوراندیش افراد نے فطرت کی گود میں پوشیدہ تباہ کاریوں کو محسوس کرتے ہوئے مادہ پرستی کے برے اثرات سے انسانیت کو بہت پہلے آگاہ کر دیا تھا۔
ہمارے قدیم مفکرین نے اس موضوع پر متعدد گرنتھ تخلیق کیے ہیں، لیکن ان تمام گرنتھوں میں’رامائن‘ واحد گرنتھ ہے، جو بے حد موثراور صاف لفظوں میں، تباہی کے دہانے پر کھڑی انسانیت کے سامنے عملی طور پران دائمی اور جاوداں حقائق کو پیش کرتا ہے جو وجود کے تحفظ کے لیے لازمی ہیں۔ یہ گرنتھ واہموں کا شکار، مصیبت زدہ انسان، چاہے وہ مغرب کا ہو یا مشرق کا، ایک مثالی انسان بننے کی ترغیب دیتے ہوئے اس کی رہنمائی کرتا ہے۔
’رامائن‘ میں بیان شدہ واقعات میں اس عہد کی جھلک دیکھنے کو ملتی ہے۔ قدیم دور میں نئی اقدار کے نئے سماج کی تشکیل ہوئی۔ مذہب نے انسان کو اچھائیوں کی ترغیب دی، لیکن محض دھرم کی تبلیغ سے سماج کی اصلاح نہیں ہو سکتی۔ انسانی اصلاح کے لیے اس کی عادات، کردار، معاشی و سماجی حیثیت مختلف اخلاقی معیارات، کم علمی، لاعلمی اور آرزوئیں غرض یہ سبھی اصلاح ضروری ہیں اور اس کی عکاسی’رامائن‘میں پوری سچائی اور ایمانداری سے ملتی ہے۔’رامائن‘ میں طاقتور،کمزور، بہادر، ڈرپوک، باعلم، بے علم، لالچی، دیش بھکت، فہیم اور کور مغز، ہر طرح کے کردار ہیں۔ ماتا ’سیتا‘سے زیادہ خوبصورت، کومل اور پاکیزہ مثال کہاں ہے؟بھگوان شری رام چندر جی سے زیادہ مہربان اور رحم دل کوئی ہے؟بے ریا، بے غرض لکشمن سے بڑھ کر کون ہوسکتا ہے، جو اخلاص، سوامی بھکتی اور عقیدت کا مجسمہ ہے۔
آج ایسے مثالی کرداروں کا تذکرہ ہونا بے حد ضروری ہے،جو ہماری نئی نسل کے لیے قابل تقلید ہے۔ ہندستان میں ایسی متعدد عظیم ہستیاں پیدا ہوئی ہیں۔ ایک مشہور عالم کا قول ہے کہ لوک نا یک وہ ہوتا ہے جو اپنے لوگوں کے جذبہ آزادی، خود مختاری اور دلیری کی نمائندگی کر سکے۔’ رامائن‘ میں فرماں برداری، خود فراموشی، دیش بھکتی، شجاعت اور انصاف پسندی جیسے مثالی اوصاف کی تصویر کشی کی گئی ہے۔یہ صدیوں سے ہماری روایات کا حصہ ہیں۔ گاؤں میں جہاں بیشتر افراد پڑھنا لکھنا نہیں جانتے، سب لوگ جمع ہو کرتریتا یگ کی پریرنا (الہام )دینے والی کتھائیں سنتے تھے۔
بھرت محل سے دور نندی گرام میں رام چندر جی کی کھڑائوں کو سنگھاسن پر رکھ کر ایک سنیاسی کی طرح زندگی گزار رہا تھا اور شتروگن نندی گرام کی ڈیوڑھی پر پہرہ دے رہا تھا۔لکشمن بن میں رام چندر جی کے ساتھ اور شتروگن بھرت کے ساتھ نندی گرام میں تھا۔لکشمن کی پتنی ارملا (Urmila)،بھرت کی پتنی مانڈوی (Madavi) اور شتروگن کی پتنی شروتی کیرتی (Shrutakirti) تینوں راج محل میں ماتا کو شلیاکے پاس تھیں۔ان کے تیاگ، تپسیا اور بلیدان کے بارے میں ہمیں بتایا نہیں جاتا۔ ایسی برہمچارنیوں کی مثال پوری دنیا کے کسی خطے یا مذہب میں دیکھنے کو نہیں ملتی۔
ہندستان کے عہد ساز سیاست دان جانے انجانے ’رامائن‘ اور اس میں مذکور قدیم اقدارسے متاثر ہوئے ہیں۔ آج کچھ افراد یہ کہتے ہوئے سنے جاتے ہیں کہ حالات بہت بدل چکے ہیں۔ اس عہد میں انسان دوستی، حب الوطنی اور سماج کے تئیں ذمے داریاں جیسے جذبات کی اہمیت اب گنے چنے لوگوں تک ہی محدود ہیں۔ موجودہ زمانہ بازار پر منحصر،معیشت کی ٹھیکیداری کا زمانہ ہے، جس میں دوسرے کسی نظام کا دخل نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایشیا کے بیشتر ممالک اس نظام معیشت کو اپنا رہے ہیں، لیکن اس کے ساتھ ان ملکوں کی پالیسی طے کرنے والے مدبر یہ بھی یقینی بنارہے ہیں کہ بازار کو ہی سب کچھ نہ مان لیا جائے۔ یہ امر ملحوظ خاطر رہے کہ معیشت کی جانب بڑھنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہم صدیوں سے چلے آرہے اپنے فلسفۂ حیات یا جیون درشن کو بھول جائیں۔ وہ جیون درشن جو ’رامائن‘ جیسے گرنتھوں میں بیان کیا گیا ہے۔
دنیا کو سب سے پہلے ہندستان نے غیر جانبداری کا اخلاقی سبق دیا، جس میں حق کی طرفداری شامل ہے کیونکہ ’رامائن‘ نے یہ سکھایا ہے کہ جب حق و باطل کے درمیان محاذ آرائی ہو، تب ’غیر جانبداری‘ بے معنی بن جاتی ہے،اور ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم حق کے طرفدار ہوں لیکن اسی کے ساتھ ہمیں رواداری بھی اپنانی چاہیے،’جیو اور جینے دو‘ کا اصول بھی اپنانا ہو گا۔ کسی بھی ملک یا گروہ کو اپنے اعتقادات و نظریات دوسروں پر مسلط کرنے کا قطعی حق نہیں۔غیر جانبداری کا مطلب بے عملی اور لاتعلقی ہرگز نہیں ہے، غیر جانبداری کا مطلب اقوام عالم کو کسی ڈر، خوف اور دباؤ کے بغیر اپنا دوست منتخب کرنے کا حق دینا ہے۔ ’رامائن‘نے اس سچائی کو ہزاروں برس پہلے بیان کر دیا تھا۔آج کے حالات میں اگر غیر جانبدار تحریک کا وجود نہ ہوتا تو یہ دنیا کب کی تباہ ہو چکی ہوتی۔ انسانیت کو نگلنے کے لیے جب جب جنگ کی آگ بھڑکی ہے، تب تب اس تحریک نے ’فائر بریگیڈ‘کا کردار ادا کیا ہے۔ نہ صرف بر اعظم،ایشیا بلکہ مغربی ممالک کے بیشتر علما کی پسند اور تحسین کی مستحق ’رامائن‘ کی تخلیق ہے۔ ادب، فلسفہ، معاشیات اور سماجی رویوں کے اس صحیفے کی اہمیت آج بھی مسلم ہے۔
اس صحیفے کے سب سے پہلے خالق مہارشی والمیکی جی ہیں۔ چتر کوٹ کے آس پاس’ تماسا‘ ندی (Tamasa River)کے کنارے مہارشی والمیکی جی کا آشرم تھا۔ یہاں ہی لبھ اور کش (Lave & Kusha) نے ماتا سیتا کے بطن سے جنم لیا تھا۔چتر کوٹ کے بیچووں بیچ منداکنی ندی (Mandakani Nadi)بہتی ہے۔ بھگوان شری رام جی،لکشمن جی اور ماتا سیتا نے بن باس کا کافی وقت یہاں صرف کیا تھا۔یہاں کنارے پر رام گھاٹ ہے۔ روایات یہ بھی ہیں کہ تلسی داس نے یہاں ہی رامائن کی رچنا کی تھی۔مہارشی والمیکی جی کو زندگی کے مختلف پہلو عزیز تھے اور وہ ان کا احترام کرتے تھے۔ چاہے آسمان میں اڑتا پرند ہو، جنگل میں گھومتا ہرن یا خود انسان وہ سب کے قریب تھے۔ ایک روز ان کی آنکھوں کے سامنے ایک ایسا سانحہ ہوا جس نے انھیں مضطرب و بے حال کر دیا۔ ’تماسا‘ندی کے کنارے کرونچ پرندے کا ایک جوڑا محو محبت تھا تبھی کہیں سے ایک تیر چلا اور ان میں سے ایک کو چھید گیا۔ دوسرے پرند ے کی زبوں حالی اور تڑپ دیکھ کر بے اختیار والمیکی کے منھ سے ایک اشلوک نکلا،اس شعری نزول سے خود والمیکی سحر زدہ تھے کہ ندا آئی کہ وہ اسی چھند میں پر شوتم رام کی حیات لکھیں۔ تبھی والمیکی جی نے سات ابواب اور چوبیس ہزارا شلوکوں میں رام کتھا بیان کی۔ ان کے اس صحیفے میں تخیل، زبان اور اسلوب کے ساتھ ساتھ علم اور اعلیٰ آدرش واد کی بے مثال ہم آہنگی پائی جاتی ہے،اور اس ہم آہنگی نے اس مکمل ادبی اور فلسفیانہ گرنتھ کو عالمی ادب کی عظیم المرتبت تخلیقات کے درجے میں نمایاں مقام دلا دیا۔ کئی صدیوں بعد ملٹن نے لکھا ’’ایک اچھا گرنتھ وہ ہوتاہے جس میں ایک عظیم آتما کا خون جگر شامل ہوتا ہے۔‘‘1
یہ جملہ ’رامائن ‘ہی کو ذہن میں رکھ کر لکھا گیا ہوتا اگر ملٹن کو واقعی ’رامائن‘کے مطالعے کا شرف حاصل ہوا ہوتا۔ بے اختیار اس کی زبان سے ’رامائن‘ کے لیے تعریف و تحسین کے کلمات ادا ہوئے ہوتے۔
مدھر، بے مثال اور پر از معانی’ رامائن ‘کے جذباتی واقعات کی ڈرامائی پیشکش صدیوں سے ہوتی آئی ہے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ ’رامائن ‘محض مذہبی تقریبات کے موقع پر ہی نہیں پڑھی جاتی تھی بلکہ ادبی محفلوں میں بھی اس کا مطالعہ کیا جا تا تھا۔ آج تک نہ جانے کتنے شاعروں، ادیبوں، ڈراما نگاروں اور نغمہ نگاروں کے لیے’ رامائن‘ترغیب کا باعث رہی ہے۔آج بھی’ رامائن‘ کی وہی عظمت ہے جو آج سے ہزاروں سال پہلے تھی، جب یہ معرض وجود میں آئی تھی۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ یہ عوامی زندگی سے گہرا اور براہ راست ربط رکھتی ہے۔ علاوہ ازیں یہ انسان کے سامنے کوئی مافوق فطرت اور ناقابل عمل مقصد پیش نہیں کرتی۔ اس کے اقوال زندگی کے قریب ہیں، اسے انسان کی کمزوریوں اور اس کی حدود کا علم ہے۔ وہ ان کمزوریوں کو تمسخر کا ہدف نہیں بناتی بلکہ انسان کو ایک معین مقصد کے حصول کی راہ دکھاتی ہے۔ ’رامائن‘ہمیں علم و انکسار سکھاتی ہے۔جیسا کہ مہارشی اروند نے کہا : ’’پھلوں سے لدی ہوئی ڈالی جھک جاتی ہے۔‘‘2
’رامائن‘انسان کے بنیادی وصف، عظمت اور پاکیزگی میں یقین رکھتی ہے۔ یہاں انسان سے مراد مرد اور عورت دونوں ہیں۔ ’رامائن‘ کے تخلیق کار نے عورت اور مرد کے مابین کبھی کوئی فرق نہیں برتا۔ اس نے دونوں کے جسمانی فرق کو تو قبول کیا، لیکن عورت کو کہیں بھی مرد سے کمتر نہیں مانا۔ ’سیتا ‘ماتاجی کی روشن اور تابناک کردار سازی اس کا بین ثبوت ہے۔
اس حوالے سے واضح ہے کہ’ رامائن ‘نسلی امتیازات کی قدامت پرستانہ ذہنیت کو افضلیت نہیں دیتی بلکہ اس کے برعکس اس کے نزدیک صاحب فہم، با کردار اور پاکیزگی پسند طبقہ زیادہ اہم اور پسندیدہ ہے۔’ رامائن ‘کے مطابق اعلیٰ یا ادنیٰ ذات کا تعین قبل از ولادت سے نہیں کیا جاسکتا۔ ہر ذی روح کو معیار زندگی بہتر اور ایک مکمل انسان بننے کا تہذیبی، سماجی اور معاشی موقع ضرور ملنا چاہیے۔ اگر چہ اس طرح کا کوئی پیغام ’رامائن‘ میں واضح لفظوں میں نہیں دیا گیا ہے۔لیکن یہ مفہوم اس کے بین السطور میں مضمر ضرور ہے، اسی لیے’ رامائن‘ کو سرسری نظر سے پڑھ لینا کافی نہیں ہے، اس کا مطالعہ بڑی باریک بینی اورغور و فکر کا تقاضا کرتا ہے۔ ایک صاحب فہم عقل پر ’رامائن ‘کو ہر بار کے مطالعہ سے کچھ نئی صداقتیں عیاں ہوتی ہیں۔
’رامائن ‘کا بنیادی سبق ہے ’ خاندان کا وقار‘ خاندان سماج کا ایک چھوٹا روپ ہے۔ سماج کی طرح ایک خاندان کے بھی روز مرہ کے کچھ ضابطے ہوتے ہیں۔ خاندان کی یکجہتی کے لیے ایک دوسرے کے تئیں اعتماد اور اخلاص بہت ضروری ہے۔ ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر رہنا بڑی ذمے داری ہے۔ ہندوستان میں خاندان کی جتنی اہمیت ہے اتنی دنیا میں کہیں اور نہیں ہے۔ ہندستانی سیاق میں خاندان کی اجتماعیت نے ہمیں نسلی تفاوت، غریبی، غیر ملک کے حملے اور نا قابل قبول تہذیبی خرابیوں کے سامنے سپر ڈالنے نہیں دی ہے۔ یہ بڑے افسوس کا مقام ہے کہ اب ہمارے سماج میں خاندانی اجتماعیت کی اہمیت گھٹ رہی ہے اور اس کی جگہ ذاتی غرض کو ترجیح دی جانے لگی ہے۔ جدت کے نام پر بڑوں کا ادب، اخلاقی اقدار کا وقار اور اپنی تہذیب کی عزت مفقود ہوتی جارہی ہے۔ باپ، بھائی، پڑوسی، شہری، یہاں تک کہ انسان کے افتخار کو گہن لگتا جارہا ہے۔ عصر حاضر میں سماج جن مسائل سے دو چار ہے، نامانوس، غیر محفوظ اور مختلف غیر ملکی تہذیبی پس منظر میں خاندان کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ اہل برطانیہ نہ صرف ہم ہندستانیوں کی تندہی اور کاروباری وتعلیمی لیاقت کے سبب ہمیں عزت دیتے ہیں بلکہ ہماری خاندانی ہم آہنگی بھی ہمیں ان کی نظروں میں مستحسن بناتی ہے۔ خاندانی ہم آہنگی کا یہی جذبہ ہمیں وہ تحفظ، خلوص، سکون اور با قاعدگی عطا کرتا ہے جس سے خاندان کے ہر فرد میں خود اعتمادی اور رجائیت پیدا ہوتی ہے۔
’رامائن ‘نے بڑی مہارت سے ہمیں خاندان اور سماج کے قوانیں سے متعارف کرایا ہے۔ بھگوان رام جی پر جب مصیبت آئی، تب انھوں نے اپنے معاشرے کے تعاون سے ہی راون جیسے مخالف طاقتور دشمن پر فتح پائی۔ ’رامائن ‘ہماری زندگی کا جزوہے، جس میں تبدیلی کی گنجائش نہیں۔ اس کے صفحات ہم جب چاہیں اور جہاں سے چاہیں پلٹ کر روحانی آنند اور اخلاقی سبق حاصل کر سکتے ہیں۔
بھگوان رام چندر جی کے ظہور سے قبل بھارت ورش مختلف ریاستوں میں بٹا ہو ا تھا۔یہاں کے کھشتری راجے مہاراجے آپسی جنگ و جدل میں مشغول رہتے تھے،ملکی نظام درہم برہم ہوچکا تھا۔ بھگوان پرشورام نے کئی بار ان کا خاتمہ کر کے نظم و نسق کو درست کیا،لیکن بھگوان رام چندر جی نے اپنی زندگی میں پورے بھارت ورش کو ایک سوتر میں باندھ دیا اور وہ مثالی نظام پیش کیا،جسے آج تک’’ رام راج ‘‘کے نام سے جانا جاتا ہے۔
بھگوان رام چندر جی تریتا یگ کے نصف میں پیدا ہوئے۔اس یگ کی عمر ہے 129600برس،اس کا آدھا ہوا64800 برس۔اس کے بعد دواپر یگ آتا ہے۔ اس کی کل عمر ہے86400برس۔بھگوان شری کرشن جی مہاراج اسی یگ میں پیدا ہوئے۔ بھگوان شری کرشن کو شریر تیاگے ہوئے اب تک 7550 برس ہو چکے ہیں۔تب سے کل یگ کی شروعات ہوئی ہے۔اگر ان برسوں کو جوڑ دیا جائے تو کل میزان1519550 برس ہوتے ہیں۔تو شاشتروں کے حساب سے رام جی اتنے برس قبل پیدا ہوئے تھے اور’ رامائن ‘جو رشی والمیکی نے لکھی ہے وہ اتنی پرانی ہے اور ہمارے آریاورت کی تہذیب (سنسکرت )بھی اتنی ہی قدیم ہے۔دنیا میں اس طرح کی تہذیب اور کوئی نظر نہیں آتی۔
مہارشی والمیکی نے ’رامائن‘ سنسکرت زبان میں لکھی، کیونکہ اس وقت یہی ملکی زبان تھی۔وقت گزرنے کے ساتھ بھارت ورش میں سنسکرت سے کئی نئی زبانیں نکلیں، تو رامائن ان میں منتقل ہونا شروع ہوئی۔ بھارت ورش کا یہ زمانہ سخت گیر تھا، غیر ملکی طاقتیں بے رحمانہ انھیں کچل رہی تھیں۔اسی دور میں سور داس،تلسی داس، گرونانک،نندد اس، ملک محمد جائسی، رحیم، رس خان، کیشو داس اور کبیرداس جیسے سنت سامنے آئے۔ خاص طور پر اس پسپائی کے باجود تلسی داس اور کبیر داس نے ہندو فلسفہ کو بام عروج تک پہنچایا۔ انھوں نے اپنے بانی کے ذریعے ’رامائن ‘ کی تعلیمات کو عوام تک پہنچایاہی نہیں بلکہ’ رام نام‘ سمرن عوام کو سکھایا۔
’رام چرت مانس‘ کی تخلیق کے بعد تلسی داس کی شہرت چاروں طرف پھیل گئی۔ سنت کوی نا بھا داس نے اپنی شہرہ آفاق تصنیف ’بھکت مالا‘ میں تحریر کیا ہے:
’’کل یگ میں عوام کو نجات دلانے کے لیے والمیکی نے تلسی کی شکل میں جنم لیا۔’ تریتا‘یگ میں والمیکی نے رامائن لکھی۔ اس مقدس گرنتھ کا ایک لفظ بھی برہمن ہتیا(قتل) کے دوش سے نجات دلا سکتا ہے۔ اب عقیدت مندوں کے لیے تلسی داس نے ایشورکے فضل کو از سر نو پیش کیا ہے۔ اپنے برت کے مطابق وہ شری رام بھکتی میں دن رات انہی کا نام جپتے رہتے ہیں۔ اس طرح انھوں نے زندگی اور موت کے سمندر کو پار کرنے کے لیے یہ کشتی بنائی ہے جس سے اس کل یگ کے تمام مصائب زدہ ذی روحوں کی مکتی ممکن ہے۔‘‘3
’رامائن ‘پر مبنی ایک ٹی وی سیریل بھی ٹیلی کاسٹ کیا گیا۔ پوری ایک دہائی تک اس سیریل نے ہندوستان اور غیر ممالک میں بسے ہندوستانیوں کو مسحور رکھا۔ اسی وجہ سے اس مہان پیشکش کے پروڈیوسر ڈائرکٹر رامانند ساگر کا موازنہ والمیکی اور تلسی داس تک سے کیا گیا۔ آج بھی جب دور درشن پر یہ سیریل ٹیلی کاسٹ ہوتا ہے لوگ اپنے کام کاج بند کر کے اس سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔
شری و یاس جی نے ایک اور سمت قابل تعریف پیش رفت کی ہے۔ غیر ممالک میں آباد ہندستانیوں کی ایک پوری نسل، جو اب تک ’رامائن ‘کے فلسفیانہ پہلو اور اس کی مسحور کن موسیقی سے محروم تھی، انھیں شری ویاس جی نے موسیقی سے مرصع ’رام‘ کتھا سے متعارف کرایا۔ انہی کی ترغیب سے متعدد گایکوں اور موسیقی کاروں نے رام کتھا کا امرت باہر بسے ہوئے لاکھوں ہندستانیوں تک پہنچایا۔ جس کے لیے وہ ہمیشہ شری ویاس جی کے احسان مند رہیں گے۔ غیر ممالک میں شری مراری باپو، شری رو میش اوجھا جیسے عالم حضرات کے کامیاب پروگراموں کے پیچھے بھی شری و یاس کی انتھک کوششیں شامل رہیں۔ شری للن پر شاد و یاس کا قول ہے:
’’آج جب پرانا نظام تباہ ہورہا ہے اور مغربی دنیا کسی نئے نظام کا تصور بھی نہیں کر پا رہی ہے۔ ایسے میں جب اس چوطرفہ پھیلی ہوئی بیماری کی تشخیص میں دنیا خود کو قاصر پا رہی ہے تب ہمیں ’رامائن ‘ کا خیال آتا ہے۔ وہی ’رامائن‘ جس میں حکمران خود روحانی اقدار سے محکوم ہوتا ہے۔ ’رام چرت مانس‘میں بھگوان اپنی رعایا سے کہتے ہیں:
’’نہیں انیتی نہیں کچھو پر بھو تائی سن ہوں کر ہو جو تم میں سہائی جو انیتی کچھو بھا شہو بھائی، تو موہی برجہوو بھئے بسرائی۔‘‘4
ہم ایک بار پھر انسانی بھلائی کے سرچشمے بھگوان شری رام کی تعلیمات کی طرف لوٹتے ہیں جن پر ایک رام بھکت شری للن پرسا د ویاس نے روشنی ڈالی ہے۔ کبھی کبھی مظالم کی تکلیف اتنی بڑھ جاتی ہے کہ انسان خود اپنی موت کی خواہش کرنے لگتا ہے۔ لیکن ’رامائن‘ اس طرح کی شدید یا سیت سے ابھرنے کی ترغیب دیتی ہے۔
کوئی بھی تخلیق، ابتدا میں کتنی ہی عظیم اور اہم کیوں نہ ہو، وقت گزرنے کے ساتھ اتنی قابل احترام نہیں رہ جاتی،عظیم تخلیق وہی ہوتی ہے جس پر وقت کا اثر نہ پڑے۔ ’رامائن ‘کالاثانی وقار، شعری حسن اور انسان نوازی اسے ایسی عظیم تخلیق بناتے ہیں جو ہزاروں برس پہلے لکھے جانے کے باوجود موجودہ صدی کے بے چینی بھرے اور گمراہ کن حالات میں، بلکہ آنے والی صدیوں میں بھی اپنی اہمیت قائم رکھے گی۔
ہم انسان کی ترقی میں ایک اعلی سطحی صورت حال کا تذکرہ اکثر کیا کرتے ہیں۔ اسی طرح ایک دوسری صورت حال ہے، جو انسان کے لیے چاہے اذیت ناک ہو، لیکن ناممکن نہیں ہے، وہ صورت ہے، انسانی ترقی کا عروج، اس کی اعلیٰ ترین حیثیت۔ دور سے دیکھنے پر وہ ایورسٹ کی چوٹی کی طرح عظیم الشان، نا قابل تسخیر ضرور لگتی ہے لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ کوشش کرنے سے ہی ایورسٹ کو فتح کیا جا سکتا ہے۔ یہ بات ذہن نشین رکھتے ہوئے کہ انسان اپنی سرشت سے گناہ گار نہیں ہوتا، ’رامائن‘ کی تعلیمات پر عمل پیرا ہوتے ہوئے ہم اگر متواتر کوشش کریں تو ہم انسانی ترقی کی ایورسٹ چوٹی تک چاہے نہ پہنچ سکیں لیکن اس دنیا کو یقیناً ایک قابل رشک مقام بنا سکتے ہیں۔ جہاں انصاف، رحم اور پیار کا سامراج ہوگا اور انسان دیوتاؤں کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلے گا۔
ماخذ و مصادر
1 مہاراجہ رام چندر جی کا کردار :ایک سرسری جائزہ، عالمی اردو ادب (دھارمک نمبر)2012 ص 203
2 ایضاً،ص203
3 رام کی معنویت،ڈاکٹر ودیاساگر آنند (مرحوم) موڈرن پبلشنگ ہاؤس، دریا گنج، نئی دہلی 2015 ص 59
4 ایضاً، ص62

Dr Balvinder Singh
Assistant Professor(Contructual)
Department of Urdu
University of Ladakh (UOL)
Kargil Campus-194103
Cell No-6006038989
E-mail-Balvindersingh@bhu.ac.in

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

ہندوستان میں فارسی ثقافت کی ترویج واشاعت میں صوفیانہ روایت کاکردار،مضمون نگار:حفصہ بیگم

اردو دنیا، اپریل 2026: اسلامی روایات وتعلیمات سے جنم لینے والی اصطلاحات میں سے ایک تصوف بھی ہے۔ یہ ایک اعتدال پسند، اصلاحی اور روحانی تحریک ہے جو محض مذہبی

امیر خسرو کی پہیلیاں: لسانی حسن اور فکری رنگ، مضمون نگار: انور ہادی جنیدی

اردو دنیا،نومبر 2025   امیر خسرو کوبرصغیر کی ادبی و تہذیبی تاریخ میں ’ہندوستان کی زبانوں اور ثقافتوں کا سفیر‘ کہا جا تا ہے۔ ان کا اصل نام ابوالحسن یمین