اردو آزاد نظم کا پس منظر،مضمون نگار: حنیف کیفی

May 12, 2026 0 Comments 0 tags

اردو دنیا، مئی 2026:

جس عبوری دور میں اردو نظم معرا لنگڑا لنگڑا کر چلتے ہوئے اپنے قدم جمانے کی جدوجہد کر رہی تھی اسی زمانے میں اردو میں آزاد نظم کا وجود ہوا۔ تقریباً تمام جدید شعری تجربوں کی طرح اردو کی آزاد نظم کا وجود بھی انگریزی شعر و ادب کے اثرات کا رہین منت ہے۔ غیرمساوی مصرعوں پر مشتمل شعری ہئیتوں کا وجود عربی اور فارسی شاعری میں بھی پایا جاتا ہے۔ فارسی اور اس کے اثر سے اردو میں مستزاد ایک ایسی ہی ہیئت کی مثال پیش کرتا ہے۔ عربی شاعری میں یک رکنی اشعار اور موشحات میں غیرمساوی مصرعوں کی نشان دہی کی گئی ہے لیکن ان شعری ہئیتوں کی روایت نے نہ تو اردو کی آزاد نظم کے وجود کے لیے کسی محرک کا کام کیا اور نہ اس کی ترویج میں اس روایت کو تائید کے طور پر پیش کیا گیا۔ عربی شاعری تک تو اردو آزاد نظم کے علم برداروں کی رسائی ہی نہ تھی اور اگر ہوتی بھی تو محولہ ہیئتیں آزاد نظم کی صورت گری میں معاون نہ ہوتیں، کیونکہ ان کی ہیئت اور تکنیک آزاد نظم کی ہیئت اور تکنیک سے قطعی مختلف ہے۔ مولوی عبدالرحمن نے ’مراۃ الشعر‘ میں موشح اور یک رکنی شعر کا جو تعارف پیش کیا ہے اس سے یہ فرق واضح ہے۔ شعر میں ’وزن حقیقی و غیر حقیقی کی بحث‘ کے تحت مولانا رقم طراز ہیں:
’’وزن حقیقی یہ ہے کہ شعر یا کسی نظم کا مصرعہ مصرعہ اپنے حروف ملفوظہ اور ان کی حرکات و سکنات کے اعتبار سے عروضی افاعیل و تفاعیل یا مذاق صحیح کی میزان میں برابر ہو جیسے عربی، فارسی، اردو کے عام اشعار ہوتے ہیں۔ اگرچہ بعض بحور میں زحافات نقص و زیادت سے مصرعوں میں خفیف سی کمی بیشی ہوجاتی ہے لیکن نہ بہت زیادہ۔ برخلاف اس کے وزن غیرحقیقی میں شعر کے مصرعے مساوی نہیں ہوتے۔ کوئی چھوٹا ہوتا ہے، کوئی بڑھ جاتا ہے۔ مثلاً ایک مصرع میں چار رکن آئے۔ دوسرے میں تین رہ گئے یا پانچ ہوگئے۔ ایک مصرعہ سیر بھر کا رہا اور دوسرا سواسیر کا ہوگیا یا تین پائو کا رہ گیا۔ تاہم وزن میں ان کے باہم کوئی ایسی مناسبت ضرور ہوتی ہے کہ شعر ناموزوں نہیں ہوتا۔‘‘
(مولوی عبدالرحمن: مراۃ الشعر، ص 35)
’وزن حقیقی و غیر حقیقی‘ کی اس تعریف کے بعد لکھتے ہیں:
’’بہت سی زبانوں کی شاعری میں وزن کی یہ صورت اب بھی موجود ہے۔ مصرعے باہم مساوی نہیں بلکہ چھوٹے بڑے ہوتے ہیں لیکن کچھ ایسی ترتیب و نظام پر کہ ذوق کو پہلے (بھلے) معلوم ہوتے ہیں بلکہ بعض اوقات مساوی الوزن مصرعوں سے زیادہ لطف دے جاتے ہیں۔ جاہلیت کا تمام دیوان اس قسم کے اشعار سے خالی ہے، کہتے ہیں کہ اول اول اندلس میں اس قسم کے شعر کا موشحات سے آغاز ہوا اور پھر وہاں سے ممالک شرقیہ تک پہنچا۔‘‘(ایضاً، ص 36)
موشح کی تعریف ان الفاظ میں کرتے ہیں:
’’موشحہ ماخوذ ہے و شاح سے جس کے معنی ہیں گنگا جمنی ہار، پس موشحہ وہ عروس سخن ہے جو لآلی و جواہرات رنگارنگ کا ہار پہنے ہو۔ اسی لیے آپ موشحات کے وزن و قوافی میں رنگارنگی پائیں گے۔‘‘(ایضاً، ص 36)
اس تعارف کے بعد موشحات کے آغاز اور رواج کے بارے میں مولوی عبدالرحمن، ابن خلدون کے حوالے سے، یہ آگاہی بہم پہنچاتے ہیں:
’’ابن خلدون نے لکھا ہے کہ اندلس میں جب عربی شاعری کمال کو پہنچ گئی اور تحسین و تزئین حد کو تو شعرائے اندلس نے نئے نئے اندازسخن سنجی پیدا کئے۔ انھیں میں سے ایک کا نام موشح ہے۔ جس میں شاعر مختلف الآخر اجزائے شعر بہم پہنچاتا اور سلسلہ وار پروتا چلاجاتا ہے اور کئی کئی کے مجموعہ کو بیت قرار دیتا ہے، اور ایک ایک بیت میں کئی کئی قوافی کا التزام کرتا ہے اور اجزائے شعر کے اوزان میں بھی کہ ہم وزن اجزا ایک خاص ترتیب سے جو ابتدا میں برتی ہے تابہ آخر پے درپے آتے چلے جاتے ہیں چونکہ یہ انداز لوگوں کو حسن ترتیب اور سہولت کی وجہ سے بہت پسند آیا، پھیلتا اور بڑھتا چلا گیا۔ اس فن کا موجد ابن معانی القبری ہے اسی سے ابن عبدربہ نے لیا اور پھر عام ہوگیا۔‘‘(مراۃ الشعر، ص 36)
موشح کی مثال کے طور پر مولوی عبدالرحمن عبادۃ القزاز کا یہ ’قول‘ پیش کرتے ہیں:
’’بدرتم+شمش صخی+غضن نقا+مسک شم
مااتم+مااوضحا+ماادرقا+ماانم
لاجرم+من لمحا+ قد عشقا+ قد حرم‘‘
(مصرع مصرع میں چار چارمساوی جز ہیں اور پھر چاروں باہم ہم وزن و ہم قافیہ ہیں)
’’بدرکامل۔ خورشید خاور۔ سروباغ۔ مشک بویا۔ کیسا بھرپور۔ کیساروشن۔
کیا ہرا بھرا۔ کیسا خود نما ہے۔ اسی لیے جس نے دیکھا عشق ہوگیا مگر رہا حرماں نصیب ۔‘‘(ایضاً، ص 37)
موشح کے تعارف کے بعد اس سلسلے میں، مولوی عبدالرحمن اپنی اس رائے کا اظہار کرتے ہیں:
’’میں کہتا ہوں کہ یہ انداز خود یک رکنی شعر سے نکلا ہے جو اس سے پہلے مشرق میں پیدا ہوچکا تھا۔‘‘
(ایضاً، ص 37)
اور اس یک رکنی شعر کی مثال وہ ان اشعار کے ذریعے پیش کرتے ہیں جو ’’الھادی کی مدح میں سلم الخاسر‘‘ نے کہے تھے۔
’’موسی المطر 1۱غیث بکر ثم انہمر 2 الولمرد
کم اعتسر 3وکم قدر، ثم غفر 4عدل الیسر‘‘
’’موسیٰ مینہ ہے۔ وہ مینہ جو صبح کو آیا اور پھر ٹوٹ کر برسا۔ بڑا زور آور۔ ہٹ والا ہے۔ اکثر دشواریوں میں پھنسا اور غالب آیا مگر اس انصاف سیرت نے معاف کردیا۔‘‘(ایضاً، ص 37)
اور پھر اس نتیجے پر پہنچتے ہیں:
’’یک رکنی شعر کے بعد اقصر الشعر کہنا چاہیے ، شعر طویل کی حقیقت اس سے زیادہ نہیں رہتی کہ کئی کئی مصرعے کا اطلاق کرلیا جائے۔ اسی لیے یک رکنی شعر سے شعر طویل پیدا ہوا اور وہی موشحات کے تنوع کا باعث بنا… اس اختراع کا یہ نتیجہ ہوا کہ عربی شعر قصیدہ و ارجوزہ کے ہم رنگ قوافی کی قید سے چھوٹ گیا کیونکہ اس طرز جدید میں قوافی کا التزام اس قسم کے شرائط اپنے ساتھ لایا تھا کہ طویل نظموں میں اس کا نباہ مشکل تھا ناچار شعرا نے چند چند ابیات تک ایک ایک قافیہ کا التزام رکھ کر اس کو بدلنا شروع کیا جس سے ا یک طرف قصیدہ اور ارجوزہ کے قوافی کی یک رنگی رنگارنگی سے بدل گئی اور مسمط بانواعہ پیدا ہوگیا اور دوسری طرف شاعر نے دیکھا کہ اس کے ایک مصرعے میں تین یا چار مساوی اجزا آئے۔ دوسرے مصرعے میں تیسرے اور چوتھے جز کی نوبت نہ آئی تھی کہ بات پوری ہوگئی۔ مصرعے غیرمساوی ہیں۔ مگر موزوں جس لفظ تک پہنچا تھا اسی کو دوسرا قافیہ بنالیا اور لگا اسی اسلوب پر شعر کہنے۔ یوں وہ شعر پیدا ہوگیا جس کے مصرعے باہم برابر نہ تھے۔‘‘(ایضاً، ص 37-38)
موشح اور یک رکنی شعر سے متعلق ان تفصیلات سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ غیرمساوی مصرعوں کے ہوتے ہوئے بھی ان مصرعوں کی مخصوص ترتیب و تنظیم نیز وزن و قافیہ کے خاص التزام کے باعث ان ہئیتوں کی تکنیک آزاد نظم کی تکنیک سے قطعاً مختلف ہے۔ اب رہا مستزاد جسے مولوی عبدالرحمن کے نزدیک ’’عربی موشح کی ایک قسم کا چربا کہنا چاہیے ‘‘ (ایضاً، ص 46)
تو اس سے متعلق آزاد نظم کی تکنیک کے ضمن میں تفصیل سے بحث کی جاچکی ہے اور یہاں اس کے اعادے کی چنداں ضرورت نہیں۔ اس حقیقت کے باوجود کہ آزاد نظم میں ارکان کی تخفیف کے سلسلے میں عموماً مستزاد کے اصول کو شعوری یا غیرشعوری طور پر بروے کار لایا جاتا ہے مستزاد کی ہیئت اور تکنیک کو آزاد نظم سے مماثل قرار دینا اور دورازکار بات ہوگی۔ اس کے علاوہ یہ بات بھی ذہن نشین رہنی چاہیے کہ آزاد نظم کے محرکات و عوامل بھی کلیتاً وہ نہیں تھے جو موشح یا مستزاد کی اختراع کا باعث بنے۔ وزن و قافیہ کی سخت قیود سے آزادی حاصل کرنے کی خواہش کے ساتھ ساتھ آزاد نظم کی ایجاد میں کچھ ایسے عصری تقاضوں کی بھی کارفرمائی شامل تھی جو اسی زمانے سے مخصوص تھے۔ ان مخصوص عصری تقاضوں کے پس منظر میں انگریزی آزاد نظم کی ترویج نے اردو آزاد نظم کے لیے اہم محرک اور قابل تقلید نمونے کا کام دیا۔ لہٰذا اس بات میں دو رائیں نہیں ہوسکتیں کہ اردو میں آزاد نظم کا وجود براہ راست انگریزی شعر و ادب کے تیزی سے بڑھتے ہوئے اثرات کا نتیجہ ہے اور اس کی پیش قدمی بنیادی طور پر انگریزی فری ورس کی پیروی کی مرہون منت ہے۔
جس وقت اردو آزاد نظم کا وجود ہوا خود انگریزی شاعری میں فری ورس کی حیثیت نووارد کی تھی۔ پروفیسر محمد حسن کا یہ بیان حقیقت پر مبنی نہیں کہ:
’’مغربی ادبیات میں تو آزاد نظم کی روایت بڑی پرانی ہے۔ ڈاکٹر جانسن جیسے اصول پرست نقادوں کی مخالفت کے باوجود آزاد نظم انگریزی شاعری ہی میں نہیں یورپ کی شاعری میں ایک بلند مرتبہ حاصل کرچکی ہے۔‘‘(پروفیسر محمد حسن: نظم جدید کا معنوی ارتقا، ص 90)
نہ تو مغربی ادبیات میں آزاد نظم کی روایت پرانی ہے اور نہ ڈاکٹر جانسن کے زمانے یعنی اٹھارھویں صدی میں اس کا رواج تھا۔ رواج و روایت تو درکنار اس زمانے میں کسی نے اس کا نام تک نہ لیا تھا۔ ڈاکٹر جانسن کے انتقال 1784 سے پوری ا یک صدی گزر جانے کے بعد فرانس میں پہلی مرتبہ مروجہ عروضی اصولوں سے منحرف غیرمساوی مصرعوں پر مشتمل نظموں کو Verse Libre کا نام دیا گیا اور انگریزی میں اسی کا ترجمہ Free Verse کیا گیا جو اردو میں ’آزاد نظم‘ کے نام سے معروف ہے۔
نظم کی وہ مخصوص قسم جو آج آزاد نظم کے نام سے جانی پہچانی جاتی ہے، فرانس میں انیسویں صدی کے اواخر میں اور انگریزی شاعری میں بیسویں صدی کے اوائل میں منظرعام پر آئی۔ البتہ بے ضابطہ اور منتشر طور پر اس کے ابتدائی نقوش مختلف الوزن غیر مقفیٰ مصرعوں کی شکل میں ملٹن کیLycidas’۱‘ Samson Agonistes ورڈزورتھ کی Old on Intimations Immortality اور شیلی کی Queen Mab میں نظر آتے ہیں لیکن خیال رہے کہ ان نقوش کی نشان دہی بھی جدید عہد کے ناقدین نے کی ہے۔ خود اس زمانے میں نہ تو شاعر کے ذہن ہی میں آزاد نظم کا کوئی تصور تھا اور نہ کسی ناقد نے اس کی طرف اشارہ کیا تھا۔ مزید برآں ملٹن وغیرہ کی نظموں میں غیرمساوی مصرعے آزاد نظم کی تکنیک کے برعکس باضابطہ اوزان میں تھے۔ اسی انداز کی نظم کے کچھ تجربے میتھیوآرنلڈ (Matthew Arnold)، پیٹمور (Patmore) اور ہینلی (Henley) نے بھی انیسویں صدی کے نصف آخر میں کیے۔ اسی زمانے میں امریکہ میں والٹ وٹمین (Walt Whitman) نے Leaves of Grass میں آزاد نظم کا تجربہ کیا۔ یہ تجربے آزاد نظم کے پیش رو کہے جاسکتے ہیں، لیکن اصل آزاد نظم کا تعلق ان شعرا سے ہے جنھوں نے باضابطہ طور پرVerse Libre یا Free Verse کے نام سے نظمیں لکھنے کا آغاز کیا۔
یہ آزاد نظم انگریزی شاعری کو فرانسیسی شاعری کی دین ہے جہاں انیسویں صدی کے خمس آخر میں اس کا خاصا رواج ہوچکا تھا۔ یوں تو وکٹر ہیوگو (Victor Hugo) نے مروجہ عروضی اصولوں سے بتدریج انجراف و انقطاع کے ذریعے فرانسیسی آزاد نظم کا سنگ بنیاد رکھ دیا تھا لیکن اس کی ترویج سمبالزم (Symbolism) کی تحریک کے تحت انیسویں صدی کے آخری دو دہائیوں کے دوران ہوئی۔ ایک تحریک یا اسکول کی حیثیت سے سمبالزم کا نام 1886 میں منظرعام پر آیا جب کہFigaro میں اس کا اعلان نامہ شائع ہوا، لیکن ایک رویے یا رجحان کی حیثیت سے اس کا آغاز بادلیر(Baudelaire) کی شاعری سے ہوچکا تھا۔ بادلیر کے مقلدین رمبو (Rimbaud)، میلارمے (Mallarme) اور ورلین (Verlaine) نے اس رجحان کو فروغ دیا۔ 1886 کے قریب فرانس کے نوجوان جدت پسند شعرا جنھیں اپنی رہنمائی کے لیے کسی مناسب شخصیت کی تلاش تھی، میلارمے اور ورلین کی قیادت میں دو الگ الگ جماعتوں میں تقسیم ہوگئے۔ میلارمے کی پیرو ’ہارمَنسٹ‘ (Harmonistes) یا ’ویر لیبرسٹ‘ (Vers-libristes) کہلائے۔ ان شعرا نے سمبالزم کے فروغ کے ساتھ ہی ساتھ پیرایۂ اظہار کی حیثیت سے ’ویرلیبر‘ یا آزاد نظم کی ترویج و تبلیغ کی۔ آزاد نظم کے مبلغ کی حیثیت سے گستاوکان(Gustave Kahn) کا نام خاص اہمیت کا حامل ہے۔ اس کے علاوہ جول لیفارج (Jules Laforgue)، ویلیگریفیں (Viele-Griffin)، فرانس جیمس (Francis Jammes)، آندرے اسپائر (Andre Spire) وغیرہ ’ویرلیبر‘ کے اولین علم برداروں میں سے ہیں۔
فرانس کے ان جدت پسند شعرا نے نثر و نظم کے باہمی امتیازات کو رد کرکے دونوں کے امتزاج سے ایک نئی ہیئت کی تشکیل کی جس کی بنیاد عروضی اوزان کی پابندی یا صوتی اجزا کے شمار کے بجاے آہنگ و ایقاع کے اصول پر تھی۔ اس ا صول کے تحت جذبات کے اتار چڑھائو اور الفاظ کے بہائو کے ساتھ کلام میں خود بخود روانی اور زیروبم کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے۔ یہ نیا پیرایۂ اظہار اپنے اس قانون ایقاع (Law of Cadence) کی حدود میں کسی بھی مطلق قسم کے اصولوں کا پابند نہیں تھا ورنہ پھر آزاد نظم آزاد نہ ہوتی۔ ان نظریات و خیالات میں نئے شعرا کے لیے کشش کا خاصا سامان تھا۔ قدیم اصولوں کی سخت گیری سے بیزاری اور نئے زمانے کی تیز رفتاری کا ساتھ دینے کے لیے بے روک ٹوک اظہار خیال کے وسیلوں کی ضرورت کے احساس نے ان شعرا کو آزاد نظم کو اپنانے اور رائج کرنے پر آمادہ کیا اور انیسویں صدی کے اختتام سے پہلے ہی فرانس میں اس کا رواج خاصا زور پکڑ چکا تھا۔
انگریزی شاعری میں آزاد نظم کا ورود فرنس کی اسی آزاد شاعری کے زیراثر ہوا جو انیسویں صدی کے اواخر میں فروغ پارہی تھی۔ اس بنیادی محرک کے ساتھ ہی ساتھ کچھ اور بھی محرکات و موثرات تھے جو انگریزی آزاد نظم کی تشکیل و ترویج میں معاون رہے ہیں۔ ان کی طرف جان لونگسٹن لویز نے ان الفاظ میں اشارہ کیا ہے:
“it is sufficient to say that the present impulse (of writing free verse) comes primarily from France; that it found when it came, the ground prepared for it in differing ways by Arnold, and Whitman, and Henley, and others; and that it has since passed, or is passing, both directly and at second-hand, under the influence of Greek, Chinese and Japanese, and even Hebrew poetry.
(John Livingston Lowes: Convention and Reevolt in Poetry, p 167-68)
انگریزی میں آزاد نظم کا وجود ان چند شعرا کی مساعی کا نتیجہ ہے جنھوں نے فرانسیسی شعر و ادب کا گہرا مطالعہ کیا تھا۔ اس کی ابتدائی نشوونمامیجزم (Imagism) کی تحریک کے زیر سایہ ہوئی۔ اس تحریک کے بنیادی نقوش کی نشان دہی جی۔ایس۔فریزر نے اس طرح کی ہے:
“This (the Imagist movement) had its roots in a group of obscure but interesting poets, some- Tancred, Campbell, Stoner-now completely forgotten; two others, T.E. Hulme and F.S. Flint, remembered more as theorists and innovators than as poets in their own right, who used to meet at an institution called the Poets Club around 1907 and 1908.
(G.S Fraser: Metre, Rhyme and Free Verse, P 72)
’پوئیٹس کلب‘ میں جمع ہونے والے شعرا اواخر عہد وکٹوریہ کی شاعری سے اکتاچکے تھے جس میں ایک مخصوص وزن آیمبک (Iambic) بحر سے وابستگی اور باضابطہ ترتیب قوافی کی پابندی نے ایک میکانکی انداز پیدا کردیا تھا۔ اس میکانکی شاعری سے ان شعرا کی بیزاری نے انھیں کلاسیکی یونانی شاعری، بائبل کی شاعری کی متوازیت، چینی اور جاپانی اصناف نظم بالخصوص ہائیکو (Haiku) اور فرانسیسی ’ویرلیبر‘ کی طرف مائل کردیا۔ ان شعرا کا امام ٹی۔ای۔ہیوم تھا جسے امیجزم کی تحریک کا بانی قرار دیا جاتا ہے حالانکہ ’امیجزم‘ کا نام ازراپائونڈ(Ezra Pound)کا عطا کردہ ہے۔
ہیوم نے اپنی نثر و نظم کے ذریعے ایک طرف تو امیجزم کے نظریے کی تشکیل وترویج کی دوسری طرف انگریزی میں ’فری ورس‘ کی بنیاد رکھی۔ ’’شاعری سے متعلق ہیوم کے رجحانات و نظریات کا اظہار 1912 میں ایک لیکچر کے ذریعے ہوا۔ اس لیکچر کا مرکزی خیال یہ تھا کہ نظم کی ایک نئی ہیئت کی ایجاد ہی شاعری کو زندگی عطا کرتی ہے اور ہر عہد اپنے بدلے ہوئے میلانات کے اظہار کے لیے نظم کی ایک نئی ہیئت کا متقاضی ہوتا ہے۔ جب تک اس نئی ہیئت کی دریافت نہیں ہوتی، شاعری میں تدریجی زوال اور نقالی ہی ممکن ہے۔ انیسویں صدی کی نویں دہائی میں فرانس میں ’ویرلیبر‘ کی ایجاد کے ذریعے شاعری کو جو آزادی اور نئی زندگی نصیب ہوئی تھی اس سے ہیوم متاثر ہوا تھا اور اس نے محسوس کیا کہ یہ نئے عہد سے ہم آہنگ ہے جس کا فلسفہ یہ تھا کہ صداقت مطلق نہیں بلکہ اضافی ہے۔ شاعری کی صفت دروں بینی ہے اور اس کا کام شاعر کے ذہن کی مبہم اور لمحاتی کیفیات کی ترسیل ہے، نیز یہ کہ شاعری اب بالجہر نہیں بلکہ خاموشی سے پڑھنے کے لیے ہے۔ اس نئی فضا کے لیے ’ویرلیبر‘ موزوں تھی اور اس کا آہنگ اس سے مناسبت رکھتا تھا لیکن محض ایک نئے آہنگ کی موجودگی ہی کافی نہیں۔ اسے اپنے ساتھ مشابہتوں کے نئے انداز بھی لانا چاہیے۔ تازہ استعارہ قاری کو عادت کے خمار سے چونکا دے۔ ہیوم کا خیال تھا کہ پیکر (Images) واضح، مختصر اور معین ہونے چاہییں۔ انھیں ذہن کے سامنے ایک ایسی تصویر پیش کرنی چاہیے جو واضح نقوش کی حامل ہو۔‘‘
(A.S. Collins: English Literature of the Twentieth Century, P 39-40)
ہیوم کے ان خیالات اور اس کی نظموں کے ذریعے ان کی عملی صورت گری نے امیجز کے نظریے کی تشکیل کی۔ 1909 میں ہیوم کے متبعین نے اپنی جماعت کو ’اسکول آف امیجز(School of Images) کے نام سے پیش کیا۔ اس سے پہلے 1908 میں ازرا پائونڈ جب انگلستان آیا تھا تو ہیوم اور پوئیٹس کلب کے دوسرے شعرا سے مل چکا تھا۔ اس پر ہیوم کے نظریات و خیالات کا بہت اثر ہوا اور 1912 میں اس نے Ripostes’ کے دیباچے میں ہیوم کی تحریک کے لیے Imagisme کی اصطلاح وضع کی اور اس سے وابستہ شعرا کو Imagestesکا نام دیا۔ پائونڈ نے اس تحریک کی نمائندگی کے لیے از سر نو کچھ نوجوان شعرا کی جماعت تیار کی جن میں ایف ایس فلنٹ (F.S.Flint) رچرڈ آلڈنگٹن (Richard Aldington) اور ہڈاڈولٹل (Hilda H.D Doolittle) اہم ہیں۔ فلنٹ نے Poetryبابت مارچ1913میں امیجزم پر اظہار خیال کرتے ہوئے اس کے تین اصولوں کا ذکر کیا۔ موضوع کا راست بیان ایک بھی غیر ضروری لفظ کے استعمال سے گریز اور، آہنگ کے اعتبار سے باقاعدہ موسیقی کی ترتیب کے بجائے مترنم فقرے کی ترتیب میں نظم لکھنا:
“Direct treatment of the ‘thing’, whether subjective or objective; to use absolutely no word that does not contribute to the prisentation; as regarding rhythm : to compose in the sequence of the musical phrase, not in sequence of metronome.”
(بحوالہ ڈکشنری ورلڈ لٹریری ٹرمز، ص 158)
امیجسٹ شعرا کی نظمیں ابتدا میں مختلف رسائل میں شائع ہوتی رہیں۔ 1914’ میں ‘Egoistکا اجرا عمل میں آیا جو ان شعرا کا مخصوص اور مستقل وسیلۂ اظہار بن گیا۔ 1914 میں پائونڈ نے گیارہ امیجسٹ شعرا کی نظموں کا انتخابDes Imagistes کے نام سے شائع کیا۔ اس امیجسٹ تحریک کی قیادت ایمی لاویل (Amy Lowell) کے ہاتھ میں آگئی۔ اس نے 1915 سے 1917 تک امیجسٹ شعرا کی نظموں کے تین انتخابات Some Imagist Poets کے عنوان سے ترتیب دیے۔ اس سلسلے کی نظموں کا آخری انتخاب تحریک کے ختم ہونے کے ایک مدت کے بعد 1930 میںImagist Anthology کے نام سے شائع ہوا۔
انگلستان میں امیجزم کی تحریک بہت کم مدت تک قائم رہ سکی۔ جنگ عظیم کے اختتام کے ساتھ ہی یہ تحریک بھی ختم ہوگئی۔ ازراپائونڈ تو پہلے ہی اس تحریک سے علیحدگی اختیار کرکے ایک نئی تحریک وارٹیسزم (Vorticism) سے وابستہ ہوگیا تھا۔ دوسرے شعرا بھی بعد میں اپنی اپنی پسند کے مطابق کیوبزم (Cubism)، داداازم (Dadaism)، سریلزم (Surrealism) وغیرہ تحریکات سے متعلق ہوگئے۔ آزادی کی جولہر ان شعرا کے ذہنوں میں پیدا ہوچکی تھی اس نے انھیں کسی ایک طریق اظہار پر قانع نہ رہنے دیا۔ ایچ-وی-روٗتھ (H.V.Routh) نے ان شعرا کے ذہنی پس منظر پر اس طرح روشنی ڈالی ہے:
“All wanted release from the older forms of verse; none wanted a control not of their own choosing. So they tended to subdivide into sects- vorticism, cubism, dadoism, unanimism, fantasism, surrealism- seeking freedom and a following under the dignity of a lable.
(H.V. Routh: English Literature and Ideas in the Twentieth Century, 1964, P 113)
’امریکہ میں امیجزم‘ بالخصوص اس کے آزاد نظم کے عنصر نے ولیم کارلاس (William Carlos Williams) کی مختصر نظموں اور بعدازاں بلیک مائونٹین اسکول (Black Mountain Scholl) کے شعرا، جیسے رابرٹ کریلی (Robert Creeley) کی نظموں کے ذریعے نسبتاً خاصی زیادہ طویل عمر پائی اور یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہاں وہ آج بھی پھل پھول رہا ہے۔‘‘
(G.S Fraser: Metre, Rhyme and Free Verse, P.73)
ایک طرح سے دیکھا جائے تو امیجزم کی تحریک کو انگلستانی کی بہ نسبت امریکی کہنا زیادہ مناسب ہوگا۔ زیادہ امریکی شعرا کی اس سے وابستگی نیز امریکی ادب میں اس کے زیادہ دیرپا ہونے کے علاوہ اس کے پرجوش قائد اور ذی صلاحیت و باعمل ناظم دو امریکی شعرا ازراپائونڈ اور مس ایمی لاویل ہی تھے۔
باوجودیکہ انگلستان میں امیجزم کی تحریک زیادہ دنوں تک نہیں چل پائی اس نے شاعری میں ا یجاز و اختصار کی خصوصیت اور قدیم اصناف سخن کو ترک کرکے فری ورس کی ترویج کی بدولت شعراے مابعد پر خاصے گہرے اور دیرپا اثرات چھوڑے ہیں۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد کے شعرا کی نسل کا قدیم اصناف نظم کو رد کرکے فری ورس کو اختیار کرنا ایک طرح سے امیجسٹ شعرا کے جرأت مندانہ اقدامات سے متاثر ہونے ہی کا نتیجہ قرار دیا جاسکتا ہے جیسا کہ کینتھ ایلٹ(Kenneth Allott)کے ان الفاظ سے مترشح ہے:
“…the rejection of conventional verse forms by many poets in the twenties owed something, I think, to the Imagist repudiation of flabby writing by the Georgians.”
(The Penguin Book of Contemporary Verse, edited by Kenneth Allott ( 1970, Introducing, P.20)
بیسوی صدی کی انگریزی شاعری کو امیجزم کی دین کی دو اہم جہات ہیں۔ اسلوب میں ارتکاز خیال اور ایجاز کلام پر زور اور ہیئت کے اعتبار سے آزاد نظم کا استعمال۔ آزاد نظم کے وہ شعرا جو اس تحریک سے متعلق نہیں تھے انھوں نے بھی اس کے اثر سے ارتکاز و ایجاز کی ان خصوصیات کو اپنایا اور پھر آزاد نظم کی ترویج کے ساتھ ہی ساتھ یہ خصوصیات بھی ایک مستقل رجحان اور غالب انداز کی حیثیت اختیار کرگئیں۔ البتہ ڈی-ایچ-لارینس (D.H.Lawrence) جیسے کچھ شعرا نے اپنی آزاد نظم میں اس کے برعکس تکنیک اختیار کی جس کی وضاحت فریزر نے اس طرح کی ہے:
“But some free verse poets like D.H.Lawrence, used an opposite technique, based on the Bible and Whitman, of expansive repetition with variation, of rhetorical parallelism, rather than condensation.”
(G.S.Fraser: Metre, Rhyme and Free Verse, PP.73-74.)
انگریزی آزاد نظم کی تکنیک کے سلسلے میں یہ بات خاصی اہم اور دلچسپ ہے کہ تقریباً ابتدا ہی سے اس کے شعرا دو الگ الگ جماعتوں میں منقسم نظر آتے ہیں۔ انسائکلوپیڈیا برٹینکا‘ میں ان کی نشاندہی اس طرح کی گئی ہے:
“…almost from the beginning the free verse movement split into two separate groups, a formal one led by Pound, and a popular and confused one led by Amy Lowell.”
(Encyclopaedia Britannica 1968, Edition, Volum 9, P 854, Quarter IV)
ٹی ایس ایلیٹ کی ابتدائی آزاد نظمیں جن کی تخلیق کے وقت وہ امیجزم کی تحریک سے باخبر نہیں تھا، فرانسیسی شاعر جوٗل لیفارج کی آزاد نظموں سے متاثر ہوکر لکھی گئی تھی۔ ان بالکل ابتدائی نظموں کے بعد کی نظموں پر سترھویں صدی کے ا نگریزی ڈرامے کی کافی آزاد اور لچک دار بلینک ورس اثر انداز رہی۔ ’’لیکن 1920 کے قریب اس نے باضابطہ اوزان کی طرف رجوع کیا۔ بیسویں صدی کے وسط تک بیشتر نوجوان شعرا نے ایلیٹ کی روش کی پیروی کی حتیٰ کہ وزن کی پابندی کی طرف پائونڈ کا جھکائو بھی پہلے سے زیادہ ہوگیا،البتہ بعض نسبتاً سن رسیدہ شعرا خصوصاً کارل سینڈبرگ (Carl Sandburg)، ولیم کارلاس ولیمز (Villiam Carlos Williams)، میریم مور (Mariame Moore) اور والیس اسٹیوینز (Wallace Stevens) متنوع قسم کی فری ورس تخلیق کرتے رہے۔ ولیمز اور مور کی نظم نگاری میں فرانسیسی شعرا کی آزاد نظم کی تکنیک سے بے حد مماثلت پائی جاتی ہے۔‘‘(ایضاً)
تمام ناقدین اس امر پر متفق ہیں کہ فری ورس کی ترویج کے دوبنیادی محرکات تھے۔ قدیم اصناف و اسالیب نظم سے بغاوت اور ایسے نئے وسائل اظہار کی جستجو جو بدلتے ہوئے تیز رفتار زمانے کا ساتھ دے سکیں۔ اسی لیے فری ورس کی تحریک کو روایت مخالف تحریک (Anti-traditional Movement) تصور کیا جاتا تھا۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد کچھ برسوں تک اس کی موافقت اور مخالفت دونوں کا سلسلہ جاری رہا۔ جہاں اس کے پرستار اس کی پرزور وکالت کرتے تھے، روایت پرستانہ ذہن رکھنے والے لوگ اسے نظم ماننے کے لیے تیار نہ تھے۔ چنانچہ 1922 میں شائع ہونے والی رابرٹ گریوز (Robert Graves) کی کتاب On English Poetry میں اس خیال سے اتفاق کیا گیا تھا کہ ’ویرلیبر‘ جیسی کوئی چیز ممکن ہی نہیں، کیونکہ:
“…if it was ‘vers’ it couldn’t be truly ‘libre and if it was truly ‘libre’ it couldn’t possibly come under the category of vers.”
(بحوالہ ’ٹوینٹیتھ سنچری لٹریچر، اے سی وارڈ، ص 191-92)
بہرحال مخالفتوں کے باوجود بیسویں صدی کی تیسری دہائی کے ابتدائی چند برسوں ہی میں انگریزی شاعری میں فری ورس کے قدم جم چکے تھے اور ادبی فضا اس کی آوازوں سے گونچنے لگی تھی۔
(اردو آزاد نظم کے مغربی پس منظر کا یہ جائزہ جن کتابوں کی مدد سے ترتیب دیا گیا ہے ان کی نشاندہی اقتباسات کے حوالوں کی صورت میں کردی گئی ہے۔ مقتبس عبارتوں کے علاوہ دیگر معلومات بھی انھیں کتابوں کا حاصل مطالعہ ہیں جنھیں مرتب کرکے میں نے اپنی زبان میں پیش کردیا ہے۔)
یہ آوازیں سمندر پار کرکے ہندوستان بھی پہنچیں اور اردو کے وہ نوجوان شعرا جو اپنے یہاں کی شعری روایات سے غیرمطمئن اور ناآسودہ تھے اور جنھیں ’’ہرلحظہ نیا طور نئی برق تجلی‘‘ کی جستجو تھی انھوں نے ان آوازوں پر لبیک کہا، اور بہت ہی تھوڑے عرصے کے بعد اردو دنیا آزاد نظم کے انقلابی تجربے سے آشنا ہوگئی۔ یہ تجربہ اپنی انقلابیت اور ہنگامہ خیزی کی وجہ سے تو اہم تھا ہی میری نظر میں اس کی سب سے بڑی اہمیت یہ ہے کہ اردو شاعری کا یہ پہلا تجربہ ہے جو ہم عصر مغربی ادب کے کسی تجربے کے زیراثر وجود میں آیا اور آیندہ اس قسم کے تجربوں کے لیے راہیں کھول دیں ورنہ اس سے پہلے کے تجربوں تک تو اردو کی رسائی اس وقت ہوسکی تھی جب وہ اصل زبان میں فرسودہ و پامال اور بہت سی صورتوں میں مردہ ہوچکے تھے۔

ماخذ: اردو میں نظم معرا اور آزاد نظم (ابتدا سے 1947 تک)، مصنف: حنیف کیفی، چوتھی اشاعت: 2021، ناشر: قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

ڈاکٹر منشاء الرحمن خان منشا کی غزل گوئی،مضمون نگار: شیخ عمران

اردودنیا،جنوری 2026: سرزمین ودربھ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس نے ایسے ہیرے پیدا کیے جو شایان زماں کے تاجوں کی زینت بنے اور لوگوںکے دلوں میں روشنی جگانے

جدتِ خیال اور ندرتِ بیان کا شاعر: غالب،مضمون نگار:فیصل خان

اردو دنیا،دسمبر 2025: مرزا غالب کی شاعری افکار ومعانی کا مخزن ہے جو زمان ومکان کی قید سے آزاد ہے۔ اس کی تفہیم وتعبیر کسی چیلنج سے کم نہیں جس

مظہر امام کی شاعری، مضمون نگار: نیر وہاب

بیسوی صدی سماجی، معاشی، سیاسی، معاشرتی، تہذیبی، اقتصادی ہر لحاظ سے بہت اہم صدی رہی ہے۔ عالمی سطح پر بھی صدی میں کئی انقلابات رونما ہوئے۔ ہندوستان میں سیاسی سطح