اردو دنیا، مارچ 2026:
جدیداردو ناول نگاروں میں حسین الحق ایک ممتاز حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کا شمار 1960 کے بعدآنے والے فکشن نگاروں کی صف میں ہوتاہے۔ انھوں نے اس دور کا مشاہدہ کیا جب ترقی پسند تحریک زوال پذیر ہورہی تھی اور جدیدیت اپنے عروج پر تھی۔سماجی تبدیلیوں اور نئی صدی کے رجحانات کو انھوں نے گہرائی سے محسوس کیا۔ فکشن نگاروں کے ہجوم میں حسین الحق نے اپنی منفرد شناخت اور اسلوب قائم کیا۔ ان کا اسلوب نئے موضوعات، عصری مسائل، تصوف کی گہرائیوں اور منفرد اندازبیان پر مشتمل ہے، جس کی بدولت وہ اپنے ہم عصروں میں نمایاں مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ انھوں نے اردو کے کئی شاہکارافسانے تخلیق کیے، جنھیں بعد میں افسانوی مجموعوں کی شکل میں منظر عام پر لایا گیاجیسے: پس پردہ شب، صورتحال، بارش میں گرا مکان، گھنے جنگلوں میں، مطلع ، سوئی کی نوک پر رکا لمحہ، نیو کی اینٹ۔ ان کے ناولوں میں بولو مت چپ رہو، فرات اور اماوس میں خواب شامل ہیں۔ ان کی تحریروں میں جہاں بہترین اسلوب کی جھلک ملتی ہے، وہیں علامتی اظہار اور جدیدیت کے تجرباتی اثرات بھی دیکھنے کو ملتے ہیں۔ ان کی ناول نگاری کے متعلق ’’پروفیسر اسلم جمشید پوری اپنے مضمون ’’اقلیتی ڈسکورس کا نمائندہ ناول اماوس میں خواب‘‘ میں اس طرح لکھتے ہیں :
’’ حسین الحق کے بہت سے افسانے اور ناولوں میں اقلیتی ڈسکورس بدرجہ اتم پایاجاتاہے۔ در اصل بابری مسجدکے انہدام کے واقعے نے ہمارے فکشن نگاروں کوبہت متاثر کیا۔ حسین الحق نے اپنی تحریروں میں اقلیتوں پرہونے والے مظالم کے خلاف علم بغاوت بلند کیا اور ایسے ماحول کو خواہ وہ بہار کا ہو، ممبئی کا ہو، یا اتر پردیش کے مختلف شہروں کا،یا پھر بین الاقوامی سطح پر مسلمانوں کے خلاف ہونے والی سازش اور عمل کو نہ صرف محسوس کیا بلکہ اپنی تحریروں میں اس کا اظہار بھی کیا۔‘‘ 1
حسین الحق نے ترقی پسندی، جدیدیت اور مابعد جدیدیت کے مثبت پہلوؤں کو سموکر اردو افسانے اور ناول کو نئی جہت بخشی۔ اگرچہ ان کا شمار جدید اورما بعد جدید اردو ناول نگاروں میں ہوتا ہے مگر ان کی زیادہ توجہ افسانہ نگاری پر مرکوز رہی ہے۔ اسی وجہ سے ان کے ناول کم اور طویل وقفے کے بعد منظر عام پر آئے ۔ ان کا پہلا ناول ’’ بولو مت چپ رہو‘‘1990 میں اور دوسرا ناول’’ فرات‘‘1992 میں اور تیسرا ناول ’’اماوس میں خواب‘‘2017 میں شائع ہوا۔
’’بولو مت چپ رہو‘‘ حسین الحق کا پہلا ناول ہے۔ اس ناول میں ہندوستان کے تعلیمی نظام کے بنیادی مسائل کی عکاسی کی گئی ہے۔ یہ ناول صفحہ17 سے شروع ہوکر 183 پر اختتام پذیر ہوتا ہے۔ اس ناول کامرکزی کردار افتخار الزماں ہے جو ایک بہادر اوربے باک شخصیت کا مالک ہے،جو آزادی کے بعد بے حد خوش دکھائی دیتا ہے لیکن جیسے ہی ایک پرائمری ا سکول قائم کرتا ہے، اسے کئی مشکلات اور اذیت ناک حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ماسٹر افتخار الزماں ایک اسکول کھولتا ہے،جہاں وہ بطور ہیڈ ماسٹر اور چپراسی دونوں کردار نبھاتا ہے اور بچوں کی تعلیم کے لیے انتھک محنت کرتا ہے۔ جب اسکول کو سرکاری حیثیت مل جاتی ہے، تو وہاں نئے اساتذہ تعینات کر دیے جاتے ہیں اور اسکول میں مختلف تقریبات کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ جن میں اعلی افسران اور نئے اساتذہ کی تعریفیں کی جاتی ہیں لیکن ماسٹر افتخار الزماں کی قربانیوں کو مکمل طور پر نظر انداز کیا جاتا ہے۔ان تقریروں سے دل برداشتہ ہو کر افتخار الزماں یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ کہیں اس کی تمام قربانیاں بے سود نہ ثابت ہوں۔ افتخار الزماں اپنے دوست رامیشور سے کہتا ہے کہ اس نے ملک کی خدمت کے لیے اپنی زندگی وقف کر دی،اور اس کے بدلے میں کبھی کچھ نہیں مانگا اور اس نے کسی کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کیالیکن اب اسے یہ محسوس ہو رہا ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں اس کی سماجی پہچان ختم ہوتی جارہی ہے۔ شاید اس لیے کہ وہ معاشرے کے لیے نقصان دہ نہیں رہا، اب اسے یہ بھی سمجھ میں آگیاہے کہ معاشرے میں اس کی آوازاب بے اثر ہو چکی ہے۔اس ضمن میں ڈاکٹر خالد اشرف اس طرح رقمطراز ہیں۔
’’حسین الحق کے ناول ’’بولو مت چپ رہو‘‘ 1990 کا سابق انقلابی اور موجودہ ہیڈ ماسٹر افتخار الزماں اپنے معاشرے سے کٹا ہوا فرد ہے۔اس نے آزادی کی تحریک میں جمہوریت، مساوات اور معاشی عدل کے خوابوں کی تکمیل کے مقصد سے حصہ لیا تھا لیکن آزادی کے بعد اس کے دیکھتے دیکھتے اس کے یاران ہم پیالہ و ہم نوالہ کامیاب دنیادار بن گئے۔ دراصل افتخار الزمان کامسئلہ اپنے معاشرے میں حسب سابق نہ ملنے والے ریکوگنائزیشن اور احترام کا ہے۔ ‘‘ 2
فرات:حسین الحق کا دوسرا ناول ہے جو1992 میں منظر عام پر آیا۔یہ ایک متنوع فکری جہات کاحامل منفردناول ہے۔ جس میں مصنف نے نئی نسلوں میں پیدا ہونے والی ذہنی،جذباتی اور اخلاقی تبدیلیوں کو بڑی صداقت کے ساتھ پیش کیا ہے۔ حسین الحق نے وقار احمد کے توسط سے پانچ نسلوں پر مشتمل ایک کہانی بیان کی ہے اور قاری کو سوچنے اور عمل کرنے کے نئے زاویے فراہم کیے ہیں۔ناول کی کہانی وقاراحمد کے گرد گھومتی ہے،جن کی75سالہ زندگی کے تجربات اور ابا جان و دادا جان کی یادوں کے پس منظر میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے۔ وقار احمد کی زندگی جدید و قدیم روایات کے درمیان کشمکش کی عکاسی کرتی ہے۔ ’’فرات‘‘ دراصل ایک خاندان کی کہانی ہے، مگر رفتہ رفتہ اس کی وسعت بڑھتی جاتی ہے، اس میں ماضی کے جبر، نسلوں کا فرق،مذہبی رویے،سیاست، تہذیب اور زندگی کے مختلف پہلو سامنے آتے ہیں۔ یہ ناول نہ صرف نظریاتی مسائل اور اقتدار کے تصادم کو اجاگر کرتا ہے بلکہ اس میں ہندوستانی مسلمانوں کی تقسیم وطن کے بعد سے جاری عدم تحفظ کی کیفیت کو بھی شدت سے بیان کیا گیا ہے۔ یہ ناول اس تلخ حقیقت کو بھی سامنے لاتا ہے کہ مسلمانوں کے پاس یا تو ماضی کی عظمت کے قصے ہیں یا حال کی بدعنوانیاں اور وہ انہی یادوں کے سہارے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ ناول انسانی وجود کے مختلف پہلوؤں کو اتنی گہرائی سے اجاگر کرتا ہے کہ فرد کی شناخت کا مسئلہ نمایا ں ہو جاتا ہے جبکہ جبر ،کائنات کا تصور بھی کہانی کے تسلسل میں شامل ہے۔ کہانی کا مرکزی کردار وقار احمد اپنی زندگی کو اپنی مرضی کے مطابق گزارنے کی کوشش کرتا ہے لیکن جیسے ہی عمرکے آخری مرحلے میں داخل ہوتا ہے، ماضی کی یادیں اسے اپنی گرفت میں لینے لگتی ہیں۔ اس کے تعلقات ٹوٹ جاتے ہیںاور وہ حال سے کٹ کر ماضی کی دنیامیں کھوجاتاہے۔ ماضی اور حال کے درمیان چھائی دھند اس کی زندگی پر چھا جاتی ہے،جس سے وہ ایک مخلص انسان سے بدل کر خود غرض اور خود پرست بن کر ابھرتا ہے۔ جب اس کی مایوسی ناقابل برداشت ہو جاتی ہے تو وہ تبلیغی جماعت میں شامل ہو کر گھر چھوڑ دیتا ہے ۔ حالانکہ اس کے روایتی مذہبی تصورات سے اختلافات ہوتے ہیں۔ تبلیغ کی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے باوجود اسے اپنے سوالات کے جواب نہیں مل پاتے،تو وہ اس جماعت سے الگ ہو کر ایک اور راہ اختیار کرتا ہے۔ با اثر افراد اسے ایک اسکول کا پرنسپل بنا دیتے ہیں لیکن یہاں بھی اس کی بے چینی ختم نہیں ہوتی۔جب وہ اپنی زندگی کا تجزبہ کرتا ہے تو اسے اندازہ ہوتا ہے کہ سب کچھ تبدیل ہو چکا ہے لیکن اس کی تلاش اب تک مکمل نہیں ہو سکی۔ وقار احمد کے پاس سب کچھ تھا دنیاوی آسائشیں،عزت و مرتبہ لیکن جو چیزیں ان کی زندگی سے غائب تھیں وہ تھی قلبی سکون، زندگی جینے کا سلیقہ،جو ان کی روح کی سب سے بڑی طلب تھی۔ اسی قلبی سکون کی تلاشی انہیں یہاں لے آئی تھی مگر اب وہ خود کو تلاش کر رہے تھے۔ اقتباس ملاحظہ :
’’وقار احمد اپنی تلاش میں گم تھے ____مگر وہ اپنے آپ کو کیا تلاش کرتے کہ قدرت نے خود ان کے سامنے ان کو کھودینے اور گم کر دینے کا بے معنی مگر دردناک ڈرامہ کھیلا تھا۔۔۔‘‘3
’’اماوس میں خواب‘‘: حسین الحق کا تیسرا شاہکار ناول ہے۔ یہ ناول 2017 میںمنظر عام پر آیاجو ایک وسیع کینوس پر لکھا گیا ہے ۔ اس ناول کے لیے حسین الحق کو ساہتیہ اکیڈمی جیسے ایوارڈ سے بھی نوازا جا چکا ہے۔ حسین الحق کے اس ناول کو ہندوستان کے سماجی اور تہذیبی حالات کاآئینہ کہاجاسکتا ہے۔ 23 ابواب اور347 صفحات پر مشتمل اس ناول میں مصنف نے اپنے خیالات کو علامتوں،استعاروں اور تمثیلی پیرائے میں بڑی خوبی سے پیش کیا ہے۔ یہ ناول ،محبت،قربانی اور تہذیبی بقا کے احساسات پر مبنی ہے۔
یہ ناول ہندوستان کی آزادی کے بعد سماجی،سیاسی و تہذیبی حالات کو بیان کرتاہے۔ اس ناول میں زیادہ تر بہار کی عکاسی کی گئی ہے اور اسماعیل نامی کردار کو ایک علامت کے طور پر پیش کیا گیا ہے جو ایک ایسے سماج کی نمائندگی کرتا ہے جو آزادی کے بعد سے اپنی منزل کی تلاش میں مصیبتوں اور آزمائشوں سے گزر رہا ہے۔ اسماعیل اس ناول کا مرکزی کردار ہے جو ان تمام مشکلات اور آزمائشوں کی تصویرپیش کرتا ہے جن سے آزاد ہندوستان کا سماج آج بھی گزر رہا ہے۔اسماعیل سکون کی تلاش میں ملک کے مختلف حصوں کا سفر کرتا ہے اور بلا آخر بہار واپس آتا ہے اور یہاں ایک بم دھماکے میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔ اس کی موت کے بعد اس کی اولاد کے ساتھ بھی یہی سانحہ پیش آتا ہے۔
حسین الحق نے70 برس کی زندگی اور آزاد ہندوستان کی تاریخ کے اہم واقعات کو نہایت موثر انداز میں اس ناول کاموضوع بنایا ہے۔ یہ ناول آزادی کے بعدسے عصر حاضر تک ہندوستان کی تمام اہم سیاسی اورسماجی تبدیلیوں کا ایک مکمل منظر نامہ پیش کرتا ہے۔ اس کے علاوہ ناول میں تصوف کو اہمیت دی گئی ہے، جہاں صوفی تہذیب کی مثالوں کے ذریعے اتحاد،یکسانیت اور انسانیت کا درس دیا گیا ہے۔ یہ نقطہ نظر حالات وواقعات کے تجزیے میں گہرائی پیدا کرتا ہے اور ناول کے بیانیے کو مزید موثر بناتا ہے۔ پورا ناول ما بعد آزادی کا تاریخی بیانیہ ہے اور اس بیانیہ کا تعلق ماضی، حال اور مسلمانوں کے مستقبل سے گہرا شغف رکھتا ہے۔ ناول کے متعلق ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی اپنے مضمون ’’اماوس میں خواب معاصر ہندوستان کا استعارہ ‘‘میں رقمطراز ہیں:
’’۔۔۔آزادی کے بعد کا یہ عرصہ ملک کے لیے جیسے بھی تغیرات سے بھرا رہا ہو انسان کے لیے ذہنی انتشار،قلبی خلفشار اور فکری اضطراب کا عرصہ رہا ہے جس کا تعلق آج سے ہے اور آنے والے کل سے بھی….یہ ناول موجودہ سیاسی، سماجی، تہذیبی صورتحال کی عکاسی تاریخ کے بجائے تجربات کی روشنی میں کرتا ہے۔ ‘‘ 4
مذکورہ اقتباس سے اس بات کا بخو بی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ حسین الحق نے جس مہارت کے ساتھ طویل عرصے کے حالات و واقعات کو اس ناول میں پیش کیاہے وہ ان کے وسیع مطالعہ، بلند تخیل اور فن پر گہری گرفت کا واضح ثبوت ہے۔ انھوں نے نہایت ہنر مندی سے واقعات کو اس اندازمیں ایک دوسرے سے مربوط کیاہے کہ ان میں برسوں کے تجربے اور مشاہدے کی گہری جھلک صاف نظر آتی ہے۔ یہ ناول نہ صرف ہندوستان کی تاریخ کے اہم واقعات کا آئینہ ہے بلکہ ایک گہری فکری اور تخلیقی کوشش ہے بھی جو قاری کو انسانیت، اتحاداورسماجی انصاف پرغور و فکر کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔
حوالہ جات
1 مضمون:’’ اقلیتی ڈسکورس کا نمائندہ ناول ’’اماوس میں خواب‘‘ ازپروفیسر اسلم جمشید پوری رسالہ،عالمی فلک، شمارہ اپریل تا ستمبر2022،ص117۔
2 ’’بر صغیر میں اردو ناول نگاری‘‘از ڈاکٹر خالد اشرف، مشمولہ، اردو جرنل پٹنہ،2015، ص،170۔
3 ’’ فرات‘‘ از حسین الحق ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس دہلی،اشاعت 2016 ص17۔
4 مضمون:’’اماوس میں خواب معاصر ہندوستان کا استعارہ ‘‘از ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی،رسالہ عالمی فلک شمارہ7،8اپریل تا ستمبر2022ص 132،133۔
Zabida Naseem
Research Scholar
Deptt of Urdu University of Delhi(110007)
Mob.: 9622565425
E-mail:-Zabidanaseem@gmail.com