اسکول کا پہلا دن، ایک مشترکہ ذمہ داری کا آغاز،مضمون نگار:دھرمیندر پردھان،وزیر تعلیم، حکومت ہند

May 5, 2026 0 Comments 0 tags

اردو دنیا، مئی 2026:

ہر سال، جب اسکول کے نئے تعلیمی سیشن کا آغاز ہوتا ہے، ہندوستان اجتماعی عزم و ہمت کے ایک بے مثال منظر کا مشاہدہ کرتا ہے۔ پہاڑی اور ساحلی علاقوں سے لے کر شہروں اور دور دراز گاؤں تک کے لاکھوں بچے — متعدد ذاتی مشکلات کے باوجود — تازہ توانائی، نئے عزائم اور بے پناہ امکانات کے ساتھ اپنے کلاس روم میں داخل ہوتے ہیں۔ ملک کے لیے یہ ایک خاموش مگر طاقتور لمحہ ہوتا ہے۔ اس سال بھی تقریباً 2 کروڑ بچوں نے پہلی جماعت میں داخلہ لیا ہے، جو امید کے ساتھ ایک مشترکہ قومی ذمہ داری کا بھی احساس دلاتا ہے۔
قومی تعلیمی پالیسی 2020 نے آموزش کے معاملے میں رٹنے اور حفظ کرنے کے بجائے تجسس، تفہیم اور ہمہ جہتی ترقی کو اولیت دی ہے۔ ہر تعلیمی سال اس وژن کو حقیقت بنانے کی سمت ایک بامعنی قدم ثابت ہورہا ہے۔
بال واٹیکا اسکیم کے نفاذ کے ساتھ ابتدائی بچپن کی تعلیم اب باضابطہ اسکولی نظام کا حصہ بن چکی ہے،اور اس کا فائدہ یہ ہے کہ بچے بہتر تیاری اور مضبوط بنیادی مہارتوں کے ساتھ پہلے گریڈ میں داخل ہوں گے۔ اسکول میں بچے کا داخلہ لینا علم اور معاشرے کے ساتھ عمر بھر کے تعلق کا آغاز ہوتا ہے۔ لہٰذا اسکولوں کواس بات کا خاص خیال رکھنا چاہیے کہ یہ سفر خوشگوار آموزش، فلاح و بہبود اور وابستگی کے مضبوط احساسات پر مبنی ہو۔
ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ اسکول کا پہلا دن یادگار نہ ہو۔ یہ نئی شروعات کے متعلق جھجک اور خوشیوں کا امتزاج ہوتا ہے۔ ننھے ننھے ہاتھ بڑے بڑے جذبات کو تھامے ہوتے ہیں اور متجسس آنکھیں ایک بالکل نئی دنیا کا احاطہ کر رہی ہوتی ہیں۔ جب بچے خود کو محفوظ اور قابلِ قدر محسوس کرتے ہیں تو وہ کھل کر اظہار کرتے ہیں۔ مختلف امور میں حصہ لیتے ہیں اور ان کا تجسس پروان چڑھنے لگتا ہے۔ رفتہ رفتہ مگر تسلسل کے ساتھ ان کا اعتماد بڑھنے لگتا ہے۔ ابتدائی برسوں میں کھیل کو مرکزی اہمیت دینی چاہیے۔
ہماری زندگی میں تعلقات بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ ایک خیال رکھنے والا استاد بچے کی زندگی کا رخ تبدیل کر سکتا ہے۔ ایک سازگار ماحول پر مبنی کلاس خاموشی کو شرکت میں، اور شرکت کو اعتماد میں بدل سکتی ہے۔ جب کسی بچہ کو یقین ہو جاتا ہے کہ اس کو توجہ دی جاتی ہے اور اس کی بات سنی جاتی ہے تو اس کا تجسس ہمت میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ جس بچے کو وابستگی کا احساس رہتا ہے وہ اپنی آواز کی تلاش میں نکل پڑتا ہے۔
بچوں کے ابتدائی تعلیمی برسوں میں خواندگی اور عددی مہارت پیدا کرنے سے متعلق ملک نے مضبوط عزائم کر رکھے ہیں۔ نِپُن بھارت مشن کے ذریعے ہندوستان کا واضح موقف ہے کہ ہر بچہ دوسری جماعت سے نکلنے تک سمجھ کر پڑھنے اور بنیادی حساب کرنے کے قابل ہو جائے۔ اس اسکیم کے تحت جوابات کو رٹنے سے زیادہ تصورات کو سمجھنے پر توجہ ہونی چاہیے۔ کلاس رومز میں بچوں کو جوابات دوہرانے کے بجائے سوالات پوچھنے کی ترغیب دی جانی چاہیے۔
یہ وژن کا تعلق تعلیمی شعبوں کے ساتھ دوسرے شعبوں سے بھی ہے۔ مختلف فنون، کھیل اور اقدار آموزش کے لازمی حصے ہیں۔ تعلیم کی ذمہ داری صرف ذہن ہی نہیں بلکہ جسم اور دل کے ساتھ ایک مکمل بچے کی تشکیل ہے۔ جسمانی سرگرمی اور غذائیت اسکول کی روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ ہیں۔ ایک صحت مند بچہ بہتر طور پر سیکھتا، شریک ہوتا اور اعتماد کے ساتھ پروان چڑھتا ہے۔
عالمی سطح پر بچوں کے طرزِ زندگی میں نمایاں تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔ غذائی عادات کی تبدیلی اور جسمانی سرگرمیوں میں کمی کے سبب پوری دنیا تشویش میں مبتلا ہے۔ ہندوستان اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے سرگرم عمل ہے۔ اسکولوں میں لازمی جسمانی تعلیم، موٹاپے سے نمٹنے کے لیے ’آئل بورڈز‘، ’شوگر بورڈز‘، غذائیت کے معیار پر توجہ اور پی ایم-پوشن اسکیم جیسے اقدامات اسکولوں کو صحت مند اور فعال طرزِ زندگی کے فروغ کی جانب متوجہ کر رہے ہیں۔ ان کوششوں کا مقصد ایک ایسی نسل تیار کرنا ہے جو صحت کو تمام ترقیوں میں مرکزی اہمیت کی حامل تصور کرے۔
اگرچہ ٹیکنالوجی رسائی اور آموزش کو آسان بنانے والا ایک طاقتور ذریعہ ہے، لیکن سوشل میڈیا پر بڑھتی نمائش، اسکرین ٹائم، توجہ اور ذہنی صحت کے حوالے سے کئی خدشات بھی پیدا ہو رہے ہیں۔ یہ مسئلہ بھی صرف ہندوستان تک محدود نہیں بلکہ عالمی ہے۔ ایسے میں اسکول کے ذمہ داران اور اہل خانہ کوخیال رکھنا چاہیے کہ سوشل میڈیا کو سیکھنے کے آلے کے طور پر استعمال کیا جائے، ایسا نہ ہو کہ یہ بچوں کی توجہ بھٹکانے کا آلہ بن جائے۔
اس وژن کا ایک اور اہم پہلو بچوں کی ذہنی اور جذباتی صحت ہے۔ اسکولوں کے نصاب اور تدریس میں سماجی جذباتی آموزش کو جگہ دی گئی ہے تاکہ بچے پچھلی کسی بھی نسل سے زیادہ پیچیدہ اور تیز رفتار دنیا کا مقابلہ کر سکیں۔ بچوں کو محفوظ اور دباؤ سے پاک ماحول فراہم کرنے کے لیے اسکول، والدین، اساتذہ اورتمام کمیونٹیز کی مشترکہ کوشش ضروری ہے۔
کسی بھی قسم کی اصلاحات محض پالیسی دستاویزات کے ذریعے بچوں تک نہیں پہنچتیں بلکہ ان کا نفاذ اساتذہ کے ذریعے ہوتا ہے۔ وہ تعلیم کے میدان میں تبدیلی کے حقیقی معمار ہیں، جو کسی بھی وژن اورحقیقی کلاس روم کے درمیان پل کا کام کرتے ہیں۔ اساتذہ کو چاہیے کہ وہ کثیر لسانی زاویوں سے تدریس کے فرائض انجام دیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ بچوں کی مادری زبان قابل احترام اور سیکھنے کا ایک موثر ذریعہ ہے۔ ان پہلوؤں پر توجہ دے کر ہم کہہ سکتے ہیں کہ باضابطہ تعلیم کی طرف رخ کرنا آسان، لائق اعتماد اور اپنی جڑوں کی شناخت سے وابستہ ہے۔
میں اپنے اساتذہ سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ہر بچے کی رفتار اور شخصیت کو ملحوظ رکھتے ہوئے اور اس کی ذہنی و جذباتی صحت کا خیال رکھتے ہوئے قابلیت اور ہنر پر مبنی آموزش کو اہمیت دیں۔
تعلیم اسکول کے دروازے پر شروع یا ختم نہیں ہوتی۔ گھر پہلی درسگاہ ہے، اور والدین پہلے اساتذہ ہیں۔ بچے گھر میں جو تجربہ کرتے ہیں اسی سے اسکول میں ان کے سیکھنے کی راہ ہموار ہوتی ہے۔
مطالعے کی عادت کو فروغ دینا اور بچوں کے سوالات کا تحمل کے ساتھ جواب دینا علم کی جستجو کو پروان چڑھانے کے کارآمد طریقے ہیں۔ میں والدین سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ بچوں کی متوازن غذا اور مناسب نیند کا خاص خیال رکھیں۔ انھیں روزانہ جسمانی سرگرمی اور گھر کے باہر وقت گزارنے کا موقع دیں۔ والدین کو اسکول کے ساتھ متحرک طور پر جڑے رہنا چاہیے اور بچے کی کامیابی کو محض گریڈ سے نہیں ناپنا چاہیے، یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ ان کے اندر اعتماد، رحم دلی اور سیکھنے کی کتنی لگن موجود ہے۔ والدین اپنے بچوں کو یہ یقین دلا کر سب سے بڑا تحفہ عنایت کر سکتے ہیں کہ سیکھنا اپنے آپ میں ایک بے حد خوشگوار عمل ہے۔
تعلیم ایک مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اس کا تعلق حکومت، اسکول، اساتذہ، والدین اور کمیونٹی سے ہے اور ہر فریق کا اپنا کردار ہے۔
ہر بچہ کو یہ حق حاصل ہے کہ اسے دیکھا جائے، سنا جائے اور سیکھنے کے اس سفر میں شفقت سے اس کی رہنمائی کی جائے۔ ہمارے تعلیمی نظام کی کامیابی کا اندازہ محض چند نمایاں اور کامیاب افراد سے نہیں لگایا جا سکتا بلکہ اس کا اصل مقصد ہر بچے کو خواہ وہ کسی پس منظرکا ہو، اعتماد اور خوشی کے ساتھ سیکھنے کا موقع فراہم کرنا ہے۔ آئیے عہد کریں کہ ہم ایک جامع، اختراعی اور مستقبل کے موافق تعلیمی نظام تعمیر کریں گے۔ ہم مل کر ہی یہ یقینی بنا سکتے ہیں کہ ہر کلاس روم ایک ایسی جگہ بنے جہاں خوابوں کو پر ملیں اور مستقبل کے رہنما تشکیل پائیں۔ وکست بھارت @2047 کے پیش رو آج ہماری کلاسوں میں موجود ہیں۔ ان کی پرواز کے لیے ہمیں سنہری پرعطا کرنے کی ضرورت ہے۔

(بشکریہ روزنامہ ’دی انڈین ایکسپریس‘، 1 اپریل 2026)
ترجمہ: ڈاکٹر فیضان الحق

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

امتزاجی تعلیم : عصرِ حاضر کی ایک ناگزیر ضرورت،مضمون نگار: محمد مہتاب عالم

اردودنیا،جنوری 2026: تعلیم کا نظام وقت اور معاشرتی ضروریات کے ساتھ ہمیشہ ارتقا پذیر رہا ہے۔ اکیسویں صدی جسے ڈیجیٹل انقلاب کا دور کہا جاتا ہے، نے انسانی زندگی کے

تعلیم اور ٹیکنالوجی ،مضمون نگار:محمد جمشید عالم

اردو دنیا،مارچ2026: آج کے دور میں تعلیم اور ٹیکنالوجی ایک دوسرے کے ناگزیر ساتھی بن چکے ہیں۔ معلومات کی دنیا تیزی سے ڈیجیٹل ہو رہی ہے اور کلاس روم کی

قومی تعلیمی پالیسی 2020 کی روشنی میں ہندستانی اور علاقائی زبانیں،ثوبان سعید

اردودنیا،مارچ 2026: قومی تعلیمی پالیسی (NEP2020 ) ہندوستانی تعلیمی نظام میں ایک بنیادی فکری اور ساختی تبدیلی کی نمائندہ ہے، جس میں زبان کو محض ذریعہ تعلیم نہیں بلکہ تہذیبی