نواب مصطفیٰ خاں شیفتہ کی تنقیدی بصیرت،مضمون نگار:محمد حنیف خان

May 18, 2026 0 Comments 0 tags

اردو دنیا،مئی 2026:

اردو تنقید زبان و ادب کا ایک اہم اور وقیع سرمایہ ہے جس کا دائرہ شاعری سے لے کر افسانوی اور غیرافسانوی ادب تک پھیلا ہوا ہے۔ تنقیدی ادب کے اس بحر زخار کی بنیاد شاعری کی تنقید ہے۔دوسری اصناف سخن کے مقابلے آج بھی شاعری کی تنقید نہ صرف کمیت میں زیادہ ہے بلکہ کیفیت میں بھی بالاوبرتر ہے، جس کا سبب شاعری کی تخلیق کا طویل دورانیہ اور اس کی تفہیم کی علمی کوششیں ہیں۔’تنقید‘ کی اصطلاح جدید ہے جس کے توسط سے صدف و خزف کے مابین تمیز کی جاتی ہے البتہ غیر اصطلاحی سطح پر اس کی کوششیں میر تقی میرکے’نکات الشعرا‘سے شروع ہوگئی تھیں۔ اس کے بالمقابل اردو میں افسانوی اور غیر افسانوی ادب کی تخلیق پر محض ڈیڑھ سو برس کا عرصہ گذرا ہے جب کہ اس کی تنقید اس سے بھی زیادہ کم عمر ہے۔ اردو میں تحریکات سے ماقبل مشرقی معیار نقد کے مطابق شاعری کی تنقید ہوتی رہی ہے جس کی ایک طویل روایت ہے، لیکن اس کے بعد اردو تنقیدنے سائنسی اور بین العلومی رخ اختیار کیا۔جس کی وجہ سے سیاسی، سماجی، تاریخی اور نفسیاتی تناظرات میں ادب کی تعبیر و تشریح کا رواج عام ہوا۔ موجودہ تنقید کا آغاز اردو میں تذکرہ نگاری سے ہوا، جو میر تقی میر کے تذکرہ’نکات الشعرا‘ (تسوید 1165ھ) اور فتح علی گردیزی کے’تذکرہ ریختہ گویان‘ (تکمیل 1165) سے شروع ہوا۔ تقدم زمانی کے لحاظ سے اختلافات ہیں البتہ بقول پروفیسر محمود الٰہی ’’ان دونوں تذکروں کے ضمن میں تقدم زمانی کی بحث کو زیادہ اہمیت نہیں دینی چاہیے۔ اہمیت ہے اس طرز فکر کی جس کے عمل اور رد عمل کے یہ دونوں تذکرے مظاہرہیں۔‘‘
اردو تذکروں کی ایک مضبوط روایت ہے۔ نکات الشعرا، مخزن نکات،تذکرہ ریختہ گویان، چمنستان شعرا، تذکرہ ہندی، ریاض الفصحا، عیار الشعرا، عمدہ منتخبہ، مجموعہ نغز، گلشن بے خار، آب حیات اور گل رعنا وغیرہ اہم تذکرے ہیں۔ عام طور پر یہ تذکرے اس لیے ترتیب دیے گئے تاکہ شعرا سے متعلق اہم معلومات اور ان کا کلام دست برد زمانہ سے محفوظ ہوجائے۔ان تذکروں کا صرف یہی ایک سبب نہیں ہے،بہت سے تذکرے اس لیے بھی وجود میں آئے تاکہ شعرا کو ان کا جائز مقام دلایا جاسکے۔ ان تذکروں میں شعرا کے کلام کے انتخاب کے لیے کوئی مسلمہ اصول نہیں تھاوہ خالص تذکرہ نگاروں کے ذوق پر منحصر تھا،جس کی آبیاری مشرقی معیار نقد نے کی تھی۔
تذکرہ نگاری کا تعلق تاریخ سے ہے،جس کا آغاز عربی سے ہوا اور فارسی کے توسط سے اردو میں آیا۔اردو شاعروں کے ابتدائی تذکرے فارسی میں ہی لکھے گئے، جن میں انہی اصول و ضوابط کی پابندی کی گئی جن کے مطابق فارسی تذکرے لکھے گئے تھے،یہ تتبع واضح کرتا ہے کہ اردو شاعروں کے فارسی تذکرہ نگار وں نے اس کے لیے الگ سے اصول نہیں وضع کیے، انھوں نے احوال جمع کرنے،درجہ بندی اور شعروں کے انتخاب میں فارسی تذکرہ نگاری میں مستعمل اصولوں کو ہی اپنا معیار بنایا۔اسی طرح شعرا کے کلام پر تبصروں میں بھی عربی و فارسی معیار نقد کو ہی ملحوظ خاطر رکھا جس میں عروض، بیان و بدیع اور علم معانی کو اولیت حاصل تھی۔ اسی لیے جب اردو شاعروں کے تذکروں کا مطالعہ کیا جاتا ہے تو یہاں انہی چاروں کے ارد گرد تبصرے نظر آتے ہیں۔ مروجہ تنقید چونکہ ماضی قریب کی زائیدہ ہے اس لیے تذکروں میں اس معیار کی تنقید کی تلاش کار عبث ہے البتہ اردو تنقید کے حوالے سے مشرقی شعریات کے ماخذ کے طور پر ان کا مطالعہ کیا جانا چاہیے۔
متذکرہ تذکروں میں اپنے حسن انتخاب اور رائے کی صلابت کی وجہ سے ’گلشن بے خار‘ حد درجہ اہمیت کا حامل تذکرہ ہے۔ شیفتہ نے اس میں اپنی تنقیدی بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے جو آراشعرا کے بارے میں دی ہیں وہ بہت اہم ہیں۔ان میں اردو شاعری کی تنقیدی بنیادیں نظر آتی ہیں۔اردو تذکرہ نگاری میں اپنی نپی تلی رائے کی وجہ سے نواب مصطفے خاں شیفتہ کی اہمیت آج بھی مسلم ہے بلکہ اگرمحمد حسین آزاد سے قبل انھیں پہلا تذکرہ نگار نقاد تسلیم کیا جائے تو کوئی مضائقہ نہیں۔ شیفتہ کو شاعری سے زیادہ ان کی سخن فہمی اور اس کی بنیاد پر ظاہر کی گئی رائے نے انھیں ادبی تاریخ میں اعلی مقام دلا یا ہے۔
نواب مصطفے خاں شیفتہ(1806-1869) انیسویں صدی کے متبحر عالم و شاعر تھے۔غالب کے ایسے شاگرد تھے جن پر انھیں ناز تھا۔ شیفتہ کی سخن فہمی، نکتہ رسی اور معقولات و منقولات کے علم نے انھیں ایک مسلم الثبوت استاد کا درجہ دیا تھا۔ان کے والد عظیم الدولہ سرفراز الملک نواب مرتضی خاں بہادرمظفر جنگ بنگش تھے، جن کا آبائی تعلق کوہاٹ صوبہ سرحد سے تھا۔ان کے دادا ولی دادخاں فرخ سیر کے عہد میں یہاں آئے اور فرخ آباد میں مقیم ہوئے۔ شیفتہ کی تعلیم وتربیت اس وقت کی علمی و روحانی شخصیات کی زیر نگرانی ہوئی جن میں حاجی نور محمد دہلوی نقشبندی،شیخ عبد اللہ سراج حنفی اور شیخ محمد عابد سندھی کے نام اہم ہیں۔وہ حضرت شاہ عبد العزیز دہلوی کے نواسے شاہ محمد اسحق محدث سے بیعت بھی تھے،ان کے انتقال کے بعد غلام علی نقشبندی خلیفہ مرزا مظہر جان جاناں کے دونوں خلفا شاہ ابوسعید اور شاہ احمد سعید سے تعلق قائم کیا اور فیوض باطنی سے بہرہ مند ہوئے۔
شیفتہ اور غالب کے مابین بہت گہرے تعلقات تھے،وہ استاد و شاگرد بھی تھے اور ندیم بھی،جن کی رائے کا غالب بہت احترام کرتے تھے،ان کی سخن سنجی کے حد درجہ معترف تھے۔شیفتہ سے متعلق غالب نے کہا تھا ؎
غالب بفن گفتگونازد بدیں ارزش کہ او
ننوشت در دیوان غزل،تا مصطفے خاں خوش نہ کرد
ان کی مضمون آفرینی کی داد یوں دی ہے ؎
غالب ز حسرتی چہ سرایم کہ در غزل
چوں او تلاش معنی و مضموں،نکردہ کس
مصطفے خاں شیفتہ فارسی میں ’حسرتی‘ تخلص کرتے تھے۔ غالب نے کئی مقامات پر شیفتہ کا ذکر بہت احترام سے کیا ہے جس کااہم سبب ان کا علمی قد،تخلیقی وفور، مضمون آفرینی اورنکتہ رسی تھی۔شیفتہ کے زمانے تک نہ تو تذکرہ نگاری کے اصول مرتب ہوئے تھے اور نہ ہی تنقیدی ضابطے وجود میں آئے تھے اس کے باوجود انھوں نے ’گلشن بے خار‘ کی صورت میں ایک جامع انتخاب کیا، اور شعرا کے کلام سے متعلق ایسی رائیں دی جو ان کا شناخت نامہ بن گئیں۔ تذکرے کا مطالعہ کرتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شیفتہ صدف کو خزف سے الگ کر رہے ہیں،حالانکہ ان کا یہ طریقہ کار ہر شاعر کے بارے میں نہیں ہے۔ اس تذکرے میں تبصروں کی صورت میں جوتنقیدی اشارے پائے جاتے ہیں ان سے شیفتہ کی تنقیدی بصیرت جھلکتی ہے۔سب سے پہلے ہم یہ دیکھتے ہیں کہ شیفتہ کا یہ تذکرہ لکھنے کا مقصد کیا تھا۔
شیفتہ گلشن بے خار کے مقدمے میں لکھتے ہیں:
نظم مستعد دلربائی است،و عذرای خود آرائی نثر، مشتاق ِتماشائی شمع خانہ خورشید است،و خورشید نامہ فروغ افزا یعنی بیاضی جمع آید،روشن تر از سپیدۂ صبحِ صادق، گلستانی آراستہ شد رنگیں تر از صفحۂ خیال ِ عاشق تذکرہ ترتیب یافت مشتمل بر اشعار منظومان فصاحت گستر و ریختہ گویانِ بلاغت طراز۔
ترجمہ:نظم کی حسین ادائیں رکھنے والی محبوبہ دلربائی کے لیے آمادہ ہے اور نثر کی خود پسند معشوقہ جلوہ دکھلانے کے لیے بے چین ہے۔قلم شمع کی طرح سورج کے سامنے آگیا ہے،اور ایک سورج جیسی جگمگانے والی کتاب یعنی ایک بیاض مرتب ہوگئی ہے۔صبح صادق کی روشنی سے زیادہ روشن ایک باغ آراستہ ہوگیا ہے جو رنگینی میں عاشق کے صفحہ خیال سے زیادہ رنگین ہے اور ایک تذکرہ نے ترتیب پائی جو فصیح شاعروں کے اشعار اور بلیغ ریختہ گویوں کے اشعار پر مشتمل ہے۔1
آگے چل کر وہ اس تذکرے کا مقصد لکھتے ہیں :
چوں مد نگاہ ازیں تالیف و مطمح نظر ازیں تصنیف فرد آوردن، اشعارِ دل آراست نہ شمار اسامی شعرا ازانکہ سامعہ فریب بیتے بنظر نرسید،عام تر از مجاہیل و معارف و احیا و اموات ِنامش دریں سفینہ چوں ابیاتش درج نگردید۔
ترجمہ:چونکہ پیش نظر اس تالیف کے اور مقصد اس کتاب لکھنے سے دل کو لبھانے والے اشعار جمع کرنا ہے اور محض شاعروں کے نام گننا نہیں ہے اس لیے کوئی غیر مؤثر شعر نگاہ کے سامنے نہ آیا۔اور عام لوگوں، جاہلوں اور اہل علم زندہ اور مردہ کا نام اس کتاب میں اس کے شعروں کی طرح درج نہ کیا۔‘‘ 2
شیفتہ نے اپنے مقدمے میں کسی طرح کے اصول کا کوئی ذکر نہیں کیا ہے بس انھوں نے اپنے مذاق کی بنیاد پر اشعار کا انتخاب کیا ہے۔عام طور پر ابتدا میں تذکرہ نگاروں نے کچھ اصول بیان کیے ہیں مگر ان کا تعلق راست طور پر تذکرہ نگاری سے ہے تنقید سے نہیں، جن اصولوں کے مطابق منتخب شعرا کے کلام پر تبصرے کیے ہیں وہ اصول نہیں بیان کیے ہیں بلکہ یہ عربی و فارسی کے اصول ہیں جن کے مطابق اس زمانے میں شاعری کی جاتی تھی۔اس کے باوجود تذکروں کو تنقید کی بنیاد قرار دیا جاتا ہے حالانکہ اس حوالے سے پروفیسر ابوالکلام قاسمی نے بہت صائب رائے کا اظہار کیا ہے وہ لکھتے ہیں:
’’شعرائے اردو کے تذکروں میں ترتیب اور درجات کی تقسیم،زمانے کے تعین حتی کہ شعروں کے انتخاب میں فارسی تذکروں کے تتبع کا اندازہ ہوتا ہے۔ اس صورت حال میں اردو شاعروں کے تذکرہ نگاروں سے توقع رکھنا درست نہیں کہ وہ فارسی معیار نقد کے علاوہ کسی نئے تنقیدی شعور کا ثبوت دیں گے چونکہ فارسی میں ادبی تنقید کی روایت کا تعلق عموما عروض،معانی بدیع اور بیان تک محدود رہا اس لیے یہی روایت اردو تذکروں میں بھی منتقل ہوئی۔‘‘3
تذکروں میں عام طور پر ایسی رایوں کا اظہار کیا گیا ہے جو شعرا کے پورے کلام کے مطالعے سے ابھرتی ہیں،یہی حال شیفتہ کا بھی ہے،یہاں متن کے تحلیل و تجزیے یا تقابل کی چنداں کوشش نہیں کی گئی ہے اس لیے یہ رائیں بعض مرتبہ درست اور بعض مرتبہ نا درست بھی ثابت ہوئی ہیں۔عام طور پر ایسے تبصرے کیے گئے ہیں جنھیں کسی پر بھی چسپاں کیا جاسکتا ہے مگر بعض شعرا پر ایسے تبصرے کیے گئے ہیں جنھیں آج بھی ناقدین تسلیم کرتے ہیں۔’گلشن بے خار‘ ایک ایسا تذکرہ ہے جوشعرا کے کلام سے متعلق تذکرہ نگار کی اصابت رائے اور احوال جمع کرنے میں زیادہ محتاط رویہ اختیار کیے جانے کی وجہ سے اہمیت کا حامل ہوگیا ہے۔اس میں ظاہر کی گئی رایوں کے تحلیل و تجزیے سے نواب مصطفے خاں شیفتہ کی تنقیدی بصیرت تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
گلشن بے خار(1835)میں مکمل ہوا۔جس میں 676 شعرا کے احوال اور ان کے کلام کا انتخاب کیا گیا ہے۔ حنیف نقوی لکھتے ہیں:
’’گلشن بے خار کی تالیف میں شیفتہ کی تمام تر توجہات پسندیدہ اشعار کے انتخاب اور ایک خاص نظم اور سلیقے کے ساتھ ان کی ترتیب پر مرکوز رہی ہے۔ دوسرے الفاظ میں انھوں نے تذکرہ نگاری کے دوسرے مطالبات اور تقاضوں کو بنیادی طور پر ناقابل اعتنا تصور کیا ہے۔‘‘4
مشہور محقق محمود الٰہی نے گلشن بے خار کے حوالے سے لکھا ہے کہ ’’یہ پہلا تذکرہ ہے جس میں شاعروں کے کلام پر متوازن انداز میں اظہار خیال کیا گیا ہے اور مذاق سلیم کو انتخاب اشعار کی بنیاد بنایا گیا ہے‘‘۔بعض شاعروں کے بارے میں شیفتہ کی رائیں آج بھی قطعی اور حتمی تسلیم کی جاتی ہیں جبکہ حنیف نقوی کہتے ہیں کہ پرتکلف انداز بیان کی وجہ سے ان کی تنقیدی بصیرت پس پشت چلی گئی ہے،اگر وہ معروضی انداز بیان اختیار کرتے تو ان کی رائے زیادہ واضح طور پر سامنے آتی:
’’شخصیت کے خط و خال کی باز آفرینی اور تخلیقی صلاحیتوں کی تحسین کے لیے انھوں نے جو پرتکلف اور مرصع انداز بیان اختیار کیا ہے وہ اس فن سے کوئی مناسبت نہیں رکھتا۔ان کی تحریروں میں نقاد کے حقیقت طراز قلم سے زیادہ انشا پرداز یا شاعر کا فلک پیما تخیل کار فرما نظر آتا ہے وہ تجزیے کے بجائے حاشیہ آرائی سے کام لیتے ہیں،اور رنگینی عبارت و شگفتگئی تحریر کی خاطر نفس مطلب کا رشتہ تشبیہات و استعارات سے جوڑ کر ایک طلسمی کیفیت پیدا کرنے کے عادی ہیں۔یہ طلسم بندیاں شخصیت کے تنوع اور ہمہ جہتی کے ساتھ پیچیدہ تر ہوجاتی ہیں۔حتی کہ بعض اوقات اصل مفہوم الفاظ کے پیچ و خم میں گم ہو کر رہ جاتے ہیں۔‘‘5
شیفتہ کی زبان پر حنیف نقوی نے تنقیدی زبان کے تعلق سے جو سوال اٹھایا ہے وہ بجا ہے،مگر حنیف نقوی نے ان کی زبان کا محاکمہ مروجہ تنقیدی زبان کے تناظر میں کیا ہے جو درست نہیں ہے۔انھوں نے اپنے مقدمے کا آغاز جس انداز سے کیا ہے وہ کیف کی زبان ہے، وہ اس تذکرے کی تکمیل پر شرسار تھے، اس لیے انھوں نے نثر میں شاعری کرتے ہوئے نثر کو ایک ایسی معشوقہ قرار دیا ہے جو اپنا جلوہ دکھلانے کے لیے بے قرار ہے۔ان کا یہ دعوی میر،غالب، سودا اور مومن کے بیان میں اوجِ ثریا پر ہے۔انھوں نے معروضی زبان کے بجائے ایک ایسی زبان استعمال کی ہے جسے پڑھ کر ممدوح سے محبت ہوجائے اور ان کے اشعار کی قرات کے لیے دل بیتاب ہو اٹھے۔در اصل جس سطح کے اشعار کا انھوں نے انتخاب کیا ہے اسی کے بالمقابل اپنی نثر قائم کی ہے،وہ نثر میں بے محابا تشبیہات و استعارات اور ان کے تلازمات کا استعمال کرتے ہیں۔ اس کے باوجود اس میں کوئی شک نہیں کہ شیفتہ سے بہتر کسی نے بھی شاعروں کے کلام پر تبصرے نہیں کیے ہیں۔ان پر علاقائی عصبیت اور اشرافیہ نوازی کا بھی الزام لگایا جاتا ہے جس میں کچھ صداقت بھی ہے۔ انھوں نے نظیر جیسے شاعر کو شاعر وں میں شمار کرنے سے بھی انکار کیا۔ان تمام باتوں کے باوجود ان کے تنقیدی تبصروں پر اگر نظر ڈالیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ایک باشعور قاری اور سامع تھے جو صدف و خزف کی پہچان رکھتے تھے۔ انھوں نے جو رائیں پونے دو سو برس قبل دی تھیں آج بھی قائم ہیں۔ ذیل میں چند شعرا سے متعلق ان کی کچھ آرا نقل کی جاتی ہیں:
شاہ مبارک آبرو: از زبان آوران ِ نامیٗ طبقہ پیشین است۔بصنعت ایہام مائل بود۔6
زبان ریختہ کے متقدمین میں ہیں،صنعت ایہام کی جانب مائل تھے۔
رضا قلی آشفتہ:شعرش شستہ و صاف،فکرش مطبوعِ طبع ِاہلِ انصاف۔7
ان کے اشعارشستہ اور صاف ہیں اور فکر اہل انصاف کی طبیعت کے مطابق ہے۔ یعنی فکری سطح پر روایتی ہیں۔
خواجہ میر درد:از لطافت طبع و شستگئی نظم و رشاقت مضمون پیداست۔،۔۔۔۔فکرش صحیح،گفتارش از رکاکت و اغلاط پاک ۔۔۔۔۔واکثر ابیات با علوِ معانی و سمو مضامین دلکش و حالی… 8
ان کے کلام میں لطافت،نظم میں شستگی اور مضمون چست ہے،فکر درست ہے،کلام رکیک الفاظ اور غلطیوں سے پاک ہے۔اکثر اشعار معانی کے اعتبار سے بلند اور مضامین کے اعتبار شاندار ہیں۔
شرف الدین مضمون:فکرسے مقصور بر ایہام است کہ شیوہ اہل زبانش بودہ9
ان کی فکر ایہام پر مبنی ہے جو اہل زبان کا شیوہ تھا۔
سودا :’’حلاوتِ کلامش چاشنیٗ نوش لب شکرین، شاہدان شیریں شمائل می دارد،فکرش چمنِ جنت است کہ گلہای کس نچیدہ ازان می خیزد و اندیشہ اش چشمئہ خلد است کہ جوئے شیر، ازان می ریزد،،ذوقِ کلامش ہم اثرِ شراب است، اما نہ شرابی کہ از رگ تاک بر آید۔۔۔۔بر اصناف سخن قدرت تام و آنکہ بین الانام شہرت پذیر کہ قصیدش بہ از غزل است حرفیست مہمل بزعم فقیر غزلش بہ از قصیدہ است و قصیدہ اش بہ از غزل۔ 10
ان کے کلام کی شیرینی معشوقوں کے لب شیریں کی حامل ہے،ان کی فکر جنت کا باغ ہے کہ اس کے پھول ان کے علاوہ کسی اور نے نہیں توڑے،ان کا تخیل جنت کا چشمہ ہے جس سے جوئے شیر بہہ رہی ہے ان کے کلام میں شراب کا سا لطف ہے مگر وہ شراب نہیں جو انگور سے بنتی ہے۔۔۔۔۔۔۔تمام اصناف سخن پر ان کو قدرت تامہ حاصل ہے جیساکہ عوام میں مشہور ہے کہ ان کے قصائد غزل سے بہتر ہیں مگر اس فقیر کی رائے میں یہ ایک مہمل و بے معنی رائے ہے۔ ان کی غزل قصیدے سے بہتر اور قصیدہ غزل سے بہتر ہے۔یہاں شیفتہ کے بجائے عوام میں مشہور بات زیادہ بہتر ثابت ہوئی۔آج بھی سودا قصائد کے حوالے سے ہی معروف ہیں۔
میر محمد سوزلکھنوی :کلامش از جادہ مستقیمہ برکراں۔11
ان کا کلام روایت کے مطابق ہے۔
غالب:غزلش چوں غزل ِ نظیری بے نظیر،و قصیدہ اش چوں قصیدہ عرفی دل پذیر،مضامین شعری کما ھو حقہ12
ان کی غزل نظیری کی طرح بے نظیر ہے اور قصیدہ عرفی کی طرح دل پذیر ہے۔ شعر کے مضامین کا انھوں نے حق ادا کردیا ہے۔
مصحفی:ہر چند بتقاضایے شیوۂ بسیار گویان اکثر کلامش کم پایہ و از لطائف خالی است، اما گزیدہ اشعار ِاو در نہایت رتبت والاو مرتبت عالی است13
بسیار گوئی کی وجہ سے ان کا کلام لطف سے خالی ہے البتہ منتخب اشعار عالی مرتبت ہیں
میر تقی میر:و رشحہ قلمش در شگفانیدن گلہای مضامینِ تازہ،ہمرنگ ابرِ نو بہار، صدا ٓہِ درد ناک بتاثیر یک مصرع او نیست۔۔۔۔۔۔با فنون نظمیہ ربط ِتمام دارد،لا سیما در غزل سرائی و مثنوی گوئی سبقت می رباید۔پست وبلند کہ در کلامش بینی و رطب و یابس کہ در ابیاتش بنگری نظر نکنی ۔۔۔۔۔در قصیدہ فکر خوشی نداشتہ چنداں کہ غزلش بلند مرتبہ تر است ہمچنان قصیدہ اش پست پایہ تر۔14
ان کا نوک قلم مضامین نو کے پھول کھلانے میں ابر نو بہار کے مشابہ ہے سو پر درد آہیں تاثیر میں ان کے ایک مصرع کے برابر نہیں۔ شعر گوئی میں مہارت ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ غزل اور مثنوی گوئی میں ان سے کسی کی مسابقت نہیں،ان کے کلام میں جو پستی و بلندی دیکھتے ہیں وہ ان کے اشعار میں رطب و یابس دیکھتے ہیں۔کیا یہ بات نظر سے نہیں گذری کہ اگر شعر میں اعجاز ہے تو بلندی و پستی کوئی معنی نہیں رکھتی۔قصیدہ کے لیے ان کی طبیعت موزوں نہ تھی جس قدر کہ ان کی غزل نہایت بلند مرتبہ ہے اسی قدر ان کا قصیدہ کم رتبہ ہے۔
میر سے متعلق غزل اور قصیدے کے سلسلے میں جس رائے کا ظہار شیفتہ نے کیا تھا آج بھی ناقدین اسی کو تسلیم کرتے ہیں۔
نظیر اکبر آبادی:اشعار بسیار داردکہ بر زبان سوقئین جاری است و نظر بہ آں ابیات در اعداد شعرا، نشایدش شمرد۔15
ان کے بہت سے اشعار بازاری لوگوں کی زبان پر جاری ہیں،ان اشعار کے مد نظر ان کا شمار شعرا میں نہیں ہوناچاہیے۔یہی وہ نکتہ ہے نظیر کے بارے میں جس نے ایک اور تذکرہ کی ترتیب کی راہ ہموار کی اور قطب الدین باطن کا تذکرہ ’گلستان بے خزاں‘ وجود میں آیا۔
انعام اللہ خاں یقین:کلامش سیر نمک است۔ حلاوت دل خواہ دارد۔16
ان کے کلام میں نمکینی اور دل کو پسند آنے والی حلاوت ہے
شیفتہ کی مندرجہ بالارایوں کا اگر تجزیہ کیا جائے تو ان کا تعلق عروض و لسانی قواعد،صنائع و بدائع،اور علم معانی سے ہے۔ان آرا سے اب ہم کچھ اصول تنقید مرتب کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو آج بھی مروج ہیں، جن کے توسط سے شاعری کی تنقید کی جاتی ہے۔ اس سے شیفتہ کی تنقیدی ژرف نگاہی کا اندازہ ہوگا جو باتیں انھوں نے کہی تھیں وہ کس طرح اردو تنقید کی اساس قرار پائیں۔
فکری بلندی اور اسلوب کی خوبصورتی(میر حسین تسکین)۔روایت کی پابندی(میر محمد سوز)۔صنعت کا ہونا (شاہ مبارک آبرو)۔شعر میں شستگی و صفائی کا ہوناتاکہ اثر انگیز ہو(رضا قلی آشفتہ)۔کلام میں نمکینی، حلاوت اوراس کا شیریں ہونا۔کلام کا شور انگیز ہونا (احسن اللہ بیان و انعام اللہ خاں یقین)۔خیالات کی رنگینی یعنی مضامین کاتنوع۔ (الٰہی بخش معروف)۔ مضمون بندی میں مہارت،نکتہ رسی اورلطیف مضامین باندھنا۔شعر کا لسانی اغلاط اور رکیک الفاظ سے پاک ہونا۔ شعر میں اعلی مضمون کو نظم کرنا۔فکر کا صالح ہونا (خواجہ میر درداور نظام الدین ممنون)۔ مضامین کی تازگی اور ان کا نو بہ نو ہونا۔کلام کا پردرد و پر تاثیر ہونا۔شاعری کے فن سے واقف ہونا۔ موازنہ غزل اور قصیدے کے مابین موازنہ اور شاعر کا صنفی لحاظ سے تعین قدر۔ (غزل میں میر تقی میر اور قصیدے میں سودا کی برتری)۔ دوسری زبان کے شاعروں سے موازنہ ۔ غزل میں نظیری اور قصیدے میں عرفی کے ہم پلہ قرار دینا(غالب)۔خیال میں ندرت اور بیان میں تاثیرکا ہونا(سودا)۔منتخب اشعار کی بنیاد پر تعین قدر(نظیراکبر آبادی و مصحفی)۔ بسیار گوئی سے کلام میں فنی سطح پر کمزوری کی طرف اشارہ (مصحفی)۔کسی ایک صنعت پر انحصار کوغیر مناسب تصور کرنا(شرف الدین مضمون)۔ موزونی طبع کے باوجود شعری لوازمات سے عدم واقفیت سے فنی سطح پر شعر کا کمزور ہونا(منیر) وغیرہ۔
نواب مصطفے خاں شیفتہ کے تبصروں سے مرتب مندرجہ بالااصول و ضوابط میں مشرقی شعریات یعنی عربی و فارسی اصول تنقید(صنائع وبدائع،علم معانی،قافیہ اور اوازان ) کی بازگشت نظر آتی ہے۔اس کے باجود کچھ نئی باتیں ہیں مثلا شیفتہ موازنہ پسند ہیں،وہ شاعر کا موازنہ اصناف کے تناظر میں تو کرتے ہی ہیں اس کے ساتھ ہی دوسری زبان کے شعرا سے بھی موازنہ کرتے ہیں۔اسی طرح تنقید کے لیے اصناف سخن کے اصول و ضوابط سے ان کی گہری واقفیت انھیں اس لائق بناتی ہے کہ وہ صنفی اعتبار سے شعرا کا تعین قدر کرسکیں۔
موجودہ مروجہ تنقید کی حدود کا موازنہ اگر ہم شیفتہ کی تنقید سے کریں تو اندازہ ہوتا ہے کہ ہر چند ان کی رائے محض تاثراتی ہے،کہیں بھی تحلیل وتجزیے سے کام نہیں لیا ہے اس کے باوجود ان کی یہ رائیں مروجہ تنقید پر کھری اترتی ہیں اور ان کے یہ تنقیدی اشارے آج کی تنقید کی بنیاد معلوم ہوتے ہیں حالانکہ انھوں نے حالی کی طرح تنقید کے اصول وضع نہیں کیے مگر ان کی منتشر آرا کو جمع کرکے جب ان کی چھان پھٹک کی جاتی ہے اور اس سے اصول تنقید مستنبط کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو موجودہ تنقید کا ایک ہیولی نظر آنے لگتا ہے۔اردو تنقید کی حدود میں قرات، تفہیم، تحسین، تجزیہ، تقابل اور تعین قدر شامل ہیں۔ مندرجہ بالا اصول وضوابط کا اگر گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو اس میں صرف تجزیہ نہیں ہے، اس کے علاوہ سبھی اصول پائے جاتے ہیں۔اس سے نواب مصطفے خاں شیفتہ کی تنقیدی بصیرت کا پتہ چلتا ہے۔ انھوں نے اردو شاعری کی تنقید کو اپنی ژرف نگاہی سے مضبوط بنیادیں فراہم کیں،محمد حسین آزاد اردو ادب کے عناصر خمسہ میں شامل ہیں جن کی تنقید کی بنیادوں میں نواب مصطفے خاں شیفتہ کی فکر شامل ہے۔شیفتہ نے اپنی تنقیدی آراء سے بعد میں آنے والوں کے لیے راہ ہموار کی۔انھوں نے شاعری کی تفہیم اور تعین قدر کو ایک سنجیدہ اور اصولی شکل دی۔جس نے بعد میں منظم تنقید کی شکل اختیار کی۔
مآخذ و مصادر:
1 گلشن بے خار:نواب مصطفیٰ خاں شیفتہ،اترپردیش اردو اکادمی1982ص 4
2 ایضاً،ص 5-6
3 مشرقی شعریات اور اردو تنقید کی روایت:پروفیسر ابوالکلام قاسمی، 1992ص 115-16
4 حنیف نقوی۔شعرائے اردو کے تذکرے، اترپردیش اردو اکادمی، 1998۔ص 682
5 ایضاً، ص 693-94
6 گلشن بے خار:نواب مصطفے خاں شیفتہ۔اترپردیش اردو اکادمی،1982ص6
7 ایضاً،13،8 ایضا،68،9 ایضا، 81، 10ایضا،99
11 ایضاً،104، 12 ایضاً،138، 13 ایضاً، 178
14 ایضاً،210، 15 ایضاً،231، 16ایضاً،232

Mohd Haneef Khan
Asisstant Prof (Cont)
Department of Urdu (Womens College)
Aligarh Muslim University
Aligarh- 202002 (UP)
Mob:9359989581
Email: haneef5758@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

مجاز کی نظموں کا صوتی آہنگ، مضمون نگار: ناز بیگم

شاعری میں ایسے پیرائے اظہار یا اسلوب کا اہتمام کرنا جو محض ادائے مطلب کے لیے ضروری نہیں بلکہ کلام میں مزید حسن و لطافت اور معنی پیدا کرے صنعت

نیر مسعود کی تحقیقی خدمات،مضمون نگار: صالحہ عاصم

اردودنیا،جنوری 2026: نیر مسعود(1936-2017) کی بنیادی شناخت ایک اہم افسانہ نگار کی ہے۔ وہ فارسی زبان وادب کے استاد تھے، لیکن اردو زبان و ادب میں ان کی گراںقدر خدمات

محقق قاضی عبدالودود:عارف حسن وسطوی

    قاضی عبدالودوداس عہدآفریں اور عبقری شخصیت کا نام ہے جس پر نازاں وفرحاں ہونا باعثِ افتخار ہے۔ علم وفضل، ذہانت وفطانت،عالمانہ شان وشوکت اوراعلیٰ علمی وادبی کارناموں کی