جگر کی کلاسکیت ،مضمون نگار: اکرم پرویز

May 18, 2026 0 Comments 0 tags

اردو دنیا،مئی 2026:

اردو غزل کی روایت میں جگر مرادآبادی کا فنی اختصاص و انفراد مستحکم ہے لیکن اس کے باوجودان کے فن کے معروضی محاکمے میں کئی نکات سد راہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔مثال کے طور پران کے کردار کے متعدد پہلو ایسے ہیں جو ان کی شعری انفرادیت ،فنی اختصاص یاان کے معروضی مطالعے میں مانع ہیں۔جیسے ان کی شراب نوشی، ان کا قیافہ، ان کی شعر گوئی کا منفر دلحن، مشاعروں میں ان کی آمداور روانگی، اصغر اور ان کے تعلقاتِ دیرینہ،ان کاترقی پسندانہ رویہ،ان کا شریفانہ مزاج، غرض کہ اس نوع کے بے شمار کرداری انسلاکات ہیں جو جگر اور ان کی شاعری کے درمیان قاری کو الجھانے اور بھٹکانے کا کام کرتے ہیں۔ کلام جگر کا مطالعہ خاص طور سے ان کی غزلوں کا مطالعہ غزل کی شعریات کے دائرے میں کیا جانا چاہیے لیکن ہم غزل کی شعریات کا التزام نہ کرتے ہوئے جگر کی شاعری کو ان کی عمر رفتہ میں تلاش کرتے ہیں اوران کی غزل گوئی کو ان کی نفسیات کا آئینہ بنانے کے در پے رہتے ہیں۔
اس حوالے سے دوسری بات یہ ہے کہ عام طور پر جگر مرادآبادی کو جدید اردو غزل کا ایک امتیازی نشان قرار دیا جاتا ہے۔لیکن یہاں یہ سوال قائم ہوتا ہے کہ کیاجدید غزل کی شعریات،کلاسیکی(قدیم یا پرانے کے بجائے نمونہ یا مثال کے معنی میں) غزل کی شعریات/کلاسیکی شعریات سے مکمل طور پر علاحدہ ہے؟ظاہر ہے ایسا ممکن نہیں کہ شعریات کوئی جامد شے نہیں ہے بلکہ اس میں روانی و تحرک ہے۔غزل کی شعریات ان اصولوں ،قدروں اور تصورات سے عبارت ہے جواس کی وجودیات مرتب کرتے ہیں۔اسی کی اساس پر غزل کی قرأت کے آداب وضع ہوتے ہیں۔یہ ایک متحرک اورسیال سلسلہ ہے جس کے مختلف پڑاؤ ضرور ہیں لیکن اس کا بنیادی ساختیہ سدا غیر مبدل رہتا ہے ۔جس طرح DNAآنے والی نسلوں میں معمولی سی تبدیلی کے ساتھ منتقل ہوتا ہے اسی طرح شعریات بھی ذرا سی تبدیلی کے ساتھ عہد بہ عہد اپنے بنیادی جوہر کوقائم رکھتی ہے۔اس لحاظ سے یہ کہنا بجا ہے کہ جدید غزل کی شعریات بھی کلاسیکی شعریات کے بطن سے برآمد ہوتی ہے ۔اس تناظر میں کلام جگر کا مطالعہ کرنے سے کئی انکشافات ہوتے ہیں۔ذیل میں اسی تعلق سے مکالمہ قائم کیا گیا ہے۔
عمومی طور پرغزل کی شعریات کو دو حصوں (کلاسیکی اور جدید) میں منقسم کیا جاتا ہے۔پہلا حصہ امیر خسرو سے ہوتے ہوئے غالب تک پہنچتا ہے اور کمال کی بات ہے کہ اس کے دوسرے حصہ کا آغاز بھی غالب سے ہی ہوتا ہے جوان سے ہوتے ہوئے اقبال، میراجی اور راشد تک پہنچتا ہے اوران کے یہاں سے یہ سلسلہ مزید صیقل ہو کرہنوز قائم ہے۔ ظاہر ہے کلام جگر کے شعری محاسن پر مکالمہ اسی وقت قائم ہو سکتا ہے جب ہم غزل کی کلاسیکی شعریات سے روشناس ہوں۔
غزل کی کلاسیکی شعریات کا اہم متن امیر خسرو کے تیسرے دیوان ’غرۃ الکمال‘ کا دیباچہ ہے۔اس دیباچے میں خسرو نے شاعری کی دو امتیازی شرطیں بتائی ہیں ان میں سے ایک روانی اور دوسرا ایہام ہے۔روانی کو انھوں نے Water Cycleکے مشابہ قرار دیا ہے۔یعنی ’’سب سے عمدہ روانی وہ ہے جو اس پانی میں ہوتی ہے جو مبدل بہ حرارت ہو کر پھر مبدل بہ آب ہو کر ،پھر مبدل بہ ہوا ہو کر بالآخر مبدل بہ آب ہو گیا ہو۔‘‘1 اسی طرح’’ ان کی نظر میں ایک سے زیادہ معنی رکھنے والے کلام کی خاص اہمیت ہے۔‘‘ 2 جسے انھوں نے ایہام کہا ہے۔ یوں خسرو کی نظر میں ایک اچھا شعر ایہام اور روانی سے متصف ہوتا ہے۔شمس الرحمن فاروقی کے مطابق یہ تصورسنسکرت شعریات (سلیش النکار جس کا نیچر ایہام سے مماثل ہے)سے مستعار ہے جو ہماری کلاسیکی شعریات کا اہم حصہ رہا ہے۔اٹھارہویں صدی تک پہنچتے پہنچتے روانی اور ایہام کا تصور مستحکم ہو چکا تھا۔اس دور کی غزلیہ شاعری میں روانی اورایہام کے ساتھ ساتھ معنی آفرینی ، رعایت لفظی اور مناسبت کا بھی استعمال عام تھا۔معنی آفرینی دراصل ایک پھول کا مضموں ہو تو سو رنگ سے بادھوں کے مصداق ہے یعنی ’’کلام میں معنی پیدا کرنے کا عمل،کلام میں مضمون باندھنے کے عمل سے الگ ہے۔کلام میں ایک سے زیادہ معنی پیدا ہو سکتے ہیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ سامع/قاری تمام معنی کو قبول کرنے پرمجبور ہو یامختلف معنی میں درجہ بندی کرے اور کہے کہ فلاں معنی بھی ممکن ہے۔‘‘3اس کے علاوہ ’’کسی متن میں اگر معنی ہیں تو وہ سراسر مضمون کے پابند ہو سکتے ہیں،اور نہیں بھی ہو سکتے ہیں۔یہ ممکن ہے کہ متن کا مضمون صرف چند اشاروں یا مبہم کنایوں تک محدود ہو،لیکن اس کے معنی ان اشاروں اور کنایوں کی مدد سے بکثرت بن سکتے ہوں۔یہ ممکن ہے کہ متن مختصر ہو لیکن اس میں بہت سے معنی یا بڑے معنی سما جائیں۔یہ ممکن ہے کہ متن کی سطح پر مضمون کچھ کہتا ہولیکن اندر اندر کچھ کہتا ہو۔‘‘4 اسی طرح رعایت لفظی کی تعریف میں کہا گیا ہے کہ اس میں ’’ایسے الفاظ کا استعمال[ہوتا ہے] جن کے درمیان بظاہر معنی کا علاقہ ہو۔دوسرے الفاظ میں، الفاظ کا استعمال ایک دوسرے کی رعایت کے ساتھ ہو۔اور یہ رعایت ہر ایک طرح کی ہو سکتی ہے۔‘‘ 5 یہ وہ اصطلاحات ہیں جو کلاسیکی غزل کی اساس تھیں اور شاعر و ناقد دونوں کے یہاں اس کا تصور کا فی مستحکم تھا۔
اس سیاق میں دیکھنے سے کلام جگر کی معنویت کئی لحاظ سے دوبالہ ہوجاتی ہے۔سب سے پہلے تو ان کے اشعار میں ایک خاص قسم کی روانی موجود ہے۔جیسا کہ روانی کو امیر خسرو نے شعر کی سب سے اہم خوبی قرار دیا ہے۔جگر کی غزلوں کا مطالعہ کریں تو روانی کا یہ اہتمام پوری شد ومد کے ساتھ کام کرتا نظر آتا ہے۔اس کے علاوہ ان کے اشعار میں ایک مخصوص قسم کی موزونیت ہوتی ہے جو اسے موسیقی سے قریب تر کرتی ہے۔خسرو نے شعر کو موسیقی سے افضل قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ موسیقی کی ارفعیت شعر کے تابع ہوتی ہے ۔جگر کی غزلوں کی روانی،اس کا آہنگ،اس کی موزونیت،اس کا لحن اسے موسیقی سے بلند کرتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ جب جگر مشاعروں میں اپنا کلام سناتے تو سامعین اپنا سر دھنتے تھے۔مشاعروں میں ان کی آمد اور روانگی کی جو کہانیاں ہیں اسے اسی سیاق میں دیکھا جانا چاہیے۔ اس حوالے سے چند اشعار ملاحظہ ہوں:
آنکھوں کے سامنے اب منزل رہی نہ راہیں
جلوؤں نے ترے مل کر سب لُوٹ لی نگاہیں
اک بزمِ ناز میں چل زاہد تجھے دکھا دوں
مینا بدوش آنکھیں ساغر بکف نگاہیں
محبت کیا ہے تاثیر محبت کس کو کہتے ہیں؟
ترا مجبور کر دینا میرا مجبور ہو جانا
یکایک دل کی حالت دیکھ کر میرا تڑپ اٹھنا
اسی عالم میں پھر کچھ سوچ کر مسرور ہو جانا
محبت عین مجبوری سہی لیکن یہ کیا باعث؟
مجھے باور نہیں آتا میرا مجبور ہو جانا
جب سے معلوم کیا دل کے نہاں خانے کو
آنکھ اٹھانے کو بھی فرصت نہیں دیوانے کو
عشق معصوم صفت حسن ثقاہت دشمن
مختصر کون کرے شوق کے افسانے کو
پی کے اک جام وہ جلوے نظر آئے مجھ کو
دیکھتا ہوں کبھی مے کو کبھی مے خانے کو
محولہ بالا اشعار بنا کسی تردد کے کلیات جگر مرتبہ نواز چودھری سے منقول ہیں۔اس نوع کے اشعار سے یعنی جس میں روانیت کا غلبہ ہے کلیات جگر بھرا پڑا ہے۔
روانی کے علاوہ کلام جگر میں ایہام کی وافر مثالیں موجود ہیں۔ان کے یہاں ایہام بھرتی کا معلوم نہیں ہوتا ہے بلکہ لفظی ترتیب میں اس طرح پیوست ہوتا ہے کہ قرأت کے دورانیہ میں قاری اس پر غور کیے بنا ہی گذر جاتا ہے۔اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ ان کے کلام کی روانی سے قاری دھوکا کھا جاتا ہے لیکنClose Readingسے ایہام گرفت میں آجاتا ہے۔مثلاً:
یوں بسر کی زندگی میں نے اسیری میں جگر
ہر طریقہ داخلِ آدابِ زنداں ہو گیا
اس شعر میں لفظ ’اسیری‘ کے دو معنی ہیں۔پہلا قید اور دوسرا مبتلا۔چونکہ قید کی مناسبت سے زنداں آیا ہے اس لیے قاری اسیری بمعنی قید کو مقدم مان کر شعر کی تفہیم کر لیتا ہے۔لیکن اسیری بمعنی مبتلا یعنی عشق میں مبتلا پڑھنے پر شعر مزید گہرا اور بڑا بن جاتا ہے۔یوں عشق میں مبتلا ہونا زنداں میں مقید ہونے کے مترادف ہے۔شمس الرحمن فاروقی نے اس نوع کے ایہام کوخالص ایہام کہا ہے۔انھوں نے ایک دوسرے قسم کے ایہام یعنی’ مساوات معنی‘ کا بھی ذکر کیا ہے۔جس کی تعریف کرتے ہوئے انھوں نے لکھا ہے کہ’’جہاں ایک لفظ کے دو معنی ہوں،ایک دور کے اور ایک قریب کے،لیکن دونوں معنی برابر کے قوی ہوں اور یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو کہ شاعر نے کون سے معنی مراد لیے تھے۔‘‘6 اسے مساوات معنی کہتے ہیں۔مندرجہ بالا شعر کو ایہام خالص کے ضمن میں بریکٹ کرنے کے ساتھ ساتھ مساوات معنی کے سیاق میں بھی انگیزکیا جا سکتا ہے۔اسی حوالے سے جگرکاایک شعر ہے کہ:
لاکھوں میں جگر اس نے پہچان لیا تم کو
چھپتی ہے چھپانے سے کب آنکھ محبت کی
محولہ بالا شعر میں آنکھ کو بطور ایہام برتا گیا ہے۔ آنکھ کا ایک معنی جو سامنے کا ہے وہ آلۂ بصارت ہے،اس کے علاوہ اس کے کئی معنی اور بھی ہیں۔جس میں دیکھنا،نظر،مشاہدہ،تیور(دیکھنے کا انداز)، پاس، مروت، اشارہ، امید وغیرہ شامل ہیں۔اس شعر کی قرأت سے صاف ظاہر ہے کہ آنکھ آلۂ بصارت کی بجائے نظر یا دیکھنے کے انداز سے منسلک ہے۔یہ شعر ایہام خالص کی عمدہ مثال ہے۔اسی طرح جگر کا ایک اور شعر ہے:
طنز و تعریض کی آخر کوئی حد ہوتی ہے!
آدمی ہوں میرے منھ میں بھی زباں ہے ساقی
محولہ بالا شعر میں زبان کے دو معنی ہیں۔قریب کا معنی آلۂ نطق سے عبارت ہے اور معنی بعید بولنے یا اپنی بات رکھنے سے متعلق ہے۔شعر کا بغور مطالعہ واضح کرتا ہے کہ جگر معنی بعید کو اہمیت دیتے ہیں۔اسی طرح ان کا ایک اور شعر ہے کہ:
قفس کے سامنے بجلی کچھ اس طرح چمکی
نظر میں پھر گئی تصویر آشیانے کی
مندرجہ بالا شعر میں ’قفس‘سے دو معنی مراد لیے گئے ہیں۔قریب کا معنی پنجرے یا قید خانے کے ہیں جبکہ دور کا معنی جسم کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے۔ قفس یعنی متکلم کے جسم یا وجود یا اس کی نظروں کے سامنے جب بجلی چمکی تو اس کے ذہن میں اپنی بے چارگی اور مہاجرت کا احساس قوی ہو گیا اور اسے اپنا آشیانہ یعنی گھر یاد آنے لگا۔یہاں یہ نفسیاتی نکتہ بھی پوشیدہ ہے کہ مہاجرت یا جلا وطنی میں گھر کی شدید آرزو ہوتی ہے اور اس بات کو جگر سے زیادہ اچھی طرح سے کون سمجھ سکتا تھا۔اسی مضمون کو ناصرکاظمی نے یوں بیان کیا ہے:
گھر ایسا کہاں کا تھا ناصر
در بدر ہیں تو یاد آتا ہے
جگر کے کلام میں رعایت لفظی اور مناسبت کی عمدہ مثالیں موجود ہیں۔انھیں شعر کی دروبست کا خاص التزام معلوم تھا۔ان کے یہاں لفظوں کی ترتیب کا خاص ہنر موجود ہے۔وہ لفظوں کی ترتیب میں معنوی اعتبار سے رعایت کا خاص التزام کرتے ہیں ساتھ ہی ساتھ مناسبت سے بھی ان کو گہرا شغف ہے۔ان کی مناسبتیں اور رعایتیں اچھوتی اور نادر ہونے کے ساتھ ساتھ شعرکے آہنگ اور اس کی معنوی جہت سے کلی طور پر منسلک ہوتی ہیں۔کچھ مثالیں ملاحظہ ہوں:
صحرا ہے نہ بستی ہے دریا ہے نہ ساحل ہے
جو کچھ نظر آتا ہے ایک شعبدۂ دل ہے
موت پر حیرانی و حیرت ہی کیا
زندگی خود اک طلسم راز ہے
جب ہمیں مٹ گئے ارمان میں پابوسی کے
خاک پہنچی بھی تو کیا گوشۂ داماں کے قریب
حسن کی سحرکاریاں عشق کے دل سے پوچھیے
وصل کبھی ہے ہجر سا ہجر کبھی وصال سا
یہ ہوائیں، یہ گھٹائیں، یہ فضائیں، یہ بہار
محتسب آج تو شغلِ مے و پیمانہ سہی
مندرجہ بالا مثالیں رعایت لفظی اور مناسبت کو روشن کرتی ہیں۔پہلے شعر میں صحرا،بستی،دریا اور ساحل کی مناسبت آشکار ہے۔اسی طرح دوسرے شعر میں موت اور حیرت کے ساتھ زندگی اور طلسم کی رعایت شعر کی معنویت میں اضافہ کرتی ہے۔تیسرا شعر پابوسی اور گوشۂ داماں کی مناسبت کو روشن کرتا ہے۔چوتھے شعر میں حسن،عشق،وصل اور ہجر کی رعایت و مناسبت قابل دید ہے۔آخری شعر میں ہوا،گھٹا،فضا اور بہار کی مناسبت اور رعایت واضح ہے۔
کلام جگر میں معنی آفرینی یعنی ’ایک پھول کا مضموں ہو تو سو رنگ سے باندھوں ‘کی بھی متعدد مثالیں موجود ہیں۔ ایک شعر ملاحظہ ہو:
عشق کی بدحواسیاں توبہ
بارہا خود مجھے ہنسی آئی
غزل ،واردات عشق کابیانیہ ہے یعنی مضامین عشق کوواقعاتی سطح پر بیان کیے بنا غزل کہنا محال ہے۔’کلیات جگر ‘سے آشکارا ہے کہ جگر احوال عشق کی تجدید کرتے ہیں اور اسے ماقبل کے شعرا کے واردات سے ممتاز کرنے کی سعی میں مشغول نظر آتے ہیں۔ان کا محولہ بالا شعر اس کی عمدہ مثال ہے کہ عشق کی بدحواسیاں عاشق کو رونے پر مجبور کرتی ہیں لیکن یہاں شاعر ان پر ہنسنے کی بات کرتا ہے۔اس نوع کا تجربہ غالب کے یہاں بھی ملتا ہے لیکن جگر کی تخلیقیت جدید ذہن سے قریب ہے۔مضامین عشق سے متعلق چند اشعار جو معنی آفرینی پر دال ہیں ملاحظہ ہوں:
مجھے تھا شکوۂ ہجراں کہ یہ ہوا محسوس
مرے قریب سے ہوکر وہ ناگہاں گذرے
کہاں کا حسن، کہ خود عشق کو خبر نہ ہوئی
رہ طلب میں کچھ ایسے بھی امتحاں گذرے
جہاں وہ ہیں وہیں میرا تصور
جہاں میں ہوں خیال یار بھی ہے
نہیں معلوم کس عالم میں حسن یار دیکھا تھا
کوئی عالم ہو لیکن دل کی حیرانی نہیں جاتی
کلام جگر کو محض جدید غزل سے مختص کرنا اور مکمل طور پر کلاسیکی شعریات سے علاحدہ کرنا ان کے تخلیقی تجربہ سے ناواقفیت کاثبوت ہے۔ہم جگر کے فن پر مکالمہ اسی وقت قائم کر سکتے ہیں جب ہمیں کلاسیکی شعریات کے بنیادی تصورات کا علم ہو۔ظاہر ہے غزل کو غزل کی شعریات سے برطرف نہیں کیا جا سکتا اور جب غزل کی شعریات کے تناظر میں کلام جگر کا مطالعہ کیا جاتا ہے تو جگر کی تخلیقیت کے کئی گوشے ہم پر وا ہوتے ہیں جن کا اندازہ محولہ بالا مثالوں سے بہ آسانی لگایاجا سکتا ہے ۔ واقعہ یہ ہے کہ جگر کا فن انفرادی ہوتے ہوئے بھی اجتماعی ہے اور ہماری کلاسیکی شعریات سے منسلک ہے۔یہ کلیہ ان کے فن کو یا ان کے مرتبے کو کم نہیں کرتا بلکہ ان کے صحیح مرتبہ و مقام کو متعین کرنے میں ہماری رہنمائی کرتا ہے۔مندرجہ بالا مثالیں اس کابین ثبوت ہیں۔
حواشی:
1۔شمس الرحمن فاروقی:تنقیدی معاملات، دہلی:ایم ۔آر۔پبلی کیشنز،2018،ص:136
2۔ایضاً،ص:142
3۔شمس الرحمن فاروقی:اردو غزل کے اہم موڑ،نئی دہلی:غالب اکیڈمی،1997،ص ص:9,8
4۔ایضاً،ص:11
5۔ایضاً،ص:44
6۔ایضاً،ص:37

Dr. Akram Parvez
Assistant Professor & Head Department of Urdu
Hindu College, Moradabad, U.P.-244001
Mob. 7060934642
Email: yasir2050@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

غالب کی فارسی شاعری،مضمون نگار:ملک سلیم جاوید

اردو دنیا،دسمبر 2025: مرزا اسداللہ خاںغالب نہ صرف اپنے عہد کے سب سے بڑے شاعر تھے بلکہ وہ اس دور کی خاص شاعرانہ روایات کے بہترین ترجمان بھی ہیں۔ غالب

ظریف الطبع شاعر: طیش مارہروی ،مضمون نگار:کامران مارہروی

اردو دنیا، اپریل 2026: طیش مارہروی کا تعلق مارہرہ ضلع ایٹہ کے مشہور و معروف کمبوہ خاندان سے تھا۔ پورا نام محمد یوسف حسن تھا۔ فصیح الملک مرزا داغ دہلوی

نند لعل گویا کی فارسی شاعری اور متقدمین شعرا ،مضمون نگار:امیر عباس خان

اردو دنیا، مئی 2026: سترہویں اور اٹھارہویں صدی کے ممتاز عالم، مفکر، ادیب، انشا پرداز اور صوفی شاعرمنشی نند لعل متخلص بہ گویا 1633 میں پیدا ہوئے۔ عہد شاہجہانی میں