پریم ناتھ در کے افسانوں کا علامتی و سماجی مطالعہ،مضمون نگار:سریش کمار

May 19, 2026 0 Comments 0 tags

اردو دنیا، مئی 2026:

کشمیر وہ سرزمین ہے جہاں پہاڑ خاموشی سے آنسو بہاتے ہیں، اور جھیلوں کی لہریں صدیوں پرانے دکھ درد کی کہانیاں سناتی ہیں۔ یہ صرف خوبصورت نظاروں کا نام نہیں، بلکہ علم و ادب کا وہ سمندر ہے جس کی لہریں ہمارے دلوں کو ہمیشہ سے لرزاتی رہی ہیں۔ اس سمندر کا ایک انمول موتی ہیں پریم ناتھ در۔پریم ناتھ در 25 جولائی1914کو سری نگر کے تاریخی علاقے حبہ کدل میں پیدا ہوئے۔سری نگر کی مٹی سے نکلے، جیسے کوئی ستارہ آسمان پر چمکا ہو۔ دیکھتے ہی دیکھتے انھوں نے ادب کی روح کو جاگزیں کر دیا۔ خیالی قصوں کی بجائے انھوں نے اپنے لوگوں کے زخموں کو کاغذ پر اتارا۔ پریم ناتھ در وہ درد بھرے آئینہ تھے جنھوں نے ہمیں خود کو دکھایا۔ ان کے بغیرکشمیر کی ادبی کہانی ایک ادھوری سی آرزو کی طرح، ہمیشہ تکلیف دیتی رہے گی۔ ان کی تحریریں آج بھی ہمارے دلوں میں بسے دکھ کو چھو لیتی ہیں، اور یاد دلاتی ہیں کہ سچا ادب وہی ہے جو روح کو جھنجھوڑ دے۔
پریم ناتھ در سری نگر کی تنگ گلیوں میں پلتا ہوا، ان لمحوں کو دیکھتا رہا جہاں غریبوں کی آہیں آسمان کو چھوتی تھیں اور امیروں کی ہنسی پہاڑوں سے ٹکرا جاتی تھی۔ بچپن کی وہ سانسیں جو برفیلی ہواؤں میں لپٹی ہوئی تھیں، اس کے دل میں ایک آگ جلانے والی تھیں غریبوں کی آواز بننے کی۔کم عمری میں ہی والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا، تو چچا شوجی در نے انھیں اپنے پاس پناہ دی اور پھر دیگر سرپرستوں نے ان کی پرورش کی۔ بچپن کے یہ تلخ صدمے ان کی روح پر گہرے زخم چھوڑ گئے، مگر یہی درد ان کے فکری جہاز کو نئی بلندیوں پر لے گیا اور تخلیقی شعلے کو سمو دیا۔ پریم ناتھ در صاحب نے ایس۔ پی مڈل اسکول فتح کدل سے ابتدائی تعلیم حاصل کی، پھر سری پرتاپ ہائی اسکول سے دسویں جماعت کا امتحان پاس کر کے خوابوں کی طرف قدم بڑھایا۔ ایس پی کالج سری نگر میں بیچلر آف آرٹس کی ڈگری لیتے ہوئے، پریم ناتھ در نے فلسفہ، انگریزی، تاریخ اور اردو کو اپنا شعبہ بنایا۔ یہ مضامین اس کی روح میں گھل مل گئے، جیسے کشمیر کی مٹی میں پھلنے والے چنار کی جڑ۔ لیکن دل کی پکار اور تھی۔ ان کا دل کہتا تھا کہ سماجی انقلاب کی لہر میں بھی روایات کی مہک برقرار رہنی چاہیے۔ ترقی پسند تحریک کے پرجوش حامی تو تھے، لیکن خالی نعروں اور جھوٹی جذباتیت سے دور۔ ان کے نزدیک ادب کا اصل رنگ عام آدمی کی جدوجہد، اس کے دل کی کشمکش اور زندگی کی کچی حقیقتوں میں چھپا ہے ایک ایسی کہانی جو روح کو جھنجھوڑ دے۔ روزگار کی بھاگ دوڑ میں لاہور کے دروازے پر دستک دی جہاں تحریکِ آزادی کی آگ میں شامل ہو گئے۔ پیسے کی تنگی نے انھیں توڑنے کی کوشش کی، مگر وہ اخبارات کے لیے کشمیر کی سیاسی بہار و خزاں پر دل ہلا دینے والے مضامین لکھتے رہے، لاہور میں اردو کے بڑے ادیبوں اور صحافیوں سے ملاقاتیں ہوئیں، جو ان کی روح میں اردو ادب کی محبت کو مزید گہرا کر گئیں۔ یہی لمحات بعد میں ان کے افسانوں میں فکری گہرائی اور وسعت کی صورت میں جھلکے۔ 1940 میں دہلی کے رام لیلا میدان میں ان کی ایک تقریر نے کشمیری پنڈتوں کے دلوں میں طوفان برپا کر دیا۔ اسی جادو سے تدریسی ذمہ داریاں ملیں اور پھر زندگی کا سب سے خوبصورت موڑ آیاللتا دیوی بھٹ سے شادی کا۔ سرکاری نوکری کی بجائے انھوں نے صحافت اور ادب کو اپنا جنون بنا لیا۔ ہندوستان ٹائمز اور اسٹیٹمین (Statesman) جیسے بڑے اخبارات نے ان کی پہچان کو چار چاند لگا دیے۔
اردو افسانے کی تاریخ میں پریم ناتھ در وہ ستارہ ہیں جس نے اسے نئی جہتیں دیں، فکری اور فنی دولت سے نوازا۔ وہ ایک ایسی میراث ہے جو آج بھی دلوں کو چھوتی ہے۔ اگرچہ پریم ناتھ در کی زندگی کا بڑا حصہ کشمیر سے دور گزرا، مگر انھوں نے کبھی اپنے وطن کو دل سے نہ نکالا۔ افسانے لکھنے کا آغاز انھوں نے دیر سے کیا، لیکن جب قلم اٹھایا تو ایسی کہانیاں تخلیق کیں کہ نامور افسانہ نگار بھی دنگ رہ گئے۔
پریم ناتھ در کے افسانے دل کی گہرائیوں سے نکلتے ہیں، جہاں کشمیر کی مٹی کی سانس اور یہاں کے غریب عوام کی آنسو بھری کہانیاں گونجتی ہیں۔ انھوں نے کشمیر کی پھولوں بھری وادیوں کی چمک دمک سے زیادہ ان تلخ سچائیوں کو اجاگر کیا ہے، جہاں معصوم لوگ ظلم کی زنجیروں میں جکڑے کراہ رہے تھے۔ کسانوں کی خستہ حالی کی چیخیں، بے بس کشمیریوں کی بے چینی، اور سیاسی، سماجی، تہذیبی زندگی کی تیز دھڑکنیں یہ سب ان کہانیوں کا جیتا جاگتا ثبوت ہیں، جیسے کوئی درد بھرا گیت گا رہا ہو۔ ان کے کردار تو ہمارے ہی پڑوسی کسان ہیں، جن کی آنکھوں میں خواب ٹوٹنے کی کہانی چھپی ہے۔ افسانے پڑھو تو لگتا ہے زندگی ہمارے سامنے سانس لے رہی ہے، ہنستی، روتی، جدوجہد کرتی ہوئی،پریم ناتھ در کا پہلا افسانوی مجموعہ ’کاغذ کا واسدیو‘ 1947 میں دنیا کے سامنے آیا، دل کو ہلا دینے والے افسانوں کا خزانہ! اسے پڑھ کر پتہ چلتا ہے کہ در نے کشمیر کی سماجی زندگی کو نہ صرف دیکھا، بلکہ اس کے دکھ درد کو اپنے خون میں اتار لیا تھا۔ دوسرا مجموعہ ’نیلی آنکھیں‘1960 میں شائع ہوا۔ ان مجموعوں کے علاوہ اوربھی ان کے بہت سے افسانے رسالوں کے صفحات میں زندہ ہیں، جو آج بھی دل کے زخموں کو چھوتے ہیں۔ ہر افسانہ بیسویں صدی کی ترقی پسند تحریک کا آئینہ تھا غریبوں کی درد بھری کہانیاں، جو پڑھنے والے کے دل کو ہلا دیتی تھیں۔ پریم ناتھ در لکھتا تھا اور اس کی تحریریں کشمیری مٹی کی خوشبو اور جدوجہد کی گرمی لیے ہوئے لوگوں تک پہنچتی تھیں۔اس لیے جگن ناتھ آزاد نے یہ بات بڑے ادب کے ساتھ بیان کی ہے:
’’پریم ناتھ در کا دل سر زمین کشمیر کی محبت سے لبریز تھا اور یہی محبت ان کے افسانوں میں رچی ہوئی نظر آتی ہے۔ انھوں نے کشمیر کے اس حسن کو بھی اپنے افسانوی ادب کے تانے بانے میں سمویا ہے جو قدرت نے فیاضانہ طور پر کشمیر کے لیے وقف کر دیا ہے اور اس افلاس، غریبی، بیکاری اور بے روزگاری کو بھی جس کا مدارا آج تک نہ حکومت ہند کر سکتی ہے اور نہ حکومت جموں و کشمیر۔‘‘
(چناروں کے سائے میں، پریم ناتھ در، ناشر:فنکار کلچرل آرگنائزیشن، سری نگر سن، 1991، ص22)
پریم ناتھ در کہتا تھا کہ میری کہانیاں زندہ لوگوں کی ہیں، جو زنجیروں میں جکڑے ہیں۔مگر قسمت نے آخری موڑ لے لیا 6 ستمبر1976 کو دہلی میں، وہ اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ بیٹوں نے اپنے باپ کی آخری آرزو پوری کی۔ ان کا آخری افسانوی مجموعہ ’چناروں کے سائے میں‘ شائع کیا۔ آج بھی جب سری نگر کی گلیوںمیں کوئی کتاب کھولتا ہے تو پریم ناتھ در کی آواز گونجتی ہے۔ وہ محض ایک افسانہ نگار نہ تھے، بلکہ ایک خواب تھے جو کشمیر کی مٹی سے اگا اور دلوں میں ہمیشہ کے لیے سمایا۔
پریم ناتھ در کے افسانوں کا علامتی و سماجی مطالعہ
اردو افسانوی ادب کی کہکشاں میں پریم ناتھ در ایک ایسا روشن ستارہ ہیں جن کی چمک نے بالخصوص جموں و کشمیر کی ادبی تاریخ کو منور کیا۔ پریم ناتھ پردیسی جیسی قد آور شخصیت کے بعد اگر کسی نام نے عقیدت اور احترام کے جذبوں کے ساتھ دلوں میں دستک دی تو وہ بلاشبہ پریم ناتھ در ہی ہیں۔اردو افسانہ بیسویں صدی میں جن تخلیقی و فکری تجربات سے گزرا، ان میں علامت، استعارہ اور سماجی شعور کو مرکزی حیثیت حاصل رہی۔ خصوصاً تقسیمِ ہند کے بعد اردو افسانہ محض کہانی پن سے نکل کر اجتماعی کرب، تاریخی سانحات، انسانی بے معنویت اور سماجی جبر کے اظہار کا طاقتور وسیلہ بن گیا۔ اس تناظر میں پریم ناتھ در کا نام ایک ایسے افسانہ نگار کے طور پر سامنے آتا ہے جس نے نہ صرف علامتی اسلوب کو فکری گہرائی عطا کی بلکہ سماج کے ان گوشوں کو بھی آواز دی جو عموماً خاموش اور غیر نمائندہ سمجھے جاتے تھے۔
پریم ناتھ در کا تعلق کشمیر جیسے حساس، تہذیبی اور تاریخی خطے سے تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے افسانوں میں کشمیری معاشرہ، اس کی نفسیات، خوف، خاموشی، انتظار اور شکستہ خواب علامتی سطح پر بار بار ابھرتے ہیں۔ ان کے افسانے بظاہر سادہ نظر آتے ہیں، مگر ان کی تہہ میں علامتی معنویت اور سماجی کرب کی ایک پیچیدہ دنیا آباد ہے۔ان کے افسانوں میں خوف، خاموشی، خواب، اندھیرا، انتظار اور اجنبیت جیسی علامتیں دراصل ایک اجتماعی نفسیات کی نمائندہ ہیں۔ ان کی تحریروں نے اردو ادب کے دامن کو نہ صرف نئے موضوعات سے بھرا بلکہ افسانے کے فن کو وہ شاہانہ وقار اور جذباتی گہرائی عطا کی کہ پڑھنے والا خود کو ان کی تخلیق کردہ دنیا کا ایک جیتا جاگتا حصہ محسوس کرنے لگتا ہے۔ ان کے افسانوں میں ’چناروں کے سائے میں‘ چنار سماجی تسلسل کا خاموش استعارہ بن کر ابھرتا ہے، ’نیلی آنکھیں‘ امید کے اس خواب کی نمائندگی کرتی ہیں جو حقیقت کی دہلیز پر آ کر بکھر جاتا ہے، اور کاغذ انسانی وجود کی اس نزاکت کو ظاہر کرتا ہے جو ذرا سی ضرب سے ریزہ ریزہ ہو جاتی ہے۔ یہ سب علامتیں محض فنی ہتھکنڈے نہیں بلکہ قاری کے دل میں اترنے والی ایسی صدائیں ہیں جو اندر تک لرزا دیتی ہیں۔
’کاغذ کا واسدیو‘میں ہیرو کی موت ایک فرد کا انجام نہیں، بلکہ پوری کشمیری جدوجہد کا المیہ بن جاتی ہے۔ایسا المیہ جہاں ہر لفظ سسکی بن کر بہتا ہے۔ یہ علامتی فضا معنویت کے زوال اور انسانی اقدار کی شکست کو چھوتی ہے، اور قاری کو خاموشی کے ساتھ گہرے سوالات میں ڈبو دیتی ہے، جہاں سوچ بھی آنسوؤں میں ڈھل جاتی ہے۔’کاغذ کا واسدیو‘ میں کاغذ کوئی سادہ شے نہیں، بلکہ انسانی وجود کی کربناک ناپائیداری کا دل دہلا دینے والا استعارہ ہے۔ایک نازک سانس، جو ہر پل ٹوٹنے کو ترس رہی ہے۔ واسدیو وہ بے بس انسان ہے، جس کی شناخت تاریخ کی بے رحم آندھیوں، سیاست کے جبر اور سماج کی سنگین زنجیروں میں چپک چپک کر مٹتی چلی جاتی ہے۔بالکل اسی طرح جیسے کوئی نازک کاغذ پانی کی لہروں میں ڈوب جائے، آگ کی لپٹوں میں جل کر راکھ بن جائے، یا وقت کی بے رحم انگلیوں سے چھن چھن کر بکھر جائے۔ ہر سانس میں اس کا درد، ہر نظر میں اس کی بے چینی، ہر لمحہ اس کی خاموش چیخ دل کو چیرتی ہوئی گزرتی ہے۔ ’’واسدیو کی موت… ارے!یہ فرد کی موت نہیں، بلکہ انسانی وقار کی اجتماعی لہو بہا موت ہے، اقدار کی پامال شدہ لاش ہے، امیدوں کی سلگتی ہوئی راکھ ہے، اس کی اندرونی جدوجہدوہ خاموش اذیت جو روح کو کاٹتی ہے، وہ اندر کا ٹوٹا پھوٹا دل جو چیختا ہے مگر آواز نہیں بن پاتا۔‘‘
’’ جب بچے برف پر چڑھنے، اتر نے باہر باہر سے دوسری منزل کی کھڑکی میں کودنے، اچھلنے پھسلنے میں مصروف ہو گئے، واسدیو موقع پا کر گرم زندگی کی جستجو میں چولھے کی طرف دوڑا۔ اس نے دو کانگڑیاں بھر دیں۔ جسم کی رہی سہی گرمی کو ایک موٹی لوئی سے باندھ دیا۔ اس کی بتیسی بھی بجنے لگی اور اس کی ہڈی ہڈی کا درد بولنے لگا۔ لیکن اس نے چیخوں کو ایک بھنبھناہٹ میں دبایا جس کو سن کر تلسی اور موہن اندر دوڑے آئے اور کالی لوئی میں موٹے بھورے کو دیکھ کر ہنسی سے لوٹ پوٹ ہونے لگے۔تلسی اور موہن کو ہنستے دیکھ کر واسدیو کی سانس ایک لمحے کے لیے رک گئی۔ پھر اس نے بھنبھناہٹ کو اور تیز کیا۔ اپنے دانتوں کو رہا کر کے خوب بھایا اور تلسی، موہن کو اور ہنسایا لیکن کئی آہنی ہاتھ اس کی ہڈیوں کو ڈھوڑ رہے تھے، اس کی رگ رگ میں چیخ پکار تھی، اپنے بچوں کی ہنسیوں اور اپنی بھنچی ہوئی چیخوں کے درمیان اس نے پہلی بار ایک خلیج دیکھی۔دور کمان کو کاغذ بغیر لہراتے دیکھا۔ پہلی بار اس نے چاہاکہ وہ اکیلا رہے۔ چیخے، روئے اور وہ ہنستے ہوئے دونوں آنگن میں چلے جائیں جہاں پڑوس کے اور بچے جمع ہو گئے تھے تلسی اورموہن کو للکار رہے تھے۔ برف کی جنگ کھیلنے آئے تھے۔ لیکن تلسی کو برف کے گولے کون بنا کے دیتا۔ دوسرے بچے اس سے بڑے تھے۔ وہ خود برف تیز تیز اٹھا سکتے تھے اور گولے بنا سکتے تھے۔ واسد یونے دیکھا کہ دردوں کے پیچھے واسد یو ابھی جی رہا ہے اور کسی کو اس کی سخت ضرورت ہے۔ اس کے تہ خانوں سے ایک ابال اٹھا جس نے اس کی ہڈی ہڈی کو لپیٹا اور وہ اٹھا۔ اس نے ایک جھٹکے میں آپ کو کانگڑیوں سے الگ کیا۔ لوئی اتار دی اور آنگن میں تلسی کا مورچہ لگا دیا۔ تلسی دھڑ ادھڑ گولے برسانے گئی۔ واسدیو کی ایک ایک ہڈی ٹوٹنے لگی۔ گولہ اور ہڈی، ہڈی اور گولہ، واسدیو اپنے گولے بناتا گیا اور چلاتا گیا۔‘‘
(کاغذ کا واسدیو اور دیگرا فسانے، پریم ناتھ در،ص116)
واسدیو کے لیے ’برف‘ اب صرف ٹھنڈک نہیں بلکہ اس کی زندگی میں جمی ہوئی بے بسی اور خاموشی کی علامت بن چکی تھی، جسے اسے اپنے جذبوں کی تپش سے پگھلانا تھا۔ اس نے محسوس کیا کہ اس کے دکھ اور بچوں کی خوشی کے درمیان حائل ’خلیج‘ دراصل اس کی اپنی انا اور بیماری کا خوف ہے۔ جیسے ہی اس نے جھک کر برف سے گولے بنائے، اس نے علامتی طور پر اپنی موت کے جمود کو توڑ کر زندگی کی حرارت کو چن لیا۔ یہ عمل ظاہر کرتا ہے کہ انسان کا حوصلہ اپنی تقدیر کے منجمد فیصلوں کو بھی پگھلا سکتا ہے۔ یوں، اس نے برف کی صورت میں موجود تلخی کو بچوں کے لیے مسکراہٹ کے کھیل میں بدل دیا۔پریم ناتھ در نے سماجی دکھ کو اس طر ح محسوس کیا:
’’ اچانک مجھے ایسا لگا کہ میری سانس رک گئی۔ ہاں۔ میں مرگیا ہوں شک کی کوئی وجہ نہیں تھی کیونکہ میرے کان رونے کی آوازیں صاف سن رہے تھے۔ یہ خیال کہ موت اٹل ہے دماغ سے اٹھ کر جیسے دل میں آکر رک گیا۔ دل بھر گیا اور میں بھی رونے لگا۔ اب مسئلہ یہ تھا کہ میرا رونا کوئی بھی نہیں سن سکتا تھا۔ اس لیے میں نے رونے کو بے قائدہ سمجھا اور یہ جو سننے سمجھنے کی قوت باقی تھی اسی کا فائدہ اٹھانا چاہا سوچا کہ دیکھوں کہ میرے مرنے پر کون کون رو رہا ہے۔ زیادہ دکھ کسے ہوا ہے اور دیکھوں تو کس کس کو میں پیارا تھا۔
بچوں کا رونا کبھی اونچا ہو جاتا، کبھی بالکل مدہم ہو جاتا۔ ظاہر ہے کہ انھوں نے بات کو پوری طرح نہیں سمجھا تھا۔ وہ بڑوں ہی کے پیچھے ایسے چلتے تھے جیسے استاد کے پیچھے۔ مجھے ان پر رحم آیا کہ بے چارے پوری طرح نہیں جانتے کہ ان کو میرے کتنے فائدے ہیں۔ ایک اور آدمی منھ پھٹے ڈھول کی رو رہا تھا اور زیادہ تر آدمی بچوں کی رہنمائی کر رہا تھا۔ یہ کون تھا، میں سمجھ نہ سکا۔ وہاں میری بیوی بھی رو رہی تھی۔ لیکن ایسا لگتا تھا کہ اسے سننے والوں کا ڈر ہے کہ کہیں اس کی آواز عجیب سروں میں نہ نکلے کہ اسے سماج میں جینا ہے کہ اوروں کے لیے کہیں وہ ناٹک کا سین نہ بن جائے، لیکن بڑھیاماں کا روناایسا تھا جیسے اسی کا سب کچھ کھو گیا ہو اور اس نے اس قسم کا شور مچا رکھا تھا کہ بہنیے کی ذرا سی بھی امید ہوتی مجھے بھی شرم آتی۔ وہ ڈاکٹروں، نرسوں اور بھگوان کو بری طرح جھنجھوڑ رہی تھی اور پھر کچھ ایسی کی آواز آنے لگی کہ لوگ بڑھیا کو گھینٹے لیے چاہتے ہیں…
ماں نے دیواروں کو پھاڑ کر مجھے پکارا اور میں ایک جھٹکے میں اٹھ بیٹھا بیٹھتے ہی میں نے دل کے آس پاس ایک شدید درد محسوس کیا۔‘‘
(فائدہ بے قاعدہ،پریم ناتھ در،ص 48,49)
پریم ناتھ در کا یہ اقتباس سماجی رویوں کی ایک انتہائی گہری اور تلخ تصویر کشی کرتا ہے۔ موت کے بعد یا موت کے تصور کے دوران کے اس مشاہدے میں مادی حقیقتوں سے زیادہ جذباتی سچائیاں نمایاں ہیں۔ پریم ناتھ در نے اس مختصر ٹکڑے سے یہ ثابت کیا ہے کہ انسان جیتے جی جن رشتوں پر ناز کرتا ہے، موت کے آئینے میں ان کی حقیقت مختلف نظر آتی ہے۔ صرف ماں کا رشتہ ہی ایسا ہے جو سماجی دکھاوے اور مادی مفاد سے پاک دکھایا گیا ہے۔
افسانہ’نیلی آنکھیں‘میں پریم ناتھ در نے کشتی کو ایک گہری علامت کے طور پر استعمال کیا ہے۔یہ کشتی زندگی، سفر اور غیر یقینی حالات میں انسان کی جدوجہد کی نمائندہ بن کر سامنے آتی ہے۔اسی طرح پریم ناتھ در کے افسانوں میں برف، ڈل جھیل اور کشتی بار بار علامتی حیثیت اختیار کرتے ہیں۔یہ علامتیں کشمیر کے فطری منظرنامے کے ساتھ انسانی کرب اور سماجی حقیقت کو جوڑ دیتی ہیں:
’’کشمیری فرکارے کے سامنے ایسی کو کشتی بھی نہیں کہا جا سکتا۔ شکارے کے ساتھ اس کا کیا مقابلہ؟ شکارے ایک کشش کولے کے چلتے ہیں۔ پردوں، گدوں، اسپرنگوں کی لوریاںلے کر شائستہ سیاحوں کے لیے پر ذوق شیدائیوں کے لیے، تھکے ہوئے انسانوں کے لیے اور یہ چیز تو ڈل کی محض سبزیاں اٹھانے کو مچھلیاںلے جانے کو پانی کا پڑوسی جھل کا جفاکش کسان گھردرے تختوں سے بنا لیتا ہے اور کم بخت اس کے مہروں پر لو ک تک نہیں رکھتا۔ اسی لیے ایسا لگتا ہے کہ اس پر دونوں سروں سے نہ جانے کس کی مار پڑی ہے۔ اور اس لیے یہ دور سے ایک کشتی نہیں ایک دھبہ دکھائی دیتی ہے۔
طوفان کا ایک واضح اعلان تو ہو چکا تھا لیکن طوفان اپنے پہلے قدموں پر ہی جما رہا۔ یوں تو اپنے ایک اشارے سے ہی ڈل نے اپنا میدان خالی کروا دیا تھا‘‘(نیلی آنکھیں،پریم ناتھ در،ص12,13)
پریم ناتھ درنے محض کہانی نہیں بلکہ تقسیم، غربت، جنس، اور طاقت کے باہمی رشتوں کا گہرا سماجی متن پیش کیا ہے:
’’اسے پگڑی کے طرے کو پیچھے کی طرف پھینکنا یاد نہ رہا۔ کیونکہ دوا خانے میں آج ایک نئی بات ہوئی تھی۔یوں تو بات معمولی تھی۔ لیکن تھی نئی۔ دھنی رام کے ڈاکٹر نے بل میں سے آٹھ آنے کم کر دیے تھے۔ مریضہ نے درد سر کی شکایت کی تھی۔ جوڑوں کے دکھنے کی قے آنے کی، دستوں کی، بخار کی اور اس بات کی کہ وہ ’رھُپو جن‘ہے اور ڈ اکٹر خود ایک پرکار رفیوجی ہوتے ہوئے بھی ایک آن میں موم ہو گیا تھا اور وہ یہ دیکھ بے چین ہوا جا رہا تھا کہ لفظ ’رفیوجی ‘ یا ’رپھوجن‘ میں کوئی جادو ضرو ر ہے۔ جو اس کے ڈاکٹر پر بھی کارگر ہو گیا:
’’رپھوجن۔؟ ہے ذرا دیکھو تو سہی وہ ان بوتلوں سے ہی آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر پوچھنے لگا۔ نک لیں، کڑے، ٹاپس، سونے کی چوڑیاں ’رپھوجن ‘اور آٹھ آنے۔ لیکن بوتلیں جیسے بولنے لگیں کیا ہے۔ یہ تھوڑا سا سونا؟ لے کے کب تک اسے چاہیں گے اور پھر عورت یہ چیزیں اسے جان سے بھی پیاری ہوتی ہیں۔ کھانے کو طے نہ ملے۔ یہ تو سہاگ ہو ا سہاگ…. سہاگ ایک بوتل میں سے جیسے تیزاب اُچھلا اور دھنی رام کے اندر اترنے لگا۔ اترتا گیا اور کھودتا گیا۔ وہ بھی! خود وہ بھی تو کسی کا سہاگ تھا!!!‘‘(نیلی بو تل، پریم ناتھ در،ص351)
پریم ناتھ در بتاتا ہے کہ تقسیمِ ہند کے بعد کا سماج اندر سے کتنا ٹوٹا ہوا ہے۔ مہاجر ہونا انسان کی عزتِ نفس کو زخمی کر دیتا ہے، وہاں انصاف کی جگہ صرف ترس رہ جاتا ہے۔ ڈاکٹر اور طبی نظام بھی سماج کے دباؤ میں آ کر انصاف نہیں کر پاتے اور ان کی اخلاقی کمزوری سامنے آجاتی ہے۔ عورت کے زیورات یہاں صرف سینگار نہیں بلکہ اس کی عزت، تحفظ اور بیوی ہونے کی پہچان کی علامت بن جاتے ہیں۔ دھنی رام کے دل کی گھبراہٹ سے مرد کی خود پسندی، اس کا خوف اور اس کے ضمیر کی لڑائی صاف نظر آتی ہے۔ اس سارے متن میں اصل بیماری جسم کی نہیں بلکہ سماج کے اندر کی اخلاقی اور طبقاتی سڑن ہے، جو تقسیم کے بعد کے عہد کا سب سے بڑا دکھ ہے۔
پریم ناتھ در کے افسانوں کو غور سے پڑھیں تو احساس ہوتا ہے کہ ان کے یہاں ٹوٹے ہوئے رشتے صرف چند افراد کے ذاتی دکھ نہیں ہیں، بلکہ پورے سماج کی ٹوٹ پھوٹ کا نشان بن جاتے ہیں۔ ان کہانیوں میں بکھرتے ہوئے تعلق ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ ہمارا سماجی نظام اخلاقی طور پر کمزور ہو چکا ہے، انسان کی قدر گھٹ گئی ہے اور لوگ اندر سے ہار مان چکے ہیں۔ پریم ناتھ در کے افسانوں میں رشتہ صرف خون، خاندان یا معاشرے کا نام نہیں بلکہ انسان کی پہچان، اس کے تحفظ اور اس کی اندرونی زندگی کا سہارا بن کر سامنے آتا ہے۔ جب یہی رشتہ ٹوٹ جاتا ہے تو انسان باہر سے جیتا ہوا نظر آتا ہے، مگر اندر سے بالکل خالی اور اجڑا ہوا محسوس ہوتا ہے۔پریم ناتھ در علامت کو کسی فنی کرتب کی طرح استعمال نہیں کرتے، بلکہ اسے زندگی کی اصل سچائی دکھانے کے لیے برتتے ہیں۔ ’کاغذ‘، ’برف‘،’ نیلی آنکھیں‘، ’خاموشی‘، ’موت‘ اور ’انتظار‘ جیسی علامتیں صاف بتاتی ہیں کہ کشمیری سماج میں انسان کی زندگی کتنی نازک، غیر محفوظ اور ڈر سے بھری ہوئی ہے۔ افسانہ ’کاغذ کا واسدیو‘ میں مرکزی کردار کی موت صرف ایک شخص کا انجام نہیں رہتی، بلکہ پوری انسانیت کے احترام کے مرنے کا نشان بن جاتی ہے۔ اسی طرح ’فائدہ بے قاعدہ‘ اور ’نیلی بوتل‘ میں رشتوں کا ٹوٹ جانا یہ کھول کر رکھ دیتا ہے کہ سماج میں دکھاوا، خود غرضی اور طبقاتی ظلم کس طرح آہستہ آہستہ انسانیت کو کھوکھلا کر رہے ہیں۔ان کہانیوں میں ماں کا رشتہ واحد تعلق ہے جو ہر دباؤ، ہر ڈر، ہر رسم اور ہر خود غرضی سے اوپر اٹھا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ پریم ناتھ در کے یہاں ماں انسان کی سچائی اور محبت کی آخری پناہ گاہ بن کر سامنے آتی ہے، جب کہ باقی رشتے وقت، حالات اور مفاد کی مار کھا کر کمزور پڑ جاتے ہیں۔ یوں ان کے افسانے ہمیں اس کڑوی سچائی سے آشنا کرتے ہیں کہ جدید دور میں انسان کی سب سے بڑی محرومی تنہائی ہے وہ تنہائی جو بھیڑ میں گھرا ہونے کے باوجود دل کے اندر بسی رہتی ہے۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ پریم ناتھ در کے افسانے صرف ترقی پسند سوچ کی نمائندگی نہیں کرتے، بلکہ وہ انسان کے دکھ، اس کے ٹوٹے ہوئے رشتوں اور اس کے خاموش احتجاج کی ایک علامتی تاریخ ہیں۔ ان کی تحریریں آج بھی قاری کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیتی ہیں کہ کہیں ہم نے سماج بنانے کی دوڑ میں خود انسان کو ہی پیچھے تو نہیں چھوڑ دیا؟ یہی کربناک سوال ان کہانیوں کو زندہ رکھتا ہے، اور یہی سوال پریم ناتھ در کی اصل ادبی عظمت کا ثبوت بن جاتا ہے۔

Suresh Kumar
Research Scholar, Central University of Kahsmir
Ganderbal- 191201 (J&K)
Mob.: 8492939325
suresh939325@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

جیلانی بانو: بحیثیت افسانہ نگار،مضمون نگار: فیضان الحق

اردو دنیا،اپریل2026: جیلانی بانو اردو ادب کی تخلیقی دنیا کاایسا نام ہے جس نے ایک لمبا سفر طے کیا۔ 14جولائی 1926کو بدایوں میں پیدا ہونے والی یہ تخلیق کار 1

رابندر ناتھ ٹیگورکی افسانہ نگاری ،مضمون نگار:سراج انور محمد میراں

اردو دنیا،مارچ 2026: ہندوستانی ادبیات میں اردو اور بنگلہ ادب کو امتیازی حیثیت حاصل ہے۔ بنگلہ زبان تقریباً سوسے زیادہ بولیوں کوملاکرایک زبان کی شکل میں وجودمیں آئی۔ اسی طرح

شمس الرحمن فاروقی کے افسانے : ہند ایرانی تہذیب کابیانیہ ، مضمون نگار: محمد ارشد

اردو دنیا،نومبر 2025 شمس الرحمن فاروقی نے ادبی دنیا میں نقاد اور جدیدیت کے بنیاد گزار کی حیثیت سے اپنی منفرد شناخت قائم کی۔ افسانے اور ناول کی شکل میں