تلخیص
موجودہ وقت میں انسان نے سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میںہزارہا حیرت انگیز انکشافات وایجادات کر کے دنیا کے پورے منظر نامے کو بدل کر رکھ دیا ہے لیکن اس قدر عروج وبلندی حاصل کر لینے کے بعد بھی وہ ذہنی اور روحانی طور پر آسودہ حال اور مطمئن نظر نہیں آتا، بلکہ یک گونہ خلش، اداسی اور مایوسی مسلسل اس کو اپنی گرفت میں لیے ہوئے ہے، جس کو ختم کرنے کا بظاہر کوئی راستہ اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا ہے اور یہی سبب ہے کہ آج کا انسان تمام تر آسائشوں اور راحتوں کے باوجود بھی طرح طرح کے ذہنی اور نفسیاتی مسائل میں الجھ کر رہ گیا ہے،موجودہ دور کی بحرانی صورت حال کے پیش نظر، اپنی روح کے اس انتشار کو فرو کرنے، قلبی طمانیت حاصل کرنے اور آسودہ حال زندگی گزارنے کے لیے ہمیں اپنے اسلاف کے علمی وادبی سرمایہ کی طرف رجوع کرنا بے حد ضروری بلکہ لازم ہو گیاہے، اس کی مدد سے ہم انسانی نفسیات، تہذیبی نظام اور سماجی ابتری کو درست کرنے میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں، قلبی طمانیت، روحانی آسودگی اور ذہنی لطافت کا گرانقدر سرمایہ ہمیں اپنے بزرگوں کی شاعری میں بڑی کثرت کے ساتھ دیکھنے کوملتاہے، جس کی مدد سے معاشرے کی بہت سی برائیوں کو فرو کرنے میں کامیابی حاصل ہو سکتی ہے۔ اس سلسلے میں ہمیں مغل شہزادے محمد دارا شکوہ کے منظوم و منثور کارناموں سے خصوصی مدد مل سکتی ہے، دارا مغل شہزادوں کی پوری تاریخ میں سب سے زیادہ بیدار مغز شہزادہ،نادر العصر عالم، قد آور شاعر اور صوفی منش انسان تھا، اُس کاتمام تر اعتبارو اعتماد اس متصوفانہ تعلیمات پرتھا، اس نے اپنے شاعرانہ افکار وخیالات کی مدد سے نہ صرف اس ملک کے لوگوں بلکہ پوری انسانیت عالم کو انسان اور زندگی سے عشق کا درس دیا،اس نے اپنے شاعرانہ نغموں سے پورے عالم کو تسخیر کر لیا اور نہایت آسان، سلیس اورمختصر الفاظ میںوہ تمام متصوفانہ عقائد اوراخلاقی نکات نظم کر دیئے ہیں جو دین ودنیا کی سعادت مندی کے ضامن بن جاتے ہیں،اس شاعر عالی کے یہاں عالمی اخوت کی کوشش، جبرواستحصال سے نجات، ظلم کے خلاف تاکید اوربشر دوستی وغیرہ جیسے سینکڑوں اخلاقی اور صوفیانہ موضوعات نظم کیے گئے ہیں جن کی مدد سے آج کے غیر مطمئن اور بے سکون انسان کوراحت وشادمانی کے کچھ لمحات ضرور میسر آ سکتے ہیں اور وہ ان تعلیمات پر عمل پیرا ہوکر ایک کامیاب وکامران زندگی گزاری جا سکتی ہے اس شہزادے نے ہر اس موضوع کو اپنے کلام میں پیش کیا ہے، جوانسان کو تیزی کے ساتھ زوال کی طرف کھینچے لیے جا رہی ہیں اور اس انداز سے پیش کیا ہے کہ عالمی ادب میں اس کی مثال مل پانا مشکل ہے۔
کلیدی الفاظ
دارا شکوہ، عصر حاضر، اخلاقی مضامین، تصوف وعرفان، ذہنی مسائل، ماہر نفسیات، انحطاط، مفاد پرستی، راحت وسکون، تفریق و تغافل، بغض وعناد، ضبط نفس، یکجہتی، اشغال، ضبط نفس، روحانی طمانیت، تنوع،معنویت۔
————
عصر حاضر کا انسان جس تیزی کے ساتھ ترقی کی منازل طے کر رہاہے اس سے دو گنا زیادہ تیزی کے ساتھ وہ اخلاقی پستی میں بھی گرتا چلا جا رہا ہے، ایک طرف توانسانی فکر، ہر لحظہ اس کائنات کے اسرار ورموز کو منکشف کرنے میں منہمک وسرگرداں ہے،تو وہیں دوسری طرف وہ روحانی اور ذہنی مسائل میں بھی تیزی کے ساتھ مبتلا ہوتا چلا جا رہا ہے، جدید دور میں سرابھارنے والے یہ ذہنی، اور نفسیاتی مسائل اس کی زندگی کو اجیرن بنائے ہوئے ہیں، ان مسائل کو آج کے وقت میں ڈپریشن، ٹینشن اور انزائٹی وغیرہ جیسے اور بھی کئی ناموں سے جانا جاتاہے، یہ الفاظ بہت تیزی کے ساتھ ہماری روز مرہ کی زندگی میں شامل ہوتے چلے جا رہے ہیں اور ہم لاکھ چاہ کر بھی اپنا دامن ان سے بچا نہیں پارہے ہیں، گزرتے وقت کے ساتھ مادی چیزوں کو حاصل کرنے کی چاہت کے سبب ہمارے مسائل کی فہرست بھی مسلسل طویل ہوتی چلی جا رہی ہے، اگر ماہرین کی مانیں تو انسانی زندگی میں ظہور پذیر ہونے والے بیشتر ذہنی ونفسیاتی مسائل کی سب سے بڑی اور بنیادی وجہ اس دنیا کی فانی چیزوں سے غیر معمولی لگائو اوردل بستگی ہے جو انسان کو کسی بھی وقت راحت وسکون کے لمحات میسر نہیں آنے دیتیںاور وہ ان کے حصول کے لیے دن ورات سرگرداں اور پریشان رہتاہے، اور یہ مادیت پرستی انسان کو تیزی کے ساتھ زوال وانحطاط کے راستے پر لے جا رہی ہے۔
انسان کی بے حسی، انا پرستی اور خود غرضی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ وہ درست ونادرست اور جائز وناجائز کے درمیان کے فرق کو بھی فراموش کر چکا ہے اوریہی وجہ ہے کہ آج پوری دنیا کی اخلاقی اقدار خطرے میں پڑ گئیں ہیں، اور ہمارا معاشرہ تیزی کے ساتھ زوال وانحطاط کے راستے پر گامزن ہے آپسی محبت واخوت، قومی یکجہتی وہم آہنگی، مجموعی ترقی وخوشحالی کی جگہ، ذاتی خود غرضی ومفاد، قتل وغارتگری، انتشار اور خلفشارکا بول بالا ہو رہا ہے اس صورت حال کو ختم کرنے کے لیے،اس وقت انسانی یکجہتی، آپسی اتفاق اور اجتماعی وابستگی کی اشد ضرورت ہے اور اس کو قائم کرنے کے لیے ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے ذاتی مفاد اورشخصی ترجیحات کو بھلا کرنہ صرف اپنی زندگی کو سنوارنے اورنکھارنے کی کوشش کریں بلکہ اپنے ملک کی ترقی وپیش رفت میں بھی مثبت کردار ادا کریں،اور اعلیٰ انسانی اقدار کو اپنا نصب العین بنائیں، اور ایک پر سکون وپرمسرت زندگی گزارنے کی طرف متوجہ ومائل ہوں اور اس کے لیے پوری سنجیدگی اور دیانت داری کے ساتھ عملی اقدامات بھی اٹھائیں۔ہماری بدقسمتی ہے کہ آج ہم ایک ایسے معاشرے میں زندگی گزار رہے ہیں جہاں انسان طرح طرح کے ذہنی وروحانی مسائل سے نبرد آزما ہے اور تعجب کی بات تو یہ ہے کہ اس کو یہ احساس بھی نہیں ہے کہ اس نے اپنے لیے بربادی کا کون سا راستہ اختیار کیاہے، حقیقی خوشیوں اور مسرتوں سے محروم آج کاانسان ایک ایسے راستے پر گامزن ہے جہاں سوائے ناکامی ونامرادی کے کچھ اور حاصل نہیں کر پا رہاہے، روزبروز بڑھتے مسائل بلکہ مصائب نے اس کی زندگی کو خود اس کے لیے ہی ایک ناقابل برداشت بوجھ بنا دیا ہے ایسی بحرانی صورت حال میں جب کہ انسانی اقدار کی پامالی اور اخلاقی قدروں کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے، ہم پر آشوب دورمیں حقیقی مسرتوں اور شادمانیوں کو حاصل کرنے کی جانب کوشاں ہوں تاکہ اس افراتفری سے بھرے ماحول کو سازگار بنایا جا سکے ہم ان چیزوں کو تلاش کریں جو ہمیں ذہنی آسودگی اور قلبی سکون اور روحانی طمانیت بخشنے والی ہوں۔
وطن عزیز میں امن و اتحاد قائم کرنے اور ایک پرسکون وشاداں زندگی گزارنے کے سلسلے میں ہمیں مغل شہزادے محمد دارا شکوہ کی شاعری اور اس کی انتھک محنت سے تیار کیے گئے منثور کارناموں کے علاوہ منظوم آثار سے بھی خصوصی مدد مل سکتی ہے جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ دارا شکوہ مغل شہزادوں کی پوری تاریخ میں سب سے زیادہ بیدار مغز وذہین، عالم وفاضل اور صوفی صافی شہزادہ تھا۔ اُس کاتمام تر اعتماد واعتبار اس تصوف پر تھا، جس میں ہندوستان کی مشترکہ تہذیب کی مٹی کی خوشبو رچی بسی ہوئی ہے، جس نے نہ صرف اس ملک کے لوگوں بلکہ پوری عالم انسانیت کوبشر دوستی اور زندگی سے عشق کرنے کا حسین وخوبصورت درس دیا۔ اس شہزادہ بزرگ نے اپنی آفاقی تحریر وں کی مدد سے عام انسانوں کو خالقِ کائنات اور اور مخلوق کائنات کے اصل اور حقیقی رشتوں کی درست قدر و قیمت سمجھائی اور بتایا کہ زندگی صرف دنیاوی نفع یا نقصان حاصل کرنے کا نام نہیں ہے بلکہ اس کا مقصد تو بہت اعلیٰ وارفع ہے جس کو ہم اپنی کوتاہ نظری کے سبب سمجھ ہی نہیں پاتے ہیں اور نتیجہ یہ ہوتاہے کہ یہ زندگی صرف ایک تماشہ بن کر رہ جاتی ہے جسے انسان بس ایسے ہی برباد کر کے چلا جاتاہے۔ اب ہم ذیل میں دارا شکوہ کی ان شاعرانہ خدمات کا جائزہ لینے کی کوشش کریں گے جن کی مدد سے عصر حاضر کے اس حبس زدہ اور اخلاقی اقدار سے محروم معاشرے کو بہتر بنانے میں خصوصی مدد مل سکتی ہے اور ایک آئیڈیل سماج بنانے کا ہمارا یہ خواب شرمندئہ تعبیر ہو سکتاہے۔
شہزادہ دارا شکوہ ابتدا ہی سے ایک باصلاحیت مصنف، ہنر مندشاعر، سنسکرت وعربی وفارسی زبانوں کا بہترین اسکالر اور ان سب سے بڑھ کر ایک عظیم بشر دوست انسان تصورکیا جاتارہا ہے اس قدآور شاعر اور نثر نویس صوفی شہزادے نے اپنی مختصر سی زندگی میں جو کارہائے گرانقدر انجام دیئے ہیں ان کا اعتراف ہر دور میں کیا جاتا رہاہے اور موجودہ حالات کے پیش نظر تو اس انسانیت دوست شہزادے کے افکار وخیالات کی معنویت واہمیت کئی گنا بڑھ چکی ہے۔ دارا شکوہ سماجی ہم آہنگی، آپسی رواداری اور مذہبی اتحاد کا علم بردار تھا، دارا شکوہ کے کلام کا بیشتر حصہ تصوف وعرفان پر مشتمل ہے جس میںاس نے ایک صوفی صادق اور عارف کامل کی طرح انسانی اخلاق وکردار کودرست کرنے پرسب سے زیادہ زور دیا ہے اور راہ راست سے بھٹکے ہوئے لوگوں کو روشنی کی ایک کرن دکھائی ہے دارا شکوہ کی اخلاقی اور صوفیانہ شاعری کے متعلق اظہار خیال کرتے ہوئے پروفیسر شاہد نوخیز اعظمی رقم طراز ہیں:
’’دارا شکوہ کی شاعری حقیقتاًاس کے صوفیانہ خیالات کی ترجمان ہے، تصوف کے علاوہ اخلاقیات کا بھی عنصر اس کی شاعری میں خاصا نمایاں ہے وہ اخلاق وآداب کے ان متعدد اصولوں کو جا بجا پیش کرتا ہے جن کا شمار زندگی کی ہمہ گیر اقدار میں ہوتا ہے ۔‘‘ 1؎
ہمارے بعض دانشوران ادب کا یہ بھی کہنا ہے کہ دارا شکوہ کا شاعرانہ کلام اس کے منثور کارناموں کی طرح بہت زیادہ اہمیت وافادئیت کا حامل نہیں ہے اور اس کی بیشترفارسی شاعری تغزل اور شعریت سے عاری ہے جس کی وجہ سے اس کے کلام میں کوئی خاص دلکشی، رنگینی اور رعنائی نظر نہیں آتی ہے اور اس شہزادے نے اپنے کلام یا دیگر تصانیف میں تصوف وعرفان کی جن اعلیٰ اقدار وروایات کو پیش کرنے کی کوشش کی ہے وہ بھی کسی مخصوص ضابطہ فکر کی طرف ہماری کوئی خاص رہنمائی نہیں کرتاہے اس لیے اس کے کلام کو معاصرین میں کوئی اعلیٰ مقام ومرتبہ نہیں دیا جا سکتاہے، جیساکہ وکرما جیت داراکی شاعری کے متعلق اظہار خیال کرتے ہوئے کہتے ہیں:
’’دارا شکوہ کی شاعری کا مطالعہ یہ حقیقت واضح کرتا ہے کہ اسے تصوف اور فلسفہ نیز مختلف مذاہب کے تقابلی مطالعہ کا بہت شوق تھا، ان موضوعات کے علاوہ وہ اخلاق کا درس بھی شعوری یا غیر شعوری طورپر ضمناً آ گیا ہے لیکن تصوف کی جس منزل پر پہنچا ہے وہ کسی اکتساب یا غور وفکر کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ محض اس کی ذکاوت ذہن کی پیداوار ہے… مختلف مذاہب کے مطمح نظر کو یکساں ثابت کرنے کی کوشش میں جو ذہنی انتشار پیدا ہواہے، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس کے فکرونظر میں کوئی انفرادیت وارتباط قائم نہ رہ سکا اور یہی وجہ ہے کہ اس کی شاعری میں تفکر کا فقدان ہے،خالص ادبی نقطہ نظر سے بھی اس کی شاعری شاعرانہ خوبیوں سے عاری ہے اور مشکل ہی سے اس کی غزل میں ایک دو شعر ا ایسے ملیں گے جن میں واقعی شاعرانہ تخیل کی جھلک موجود ہو اور یہ کہنا تو بالکل بے جا نہ ہوگا کہ اس کی شاعری تغزل سے بالکل نا آشناہے۔‘‘ 2؎
دارا شکوہ کی شاعری سے متعلق کم وبیش اسی قسم کے خیالات کا اظہار ہمیں احمد نبی حادی کے یہاں بھی دیکھنے کو ملتا ہے۔ انھوں نے بھی وکرما جیت کی طرح دارا کے ہمہ کلام کو سطحی و غیر اہم اور تخیل،نکتہ آفرینی واثر پذیری سے عاری قرار دیا ہے اور ادبی وفنی اعتبارسے بھی اس صوفی شاعر کے کلام کو کسی بلندیا اعلیٰ مقام پرفائض نہیں کیا ہے، احمد نبی حادی دارا شکوہ کی شاعری کے متعلق اظہار خیال کرتے ہوئے کہتے ہیں:
’’حقیقت یہ ہے کہ اس کی شاعری شاعرانہ جذبات اور لطافت زبان کے اعتبار سے بالکل بے جان ہے، یہی وجہ ہے کہ اسے ہم عصر نیز متاخر شعرا کی صف میں کوئی جگہ نہیں مل سکی۔ اس کے دور میں لوگ عرفی، نظیری، طالب آملی، کلیم کاشانی، قدسی، فیضی وغیرہ کے تغزل وآہنگ کے دلدادہ تھے اور ان ممتاز شعرا کا رنگ لوگوں کے ذہنوں کے بے انتہا متاثر کیے ہوئے تھا، مغل شہزادوں اور شہزادیوں کی شاعری کا موضوع بھی، جیسا کہ متعدد تذکروں میں مندرج ان کے منتشر اشعار سے معلوم ہوتا ہے، انھیں شعرا جیسا تھا، غیر دلچسپ اسلوب کی وجہ سے دارا شکوہ کی شاعری کو قبول عام حاصل نہ ہو سکا۔ ‘‘ 3؎
یہ درست ہے کہ دارا شکوہ نے، اپنے کلام میں بھلے ہی روایتی شاعروں کی طرح الفاظ ومعانی کی رنگین دنیا کی سیر نہ کرائی ہواور اس کے یہاں تغزل کے بہترین یا اعلیٰ نمونے نہ دکھائی دیتے ہوں، باایں ہمہ اس حساس شاعر کے کلام کی بے پناہ اہمیت وافادیت کو پوری طرح نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے، البتہ اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ دارا کے علمی وادبی آثارمیں اتنا زیادہ تنوع اور ہمہ گیری پائی جاتی ہے کہ اس کی شاعری پر بہت زیادہ توجہ صرف نہیں کی گئی ہے اور اس کو تغزل سے عاری مان کر اس کو نظر انداز کرنے کی شعوری وغیر شعوری کوشش ضرور کی گئی ہے، جب کہ حقیقت تو یہ ہے کہ اس کی شاعری میں عرفان وتصوف کا ایک بحر بیکراں موجزن ہے جو اس میں شناوری کرنے والوں کو ایسے بیش قیمت در نایاب عطا کرتا ہے جن سے ایک عام انسان ہمیشہ کے لیے مالامال ہو جاتا ہے اور اس کی خاکی ذات کو ایسی آفاقیت و شہرت حاصل ہوجاتی ہے کہ پھرموت بھی اس کو فنا نہیں کر سکتی،اس کے یہاںشعرو شاعری محض لفظ پرستی کا نام نہیں ہے حالانکہ اس شہزادے کے معاصرین کے یہاں یہی لفظ پرستی اور قافیہ پیمائی شاعری کی معراج سمجھی جاتی تھی لیکن دارانے روایات کی اندھی تقلید کے بجائے اپنا ایک انفرادی راستہ اختیار کیا،اس کے نزدیک زبان وبیان کی آرائش کے بجائے معانی کی تہہ داری بیان کرنا ہی حقیقی شاعری ہے۔ مفتی غلام سرور لاہوری نے دارا شکوہ کی شاعری کی بے پناہ اہمیت کے حامل متصوفانہ نکات وجہات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے:
’’سخنش دریائی توحید است کہ از زبان گوہر افشاوروان گشتہ وبا خورشید وحدانیت است کہ از افق لبان مطلع نوازش طلوع شدہ مغزی باید کہ سخنش را بہ فھمد،ولی باید کہ معانی آن در دلی امکان پذیرد۔‘‘ 4؎
دارا شکوہ کے کلام سے متعلق تذکرہ نگاروں یا تاریخ نویسوں نے بھی کوئی خاص گفتگو نہیں کی ہے اور اگراس کے کلام کے متعلق کہیں کوئی ذکر کیا بھی گیا ہے تو وہ بہت ہی مختصر اور تشنہ ہے، لیکن اس صوفی شاعر کے کلام سے متعلق کیے گئے ان مورخین اور تذکرہ نویسوں کے جستہ جستہ اشارے بھی کچھ کم اہمیت کے حامل قرار نہیں دیئے جا سکتے ہیںاب ذیل میں دارا کے صرف ایک معاصر تذکرہ نگار محمد افضل سر خوش کی رائے قلم بند کر رہی ہوں جس کو پڑھ کر بآسانی یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ان کے معاصرین کے یہاں ان کے کلام کو خاصی قدر ومنزلت حاصل تھی:
’’طبعی بلند وذہن رسا داشت، مطالب صوفیہ او رباعی وغزل منظوم می کرد‘‘ 5؎
اگر دارا شکوہ کی فارسی شاعری کا مطالعہ کیا جائے تو ہم کو پتہ چلے گا کہ اس کے کلام میں ادنیٰ کو اعلیٰ، ناتواں کو توانا، ذرے کو آفتاب اورمردہ قلوب کو از سرنو حیات بخشنے کے ہمہ لوازمات اپنی پوری آب وتاب کے ساتھ جلوہ گر ہیں۔ زمانہ موجودہ میں ہم جس ذہنی خلفشار، روحانی انتشار اور قلبی اضطراب کا شکارہیں، اس سے خود کو محفوظ رکھنے اور زندگی کی سچی مسرتوں سے ہمکنار کرنے کے لیے بے حد ضروری ہے کہ ہم نہ صرف دارا شکوہ بلکہ دیگر صوفی شاعروں کے کلام کا بھی مطالعہ کرنے کی کوشش کریں، جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ دارا شکوہ اپنے وقت کے عظیم جوگیوں، پنڈتوں،ملائوں، عارفوں اور صوفیوں وغیرہ سے ان کے عقائد ومذاہب کے متعلق اطلاعات حاصل کرتا رہتا تھا۔ شاہ محب اللہ الہٰ آبادی، شاہ دلربا،سرمد شہید، بابا لال داس بیراگی، بھگت رامانند، میرزا سالک لاہوری اور چندربھان برہمن وغیرہ جیسی نابغہ روزگار شخصیات نے اس کے قلب وذہن پر بڑے گہرے اورہمہ گیر نقوش مرتب کیے تھے بلکہ اس کے بیشتر افکار وخیالات انھیں صوفی منش اور بے نیاز عارفوں کے سبب جلا پائے تھے، خصوصاً اس کی فارسی شاعری تو مکمل طور پر ان صوفیااورمشائخ کے عقائد ونظریات کی خوشہ چین معلوم ہوتی ہے۔ اس کے یہاں ایسے مضامین بڑی کثرت کے ساتھ نظر آتے ہیں جو ان صوفیوں کے زیر صحبت رہ کر ہی بیان کیے جا سکتے تھے۔ اس صوفی مزاج شاعر نے اپنے اشعارمیں توحید ووحدت، توکل وتقویٰ، فناوبقا، تسلیم ورضا، صبروقناعت، صداقت وحقیقت، خلوص وعاجزی، خشوع، خضوع،دنیاکی بے ثباتی اور دنیاطلبی وغیرہ سے گریز جیسے سینکڑوں مضامین کو نظم کیا ہے جو نہ صرف اخلاق و کردارسازی میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں، بلکہ اس شاعر کی نظم کردہ تعلیمات کی مدد سے، عصر حاضر جھلستی ہوئی انسانیت اور تہذیبی عریانیت کو فرو کرنے میں مثبت کردار ادا کیے جا سکتے ہیں۔
دارا شکوہ نے اپنی منثورومنظوم تصانیف میں جو متصوفانہ افکار ونظریات پیش کیے ہیں وہ کسی مخصوص طبقہ، مذہب یا قوم سے تعلق نہیں رکھتے ہیں بلکہ تمام عالم انسانیت کے لیے یکساں طورپر منفعت بخش، کارآمد اور سود مند ہیں اور اگران پر دیانت وصداقت کے ساتھ عمل کیا جائے تو موجودہ وقت کے شخصی بغض و عناد، ذاتی رنجشوں وعداوتوں، مذہبی اختلافات وتعصبات اور آپسی لڑائی جھگڑوں کو ختم کرکے اس دنیاکو جنت کا نمونہ بنا یا جا سکتا ہے۔ آج اپنے اطراف وجوانب میں ہمیں جو انتشار نظر آتاہے اس کی سب سے بڑی اور اہم وجہ ہمارے مذہبی اختلافات ہیں جن کے سبب ہم ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کرزندگی گزارنے کا تصوربھی نہیں کر پا رہے ہیں،اوران تمام حالات سے بد دل اوربیزار ہونے کے باوجود ان کو ختم کرنے میں کامیاب نہیں ہو پا رہے ہیں اور ہم چاہ کر بھی ایک دوسرے کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر نہیں چل پا رہے ہیں۔ دارا شکوہ کو ملک میں رہنے والے مختلف المذاہب لوگوں کے مابین ان اختلافات کا بخوبی اندازہ تھااور وہ اس بات سے پوری طرح واقفیت رکھتا تھا کہ جب تک اس ملک کے رہنے والے تمام لوگ آپس کے مذہبی اختلافات وتفریقات کو دور نہیں کریں گے تب تک اس ملک میں امن وامان کی فضا قائم ہونا قدرے مشکل ہے اور یہی سبب ہے کہ اس نے اس تفریق وتفاوت کو فرو کرنے کے لیے’ مجمع البحرین ‘کے نام سے ایک کتاب تحریر کی تھی جس میں اس نے ہندو اور مسلم مذہب کے مابین مطابقت واشتراکیت پیدا کرنے کی کوشش کی ہے وہ خود کہتا ہے کہ وہ طویل تحقیق وتلاش کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ ان دونوں مذاہب کے مابین بجز اختلاف لفظی اور کوئی تفاوت نظر نہیں آتا ہے حقیقت سب کی صرف ایک ہی ہے یعنی اس کائنات کو چلانے والی صرف ایک ذات واحد ہے جو ہمیں اپنی کوتاہ نظری کے سبب الگ الگ نظر آتی ہے، اور یہی سبب ہے کہ ہم ایک ہوتے ہوئے بھی خود کو الگ الگ حصوں میں تقسیم کیے رہتے ہیں جیسا کہ اس نے ’مجمع البحرین‘ میں لکھا بھی ہے:
’’می گوید فقیر بی اندوہ، محمد دارا شکوہ کہ، بعد از دریافت حقیقت الحقایق وتحقیق رموز دقایق مذہب حق صوفیہ، وفایز گشتن بہ این عطیہ عظمی؛ در صدد آن شدکہ، درک کنہ مشرب موحدان ھند ومحققان این قوم نماید۔با بعضی از کاملان ایشان کہ بہ نہایت ریاضت وادراک وفھمیدگی وغایت تصوف وخدایا بی سنجیدگی رسیدہ بودند؛ مکررصحبت ھا داشتہ، گفتگو نمود، جز اختلاف لفظی دریافت وشناخت، تفاوتی ندید‘‘ 6؎
اگر دارا شکوہ کی شاعری کی بات کی جائے تو ہمیں اس میں بھی انسانیت، محبت اور اخوت کے فروغ سے متعلق جو بصیرت افروز خیالات ورحجانات دیکھنے کو ملتے ہیں وہ یقینا عصر حاضر کے پریشان حال انسان اور اطراف وجوانب کی بحرانی صورت حال کو ختم کرنے میں بڑے اہم اور ضروری کہے جاسکتے ہیں کیونکہ دارا کے یہاں جو متصوفانہ افکار وخیالات شاعری کی زبان میں بیان کیے گئے ہیں، وہ لوگوں کو ایک صحت مند اور غیر متعصب زندگی گزارنے کی ترغیب وتشویق دلاتے ہیں، اور وہ لوگ جو تصوف یا اخلاقیات سے شغف ودلبستگی رکھتے ہیں انھیں عرفی شیرازی، شیخ سنائی، قدسی مشہدی اور سرمد شہید وغیرہ جیسے صوفی شعرا کا کلام پڑھنے سے گویا روحانی حس کو غذا فراہم ہوتی ہے، تو مجھے یہ کہنے میں بالکل بھی تردد نہیں ہے دارا شکوہ کا کلام پڑھ کر بھی کچھ اسی طرح کا احساس پیدا ہوتا ہے۔بعض اوقات تو داراشکوہ کا کلام ایران کے معز ز ومعتبر ترین صوفی شاعروں مثلاً مولانارومی،شیخ جامی اور نظامی گنجوی کی یاد دلا دیتا ہے کیونکہ ہمیں دارا کے یہاں بھی وہ ہی متصوفانہ چاشنی و شیرینی دیکھنے کو ملتی ہے جو ان صوفی شاعروں کا طرہ امتیاز رہاہے بھلے ہی دارا کی شاعری ان عظیم صوفی شاعروں کے ہم پلہ یا مساوی درجہ نہ رکھتی ہو، لیکن وہی رنگ وآہنگ اور آن بان ضرور رکھتی ہے جو ان شعرا کا طرئہ امتیاز رہاہے۔
تاریخ کے اوراق پلٹنے سے ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ دارا شکوہ کا بچپن بھلے ہی بڑے ناز ونعم میں گزرا ہو،البتہ جوانی کا زمانہ بڑی آزمائشوں اور مشکلات سے بھرا ہوا تھا تخت وتاج کی جنگ نے اس کو وقت سے پہلے ہی اس دنیا سے رخصت ہونے پر مجبور کر دیا، اگر دارا اس ظالم سیاست اورعداوت کا شکارنہ ہوا ہوتا تو یقین کے ساتھ یہ کہا جا سکتاہے کہ آج ہمارے ملک کے حالات قدرے مختلف اور مثبت ہوتے اور آپسی نفرت اور ذہنی انتشار کا یہ طوفان اس طرح ہم پر اپنا تسلط قائم نہ کیے ہوتا جس نے آج ہمارا جینا محال کر رکھا ہے۔ جناب محمد وارث کرمانی کی چند سطور نقل کر دینا ضروری سمجھتی ہوں جن میں انھوں نے دارا شکوہ کے افکار وآثار میں پائی جانے والی صداقتوں اور حقیقتوں کی اہمیت ومعنویت کو پیش کرنے میں بڑی اعلیٰ ظرفی اور دقیق بینی کا مظاہرہ کیا ہے وہ لکھتے ہیں:
’’وہ فکر وسلوک کی اس منزل میں تھا جہاں ناقص وکامل اور ادنیٰ واعلیٰ کوایک نظر سے دیکھا جاتاہے، یہ ایک مقام ہے جو فقرا کے علاوہ ارباب شریعت کے حصے میں نہیں آتا اور اس لیے موخر الذکر طبقے کے فرائض میں باطن کی اصلاح داخل نہیں ہے ان کا فتویٰ ظاہر پر چلتا ہے، اور فقرا کی نظر ظاہر وباطن کی ترازو ہوتی ہے اور قدرت ان کو اتنا عالی ظرف عطا کرتی ہے کہ وہ مسلم اور کافر دونوں کو نگاہ لطف وکرم سے نوازتے ہیں۔‘‘ 7؎
دار ا شکوہ کو بھی اس بات کا بخوبی احساس تھا کہ یہ دنیا پرست، سطحی الفکر اور عام فہم لوگ اس کے افکار واحساسات کی صداقت وحقیقت تک رسائی نہیں حاصل کر سکتے ہیں اور نہ ہی اس کے افکار کی شدت وحدت کو محسوس کر سکتے ہیں، یہی سبب ہے کہ وہ اپنے اوپر تنقید و تعریض یا ایراد وگرفت کرنے والے متعصب لوگوں کے متعلق خود بھی کہتا ہے کہ شائد ان سہل پسند طبیعت کے لوگوں نے میرے افکار واحساسات کی حقیقی روح کو سمجھنے کی سنجیدہ اور بالیدہ کوشش ہی نہیں کی ہے جس کی وجہ سے وہ مجھ کو احترام و عزت اورداد وتحسین دینے کے بجائے نفرت وبدگمانی کے تیر چلا کر میری روح کو چھلنی وزخمی کرنے میں لگے ہوئے ہیںجبکہ سچ تو یہ ہے کہ میں نے حق کے سوا کبھی لب کشائی کرنے کی کوئی کوشش ہی نہیں کی ہے، لہٰذا طنز وتشنیع کے تیر چلاکر اس کی روح کو شکست خوردہ کرنے والے کوتاہ بینوں کو جواب دیتے ہوئے وہ کچھ اس طرح گویا ہوتا ہے ؎
در مدح بشر نہ شد زبانم گویا
جانم چو نہ بود غیر حق را جویا
آن جوش مباد، آن زبان دان ما
کو جز سوی او بود بسوی پویا
ترجمہ ومفہوم : میں نے عام لوگوں کی مدح وستائش میں کبھی اپنی زبان نہیں کھولی ہے میں نے سوائے صداقت یا حق کے کبھی کسی اور چیز کو تلاش نہیں کیا۔ مجھ میں نہ تو وہ زبان دانی ہے اور نہ ہی وہ جوش وخروش ہے کہ اس کا حق ادا ہو سکے البتہ مجھے اتنا معلوم ہے کہ میں نے سوائے اس کے کچھ نہیں چاہا ہے۔
عصر حاضر کا انسان جس کرب، تکلیف اور اذیت سے گزر رہا ہے اس کے پس پشت اس کی حد سے زیادہ بڑھی ہوئی دنیاوی خواہشات اور غیر ضروری تمنائیں اورآرزوئیں ہیں جن کو پورا کرنے میں وہ اپنی پوری زندگی لگا دیتا ہے اور اس کے باوجود بھی کامیاب نہیں ہو پاتا اور اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ طرح طرح کے ذہنی مسائل اور نفسیاتی الجھنوں میں گرفتار ہو جاتا ہے انسان کو اس بات کو بہت اچھی طرح سمجھنے کی کوشش کرناچاہیے کہ وہ اس دنیا میں بہت ہی مختصر مدت کے لیے آیاہے، اور بہت جلد اسے یہاں سے واپس بھی چلے جانا ہے لہٰذا غرور وتکبر یا مال واسباب کی جمع آوری سے کچھ بھی حاصل ہونے والا نہیں ہے وہ جتنا اس دنیا کی الجھنوں سے خود کو محفوظ رکھے گا اتنا ہی زیادہ خوش اور مطمئن زندگی گزار سکے گا، اور دارا شکوہ کے بیان کردہ یہی وہ خیالات اور نکات ہیں جو انسان کو بہت سے ذہنی ونفسیاتی مسائل اور روحانی انتشار واذیت سے دور رکھنے میں خاطر خواہ ہماری مدد کر سکتے ہیں، اورہم زیادہ سکون وراحت کے ساتھ اپنی زندگی گزارنے میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں، اس سلسلے میں اس کی غزل کے چند اشعارملاحظہ کیجیے ؎
مسافر ہر قدر باشد سبک سار
نیابد در سفر تصدیع وآزار
توہم اندر جہان ہستی مسافر
یقین میدان اگر ہستی تو ہوشیار
بقدر مال باشد سرگرانی
بقدر پیچ باشد بار دستار
خودی را نیز از خود دور گردان
کہ ہم بار است بار وہم وپندار
تو تا باشی بہ دنیا باش آزاد
ترا چون قادری کردہ خبردار
ترجمہ ومفہوم: مسافر اگر ہر طریقے سے خوش اور آسودہ حال ہے تو پھر اس کو دوران سفر کسی قسم کے آزار یا پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔
تم اس دنیا میں ایک مسافر کی مانند ہو تم اس پر یقین کامل رکھو اگر تم ہوشیار ہو یعنی جس طرح مسافر دوران سفر اپنا وقت گزارتا ہے تم بھی اس دنیا میں ایک مسافر کی مانند اپنے کاموں کو انجام دینے کی کوشش کرو تاکہ یہ زندگی تم پر وبال نہ بن سکے۔
غرور اور تکبر، مال کے مطابق ہوتاہے، پیچ کے مطابق ہی دستار کا بوجھ ہوتاہے۔
تم بلا وجہ کا بوجھ اپنے کاندھوں پر کیوں اٹھائے ہوئے ہو، جو زنار کے دھاگے پر گراں گزرتا ہے۔
اپنی انانیت کو اپنے آپ سے دور کر دو، یہ بھی ایک بوجھ ہی ہے وہم اور پندارکے بوجھ کی مانند یعنی غرور وتکبر سے خود کو محفوظ رکھنے کی کوشش کرو کیونکہ یہ تکبر وتفاخر تمھیں سوائے ذلت ورسوائی کے کچھ نہیں دے سکتا ہے۔
عصر حاضرمیں جہاں ایک طرف انسان اپنے ذاتی مسائل سے نبرد آزما ہے وہیں دوسری طرف وہ دوسروں کے بغض وحسد سے بھی پریشان وحیران ہے، موجودہ وقت میںحسدولالچ سب سے بڑی اور اور جان لیوا ذہنی بیماری بن چکی ہے، دنیاوی ہوا و ہوس انسان کی زندگی کا ایک ایسا تاریک اور نقصان دہ پہلو ہے جس پر اگر بر وقت توجہ نہ کی جائے تو اس کے اتنے بڑے، تباہ کن اور ہولناک نتایج سامنے آتے ہیںجس کا تصور بھی احاطہ گمان میںنہیں لایا جا سکتاہے، دنیاوی مال ودولت، جاہ ومنصب اور راحت وسکون حاصل کرنے کی شدید خواہش انسان کو تباہ وبرباد کر دیتی ہے اور وہ چاہ کر بھی ایک مطمئن زندگی نہیں گزار پاتا، جب انسان کی دنیاوی خواہشات پوری نہیں ہو پاتی ہیں تو اس کے ذہن ودل میں منفی خیالات نمو پانے لگتے ہیں وہ خواہ مخواہ دوسروں سے جلن وحسد کرنے لگتا ہے صرف اتنا ہی نہیں بلکہ، وہ اپنی ذاتی خواہشات اور نفسانی آرزوئوں کے حصول کے لیے ہر جائز وناجائز اور صحیح وغلط طریقہ استعمال کرتا ہے، اور اس کو سوائے اپنے ذاتی مفادات وخواہشات کے کچھ اور نظر نہیں آتا بعض اوقات تو وہ اپنے معمولی اور ادنیٰ سے فائدے کے لیے دوسرے کا بڑے سے بڑا نقصان کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتااگر ہم اپنے اطراف نظر اٹھا کر دیکھیں تو بے شمار ایسے روح فرساسانحات دیکھنے کو مل جائیں گے جن میں بہت ہی چھوٹے چھوٹے اور معمولی لالچ کی بنا پر بڑے المناک حادثے رونما ہوئے ہیںایک لالچ کنندہ اور ہوس پرست انسان کا پیٹ کبھی نہیں بھرتاہے وہ ایک کے بعد ایک انسانیت سوز جرائم انجام دیتا چلا جاتا ہے اورجب اس کو ہوش آتا ہے تب تک بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے اور اس کے ہاتھ سوائے پشیمانی اور افسوس کے کچھ اور نہیں رہ جاتا، لہٰذا انسان کو چاہیے کہ وہ اس خام خیالی سے باہر آئے کہ اس کو یہاں ہمیشہ رہنا ہے اور حرص ولالچ سے خود کو محفوظ رکھنے کی کوشش کرواور کبر ونخوت کو چھوڑ کر سب کو جام وحدت سے اپنے دل کو منور کرو اور عقل مند لوگوں کی طرح زندگی گزارو، لہٰذا وہ کہتاہے ؎
ای کہ ہستی بخواب، شو بیدار
وہم اغیار را از دل بردار
در جہان ہیچ چیز بد نہ بود
بد اگر ہست این پندار
مستی وہستی تو غافل کرد
دور کن مستی وبشو بیدار
خواب غفلت، بزرگ دشمن تست
آن وحدت بپاش و شو بیدار
ترجمہ ومفہوم: تمھاری ہستی خواب میں ہے بیدار ہو جائو، اغیار کا خوف اپنے دل سے نکال دویعنی سوائے خالق کائنات کے کسی اور کے نفع ونقصان کی پرواہ مت کرو۔
اس دنیا میں کوئی چیز بھی بری نہیں ہے، اگر ہے توصرف یہی نصیحت ہی بری ہو سکتی ہے۔
تیری مستی مراد غفلت اور ہستی یعنی تیرے وجود نے تم کو غافل کر دیا ہے، اپنی مستی مرادلالچ وہوس کو دور کرو اور ہوشیار ہو جائو۔
خواب غفلت تمھاری سب سے بڑی دشمن بنی ہوئی ہے، وحدت ویگانگت کا پانی پیو اور ہوشیار ہو جائو یعنی آپسی تفریق وتفاوت اور حسد وتنفر کو ختم کر دو۔
انسان کو ذہنی الجھنوں سے خود کو محفوظ رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ سادہ اور سلیس، طرز زندگی اختیار کرے جب انسان سادہ طرز زندگی اختیار کرلیتا ہے تووہ بہت سی ذہنی الجھنوں اور نفسیاتی کشمکش سے نجات پا لیتاہے، جب کہ اس کے بالکل بر عکس دنیا کی ہوس، دولت کی خواہش اور اسٹیٹس کی چاہت انسان کو ذہنی انتشار اور روحانی اضطراب میں مبتلا کیے رہتی ہے، جب کہ اس کے بالکل برعکس وہ شخص جوکہ دوسروں کا خیر خواہ، غم خوار ہوتا ہے اور درد آشنا ہوتاہے تو یک گونہ اطمینان قلبی اور روحانی سکون اس کو میسر آجاتاہے اور اسی وجہ سے اس کی زندگی آسان اور پر سکون گزرنے لگتی ہے اور دوسروں کا ہمدرد وغم خوار انسان ایک ہوس پرست اور لالچی دولت مند کی بہ نسبت زیادہ کامیاب، کامران اور پر مسرت زندگی گزارتاہے لہٰذا دارا شکوہ یہ بھی کہتاہے اور اپنی اثر آفرینی کے سبب پڑھنے والے کے ذہن وقلب پر گہرے نقوش مرتب کرتا ہے ؎
درد را آنکہ آشنا گردید
ہر بلائے بہ جان دوا گردید
ترجمہ ومفہوم: وہ شخص جو کہ کسی کا درد آشنا بن گیا گو یا کہ اس نے اپنی جان پر سے ہر بلا، یا مصیبت کو دور کر دیایعنی خود کو بہت سے مسائل ومصائب سے نجات دلا نے میں کامیابی حاصل کرلی۔
دور موجودہ میں آپسی بغض وحسد ایک ایسی لا علاج بیماری بن چکا ہے جس کاکوئی علاج کسی کے پاس نہیں ہے، اس جان لیوا مرض نے نہ جانے کتنی حسین وخوبصورت زندگیوں کو تباہ وبرباد کر دیا،اور عصر حاضرمیں یہ تو ایک خطر ناک نفسیاتی اور ذہنی بیماری ہے جو ہم انسانوں کو اندر ہی اندر کھوکھلا کیے جا رہی ہے اور ہمیں اس کا احساس بھی نہیں ہے کہ اس بیماری کے سبب ہم لمحہ لمحہ خود کو ختم کر رہے ہیں۔ ایک حاسد اور ہوس پرست انسان ہمیشہ محسود کو کم تر اور حقیر دکھانے کی کوشش میں لگا رہتا ہے، وہ خود بھی پریشان رہتا ہے اور دوسروں کو بھی پریشان کیے رہتا ہے، دارا شکوہ اپنے قارئین کو اس حقیقت سے روبرو کرانے کی بھر پور کوشش کرتا ہے کہ انسان کے لیے ضروی ہے کہ وہ دنیاوی مال ومنال، شوکت وسطوت اور سلطنت وحکومت کو حاصل کرنے کے لالچ میں آ کر اپنی روحانی آسودگی، ذہنی سکون اور قلبی مسرت کو بربادکرنے کی غلطی نہ کرے، یہ دردمند اور حساس شاعرایک ایسی دنیا بنانے کا خواہشمند ہے جہاں آپسی بغض وعناد، نفرت وحسد، تنگ نظری اور تعصب کی کوئی جگہ نہ ہو اور تمام لوگ آپس میں محبت و اخوت اور صلح وآشتی کے ساتھ زندگی گزاریں یہی سبب ہے کہ وہ بار بار لوگوں کو جب دنیا سے دور رہنے کی تلقین کرتا ہے، کیونکہ یہ دنیا کبھی کسی کے ساتھ وفا نہیں کرتی لہٰذا جب یہ دنیا بے وفا ہے تو پھر اس کے لیے اپنی پوری زندگی دائو پر لگا دینا یقیناً ہم انسانوں کا ایک بڑا خسارہ ہے اور ہمیں اس خسارے سے بچنے کی پوری کوشش کرنا چاہیے، یہی وجہ ہے کہ وہ کہتا ہے کہ ظاہر داری، ریا کاری اور منافقت جیسی بیماریوں سے خود کو دور رکھو کیونکہ ان کی وجہ سے ہی دنیا میں مشکلات اور پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں اور خالق کائنات سے اس کا رشتہ کمزور پڑ جاتا ہے جو اس کو ہمیشہ ناکام ونامراد رکھتاہے ؎
از نفاق و ریا بکن پرہیز
با منافق خدا چہ گفت پیام
ترجمہ ومفہوم : نفاق اور ریاکاری سے خود کو بچائو، منافقوںکے ساتھ پروردگارعالم کب اپنے اسرار ورموز کو منکشف کرتا ہے یعنی ریاکار انسان کبھی کائنات کی سچائی سے ہمکنار نہیں ہو سکتا اور نہ ہی سچی مسرتوں کے حصول میں کامیابی حاصل کر سکتاہے۔
انسان کے پاس کتنا ہی مال ودولت کیوں نہ ہو اس کوہمیشہ ہی کم لگتاہے، دنیاوی مال ومنال کو زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کے لالچ میں وہ اپنا ذہنی سکون وراحت تباہ کر دیتاہے اور اس کا نتیجہ ڈپریشن، اینگزائٹی، ٹینشن اورشوگر وغیرہ جیسی بیماریوں کی کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے اور کبھی کبھی تو حالات اتنی ہیبت ناک شکل اختیار کر لیتے ہیں کہ انسان اپنی زندگی کو بھی اپنے ہاتھوں سے ختم کر لینے میں بھی دریغ نہیں کرتاہے۔اس قسم کی سیکڑوں مثالیں ہمیں اپنے آس پاس دیکھنے کو مل جاتی ہیںجن میں انسانی زندگی لا محدود خواہشات اور آرزئوں کا شکار ہوکر ہمیشہ کے لیے فنا کے گہرے اندھیروں میں کہیں کھو جاتی ہے، دارا شکوہ اسی لیے بار بار کہتا ہے کہ انسان کو چاہیے کہ وہ پورے خلوص اور صداقت کے ساتھ پروردگار عالم کی طرف رجوع کرے اور اپنے تمام معاملات وحالات کو اس ذات واحد کے سپرد کر دے، اور جب انسان اپنے سارے معاملات اپنے پروردگار عالم کے حوالے کر دیتا ہے تو بہت سے مصائب سے نجات حاصل کر لیتا ہے دوسرے الفاظ میں دنیاوی ہر رنج و غم اور تکلیف وپریشانی سے آزاد ہو جاتا ہے، لہٰذا کہتا ہے ؎
دل شدہ فارغ از ہمہ تدبیر
می شود آنچہ ہست در تقدیر
ترجمہ ومفہوم: دل تمام تدابیر سے فارغ کر لیا، اب تقدیر میں جو بھی ہو، وہ ہو جائے یعنی انسان کو اپنی زندگی کو پرسکون بنانے کے لیے ضروری ہے کہ وہ خالق کائنات کی رضا میں راضی رہنے کی کوشش کرے اور دنیاوی مسائل ومصائب میں گرفتار ہوکر خود کو ہلکان نہ کرے۔
تکبر اور غرورانسان کے اندر خود پسندی، ذہنی مسائل پیدا کرنے کا باعث ہوتاہے خود پسندی اور ظاہر داری ایک نفسیاتی اور ذہنی بیماری کا نام ہے جس میں انسان خود کو افضل اور دیگر کو کم اہم یا حقیر تصور کرتاہے، یہ ایک ایسا منفی جذبہ ہے جو انسان کو ہمیشہ ذہنی الجھنوں میں گرفتارکیے رکھتا ہے، اس بیماری میں مبتلا انسان کسی دوسرے کی تعریف یا برتری کو تسلیم نہیں کر پاتا ہے اور نہ ہی وہ کسی دوسرے کی خوبی کو کشادہ قلبی اور خندہ پیشانی سے قبول کر پاتاہے اور اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے لیے اپنی ہی زندگی ایک مصیبت بن جاتی ہے اس کا تفاخر وتکبر اس کو راہ راست سے کہیں دور لے جاتا ہے، اور اس کو ہر جگہ نا پسندیدگی اور پشیمانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اگر غرور ونخوت جیسی بیماریوں کا بر وقت علاج نہ کیا جائے تو یہ جان لیوا بھی ثابت ہو سکتی ہیں یہی سبب ہے کہ دارا شکوہ ہمیشہ ظاہرداری کی عبادت، تصنع آمیز زندگی اور شخصی تکبر سے دور رہنے کی تلقین کرتا ہے اور بار بار اس کے نقصانات سے آگاہ کرتا ہے اور وہ لوگ جو اس قسم کی نفسیاتی وذہنی بیمارئیوں میں مبتلا ہوں ان سے بھی دوری اختیار کرنے کی تنبیہ کرتا ہے تاکہ ایک پر سکون اور مطمئن زندگی گزارنے میں کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے اور وہ فروتنی و انکساری کے ساتھ اپنی زندگی گزار سکے اور سب سے بڑھ کر قلبی وروحانی آسودگی اس کو حاصل ہو سکے، اور یہی سبب ہے کہ وہ بڑے ہی جالب انداز میں کہتا ہے کہ کم فہم انسان کا غرورونخوت اور خود پسند وخود سری انسان کو زوال وانحطاط کے راستے کی طرف لے جاتی ہے اور ایسا انسان ہمیشہ ناقابل تلافی نقصان اٹھاتا ہے ؎
ہر کہ بگذاشتہ ثواب و عذاب
در جہاں است او در کمیاب
از حبابی کہ نخوت اندر اوست
از تواضع نکو بود گرداب
آن برون می نماید از دریا
این فرو می رود میانہ آب
ترجمہ ومفہوم: جس نے عذا ب وثواب کے لالچ کی فکر کو چھوڑ دیا، وہ دنیا میں ایک بیش قیمت یا نایاب موتی کی مانند ہے یعنی دنیاوی ہوا وہوس اور لالچ و حسد کو چھوڑ دینا ہی در حقیقت دین ودنیا میں کامیابی وسربلندی کی علامت ہے۔
اس پانی کے بلبلے کے اندر جو تکبر وغرور بھرا ہوا ہے اس سے پانی کی بھنور کی تواضع زیادہ بہتر اورمناسب ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ پانی کے بلبلے کا تکبر اس کو پانی سے باہر نکال دیتا ہے، اور بھنور کی تواضع اس کو پانی کی گہرائیوں تک لے جاتی ہے۔
جدید تحقیق سے یہ بات منکشف ہوتی ہے کہ عصر حاضر میں ہمہ مادی راحتوں وشادمانیوں کے باوجود، ترقی یافتہ انسان کے ذہنی اور نفسیاتی مسائل کی شرح روز بروز بڑھتی ہی چلی جا رہی ہے اور آنے والے وقت میں بھی اس کے کم ہونے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں یا دوسرے الفاظ میں اس کے بڑھنے کے آثار زیادہ نظر آرہے ہیں۔ انسان دنیاوی لذتوںاور دکھاوے کی عبادتوں میں اس قدر مست ومگن ہوتا جا رہاہے کہ زندگی کی حقیقی لذتوں اور آسودگیوں سے بھی بیگانہ ہوگیاہے۔ اس کے ذہن وقلب پر ایک عجیب سی تشویش، بے سکونی، بے اطمینانی کی کالی گھٹائیں مسلط ہو گئی ہیں جو نہ کھل رہی ہیں اور نہ ہی برس رہی ہیں، کم علمی اور تنگ نظری کا یہ عالم ہے کہ اس نے اپنی پوری زندگی کو تصنع وتکلف کے دبیز پردوں میںچھپا لیا ہے، حتیٰ کہ مذہبی عبادات بھی ذہنی یکسوئی اور سکون کے لیے نہیں کی جا رہی ہیں بلکہ صرف ایک دوسرے پر فوقیت وترجیح حاصل کرنے کے لیے کی جا رہی ہیں۔ دارا شکوہ ایسے پرہیزگاروں اور عبادت گزاروں کو تنبیہ کرتے ہوئے کہتا ہے ؎
با حق نہ رسی تو از نماز بسیار
از بہر خدا خودی خود را بردار
حق را تو بگیر و جملہ اشغال گزار
مشغولی تو شرک بود آخر کار
ترجمہ ومفہوم: کثرت نماز کے ذریعے تو حق تک رسائی نہیں حاصل کر سکتاہے یعنی صرف ظاہری عبادات سے تجھ کو راحت وسکون کی بڑی نعمت میسر نہیں آسکتی ہے۔
خدا کے لیے اپنی خودی کو جگانے کی کوشش کرو، پروردگار عالم کی معرفت کے لیے تجھے خود پر محنت وکوشش کرنا پڑے گی۔
حق کا دامن پکڑ لو، مراد حق کے راستے کو اختیار کر لو اور تمام دوسری چیزوں کو ترک کر دو۔
کیونکہ تمھاری مشغولیت مراد دنیاوی خواہشات اور بے جا تمنائیں شرک ہی تو ہوتی ہیں جن کے ذریعے تمھیں کچھ بھی حاصل نہیں ہو سکتاہے۔
جیساکہ ساری دنیا جانتی ہے کہ کشورہندوستان میںصدیوں سے ہندو مسلمان، سکھ عیسائی اور دیگر بہت سی اقوام ایک ساتھ مل جل کر امن وسکون کے ساتھ زندگی گزارتی چلی آئی ہیں اوران مختلف اقوام کے آپسی میل ملاپ سے ہی ہندوستانی مشترکہ تہذیب و ثقافت پروان چڑھی ہے، جوتمام تر نا مساعد حالات کے باوجود آج بھی ہمارے ملک کی ایک انفرادی پہچان اور شان رکھتی ہیں۔ ملک میں مختلف ثقافتی اور مذہبی سرگرمیاں بھی منعقد کی جاتی ہیں تاکہ باہمی تفہیم اور احترام کو فروغ دیا جا سکے۔کم وبیش اسی قسم کی کوششیں دارا شکوہ کی طرف سے بھی کی گئی ہیں اس نے مسلمانوںاور ہندئوں کے مابین قومی یکجہتی پیدا کرنے کے لیے شعرو شاعری کا سہارالیا اور ایک ایسا جہاں بنانے کی اہمیت پر زور دیا جس میں آپسی تنفر وتضحیک، لالچ وخود غرضی، انا وخود پرستی اوربغض وحسد کی کوئی گنجائش نہ ہو، ہر انسان لائق تعظیم، ہر مذہب لائق احترام اور ہر زندگی لائق محبت ہو اور دارا کے مذہبی تجربات کی عظمت وآفاقیت ہی تھی اور اس کا فلسفہ انسانیت کی اعلیٰ اقدار پر ایمان رکھنے والا فلسفہ تھا، اس نے مشترکہ تہذیب کی ضرورت واہمیت اور انسان سے محبت والفت کرنے کا درس دیااور کہا ؎
نبود بہ جہاں نکو تر از مشرب ہیچ
باید کہ ترا بود، جز او مطلب
توحید گزین وصلح کل پیش بگیر
بگذار تعصب کہ بود، مذھب ہیچ
ترجمہ ومفہوم: کسی کے مشرب یا مسلک سے زیادہ بہتر اور اچھی چیز کوئی اور نہیں ہوتی ہے۔
تم کو چاہیے کہ اس سے زیادہ کوئی تعلق مت رکھو یعنی سب مذاہب کا احترام کرو اور جس طرح اپنے مذہبی عقائد کو عزیز رکھتے ہو اسی طرح دوسروں کو بھی سمجھو۔
توحید کا راستہ اختیار کرو اور صلح کل کو اپنا مقصدیا وطیرہ بنا لویعنی ایک دوسرے کے ساتھ مذہبی اختلاف وتفریق کے بجائے امن وآشتی کے ساتھ زندگی گزارنے کی کوشش کرو۔اوراس مذہب کو ترک کر دو جس میں تعصب یا تنگ نظری پائی جاتی ہے یعنی وہ عقائد جو آپسی نفرت اور تنگ نظری کو بڑھاتے ہیں ان سے دور رہنے کی کوشش کرو۔
مختصر یہ کہا جا سکتا ہے کہ دارا شکوہ کے فارسی کلام کے مطالعے سے بآسانی یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ عظیم اور اعلیٰ انسانی اقدار کا علم بردار شہزادہ اپنی شاعری کے ذریعے ان انسانی اقدار وروایات کو از سر نو زندہ کرتا ہے جو آج کی دنیا کی نئی چمک دمک میں ہم کہیں فراموش کرتے چلے جارہے ہیںاور اسی وجہ سے ہمارا سکون واطمینان کہیں غارت ہوتا چلا جا رہاہے،دارا شکوہ کے کلام کی سب سے بڑی اور بنیادی خوبی یہ ہے کہ وہ پوری عالم انسانیت بالخصوص اپنے ہم وطنوں کو ذہنی اور مادی کشمکش، مذہبی منافرت وتعصب اور روحانی کرب واذیت سے نجات دلانے کی بھر پور کوشش کرتا ہے، دارا شکوہ کے کلام میں بھلے ہی غنائیت وموسیقیت اور الفاظ ومعانی کی سحر انگیزی نہ پائی جاتی ہو لیکن وہ اپنے مضامین کی جاذبیت کے سبب اپنے پڑھنے والوں کو اپنا گرویدہ بنا لیتاہے، اس کا انداز بیان اور زبان اس قدر سادہ، سلیس، رواں اور عام فہم ہے کہ ایک معمولی پڑھا لکھا عام انسان بھی اس ک افکار کی اہمیت ومعنویت کو بخوبی سمجھ سکتا ہے۔ دارا شکوہ کا زبان کی باریکیوں اور نزاکتوں پر عبور حاصل کیے بغیر، زبان و بیان میں ایسی دلفریبی اور رعنائی ممکن نہیں ہے۔ اس کم نصیب شہزادے نے اپنے فارسی کلام کے ذریعے صلح کل اور امن عالم کا جوآفاقی پیغام ہمیں سنایا ہے وہ یقینا قابل تحسین ہے۔ اس نے ہندوستانی سماج کے تانے بانے کو مستحکم کرنے والے صوفیائے کرام اور مشائخ عظام کے سرمدی پیغام کو اپنے الفاظ وانداز میں سماج کے ہر طبقے تک پہنچانے کی جو کامیاب کوشش کی ہے اس کی مثال شاذ ونادر ہی کہیں اور دیکھنے کو مل سکتی ہے، اس نے اپنی شاعری کی مدد سے انسان کی خوشحالی وراحت، دنیاوی واخروی کامیابی، باہمی رواداری ویکجہتی اور سماجی امن و آشتی کا جو اعلیٰ ترین نمونہ ہمارے سامنے پیش کیاہے اس کی اہمیت ومعنویت آج کے دور میں بہت زیادہ بڑھ چکی ہے، آج کی حبس زدہ دنیااور ذہنی انتشارسے گھائل شدہ روح کو راحت پہنچانے میں، اس کے افکار وخیالات کی مدد سے نمایاں کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے، شہزادہ دارا شکوہ نے جن ذہنی مسائل اور نفسیاتی مسائل یا بیماریوں کا حل اپنے کلام میں پیش کیا ہے، اب یہ ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے کہ اس کی تعلیمات کو عمل میں لانے کی شعوری کوشش کریں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم داراکی بیان کردہ تعلیمات کو اپنی عملی زندگی کا ایک حصہ بنا نے کی کوشش کریں او ر شہزادہ کم نصیب کے پیش کردہ عقائد واحساسات کو منظر عام پر لائیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ ان سے استفادہ کر سکیں اور آج کے لہو لہان معاشرے کے زخموں کو مندمل کرنے میں کامیابی مل سکے۔
ماخذ ومنابع
1 دیوان دارا شکوہ، دارا شکوہ ترتیب وتدوین مع مقدمہ شاھد نوخیز اعظمی،قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی، 2021، ص23
2 ایضاً، ص233 دیوان دارا شکوہ، دارا شکوہ بتصحیح احمد نبی حادی،طابع دین محمدی پریس،1969، صفحہ نمبرک۔
4 خزینتہ الاصفیاء، جلد اول، مفتی غلام سرور لاہوری، ثمر ہند پریس لکھنؤ، 1290، ص 175.5 کلمات الشعرا، محمد افضل سر خوش، مدراس یونیورسٹی، انڈیا،1951، ص 147
6 مجمع البحرین، دارا شکوہ، تحقیق وتصحیح دکتر سید محمد رضا جلالی نائنی،چاپ وصحافی: شرکت آفسیٹ، سھامی عام چاپخانہ ایران،، 1366 خورشیدی، ص 2
7 سفینۃ الاولیا، دارا شکوہ مترجم وارث کامل، اردو پریس میکلوڈ روڈ، لاہور پاکستان، ص 17
Dr. Neelofar Hafeez
Assistant Professor (Persian)
Department of Arabic & Persian,
University of Allahabad, Prayagraj.
Email: neelofarhafeez82@gmail.com