صعالیک یا خانماں برباد شعرا،مضمون نگار:عبدالحلیم ندوی

April 22, 2025 0 Comments 0 tags

اب تک ہم نے جن شعرا کا تذکرہ کیا ہے ان میں سے اکثر وہ ہیں جو عام طور سے اپنے خاندان قبیلہ اور سماج سے نہ صرف متعلق رہے تھے بلکہ ان کے قابل ذکر فر د بھی تھے۔ اور ان کے رسم ورواج ، قوانین اور ریت کو مانتے ، ان پر فخر کرتے اور ان کے گن گاتے تھے۔ جس کی وجہ سے یہ شعرا، اپنے قبیلوں اور خاندان کی آنکھ کا تارا اور اپنے معاشرہ کے معزز و محترم اور بھاری بھر کم اشخاص بن کر چمکے ، اور اس کی وجہ سے باہر کی دنیا میں بھی بڑی وقعت اور عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ لیکن اب ہم شعرائے جاہلیت کے ایسے طبقہ کا ذکر کرتے ہیں جو مذکورہ بالا شعرا کے طبقوں سے بالکل مختلف، نرالا اور اپنے انداز و اطوار میں بالکل اچھوتا ہے۔ اور شاید عربی زبان وہ واحد سامی زبان ہے جس میں اس قماش کے شعرا کا طبقہ پایا جاتا ہے اور یہ طبقہ ہے’صعالیک الشعرا‘ یا خانماں برباد شعرا کا طبقہ۔
صعالیک کون تھے؟
’صعلوک‘‘کے لغوی معنی ہیں ’مفلس وقلاش‘ 1؎کے۔ ادبی اصطلاح میں صعلوک اس مفلس کو کہتے ہیں جو ایک طرف اپنی غربت و افلاس کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتا ہو اور دوسری طرف اپنی عزت نفس و شرف ذات کو برقرار رکھنے اور اپنی حیثیت اور وجود کو ثابت کرنے اور اپنی قوت کو حاصل کرنے میں لگا رہتا ہو۔ 2؎
’صعالیک الشعرا ‘ یا خانماں برباد شعرا، وہ منچلے، آزاد منش سخت جان وسخت کوش نوجوان شعرا تھے جن میں سے اکثر کے عزیز واقارب خاندان ، قبیلہ سب کچھ تھا لیکن انھوں نے ان سب سے یا تو از خود یا مجبور ہوکر رشتہ توڑ لیا تھا اور صحرانوردی اور قتل و غارت گری کو اپنا پیشہ بنالیا تھا اورتن بتقدیر و جان بہ تدبیر زندگی گزارتے تھے اور اس طرح ساری زندگی فاقہ مست اور خانماں برباد رہے۔ اس دنیا میں سوائے ان کے اپنے ہم جنسوں کے نہ ان کا کوئی یار تھا نہ مددگار، نہ دوست نہ غمگسار اور اسی کسمپرسی اور خانماں بربادی کی حالت میں مر گئے۔
صعلوک بننے کی وجہ
یہ نو جوان صعا لیک کیسے بن گئے۔ اس کے مختلف اسباب تھے۔ جیسا کہ معلوم ہے بدوی عرب معاشرہ میں اقتصادی بدحالی اور معاشی تنگ دستی کی وجہ سے قتل و غارت گری اور لوٹ مار کی وبا عام تھی۔ ہمارے ان شعرا میں سے بعض کو قدرت نے بڑی طاقت و توانائی اور بڑا عزم وحوصلہ دے رکھا تھا۔ اس عزم و حوصلہ اور طاقت و توانائی کی جولان گاہ ، بالکل اسی طرح محدود تھی جس طرح ان کا معاشرہ۔ چنانچہ ان کو قدرت کی بخشی ہوئی ان طاقتوں کو صالح اور پاک مقصد حیات پر لگانے کا موقع نہ مل سکا۔ پھر معاشرہ میں جرم وسزا کا نہ کوئی واضح ضابطہ اور مقرر قانون تھا اور نہ انھیں نافذ کرنے کا کوئی ایسا فعال ادارہ جو انھیں خوف سزا یا پاداش عمل کے تازیانے سے اپنی توانائیوں کو غلط راستے پر لگانے سے روک سکتا۔ چنانچہ ان کے یہ بلند حو صلے اور ابھرتی ہوئیتوانائیاں غلط راستے پر لگ گئیں اور انھوں نے اپنا پیشہ قتل وغارت گری رہزنی اورلوٹ مار بنالیا۔ جب ان کے جرائم اتنے بڑھ گئے کہ ان کے خاندانوں کی عزت و آبرو پر حرف آنے لگا اور وہ ان کے جرائم کا تاوان دیتے دیتے تھک گئے اور اب اس کی سکت نہیں رہ گئی کہ ان کی نا عاقبت اندیشیوں کی مزید سزا بھگت سکیں اور اس کے ساتھ ان کی جان کی بھی حفاظت کر سکیں تو انھوں نے عاجز آکر ایسے نو جوانوں کو برادری سے باہر کر دیا۔ ایسے شخص کو اصطلاح میں ’خلیج یا طرید‘ کہتے تھے۔ جب کسی کے متعلق خلیج یا طرید ہونے کا اعلان کر دیا جاتا تو اس کا مطلب یہ ہوتا کہ اب یہ شخص اس خاندان یا قبیلہ کا فرد نہیں رہا۔ اس لیے اس کے کسی فعل یا عمل کا ذمہ دار اس کا خاندان یا قبیلہ نہیں۔ اب اگر کوئی اسے کسی جرم کی سزا میں مار ڈالے تو خاندان اس کے خون کا مطالبہ نہیں کرے گا اور قاتل سے ثار، یعنی خون کے بدلے خون کی مانگ نہیں کرے گا اور اس طرح ایسے آدمی کا خون’ ہدر‘ یعنی مباح ہو جاتا۔ ظاہر ہے جب کوئی اس طرح برادری سے باہر ہو جاتا تو اس کو ہر وقت اپنی جان کا خطرہ رہتا اور کوئی قبیلہ یا شخص اس کو اپنے یہاں پناہ دینے پر تیار نہ ہوتا۔ نتیجہ یہ ہوتا کہ ایسا شخص مجبور ہو کر صحراؤں اور پہاڑوں کے دامنوں میں پناہ لیتا۔ جہاں اس کے ساتھی جنگلی جانور یا اس کے ہم جنس خلعا یعنی برادری با ہر نو جوان ہوتے اور قتل و غارت گری اور رہ زنیسے اپنی زندگی چلاتا۔
ان میں سے بعض کے صعلوک ہونے کا سبب یہ ہوا کہ باپ کے مرجانے یا خاندان کی سخت معاشی تنگ دستی کی وجہ سے قبیلہ نے ان سے آنکھیں پھیر لیں اور سخت تکلیف و پریشانی کے عالم میں بچپنے کے دن گزرے یا کسی معرکے میں گرفتار ہو کر فاتح قبیلہ کے یہاں غلامی اور ذلت کی زندگی گزاری اور جب جوان ہوئے اور عزت نفس ، خودداری اور خودی نے گوش و ہوش کی آنکھیں کھولیں اور اپنے انجام کو دیکھا تو اس قبیلہ اور خود اپنے قبیلہ کے خلاف نفرت و حقارت کا سخت جذبہ پیدا ہو گیا اور غلامی وذلت کی ساری زنجر یں تو ڑ کر صحراؤں اور بیابانوں کی راہ لی اور یہاں فطرت کی آغوش میں خود داری و خود مختاری اور خودی کی زندگی گزارنے لگے، کیونکہ خود بقول شنفری ؎
وفی الارض منأی للکریم عن الأذی
وفیھا لمن خاف القلی متحول
یعنی ’’چمن میں آہ کیا رہنا جو ہو بے آبرور ہنا۔‘‘
ان صعا لیک کا خیال تھا کہ اس معاشرہ کے لوگ بڑے خود غرض مطلب پرست اور چھوٹے دل و دماغ کے لوگ ہیں۔ ہمارے ایسے اولوالعزم، حوصلہ مند نوجوان ان کے ساتھ نہیں رہ سکتے۔ اس لیے ہم نے جنگلی جانوروں اور درندوں کو اپنا خاندان بنالیا ہے کیونکہ یہ انسانوں کے مقابلہ میں زیادہ قابل بھروسہ ہیں، وہ دوسروں کے راز افشا نہیں کرتے اور اگر ان کا کوئی فرد جرم کر بیٹھے تو اسے دوسروں کے حوالے نہیں کرتے۔ اور یہ قابل اعتماد افراد خاندان۔ ایک ’سید عملس‘ یعنی بڑا خوف ناک بھیڑیا ، دوسرا ’ارقط زہلول‘ ، یعنی دھاری دار چکنا چیتا ، اور تیسرا ’ عرفاحبیل‘ یعنی بد بودار بجو، یہ ہیں ہمارے خاندان کے افراد اور ہم انھیں کے ساتھ خوش ہیں۔ شنفری ان کی ترجمانی کرتے ہوئے کہتا ہے ؎
ولی دونکم أھلون سِیْدٌ عَمَلَّس
وأرقط زُھلول وعرفاء جیئل
ھم الرھط لا مستودع السرشائع
لدیھم ولا الجانی بجما جر یخذل
مگر یہ افراد خاندان اپنی فطری مجبوریوں کی وجہ سے ہم دم و دمساز اور مرنے جینے کے ساتھی نہیں ہو سکتے۔ اسی لیے ہم نے ہر حال میں ساتھ دینے والے اپنے تین جگری دوست بھی پیدا کیے ہیں اور وہ ہیں ایک— بے باک اور نڈر دل، دوسرے— سفید چمچاتی ہوئی تیز تلوار اور تیسرے— پیلے رنگ کی ایک لمبی کمان ؎
ثلاثۃ اصحاب فواد مشیح
وابیض اصلیت وصفر أعیطل
یہ صعالیک یہ سمجھتے تھے کہ اگر آدمی صرف اپنے اوپر بھروسہ کرنا سیکھ لیں تو پھر اس کے لیے خدا کی زمین تنگ نہیں ہے، جسے شنفری نے اپنی زبان میں یوں کہا ہے ؎
لعمرک ما فی الأرض ضیع علی إمری
سری راغبا أو راھبا وھو یعقل
پائے مرالنگ نیست ، ملک خدا تنگ نیست
اور اس خاندان او راپنے ان تین جگری دوستوں کے ساتھ یہ نو جوان صحراؤں میں آسمان کی چھت کے نیچے زندگی گزارنے لگتے اور لوٹ مار اور راہ زنی سے اپنا پیٹ بھرتے۔ جہاں رات ہوئی وہیں بستر جماد یا اور سوختہ سامانی کا عالم یہ تھا کہ بستر کی جگہ صرف زمین کا بچھونا ہوتا اور اس پر اپنی سوکھی اور مڑی ہوئی پسلیوں کے بل لیٹ جاتے اور تکیہ کی جگہ اپنے کھردرے سوکھے اور ہڈیاں ابھرے ہوئے ہاتھ رکھ لیتے ؎
وألف وجہ الارض عند افتراشھا
باھدأتنثیہ سناسن قحّل
کیونکہ یہ صعالیک زندگی کوحریر و پر نیاں اطلس و کم خوب نہیں سمجھتے تھے۔ زندگی میں انسان کو ہر قسم کی نرم گرم جھیلنے کی عادت ڈالنی چاہیے۔ مصیبتوں میں رونا دھونانہیں چاہیے اور جبفارغ البالی ہو تو اترانا نہیں چاہیے۔ شنفری کہتا ہے ؎
تلا فزع من خلۃ متکشف
ولا مرح تحت الغنیٰ أتخیّل
اور ؎
کسی درخت کے نیچے کہیں بیاباں میں
گزر ہی جائے گی ہم خانماں خرابوں کی
دوست احباب اگر بے وفائی کریں تو بھی ہم کو غم نہیں۔ ہم اس پر افسوس نہیں کرتے۔ ان کے غم میں روتے دھوتے نہیں یا ان کی بے وفائی وسردمہری کا گلا نہیں کرتے۔ بقول ’تابط شرا‘ ؎
ولا أقول إذا ما خلّۃ مرمت
یا ویح نفسی من شوق وإشفاق
اس طرح اپنی عزت و شرف ، خودی و خود داری اور اعلیٰ اقدار کو حرز جان بنائے ہوئے موت آجائے۔ اور ہمیں رونے والا کوئی بھی نہ ہو تو ہمیں مطلق بھی غم نہ ہوگا ، کیونکہ ہمارا اس دنیا میں سوائے اپنی ذات اور اپنی قوت بازو کے ہے کون؟ نہ خالائیں ، نہ چچیاں اور نہ عیادت و غمگساری کرنے والے دوست۔ اپنا سب کچھ میں ہوں اور میری تگ و دو۔ بقول شنفری! ؎
اذا ما اتتنی میتتی لم ابالھا
ولم تذر حالاتی الدموع وعمتی
ألا لا تعد فی إن تشکیت خلتی
شفافی بأعلی ذی البر یقین عدوتی
پئے فاتحہ کوئی آئے کیوں، کوئی آکے شمع جلائے کیوں
کوئی چار پھول چڑھائے کیوں، میں وہ بے کسی کا مزار ہوں
جب ان کی مہموں اور آزادکوشیوں کے قصے ان آبادیوں میں آتے تو ان کے منچلے نو جوانوں کے دلوں میں بھی آزاد زندگی گزارنے کی امنگیں انگڑائیاں لینے لگتیں اور ان میں سے بعض ان سے جاملتے اور اس طرح ع
ہم سفر آتے گئے اور کارواں بنتا گیا
عام طور سے یہ نوجوان بڑے طاقتور، بڑے بہادر اور بڑے سخت جان تھے۔ صحرا کی چلچلاتی سخت دھوپ میں یا خون جما دینے والی سخت سرد یا تاریک راتوں میں ، میلوں اور مدتوں سفر کرنا ان کے لیے معمولی بات تھی۔ خطرے کے موقعوں پر ہرنوں سے زیادہ میلوں تیز بھاگنا ، مدتوں بغیر کھائے پیے چلتے رہنا اور ہر وقت جان کو تھیلی پر لیے رہنا۔ ان کی زندگی کے معمولات میں داخل ہو چکا تھا۔ یہ لوگ غریب، مفلس اور قلاش تھے۔ لیکن ان میں غربت و فلاکت سے پیدا شدہ بیماریاں، جیسے ٹچا پن، خودی اور ضمیر کا فقدان اپنی بے وقعتی یا احساس کمتری ذرہ برابر نہ تھا۔ اپنی تہی مائیگی و سوختہ سامانی کے باوجود یہ لوگ بڑے غیرت مند، فیاض، ایک دوسرے کے غم گسار، دوست نو از صلح جو ، دل کے جیالے اور عزم وارادہ کے پختہ نوجوان تھے ؎
أبی لما أبی سریع مباء تی
إلٰی کل نفس تنتحی فی مسرتی
حالات نے انھیں مادی وسائل سے محروم کر دیا تھا لیکن قدرت نے ان میں سے بعض کو ایسا ذہن رسا اور ایسا ذوق سلیم اور ایسا حس لطیف اور باریک نظر عطا کی تھی کہ باوجود اپنی سخت کوشی و بے راہ روی کے دنیائے شعر و شاعری میں روشن ستارے بن کر چمکے۔
ان صعا لیک نے اپنی شاعری میں ایک طرف اپنی مخصوص زندگی سے حاصل شدہ تجربات کی روشنی میں، زندگی کے بعض لافانی حقائق کی نشان دہی کی ہے اور ازلی قدروں کے گیت گائے ہیں۔ فقر و غنا کے رمز کو سمجھانے اور موت و حیات کے چہرے سے نقاب ہٹانے کی کوشش کی ہے تو دوسری طرف دکھ درد کی ماری زندگی اور اپنے پیاروں اور اعزہ واقارب سے دوری و مجبوری کے جان گسل لمحات نے ان کے دل کے تاروں کو جب جھنجھنایا ہے تو اس کی صدائے بازگشت ہجر و فراق کے ان دل خراش اشعار میں سنائی ہے ، جن کی کسک اب بھی دل والوں کے رگ جان پر نشتر کا کام کرتی ہے اور یہ سب کچھ ان کے ان لمبے قصیدوں میں ملتا ہے جو اب بھی بڑے ذوق و شوق سے پڑھے جاتے ہیں اور اپنی سلاست و روانی ، شگفتہ بیانی اور فصاحت و بلاغت میں نمونہ سمجھیجاتے ہیں۔
دور جاہلی کے طبقہ صعالیک میں پانچ نوجوان بہت مشہور ہوئے۔ الشنفری، تأبط شرا، سلیک بن السلکہ، عمروبن براق اور اسید بن جابر۔ ان میں سے ذیل کے تین صعالیک نے میدان شعر و شاعری میں بھی بڑا نام پیدا کیا۔ ایک الشنفری اور دوسرے تابط شرا، اور تیسرے سلیک بن السلکہ۔ ذیل میں ان میں سے صرف دو پر تفصیل سے گفتگو کی جاتی ہے۔ اور وہ ہیں الشنفری اور دوسرا تابط شرا۔
الشنفریٰ(510)
الشنفریٰ خالص عرب قحطانی یمنی اور قبیلہ ازد کافرداور صعالیک الشعرا میں ایک ممتاز پر گو شاعر ہے۔ 1؎ تذکرہ کی کتابوں میں جابجا متفرق طور سے اس کے زندگی کے جو حالات ملتے ہیں ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس کا باپ بچپنے ہی میں مار ڈالا گیا تھا اور اس کے خاندان والوں نے نہ صرف یہ کہ اس کے خون کا بدلہ نہیں لیا بلکہ باپ کے مرتے ہی آنکھیں بھی پھیر لیں۔ ماں نے جب یہ دیکھا کہ مصیبت کے یہ دن سسرال میں نہ بیت سکیں گے تو الشنفریٰ اور اس کے ایک چھوٹے بھائی کو لے کر اپنے میکہ قبلہ فہم میں چلی آئی۔ لیکن یہاں بھی اسے وہ سکون چین اور عزت نہ نصیب ہوسکی جس کی اسے توقع تھی۔ چنانچہ جب شنفریٰ بڑا ہوا تو اسے اپنے دادی ہالی اور نا نہالی دونوں خاندانوں سے سخت نفرت اور عداوت پیدا ہو گئی جس کی وجہ سے نہ صرف اس نے ان سب سے رشتہ توڑ لیا بلکہ بعد میں انھیں قبیلوں پر سخت حملے کرتا رہا۔ ایک روایت یہ بھی ہے کہ اس کے قبیلہ ازدنے اس کے نانہالی قبیلہ فہم کے ایک شخص کو قتل کر دیا تھا۔ جب ان لوگوں نے خون بہا کا مطالبہ کیا تو از دیوں نے الشنفریٰ، اس کی ماں اور اس کے چھوٹے بھائی کو بطور رہن ان کے حوالے کر دیا اور ان کی کسمپر سی اور بے چارگی کی وجہ سے خون بہا ادا کر کے ان کو آزاد نہیں کرایا۔ چنانچہ شنفریٰ انھیں کے یہاں بڑی ذلت وخواری کی حالت میں پلا بڑھا اور جب جوان ہوا تو ان لوگوں کی طرف سے سخت نفرت و عداوت کے جذبات اس کے دل میں پیدا ہو چکے تھے۔ اسی وجہ سے اپنی غارت گری اور حملہ کا نشانہ انھیں کو بناتا تھا اور ان میں سے جو بھی مل جاتا ، اسے جان سے مار ڈالتا۔ مفضل ضبی نے روایت کی ہے کہ الشنفریٰ کے نانہالی قبیلہ ’فہم بن قیس بن عیلان‘ کی ایک شاخ ’بنوشابہ‘ نے اسے بچپنے میں قید کر لیا۔ چنانچہ الشنفریٰ ان کے یہاں رہنے لگا۔ ایک دفعہ بنو سلامان بن مفرج نے جو بنوازد (شنفری کا داد یہالی خاندان) کا ایک بڑا خاندان تھا۔ بنو شبابہ کے ایک آدمی کو جو بنو فہم (شنفری کا نانہالی خاندان) کا ایک فرد تھا کہیں گرفتار کر لیا۔ جب بنو شبابہ نے اپنے آدمی کو واپس مانگا تو بنو سلامان نے اس کے بدلے میں 200 سو اونٹ مانگے۔ چنانچہ انھوں نے الشنفری کو بدلے میں دے کر اپنا آدمی چھڑا لیا اورشنفری اب ان کے یہاں رہنے سہنے لگا۔ لیکن ایک ایسا واقعہ پیش آیا کہ جس سے اس کی آنکھوں سے پردہ ہٹ گیا اور اسے اپنی ذلت وخواری کا ایسا احساس ہوا جو اسے ہمیشہ انتقام کی آگ میں جلاتا رہا۔ ہوا یہ کہ ایک دفعہ اس نے اپنے خیالی باپ کی لڑکی سے یہ کہا کہ ’’اے بہن ذرا میرا سر تو دھو دو‘‘ تو اس نے چٹاخ سے اس کے سر پر ایک طمانچہ رسید کر دیا اور بولی کہ تو مجھے اپنی بہن کہتا ہے۔ تیری یہ مجال ؟ اس پر وہ غصہ میں بھرا ہوا اپنے خیالی باپ کے پاس گیا اور بولا کہ یہ بتاؤ کہ میں کون ہوں، کس کا بیٹا ہوں؟ تو اس نے کہا کہ تم دراصل ’ اداس بن حجر‘ کے خاندان کے فرد ہو۔ میرے بیٹے نہیں۔ یہ سن اس کے تن بدن میں آگ لگ گئی اور اس نے اس کو مخاطب کر کے کہا کہ تم نے مجھے غلام بنا کر جس طرح ذلیل و خوار کیا ہے، اس کے بدلے میں میں تمھارے 100 آدمی جب تک جان سے نہ مار ڈالوں گا اس وقت تک چین سے نہ بیٹھوں گا۔
یہ بھی روایت ہے کہ اس کے باپ کو از دہی کے قبیلے کے ایک آدمی حرام بن جابر نے قتل کیا تھا جس کی وجہ سے اسے ساری ذلتیں اٹھانی پڑیں اور در بدر کی ٹھوکریں کھانی پڑیں۔ چنانچہ اس نے سب سے پہلے منی کے مقام پر موقع پا کر جابر بن حرام کو قتل کیا اور اس کے بعد جو بھی از دی اس کے ہاتھ لگ جاتا اسے زندہ نہ چھوڑتا۔
غرضیکہ شنفریٰ کی خانماں بربادی اور صعلوکیت اختیار کرنے کے مختلف اسباب راویوں نے بیان کیے ہیں۔ ان کو غور سے پڑھ کر ایک دوسرے سے جوڑ دیا جائے تو یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ شنفری کے ساتھ نہ تو اس کے نانہالی رشتہ داروں نے اور نہ ہی اس کے اپنے خاندان ازد نے محبت خلوص اور اپنائیت کا سلوک کیا ، بلکہ اسے ہر جگہ ذلیل سمجھا گیا، اسے غلام بنایا گیا۔ اسے یتیمی اور کسمپرسی کی زندگی پر مجبور کیا گیا اور ان حالات کا رد عمل شنفری پر یہ ہوا کہ وہ جوں جوں بڑا ہوتا گیا اسے عزیز و اقارب، خاندان حتی کہ اس معاشرہ سے بھی نفرت پیدا ہو گئی جس نے اسے اس طرح تباہ و برباد ہوتے دیکھا۔ لیکن اس کی دادرسی نہیں کی۔ ظالموں کو سزا نہ دی اور مظلوموں کی فریاد نہ سنی۔ اور اس طرح اس کے دل میں اس ظالم سماج کے خلاف بھی جذبات پرورش پانے لگے، جس کی وجہ سے اس نے اور اس کے ساتھیوں نے اس سماج کی ہر ریت اور رسم ورواج کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دیں۔
قدرت نے اسے بڑے اچھے ہاتھ پاؤں دیے تھے۔ بڑا ہو کر بڑا گرانڈیل ، تنومند اور طاقتور جوان نکلا اور دوڑنے میں اتنا برق رفتار تھا کہ بڑے سے بڑا صبا رفتار گھوڑا بھی اس کی گرد کو نہیں پہنچ سکتا تھا۔ تابط شرا کی نگاہ دور بین نے ، جو خود بھی ایک صعلوک تھا ، اور رشتہ میں اس کا ماموں لگتا تھا، اس نے نوجوان کی تیکھی نگاہوں، اور دل و دماغ میں ابلتے جذبات کو تاڑ لیا چنانچہ اس نے اس کو اپنی جمعیت خانماں برباداں میں شامل کر لیا اور ساری عمر بڑی محبت اور خلوص کا سلوک کرتا رہا۔ شنفری بھی اپنے قبیلہ ازد کی ریت کے مطابق اسے اپنی ماں یعنی گرد کہا کرتا تھا‘‘از دی اپنے سردار کو ’الام‘ یعنی ماں کے لقب سے پکارتے تھے ) اور مرتے دم تک اس کا ہمدم و دمساز رہا اور رزم و بزم ہر جگہ اس کا شریک و سہیم۔
الشنفری اپنی جسمانی طاقت و توانائی کے ساتھ عرب قوم کا سب سے تیز دوڑنے والا شخص بھی تھا۔ ان صعا لیک میں تین یعنی الشنفری، تابط شرا اور سلیک بن السلکہ ایسے تیز دوڑنے والے مشہور تھے کہ ان کو گھوڑے بھی نہیں پکڑ سکتے تھے۔ چنانچہ بسا اوقات وہ لوٹ مار کر کے اتنی تیزی سے بھاگ جاتے کہ گھوڑ سوار ان کی گرد راہ ہی میں الجھ کر رہ جاتے۔ روایتوں میں یہاں تک آتا ہے کہ یہ لوگ ہرنوں کے غول کو جب دیکھتے تو اس میں سب سے موٹے ہرن کو چن لیتے اور پھر غول کو دوڑانا شروع کرتے اور آخر کار اسی موٹے ہرن کو پکڑ کردم لیتے۔ اسے ذبح کرتے اور خوب سیر ہو کر کھاتے۔
کہتے ہیں کہ قدرت کسی کے ساتھ ظلم یا زیادتی نہیں کرتی۔ اگر کسی کو کسی چیز سے محروم کرتی ہے تو کوئی دوسری نعمت بے بہا ایسی عطا کر دیتی ہے کہ ساری محرومیوں کی نہ صرف تلافی ہو جاتی ہے بلکہ کچھ زیادہ ہی مل جاتا ہے۔ شنفری کو قدرت نے بچپنے ہی سے باپ سے محروم کر دیا تھا جس کی وجہ سے اس نے جگہ جگہ کی ٹھوکریں کھائیں، ذلت و خواری کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوالیکن دوسری طرف قدرت نے اسے تنومند و توانا جسم کے ساتھ بلا کا ذہن رسا عطا کیا تھا۔ ابھی پوری طرح وہ جو ان بھی نہیں ہوا تھا کہ اس نے شعر کہنا شروع کر دیا اور سب سے پہلا شعر جو اس نے کہا اس کی تقریب یہ ہوئی کہ اس کا چھوٹا بھائی مر گیا، اس حادثے پر اس کی ماں رونے دھونے لگی ، تواس نے کہا ؎
لیس لوالدۃ ھمھا
ولا قیلھا لا بنھا دع دع
تطوف وتحذر أحوالہ
وغیرک أملک بالمصرع
شنفری جب جوان ہوا تو اس نے ذلت و نکبت ، غلامی و خواری کی یہ زندگی چھوڑ کر صحراؤں اور پہاڑوں کی راہ لی۔ اپنے اس عزم کا اظہار اور اس کو عملی جامہ پہنانے کی مہم کے سلسلے میں اس نے ایک لمبا قصیدہ بھی کہا ہے جس میں اپنے نانہال والوں کو مخاطب کر کے اس عزم و ارادہ کے اسباب بتائے ہیں اور زندگی سے متعلق اپنا فلسفہ واضح کیا ہے۔ قصیدہ کا مطلع ہے:
’اقیمو بنی عمی صدور مطیکم‘
اس نئی دنیا میں شنفری تنہا نہ تھا بلکہ اس جیسے کچھ اور بھی دل جلے ، جیسے تابط شرا ، سلیک بن السلکہ اور دوسرے منچلے اور چھٹیرے نوجوان اسے مل گئے تھے اور اس طرح یہ فطرت کی آغوش میں آزاد اور قید و بند سے دور زندگی گزارنے لگا۔
خاندان اور اس کی چیرہ دستیوں سے آزاد ہونے کے بعد اس نے انھیں کو اپنا نخچیر بنایا اور جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے اس نے اپنے منہ بولے باپ ، قبیلہ بنوسلامان کے اس آدمی سے اسی وقت کہہ دیا تھا ، جب اس کی لڑکی نے طمانچہ مار کر اس کی ہتک عزت کی تھی کہ جب تک میں تم میں سے سو آدمی نہ مار لوں گا، چین وسکون سے نہ بیٹھوں گا۔ چنانچہ اس نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ان پر مختلف اوقات میں سخت حملے کیے جن میں بہتوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ بنو سلامان پر اس قسم کے حملوں کے دوران ہی وہ واقعہ پیش آیا جس میں ایک سلامی ان کے ڈر سے بھیٹریا کے شکار کرنے کے لیے گڑھے میں کود پڑا تھا اور جسے ان لوگوں نے تیروں کی بارش کر کے بھیڑیے کے ساتھ موت کے گھاٹ اتار دیا۔ اور جس کے بعد سلامیوں سے بہت سخت معرکہ ہوا۔ اس معرکہ کی یاد شنفری کا وہ قصیدہ ہے، جس کا مطلع ہے ؎
ألا اُم عمرو أجمعت فاستقلت
وما ودعت جیرا انھا إذتولت
ادھر سلامی بھی شنفری کے آئے دن کے جملوں سے تنگ آکر اس کی جان کے در پے ہو گئے تھے اور جہاں موقع ملتا تھا گھات لگا کر اس کو قتل کرنے کی ترکیبیں کرتے رہتے تھے لیکن شنفری ہمیشہ ان کے جال سے نکل بھاگتا اور وہ منہ تکتے ہی رہ جاتے۔
مفضل فعمی نے مورّج سے روایت کی ہے کہ شعری نے بنو سلامان کے 99 آدمی قتل کر دیے تھے۔ کہتے ہیں کہ جب وہ کسی سلامی کو زندہ پکڑ لیتا تھا تو اس سے کہتا تھا کہ بول اب تیری آنکھیں پھوڑ دوں؟ اور اس کے بعد تاک کر اس کی آنکھ میں تیر مارتا اور اس کے بعد اسے قتل کر دیتا۔ سلامی جب خود اس کو پکڑنے میں ناکام ہو گئے تو انھوں نے ایک دوسرے قبیلہ بنو الرمد کو اس کام پر مامور کیا۔ چنانچہ جب شعری ایک دن ان پر حملہ کرنے کے لیے آیا تو وہ سب اس پر ٹوٹ پڑے لیکن وہ ان سے پیچھا چھڑا کر ایسا بھا گا کہ یہ لوگ اس کی گرد کو بھی نہ پاسکے۔ چنانچہ ان لوگوں نے اس کے تعاقب میں جیش نامی ایک کتے کو چھوڑ دیا لیکن وہ بھی اس کو نہ پا سکا اور شنفری صاف بچ کر نکل گیا۔
شنفری کے اس قسم کے معرکوں میں ایک اور بہت نامی معرکہ کا ذکر آتا ہے۔ شنفری کے باپ کو حرام بن جابر نے جو خود شنفری کے قبیلہ از وکا ایک فرد تھا قتل کر دیا تھا۔ اس کا باپ غریب آدمی تھا اس لیے کسی نے اس کے خون کا مطالبہ نہیں کیا۔ باپ کے اس طرح بے دردی سے قتل ہو جانے اور پھر بدلہ نہ لینے پر اس کا دل بہت دکھا اور اس نے اس سلسلہ میں کچھ شعر بھی کہے جس میں اس کی بے کسی اور کسمپر سی کا ذکر کر کے اس وقت اپنی غیر موجودگی پر اظہار افسوس کیا ہے اوراپنے خاندان والوں کو غیرت دلائی ہے۔ اتفاق سے حرام بن جابر حج کے دوران اسے منی کے مقام پر مل گیا اور اس نے وہیں اسے قتل کر دیا۔ لوگ جب اس پر جھپٹے تو سرپٹ بھاگ کھڑا ہوا اور کسی کے ہاتھ نہ آیا۔ اس موقع پر اس نے فخریہ ایک شعر بھی کہا ؎
قتلت حراماً مھدیا بملبد
بطن منیٰ وسط الحیح المصوت
یعنی حرام کو میں نے عین حالت احرام میں وادی منی میں لبیک کہنے والے حاجیوں کے درمیان ایک دوسرے احرام باندھے ہوئے شخص ( اس کا والد ) کے بدلے میں قتل کر ڈالا۔ اس واقعہ کی خبر حرام کے بھائی اسید بن جابر کو جو خود بھی بہت نامی اور بہادر سردار تھا، ایک آدمی نے سنائی اور یہ بھی کہا کہ میں نے ابھی اسے حباشہ کے بازار میں دیکھا ہے۔ اسید نے اس سے پوچھا کہ تم نے اچھی طرح اطمینان کر لیا ہے کہ وہ الشنفری ہی تھا۔ اس پر اس آدمی نے کہا کہ خدا کی قسم وہی تھا۔ یہ سن کر اسید بولا کہ خدا کی قسم وہ جب تک اپنے کرتوتوں کا مزہ نہ چکھ لے گا بچ کر نہیں جا سکتا۔ چنانچہ اس نے اپنے مقتول بھائی حرام کے دولڑکوں کو ساتھ لیا اور سب رات کی تاریکی میں شنفری کے راستے میں گھات لگا کر بیٹھ گئے۔ جب رات بھیگ گئی تو شنفری کے آنے کی آہٹ ہوئی مگر اس طرح کہ اس کے ایک پاؤں میں جو تا تھا اور دوسرے پاؤں سے ننگا تھا۔ یہ چال اس نے اس لیے چلی تھی کہ کسی کو آدمی کی چال کا شک نہ ہونے پائے ، چنانچہ آہٹ جب اور قریب ہوئی تو اسید کے بھتیجوں نے کہا کہ بخدا یہ انسان کی چاپ نہیں تو یہ بجو کی چال ہے۔ مگر اسید نے کہا کہ ہر گز نہیں ، خدا قسم یہ وہی کمبخت ہے۔ اس لیے تم لوگ اب تیار ہو جاؤ۔ ادھر شنفری کو جب ان کے سائے دکھائی دیے تو وہ الٹے پاؤں واپس ہو گیا۔ اس پر لڑکے نے کہا بخدا بڑا چالاک ہے۔ ہماری موجودگی کو بھانپ گیا اور بھاگ گیا۔ اسید نے کہا ہر گز نہیں، وہ اپنی اس حرکت سے ہمیں اپنا پیچھا کرنے کی دعوت دے رہا ہے۔ وہ پھر واپس آئے گا تم دیکھ لینا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ شنفری تھوڑی دیر کے بعد پھر واپس آیا۔ اب کی دفعہ بھی جب اسی جگہ پر اسے ان لوگوں کی موجودگی کا شبہ ہوا تو اس نے تاک کر اس اندھیرے میں ایسا تیر مارا جو اسید کی دونوں پنڈلیوں کو چیرتا ہوا نکل گیا۔ مگر موقعے کی نزاکت کی وجہ سے اسید نے کوئی حرکت نہیں کی بلکہ دم سادھے بیٹھا رہا۔ اب شنفری کو اطمینان ہو گیا کہ راستے میں کوئی ہے نہیں۔ چنانچہ وہ بے دھڑک آگے بڑھ گیا۔ یہاں تک کہ جب ان لوگوں کے برابر پہنچا تو وہ سب اس پر ٹوٹ پڑے اور اس کو پکڑ کر رسے سے ہاتھ پاؤں باندھ دیے اور گھسیٹتے ہوئے اپنے قبیلہ میں لائے اور اوندھے منہ زمین پر ڈال دیا۔ جب یہ خبر قبیلہ میں پہنچی تو بہت سے لوگ جمع ہو گئے۔ اور شنفری کے انجام کے بارے میں گفتگو ہونے لگی۔ بعض کا خیال تھا کہ اس کی گردن مار دی جائے مگر غالبا بڑے بوڑھوں کی رائے یہ ہو رہی تھی کہ ہمارے ہی خاندان کا آدمی ہے۔ طاقتور، بہادر ، دوڑنے میں برق رفتار اور ان سب خصوصیات سے بڑھ کر اچھا شاعر بھی ہے۔ اس لیے اس سے صلح کر کے اسے اپنا لیا جائے تا کہ یہ قوت اور اپنی خدا داد صلاحیتیں جو یہ پہلے ہمارے خلاف استعمال کرتا تھا۔ ہماری طرف سے مدافعت میں استعمال کرنے لگے۔ یہ گفتگو ایک نوخیز لڑ کا بھی سن رہا تھا جس کے باپ کو شنفری نے قتل کر دیا تھا۔ اسے یہ خطرہ ہوا کہ یہ بڑے بوڑھے اسے کہیں معاف نہ کر دیں اور اس طرح میرے باپ کے خون کا بدلہ رہ جائے۔ اس نے بغیر کسی کو بتائے خنجر کے ایک وار سے اس کا ہاتھ کاٹ کر اس کے سامنے ڈال دیا۔ اس ہاتھ کی ہتھیلی میں ایک کالا تل بھی تھا جسے دیکھ کر شنفری نے چند شعر بھی کہے ۔
لوگوں نے جب یہ دیکھا کہ پکھوڑے سے اس کا ہاتھ کٹ گیا ہے تو سمجھ گئے کہ اب اس کا بچنا مشکل ہے۔ چنانچہ اسید بن جابر نے اعلان کیا کہ اگر شنفری پر کسی کا کوئی مطالبہ ہو تو آکر اپنا مطالبہ مانگ لے۔ چنانچہ لوگ جمع ہوئے اورسب کے سامنے اسے ایک درخت سے باندھ دیا گیا اور اسی حالت میں مرگیا۔
ابن ضمی نے ایک دوسری روایت میں بیان کیا ہے کہ اسید بن جابر وغیرہ اسے رسیوں سے باندھ کر اپنے قبیلہ میں لائے اور ایک درخت سے باندھ دیا۔ جب صبح ہوئی تو اس سے شعر پڑھنے کی فرمائش کی۔ اس پر شنفری نے جواب دیا کہ ’انما النشید علی المسرۃ‘ شعر خوشی کے موقع پر اچھا لگتا ہے۔ چنانچہ اس کا جملہ ضرب المثل بن گیا۔ اس کے بعد ایک لڑکے نے اس کاہاتھ پکھوڑوں سے کاٹ کر اس کے سامنے ڈال دیا۔ اپنی ہتھیلی کے کالے تل پر جب شنفری کی نظر پڑی تو اس نے ایک شعر پڑھا۔ اس کے بعد لوگوں نے اس سے پوچھا کہ سولی پر چڑھانے کیبعد تم کو کہاں دفن کریں، تو جواب میں اس نے شعر پڑھے ؎
لا تقبروانی إن قبری محرم
علیکم لکن أبشری اُم عامر
إذا احتملوا رأسی وفی الرأسی أکثری
وغو در عند الملتقی ثمّ سائری
ھنالک لا أرجو حیاۃ تسرنی
سجیس اللیالی میسلاً بالجرائر
تم لوگ مجھے دفن نہ کرنا۔ تم لوگوں پر میرا دفن کرنا حرام ہے۔ البتہ بجو کو بشارت ہو کہ جب لوگ میر ا سر کاٹ لے جائیں گے اور باقی دھڑ ڈال جائیں گے تو اسے کھانے کا موقع مل جائے گا۔ ایسی حالت میں کہ میں لمبی لمبی راتوں میں بے یارو مددگار جرائم کا بوجھ اٹھائے پڑار ہوں، مجھے کسی خوش کن زندگی کی تمنا نہیں ہے۔
کہتے ہیں کہ جب شعر پڑھ چکا تو ایک سلامی نے سامنے آکر اس سے کہا کہ بول اب تیری آنکھیں پھوڑ دوں؟ پھر اس نے اس کی آنکھوں میں ایک نیزہ مارا اور اس طرح اسے قتل کر دیا۔ مرنے سے پہلے شنفری نے اس سے کہا کہ’’ ایسا ہی میں تم لوگوں کے ساتھ بھی کرتا تھا۔‘‘ جیسا کہ معلوم ہے کہ شنفری نے قسم کھائی تھی کہ قبیلہ ازد کے اس شاخ بنو سلامان میں سے 100 آدمی جان سے مارے گا۔ اب تک وہ 99 آدمی مار چکا تھا۔ اس کو قتل کرنے کے بعد سلامیوں نے اس کے سر کو قبیلہ میں ڈال دیا تھا۔ اتفاق سے ادھر سے ایک سلامی گزرا اور اس نے اس کے سر کو ٹھوکر ماری۔ کھوپڑی کی ایک ہڈی اس کے پیر میں چبھ گئی اور اس سے زہر باد ہو گیا اور وہ مر گیا اور اس طرح100 آدمی مارنے کی شنفری کی قسم پوری ہو گئی۔ شنفری کے مرنے کے بعد اس کے مربی اور دکھ درد کے ساتھ تابط شرا نے اس طرح اس کا مرثیہ کہا ؎
علی الشنفری ساری العمام درائح
غزیر الکلی وصیب الماء باکر
علیک جزأ مثل یومک بالجبا
وقدر عفت منک السیوف البواتر
ویومک یوم العیکتین وعطفۃ
عطفت وقدمس القلوب الحناجر
تجول ببزأ الموت فیہ کاَنّھم
لشوتک الحدّیٰ ضیئن نوافر
فانّک لو لاقیتنی بعد ماتری
وھل یلقین من غیبتہ المقابر
کہتے ہیں کہ شنفری کا ڈگ (دو قدموں کے درمیان کا فاصلہ) جب ناپا گیا تو معلوم ہوا کہ پہلا ڈگ 21 قدم کا، دوسرا 17 قدم کا اور تیسرا ڈگ 15 قدم کا تھا اور اس سے اس کے ہرنوں سے بھی تیز دوڑنے کا راز معلوم ہوجاتا ہے۔
شنفری کا قصیدہ
ألا أم عمرو أجمعت فاستقلت
وما ودعت جیرانھا إذا تولّتِ
شنفری کے اس قصیدہ کی شان نزول میں مختلف واقعات بیان کیے گئے ہیں، جن میں سب سے معتبر اور اشعار کی فضا سے مطابق وہ شان نزول ہے جسے ابو محمد القاسم بن محمد بن بشار الانباری! نے اپنی مرتب کی ہوئی دیوان المفضلیات کی شرح میں بیان کی ہے۔ چنانچہ الانباری نے احمد بن عبید وغیرہ سے روایت کی ہے کہ اس قصیدہ کے کہنے کا سبب یہ ہوا کہ فطری اپنے 30 ساتھیوں کے ساتھ ، جن میں تابط شرا بھی تھا، بنو سلامان بن مفرح پر جو قبیلہ از د (شنفنری کا قبیلہ ) کی ایک شاخ تھا، حملہ کرنے کی نیت سے نکلا۔ یہ لوگ بنو سلامان کی جائے اقامت کے قریب مشعل نامی ایک وادی میں رات گزارنے کی نیت سے ٹھہرے۔ تھوڑی دیر میں انھوں نے بکری کے ممیانے کی آواز سنی، اور سمجھ گئے کہ آس پاس کوئی آدمی بھی ضرور ہو گا۔ چنانچہ انھوں نے اپنی آنکھیں اس طرف لگا دیں۔ اتنے میں ایک بھیڑ یا بکری کی آواز سن کر ادھر آیا اور اس کو شکار کرنے کی غرض سے اس نے جو جست لگائی تو اس گڑھے میں گر پڑا جسے اس کو شکار کرنے کے لیے کھودا گیا تھا۔ یہ دیکھ کر یہ سب لوگ ادھر دوڑ پڑے۔ گڑھے کے پاس پہنچے تو دیکھا کہ ایک آدمی بھی اسی طرف دبے پاؤں رینگ رہا ہے۔ آدمی نے جب ان لوگوں کو اپنی طرف آتے دیکھا تو ڈر اور گھبراہٹ میں اس نے اسی گڑھے میں چھلانگ لگادی جس میں بھیڑ یا گرا تھا۔ ان صعا لیک نے جو یہ منظر دیکھا تو گڑھے کے اندر تیروں کی بارش شروع کر دی۔ جس سے بھیڑیا اور آدمی دونوں مر گئے۔ جب گڑھے میں سے اس آدمی کو باہر نکالا تو معلوم ہوا کہ یہ ابن الافطس ، ایک دوسرے قبیلہ کا آدمی ہے۔ چنانچہ یہ لوگ قبیلہ کے ڈر سے وہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے اور ایک پہاڑ کے دامن میں جا کر پناہ لی۔ادھر مقتول کے قبیلہ والے اس کی چیخ سن کر اس طرف کو چل پڑے تھے، اور سن گن پا کر وہ بھی پہاڑ کے دامن تک آلیے۔ اور چاروں طرف سے ان سب کو گھیر لیا، جب شنفری اور اس کے ساتھیوں نے دیکھا کہ اب بھاگنے کی کوئی راہ نہیں ہے تو وہ بھی خم ٹھونک کر سامنے آگئے۔ اب کیا تھا دونوں پارٹیوں میں معرکہ گرم ہو گیا اور خاصی دیر تک جم کر مقابلہ ہوتا رہا، جس کے نتیجے میں دونوںفریقوں کو سخت زخم آئے اور بغیر ہار جیت کے فیصلہ کے دونوں فریق نے اپنی اپنی راہ لی۔
ان صعا لیک کے یہاں یہ رواج تھا کہ جب یہ لوگ غارت گری کرنے کے لیے نکلتے تو تابط شرا کو کھانے پینے کی چیزوں کا ذمہ دار بنا دیتے تھے۔ چنانچہ اس معرکہ میں بھی حسب روایت ، تابط شرا ذمہ داری سنبھالے ہوئے تھا۔ تابط شرا کی یہ عادت تھی کہ لڑائی کے موقعوں پر کھانا بہت ناپ تول کے دیتا تھا، اور کہتا تھا کہ میں یہ حرکت بخل کی وجہ سے نہیں کر رہا ہوں بلکہ صرف اس خیال سے کہ کہیں لڑائی طول کھینچ گئی اور مال غنیمت نہ حاصل ہوا اور اپنا پس انداز بھی ختم ہو گیا تو تم لوگ بھوکوں مرجاؤ گے۔ چنانچہ اس موقع پر شہری نے یہ قصیدہ کہا جس میں تابط شرا کی اس مصلحت بینی اور دور اندیشی کی طرف اشارہ بھی کیا ہے۔
شنفری نے یہ قصیدہ جاہلی شعرا کی ریت کے مطابق، اپنی محبوبہ ام عمرو سے اظہار تشبیب کے ساتھ شروع کیا ہے اور حسین و چیدہ الفاظ اور بڑے ہی دل نشیں انداز ، اور خوبصورت اسلوب بیان سے اس کا ایسا حسین اور دل آویز مرقع کھینچا ہے کہ دشمن دین وایمان بنا دیا ہے۔ خود کہتا ہے کہ ’’لو جن انسان من الحسن جنت‘ یعنی اگر کوئی آدمی اپنے حسن کی وجہ سے دیوانہ ہو سکتا تو وہ بھی دیوانی ہو جاتی۔ آگے جب اس کی شرم و حیا و عفت و عصمت کا ذکر کرتا ہے تو ایک بدوی دو شیزا اپنی تمام رعنائیوں اور سحر طرازیوں کے ساتھ سامنے کھڑی ہو جاتی ہے۔ اور جب وہ مست خرام ہوتی ہے تو اسے ہولے ہولے، نظریں نیچے گڑوئے کہ جیسے کوئی قیمتی شے کھو گئی ہو اور وہ اسے پگ پگ ڈھونڈھ رہی ہو۔ پھر اپنی تعریف میں چند اشعار کہتا ہے اور اس کے بعد تا بط شرا کی تعریف شروع کرتا ہے۔ اور اس کو ام عیال (بچوں کی ماں) سے تعبیر کرتا ہے۔ یہ اس وجہ سے کہ جس طرح ماں اپنے بچوں کے کھانے پینے ، آرام و آسائش کا خیال رکھتی ہے۔ تابط شراً بھی ان لوگوں کا ایسا ہی خیال رکھتا تھا۔ قصیدہ کے آخر میں شہری نے اپنی عادات و اطوار اور خو بتائی ہے اور اسی پر قصیدہ ختم کر دیا ہے۔ اس قصیدہ میں الا نباری کی روایت کے مطابق 34 شعر ہیں۔
شنفری کا قصیدہ لامیۃ العرب 2؎
شنفری کا دوسرا مشہور قصیدہ وہ ہے جو عربی ادب میں لامیۃ العرب کے نام سے موسوم ہے۔ اس قصیدہ میں باتفاق روات 68 شعر ہیں۔ 1؎ اس قصیدہ میں شنفری نے نہ صرف اپنی ملکہ اپنے جیسے تمام صعالیک الشعرا کی زندگی کا حقیقی نقشہ بڑے اچھوتے انداز سے کھینچا ہے۔ ایک بے گھر، بے درد، بے یار و غم گسار ، مگر غیور خوددار، اور بہادر بدوی کس طرح اپنی زندگی صحرا ؤں بیابانوں میں درندوں اور جنگلی جانوروں کے درمیان گزارتا ہے۔ بھوک پیاس اور گرمی کی شدت، راتوں کی ہوش ربا وحشت اور تاریکی ، صحرا کی ہولنا کی، میں کس طرح صرف اپنی اونٹنی کے سہارے ایک منزل موہوم کی طرف چلتا رہتا ہے۔ اور اس طرح زندگی صرف اپنے سہارے، بغیر کسی کا احسان لیے، بغیر دست سوال دراز کیے بیت جائے کہ صعلوک کے لیے کسی کے سامنے دست سوال پھیلانا ننگ ہے چاہے اسے اس پیٹ کی خاطر اپنی جان ہی کیوں نہ دینی پڑے، کیونکہ ان سر پھروں کانظر یہ تھا کہ ؎
ہے کبھی جان اور کبھی تسلیم جان ہے زندگی
اور ’کبھی جان‘ اور ’کبھی تسلیم جان‘ کے اس پاٹ کے بیچ میں آکر عام طور سے یہ لوگ ہمیشہ کے لیے اپنی زندگی سے بہادرانہ ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔
اس قصیدہ کا مطلع ہے ؎
أقیمو بنی عمی صدور مطیکم
فانی إلی قوم سواکم لأمیل
یعنی اے میرے ننھیال والو کان کھول کر سن لو تم نے میری بڑی بے عزتی کی ہے، اب میں تم لوگوں کو چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے جارہا ہوں۔
شنفری کا یہ قصیدہ محض ان آزاد منش سر پھرے نوجوانوں کی داستان حیات اور نظریہ موت و زیست ہی نہیں ہے بلکہ دور جاہلی کے شاعرانہ کلام کا بہترین نمونہ اور ایک بدوی نوجوان کی صحیح زندگی کا مرقع بھی ہے۔ اس قصیدے کی مقبولیت کا اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ صرف اسی کو لامیۃ العرب کا خطاب دیا گیا۔ اس کی شہرت اور حسن قبول کی وجہ سے اس کی مختلف شرحیں لکھی گئی ہیں۔ اور اب تک اہل ذوق اسے فردوس گوش بنائے ہوتے ہیں۔ 1؎
بعض نقادوں کا خیال ہے کہ شنفری کا قصیدہ لامیتہ العرب اس کا کہا ہوا نہیں ہے بلکہ عباسی دور میں اسے گڑھ کر اس کے نام سے منسوب کر دیا گیا ہے۔ 2؎
شنفری کے بعض چیدہ اشعار
شنفری نے مدح، فخر اور حماسہ کے علاوہ غزل میں بھی طبع آزمائی کی ہے، اس کے غزلیہ اشعار اس کی محبوبہ امیمہ کی طرف منسوب کیے جاتے ہیں۔ اس کی غزلیہ شاعری کی مثال اس کے تائیہ قصیدہ میں ملتی ہے، جو بہت دل آویز اور موثر ہے۔ اس قصیدہ میں اپنی محبوبہ کا سراپا کھینچتیہوئے صرف ایک شعر میں اس کے سارے خد و خال کو ابھار کے رکھ دیا ہے کہتا ہے:
فدقت وجلت واسبکوت واکملت
فلوجن انسان من الحسن جنت
یعنی اس کا ناک نقشہ بڑا تیکھا ہے۔ اعضا بڑے سبک، اخلاق و عادات بہت ہی پیارے اور انداز و اطوار بڑے بانکے اور قد ، قدر عنا بس یوں سمجھو کہ قدرت نے اسے ہر طرح سے ایسا مکمل پیدا کیا ہے کہ اگر کوئی آدمی حسن کی وجہ سے دیوانہ ہو سکتا ہے تو وہ بھی دیوانی ہو جاتی۔
شنفری جیسے صحرا نورد، آزاد منش اور خون کی ہولی کھیلنے والے نوجوان کے دل میں بھی جب محبت اپنی جوت جگاتی تھی تو اس کی لپٹ سے اس کا پتھر جیسا دل بھی سلگ اٹھتا تھا اور جب ہجر و فراق کے جاں گسل لمحات زندگی کی لذتوں اور بادہ شبانہ کی سرمستیوں کو دکھ درد کی کہانی بنا دیتے تو وہ بھی دل پر ہاتھ رکھ کر آہ سر د بھرتا:
فوا کبداً ایمۃ بعدما
طمعت، فہبہا نعمۃ العیش زلت
دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے
آخر اس درد کی دوا کیا ہے
زندگی نے اور خود تونے مجھے بڑے دکھ دیے، مگر میں تجھ کو برا بھلا نہ کہہ سکا۔ تجھ کو بھلا نہ سکا اور جب بھی تیری یاد آگئی، تڑپا گئی۔
شنفری نے باوجود اپنی جہالت اور صعلوکیت کے حکمت و فلسفہ کی باتیں بھی کہی ہیں۔ اس قسم کے اشعار میں اس کا وہ شعر بہت مشہور ہے جس میں کہتا ہے کہ جب آدمی کو ایک جگہ عزت و آبرو سے رہنا نصیب نہ ہو تو اسے وہ جگہ چھوڑ کر اپنی دنیا الگ بسانی چاہیے۔
وفی الأرض منأی للکریم عن الأذی
وفیھا لمن خاف القلی متحول
شنفری نے اپنی غربت و فلاکت کے باوجود جو ہر خودی کو کبھی ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔ کہتا ہے ؎
ولکن نفساً حرۃ لاتقیم بی
علی الذم الا ریشما اتحول
صعالیک الشعرا میں تابط شراً، سلیک بن السلکہ کا بھی یہی انداز زندگی اور طرز کلام تھا۔
تابط شرا (م530)
صعالیک، یا خانماں برباد شعرا میں تابط شرا، بڑا جیالا ، طاقتور، دوڑنے میں صبا رفتار اور معاملات کو سمجھنے ، خطرات کو بر وقت اپنی چھٹی حس کے ذریعہ بھانپ لینے اور بر موقع تدبیر نکال کر اس پر عمل کر کے اپنا مقصد حاصل کرنے میں طاق تھا۔ اسی کے ساتھ اپنے ساتھیوں کا انتہائی مخلص، بر وقت ضرورت ان کی خاطر اپنی جان کی بازی لگا دینے سے بھی دریغ نہیں کرتا تھا۔ اسی لیے اس کو جیسا کہ پہلے ذکر ہوا سب صعا لیک ’ام العیال‘ بچوں کی ماں یعنی سر پرست و گرو کے نام سے یاد کرتے تھے اور بڑی قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ چنانچہ جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے شنفری نے اپنے قصیدے میں اس کی دل کھول کر تعریف و توصیف کی ہے۔ بدوی امتیازی خصوصیات کے ساتھ میدان شعر و شاعری میں بھی اس کو کمال فن حاصل تھا۔ اس کا کلام فکر وفن کا اچھا مرقع اور زبان و بیان میں مثالی نمونہ ہے۔ اس لیے اب تک ذوق و شوق سے پڑھا اور پڑھایا جاتا ہے۔
اس کا نام ثابت اور لقب تا بط شرا تھا۔ باپ کا نام جابر اور ماں کا نام امیمہ تھا۔ جو قبیلہ فہم کی ایک شاخ بنو القین کے ایک فرد کی لڑکی تھی۔ اس طرح تابط شرا نجیب الطرفین (یعنی ماں اور باپ دونوں کی طرف سے ) عرب ہے۔1؎
نام تو اس کا ثابت تھا لیکن تابط شرا کا لقب اس کے ساتھ ایسا چپکا کہ اس کا اصلی نام تو غائب ہو گیا اور وہ صرف ’تابط شرا‘ ہو کر رہ گیا۔ ’ تابط‘ کے معنی ہیں بغل میں رکھنا ، اور ’شر‘ کے معنی ہیں ’برائی‘ اس طرح ’ تابط شرا‘ کے معنی ہوئے ’برائی کو بغل میں رکھا‘ یا ’بری چیز کو بغل میں مار کر چلا۔‘
ثابت بن جابر کے نام کے ساتھ اس لقب کے چننے کے سلسلہ میں کئی قصے بیان کیے جاتے ہیں:
(1) کہتے ہیں کہ ثابت بن جابر ایک دفعہ صحرا میں چلا جا رہا تھا۔ اتفاقاً اسے ایک مینڈھا نظر پڑا۔ وہ اس مینڈھے کو اپنے بغل میں دبا اپنے قبیلہ میں واپس آنے لگا، راستہ بھر مینڈھا پیشاب کرتا رہا۔ جس سے اس کے سارے کپڑے خراب ہو گئے لیکن اس کو ا تارا نہیں لیکن جب گاؤں کے قریب پہنچا تو مینڈھا اتنا بھاری لگنے لگا کہ اس کو لادنا دشوار ہو گیا، چنانچہ ثابت نے اسے زمین پر پٹک دیا۔ اب جو اسے دیکھا تو معلوم ہوا کہ وہ ’غول‘ یعنی بھوت ہے۔ قبیلہ کے لوگوں نے جب پوچھا کہ بھئی تم یہ بغل میں کیا دبائے لا رہے تھے؟ تو بولا کہ بھوت۔ اس پر لوگوں نے کہا کہ ’لقد تابط شرا‘ بری چیز بغل میں لایا اور اسی کے بعد اس کا یہ لقب پڑ گیا۔
بھوت سے متعلق ایک قصہ اور بھی بیان کیا جاتا ہے۔ کہتے ہیں کہ تابط شرا ایک بہت ہی تاریک اور مہیب رات میں قبیلہ حذیل کے علاقہ حی بطان سے گزر رہا تھا کہ اسے ’ الفول‘ بھوت یا جن مل گیا اور راستہ روک کر کھڑا ہو گیا ، تا بط شرا اس سے رات بھر لڑ تارہا اور آخر کا راسے قتل کر ڈالا اور اس کی لاش سے ٹیک لگا کر سو گیا تا کہ صبح کو اچھی طرح دیکھے۔ جب صبح کو اس کا اچھی طرح معائنہ کیا تو دیکھا کہ وہ ایک بد ہیئت، بدقوارہ اور بھیا نک مخلوق ہے، سرایسا جیسے کسی بڑے بلے کا اور زبان پھٹی ہوئی… اس کے بعد اس کو بغل میں دبا کر اپنے قبیلہ میں لایا۔ لوگوں نے پوچھا کہ یہ کیا ؟ تو بولا بھوت۔ اس پر لوگوں نے کہا کہ ’تابط شرا‘ بری چیز بغل میں دبا کر لایا۔
بھوت سے اپنے معرکہ کا ذکر اور اس کے انجام کے بارے میں اس نے چند اشعار بھی کہے جس میں اس نے بھوت کا سراپا کھینچا ہے۔ کہتا ہے ؎
الا مَن مبلغ قتیان فھم
بما لاقیت عند رحی بطان
وانّی قد لقیت الفول تھوی
بسہب کالصحیفۃ صحصحان
مارنے کے بعد ٹیک لگا کر سونے اور صبح کو اسے دیکھ کر اس کا نقشہ یوں کھینچا ہے ؎
فلم انفک مُتکئاً علیھا
لانظ مصبحا ماذا اٰتانی
اذا عینان فی رأسٍ قبیحٍ
کرأس الھم مشتوق اللسان
(2) دوسری روایت یہ ہے کہ اس کی ماں نے ایک دفعہ اس سے کہا تو بڑا نکھٹو ہے ، تیرے بھائی باہر جاکر کچھ کما کر لاتے ہیں مگر تو بیٹھا بیٹھا روٹیاں تو ڑ تارہتا ہے۔ اس پر ثابت نے کہا کہ اچھا ماں میں بھی آج شام کو کچھ کما کر لاؤں گا، تو مجھے اپنا تھیلا دے دے۔ ثابت تھیلا لے کر جنگل گیا اور وہاں بہت سے سانپ پکڑے اور انھیں جھولے میں بھر ، بغل میں دبا کر شام کو گھر پہنچا اور جھولا ماں کے سامنے ڈال دیا، ماں نے جب شوق میں جھولا کھولا تو سارے سانپ نکل کر گھر بھر میں رینگنے لگے، بیچاری ڈر کے مارے چیخنے چلانے لگی اور گھر چھوڑ باہر بھاگ گئی۔ پڑوسیوں نے پوچھا کہ ’’ بہن ثابت آج کیا لایا ہے؟‘‘ تو بولی کہ ’’ تھیلے میں سانپ بھر کر لایا تھا‘‘ ، اس پر عورتوں نے کہا کہ آخر سانپ بھرے تھیلے کو لایا کیسے؟ ماں نے کہا کہ ’’بغل میں دبا کر‘‘ اچھا عورتیں بولیں۔ تو یوں کہو کہ ’تابط شرا‘ بغل میں بری چیز کو دبا کر لایا۔ اور اسی دن سے اس کا یہی لقب پڑ گیا۔ ایک روایت یہ بھی ہے کہ تابط شرا لقب پڑنے کی وجہ اس کا یہ شعر تھا ؎
تابط شراً ثم راح اوا غتدی
یوائم غنماً او سیف علی ذحل
ان دونوں قصوں میں سے بھوت والا قصہ بالکل مہمل اور خرافاتی ہے ، اس قصے کی وجہ شاید اس خیال کو تقویت دینا ہے کہ صحرائے عرب میں بھوت یا جن پائے جاتے تھے اور یہی بھوت یا جن شعر اپر خیالات و افکار اور مضامین شاعری کا الہام کرتے تھے۔
تابط شراً، دبلا پتلا پستہ قد اور چھریرے بدن کا بدصورت اور آزاد منش نو جوان تھا۔ سماج کی پابندیوں اور خاندان کی ذمہ داریوں سے ہمیشہ گھبرا تا رہا اسی لیے سب سے رشتہ توڑ کر صعلوک بن گیا۔ قدرت نے بھی اسے صحرا کی بے رحم زندگی گزارنے کے لیے ساری صلاحیتیں عطا کر دی تھیں۔ بہادر اور نڈر ہونے کے علاوہ کہتے ہیں کہ وہ دو پیروں والی مخلوقات میں سب سے زیادہ تیز دوڑنے والا اور سب سے زیادہ مضبوط پنڈلی کا اور سب سے زیادہ تیز نگاہ کا آدمی تھا، چنانچہ جب بھوک اسے بہت ستاتی تو وہ دور سے ہرنوں کی ڈار کو دیکھ کر ان میں سب سے زیادہ موٹے ہرن کو اپنی نگاہ سے کوت لیتا اور اس کے بعد پوری ڈار کو دوڑانا شروع کرتا ،یہاں تک کہ اسی موٹے ہرن کو پکڑ کردم لیتا اور اپنی تلوار سے ذبح کر کے کھال کھینچ کر کھا جاتا، اسی لیے اسے عربوں میں ’اعدی عداء العرب‘ یعنی عربوں میں سب سے زیادہ تیز دوڑنے والا آدمی کا خطاب بھی دیا گیا ہے۔ کہتے ہیں کہ تابط شر الشنفری اور سلیک ابن السلکہ ایسے برق رفتار تھے کہ گھوڑے بھی ان کی گرد راہ کو نہ پہنچ پاتے تھے۔ ان خوبیوں کے ساتھ تابط شراً میں اپنے دوسرے صعا لیک ساتھیوں کے مقابلہ میں ایک ایسی خوبی بھی تھی جس کی وجہ سے یہ صعا لیک اسے اپنا سر دار مانتے تھے اور وہ تھی اس کی دوری اور عاقبت اندیشی اور دوربینی۔ اسی لیے معرکوں میں تابط شراً ہی ان صعالیک کا سردار ہوتا تھا اور سامان رسد اور کھانے پینے کی چیزوں کا انچارج۔ چنانچہ اسے یہ صعالیک’ام عیال‘ بچوں کی ماں کہا کرتے تھے۔ اوپر گزر چکا ہے کہ شہری نے اس کی تعریف میں جو اشعار کہے ہیں ان میں اپنے قبیلہ کی ریت کے مطابق اسے ’ام عیال‘ ہی کے لقب سے یاد کیا ہے۔ دور بینی، عاقبت اندیشی کے علاوہ تابط شر اخطرے کا احساس کرنے میں بھی بڑا زود حس تھا۔ پہاڑ کی چوٹی پر سے نیچے دشمنوں کے دل کی دھڑکنیں تک محسوس کر لیتا۔ اپنی اس خوبی کی وجہ سے وہ اکثر موقعوں پر اپنے دشمنوں کو جل دے کر نکل بھاگتا یا گھات لگا کر وار کر کے انھیں شکست دے دیتا تھا۔
تابط شرا کی ان صفات بے مثال بہادری اور مصیبتوں پر یشانیوں میں صبر و سکون اور سوجھ بوجھ سے کام کرنے کی وجہ سے سارے عرب میں اس کی بڑی دھاک بیٹھی ہوئی تھی۔ قبائل اس کے نام سے گھبراتے تھے اور اس کو اپنے سامنے دیکھ کر ٹھہر جاتے تھے۔
کہتے ہیں کہ ایک دفعہ قبیلہ ثقیف کا ایک آدمی ابو وھب نامی، جو بڑا بزدل اور بیوقوف اور خبط الحواس سا آدمی تھا نیا جوڑا پہنے ہوئے تابط شرا سے ملا اور اس سے کہا کہ ثابت تم دیکھنے میںتو اتنے دبلے پتلے اور بدصورت آدمی ہو، پھر تم کس ترکیب سے لوگوں پر غلبہ پالیتے ہو؟ تابط شراً نے کہا کہ صرف اپنے نام کی وجہ سے۔ چنانچہ جب میں اپنے مقابل سے ملتا ہوں تو کہتا ہوں کہ دیکھ لو میں تابط شرا ہوں۔ یہ سنتے ہی اس کا دل سینے سے نکل جاتا ہے ، پھر میں جو چاہتا ہوں اس کے ساتھ کرتا ہوں۔ ابو وہب نے کہا کہ ہمیشہ یہی ترکیب کرتے ہو ؟ تابط شر ا نے کہا کہ ہاں۔ تب ثقفی بولا اچھا اپنا نام بیچو گے ؟ ہاں کیوں نہیں؟ تابط شر ا نے جواب دیا مگر یہ تو بتاؤ کہ تم میرا نام خریدو گے کس چیز سے؟ ابووھب نے کہا کہ اپنے اس نئے جوڑے اور اپنی کنیت سے… چلو منظور ۔ تابط شر ًابولا۔ آج سے تابط شرا تمھارا نام ابو وھب میرا۔ اس کے بعد ثقفی سے اس کا نیا جوڑا لے لیا اور اسے اپنے پھٹے پرانے کپڑے دے دیے اور وہاں سے چل دیا۔ بعد میں ابو وھب ثقفی کی بیوی کو مخاطب کر کے چند اشعار کہے جن میں کہا ہے کہ ؎
ألاھل أتی الحسناء ان جلیلھا
تأبّط شراً واکتینت ابا وھب
فھبہ تسمّی اسم و سمیت باسمہ
فاین لہ صبری علی معظم الخطب
واین لہ باس کباسی
واین لہ فی کل فارحۃ قلبی
’’یعنی کیا گوری کو یہ خبر مل چکی ہے کہ اب اس کا شوہر تابط شرا بن گیا ہے اور میں نے ابو وھب کی کنیت اختیار کر لی ہے مگر یہ مان بھی لو کہ اس نے میرا نام رکھ لیا ہے اور میں نے اس کا تو کیا وہ اس طرح مصیبتوں اور پریشانیوں میں میرے جیسا صبر و سکوں بھی کہیں سے لا سکتا ہے؟ پھر میری جیسی طاقت و توانائی رعب و دبدبہ اور مصیبت و آفت سے مقابلہ کرنے کے لیے میرے جیساجری دل کہاں سے لائے گا ؟
یہ صعالیک اپنی زندگی گزارنے اور اپنی روزی حاصل کرنے کے لیے عام طور سے بڑے اور متمول قبائل پر حملے کرتے رہتے تھے، ان جملوں میں ان کی اپنی بہادری ، معرکہ میں حکمت عملی اور بھاگنے میں اپنی برق رفتاری کے علاوہ ان کی تدبیر اور حاضر دماغی سوجھ بوجھ اور خطرے کے وقت چھٹی حس کی بیداری بہت بڑا ہتھیار تھی۔ تابط شراً بہادر دور اندیش ہونے کے علاوہ خطرات کو بھانپ لینے غنیم کی حرکتوں کو بروقت سمجھ کر، اس کی کاٹ کرنے میں بڑا ماہر تھا۔ اپنی انھیں صفات کی وجہ سے وہ اکثر معرکوں سے کامیاب و کامران ہو کر نکلتا تھا، اگر چہ اس کے ساتھیوں کی تعداد حریف کے مقابلہ میں بہت کم ہوتی تھی۔ تابط شرا کی ان صفات کی بہترین مثال اس کی وہ چال ہے جس کی بدولت وہ خود اور اس کا ایک ساتھی دشمنوں کی قید سے نکل بھاگنے میں کامیاب ہو گیا۔
کہتے ہیں کہ ایک دفعہ تابط شراً اپنے دوسرے صعلوک ساتھی الشنفر ی اور ابن براق الفہمی کے ساتھ قبیلہ بجیلہ کے اونٹ ہنکالا یا۔ بجیلہ والوں کو جب خبرلگی تو وہ ان دونوں کے پیچھے ہو لیے۔ یہ دونوں بھاگ کر سراۃ کے پہاڑوں سے ہوتے ہوئے نیچے اتر لیے تا کہ پہاڑ کی اوٹ لے کر بھاگ نکلیں۔ بجیلہ والے ان کی چال سمجھ گئے ، اور انھوں نے بجائے ان کا پیچھا کرنے کے آگے جا کر ایک تالاب وھط نامی پر گھات لگالی، تابط شراً اور ابن براق بھاگتے بھاگتے تھگ گئے تھے اور پیاس سے ان کا برا حال ہورہا تھا۔ چنانچہ تالاب پر پیاس بجھانے اور ذراسستانے کے لیے اترے۔ تابط شر ا نے ادھر ادھر دیکھا اور اپنی چھٹی حس سے معلوم کر لیا کہ یہاں خطرہ ہے چنانچہ اس نے ابن براق الفہمی سے کہا کہ دیکھو جلدی سے پانی پی لو۔ تم تو جانتے ہی ہو کہ ہمارے پیچھے لوگ لگے ہوئے ہیں یہاں خطرہ ہے۔ ابن براق نے کہا کہ ارے کیا خطرہ؟ تم کو کیسے معلوم ہوا ؟ اس پر تابط شر ا نے کہا کہ قسم ہے اس ذات کی جس کی مدد سے میں بھاگتا ہوں۔ مجھے اپنے پاؤں کے نیچے سے لوگوں کے دلوں کی دھڑکنوں کی آواز سنائی دے رہی ہے۔ ابن براق بولا کہ اماں جاؤ ، یہ تو تمھارے ہی دل کی دھڑکن ہے۔ اماں نہیں ، تابط شرا بولا ، میرا دل ایسا بو دا کبھی نہیں تھا ، پھر اس نے زمین پر اپنے کان لگا دیے، اور بولا کہ قسم ہے اس ذات کی جس کی مدد سے میں بھاگتا ہوں، میں حریف کے دلوں کی دھڑکنیں سن رہا ہوں۔ ’’اچھا بھئی ابن براق نے کہا ، ایسا ہی ہے تو میں پہلے تالاب میں اتر کر پانی پیتا ہوں۔ چنانچہ اس نے تالاب میں اتر کر پانی پیا اور نکل آیا اور کوئی حادثہ نہیں پیش آیا۔ تابط کو کچھ اطمینان ہوا اور وہ تالاب میں گھسا، جو نہی بیچ میں پہنچا بجیلی چاروں طرف سے اس پرٹوٹ پڑے ، اور اسے پکڑ اس کی مشکیں کس لیں اور گھسیٹتے ہوئے باہر لائے۔ قریب ہی ابن براق بھی تھا۔ لیکن اس نے کچھ تعرض نہ کیا، کیونکہ جانتے تھے کہ ابھی ہوا ہو جائے گا۔ اب تابط شرا جو اس طرح گرفتار ہو گیا تو اسے اپنے کیے پر بڑا پچھتاوا ہوا۔ اور سوچنے لگا کہ اس مصیبت سے کس طرح چھٹکارا حاصل کروں، چنانچہ اس کے ذہن میں ایک ترکیب آئی۔ اس نے بجیلیوں سے کہا کہ دیکھتے کیا ہو، یہ ابن براق سامنے ہی تو ہے، اسے بھی پکڑ لو۔ اس کی ترکیب یہ ہے کہ میں اس سے کہتا ہوں کہ تم بھی میرے ساتھ اپنے آپ کو بجیلیوں کے حوالے کر دو لیکن تم جانتے ہو کہ اسے اپنی دوڑ پر بڑا ناز ہے۔ اور وہ یہ سنتے ہی بھاگ کھڑا ہوگا لیکن تم لوگ گھبرانا نہیں وہ پہلی دوڑمیں بیشک ہوا سے بھی تیز بھاگتا ہے لیکن دو چار کھیت جا کر اس کی رفتار دھیمی ہو جاتی ہے اور دوسرے مرحلہ میں تیز گھوڑے کی رفتار سے بھاگتا ہے، لیکن دو چار کھیت کے بعد ہانپنے لگتا ہے اور پھر قدم قدم لڑکھڑانے لگتا ہے، اور ٹھوکر کھا کر گرنے لگتا ہے، تم لوگ اس کے پیچھے لگے رہو، جب دیکھنا کہ اس کا دم پھول گیا ہے ، اور وہ لڑکھرا کر گرنے لگا ہے تو دبوچ لینا۔ میں چاہتا ہوں کہ وہ بھی میری طرح تمھاری قید میں آجائے۔ یہ بات بجیلیوں کے سمجھ میں آگئی، پر انھوں نے کہا کہ اس کی ابتدا کیسے کی جائے۔ یونہی دوڑانے میں تو کوئی فائدہ نہیں۔ تابط بولا کہ دیکھو میں ابھی اس کی بھی ترکیب نکالے دیتا ہوں۔ چنانچہ اس نے ابن براق کو مخاطب کر کے کہا کہ ارے یہ کیا بے وفائی ہے، اچھے دنوں میں تو تم میرے ہم دم و دمساز تھے، اور اب مصیبت کے وقت ساتھ چھوڑ دو گے؟ ارے تم بھی میرے ساتھ اپنے کو ان لوگوں کے حوالے کر دو ورنہ خواہ مخواہ گھیر کر کے پکڑے جاؤ گے۔ ان لوگوں نے وعدہ کیا ہے کہ ہم دونوں کے ساتھ اچھا سلوک کریں گے۔ یہ سن کر ابن براق بڑے زور سے ہنسا اور سمجھ گیا کہ تابط شراً نے ان لوگوں کے ساتھ کوئی چال چلی ہے، پھر بولا کہ ارے جاؤ ثابت یہ چکمہ کسی اور کو دینا ، جب تک میری ٹانگیں سلامت ہیں۔ کون مجھ کو پکڑ سکتا ہے؟ یہ کہہ کر اس نے ایک زقند بھری ، اور یہ جاوہ جا۔بجیلی بھی اس کے پیچھے ہو لیے۔ ابن براق پہلی دوڑ میں چھلاوے کی طرح بھاگتا رہا اور دو چار کھیت جا کر اس نے اپنی رفتار دھیمی کر دی ، اور تیز گھوڑے کی رفتار سے بھاگتا رہا ، تھوڑی دور جا کر اس نے اپنی چال اور دھیمی کر دی ، اور لڑ کھڑا نے لگا۔ بجیلیوں نے جب یہ دیکھا تو سرپٹ اس کی طرف دوڑ پڑے اور سمجھے کہ بس ب دھر لیا۔ ادھر تابط شرا نے جو یہ دیکھا کہ جیلی خاصے دور نکل گئے ہیں تو مع اپنی مشکوں کے بھاگ نکلا ، اور دوسری طرف سے ابن براق کے پاس پہنچ گیا ، ابن براق نے جلدی سے اس کے ہاتھ کھولے ، اور دونوں سر پر پاؤں رکھ کر بھاگ کھڑے ہوئے اور بجیلی منہ دیکھتے رہ گئے۔ موت کے منہ سے اس طرح نکلنے کے بعد تابط شرا نے ایک زور دار قصیدہ کہا جس کا مطلع ہے ؎
یا عید مالک من شوق و ایراق
ومر طیف علی الاھوال طراق
مفضل خیبی نے مذکورہ بالا قصیدہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حادثہ میں تابط شرا نہیں گرفتار ہوا تھا بلکہ عمر بن براق گرفتار ہوا تھا۔ ان کے ساتھ شنفری بھی تھا۔ چنانچہ تابط شرا نے ابن براق کے آزاد کرانے کی یہ ترکیب نکال کر شنفری سے کہا کہ تم ابن براق کے قریب کہیں چھپے رہو۔ اور میں بجیلیوں کے سامنے سے کچھ لنگڑاتا سا، تھکا سا بھاگتا ہوں وہ میرے پیچھے ہو لیں گے، ان کو میں اس طرح خاصی دور لے جاؤں گا، تم اتنے میں ابن براق کے ہاتھ پاؤں کھول دینا، چنانچہ اس کی یہ ترکیب کار گر ثابت ہوئی اور شنفری نے ابن براق کے ہاتھ پاؤں کھول دیے اور تینوں وہاں سے بھاگ لیے۔ اس کے بعد تابط شر ا نے یہ قصیدہ کہا۔ اصمعی نے ان دونوں واقعات کے علاوہ ایک تیسرا واقعہ بھی بیان کیا ہے۔
تابط شراً کی تیز نگاہی کے سلسلہ میں ایک عجیب واقعہ بیان کیا گیا ہے، کہتے ہیں کہ تابط شرا اپنے بیوی کے چچازاد بھائی کو لے کر قبیلہ بجیلہ پر حملہ کی غرض سے نکلا ، دور سے ہی دیکھا کہ بکریوں کاریوڑ چر رہا ہے، چنانچہ وہ دبے پاؤں آیا اور چرواہے کو قتل کر کے ساری بکریاں ہنکالے گیا۔ بجیلہ والوں کو جب خبر ہوئی تو وہ گھوڑوں پر ، اور پیدل ایک جم غفیر کو لے کر انھیں پکڑنے کے لیے نکل کھڑے ہوئے تابط شراً کی نگاہ اتنی تیز تھی کہ اس نے بجیلیوں کو دور سے دیکھ کر سمجھ لیا کہ وہ پیچھا کر رہے ہیں ، اس نے اپنے ساتھی سے کہا کہ دیکھوں بجیلی ہمارا پیچھا کر رہے ہیں جلدی سے بھاگ نکلو۔ اس نے ادھر ادھر دیکھا اور کہا کہ مجھے تو کچھ نہیں دکھائی دیتا۔ ابھی یہ باتیں کر ہی رہے تھے کر بجیلی آگئے۔ تابط نے اس سے کہا کہ تم اب سرپٹ بھاگ جاؤ ، میں آخری تیر تک ان لوگوں کو آگے بڑھنے سے روکے رکھوں گا۔ چنانچہ وہ آدمی بھاگ کھڑا ہوا اور تابط شراً اپنی تیر کمان سنبھال کر بجیلیوں کے سامنے آ گیا اور ان پر تیروں کی بارش شروع کر دی جب آخری تیر بھی ختم ہو گیا تو تابط شرا بھا گا اور جب اپنے سالے کے پاس پہنچا تو دیکھا کہ وہ ابھی محفوظ جگہ سے بہت دور ہے اور بجیلی اسے پکڑ لیں گے چنانچہ اسے اس نے وہیں قتل کر دیا، اور وہاں سے بھاگ لیا، بجیلیوں نے لاکھ کوشش کی مگر اسے پکڑ نہ پائے ، دوسرے دن جب اپنے قبیلہ پہنچا اور اس کی بیوی کا چچازاد بھائی اس کے ساتھ نہ تھا تو لوگوں نے سمجھ لیا کہ وہ مارا گیا، اس پر اس کی بیوی نے طعنہ دیا کہ خود تو بیچ کر آگئے اور میرے بھائی کو مروا آئے ، یہ سن کر تابط شرا نے ایک قصیدہ کہا جس میں کہا ہے کہ ؎
تقول ترکت صاحباً لک ضائعاً
وجئت الینا فارقا متباطنا
مذکورہ بالا قصیدہ کہنے میں ایک دوسرا واقعہ بھی بیان کیا جاتا ہے جس میں تابط شرا اپنے دو ساتھیوں کو گنوا کر جب قبیلہ پہنچا تو اس کی بیوی نے اسے لعنت ملامت کی اور طعنہ دیا تو اس نے مذکورہ بالاقصیدہ کہا۔کہتے ہیں کہ اس کے بعد اس نے دونوں کا مرثیہ بھی کہا جس کا مطلع ہے ؎
ابعد قتیل العوص آسی علی فتی
وصاحبہ اویامل الزاد طارق
ہر وقت خطرات میں رہنے ، لوگوں سے دھو کے اٹھانے، اور اپنے خون کے مباح ہونے کی وجہ سے یہ صعالیک اور خاص طور سے تابط شراً ہر وقت چوکس و چوکنا رہتا تھا۔ اس طرز زندگی نے اس کے اندر یہ ملکہ پیدا کر دیا تھا کہ وہ لوگوں کے حرکات وسکنات اور ان کی غیر معمولی برتاؤ کو دیکھ کر ان کے دل کی بات بھانپ لیتا تھا۔ اور حسب موقعہ احتیاطی تدابیر اختیار کر لیتا تھا۔ اس ضمن میں اغانی نے ایک دلچسپ قصہ نقل کیا ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ تابط شرا قبیلہ ہذیل پر حملہ کرنے کی نیت سے اپنے چند ساتھیوں کو لے کر نکلا۔ اور اپنے ایک حلیف اجل بن فنضل کے یہاں جو قبیلہ بجیلہ کا فرد تھا، رات گزارنے کے لیے پہنچا، اس نے ان سب کا بڑی گرم جوشی سے استقبال کیا اور غیر معمولی عزت و اکرام سے اپنے یہاں اتارا۔چونکہ تابط شرا اور اس کے ساتھی عام طور سے بجیلیوں پر حملہ کیا کرتے تھے ، اس لیے اجل نے سوچا کہ آج موقعہ اچھا ہے ، سب کو ختم کر دو تا کہ بدلہ بھی ہو جائے اور ان سے ہمیشہ کے لیے چھٹکارا مل جائے ، چنانچہ اس نے ان کے پینے کے لیے زہریلا شراب منگایا ، تابط شراً اس کی اس غیر معمولی آؤ بھگت اور احترام و اکرام کو دیکھ کر ٹھنک گیا ، اور سمجھ گیا کہ دال میں کچھ کالا ہے، چنانچہ اس نے اپنے ساتھیوں سے اپنا شبہ بتا کر چپکے سے کہا کہ دیکھو اسے یہ شبہ نہ ہونے پائے کہ ہم اس کی چال سمجھ گئے ہیں اور جب شربت یا کھانا آئے تو تم سب قسم کھا لینا کہ ہم آج کھانا نہیں کھائیں گے ، ہمارا پیٹ بھرا ہے۔ پھر میں موقع دیکھ کر اسے قتل کر ڈالوں گا، تابط شرا کو اجل بن فنضل کو قتل کرنے کا موقع تو نہ ملا۔ لیکن خطرے کو اس طرح بھانپ لینے کی عادت کی بدولت وہ اس کے سارے ساتھی بچ گئے ، یہاں سے بچ نکلنے کے بعد اور سب ساتھی تو شکار میں لگ گئے ، تابط شرا نے تنہا قبیلہ ھذیل پر حملہ کر کے انھیں شکست دی ، اور مالغنیمت حاصل کیا۔ اس واقعہ کی یاد میں اس نے ایک قصیدہ کہا ہے جس کا مطلع ہے ؎
اقسمت ان لا انسی وان طال عیشنا
ضیع یکز والاجل بن فنضل
جان جوکھوں میں ڈال کر جان بچانے کی ایک ایسی مثال تا بط شرا کی زندگی میں ملتی ہے جس کی نظیر مشکل سے ملے گی اور اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ صعالیک عزت آبرو کے ساتھ مرجانے کو ذلت و رسوائی سے زندہ رہنے پر کتنا ترجیح دیتے ہیں۔
کہتے ہیں کہ قبلہ ہذیل کے پہاڑوں کے اندر ایک غار میں شہد کی مکھیاں اپنا چھتا لگاتی تھیں اور جب شہد تیار ہو جاتا تو تابط شراً اپنے چند ساتھیوں کو لے کر آتا اور سارا شہد نکال کر ایک مشکیزہ میں بھر کر چل دیتا۔ ہذیل اس کی اس حرکت سے بہت پریشان تھے۔ ایک سال انھوں نے طے کر لیا کہ اب کی دفعہ تا بط شرا کو گرفتار کر کے اس کی اس حرکت کا مزہ چکھائیں گے، چنانچہ جب چھتہ پک گیا تو تابط شر ا حسب عادت اپنے چند ساتھیوں کو لے کر غار پر پہنچا اور ایک رسی کے ذریعہ غار کے اندر گھس گیا ، ہذیلی تاک میں چھپے بیٹھے تھے۔ وہ دوڑ پڑے ، تابط شرا کے ساتھی جو باہر تھے بھاگ لیے۔ اور تابط شراً غار ہی کے اندر رہ گیا۔ ہذیلیوں نے آکر رسی پکڑ کر ہلائی، تابط شراً نے غار سے منہ نکال کر جھانکا تو ہذیلیوں کو دیکھ کر اس کی روح فنا ہوگئی۔ سوچا برے پھنسے، ہذیلیوں نے کہا کہ اب خیریت اسی میں ہے چپ چاپ باہر آجاؤ، تابط شر انے کہا کہ آؤں تو، پر کس شرط پر یا بغیر لیے دیے مجھے چھوڑ دینے کا وعدہ کرو یا فدیہ لے کر چھوڑنے کا وعدہ کرو، ویسے تو میں نہیں نکلوں گا، ہذیلیوں نے کہا کہ شرط اور کوئی نہیں، بس بلا شرط باہر آ جاؤ ، ورنہ دیکھواب بچ کر نہیں جاسکتے ہو۔ تابط بولا ، جی ہاں اپنی بوٹیاں کروانے کے لیے نکل آؤں، یہ مجھ سے نہ ہوگا میں ہرگز نہ نکلوں گا اور اندر گھس گیا۔ غار کے اندر اس نے پہلے ہی سے دوسری طرف ایک سوراخ کر رکھا تھا کہ اگر کہیں پھنس گیا تو اس سے نکل بھاگوں گا ، چنانچہ اس نے اس سوراخ کے ذریعہ غار کے دوسری طرف خوب شہد بہایا۔ پھر اپنے سینہ پر اپنا چمڑے کا مشکیزہ چپکا کر اور سوراخ سے نکل کر ٹانگیں او پرمنہ نیچے کر کے شہد کی روانی پر پھسلنا شروع کر دیا۔ اور آنا فانا پہاڑ کی دوسری طرف پر آ گیا۔ اور اس کے ذرہ برابر خراش بھی کہیں جسم پر نہیں آئی۔ یہ جگہ جہاں یہ اترا تھا، غار کے منہ سے تین دن کی مسافت پر تھا اس لیے اسے اطمینان تھا کہ اب ہذیلی مجھ کو قیامت تک نہیں پکڑ سکتے، چنانچہ ایمان سے اٹھا ، اپنی حالت درست کی اور بلاخوف وخطر اپنے قبیلہ پہنچ گیا۔ اس واقعہ کی یادگار میں بھی اس نے ایک بہت زور دار قصیدہ کہا ہے جس کا مطلع ہے ؎
اقول للحیان وقد صفرت لھم
وطابی ویومی ضیق الحجر معور
جس میں مذکورہ بالا قصہ کی طرف اشارہ کر کے ایک بڑے پتہ کی بات کہتا ہے ، کہتا ہے کہ آدمی جب کسی مصیبت میں پھنس جائے اور اس سے نکلنے کی تدبیر نہ کر سکے تو پھر اس کی خیر نہیں یا تو وہ ختم ہی ہو جاتا ہے یا پھر شدید تکلیف اور پریشانی اٹھا کر اس کی جان بچ پاتی ہے، لیکن عقل مند آدمی پر جب کوئی آفت آن پڑتی ہے اور وہ حکمت عملی سے کام لے کر اس سے چھٹکارا حاصل کر لیتا ہے تو ایسا آدمی دنیا میں کامیاب ترین رہتا ہے، اور جب بھی اس کے سامنے ایک دروازہ بند ہوتاہے تو وہ اپنی کوشش سے دوسرا دروازہ کھول لیتا ہے ؎
إذا المرء لم یحتل وقد جد جدہ
اضاع وقاسی امرہ وھو مدبر
ولکن اخوالحزم الذی لیس نازلاً
بہ الامر الاوھو للحزم مبصر
فداک قریع الدھر ماکان حولا
اذا سد منھ منتحر جاش منحتر
تابط شراً کے اس قسم کے قصے تمام تذکرے کی کتابوں میں بھرے پڑے ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ اور اس کے ساتھی ہر موقعہ پر اپنی بہادری ، عاقبت اندیشی، چالا کی اور حکمت عملی سے بڑی بڑی مصیبتوں اور پریشانیوں سے ہمیشہ نکل جاتے تھے۔
تحلیل و تجزیہ قصیدہ
یا عید مالک من شوق و ایراق
ومر طیف علی الاھوال طراق
زیر نظر قصیدہ صعالیک عرب یعنی خانماں بربادشاعروں کی زندگی کے دونوں رخ کا صحیح عکس ہے۔ ایک طرف تو یہ لوگ بڑے سفاک اور سنگدل تھے، مگر دوسری طرف ان کے سینہ میں ایک بڑا گداز اور محبت سے لبریز دھڑکتا دل تھا، جو اپنی محبوبہ دلنواز سے بچھڑنے کے بعد اس کی یاد میں ، صحرا کی بے پناہ وسعتوں میں چپکے چپکے روتا تھا۔ اور جب کوئی ہم دم و غمگسار نہ ملتا تو یہ غم جاناں شعر و نغمہ میں ڈھل کر ساری فضا اور ماحول ہی کو اپنا ہم دم و دمساز بنالیتا ، اور پھر خیال حبیب، مجسم حبیب بن کر شاعر کے سامنے کھڑا ہو جاتا، پھر کیا تھا، نقشہ بدل جاتا اور اب ’ خلوت میں ان سے ہونے لگیں ملاقاتیں‘ کا سماں بندھ جاتا، مگر ایسے دل جلوں کی قسمت میں ایسے سماں کا دوام کہاں، سپیدہ صبح نمودار ہوتے ہی، پھر وہی تگ و دو، جان بچانے کے لیے وہی صحرا پیمائی اور روزی و رزق کے لیے وہی جاں کاہی، اور یوں غم دوراں کے ساتھ غم جاناں کو سینے سے لگائے، آخر میں اپنی زندگی کو ہی مداوائے غم بنا دیتے۔
چنانچہ تابط شرا نے اس قصیدہ میں سب سے پہلے محبوبہ کے ہجر و فراق کا ذکر کیا ہے، پھر بجیلہ والوں کے ہاتھوں اپنے قید ہونے کے واقعہ کا ذکر کر کے عمر بن براق اور الشنفری کی مدد سے اس تدبیر کا ذکر کرتا ہے، جس کی وجہ سے اس قید سے اس کو نجات ملی، اس ضمن میں اپنی برق رفتاری کا ذکر کرتا ہے، اس کے بعد اپنے اس مثالی آدمی کے صفات گناتا ہے جس کے آگے وہ جھک سکتا ہے، پھر اپنی بہادری کا ذکر کر کے ، خطرات میں بے خوف و خطر کود پڑنے کی عادت اور اپنی فیاضی و سخاوت پر فخر کرتا ہے اور آخر میں ان لوگوں کو لعنت و ملامت کرتا ہے ، جو اسے اپنا مال خرچ کرنے پر لعنت و ملامت کرتے ہیں۔
جیسا کہ پہلے بیان ہوا تا بط شرا کا یہ قصیدہ یادگار ہے۔ اس واقعہ کا جس میں پانی پیتے وقت وہ قبیلہ بجیلہ کے ہاتھوں گرفتار ہوگیا تھا، اور ابن براق اور شنفری کی مدد سے نکل بھاگنے میں کامیاب ہو گیا تھا۔ بھاگتے بھاگتے تھک کر چور ہو کر ، جب وہ ایک محفوظ مقام پر ٹھہرتا ہے تو سورج بھی اس کا ساتھ دیتے دیتے تھک کر پہاڑوں کی اوٹ میں چلا جاتا ہے اور رات کی تاریکی آہستہ آہستہ صحرا پر چھانے لگتی ہے اور تھوڑی ہی دیر میں ہر طرف سناٹا اور موت کا سکوت طاری ہو جاتا ہے۔ عمرو بن براق اور شنفری نہ جانے کس طرف نکل گئے اور اب یہ ہے اور یہ صحرا اور اس میں سائیں سائیں کرتی ہوائیں، اتنے میں خیال محبوب آ جاتا ہے، جو ’اک تیز چھری ہے جو اترتی چلی جائے‘ اور چند لمحوں کے بعد یہ خیال محبوبہ کی شکل میں مجسم ہو کر سامنے کھڑا ہو جاتا ہے ؎
یا عید مالک من شوق و ایراق
ومر طیف علی الاھوال طراق
راستہ پر خطر ہے ، سانپ بچھوؤں سے بھرا پڑا ہے ، پھر بھی خیال حبیب براہ دلنوازی و دلداری پیدل چل کر آئے تو دیدہ و دل کیسے نہ فرش راہ کیجیے؟ کہتا ہے ؎
یسری علی الاین والحیات محتفیا
نفسی فدائوک من سار علی ساق
تشبیب کے ان دونوں شعروں کے بعد اپنی اس ریت کا اظہار کرتا ہے کہ جب دوست احباب ساتھ چھوڑ دیں اور مصیبت و پریشانی میں کوئی سہار ا و مددگار نہ رہ جائے تو میں اپنے اوپر اور اپنی دوڑ پر بھروسا کرتا ہوں اور اس مصیبت سے چھٹکارا حاصل کر لیتا ہوں۔ اس ضمن میں اس قصہ کی طرف اشارہ کرتا ہے جس میں وہ پانی پیتے وقت قبیلہ بجیلہ کے ہاتھوں گرفتار ہو گیا تھا، اور ابن براق کے ساتھ سانٹھ گانٹھ کر کے اس مصیبت سے بچ سکا تھا اور بجیلہ والے منہ دیکھتے رہ گئے تھے۔
کہتا ہے کہ جب میں قبیلہ بجیلہ کے ہاتھوں، پانی پیتے وقت رات میں مقام الرھط میں گرفتار ہو گیا تو پھر اپنی دوڑ کے سہارے ہی بچ سکا۔ ان لوگوں نے میرے پیچھے اپنے تیز دوڑنے والے گھوڑے اور آدمی بھی دوڑائے، جنھوں نے میرا پیچھا ابن براق کے دوڑ کی جگہ تک کیا مگر مجھے پانہ سکے ؎
نجوت منھا، نجاتی من بجیلۃ اذ
القیت لیلۃ خبت الرھط اوراقی
لیلۃ صاحوا واغروا بی سراعہم
بالعیکتین لدی معدی ابن براق
پھر اپنی اس تیز دوڑ کا نقشہ کھینچتا ہے اور کہتا ہے کہ میں اتنی تیزی اور برق رفتاری سے بھاگا کہ جیسے انھوں نے مجھے نہیں بلکہ کسی صبا رفتار شتر مرغ یا برق رفتار ہرنی کو دیا ہو اور وہ جی جان چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے ہوں۔ کیونکہ چوپایوں اور پرندوں میں کوئی بھی ایسی قسم نہیں ہے جو مجھ سے تیز دوڑ سکے۔ یہاں تک کہ آخر کار میں ان لوگوں کے چنگل سے بچ گیا حالانکہ میں ایسا پھنس گیا تھا کہ بجیلہ والے میرا کام ہی تمام کر دیتے ، اپنے اوپر بھروسا اور مصیبت کے وقت ہوش وحواس قائم رکھنے اور عقل مندی سے کام لینے کی وجہ سے اب میں دوستوں کا محتاج نہیں رہ گیا ہوں ، اگر ایسے وقت میں کوئی ساتھ چھوڑ دیتا ہے تو میں آہ و بکا نہیں کرتا۔ ، خوف اور ڈر سے واویلا نہیں مچاتا کہ یہ صعلوک کی ریت کے خلاف بات ہے ؎
کانما حثحثوا حصاً قوادہ
او ام خشف بذی شث وطباق
لاشی اسرع منی لیس ذاعذر
وذا جناح بجنب الربد خفاق
حتی نجوت، ولما ینزرعوا سلبی
بوالہ من غیداق قبیص الشد
ولا اقول اذا ما خلہ صرمت
یا ویح نفسی من شوق واشفاق
نویں شعر میں پھر تیسرے شعر سے ملتی جلتی بات کہتا ہے جس میں دوست احباب جب قطع تعلق کر لیں تو پرواہ نہ کرنے اور اپنے اوپر صرف بھروسہ کرنے کی بات کہی ہے۔ دسویں شعر سے 14 ویں شعر تک تابط شر اپنی اس مثالی شخصیت کا مرقع پیش کرتا ہے جس پر وہ بھروسہ کر سکتا ہے، جس سے مصیبت کے وقت مدد مانگ سکتا ہے اور جس کے سامنے سرتسلیم خم کر سکتا ہے۔ کہتا ہے کہ اگر میں کسی سے مدد لے سکتا ہوں اور اس کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھا سکتا ہوں تو صرف اس شخص کی طرف جو آزمودہ کار، دوربین ، اور شکر اور تعریف کو حاصل کرنے میں سبقت لے جانے کی کوشش کرتا ہو۔ جو اپنے قبیلہ کا سردار ہو ، اور ہر چھوٹا بڑا اس کے احکامات کو بہ چوں چرا مان لیتا ہو اور اتنا جری نڈر، اور پختہ عزم وارادہ کا آدمی کہ گھٹا ٹوپ اندھیاری رات میں جب کے موسلا دھار بارش ہورہی ہو بلا خوف وخطر اپنی منزل کے لیے نکل کھڑا ہوتا ہو، اور معرکوں میں جس کے ہاتھوں میں جھنڈا رہتا ہو۔ جو مجلسوں کی جان، بے لاگ فیصلہ کرنے والا اور جہانیا جہاں گشت ہو، جس آدمی میں یہ صفات جمع ہوں وہ میرا مثالی گرو ہے اور صرف ایسے ہی آدمی سے اگر وقت پڑ جائے تو میں اپنا ہاتھ مدد کے لیے بڑھا سکتا ہوں ؎
افذاک ھمی و غزوی استغیث بہ
اذا استغیث بضافی الرس نفلق
16 ویں شعر سے 19 ویں شعر تک دشمنوں سے بھاگ کر ایک پہاڑ کی چوٹی پر اپنے ساتھیوں سے پہلے پہنچ جانے کا ذکر کرتا ہے اور اس طرح کہ جوتا اس بری طرح سے پھٹ چکا ہے کہ صرف انگلیاں چھپ پاتی ہیں، تلا بھی اکھڑ چکا ہے اور اسے پاؤں سے اٹکائے رکھنے کے لیے ایک تسمہ سے باندھ رکھا ہے، اس غربت و افلاس کے باوجود اگر کوئی اسے سخاوت اور دریادلی سے روکتا ہے اور بخل کی تلقین کرتا ہے تو اس کے تن بدن میں آگ لگ جاتی ہے۔ چنانچہ 22 ویں شعر میں کہتا ہے کہ اے مجھے ملامت کرنے والے اتنی سختی سے کیوں لعنت ملامت کرتا ہے۔ یہ سب روپیہ پیسہ دھن دولت آنی جانی ہے، بھلا تو بخل کر کے اسے روکنا چاہے گا تو وہ تیرے پاس رک جائے گی؟
عاذلتی ان بعض اللوم معنفۃ
وھل متاع وان ابقیتہ باق؟
آخر کے اشعار میں اپنے اخلاق حمیدہ اور پاکیزہ کردار کا ذکر کر کے لعنت ملامت کرنے والوں کو مخاطب کر کے کہتا ہے کہ ’’جب تم میرے ان اخلاق حمیدہ اور صفات عالیہ کو یاد کرو گے تواپنے کیے پر شرم سے پانی پانی ہو جاؤ گے۔‘‘
لتقر عن ال سن من ندم
اذا تذکرت یوماً بعض اخلاقی
یہ تھا تابط شرا کا وہ مشہور قصیدہ جو نہ صرف اس کی بلکہ اس جیسے تمام صعالیک عرب کی زندگی اور اس سے متعلق ان کے نقطہ نظر کا عکاس اور ان کی زندگی کا آئینہ دار ہے۔ اس میں حکایت غم دوراں بھی ہے اور شکایت غم جاناں بھی۔ ایک خت کوش تند خو آزادمنش نوجوان کے جذبات کی تصویر کشی بھی ہے اور ان خانماں برباد شاعروں کی فلاکت زدہ انتہائی عسرت و غربت کی ماری زندگی کا نقشہ بھی اور اس کے ساتھ اس زندگی سے حاصل شدہ تجربات کی روشنی میں اخذ کی ہوئی حکمت و فلسفہ کی باتیں بھی جن میں اگر چہ آج کل کے اعتبار سے بظاہر کوئی ندرت یا رفعت تخیل نہیں ہے لیکن اس معاشرہ اور ان حالات میں بہت وقیع اور اہم سبھی جاتی تھیں۔
یہ تھا صعا لیک الشعرا کے ایک دوسرے نمائندہ کی زندگی اور اس کے کلام کا نمونہ جس سے ہم کو یہ اندازہ ہوا کہ اس کے کلام میں بھی وہ جاہلی اور بدوی گمبھیر پن ، خیالات میں سطحیت لیکن صفائی، الفاظ میں ثقل لیکن معانی کے لیے مناسب ہیں، اور انداز گفتار اور اسلوب گھٹا ہوا ہے، جس میں جھول یا کمزوری نہیں ہے۔
موازنہ
تابط شر ا کے کلام کا شنفری کے کلام سے موازنہ کیا جائے تو اندازہ ہوگا کہ تابط شراً اور شنفری میں مضامین کے اعتبار سے بڑی مشابہت ہے، اور انداز بیان میں بھی دونوں جاہلی انداز کے پابند ہیں، مگر تنوع اور سلاست وروانی اور نغمگی میں شنفری تابط شرا سے بڑھا ہوا ہے، خاص طور سے غزل میں شنفری تابط سے بہت بڑھا ہوا ہے ، وصف اور سراپا میں بھی شنفری تابط سے ممتاز نظر آتا ہے۔ چنانچہ ہم نے شنفری کے قصیدہ جس کا مطلع ہے ’الا ام عرو جمعت …‘ میں غزل اور وصف میں جو بار یکی اور اثر دیکھا وہ تابط کے کلام میں نہیں ملتی۔ امیمہ سے اظہار محبت اور ہجر وفراق کی کہانی میں جو درد اور اثر ہے ، وہ تابط سے زیادہ موثر اور جاندار ہے پھر شنفری نے اس جاہلی دور میں ’لامیۃ العرب‘ کہہ کر ہمیشہ کے لیے اپنے کو ان صعالیک میں ممتاز کر لیا ہے۔
تابط کی طرف بعض حکیمانہ اور فلسفیانہ اشعار بھی منسوب ہیں۔ جیسے اس معنی کا شعر کہ آدمی جب مصیبت میں پھنس جائے اور حکمت و تدبیر سے کام نہ لے تو وہ ختم ہو جاتا ہے اور ہوش و حواس قائم رکھ کر تدبیر سے کام لے تو وہی عقل مند کہلاتا ہے اور وہ زندگی بھر خوش و خرم رہتا ہے، اور ایک دروازہ جب بند ہوتا ہے تو دوسرا کھول لیتا ہے ؎
اذا المر لم یحتل وقد جد جدہ
اضاع وقاسی امرہ مدبر
ولکن اخوالخرم الذی الیس نازلا
بہ الخطب الا وھو للقصد مبصر
فذاک قریع الدھر ماعاش حول
اذا اسد منہ منحر جائش منخر
اپنے مثالی نوجوان کے بارے میں کہتا ہے (اپنے چچازاد بھائی شمس بن مالک کو مثال سمجھ کر) ؎
قلیل التشکی للمہم یصیبہ
کثیرالھوی، شتی النوی والمسالک
یظل بمومدۃ ویمسی بغیرہا
جحیشا ولعیروری ظور المہالک
یعنی وہ مصیبتوں اور پریشانیوں میں شکوہ و شکایت نہیں کرتا، اس کے عزائم بلند اور اسفارکا خوگر ہے، جو اپنا دن ایک صحرا میں اور شام دوسرے میں گزارتا ہے اور تن تنہا ہلاکتوں اور پریشانیوں کا مقابلہ کرتا ہے۔ وغیرہ وغیرہ اس کا آخری شعر ہے ؎
یری الوحشتہ الانس الانیس ویہتدی
بحیث اھتدث ام البخوم الشوابک
یعنی تنہائی و کسمپرسی کوہی وہ مونس و غم خوار سمجھتا ہے، اور عزائم کا اتنا بلند کہ ستاروں پر کمندیں ڈالتا ہے۔
جو دوڑنے میں ہوا سے بھی بازی لے جائے اور سونے کی حالت میں بھی جس کا دل جاگتا رہے اور جس کی آنکھیں دل پر پہرا بٹھائے رکھیں اور بڑے بڑے سورماؤں سے مقابلہ میں جم جائے اور جب اپنے نیزے کی اَنی یا تلوار کی دھار اس کی ہڈیوں میں پیوست کر دے تو موتیں کھلکھلا کر ہنس پڑیں ؎
ویسبق وفدالریح من حیث ینتحی
بمنخرق من شدۃ المتدارک
اذا حاص عینیہ کری النوم لم یزل
لہ کالی من قلب شیحان فاتک
ویجعل عینیہ ربیۃ قلبہ
الی سلتہ من حدا خلق صائک
اذا ھزہ فی عظم قرن تہلک
نواجذ افواہ المنایا الضواحک
ابن الشجری نے اپنے حماسہ میں تابط شراً کاا یک اور قصیدہ نقل کیا ہے جس کا مطلع ہے ؎
تقول سلیمیٰ لجاراتہا
اری ثابتا یفنا حوقلا
آخر میں کہتا ہے ؎
وکنت اذا ما ہممت اعتذ
مت، واجرا اذا قلت ان افعلا

حوالہ جات
1 لسان العرب لابن منظور 179/7، 267/14، 121/9
2 الاغانی الاصفہانی 209/18
3 المفضلیات لابن ضبی شرح الانباری تحقیق کارلوس یعقوب لایل
4 شرح شواہد المغنی للسیوطی 82,43,19
5 الشعر والشعر الابن قتیبہ 174، 177، 422، 425 اور آگے
6 خزانۃ الادب ولب لباب لسان العرب للبغدادی 66/1، 16/2، 17
7 مروج الذہب للمسعودی 8، دائرۃ المعارف الاسلامیۃ۔
8 التذکرۃ السعدیۃ: عبداللہ الجبوری64/
9 تاریخ آداب اللغۃ العربیۃ الجرجی زیدان 162/1
10 حماسہ ابوتمام مختلف مقامات پر
11 حماسہ ابن الشجری 47/
12 اشعرا الفرسان للبستانی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

عرب کے تنقیدی نظریات،مضمون نگار :محمدحسن

عرب میں شاعری کا رنگ و آہنگ قبائلی زندگی سے عبارت تھا۔ کسی قبیلے میں کسی شاعر کی شہرت ہوتی تو دوسرے قبیلے والے مبارک باد دیتے اور قبیلے جشن

منتخب فرانسیسی ڈراموں کے اردو تراجم کا تنقیدی مطالعہ،مضمون نگار:محمد ریحان

تلخیص فرانسیسی ڈراما نگاری کی شاندار اور طویل روایت ہے، جس نے صدیوں سے تھیٹر کی دنیا کو اپنی تخلیقی جہات سے متاثر کیا ہے۔ فرانسیسی ڈرامے کا آغاز قرونِ

غنائیہ ڈرامے (لوک ناٹک) کی ابتدا اور ارتقا،مضمون نگار :کنول ڈبائیوی

یہ حقیقت ہے کہ کل کائنات ہی ایک اسٹیج ہے اور سبھی ذی روح اپنی جگہ پر اداکار ہیں اور کسی زبردست قوی الفطرت ہدایت کار نے ہر ایک ذی